Urdu in Translation
Recherche

Chapitre 7 sur 56

Nasir-ud-Din Haidar and Muhammad Ali Shah

نصیر الدین حیدر اور محمد علی شاہ

Abdul Halim Sharar

Écriture
Taille

(۶)

سنہ ۱۲۵۶ محمدی (۱۸۲۷ء) میں غازی الدین حیدر کے بیٹے نصیر الدین حیدر تخت پر بیٹھے۔ غازی الدین حیدر کے زمانے سے، جیسا کہ ہم بتا چکے ہیں، فرمانروایان اودھ نواب نہیں بادشاہ تھے۔ اس دولت کا آغاز وزارت دہلی کے درجے سے ہوا تھا، اور اگلے زبردست و ذی وقعت فرمانروا سب نواب وزیر کہلاتے تھے۔ لیکن اب جبکہ اصلی حکومت و سطوت رخصت ہو چکی تھی اور ہندوستان کے پالٹکس میں ان لوگوں کا بالکل اثر نہیں باقی رہا تھا، یہ بادشاہ بن گئے۔

خیال کیا جا سکتا ہے کہ انگریزوں نے حکمرانان اودھ کو بادشاہی عزت دی تو اپنی پشت پناہی سے ان کی سطوت بھی بڑھا دی ہوگی، اور انھیں نام ہی کا بادشاہ نہیں بلکہ حقیقۃً بادشاہ بنا کے دکھا دیا ہوگا۔ لیکن نہیں، ہمیں یہ نظر آتا ہے کہ اس عہد میں اودھ کے باہر ان لوگوں کا اثر تو بالکل تھا ہی نہیں، خود اپنی قلمرو میں بھی یہ اتنے آزاد نہ تھے جتنے کہ ان کے ماسبق بزرگ ہوتے آئے تھے۔ اب کسی کی تخت نشینی بغیر انگریزوں کی منظوری کے ہو ہی نہ سکتی تھی۔ انگریزی فوج ساری قلمرو میں جابجا پھیلی ہوئی تھی۔ کوئی اہم معاملہ بغیر صاحب رزیڈنٹ کی دخل دہی کے طے ہی نہ ہو سکتا تھا۔ سریر شہریاری ایک اسٹیج تھا، جس پر جو کچھ ہوتا بظاہر نظر آتا کہ ایکٹر کر رہے ہیں، مگر اصل میں وہ افعال کسی اور شخص کے قبضۂ قدرت میں تھے جو پردے کی آڑ میں تھا اور جو چاہتا تھا کرتا تھا۔

مگر خدا کی اتنی مہربانی تھی کہ ان پچھلے حکمرانان اودھ کی اور اس کے ساتھ قریب قریب سارے وابستگان دامن دولت کی حس مفقود ہو گئی تھی، جس کی بدولت وہ اپنی کمزوری و بے دست و پائی کو بالکل محسوس نہ کر سکتے تھے۔ غازی الدین حیدر بادشاہ بنتے ہی عیش و عشرت میں مشغول ہو گئے، اور نصیر الدین حیدر کو تو تخت شاہی ورثے میں ملا تھا۔ نواب سعادت علی خان کا جمع کیا ہوا روپیہ عیش پرستی میں دونوں کا مدد و معاون ہوا۔ کچھ انگریزوں کو قرض دیا گیا، کچھ ان مبتدعہ مذہبی رسموں کی بجا آوری میں صرف ہوا جنھیں بادشاہ اور ان کی ملکاؤں نے اپنے مذاق کے موافق ذوق و شوق سے ایجاد کیا، اور باقی فضول خرچیوں اور عیاشیوں کی نذر ہونے لگا۔ غازی الدین حیدر نے تو اتنا بھی کیا تھا کہ نجف اشرف کی نقل بنوا کے اپنی قبر کا ٹھکانا کر لیا، اور بغیر اس کے کہ اپنے ورثے پر بھروسا کریں، کچھ روپیہ انگریزوں کے حوالے کیا کہ اس کے سود سے پورے دینی آداب کے ساتھ نجف کی داشت کیا کریں۔ چنانچہ آج تک ان کی قبر پر چراغ روشن ہوتا ہے، مجلسیں ہوتی ہیں، قرآن خوانی ہوتی ہے، اور محرم میں خوب روشنی ہوتی ہے، جس کے طفیل تھوڑے سے غریبوں کی پرورش ہو جایا کرتی ہے۔ مگر نصیر الدین حیدر کو ہجوم عیش میں اتنی بھی توفیق نہ ہوئی۔ دریا پار محلہ ارادت نگر میں انھوں نے ایک کربلا بنوائی جو خود ان کا مرقد قرار پانے والی تھی، مگر اس کی خدمت و داشت کی ذرا بھی فکر نہیں کی، جس کا نتیجہ یہ ہے کہ آج وہ ڈالی گنج کے اسٹیشن کے پاس اجاڑ اور خاموش پڑی ہے، اور شاید کوئی چراغ جلانے والا بھی نہیں۔ ان کے زمانے میں نئے محلے گنیش گنج اور چاند گنج وہیں دریا پار آباد ہوئے۔

نصیر الدین حیدر کو نجوم سے عقیدت تھی، جس نے علم ہیئت کی طرف توجہ دلائی، اور ارادہ کیا کہ اپنے شہر میں ایک اعلیٰ درجے کی رصدگاہ قائم کریں۔ چنانچہ اس غرض کے لیے ایک کوٹھی نواب سعادت علی خان کے مقبرے اور موتی محل کے درمیان میں تعمیر کرائی، جو رصدگاہ ہونے کے باعث لکھنؤ میں "تارے والی کوٹھی" کے نام سے مشہور ہوئی۔ اس میں بڑی بڑی دوربینیں اور اعلیٰ درجے کے آلات رصد جمع کیے گئے۔ ان کے مناسب طور پر قائم کرنے کا کام اور ان کا انتظام و اہتمام کرنل ولکاکس کے سپرد ہوا، جو ایک اچھے ہیئت دان تھے۔ مگر لکھنؤ کی یہ رصد گویا کرنل صاحب موصوف ہی کی زندگی کا ایک مجہول الحال واقعہ تھی، کیونکہ سنہ ۱۲۵۶ محمدی سے نصیر الدین حیدر کی سلطنت کا آغاز ہوا، جس کے چار پانچ سال بعد غالباً یہ رصدگاہ قائم ہوئی ہوگی، اور اس وقت سے سنہ ۱۲۷۶ محمدی (۱۸۴۷ء) تک، جبکہ آخری تاجدار اودھ واجد علی شاہ کا زمانہ تھا، یہ رصدگاہ انھیں کے اہتمام میں رہی۔ سنہ مذکور میں کرنل صاحب کا انتقال ہوا، اور ان کی جگہ کوئی ہیئت دان اس خدمت پر مقرر نہیں کیا گیا۔ واجد علی شاہ نے اس کی طرف سے بے پروائی کی۔ لکھنؤ کے بعض مستند اشخاص کی زبانی سنا گیا کہ اس کی سب سے بڑی دوربین کو واجد علی شاہ نے ایک کھلونا خیال کر کے حیدری طوائف کے حوالے کر دیا تھا۔ لیکن گزیٹیر سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ رصدگاہ انتزاع سلطنت کے زمانے تک قائم تھی۔ غدر میں غالباً بلوائیوں نے اسے تباہ کر دیا، کیونکہ احمد اللہ شاہ نے (جو ڈنکا شاہ بھی کہلاتے تھے اور انگریزی فوج سے بڑی مستعدی و گرمجوشی کے ساتھ لڑے تھے) تارے والی کوٹھی ہی میں سکونت اختیار کی تھی، اسی میں اپنا دربار قائم کیا تھا، اور باغی فوجوں کے افسر یہیں جمع ہو کے مشورے کیا کرتے تھے۔

اسی زمانے میں روشن الدولہ نے، جو وزیر سلطنت تھے، اپنی خوبصورت اور شاندار کوٹھی تعمیر کرائی، جس میں فی الحال ڈپٹی کمشنر بہادر اجلاس کرتے ہیں۔ اس لیے کہ واجد علی شاہ نے اس کوٹھی کو قیصر باغ بنواتے وقت ضبط کر لیا تھا، اور جب ملک انگریزوں کے قبضے میں آیا ہے یہ کوٹھی ایک سرکاری جائداد تھی۔

نصیر الدین حیدر کا زمانہ سچ یہ ہے کہ نہایت ہی خطرناک زمانہ تھا۔ ایک طرف تو انتظام مملکت کی خرابی تھی؛ بادشاہ کو عیش و عشرت اور اپنی ایجاد کردہ دینداری کی رسموں سے فرصت نہ ملتی تھی؛ سارا نظام سلطنت وزیروں پر چھوڑا جاتا تھا، اور وزیروں کی یہ حالت تھی کہ کوئی ایسا شخص ملتا ہی نہ تھا جو نیک نیتی اور خوش تدبیری سے کام چلا سکے۔ حکیم مہدی بلائے گئے، وہ منتظم تو اعلیٰ درجے کے تھے مگر چاہتے تھے کہ سلطنت کو اپنی ہی میراث بنا لیں۔ روشن الدولہ وزیر ہوئے، ان میں نہ مادہ تھا نہ طبیعت داری، ان سے کچھ کرتے دھرتے نہ بنی۔ بادشاہ کی فضول خرچیوں کی یہ حالت تھی کہ سعادت علی خان کا جمع کیا ہوا سارا روپیہ پانی کی طرح اڑ گیا، اور ملک کی آمدنی محل کے مصارف کے لیے کفایت ہی نہ کرتی تھی۔ اس پر طرہ یہ کہ بادشاہ اور ان کی ماں غازی الدین حیدر کی خاص محل میں جھگڑے پیدا ہوئے۔ وہ منا جان کو بادشاہ کا بیٹا بتاتی تھیں اور بادشاہ اس کو اپنا بیٹا تسلیم نہ کرتے تھے۔ ان باتوں نے ملک کی ایسی حالت کر دی تھی کہ معلوم ہوتا حکمرانوں میں حکومت کرنے اور ملک کے سنبھالنے کی مطلق صلاحیت نہیں ہے۔

صاحب رزیڈنٹ اور گورنر جنرل ہند نے بار بار سمجھایا، ڈرایا، دھمکایا، انجام سے مطلع کیا، اور برابر کان کھولتے رہے، مگر یہاں کسی کے کان پر جوں نہ رینگی۔ نصیر الدین حیدر میں عورتوں میں رہتے رہتے اس درجہ زنانہ مزاجی پیدا ہو گئی تھی کہ عورتوں کی سی باتیں کرتے اور عورتوں ہی کا سا لباس پہنتے۔ زنانہ مزاجی کے ساتھ مذہبی عقیدت نے یہ شان پیدا کر دی کہ ائمۂ اثنا عشر کی فرضی بیبیاں (اچھوتیاں) اور ان کی ولادت کی تقریبیں جو ان کی ماں نے قائم کی تھیں ان کو اور زیادہ ترقی دی، یہاں تک کہ ولادت ائمہ کی تقریبوں میں خود حاملہ عورت بن کے زچہ خانے میں بیٹھتے، اور چہرے اور حرکات سے وضع حمل کی تکلیف ظاہر کرتے، اور پھر خود ایک فرضی بچہ جنتے، جس کے لیے ولادت، چھٹی اور نہان کے سامان بالکل اصل کے مطابق کیے جاتے۔ یہ تقریبیں اس قدر زیادہ تھیں کہ سال بھر بادشاہ کو انھیں سے فرصت نہ ملتی، تو سلطنت کی طرف کون توجہ کرتا۔

دربار اودھ اور سرکار انگریزی کے تعلقات دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اگر گورنر جنرل اور رزیڈنٹوں کی نظر عنایت نہ ہوتی، اور انگلستان کا جو بورڈ ایسٹ انڈیا کمپنی کا نگران تھا کمپنی کو روکے تھامے نہ رہتا، تو انتزاع سلطنت کی کارروائی اسی زمانے میں ہو گئی ہوتی۔ مگر اس طفلانہ مزاجی کے دربار کی زندگی ابھی باقی تھی۔ انگریز ملک کے لینے کا ارادہ کر کر کے رہ گئے۔

نصیر الدین حیدر کی نسبت لکھنؤ کے معتبر پرانے لوگوں کا بیان ہے کہ اس زنانہ مزاجی اور ان طفلانہ حرکتوں کے ساتھ نہایت ہی ظالم بھی تھے۔ لیکن چونکہ ساری زندگی عورتوں میں بسر ہوتی تھی اس لیے ان کے مظالم کا شکار بھی زیادہ تر عورتیں ہی ہوتیں۔ بیسیوں عورتوں کو ادنیٰ قصور اور معمولی بدگمانی پر دیواروں میں چنوا دیا۔ کہتے ہیں کہ راہ چلتے کسی مرد کو کسی عورت کے سینے پر ہاتھ رکھے دیکھ لیا تھا، فوراً عورت کی چھاتیاں اور مرد کے ہاتھ کٹوا ڈالے۔

آخر دس برس کی بے اعتدالیوں کے بعد، جبکہ اندر باہر کے تمام اہل دربار زندگی سے عاجز آ گئے تھے، بادشاہ خود اپنے دوستوں اور عزیزوں کے ہاتھ کا شکار بنے، اور کسی نے زہر دے کے سنہ ۱۲۶۶ محمدی (۱۸۳۷ء) میں قصہ تمام کر دیا۔ نصیر الدین حیدر لاولد مرے تھے۔ منا جان کو غازی الدین حیدر کی بیگم نے ہمیشہ اپنا پوتا اور سچا وارث سلطنت بنا کے پیش کیا، مگر غازی الدین حیدر اور نصیر الدین حیدر دونوں نے اس کے نسل شاہی ہونے سے انکار کیا تھا۔ اسی بنا پر گورنمنٹ انگریزی نے نواب سعادت علی خان مرحوم کے بیٹے نصیر الدولہ محمد علی خان کی تخت نشینی کا پہلے سے بندوبست کر لیا تھا۔ مگر بیگم صاحبہ نے نہ مانا۔ منا جان کو لے کے لال بارہ دری یعنی تخت گاہ میں آ گئیں۔ رزیڈنٹ نے ہزار روکا اور سمجھایا، مگر ایک نہ سنی، اور زبردستی منا جان کو تخت پر بٹھا دیا، جنھوں نے تخت پر قدم رکھتے ہی نذریں لیں، اور اپنے دشمنوں سے فوراً بدلہ لینا بھی شروع کر دیا۔ بہتوں کے گھر لٹوا لیے، بعض کو گرفتار کرا لیا، بعض قتل ہوئے، اور شہر میں ایک ہڑبونگ مچ گیا۔

صاحب رزیڈنٹ اور ان کے اسسٹنٹ فوراً دربار میں پہنچے۔ بادشاہ بیگم کو سمجھایا کہ منا جان وارث سلطنت نہیں ہو سکتے، اور ان کی تخت نشینی منظور نہ ہوگی۔ پھر لاٹ صاحب کا تحریری فرمان دکھایا اور کہا بہتر یہ ہے کہ منا جان تخت کو خالی کر دیں اور نصیر الدولہ کی تخت نشینی عمل میں آ جائے۔ مگر کسی نے سماعت نہ کی، بلکہ کسی نے اسسٹنٹ رزیڈنٹ پر حملہ کیا جس سے ان کا چہرہ خون آلود ہو گیا۔ رزیڈنٹ نے منڈیاؤں سے انگریزی فوج پہلے ہی سے بلوا لی تھی، اور اس نے تخت گاہ کے سامنے توپیں لگا دی تھیں، اور سپاہی صفیں باندھے کھڑے تھے۔ مجبوراً صاحب عالیشان نے گھڑی ہاتھ میں لی اور کہا: "دس منٹ کی مہلت دی جاتی ہے۔ اس زمانے کے اندر اگر منا جان تخت سے نہ اتر گئے تو جبریہ کارروائی کی جائے گی۔" اس کا بھی کسی نے خیال نہ کیا، حالانکہ رزیڈنٹ بار بار کہتے جاتے تھے کہ "اب پانچ منٹ باقی ہیں"، "اب دو ہی منٹ رہ گئے"، "اور اب دیکھیے پورا ایک منٹ بھی نہیں"۔

ان تنبیہوں کا کسی نے خیال نہ کیا، اور یکایک توپوں نے گریپ مارنا شروع کیں۔ آناً فاناً میں تیس چالیس آدمی گر گئے۔ درباری بدحواسی کے ساتھ گرتے پڑتے بھاگے۔ جو طائفہ مجرا کر رہا تھا اس میں سے بھی کئی آدمی زخمی ہوئے۔ شیشہ آلات جھناجھن ٹوٹ ٹوٹ کے گرنے لگے۔ جب کئی وفادار بہادر جو سینہ سپر تھے مارے جا چکے تو منا جان نے بھی تخت سے گر کے بھاگنے کا قصد کیا، مگر پکڑ لیے گئے۔ غرض بیگم صاحبہ اور انھیں دونوں کو انگریزوں نے گرفتار کر لیا۔ ساتھ ہی نصیر الدولہ کی تخت نشینی عمل میں آئی، جو محمد علی شاہ کے لقب سے بادشاہ اودھ قرار پائے۔ اور منا جان اور ان کی دادی سخت حراست میں لکھنؤ سے کانپور اور کانپور سے قلعۂ چنار گڑھ میں بھیج دیے گئے، اور دو ہزار چار سو روپیہ ماہوار ان کی تنخواہ لکھنؤ کے خزانے سے مقرر کر دی گئی۔

محمد علی شاہ کی عمر تخت نشینی کے وقت تریسٹھ برس کی تھی۔ بوڑھے تجربہ کار تھے، زمانے کے سرد و گرم اور دربار کی طفلانہ مزاجیاں دیکھتے رہے تھے۔ سب سے بڑی بات یہ تھی کہ نواب سعادت علی خان کے بیٹے تھے اور ان کی آنکھیں دیکھے ہوئے تھے۔ انھوں نے بہت سنبھل کے کام کیا، کفایت شعاری کے اصول جاری کیے، اور جہاں تک بنا ملک کے سنبھالنے کی کوشش کی۔ مگر عمر زیادہ آ چکی تھی اور قوٰی جواب دیتے جاتے تھے۔ تخت پر بیٹھتے ہی انھوں نے حکیم مہدی کو فرخ آباد سے بلوا کے خلعت وزارت دیا، مگر چند ہی روز بعد وہ مر گئے۔ تب ظہیر الدولہ کو خلعت وزارت ہوا۔ دو تین مہینے بعد وہ بھی دنیا سے رخصت ہوئے، اور منور الدولہ وزیر قرار پائے، جنھوں نے دو چار مہینے کے بعد ہی استعفا دے دیا اور کربلائے معلیٰ چلے گئے۔ پھر اشرف الدولہ محمد ابراہیم خان وزیر قرار پائے، جو اوروں کے دیکھتے ذی ہوش اور متین تھے۔

محمد علی شاہ کی تخت نشینی پر گورنمنٹ انگریزی اور سلطنت اودھ میں ایک نیا معاہدہ ہوا، جس کی رو سے سرکار انگریزی نے جو فوج اودھ کی نگرانی کے لیے رکھی تھی اس میں معتدبہ اضافہ ہوا، اور ایسٹ انڈیا کمپنی کی گورنمنٹ کو یہ اختیار حاصل ہوا کہ ساری قلمرو اودھ یا اس کے جس علاقے میں بدنظمی دیکھے اسے جب تک چاہے اپنے زیر انتظام رکھے۔ بادشاہ نے ناگواری کے ساتھ اس عہدنامے پر دستخط کیے، اور جہاں تک بنا ملک کی اصلاح کرنے لگے۔

تخت نشینی کے دوسرے ہی برس انھوں نے اپنا مشہور امام باڑہ حسین آباد اور اس کے قریب ایک عالیشان مسجد تعمیر کرانا شروع کی، جس کی بابت اہتمام کیا گیا کہ دہلی کی جامع مسجد سے رونق اور وسعت میں بڑھ جائے۔

ان دنوں لکھنؤ کی آبادی و رونق اس قدر ترقی کر گئی تھی اور اس کثرت سے آدمی اس کی سواد میں آباد تھے کہ اسے ہندوستان کا بابل کہنا بیجا نہ تھا۔ واقعی یہ شہر ہر حیثیت سے اس عہد کا زندہ بابل تھا۔

اس مشابہت کو شاید انگریزوں یا کسی درباری سے سن کے محمد علی شاہ نے ارادہ کیا کہ لکھنؤ کو پورا پورا بابل بنا دیں، اور اپنی ایک ایسی یادگار قائم کر دیں جو ان کے نام کو تمام شاہان اودھ سے زیادہ بلندی پر دکھائے۔ انھوں نے بابل کے مینار یا وہاں کے ہوائی باغ کی طرح کی ایک عمارت حسین آباد سے قریب اور موجودہ گھنٹہ گھر کے پاس تعمیر کرانا شروع کی، جس میں محرابوں کے مدور حلقے پر دوسرا حلقہ اور دوسرے حلقے پر تیسرا حلقہ، غرض یوں ہی تلے اوپر قائم ہوتے چلے جاتے تھے۔ ارادہ تھا کہ یونہیں سات منزلوں تک اسے بلند کر کے ایک اتنا بڑا اور اونچا مینار بنا دیا جائے جو دنیا بھر میں لاجواب ہو، اور اس کے اوپر سے سارے لکھنؤ اور اس کے گرد کی فضا نظر آئے۔ یہ عمارت اگر پوری بن جاتی تو یقیناً لاجواب اور عجیب و غریب ہوتی۔ اس کا نام "ست کھنڈا" قرار دیا گیا تھا، اور بڑے اہتمام سے بن رہی تھی، مگر پانچ ہی منزلیں بننے پائی تھیں کہ محمد علی شاہ نے سنہ ۱۲۷۱ محمدی (۱۸۴۲ء) میں سفر آخرت کیا۔

محمد علی شاہ نے اپنے مختصر زمانے میں، بغیر اس کے کہ اندرونی جھگڑے پیدا ہوں یا ملک میں بدنظمی کی فریاد بلند ہو، لکھنؤ کو نہایت ہی خوبصورت شہر بنا دیا۔ حسین آباد کے پھاٹک سے رومی دروازے تک دریا کنارے ایک سڑک نکالی جو چوک کہلاتی تھی۔ اس سڑک پر باوجود دو طرفہ عالیشان مکانوں کے، ایک طرف رومی دروازہ، آصف الدولہ کا امام باڑہ اور اس کی مسجد تھی؛ دوسری طرف ست کھنڈا اور حسین آباد کا پھاٹک تھا۔ اس نئے امام باڑے کی مخالف سمت ایک عالیشان عمارت اور اس کے پہلو میں جامع مسجد واقع تھی۔ ان سب عمارتوں نے مل کے وہ ایک ایسا خوشنما اور نظر فریب منظر پیدا کر دیا تھا جو دنیا کے تمام مشہور و خوش سواد مناظر پر چشمک زنی کرتا تھا۔ اور اب بھی، گو کہ درمیان میں باشندگان شہر کے جتنے مکانات واقع تھے سب کھد گئے، مگر دنیا کا ایک بہترین منظر تصور کیا جاتا ہے۔

Que vous laisse ce chapitre ?

Connectez-vous pour réagir

Discussion

Personne n’a encore parlé. Dites ce que ce chapitre a remué en vous.

Ce chapitre vous a plu ? Partagez-en une ligne.