Urdu in Translation
Поиск

Глава 54 из 56

Conveyances and Going Out

سواریاں اور باہر نکلنے کی وضع

Abdul Halim Sharar

Письмо
Размер

(۵۳)

معاشرت کے بہت سے سامان ضروری اور آداب نشست و برخاست کو ہم اس سے پیشتر بیان کر چکے ہیں، مگر ابھی ہم کو یہاں کے شرفا کی باہر کی آمد و رفت کی وضع و شان بتانے کی ضرورت معلوم ہوتی ہے۔ ہندوستان کے تمام شہروں کی طرح یہاں بھی انگریزیت اس قدر غالب آ گئی ہے کہ ایشیا کے آخری تمدن میں جو وضع پیدا ہوئی تھی بالکل مٹ گئی۔ مگر ہم کو اس موقع پر وہی چیز بیان کرنا ہے جو مٹ چکی ہے یا مٹنے کے قریب ہے۔ لہٰذا ہم آج سے ساٹھ ستر برس پیشتر سے بھی پہلے زمانے میں نکلے چلتے ہیں، اور اس زمانے کی تصویریں ناظرین کے پیش نظر کرتے ہیں جو اب کہیں نہیں نظر آ سکتیں۔

آج کل کی سی عمدہ موٹروں اور لمبی چوڑی فٹنوں اور لینڈو گاڑیوں کے نہ ہونے سے، اور نیز حال کے اصول حفظ صحت کے پیش نظر نہ ہونے کے باعث، ان دنوں آج کل کی سی لمبی چوڑی اور وسیع و کشادہ سڑکیں نہ تھیں، بلکہ تنگ گزرگاہیں تھیں، جن میں ہاتھی، گھوڑے، اونٹ، ہوادار، بوچے، فینسیں، میانے، سکھپالیں، ڈولیاں، رتھیں، بہلیں آدمیوں کی بھیڑ میں سے ہٹو بچو کرتی ہوئی ہر وقت گزرا کرتی تھیں۔ کیسا ہی مرجع عام بازار اور کیسی ہی پسندیدہ سیرگاہ ہو، سب کی حالت بلا استثنا یہی تھی۔

ایک اونٹ تو نہیں جو فوجی ضرورتوں، نامہ بر قاصدوں یا باربرداری کے لیے مخصوص تھے، باقی اور تمام سواریاں شرفا و رؤسا میں حسب حالت و حیثیت مروج تھیں۔ اعلیٰ طبقے کے شاہزادے اور نواب یا انھیں کے درجے کے اور امرا ہواداروں اور بوچوں پر سوار ہو کے نکلتے۔ ہوادار تخت کی وضع کی ایک کھلی ڈولی تھی، جس کے پیچھے چمڑے کا ٹپ ہوتا، اور لوہے کی کمانیوں کے ذریعے سے کھولا یا بند کیا جا سکتا۔ ٹھنڈے اوقات میں جب ٹپ گرا دیا جاتا تو ہر طرف کی فضا کھلی رہتی۔ آگے پیچھے اس میں فنس کے سے ڈنڈے لگے ہوتے۔ چار کہار اس کو کاندھوں پر اٹھا کے لے جاتے، اور جو شخص سوار ہوتا وہ نہایت وقار و تمکنت سے بازار کی سیر کرتا، ہر چیز کو دیکھتا بھالتا، اور شناساؤں سے صاحب سلامت کرتا ہوا جاتا۔ ہوادار کی قطع سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ خاص انگریزوں کی ایجاد کی ہوئی چیز تھی۔ ہندوستان میں آ کر انھوں نے اپنے مذاق کے مطابق اور اپنی جدت طرازی سے اس کو ایجاد کیا، اور اپنی نفاست، خوشنمائی اور صفائی کی بدولت رؤسائے ہند کو بہت پسند آیا۔ اب اس کا رواج بالکل اٹھ گیا۔ اگرچہ بعض پرانے رؤسا کے یہاں چند ہوادار اب بھی پڑے ہوئے ہیں، جو رؤسا کی معمولی آمد و رفت میں تو نہیں، مگر دولتمند ہندوؤں کی براتوں میں وہ کبھی کبھی نظر آ جایا کرتے ہیں۔

بوچا اس سے زیادہ باوقار اور متین سواری تھی۔ اس کی قطع آج کل کی بروہم یا ردھا گاڑیوں کی سی ہوتی، جس میں پہیوں کے بجائے پائے ہوتے، اور آگے پیچھے فنس کے ایسے دو دو ڈنڈے ہوتے، اور کم از کم آٹھ اور اکثر سولہ سولہ کہار اس کو اٹھا کے لے چلتے، اس لیے کہ وہ کہاروں کے اٹھانے کی تمام سواریوں سے زیادہ بھاری ہوتا۔ اس سواری پر شاید کبھی اور امرا بھی سوار ہوئے ہوں، مگر میں نے فقط واجد علی شاہ کو کلکتے میں اس پر سوار ہوتے دیکھا۔ اور ان کے سوا یہ سواری میں نے کہیں اور کسی کے پاس نہیں دیکھی۔ بادشاہ اپنے باغوں، محلوں اور کوٹھیوں میں اسی پہ سوار ہو کے پھرا کرتے، اور گرد جلو کے خدام کے علاوہ معزز ارکان دولت اور حضور کے مصاحبین پاپیادہ ساتھ چلتے۔ مگر یہ بھی یقیناً انگریزوں کی ایجاد تھا، جو اس عہد کی انگریزی گاڑیوں سے اخذ کر کے کہاروں کے اٹھانے کے قابل بنا لیا گیا۔

سکھپال ان دنوں عورتوں کی نہایت معزز سواری تھی، جو خالص ہندوستانی چیز اور ہندی مذاق کے تکلفات کا مکمل نمونہ تھی۔ یہ ایک سرخ گنبد نما ڈولی تھی۔ ایک لمبے چوڑے کھٹولے پر ایک شاندار لال برج سا بنا دیا جاتا، جس میں سونے چاندی کے کلس لگے ہوتے۔ چاروں طرف پردے لٹکتے ہوتے۔ اس میں بھی آگے پیچھے دو دو یا ایک ایک ڈنڈے ہوتے، اور بہت سے کہار اس کو اٹھا کے لے چلتے۔ یہ سواری عالی مرتبہ بیگمات اور محل شاہی کی خاتونوں کے لیے خاص تھی۔

رتھ اسی وضع کی پہیوں دار گاڑی تھی، جس میں بیل جوت دیے جاتے۔ رتھیں دیہات کے تعلقداروں اور معزز زمینداروں کے یہاں اور دیسی ریاستوں میں اب بھی موجود ہیں، مگر روز بروز بیکار ہوتی جاتی ہیں، اور ان کا رواج اٹھتا جاتا ہے۔ لکھنؤ میں خاص شاہی محلات کی ضرورت کے لیے ان دنوں ہزاروں رتھیں تھیں۔ شجاع الدولہ کی بیوی بہو بیگم صاحبہ نواب آصف الدولہ کے عہد میں جب اپنی بیوگی کی زندگی ایک حکمران ملکہ کی شان سے فیض آباد میں بسر کرتی تھیں تو اکیلی ان کی سرکار میں آٹھ نو سو رتھیں تھیں۔ اور قدیم الایام میں جب شاہان دہلی اپنی مملکت میں دور و دراز کے سفر کیا کرتے تھے تو ان کے محلات عالیات انھیں رتھوں پر سوار ہو کے ساتھ جاتے۔

بہل بیلوں کی عام گاڑی تھی، جس میں ایک کھٹولے کو دو پہیوں پر قائم کرتے، پھر اس پہ چار ڈنڈے کھڑے کر کے ایک چھتری لگا دیتے، اور اس پر پردے کے لیے غلاف ڈال دیا جاتا۔ اس میں اکثر مرد اور عورتیں سفر کرتیں۔ ان دنوں متوسط طبقے کے دیہاتیوں اور شہریوں دونوں کے لیے سفر کا ذریعہ یہی سواری تھی۔ بہلیں دیہاتوں میں اب بھی بکثرت موجود ہیں، مگر ان کی ضرورت روز بروز گھٹتی جاتی ہے، اور عنقریب ایک زمانہ ایسا آنے والا ہے کہ یہ سواری عنقا ہو جائے گی۔

ان کے سوا تمام سواریوں کو لوگ خود ہی جانتے ہیں، ہمیں ان کی شکل و صورت بتانے کی ضرورت نہیں ہے۔

بہرحال یہ سب سواریاں شہر کے تمام راستوں اور گلی کوچوں میں گزرتی نظر آتیں۔ زیادہ تر لوگ فنسوں پہ سوار ہوتے۔ علما، اطبا، امرا اور خوش باش جن کو خدا استطاعت دیتا، چار کہار نوکر رکھ لیتے جو خدمتگاری بھی کرتے اور سواری کا بھی کام دیتے۔ جن لوگوں میں ذرا بھی بانکپن ہوتا یا سپہگرانہ شان دکھانا چاہتے، جو ان دنوں تمام اہل شہر میں عام تھی، وہ گھوڑے پر سوار ہو کے نکلتے۔ جو چاندی کے زیور اور کارچوبی ساز و یراق سے دولھن بنا دیے جاتے۔ اعلیٰ درجے کے معززین ہاتھیوں پہ بیٹھ کے آمد و رفت کرتے، جو باوجود اس قد و قامت کے تمام گلی کوچوں میں بلا تکلف گزر جاتے۔ ہاتھیوں پر سادی بانات یا کارچوبی جھولیں ہوتیں، اور ان پہ کھلے ہودے یا سایہ دار برج نما عماریاں کسی جاتیں۔

زنانی سواریاں جو سکھپالوں اور فنسوں پر ہوتیں وہ بڑے تکلف اور شان سے نکلتیں۔ فنس پہ سرخ چھتلے پڑے ہوتے، جن پہ کبھی گوٹا لچکا بھی ٹانک دیا جاتا۔ کہار سرخ بانات کے جھگے پہنے ہوتے، سروں پر سرخ گلگردار پگڑیاں ہوتیں، جن کی کلغیوں پہ چاندی کی مچھلیاں ٹنگی رہتیں۔ مچھلی ہندوستان میں بہترین شگون مانی گئی ہے۔ رخصت کرتے وقت یا کسی کو کسی اہم کام کے لیے جاتے وقت آج بھی عورتوں کی زبان سے نکل جاتا ہے "دہی مچھلی"۔ غالباً اس کو نجوم سے تعلق ہو، اور یہ بھی نجومیوں ہی کا ٹٹکا معلوم ہوتا ہے کہ چاندی کی مچھلیاں بنوا کر کہاروں کی پگڑی میں ٹانک دی جائیں جو آگے رہتے ہیں، تاکہ کہیں جاتے وقت مچھلیاں ہر وقت پیش نظر رہیں۔

زنانی فنس کے ساتھ ساتھ ایک کہاری چھتلے کا کونا پکڑے دوڑتی جاتی۔ ان کہاریوں کی وضع بھی خاص قسم کی تھی۔ سب سے بڑی پہچان یہ تھی کہ لہنگے میں اتنی چوڑی گوٹ ہوتی ہے کہ اس کا آدھے سے زیادہ حصہ فقط گوٹ کا ہوا کرتا۔

ان سواریوں میں سے شہر میں اب فقط فنس باقی رہ گئی ہے، یا کبھی کبھی کوئی رئیس گھوڑے یا ہاتھی پہ دکھائی دے جاتے ہیں۔

اب دیکھنا یہ ہے کہ باہر نکلنے میں شرفا کی کیا وضع ہوتی تھی۔ لباس کو ہم بیان کر چکے ہیں، مگر ان کی تصویر دکھانے کے لیے ہمیں پھر ایک حد تک ان کی وضع قطع بتانے کی ضرورت ہے۔ سواری کی شان کے متعلق میں نے جو کچھ بیان کیا، اس میں بجز بوچے اور ہوادار کے اور تمام چیزیں وہی ہیں جو دہلی سے آئیں۔ لکھنؤ کو ان سے کوئی خصوصیت نہیں۔ دراصل یہ دہلی ہی کی شان تھی جو اپنی آخری جھلک چلتے کر و فر کے ساتھ لکھنؤ میں دکھا کے غائب ہو گئی۔

لیکن لباس میں لکھنؤ دہلی سے جدا ہو گیا۔ اب گھر میں کرتا یا قمیص اتار کے بیٹھنا معیوب ہو گیا ہے، مگر ان دنوں یہاں گھر کا لباس سچ پوچھیے تو ایک غرقی تھی۔ یہاں کا دربار شیعہ تھا، اور ہر چیز یہاں تشیع ہی کے سانچے میں ڈھلتی تھی۔ فقہ امامیہ کی رو سے رانوں کے کھلے رہنے میں مضائقہ نہیں، بخلاف حنفیوں کے کہ ان کے مذہب میں ناف سے لے کر گھٹنوں تک جس قدر حصہ جسم ہے ستر میں داخل ہے، اس کا چھپانا ضروری ہے۔ اور اسی بنا پر دہلی میں علی العموم تہمت کی وضع کی لنگی باندھی جاتی، جس میں گھٹنوں کے نیچے تک جسم ڈھکا رہتا ہے۔ یہاں کے تمدن میں اس کی ضرورت نہیں باقی رہی، اور یہاں کی لنگی فقط ایک پتلی سی غرقی یا جانگھیا رہ گئی، جس میں ناف سے کنج ران تک تو جسم ڈھک جاتا ہے، باقی سب جسم کھلا رہتا ہے۔ لوگوں میں مہذب اور مرد آدمی بن کے نکلنے کا خیال تو بڑھا ہوا تھا، مگر گھر میں بجز ایک غرقی کے جسم پر ایک دھاگا بھی نہ رہتا۔ اور یہ بات اس قدر عام ہو گئی تھی کہ اسی برہنگی کی وضع سے اپنے گھر پہ کسی سے ملنے میں بھی مضائقہ نہ سمجھا جاتا۔ مگر یہی حضرات جب باہر نکلتے تو شان ہی اور ہوتی۔ قالب پہ چڑھی چوگوشیہ ٹوپی، اجلا صاف اور براق انگرکھا جو معلوم ہوتا کہ ابھی ابھی دھوبی کے گھر سے آیا ہے، اور اسی وقت گوٹ اور آستینیں چنی گئی ہیں۔ گلبدن یا تنسکھ کا عرض کلاں پائجامہ، کاندھے پہ مثلث رومال، ہاتھ میں دستی رومال اور چھڑی۔ اور پاؤں میں لکھنؤ کا بنا ہوا اسلیپر مخملی خوردنوکا جوتا۔ باہر نکلنے میں ہر وضیع و شریف کی یہی وضع تھی۔

بہتات سے لوگوں کو باہر نکلنے میں اس وضع و لباس کا اس قدر لحاظ تھا کہ کبھی ان کے کپڑے میلے نہ نظر آتے۔ معلوم ہوتا کہ اسی وقت دھوبی کے یہاں سے آئے ہیں۔ حالانکہ مہینوں انھیں دھلنے کی نوبت نہ آتی۔ اور ہوتا یہ کہ دو گھڑی دن رہے گھر سے نکلے۔ خراماں خراماں ہر چیز سے بچتے، اور اپنے سائے تک سے بچتے ہوئے چوک کی سیر کی۔ دو گھڑی رات گئے واپس آ گئے۔ اور آتے ہی پہلا کام یہ کیا کہ ٹوپی قالب پر رکھ کے ایک کپڑے سے اڑھا دی۔ انگرکھے، پائجامے اور اوڑھنے کے رومال کو احتیاط سے تہ کر کے دستی رومال میں گٹھڑی کی طرح باندھ کے کھونٹی پر رکھ دیا۔ اور غرقی باندھ کے اور کوئی پرانا جوتا یا زیرپائی پہن کر بیٹھ رہے۔ اسی داشت کی برکت تھی کہ قیمتی اور شالی کپڑے چار چار پانچ پانچ پشتوں تک اس احتیاط سے رہتے کہ نہ میلے ہوتے، نہ پھٹتے، نہ کیڑا لگتا، ہمیشہ نئے بنے رہتے۔ اور شادی کی تقریبوں یا شان و شکوہ کی محفلوں میں ایسا شاہانہ لباس پہن کر جاتے کہ لوگوں کو جو ان کی حالت و حیثیت سے واقف ہوتے تعجب ہوتا۔

گو کہ اعلیٰ طبقے کے امرا، خصوصاً شاہزادے، علما اور اطبا لزوم کے ساتھ سواریوں پر نکلتے، مگر شرفا کے لیے پیدل پھرنا آج کل کے زمانے کی طرح معیوب نہ تھا۔ ہر طبقے اور درجے کے لوگ یکساں حالت سے پاپیادہ باہر کی سیر کرتے، اور پیدل چلنے والے بڑے سے بڑے رئیسوں اور معزز لوگوں کے برابر بیٹھتے، اور مضائقہ نہ ہوتا۔

Что оставила в вас эта глава?

Войдите, чтобы отреагировать

Обсуждение

Пока никто не высказался. Расскажите, что всколыхнула в вас эта глава.

Понравилась глава? Поделитесь строкой из неё.