
Capítulo 52 de 56
Tobacco, Chikni Dali and the Pandan
تمباکو، چکنی ڈلی اور پاندان
(۵۱)
تمباکو میں پتی کی اصلاح سے پہلے، جس کا سہرا ہمارے مکرم دوست منشی سید احمد حسین صاحب کے سر ہے، اصلاح کی ایک اور کامیاب کوشش کی گئی۔ وہ یہ کہ تمباکو کی پتی اور ڈنٹھلوں کو خوب اچھی طرح ابال کر اس کا عرق نکال لیا جاتا ہے، اور پکاتے پکاتے وہ اس قدر گاڑھا کر دیا جاتا ہے کہ لیئی یا تازی افیون کی سی شکل ہو جاتی ہے۔ پھر اس میں مشک، کیوڑا اور بہت سی مناسب خوشبوئیں ملا کے اس درجہ لطیف و معطر بنا دیا جاتا ہے کہ پان کے ساتھ رتی برابر قوام کھا لیجیے تو تمباکو کا مزہ آنے کے ساتھ منہ میں دن بھر خوشبو آتی رہتی ہے۔ پھر نفاست مزاجی نے اس پر اور زیادہ ترقی کی، یعنی اس قوام کی ننھی ننھی گولیاں بنائی جاتی ہیں، اور ہر گولی ایک خوراک کی مقدار میں ہوتی ہے۔ پھر گولیوں پر چاندی یا سونے کے ورق لپیٹ کر ان کو ایسا خوشنما اور دلفریب بنا دیا جاتا ہے کہ معلوم ہوتا ہے موتی رکھے ہوئے ہیں۔ قوام اور گولیوں کو مفتی گنج کی ایک بیگم صاحب بےمثل بناتی تھیں۔ خاص لکھنؤ والوں کو ان کے ہاتھ کی بنی ہوئی گولیوں کے سوا کسی کارخانے کی گولیاں نہیں پسند تھیں۔ مگر انھیں کے زمانے میں اصغر علی محمد علی کے کارخانے نے ان دونوں چیزوں کو تیار کر کے سارے ہندوستان کے سامنے پیش کر دیا۔ چند روز بعد ان بیگم صاحب کا انتقال ہو گیا، اور ہر جگہ اصغر علی کے کارخانے ہی کے قوام اور گولیوں کا رواج ہو گیا۔ بعد ازاں اور بہت سے لوگوں اور متعدد کارخانوں نے ان چیزوں کو اپنے اہتمام سے تیار کیا، مگر ابھی تک کوئی بھی اصغر علی مرحوم کے کارخانے سے سبقت نہیں لے جا سکا۔ لیکن قوام اور گولی میں ایک عیب تھا، وہ یہ کہ چاہے خوشبو دیر تک ٹھہر جائے مگر تمباکو کا مزہ اور اس کا کڑوا پن پہلی ہی پیک میں جاتا رہتا۔ اسی عیب کو مٹانے کے لیے منشی سید احمد حسین صاحب نے یہ جدید مدبر و معطر پتی ایجاد کی، جس کی تلخی اور عطریت آخر تک پان کا ساتھ دیے جاتی ہے۔ اور اسی خوبی کا نتیجہ ہے کہ یکایک دنیا کا رخ اس طرف پھر گیا، اور قوام اور گولیاں گو اب بھی تیار کی جاتی ہیں مگر تقویم پارینہ ہو گئیں، اور ان کا مذاق گھٹنے کی یہی رفتار رہی تو امید ہے کہ تھوڑے زمانے میں بالکل مٹ جائیں گی۔
پان ہی کے متعلق یا اس کی مناسبت سے لکھنؤ میں چند اور ایجادیں ہوئیں، یعنی ایسی الائچیاں ایجاد کی گئیں کہ ایک الائچی کھا لیجیے تو منہ پان سے زیادہ سرخ ہو جاتا ہے۔ ان کی تیاری میں اگرچہ پان ہی کے اجزا سے کام لیا جاتا ہے، جو رنگ ملا کر الائچی کے چھلکوں میں بھر دیے جاتے ہیں، مگر پھر اس کے کہ رنگ چوکھا آتا ہے وہ پان کا بدل نہیں ہو سکتیں، اور کسی کے پان کھانے کی غرض ان مصنوعی الائچیوں سے نہیں حاصل ہو سکتی۔ اسی طرح ایک اور قسم کی الائچیاں تیار کی گئیں جن میں مسی بھر دی جاتی ہے، اور عورتیں بجائے اس کے کہ دیر تک بیٹھ کر مسی ملیں، اس قسم کی ایک الائچی پان میں ڈال کر کھا لیں تو مسی خود بخود لگ جاتی ہے، اور گہری نیلگوں خوب اچھی طرح ریخوں میں جم کر بیٹھ جاتی ہے۔ مگر ان دونوں قسم کی الائچیوں سے وہ مقصد بخوبی نہ حاصل ہو سکا جس کے لیے ایجاد کی گئی ہیں۔ مثلاً سرخ الائچیاں پان کا بدل نہیں ہو سکتیں، اور سیاہ الائچیوں میں عمدہ معطر مسی کی خوشبو نہیں ہوتی، اس لیے عام پسند اور مقبول نہ ہو سکیں، اور آج تک ان سے بجز مذاق اور دل لگی کے کوئی ضروری کام نہیں لیا جا سکتا جو لازمۂ معاشرت ہو۔
اسی سلسلے میں ہمیں چکنی ڈلی کو بھی بیان کر دینا چاہیے، جو اگر پان کا جزو لاینفک نہیں تو اس کے لواحق میں ضرور ہے۔ بعض لوگ معمولی ڈلیوں کے عوض اسے پان میں کھاتے ہیں، اور پان میں نہ کھائیں تو بہت سے لوگ اسے تنہا منہ میں رکھتے ہی، جو الائچی کے ساتھ مل کر بہت لطف دیتی ہے۔ خصوصاً ہندو احباب چونکہ مسلمانوں کے ہاتھ کی گلوری نہیں کھا سکتے، اس لیے ان کی خاطر و تواضع محض چکنی ڈلی اور الائچی ہی سے ہوتی ہے۔ لہٰذا وہ بھی معاشرت کا ایک ضروری سامان بن گئی ہے۔
چکنی ڈلی دراصل وہی ڈلی ہے جو پانوں میں ڈالی جاتی ہے، مگر مدبر اور اصلاح شدہ۔ یہ لکھنؤ یا دہلی یا حیدرآباد یا دیگر متمدن شہروں میں نہیں بنتی، بلکہ جہاں پیدا ہوتی ہے وہیں سے بنی بنائی آتی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ اصلی ڈلی کو دودھ میں ڈال کے ابالتے اور پکاتے ہیں۔ خیر جس طرح بنتی ہو، اس میں ایک لعاب پیدا ہو جاتا ہے، خشکی دفع ہو کے دہنیت آ جاتی ہے، اور بعض اوقات زیادہ ڈلی کھا جانے سے گلے میں جو پھندا پڑ جاتا ہے وہ عیب چکنی ڈلی میں بالکل نہیں باقی رہتا۔ اور سچ یہ ہے کہ معمولی ڈلی سے بدرجہا زیادہ بامزہ، لطیف و نفیس ہو جاتی ہے۔
جہاں تک مجھے معلوم ہے چکنی ڈلی کا رواج حیدرآباد، دہلی اور دیگر شہروں میں لکھنؤ کے مقابل بہت زیادہ ہے، اور انھیں مقامات کے شوقینوں کا کام تھا کہ اس میں کسی قسم کی اصلاح کرتے یا اس کو اپنے مذاق میں ترقی دیتے۔ مگر تعجب ہے کہ کسی شہر میں اس جانب توجہ نہ کی گئی، اور چکنی ڈلی کی بھی اصلاح کی تو لکھنؤ والوں نے۔ چکنی ڈلی کا اصلی مغز نہایت لطیف، خوش مزہ و نازک ہوتا ہے، اور جو حصہ قشر سے ملا رہتا ہے کسی قدر بکٹھا رہ جاتا ہے، خصوصاً چاندی کی طرف کا حصہ بہت زیادہ ناقص ہوتا ہے۔ انھیں عیوب کے مٹانے اور ناقص حصے کے نکال ڈالنے کے خیال سے لکھنؤ میں کاٹ چھانٹ کر معمولی چکنی ڈلیاں کئی قسم کی تیار ہونے لگیں۔ سب سے اول تو دو رخی کہلاتی ہیں۔ ان کے بننے کی شان یہ ہے کہ نیچے اوپر سے زیادہ تر حصے کو اور تھوڑے تھوڑے کناروں کو گرد سے کاٹ کر خوشنما اور خوش رنگ کٹوریاں سی بنا دی جاتی ہیں، جن میں فقط وہی نرم و لطیف مغز رہ جاتا ہے جو چکنی ڈلی کا بہترین حصہ ہے۔ دوسرے درجے کی چکنی ڈلیاں یک رخی کہلاتی ہیں۔ ان میں بھی اگرچہ چاروں طرف سے تھوڑی بہت کاٹ چھانٹ ہوتی ہے، مگر نیچے اوپر کے دونوں ناقص حصوں میں سے ایک طرف کا زیادہ تر حصہ چھوڑ دیا جاتا ہے۔ تیسری قسم یہ ہے کہ چکنی ڈلی کے مغز کے خوشنما ہشت پہل ٹکڑے بنا دیے جاتے ہیں۔ اس کاٹ چھانٹ میں جو چورا نکلتا ہے وہ جداگانہ فروخت ہوتا ہے، اور دراصل لکھنؤ میں وہ مدبر چکنی ڈلی کی پانچویں قسم بن گیا ہے۔ پھر اس کی بھی دو تین قسمیں ہو گئی ہیں، اس لیے کہ دو رخی اور یک رخی ڈلیوں میں سے جو چورا نکلتا ہے وہ الگ رہتا ہے، اور دونوں کی لطافت، نرمی اور مزے میں نہایت فرق ہوتا ہے، اور اسی وجہ سے ان کی قیمتوں میں بھی زمین و آسمان کا فرق رہا کرتا ہے۔ الغرض چکنی ڈلی اگرچہ اس قدر زیادہ لکھنؤ والوں کے شوق کی چیز نہیں ہے، مگر اس کی اصلاح بھی انھوں نے اس قدر کی جو کسی جگہ نہیں ہو سکی تھی۔
اب چونکہ پان کے اجزا ختم ہو گئے، لہٰذا ہم اس کے ظروف و آلات کی طرف توجہ کرتے ہیں۔ پانوں کا سامان رکھنے کی سب سے اہم چیز پاندان، کہیے کہ پانوں کی گلوریوں میں جو قوت برقی کی سی اخلاقی اور معشوقانہ کشش ہوتی ہے اسی کی بیٹری پاندان ہے۔ اگلے زمانے میں خصوصاً دہلی میں پٹاری ہوا کرتی تھی، جو گول اور مربع یا ہشت پہل سب قطعوں کی ہوتی ہیں، اور غالباً دہلی ہی سے حیدرآباد میں پٹاری نما پاندان گئے، جن کی نقل وہ ٹین اور شیشے کے مربع پاندان ہوتے ہیں جو حیدرآباد کی شادیوں میں کمال فیاضی سے چونا، کتھا، ڈلیاں، چکنی ڈلیاں، الائچیاں، لونگیں اور پان وغیرہ رکھ کر مہمانوں میں تقسیم کیے جاتے ہیں۔ بہرحال پرانے پاندان پہلی پٹاریاں تھیں، اور انھیں پٹاریوں کو ساتھ لیے ہوئے دو ڈھائی صدیوں پیشتر کی محترم خاتونیں دہلی سے لکھنؤ میں آئی تھیں۔ یہاں جب تک دہلی کی تقلید رہی وہی پٹاریاں رہیں۔ مگر جس دن سے لکھنؤ والوں نے اپنی وضع، معاشرت اور زبان میں اپنی تراش خراش شروع کی اس روز سے پاندانوں کا نقشہ بھی بدلنا شروع ہو گیا۔ پہلے تو پان رکھنے کے لیے فقط تانبے کی قلعی دار گول پٹاریاں اختیار کی گئیں۔ پھر ان کے ڈھکنے میں بلندی اور گولائی پیدا ہونا شروع ہوئی۔ چند روز میں ان کی قطع ایک چوڑے نقرئی قبے کی سی ہو گئی، جس پر چوٹی کی جگہ گرفت کے لیے ایک لمبوترا کڑا لگا دیا جاتا ہے۔ کڑے کے دونوں سرے کنڈھوں میں پھنسا دیے جاتے ہیں، چنانچہ بجائے اوپر کی طرف قائم رہنے کے وہ ادھر ادھر پڑا رہتا ہے۔
اس پاندان کے اندر وہ کتھے چونے کی کلھیاں ہوتی ہیں جن کی قطع بعینہٖ چھوٹی پتیلیوں کی سی ہوتی ہے۔ انھیں کلھیوں کے سلسلے میں تین برابر کی بڑی ڈبیاں ہوتی ہیں، جن میں سے بعض میں مسلّم اور بعض میں کٹی ہوئی ڈلیاں اور چکنی ڈلیاں رکھی جاتی ہیں۔ یہ تینوں ڈبیاں اور دونوں کلھیاں برابر ایک حلقے میں جمی رہتی ہیں، اور ان کے بیچ میں یعنی مرکز کے مقام پر جو جگہ چھوٹتی ہے اس میں ایک اور چھوٹی ڈبیا رکھ دی جاتی ہے، جس میں علی العموم الائچیاں یا لونگیں رکھی جاتی ہیں۔ ڈبیوں کے ڈھکنے کسے ہوئے ہوتے ہیں، خود بخود نہیں کھل سکتے، بلکہ کھلنے میں تھوڑا بہت زور مانگتے ہیں۔ مگر کلھیوں کے ڈھکنے تھالی نما ہوتے ہیں جو ان کے منہ پر رکھ دیے جاتے ہیں۔ کتھے چونے کی کلھیوں میں کتھا چونا لگانے کی چمچیاں ہوتی ہیں، جن کے سروں پر کبھی تو مور بنا دیا جاتا ہے اور کبھی سادی رہتی ہیں۔ ان کلھیوں کے اوپر ایک بڑی پورے پاندان بھر کی تھالی ہوتی ہے، جس میں پان کپڑے میں لپیٹ کر رکھ دیے جاتے ہیں۔ اگلے دنوں ایک اور پان کی قطع کا جداگانہ ڈھکنے دار ظرف ہوتا تھا جس میں پان رکھے جاتے، وہ ناگردان کہلاتا تھا۔ مگر تجربے نے اس کو غیر ضروری اور ناقص ثابت کیا، اس لیے کہ اس میں بند کر دینے سے ہوا نہ لگتی اور پان خراب ہو جاتے۔ اسی وجہ سے ناگردان اگرچہ بعض بعض پرانے پاندانوں میں اب بھی نظر آ جاتا ہے، مگر دراصل اس کا رواج بالکل چھوٹ گیا، اور عنقریب عنقا ہو جائے گا۔
چند روز میں پاندان عورتوں کا صندوق، خزانہ اور کیش بکس کا کام دینے لگا۔ اور عورتوں کے لیے سچ یہ ہے کہ وہ ہندوستان میں عمرو عیار کی زنبیل تھا۔ اس ضرورت سے وہ وسعت اور جسم میں بڑھنا شروع ہوا، یہاں تک کہ دس دس سیر اور بیس بیس سیر کے پاندان بننے لگے۔ اور پھر سخت ضروری تھا کہ جہاں جانے میں ہر جگہ وہ ساتھ رہے، اس لیے کہ بمصداق "شتر بمقدار علم" جتنا بڑا پاندان ہوتا تھا اتنی ہی بڑی بیگم صاحب کی حیثیت و وجاہت سمجھی جاتی تھی۔ نتیجہ یہ ہوا کہ ڈولی میں ساری جگہ پاندان لے لیا کرتا، اور بیگم صاحب کو بڑی مشکلوں سے دبنے اور سمٹنے کے بعد بیٹھنے کو جگہ ملتی۔ بہر تقدیر پاندان وزن اور قامت میں روز افزوں ترقی کرتے جاتے تھے کہ یکایک اختصار پسندی نے نئی طرح کے چھوٹے، بلند، گنبد نما اور کلس دار پاندان ایجاد کیے، جو پہلے تو آرام دان کہلاتے تھے مگر اب عموماً حسن دان کے نام سے یاد کیے جاتے ہیں۔ ان میں اندر تو وہی چیزیں ہوتی ہیں جو پاندان میں ہیں، مگر بیرونی قطع ایک کلس دار خوشنما گنبد کی سی ہوتی ہے، اور بجائے کڑے کے اسی کلس یا چوٹی کو پکڑ کے اٹھایا جاتا ہے۔ یہ حسن دان عموماً پسند کیے گئے۔ لکھنؤ میں بھی اور دیگر بلاد میں بھی ان کی مانگ بڑھی۔ لکھنؤ میں پہلے پہل ان کو مردوں نے اختیار کیا، یا ان لوگوں نے جو نمائش اور دکھاوے کو پسند نہیں کرتے ہیں۔ مگر چند روز میں عام ہو گیا۔ اور گو کہ اگلی وضع کے پاندان نہیں مٹے، مگر اب زیادہ رواج حسن دانوں ہی کا ہے۔ اور جن گھروں میں پاندان باقی بھی ہیں تو اتنے بڑے نہیں بلکہ چھوٹے۔ اب مرادآباد میں بھی ایسے ہی لکھنؤ کی وضع کے حسن دان بننے لگے ہیں، مگر وہ زیادہ پھیلے ہوتے ہیں، اور اس قدر خوبصورت نہیں ہوتے جیسے کہ لکھنؤ میں بنائے جاتے ہیں۔ لکھنؤ کے حسن دانوں کا تناسب ہی ایک چیز ہے جو یہاں کے ساتھ مخصوص ہے، اور کسی جگہ کے کاریگروں سے اس تناسب کا قائم رہنا قریب قریب غیر ممکن ہے۔
پاندان کے بعد "خاصدان" ہے۔ یہ وہ ظرف ہے جس میں رکھ کے گلوریاں محفل یا صحبت احباب میں لائی جاتی ہیں۔ دہلی میں یہ کام ایک کھلی ہوئی تھالی دیتی ہے، جس میں ایک طرف کتری ہوئی ڈلیاں رکھ دی جاتی ہیں، اور دوسری طرف آدھے آدھے پان چونا کتھا لگا کر اور دوہرا کے یعنی موڑ کر رکھ دیے جاتے ہیں۔ اور چونکہ اب بھی وہاں یہی تھالی مروج ہے، اس لیے امید ہے کہ اگلے زمانے میں بھی پانوں کے صحبت میں لانے کا یہی طریقہ ہو گا۔ مگر لکھنؤ میں کم از کم دو پانوں کی گلوریاں بنائی جاتی ہیں، جو پہلے تو سنگھاڑے کی وضع کی خوب گٹھی ہوئی ہوتی تھیں، اب عموماً بیڑے ہوتے ہیں، اور ان کی قطع ایسی ہوتی ہے جیسی کہ بوتلوں میں لگانے کے لیے کاغذ کی ڈاٹ بنائی جاتی ہے۔ پھر ان کے قائم رکھنے کے لیے کیلیں لگا دی جاتی ہیں۔ پہلے لونگیں لگا دی جاتی تھیں۔ بعد ازاں زنجیروں کا ایک لچھا ایجاد ہوا۔ لچھے کی صورت یہ ہے کہ چاندی کی ایک چھوٹی ڈبیا یا کیری نما عطردان میں چاروں طرف بہت سی زنجیریں لگا دی جاتی ہیں جن میں کیلیں لگی ہوتی ہیں۔ یہ پورا لچھا مع پانوں کے خاصدان میں رکھ دیا جاتا ہے۔ مگر اس کو تطویل خیال کر کے یہ رواج ہو گیا کہ گلوریوں میں لوہے کی کیلیں لگا دی جایا کریں۔ مگر اب سب سے اچھا طریقہ یہ ایجاد ہوا ہے کہ گلوری کے اوپر پان ہی کا ایک غلاف چڑھا دیا جاتا ہے، جو اس کو کھلنے نہیں دیتا۔
بہرحال ان گلوریوں کے لیے صرف تھالی مناسب نہ تھی، اسی لیے اس تھالی پر ایک گنبد نما کلس دار ڈھکنا ایجاد کیا گیا، جس کو تھالی پکڑ لیا کرتی۔ ڈھکنے نے خاصدان کی صورت بھی چھوٹے حسن دان کی سی کر دی۔
¿Qué te deja este capítulo?
Inicia sesión para reaccionar
Conversación
Nadie ha hablado todavía. Cuenta qué removió en ti este capítulo.