Urdu in Translation
Поиск

Глава 8 из 56

Amjad Ali Shah and Wajid Ali Shah

امجد علی شاہ اور واجد علی شاہ

Abdul Halim Sharar

Письмо
Размер

(۷)

محمد علی شاہ کے بعد امجد علی شاہ اورنگ آرائے سریر شہریاری ہوئے۔ محمد علی شاہ نے کوشش کی تھی کہ ولیعہد سلطنت کی تعلیم اعلیٰ درجے کی ہو۔ چنانچہ انھیں علما و فضلا کی صحبت میں رکھا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ امجد علی شاہ بجائے اس کے کہ تعلیم میں کوئی نمایاں ترقی کریں، اخلاق و عادات کے لحاظ سے ایک ثقہ مولوی بن گئے۔ عنان حکومت ہاتھ میں آنے کے بعد ان کا جو کچھ حوصلہ تھا یہ تھا کہ وہ اور ان کے ساتھ ساری رعایا جناب قبلہ و کعبہ کی حلقہ بگوش ارادت بن جائے۔ لیکن ظاہر ہے کہ علمائے دین و مقتدایان ملت کو پالٹکس سے کسی قسم کا واسطہ نہیں ہو سکتا۔ وہ نہ مدبر سلطنت ہو سکتے ہیں نہ اسٹیٹسمین۔ ان سے جو کچھ ہدایت مل سکتی یہ تھی کہ سیدوں کی خدمتگزاری کی جائے اور سلطنت کا روپیہ مومنین کی اعانت و دستگیری میں صرف ہو۔ اور یہ کام بھی ارادت کیش اور محتاط پرہیزگار فرمانروائے اودھ امجد علی شاہ کی نظر میں اسی وقت قابل اطمینان ہو سکتا تھا جب خود مجتہد العصر کے مبارک ہاتھوں سے انجام پائے۔ چنانچہ ملک کی آمدنی میں سے لاکھوں روپیہ زکوٰۃ کے نام سے ان کی نذر کیا جاتا، اور اس کے علاوہ اور بھی بہت سی خیرات کی رقمیں انھیں کے ہاتھ میں جاتیں۔

امجد علی شاہ کے لیے تقدس و طہارت کا خیال مرض بن گیا تھا۔ انھیں اپنے خیال کی پابندی شرع سے اتنی فرصت ہی نہ ملتی تھی کہ نظم و نسق مملکت کی طرف توجہ کریں، جس کا یہ لازمی نتیجہ تھا کہ محمد علی شاہ نے اپنی تجربہ کاری و بیدار مغزی سے جو کچھ انتظامات کیے تھے سب درہم و برہم ہو گئے، اور یہ حالت ہو گئی کہ (قاضی محمد صادق خان اختر کے بیان کے مطابق) تمام عمال بدکار و بدباطن اور خود غرض تھے۔ رعایا تباہ تھی۔ زبردست کا ٹھینگا سر پر تھا۔ ظالم و مجرم کو سزا نہ ملتی۔ خزانہ خالی تھا۔ رشوت ستانی کی گرم بازاری تھی، اور جو فتنے پیدا ہوتے کسی کے مٹائے نہ مٹ سکتے۔

لیکن اس اتقا کی خاموشی اور تجارتی غفلت و بے پروائی پر بھی انھوں نے محلہ حضرت گنج آباد کیا، جو آج لکھنؤ میں تمام محلوں سے زیادہ صاف ستھرا، خوب آباد، نہایت خوبصورت، دولتمند تاجروں کا اعلیٰ ترین بازار ہے، اور سول لائن کا سب سے زیادہ بارونق حصہ ہے۔ انھوں نے لکھنؤ سے کانپور تک براہ راست ایک پختہ سڑک بنوائی۔ ان کے عہد میں سب سے بڑا کام یہ ہوا کہ لوہے کے پل کی عمارت بن کے تیار ہو گئی۔ اس پل کی تعمیر کا واقعہ یہ ہے کہ اس کے اجزا اور پرزے غازی الدین حیدر نے انگلستان سے منگوائے تھے، مگر وہ پرزے جب تک لکھنؤ میں پہنچیں پہنچیں بادشاہ رہگرائے عالم جاودان ہو چکے تھے۔ نصیر الدین حیدر کے عہد میں جب وہ پرزے ولایت سے آئے تو انھوں نے اپنے دربار کے انجینیر مسٹر سنکلیر کو ان پرزوں کے جوڑنے اور پل کو بنا کے کھڑا کر دینے کا ٹھیکہ دیا، اور حکم دیا کہ وہ پرزے ریزیڈنسی کے سامنے پار دریا کے کنارے ڈال دیے جائیں۔ جس مقام پر پل کے یہ آہنی پرزے ڈالے گئے تھے اس جگہ کا پتہ دینے کے لیے آج وہیں ایک گھاٹ اور شوالہ قائم ہے۔ مسٹر سنکلیر نے دریا کے اندر ستون قائم کرنے کے لیے گہرے کنوئیں کھدوائے، اور ستونوں کی جڑائی بھی کرا لائے، مگر اس کے بعد ان سے کچھ کرتے دھرتے نہ بنی، اور پل کی تکمیل میں ناکامی ہوئی۔ محمد علی شاہ کے زمانے میں یہ پل ناتمام پڑا رہا، مگر امجد علی شاہ نے اپنے عہد میں اس کی جانب توجہ کی اور پل بن کے تیار ہو گیا۔ لیکن جو لوہے کا پل آج کل قائم ہے وہ امجد علی شاہ کے زمانے کا پل نہیں ہے۔ وہ ایک ہینگنگ برج یعنی لٹکنے والا پل تھا، جس کا سارا بار چار بلند اور زبردست آہنی کھمبوں پر لٹک رہا تھا۔ انگریزی زمانے میں جب اس کے پرزے زنگ آلود ہو کے کمزور ہوئے اور اس پر عام آمد و رفت میں خطرہ نظر آیا تو اسے منہدم کرا کے اس کی جگہ دوسرا آہنی پل قائم کیا گیا، اور وہی پل اس وقت موجود ہے۔

امجد علی شاہ ہی کے زمانے میں ان کے وزیر امین الدولہ نے امین آباد آباد کیا، جس کی آبادی و رونق آج کل روز افزوں ترقی کر رہی ہے۔ امجد علی شاہ نے اپنے زمانے میں اگرچہ کچھ نہیں کیا اور نہ اپنے شوق سے کوئی ایسی عمارت بنوائی جو آج کل ان کی یادگار ہو، مگر شاید اپنے اتقا و پرہیزگاری کے صلے میں انھیں یہ قدرتی ناموری حاصل ہو گئی کہ لکھنؤ کے آج کل کے دو سب سے زیادہ مشہور، سب سے زیادہ آباد، سب سے زیادہ بارونق اور سب سے زیادہ دولتمند محلے امین آباد اور حضرت گنج انھیں کے عہد کی یادگار ہیں۔

آخر زمانے نے ان کے دور کا ورق بھی الٹا، اور سنہ ۱۲۷۶ محمدی (۱۸۴۷ء) میں جبکہ عمر اڑتالیس برس سے کچھ ہی دن زیادہ تھی، مرض سرطان میں مبتلا ہو کے دنیا سے رخصت ہو گئے، اور اپنے آباد کیے ہوئے محلے حضرت گنج میں مینڈو خان رسالدار کی چھاؤنی کے اندر دفن ہوئے۔ ان کا امام باڑہ جس میں وہ مدفون ہیں حضرت گنج کے مغربی حصے میں لب سڑک موجود ہے، جس کی عمارت ان کی وفات کے بعد واجد علی شاہ نے دس لاکھ روپیہ صرف کر کے بنوائی تھی۔ یہ امام باڑہ حسین آباد کی ایک ناقص نقل ہے، اور اگر حسین آباد کی طرح اس میں بھی روشنی ہوتی تو محرم میں لکھنؤ کا مشرقی حصہ بھی عالم نور بنایا کرتا۔ اگرچہ اس کے لیے کوئی وثیقہ نہیں معین ہے، لیکن اس کی آمدنی بھی کم نہیں۔ احاطے کی عمارت کے بیرونی رخ کی دکانوں میں بہت سے اچھے اچھے تاجروں کی دکانیں ہیں، اور اندرونی عمارتوں میں بہت سے یوروپین وغیرہ رہتے ہیں، جن سے کرائے کی معتدبہ رقم وصول ہوتی ہے۔ مگر کرایہ وصول کرنے والوں کا یہ بھی احسان ہے جو محرم میں خاص قبر اور امام باڑے میں چند چراغ روشن کر دیا کرتے ہیں۔

(اب امجد علی شاہ کے بڑے بیٹے واجد علی شاہ تخت سلطنت پر جلوہ افروز ہوئے۔) ان کا زمانہ اس مشرقی دربار کی تاریخ کا آخری ورق اور اسی عہد شیعی پاستان کا آخری بند ہے۔ چونکہ انتزاع سلطنت انھیں کے عہد میں ہوا اس لیے تمام اہل الرائے کے ہدف سہام اور نشانۂ ملامت وہی بن گئے، اور قریب قریب تسلیم کر لیا گیا کہ زوال سلطنت کا باعث وہ تھے۔ لیکن جس زمانے میں ان کی سلطنت کا خاتمہ ہوا ہے ان دنوں ہندوستان کی تمام وطنی قوتیں ٹوٹ رہی تھیں، اور پرانی بگڑی سب طرح کی قدیم حکومتیں دنیا سے مٹی جاتی تھیں۔ پنجاب میں سکھوں کا اور دکن میں مرہٹوں کا دفتر کیوں الٹا، جو بہادر اور زبردست اور ہوشیار مانے جاتے ہیں؟ دہلی میں مغل شہنشاہی کا اور بنگالے میں نواب ناظم بنگالہ کا استیصال کیوں ہوا؟ حالانکہ ان میں اتنی طفلانہ مزاجی نہ تھی جتنی کہ لکھنؤ کے اورنگ آرائے سلطنت میں بتائی جاتی ہے۔ مذکورہ چاروں درباروں میں کوئی واجد علی شاہ نہ تھا، حالانکہ ان کی تباہی لکھنؤ کی تباہی سے کم نہ تھی۔

اصل یہ ہے کہ اس عہد میں ادھر اہل ہند کی غفلت و جہالت کا پیمانہ چھلکنے کے قریب پہنچ گیا تھا، اور ادھر دولت برطانیہ کی قوت اور برٹش قوم کی عاقبت اندیشی، قابلیت، جفاکشی، اپنی کوششوں اور اپنی اعلیٰ تہذیب و شائستگی کا ثمرہ پانے کی روز بروز مستحق ثابت ہوتی جاتی تھی۔ غیر ممکن تھا کہ دانایان فرنگ کی ذہانت و طباعی، خوش تدبیری و باضابطگی ہندوستان کی جہالت و خود فراموشی پر فتح نہ پاتی۔ زمانے نے ساری دنیا میں تمدن کا نیا رنگ اختیار کیا تھا، اور پکار پکار کے ہر ایک قوم سے کہہ رہا تھا کہ جو اس مذاق میں میرا ساتھ نہ دے گا مٹ جائے گا۔ زمانے کے اس ڈھنڈورے کی آواز ہندوستان میں کسی نے نہ سنی، اور سب مٹ گئے۔ انھیں مٹنے والوں میں اودھ کی سلطنت بھی تھی، جس کے زوال کا بار غریب واجد علی شاہ پر ڈال دینا محققانہ مذاق کے خلاف ہے۔

پابند شرع باپ نے واجد علی شاہ کو بھی علما کی صحبت میں رکھ کے اپنا سا بنانا چاہا تھا، اور یہ رنگ ایک حد تک واجد علی شاہ پر چڑھا بھی، جو اقتضائے عمر کے ساتھ زیادہ کھلتا گیا۔ مگر امجد علی شاہ کا اس میں کچھ زور نہ چلا کہ وارث سلطنت فرزند کا فطری رجحان عیاشی اور فنون طرب و نشاط کی طرف تھا۔ اگرچہ باپ کی تاکید سے لکھنے پڑھنے کی تعلیم بھی اچھی تھی، لیکن موسیقی کا شوق غالب تھا۔ ولیعہدی ہی میں اپنے ذاتی شوق سے انھوں نے باپ کے منشا کے خلاف گویوں اور ڈھاڑیوں کو اپنی صحبت میں رکھا، گانا بجانا سیکھا، آوارہ عورتوں اور ڈوم ڈھاڑیوں سے ربط و ضبط بڑھایا، اور انجام یہ ہوا کہ جو لطف انھیں حسین عورتوں اور گویوں کی صحبت میں آتا علمی مذاق کی مہذب صحبتوں میں نہ آتا۔

باپ کے خلاف انھیں عمارت کا بھی شوق تھا، اور ولیعہدی ہی میں انھوں نے خاص اپنی محفل طرب اور عیش کے لیے ایک پرفضا باغ اور اس میں دو ایک مختصر، خوبصورت اور پرتکلف مکان بنوائے۔ علی نقی خان، جنھیں تخت پر بیٹھتے ہی خلعت وزارت عطا کیا، ان سے زمانۂ ولیعہدی میں ایک رنڈی کے گھر پر ملاقات ہوئی۔ ان کی جوانانہ شوخ مزاجی نے مزاج میں رسوخ پیدا کیا، اور جب مذکورۂ بالا باغ اور عمارت ان کے اہتمام میں تعمیر ہو کے پسند آئی تو سمجھ لیا گیا کہ وزارت اور انتظام مملکت کے لیے ان سے زیادہ موزوں کوئی شخص نہیں ہے۔

واجد علی شاہ کی سلطنت کا آغاز تو اس عنوان سے ہوا کہ نوجوان بانکے بادشاہ کو عدالت گستری اور اصلاح فوج کی طرف غیر معمولی توجہ تھی۔ سواری میں آگے آگے دو نقرئی صندوقچے چلتے۔ جس کسی کو کچھ شکایت ہوتی عرضی لکھ کے ان میں ڈال دیتا۔ کنجی خود بادشاہ کے پاس رہتی۔ محل میں پہنچ کے حضور ان عرضیوں کو نکالتے اور اپنے ہاتھ سے احکام تحریر فرماتے۔ اس طرح کئی نئے رسالے اور کئی پلٹنیں بھرتی ہوئیں۔ رسالوں کے نام بادشاہ نے اپنی نشاط آمیز طباعی سے بانکا، ترچھا، گھنگھور رکھے، اور پلٹنوں کے نام اختری، نادری رکھے گئے۔ خود بدولت بنفس نفیس گھوڑے پر سوار ہو کے جاتے، اور گھنٹوں دھوپ میں کھڑے ہو کے ان کی قواعد اور فنون جنگ میں ان کی مشاقی دیکھتے، اور خوش ہو ہو کے باکمال سپاہیوں کو انعام و اکرام سے سرفراز فرماتے۔ فوجی قواعد کے لیے خود ہی فارسی اصطلاحات اور کلمات مقرر کیے: "راست رو"، "پس بیا"، "دست چپ بگرد"۔ چند روز بعد جوان حسین عورتوں کی ایک چھوٹی زنانی فوج مرتب کی گئی، اور ان کو بھی انھیں اصطلاحوں میں قواعد سکھائی گئی۔

مگر جدید عہد کا یہ نقش اولین چند روزہ تھا۔ پورا ایک سال بھی نہ گزرا ہوگا کہ طبیعت ان چیزوں سے اکتا گئی۔ زمانۂ ولیعہدی کا وہی پرانا مذاق پھر عود کر آیا۔ حسین اور آوارہ عورتوں سے صحبت بڑھی، ارباب نشاط کا بازار گرم ہوا، اور تھوڑے ہی دنوں میں ڈوم ڈھاڑی ہی ارکان دولت اور معززین سلطنت تھے۔ بادشاہ کے دل میں اب اگر کوئی علمی اور شریفانہ مذاق باقی تھا تو وہ شاعری تھی، کیونکہ خود شعر کہتے اور شعرا کی قدر کرتے تھے۔

لکھنؤ میں ان دنوں شاعری کا چرچا حد سے زیادہ بڑھا ہوا تھا۔ اکیلے لکھنؤ میں اتنے شاعر موجود تھے کہ اگر سارے ہندوستان کے شعرا جمع کیے جاتے تو ان کی تعداد لکھنؤ کے شاعروں سے نہ بڑھ سکتی۔ میر اور سودا کی پرانی شاعری تقویم پارینہ ہو چکی تھی۔ اب ناسخ کی زبان اور آتش کے خیالات دماغوں میں بسے ہوئے تھے، جن میں رند و صبا کے رندانہ کلام اور نواب مرزا شوق کی مثنویوں نے شہوت پرستیوں کی روح پھونک دی تھی، اور اسی مذاق کو بادشاہ کی بیعت کا اصلی رنگ چاہتا اور پسند کرتا تھا۔

اسلامی شاعری کا رنگ خلافت اسلامیہ کی پہلی صدی تک تو یہ تھا کہ شاعر ایک خاص عورت پر عاشق ہوتے، اس کا نام لے لے کے اس کے حسن کی خوبیوں اور اس کی اداؤں کی دلفریبیوں کو بیان کرتے، اور اس کی طرف خطاب کر کر کے اپنی بیتابیوں اور بیقراریوں کو ظاہر کرتے۔ اکثر چھپ چھپ کے اس سے ملتے، مگر تہذیب و عفت کے دائرے سے کبھی قدم باہر نہ نکالتے۔ چند روز بعد عرب ہی میں معشوق گمنام ہو گیا، اور عموماً شعرا کا معشوق ان کے خیال کا ایک پتلا بن گیا، جسے رند مشرب تو کوئی حسین عورت یا کوئی خوبرو لڑکا بتاتے، مگر صوفی تھوڑی سی معنوی تاویل کر کے اسے اپنا حسین مطلق یعنی خلاق عالم بتا دیتے۔ یہی عموماً ہوا، چھپا ڈھکا مذاق رندی فارسی شاعری میں رہا، اور یہی مذاق اس وقت تک اردو شاعری کا بھی تھا۔ مگر نواب مرزا شوق نے اپنی شاعری کو حسین پردہ دار عورتوں پر عاشق ہو کے ان کے خراب کرنے کا آلہ بنایا۔ اور قیامت یہ تھی کہ ان کی مثنویوں کی زبان ایسی خوبصورت، بے تکلف اور شستہ و رفتہ تھی، اور ان میں عاشقانہ جذبات اس کثرت سے بھر دیے گئے تھے کہ مہذب و شائستہ لوگوں سے بھی بے دیکھے اور مزہ لیے نہ رہا جاتا۔

واجد علی شاہ نے بھی ان مثنویوں کو دیکھا، اور چونکہ ماشاء اللہ خود شاعر تھے اس رنگ کو اختیار کر کے اپنے بہت سے عشقوں اور اپنی عنفوان شباب کی صدہا رندانہ بے اعتدالیوں کو خود ہی موزوں کر کے ملک میں پھیلا دیا، اور اخلاقی دنیا میں اقراری مجرم بن گئے۔ میں سمجھتا ہوں کہ بادشاہ تو بادشاہ، وزرا و امرا میں بھی شاذ و نادر ہی ایسے گزرے ہوں گے جنھوں نے عنفوان شباب میں اپنی شہوت پرستی کی ہوسوں کو جی بھر کے نہ نکال لیا ہو، مگر واجد علی شاہ کی طرح کسی نے اپنے ان بے شرمی کے جرائم کو خود ہی پبلک کے سامنے پیش نہیں کیا تھا۔ واجد علی شاہ زور میں آئے تو چاہے شاعری میں نہ بڑھ سکیں، مگر اپنے جذبات و خیالات اور اپنے کارناموں کے عالم آشکارا کرنے میں نواب مرزا سے بھی دو قدم آگے نکل گئے، اور یہاں تک ترقی کی کہ بعض موقعوں پر انھیں مبتذل بازاری مذاق اور فحش الفاظ کے استعمال میں بھی تامل نہیں ہوتا۔

وہ کہاریوں، رنڈیوں، خواصوں، محل میں آنے جانے والی عورتوں، غرض صدہا عورتوں پر عاشق ہوئے، اور چونکہ ولیعہد سلطنت تھے اپنے عشق میں خوب کامیاب ہوئے، جن کی شرمناک داستانیں ان کی نظموں، تحریروں اور تصنیفوں میں خود ان کی زبان سے سن لی جا سکتی ہیں۔ اور یہی سبب ہے کہ تاریخ میں ان کا کیرکٹر سب سے زیادہ ناپاک و تاریک نظر آتا ہے۔

چونکہ عمارت کا بیحد شوق تھا اس لیے تخت نشین ہوتے ہی قیصر باغ کی عمارت بنوانا شروع کر دی، جو چاہے آصف الدولہ کی عمارتوں کی طرح مضبوط نہ ہو مگر خوبصورتی اور شانداری میں لاجواب ہے۔ اس میں بہت سی خوشنما اور باشان و شوکت دو منزلی عمارتوں کا ایک مربع مستطیل رقبہ دور تک چلا گیا تھا، جس کا ایک رخ جو دریا کی جانب تھا غدر کے بعد کھود ڈالا گیا، اور تین ضلعے اب تک قائم ہیں، جن کو مختلف قطعات پر بانٹ کے گورنمنٹ نے تعلقداران اودھ کے حوالے کر دیا ہے، اور حکم دیا ہے کہ ان میں رہیں اور ان کو اسی وضع میں قائم و برقرار رکھیں۔

قیصر باغ کا اندرونی صحن جس میں چمن بندی تھی جلو خانہ کہلاتا تھا۔ درمیان میں پتھروالی بارہ دری تھی، جو آج کل لکھنؤ کا ٹاؤن ہال ہے۔ اس میں اور کئی عمارتیں بھی تھیں جو اب نہیں باقی ہیں۔ اس کے باہر یہاں سے متصل ہی بہت سی شاہی عمارتیں تھیں جنھوں نے اس قطعۂ زمین کو اعجوبۂ روزگار بنا دیا تھا۔ یہ عمارتیں قیصر باغ کے مشرقی پھاٹک کے باہر تھیں۔ لوگوں کو اس پھاٹک سے نکلتے ہی دونوں جانب چوبی اسکرینیں ملتی تھیں، جن میں سے گزر کے وہ چینی باغ میں پہنچتے۔ وہاں سے بائیں ہاتھ کی طرف مڑ کر آپ جل پریوں کے ایک عالیشان پھاٹک پر پہنچتے، جس پر مدار المہام سلطنت نواب علی نقی خان کا قیام رہتا تھا، تاکہ ہر وقت جہاں پناہ سے قریب رہیں اور بوقت ضرورت فوراً بلا لیے جا سکیں۔ اس پھاٹک کے اس طرف حضرت باغ تھا، اور اندر ہی داہنی طرف چاندی والی بارہ دری تھی۔ یہ ایک معمولی اینٹ چونے کی عمارت تھی، مگر چھت میں چاندی کے پتر جڑے ہونے کی وجہ سے چاندی والی بارہ دری کہلاتی۔ اسی سے ملحق کوٹھی خاص مقام تھی، جس میں خود جہاں پناہ سلامت رہتے۔ اور وہیں نواب سعادت علی خان کی بنائی ہوئی پرانی کوٹھی بادشاہ منزل تھی۔

پھر ان چوبی اسکرینوں کے گلیارے سے نکل کے دوسری طرف مڑیے تو پیچیدہ عمارتوں کا ایک سلسلہ دور تک چلا گیا تھا، جو چوکھی کے نام سے مشہور تھیں۔ ان عمارتوں کا بانی حضوری نائی عظیم اللہ تھا، جنھیں بادشاہ نے چار لاکھ روپیہ دے کے مول لیا تھا۔ نواب خاص محل اور معزز محلات عالیات اس میں رہتی تھیں۔ اسی کے اندر غدر کے زمانے میں حضرت محل کا قیام رہا، اور یہیں ان کا دربار ہوا کرتا تھا۔

یہاں سے ایک سڑک قیصر باغ کی طرف آئی تھی، جس کے کنارے ایک بڑا بھاری سایہ دار درخت تھا۔ اس کے نیچے گرداگرد سنگ مرمر کا ایک نفیس گول چبوترہ بنایا گیا تھا، جس پر قیصر باغ کے میلوں کے زمانے میں جہاں پناہ جوگی بن کے اور گیروے کپڑے پہن کے آتے اور دھونی رما کے بیٹھتے۔ اس چبوترے سے آگے بڑھ کے ایک عالیشان پھاٹک تھا جو لکھی پھاٹک کہلاتا، اس لیے کہ اس کی تعمیر میں ایک لاکھ روپے صرف ہوئے تھے۔ اور اس سے بڑھ کے آپ پھر قیصر باغ میں آ جاتے۔ قیصر باغ کی عمارت میں سلطنت کے اسی لاکھ روپے صرف ہوئے تھے، اور اس کے چاروں طرف کی عمارتوں میں جہاں پناہ کی بیگمیں اور پریجمال و ماہ طلعت خاتونیں رہتیں، جن کی جگہ اب عجیب و غریب صورتوں کو دیکھ کے بعض پرانے زمانے والے کہا کرتے ہیں:

پری نہفتہ رخ و دیو در کرشمہ و ناز / بسوخت عقل ز حیرت کہ این چہ بوالعجبیست

قیصر باغ کے مغربی پھاٹک کے باہر روشن الدولہ کی کوٹھی تھی، جسے واجد علی شاہ نے ضبط کر کے اس کا نام قیصر پسند رکھ دیا تھا، اور ان کی ایک محبوبہ نواب معشوق محل اس میں رہتی تھیں۔ اب اس میں صاحب ڈپٹی کمشنر بہادر کی عدالت ہے۔ اس کے سامنے اور قیصر باغ کے اس مغربی پہلو پر بھی ایک دوسرا جلو خانہ تھا۔

سال میں ایک مرتبہ قیصر باغ میں ایک عظیم الشان میلا ہوتا، جس میں پبلک کو بھی قیصر باغ میں آنے اور جہاں پناہ کی عشرت پرستیوں کا رنگ دیکھنے کا موقع مل جاتا۔ بادشاہ نے سری کرشن جی کا رہس جو ہندوؤں میں مروج ہے دیکھا تھا، اور سری کرشن جی کی معشوقانہ وش عاشقی اس قدر پسند آ گئی تھی کہ اس رہس سے ڈرامے کے طور پر ایک کھیل ایجاد کیا تھا، جس میں خود کنھیا بنتے، مخدرات عصمت آیات گوپیاں بنتیں، اور ناچ رنگ کی محفلیں گرم ہوتیں۔ کبھی جوش جوانی کے جذبات سے جوگی بن جاتے، موتیوں کو جلا کے بھبھوت بنائی جاتی، جس کی بدولت فقیری میں بھی شاہی کے کرشمے نظر آتے۔ میلے کے زمانے میں ان صحبتوں میں شریک ہونے کی عام اہل شہر کو اجازت ہو جاتی، مگر اس شرط کے ساتھ کہ گیروے کپڑے پہن کے آئیں، جس کا نتیجہ یہ تھا کہ اسی اسی برس کے بڈھے بھی شنگرفی کپڑے پہن کے چھیلا بن جاتے اور بادشاہ کی جوانی کے بادۂ طرب سے اپنے بڑھاپے کا جام بھر لیتے۔

یہی رنگ چلا جاتا تھا، اور لکھنؤ میں کمال بے فکری کے ساتھ رنگ رلیاں منائی جا رہی تھیں، کہ گورنمنٹ برطانیہ کو رزیڈنٹوں نے یہاں کے حالات سے آگاہ کیا، اور وہاں کے بورڈ نے یہ فیصلہ کر دیا کہ ملک اودھ قلمرو برطانیہ میں شامل کر لیا جائے۔ اس حکم کی تعمیل کے لیے انگریزی فوج لکھنؤ میں آئی، اور یکایک خلاف توقع بادشاہ کو حکم سنایا گیا کہ "آپ کا ملک انگریزی ممالک محروسہ میں شامل کر لیا گیا۔ آپ کے لیے بارہ لاکھ روپیہ سالانہ اور آپ کے جلوسی لشکر کے لیے تین لاکھ روپیہ سالانہ ماہوار، جو آپ کی اور وابستگان دامن کی ضرورتوں کے لیے بخوبی کافی ہے، مقرر کی گئی، اور آپ کو اجازت ہے کہ شہر کے اندر آرام سے بیفکرے بن کے بیٹھیے اور رعایا کی فکروں سے آزاد ہو کے بے غل و غش رنگ رلیاں منائیے۔" یہ احکام سنتے ہی شہر میں سناٹا ہو گیا۔ خود بادشاہ نے رو دھو کے بہت کچھ عذرخواہی کی۔ بادشاہ کی ماں اور خاص محل نے حق وکالت ادا کیا، مگر گورنر جنرل بہادر کے حکم میں رد و بدل کرنا صاحب رزیڈنٹ کے اقتدار سے باہر تھا۔ ایسٹ انڈیا کمپنی کی گورنمنٹ نے بغیر کسی زحمت و مزاحمت کے ملک اودھ پر قبضہ کر لیا، اور بادشاہ مع اپنی والدہ، ولیعہد، خاص خاص محلات اور جاں نثار رفقا کے کلکتے روانہ ہوئے کہ انگلستان جا کے اپیل کریں، اور اپنی بیگناہی ثابت کر کے انتزاع سلطنت کے حکم کو منسوخ کرائیں۔

Что оставила в вас эта глава?

Войдите, чтобы отреагировать

Обсуждение

Пока никто не высказался. Расскажите, что всколыхнула в вас эта глава.

Понравилась глава? Поделитесь строкой из неё.