Urdu in Translation
Поиск

Глава 53 из 56

Khasdan, Ugaldan, Lota and Sailabchi

خاصدان، اگالدان، لوٹا اور سلفچی

Abdul Halim Sharar

Письмо
Размер

(۵۲)

پانوں کی گلوریاں رکھنے کے لیے اگرچہ خاصدان میں بہت ترقی کی گئی، اس کی خوشنمائی و دلفریبی میں کوئی دقیقہ نہیں اٹھا رکھا گیا، مگر جب یہ نظر آیا کہ گرمیوں کے موسم میں تانبے کے قلعی کیے ہوئے خاصدان جل اٹھتے ہیں، اور ان میں رکھنے سے پرتکلف گلوریوں کے خشک ہونے کے علاوہ وہ ایسی گرم ہو جاتی ہیں کہ کھانے میں بجائے تفریح کے تکلیف ہوتی ہے، اور بعوض تسکین کے منہ خشک ہو جاتا ہے، تو اس موسم میں ان کے رکھنے کے لیے مٹی کی کوری ہانڈیاں اختیار کی گئیں، جن میں پان ٹھنڈے رہتے ہیں، ان کی تازگی و فرحت بخشی میں اور ترقی ہو جاتی ہے، اور ان میں نہایت ہی سوندھا پن پیدا ہو جاتا ہے۔ یہ کاغذی ہانڈیاں لکھنؤ میں ایسی سبک، خوشنما اور ورق کی سی باریک بنتی ہیں کہ اور کسی جگہ نہیں بن سکتیں۔ جب ان کو پانی میں بھگو کے اور ان میں گلوریاں رکھ کے سامنے لائی جاتی ہیں تو پان تو بعد کھایا جائے گا، ان کی صورت دیکھتے ہی آنکھوں میں تازگی آ جاتی ہے۔

پھر امرا کے تکلف نے اس خیال سے کہ ان کو بار بار بھگونا دشوار ہے، اور جب تک پانی میں تر نہ ہوں ان میں لطف نہیں آ سکتا، ان پر کپڑا منڈھا تاکہ کپڑا ان کو تر رکھے۔ اور معمولی سفید کپڑا چونکہ جلدی میلا ہو جاتا ہے، اور گلوریاں رکھنے کی وجہ سے اس میں جابجا سرخ دھبے پڑ جاتے ہیں، اس لیے بجائے سفید کے ان پر سرخ ٹول منڈھا گیا، جو نہ جلدی میلا ہوتا ہے اور نہ پان کے دھبے اس کو بدنما کر سکتے ہیں۔ زیادہ آراستگی کے لیے ان ہانڈیوں میں ٹول پر باریک روپہلی دھنک سے پھانکیں سی بنا دی جاتی ہیں، جن چیزوں نے پان کی ہانڈیوں کو بنا سنوار کے دولھن بنا دیا۔

تانبے کے خاصدان بھی عموماً غلاف میں بند رہتے ہیں، اور اسی طرح کے غلافوں کا رواج پاندانوں اور حسن دانوں کے متعلق بھی ہے، جو بڑے اہتمام سے حسب درجہ و حالت پرتکلف بنائے جاتے ہیں، جن میں فقط حفاظت ہی نہیں آرائش بھی ملحوظ خاطر ہوتی ہے۔

ایسا ہی ٹول دھنک کے ساتھ صراحیوں پر بھی منڈھا جاتا ہے، جس کی وجہ سے صراحیوں میں پانی خوب ٹھنڈا رہتا ہے، اور ان کی صورت دیکھتے ہی بےپیاس کے پانی پی لینے کو جی چاہتا ہے۔

پان کھانے والوں کو اکثر پیک تھوکنے کی ضرورت ہوا کرتی ہے، جس کے لیے بار بار اٹھنا زحمت سے خالی نہیں۔ اور پھر جن کمروں میں پرتکلف فرش بچھا ہو، تھوکنے کو جگہ مشکل سے اور دور جا کے ملتی ہے، اور جگہ ملے بھی تو پیک کے دھبوں سے مکان خراب ہوتا ہے۔ اس لیے پان ہی کے سلسلے میں ایک اور ظرف کی ضرورت پیش آئی جو تھوکنے کے لیے ہو۔ یہ ظرف اگالدان کہلاتا ہے۔ اگالدان کوئی نئی چیز نہیں جس کو لکھنؤ کے ساتھ خصوصیت ہو۔ پہلے اگالدان غالباً دہلی میں ایجاد ہوئے، اور وہ بعینہٖ لکھنؤ میں منتقل ہو آئے۔ ان کی قطع یہ تھی کہ نیچے گول پیندا، اس کے اوپر ایک گول لٹو، پھر اس کے اوپر کنول نما دہانہ۔ یہ اگالدان تانبے، پیتل اور جست کے ہر جگہ بننے لگے۔ بیدر میں ان پر وہاں کا بےنظیر بدری کا کام، اور لکھنؤ میں تانبے پر نقاشی کا کام بنایا گیا۔ پھر مرادآباد میں بنے اور ان پر وہاں کی نفیس نقاشی ہوئی۔ لکھنؤ میں پھر مٹی کے اگالدان اسی قطع کے بننے لگے۔

مگر ان میں خرابی یہ تھی کہ ان کے نیچے کا حصہ ہلکا اور اوپر کا زیادہ پھیلاؤ کی وجہ سے وزنی ہوتا تھا۔ نتیجہ یہ تھا کہ اکثر بےاحتیاطی یا غفلت میں گر جاتے اور فرش خراب ہوتا۔ اس عیب کے دور کرنے کے لیے بےپور، حیدرآباد اور اس کے بعد مرادآباد میں ایک دوسری قطع کے اگالدان بننے لگے، جو شاید دہلی ہی کے ایجاد ہوں۔ ان کی قطع کہاروں کی ہڑک یا مداری کی ڈگڈگی کی سی ہوتی ہے۔ اور لکھنؤ میں بھی بہت سے لوگوں کو اس قسم کے اگالدان اختیار کر لینا پڑے۔ اگرچہ یہاں ابھی تک پرانی وضع چھوٹی نہیں، اور اسی وضع کے بہت بڑے بڑے اگالدان اب بھی بنتے ہیں، مگر اب بہت سے گھروں میں اس نئی وضع کے بھی موجود ہیں۔ مگر سچ یہ ہے کہ اگالدان کی ایجاد و ترقی میں لکھنؤ کو کوئی خصوصیت نہیں ہے، اگرچہ ان کا رواج لکھنؤ میں ہندوستان کے تمام شہروں سے زیادہ ہے۔

اب ایک نئی قطع کے بیٹھے اور پھیلے ہوئے انگریزی اگالدان بھی آتے ہیں جو چینی اور تمام چینی کے ہوتے ہیں، مگر وہ غالباً چرٹ پیتے وقت تھوکنے کے لیے ہیں۔ پان کی پیک تھوکنے کے لیے بالکل موزوں نہیں ہیں۔

خاصدان کے بعد امرا اور خوش باش لوگوں کے ہمراہی سامان میں پانی کی لوٹیا بھی ہے، جو خدمتگاروں کے پاس رہا کرتی ہے۔ علی العموم یہ تانبے کی اوسط درجے کی سادی یا نقشی لوٹیاں ہوا کرتی ہیں۔ جن لوگوں کو خدا نے استطاعت دی ہے اور اس کے ساتھ یہ بھی ہے کہ امارت و دولتمندی نے ان کو پابندی شرع سے آزاد کر دیا ہے، وہ چاندی کی لوٹیاں ساتھ رکھتے ہیں۔

لوٹیا پرانی ہندوؤں کے عہد کی چیز ہے، جو ایک بےٹونٹی کا گول ظرف ہوتا تھا، جس کا منہ پیٹ سے چھوٹا ہوتا۔ اور چونکہ کنوئیں سے پانی بھرنے کی اکثر ضرورت پیش آیا کرتی، اس لیے ہر مسافر کے ساتھ سفر میں لوٹیا ڈوری ضرور رہا کرتی۔ اور دیہات کے ہندوؤں اور نیز وہاں کے ادنیٰ طبقے کے مسلمانوں میں آج تک اسی اگلی شان میں اس کا رواج ہے۔ مسلمانوں نے اپنے زمانے میں اس لوٹیا میں ٹونٹی لگا دی تاکہ پانی کے استعمال میں آسانی ہو۔

میں نہیں جانتا کہ دہلی کے امرا میں بھی یہ رواج تھا۔ اور جن لوگوں کے ساتھ خدمتگار رہا کرتے تو ان کے پاس لوٹیا بھی ضرور ہوتی، جو پانی پینے، کلی کرنے اور دیگر ضرورتوں میں کام آیا کرتی۔ مگر لوٹیا کی موجودہ قطع اور اس کی خوشنمائی میں لکھنؤ کو بڑا دخل ہے، جس کا حال ہم تانبے کے برتنوں کے سلسلے میں بیان کریں گے۔

گرمیوں میں رنگین کپڑے کا منڈھا ہوا جھالردار پنکھا بھی خدمتگاروں کے پاس رہتا، اور بعد کے زمانے میں چھتری بھی لازم ہو گئی، جس کو دھوپ میں نوکر آقا کے سر پر لگائے رہتا۔

گھروں کی اندرونی ضرورتوں میں ہاتھ دھونے کے لیے سلفچی، آفتابہ۔ اور چونکہ صابون کا رواج نہ تھا اس لیے بیسن دانی بھی ضروری چیزیں تھیں۔ سلفچی، آفتابہ ہندوستان کے دولتمند گھرانوں کی پرانی چیزیں ہیں، جو دہلی میں خدا جانے کب سے مروج تھیں، اور اپنی قدیم وضع و شان سے لکھنؤ میں آ گئیں۔ یہاں سلفچی تو وہی رہی، اور گو اب اس کی جگہ تسلے کا زیادہ رواج ہو گیا ہے، مگر سچ یہ ہے کہ وہ سلفچی کا بدل نہیں ہو سکتا۔ سلفچی ایک گول پیٹ کا ظرف ہے جس کا منہ ذرا چھوٹا کر کے گرد میں ایک اتھلے طشت کی وضع میں بہت زیادہ پھیلی ہوتی ہیں، اور منہ پر ایک پردے کی جالی رکھ دی جاتی ہے، جس میں سے ہاتھ دھونے میں سب پانی گر جاتا ہے۔ اس پردے کو جب چاہیں اٹھا کر اس کو خوب اچھی طرح صاف کر سکتے ہیں۔ اس جالی کے اوپر تھوڑی گھاس ڈال دی جاتی ہے کہ پانی کے گرنے میں چھینٹیں نہ اڑیں۔ اس میں بہت بڑی خوبی اور نفاست یہ ہے کہ میلا پانی جس کی صورت کریہہ ہوتی ہے نظر کے سامنے نہیں رہتا، اور جن کے مزاج میں نفاست ہے ان کو تنفر پیدا ہوتا ہے۔ مگر آفتابے کی جگہ لکھنؤ میں لوٹا رائج ہو گیا۔ دراصل آفتابہ ہی پرانے زمانے کا لوٹا تھا، جس پر لکھنؤ کے مذاق نے تصرف کر کے موجودہ لوٹے کی سڈول شکل پیدا کی۔ پرانا لوٹا جو آفتابہ کہلاتا اس کی شکل یہ تھی کہ تانبے کا ایک مخروطی شکل کا ظرف ہوتا، جس میں پیٹ اور گلے کا کچھ امتیاز نہ تھا۔ پیندے کے پاس جتنا دور ہوتا وہ اوپر کی طرف تدریجاً گھٹتا چلا جاتا، آخر میں وہی گلا ہو جاتا، یہاں تک کہ کنارے موڑ کے منہ بنا دیا جاتا، اور ایک جانب اس میں خمدار ٹونٹی لگا دی جاتی۔ اس شکل کے لوٹے حیدرآباد میں آج بھی مل جاتے ہیں، جو اپنی قدامت اور ہمارے لوٹوں کے نقش اولین کا ثبوت دیتے ہیں۔ ان کی شکل مصر و شام کے گلی ظروف آب، یا انگریزوں کے یہاں منہ دھونے کی میز پر جو چینی کا جگ رہتا ہے اس کی سی ہوتی۔ اور اسی سے خیال ہوتا ہے کہ مسلمان اس کو عرب و ایران سے اپنے ساتھ لائے ہوں گے۔ چند روز بعد ہندی تمدن کے اثر نے اس میں پہلا تصرف یہ کیا کہ پیٹ گول بن کر گردن سے جدا اور متمائز ہو گیا۔ مگر اصلیت کی قربت کے باعث لمبوترا پن باقی تھا، یعنی عرض اور پھیلاؤ بلندی کی مناسبت سے نہ تھا۔ اس وقت تک پیٹ کی گولائی بھی کرے کی مثل نہیں بلکہ بیضاوی تھی۔ یہی شکل اس آفتابے کی ہے جس کا ذکر اردو کی اگلی مثنویوں اور قصے کہانیوں میں ہے۔ لکھنؤ میں یہ ہوا کہ پیٹ بیضاوی سے کروی ہو گیا، اور جتنی بلندی ہوتی اسی کی مناسبت سے اس کا دور اور پھیلاؤ بھی بڑھ گیا۔ گلوں میں ایک موزوں ڈھلاؤ ہو گیا، اور ٹونٹی بھی ابتداءً وسیع اور نوک کے پاس تنگ، خمدار اور بہت ہی خوشنما ہو گئی۔ یہ لکھنؤ کا موجودہ لوٹا ہے، جس سے زیادہ خوشنما اور سڈول لوٹے ہندوستان کے کسی شہر میں نہیں بنتے، اور ہر جگہ کے شوقین فرمائشیں کر کر کے لکھنؤ سے منگوایا کرتے ہیں۔ جو تناسب لوٹوں میں یہاں پیدا ہو گیا ہے چھوٹی لٹیا سے لے کر بڑے سے بڑے لوٹے تک سب میں نظر آتا ہے۔

اسی قسم کا مناسب تصرف تانبے کے تمام برتنوں میں ہوا ہے، جس کو ہم آیندہ بیان کریں گے، اس لیے کہ اس محل پر اس کے بتانے کا موقع نہیں ہے۔

بیسن دانی دراصل تانبے کی ایک بےٹونٹی کی لوٹیا ہوتی ہے، جس میں بیسن بھرا رہتا ہے۔ عموماً کھانے کے بعد دہنیت چھڑانے کے لیے اس میں سے بیسن لے کر ملا جاتا ہے، اور پھر پانی سے دھو ڈالا جاتا ہے۔ بعض، مگر بہت ہی کم، لوگ ایسے ہیں جو بیسن کی جگہ بیسن دانی میں ابٹنا یا کھلی رکھتے ہیں، اس لیے کہ بیسن کھانے کی چیز ہے، جس کو ہاتھ دھونے میں ضائع کرنا ان کے خیال میں ناجائز یا نامناسب ہے۔ مگر اب اس کا رواج بہت کم ہو گیا ہے، اس لیے کہ ابٹنا شادیوں کے سوا اور کسی موقع پر نہیں بنتا، اور کھلی سے ہاتھ میں اس کی تیز بو آنے لگتی ہے۔

Что оставила в вас эта глава?

Войдите, чтобы отреагировать

Обсуждение

Пока никто не высказался. Расскажите, что всколыхнула в вас эта глава.

Понравилась глава? Поделитесь строкой из неё.