Urdu in Translation
بحث

الفصل 55 من 56

Pottery and Clay Figures

مٹی کے ظروف اور کھلونے

Abdul Halim Sharar

الخط
الحجم

(۵۴)

اب ہم مختصراً یہ بھی بتا دینا چاہتے ہیں کہ لکھنؤ کی معاشرت نے اپنی ضرورت و قدردانی سے کن کن چیزوں کو ترقی دی، اور کن کن فنون کو یہاں نشو و نما ہوا۔ اسی سلسلے میں بہت سی چیزوں کا ذکر آئے گا، مگر ہم پہلے مٹی کے برتنوں سے شروع کرتے ہیں۔

مٹی کے برتن دنیا کی پہلی ایجاد ہیں۔ ہر ملک اور ہر سرزمین سے کھود کے قدیم الایام کے خزف پارے برآمد کیے گئے ہیں، جس سے ثابت ہوتا ہے کہ مٹی کو بھٹی میں پکا کے خزف بنا لینا انسان کو اپنی ترقیوں کے بہت ابتدائی دور میں معلوم ہو گیا تھا۔ اور غالباً دنیا کے عہد حجریت ہی میں معدنی فلزات کے برآمد ہونے سے پہلے انسان کو برتن بنا کے ان کو پکانا آ گیا تھا۔ مصر میں عہد فراعنہ کے گلی ظروف اور بابل و نینوا میں غذا اور پانی کے ظروف کے ساتھ نہایت پختہ اینٹیں برآمد ہوئی ہیں۔ فراعنہ کے دور میں امرائے مصر جن تابوتوں میں لاشوں کو ممی بنا کے رکھا کرتے وہ مٹی ہی کے ہوتے تھے۔ یہی نہیں، اگلی دنیا خزف پاروں اور ٹھیکروں سے بہت دنوں تک کاغذ کا کام لیتی رہی ہے۔

ہندوستان والوں کو بھی قدیم الایام ہی میں یہ فن آ گیا تھا، اور عہد قدیم کے نکلے ہوئے ظروف سے معلوم ہوتا ہے کہ یہاں بھی اس فن نے دیگر مقامات سے کم ترقی نہیں کی تھی۔ خصوصاً بت پرستی نے ہندوؤں میں بھی مٹی کی مورتوں کی بنیاد ڈالی، جس میں روز بروز ترقی ہوتی رہی۔ اور یہاں کمہاروں کی ایک ذات پیدا ہو گئی، جس کا خاندانی اور آبائی پیشہ یہی ہے کہ مٹی کے ظروف اور کھلونے بنا کے پکاتے ہیں۔

دہلی میں اسلامی دور نے عام کمہاروں کی نسبت زیادہ ترقی یافتہ کسگروں (کاسہ گروں) کا ایک نیا گروہ پیدا کر دیا، جو مسلمان ہیں اور ظروف کے ساتھ کھلونے بھی بناتے ہیں۔ اور اگرچہ شرع اسلام مورتوں کے بنانے کو مطلقاً ناجائز بتاتی ہے، مگر کسگروں کا چونکہ ذریعۂ معیشت یہی کام ہے، اس لیے وہ ایک حد تک کھلونے بنانے اور بیچنے پر مجبور ہیں۔ مسلمان کسگر عام معاشرت و شائستگی اور نیز اپنے فن میں کمہاروں سے زیادہ ترقی یافتہ ہیں۔

دہلی سے مسلمان امرا ان کسگروں کو بھی اپنے ساتھ لکھنؤ میں لائے، اور امرا کی شوقینی کی بدولت ان کی صنعت کو یہاں زیادہ اور نمایاں ترقی ہونے لگی۔ چنانچہ کمہار اور کسگر دونوں نے اپنے کام میں وہی ذہانت و طباعی اور جدت طرازیاں دکھانا شروع کیں جو ایک مصور تصویروں میں اور ایک شاعر اشعار میں دکھایا کرتا ہے۔

حسن اتفاق سے لکھنؤ کی مٹی اس فن کے لیے مناسب ثابت ہوئی، جس نے کاریگروں کو اظہار کمالات کا موقع دینا شروع کیا۔ اور برتن اور کھلونے دونوں ایسے بننے لگے جیسے کہ کہیں نہ بن سکے تھے۔ ظروف میں تو یہ ترقی ہوئی کہ ایسے سبک، باریک اور صاف، اور اس کے ساتھ خوش قطع برتن یہاں بنتے ہیں کہ کہیں نہیں بن سکتے۔ امروہے کی مٹی بھی اس کام کے لیے زیادہ مناسب ہے، چنانچہ وہاں بھی اس فن کو بڑی ترقی ہو رہی ہے، اور وہاں کے کاریگروں کے ظروف گلدستوں اور لکھنؤ کے ظروف کی وضع میں فرق ہے، اور اکثر لوگوں کا خیال ہے کہ لکھنؤ کے کاریگروں کا کام نفاست پسند لوگوں کی نظر میں بڑھا ہوا ہے۔

عام چیزوں میں لکھنؤ کے گھڑے، بدھنیاں سارے ہندوستان کے گھڑوں اور بدھنیوں سے سبک اور خوشنما ہوتے ہیں۔ گھڑوں کی گولائی نہایت ہی مکمل اور اپنے حدود میں پوری ہوتی ہے۔ بدھنیاں تانبے کے لوٹوں کی قطع سے بہت زیادہ قریب ہوتی ہیں۔ ظروف میں سفالی کے برتن یہاں سے اچھے شاید کہیں کم ملیں گے۔ مگر چونکہ مٹی کے برتنوں میں کھانے کا رواج بالکل اٹھ گیا ہے، اس لیے کمہاروں کی توجہ اب ان کی طرف سے ہٹ گئی، اور روز بروز گھٹتی جاتی ہے۔ مگر جن ظروف میں یہاں کے کسگروں نے اپنے کمالات کا اعلیٰ ترین ثبوت دیا وہ آبخورے، صراحیاں، جھجریاں اور حقے ہیں، اور ان کے بعد کھیر کی ہانڈیاں۔

آبخورے پانی پینے کے ظروف ہیں۔ اگرچہ شیشے اور تام چینی کے سبک خوشنما اور نفیس گلاس اور نیز مراد آباد وغیرہ کے گلاس اور کٹورے کثرت سے رواج پا گئے ہیں، مگر ہندوستان میں گرمیوں کا ایک ایسا موسم آتا ہے جبکہ بجز مٹی کے آبخوروں کے کسی ظرف میں پانی مزہ نہیں دے سکتا، اس لیے کہ پانی ان میں ٹھنڈا رہتا ہے اور خود ان کی ٹھنڈک ہاتھ اور ہونٹوں کو خنکی کی ایسی لذت دیتی ہے جو اور کسی چیز سے نہیں حاصل ہو سکتی۔ علاوہ بریں مٹی کے کورے آبخوروں میں ایک ایسی روح کو تازہ کرنے والی خوشبو ہوتی ہے جس کے شوق نے یہاں مٹی کا عطر ایجاد کرا دیا۔ غرض اس ضرورت نے آبخوروں کو باقی رکھا، جن میں طرح طرح کی نفاستیں پیدا کی گئیں۔ ایسے نازک، ہلکے اور سبک آبخورے بنتے جو کاغذی کہلاتے ہیں، اور اس قدر باریک ہوتے ہیں کہ شیشے کے گلاسوں کی نزاکت کو بھی یہاں مٹی کے آبخوروں کی سبکی اور باریکی نے مات کر دیا۔ پھر ان پر نقش و نگار بنا کے بالو کی ایک تہ چڑھا دی جاتی ہے کہ پانی کو زیادہ ٹھنڈا رکھے۔ انھی کے مناسب ان کے جوڑ کی تھالیاں ایجاد ہوئیں۔ آخر آبخوروں کی قطع ایسی خوشنما اور دلکش ہو گئی کہ دیکھنے سے تعلق رکھتی ہے۔ اور زمانے کو ماننا پڑا کہ انسانی صنعت نے جو کمال پگھلنے والے فلزات کے استعمال میں دکھایا ہے، وہی مٹی میں بھی دکھا سکتی ہے۔

آبخوروں کے بعد پانی رکھنے اور اس کے ٹھنڈا کرنے کے ظروف میں صراحیاں ہیں۔ صراحی بہت پرانی چیز ہے، جس کا رواج ایران و مصر قدیم میں بھی تھا۔ مگر لکھنؤ کی صراحیاں مٹی کی خوبی اور کاریگروں کی لطافت مذاق سے نفیس، کاغذی اور بہت ہی سبک ہو گئیں۔ اور پھر ان کی شکل بھی ایسی خوب صورت ہو گئی کہ ان دونوں باتوں میں کہیں کی صراحیاں ان کا مقابلہ نہیں کر سکتیں۔ ان کے دہانے پر ایسی متناسب خمیدگی پیدا ہو گئی کہ لکھنؤ کی صراحیوں کا دہانہ ہی ایسی چیز ہے جو اور کسی جگہ نظر نہیں آ سکتی۔ جھجریاں بھی ویسی ہی نازک و سبک ہیں۔ ان کا پیٹ تو وہی صراحیوں کے مثل ہوتا ہے، مگر اس کے اوپر لمبی گردن کے عوض ایک ٹھنگر لگا دیا جاتا ہے۔ کام اور نزاکت و لطافت کے اعتبار سے وہ بھی صراحیوں سے کم نہیں ہوتیں۔

حقے۔ ان میں بھی ٹھنڈک کی بے انتہا ضرورت ہوا کرتی ہے تاکہ دھواں ٹھنڈا آئے۔ مٹی کے کاغذی حقے یہاں ایسے نفیس اور خوش قطع بننے لگے کہ کسی جگہ نہیں نصیب ہو سکتے۔ پھر نئے انواسے ہوئے کورے حقوں سے دھوئیں میں خنکی اور نفاست کے ساتھ ساتھ کوری مٹی کی ایسی نفیس خوشبو پیدا ہو جاتی ہے کہ عہد شاہی کے بہت سے عالی مرتبہ رئیسوں کو سوا ان کے کسی حقے میں مزہ نہ آتا تھا۔ عظیم اللہ خاں نے ان میں اور خوشنمائی و نفاست پیدا کر کے عظیم اللہ خانی حقے اپنی یادگار چھوڑ دیے، جو آج تک مٹی کے کل قسموں کے حقوں سے اچھے، سبک اور مقبول عام ہیں۔ میں نے ایک مرتبہ لندن کے ملک الشعرا لارڈ ٹینیسن کی نسبت سنا کہ ان کو مٹی کے سفید پائپ جو "گلی پائپ" کہلاتے ہیں، اس قدر پسند تھے، اور ان کی شاعرانہ نفاست پسندی کورے پائپوں کی اس قدر رسیا تھی کہ سامنے ایک ٹوکری میں بھرے ہوئے کورے اور اچھوتے پائپ رکھے رہتے۔ وہ ایک پائپ کو لے کر اس میں تمباکو بھرتے، پیتے، اور چند منٹ میں اس کو توڑ کے دوسری ٹوکری میں ڈال دیتے۔ پھر دوبارہ ضرورت ہوتی تو دوسرا پائپ لیتے، اور چند کش لے کر اسے بھی توڑ کے ڈال دیتے۔ یوں ہی دن بھر بیٹھے کورے پائپ بھرا، پیا اور توڑا کرتے۔ میرا خیال ہے کہ اگر لارڈ ٹینیسن کو لکھنؤ کے عظیم اللہ خانی حقے مل جاتے تو ان گلی پائپوں کو بھول جاتے۔ اس لیے کہ ان کے دھوئیں میں جو ٹھنڈک، نفاست اور خوبی ہوتی ہے، اس کا پتا گلی پائپوں میں کوسوں نہیں ہے۔

کھیر کی ہانڈیاں۔ پکانے کی ہانڈیاں ہر جگہ بنتی ہیں، مگر لکھنؤ کی ہانڈیاں تانبے کی پتیلیوں کی جتنی سچی نقل ہیں، اور کہیں نہ ہوں گی۔ خصوصاً گلابی ہانڈیاں، جو حصوں میں کھیر وغیرہ تقسیم کرنے کے لیے بنائی جاتی ہیں، آبخوروں اور صراحیوں کی طرح یہ بھی کاغذی اور بہت ہی خوبصورت بنتی ہیں۔ ان میں اب اکثر نازک امرا گلوریاں بھی رکھتے ہیں۔ اس لیے کہ گرمیوں کے موسم میں خاصدان جل اٹھتے ہیں اور ان میں گلوریاں بھی بہت گرم ہو جاتی ہیں، مگر ان ہانڈیوں میں وہ اس قدر ٹھنڈی رہتی ہیں اور ان میں ایسی سوندھی خوشبو پیدا ہو جاتی ہے کہ نہایت ہی فرحت بخش ہو جاتی ہیں۔ مگر برتنوں سے بھی زیادہ کمال کمہاروں نے کھلونوں اور مٹی کی مورتوں میں دکھایا۔ بت تراشی کا فن بت پرستی کے طفیل میں بہت پرانا ہے۔ مصریوں، بابلیوں اور ایرانیوں، یونانیوں اور رومیوں، سب نے اپنے اپنے عہد میں اس فن میں کمالات دکھائے، جن کے نمونے آج یورپ کے نامور عجائب خانوں میں نظر آ سکتے ہیں۔ خصوصاً اہل یونان نے پتھر کی مورتیں تراشنے اور اعضا کا تناسب قائم رکھنے میں ایسا کمال دکھایا کہ آج کا زمانہ بھی باوجود بے انتہا ترقیوں کے ان کی چابک دستی پر حیران ہے۔ اور ان کی بنائی ہوئی مورتیں حال کے بت تراشوں اور مصوروں کے لیے بہترین "ماڈل" یا معیار سمجھی جاتی ہیں۔ مگر مٹی کے کھلونوں میں تناسب اعضا قائم رکھنے اور فطرت کی سچی نقل اتارنے میں جو کاریگری یہاں کے ان پڑھ جاہل کمہار دکھا رہے ہیں، وہ یونان کے کمال سے ذرا بھی کم نہیں ہے۔ وہ انسان کو دیکھ کر اس کی پوری مورت اتنی ہی بڑی جتنا کہ اس کا جسم ہو تیار کر دیتے ہیں۔ پھر چھوٹی مورتوں میں ہر وضع اور ہر طبقے کے لوگوں کی ایسی مطابق اصل تصویریں بناتے ہیں کہ ان کے کمال میں شاعرانہ نازک خیالیوں کا پتا چلتا ہے۔ دیوالی میں ہندو کثرت سے کھلونے خریدتے اور تقسیم کرتے ہیں، اور اسی ضرورت سے ہر سال اس موسم میں یہاں کے کمہاروں کو اپنے فن میں نئی نئی ایجادوں، طباعیوں اور نازک خیالیوں کے ظاہر کرنے کا موقع مل جایا کرتا ہے۔

ان کمہاروں نے جو مورتوں کے طرح طرح کے گروپ اور سٹ تیار کیے ہیں، وہ دیکھنے سے تعلق رکھتے ہیں۔ انگریزی بینڈ، رنڈیوں اور بھانڈوں کے طائفے، قدیم نوابوں کی محفل، امرا کے دربار، مختلف اہل حرفہ کے مجمع، خاص شان رکھتے ہیں۔ ایک مرتبہ نمائش کے موقع پر یہاں کے ایک کمہار نے ایک ہندوستانی گاؤں بنایا تھا، جس میں آبادی کے اندر دکان اور مکانوں کے درمیان مختلف الوضع لوگوں کا چلنا پھرنا، بیلوں اور گاڑیوں کا گزرنا دکھانے کے بعد، گرد کے میدان میں کسانوں کا ہل جوتنا اور نالیوں کے ذریعے سے کھیتوں میں پانی پہنچانا دکھایا تھا۔ نالیوں میں پانی بہنا اور اس میں ننھی ننھی لہروں کا پڑنا تک نمودار ہوتا تھا، اور یہ چیز نمایاں طور پر دکھائی گئی تھی کہ جو بیل ہلوں میں کام کر رہے ہیں، نہایت دبلے ہیں اور ان کی پسلیاں صاف نظر آ رہی ہیں۔ اسی طرح شاہی زمانے کے لکھنؤ کی ایک تصویر بھی میں نے دیکھی، جس میں اس وقت کی آبادی اور گلیوں اور ٹیلوں کا نقشہ دکھا دیا گیا تھا۔ مگر افسوس کہ یہ سب محنتیں ایک وقتی جوش کے طور پر دو چار روز نظر آ کے غائب ہو جاتی ہیں، اور کوئی ایسا مقام نہیں ہے جہاں ان تمام صناعیوں کے نمونے محفوظ رکھے جاتے ہوں۔ لندن میں "میڈم ٹسائڈس اگزبیشن" کے نام سے ایک مومی تصویروں کا عجائب خانہ ہے، جس میں ہر قسم کی قد آدم تصویریں کل مشاہیر زمانہ کی، اور نیز وہ جن میں صناع نے کوئی خاص کمال دکھایا ہے، جمع کر دی گئی ہیں۔ بعض ایسی صورتیں ہیں کہ ممکن نہیں ہر جانے والے کو کسی نہ کسی مورت پر دھوکا نہ ہو جائے۔ اگر ایسا ان مٹی کی مورتوں کا ایک عجائب خانہ یہاں قائم کر دیا جائے اور اس میں کمہاروں کی تمام کاریگریاں جمع کر دی جائیں تو میرا خیال ہے کہ فن کی ترقی میں بے حد مفید ہونے کے علاوہ نفع بخش بھی ہوگا۔ اس کے داخلے کے لیے ایک ٹکٹ مقرر کرایا جا سکتا ہے، اور میرا خیال ہے کہ کوئی باہر کا سیاح بغیر اس کے دیکھے نہ جائے گا۔ لیکن خرابی یہ ہے کہ خود ہم میں کوئی ذوق اور جوش نہیں ہے، اور ہم ہر بات میں گورنمنٹ کے دست نگر رہنا چاہتے ہیں۔ اگر کسی دولت مند امیرزادے کو بجائے عیاشی کے اس کا شوق ہو جائے تو کس قدر ناموری و خدمت وطن کا باعث ہو سکتا ہے؟

عجائب خانوں میں اس قسم کے کھلونے اکثر جمع کر دیے گئے ہیں، مگر وہ بہت ہی محدود ہیں، اور لکھنؤ میں اس صنعت کا درجہ اتنا ہی نہیں ہے کہ دیگر اعجوبۂ روزگار چیزوں کے ضمن میں چند کھلونے بھی رکھ دیے جائیں۔ یہاں کھلونوں اور گلی مورتوں کی مستقل نمائش ہونی چاہیے۔

ما الذي تركه هذا الفصل فيك؟

سجّل الدخول للتفاعل

النقاش

لم يتكلم أحد بعد. قل ما حرّكه هذا الفصل فيك.

أعجبك هذا الفصل؟ شارك سطرًا منه.