
الفصل 51 من 56
The Huqqa and Pan
حقہ اور پان
(۵۰)
مجلسوں اور محفلوں کا حال ہم بیان کر چکے، اب ضرورت معلوم ہوتی ہے کہ ہم لوازم صحبت کو بھی شرح و بسط سے بتا دیں، اس لیے کہ یہ وہ چیزیں ہیں جن سے معاشرت اور وضع صحبت کا حال آئینے کی طرح روشن ہو جاتا ہے۔ لوازم صحبت بہت زیادہ بلکہ بےشمار ہیں، جن کو ہم وقتاً فوقتاً بتائیں گے۔ مگر فی الحال سب سے مقدم چیزیں حقہ، خاصدان، لوٹیا اور اگالدان ہیں۔ یہ اس قدر ضروری اشیا ہیں کہ رؤسا کے ہمراہی خدمتگاروں کے پاس لازمی طور پر موجود رہا کرتی ہیں۔ چند روز پیشتر اعلیٰ طبقے کے دولتمندوں کے ہمراہ ایک خدمتگار کے ہاتھ میں حقہ بھی رہا کرتا تھا، مگر اب یہ طریقہ چھوٹ گیا۔ حقہ دراصل دہلی کی ایجاد ہے، اور وہیں شاہی بھنڈی خانوں میں مختلف وضعوں کے حقے تیار ہوئے تھے۔ لکھنؤ نے جو کچھ ترقی کی وہ سب سے پہلے پیچوانوں، چلموں اور چنبروں کی شکل اور قطع کی اصلاح سے متعلق ہے۔ دہلی کے حقے بھدے اور بدصورت تھے، لکھنؤ میں نہایت موزوں و خوشنما بنا دیے گئے۔ پھر تانبے، پیتل، پھول اور جست کے حقوں کے علاوہ مٹی کے حقے ایسے خوشنما بن گئے جو لوگوں کو اپنی نفاست و نزاکت کے لحاظ سے نہایت ہی پسند آئے، اور اکثر لوگوں کو مٹی کے نازک، سبک، خوشنما اور سوندھے حقے پرتکلف قیمتی حقوں سے زیادہ اچھے معلوم ہوئے۔
حقوں کی شکل میں اصلاح و ترقی ہونے کے بعد خود تمباکو میں عجیب عجیب لطافتیں اور خوبیاں پیدا کی گئیں۔ تمباکو کو گڑ یا شیرے میں ملا کے کوٹ لینا غالباً دہلی ہی کی ایجاد ہے، جس کی وجہ سے پینے کی تمباکو کی اصلاح میں ہندوستان کو دنیا کے سارے ملکوں اور صفحۂ زمین کی تمام قوموں پر فوقیت حاصل ہے۔ تمباکو ساری دنیا میں پیا جاتا ہے۔ چرٹ، سگریٹ اور پائپ کے لیے تمباکو کی اصلاح میں اگرچہ یورپ نے بےانتہا کوششیں کیں اور طرح طرح کی نفاستیں پیدا کر دیں، مگر یہ تدبیر کسی کو نہ سوجھ سکی کہ شیرہ یا گڑ ملا کے تمباکو کی تلخی اور گلوگیری مٹائی جائے اور دھوئیں میں لطف اور قوام پیدا کیا جائے۔ اس کے بعد لکھنؤ نے یہ ترقی کی کہ خمیرہ بنا کے اور خوشبوئیں شریک کر کے تمباکو سی بدبودار ناگوار چیز کو اس قدر خوش آیند اور لطیف بنا لیا کہ چلم بھر کے رکھتے ہی سارا کمرہ خوشبو سے مہک اٹھتا ہے، اور جو حقہ نہ پیتے ہوں ان کا بھی جی چاہنے لگتا ہے کہ دو ایک کش کھینچ لیں۔ ہندوستان کے بعض خطوں کا تمباکو بہت اچھا ہوتا ہے، اور ان شہروں کے نام سے تمباکو مشہور بھی ہو گیا ہے، مگر وہ شہرت کسی انسانی کوشش کا نتیجہ نہیں۔ کوشش اور تدبیر سے جو نفاست تمباکو میں لکھنؤ نے پیدا کی ہے اور کسی شہر کو نہیں نصیب ہوئی۔ اکثر شہروں کے لوگ خمیرے کو نہیں پسند کرتے، یا شاکی ہیں کہ اس سے نزلہ ہو جاتا ہے۔ مگر یہ محض ان کے عادی نہ ہونے کی وجہ سے ہے، اور ویسا ہی ہے جیسے انگریزوں کو قورمہ ناپسند ہے یا اسے ہضم نہیں کر سکتے۔ تمباکو کے ساتھ حقے کے تمام لوازم میں ترقی ہوئی۔ چلمیں بھی پہلے سے زیادہ نازک و نفیس اور خوشنما ہو گئیں۔ چنبروں میں بھی ترقی ہوتی رہی۔ چنبروں میں خوبصورت تہری نقرئی زنجیریں لگائی گئیں۔ طرح طرح کی مہنالیں ایجاد ہوئیں۔ پھر پھولوں کے نفیس اور دلفریب حقے ایجاد ہوئے۔ غرض یہاں کی سوسائٹی نے حقے کو سنوار کے اور آراستہ کر کے دلھن بنا دیا۔
حقے کے بعد نہیں بلکہ اس سے بھی زیادہ اہم چیز لوازم صحبت میں خاصدان ہے، جس کی بار بار ضرورت پیش آیا کرتی ہے، اور باہر آنے جانے میں خدمتگاروں کے پاس رہتا ہے۔ خاصدان وہ چیز ہے جس میں پانوں کی گلوریاں بنا کے رکھی جاتی ہیں۔ پان ہندوستان کی قدیم چیز ہے۔ ہندوؤں کے زمانے سے اس کی اہمیت چلی آتی ہے۔ اگلے دنوں راجاؤں اور بادشاہوں کو جب کوئی بڑی مہم پیش آتی یا کوئی ذمہ داری کا کام لینا ہوتا تو پان کا بیڑا (گلوری) بنا کے سامنے رکھتے اور کہتے کہ کون اسے اٹھائے گا، جس کا مطلب یہ ہوتا کہ "اس مہم پر کون جائے گا؟" یا "اس ذمہ داری کے کام کو کون انجام دے گا؟" ارکان دولت، سرداروں یا عام حاضرین دربار میں سے جو کوئی اس بیڑے کو اٹھا لیتا وہ گویا وعدہ کرتا کہ اس کام کو میں انجام دوں گا، یا اس مہم کو میں سر کروں گا۔ یہ رسم تو مٹ گئی، مگر یہ کہاوت آج تک زبانوں پر موجود ہے کہ "فلاں شخص نے اس کام کا بیڑا اٹھایا ہے"، یعنی اس کو اپنے ذمے لیا ہے۔
پرانے درباروں میں حاضرین کو انعام و اکرام کے ساتھ پان بھی مرحمت ہوا کرتے، جس کا ذکر ابن بطوطہ نے بھی اپنے سفرنامے میں کیا ہے، جس سے ثابت ہوتا ہے کہ پان ہندوستان کی تاریخی چیز ہے۔ لہٰذا چاہیے تھا کہ مرور زمانہ سے پانوں اور پان کے سامان کو یوماً فیوماً ترقی ہوتی رہتی۔ مگر ہمیں بالکل نہیں نظر آتا کہ پان جب تک دہلی میں تھا اس کو کیا ترقی ہوئی۔ اس کے مسالے کے جو اجزا قدیم الایام سے چلے آتے ہیں آخر تک وہی قائم رہے، اور ان کی بھی کسی قسم کی اصلاح نہیں ہوئی۔ اس کے مسالوں میں کتھا، چونا، ڈلیاں اور الائچیاں قدیم زمانے ہی میں منتخب ہو چکی تھیں۔ تمباکو بھی لکھنؤ میں آنے سے پہلے ہی اس کے اجزا میں شامل ہو چکا تھا۔ مگر اس کا بالکل پتہ نہیں لگتا کہ اگلی بیسیوں صدیوں اور سیکڑوں گزشتہ درباروں اور سلطنتوں نے اس کو کون سی خاص ترقی دی۔
لکھنؤ میں پان کا رواج دہلی کی بہ نسبت بہت زیادہ ہو گیا۔ اس کے لیے خاص قسم کے ظروف ایجاد ہوئے، اور اس کی تمام چیزوں کو جدا جدا ترقی حاصل ہوئی۔ پہلے تو خود پانوں یعنی اس کے پتوں کی اصلاح ہوئی۔ ہندوستان کے بعض شہروں مثلاً مہوبے وغیرہ کے پان قدرتی طور پر بہت اچھے اور اعلیٰ درجے کے ہوتے ہیں۔
اطراف لکھنؤ میں اگرچہ پان کثرت سے پیدا ہوتے ہیں، مگر ان میں بالذات کوئی خاص خوبی و فوقیت نہیں ہوتی۔ مگر یہاں کے ترقی پسند امرا کی توجہ سے تنبولیوں (پان والوں) نے صنعتی اصول پر پانوں کو ترقی دینا شروع کی، اور اس درجے پر پہنچا دیا کہ یہاں کے پان سب جگہ سے بڑھ گئے۔ وہ پانوں کو مہینوں زمین میں دفن کر کے رکھتے ہیں، یہاں تک کہ ان کا کچا پن دور ہو جاتا ہے، ہرائند بالکل نہیں باقی رہتی ہے، رگیں نازک اور نرم ہو جاتی ہیں، رنگ میں سفیدی اور پختگی آ جاتی ہے۔ کچے پان میں جو ایک طرح کی تیزی ہوتی ہے وہ بھی جاتی رہتی ہے، اور ایسا نرم اور نازک اور لطیف ہو جاتا ہے کہ کسی جگہ کا پان مزے اور لطف میں اس کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔ یہی بیٹھے ہوئے پان بیگمی پان کہلاتے ہیں، جو دور دور کے شہروں میں جاتے اور نہایت ہی شوق اور بڑی قدر سے لیے جاتے ہیں۔
پان کے پتے کے بعد چونا ہے۔ ہر جگہ اور ہر شہر میں معمولی چونا استعمال ہوتا ہے، جو اکثر چھنا ہوا صاف بھی نہیں ہوتا۔ ماسوا اس کے چونا نہایت ہی تیز اور اکال چیز ہے۔ نیا تازہ چونا ہوا یا زیادہ ہو گیا تو منہ کٹ جاتا ہے۔ ان مضرتوں سے بچنے کے لیے یہاں یہ تدبیر کی جاتی ہے کہ اسے خوب چھان کے اور صاف کر کے اس میں تھوڑی سی بالائی یا تازے دہی کا توڑ چھان کر ملا دیتے ہیں۔ اس طریقے سے لکھنؤ کے نفیس مزاج لوگوں کے پاندانوں میں ایسا اچھا، خوشگوار، لطیف اور بےضرر چونا ہوتا ہے کہ اور جگہ نہیں نصیب ہو سکتا۔
دوسری چیز پان کے لوازم میں سے کتھا ہے۔ کتھا بجائے خود نہایت ہی بکٹھی، کڑوی اور بدمزہ چیز ہے۔ پان میں وہ فقط چونے کی اصلاح اور اچھا رنگ پیدا کرنے کی غرض سے استعمال ہوتا ہے، لیکن اس کا بکٹھا پن بہت ناگوار گزرتا ہے، جو عادت ہو جانے سے چاہے گوارا ہو جائے، مگر اس سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ ایک بدمزہ چیز ہے۔ کتھے کے بنانے کی یہ تدبیر تو سب جگہ عام ہے کہ چھوٹے چھوٹے ٹکڑے کر کے اسے پانی میں پکاتے ہیں، اور جب جوش کھا کر وہ سرخ شربت سا ہو جاتا ہے تو کپڑے میں چھان کر پانی میں رکھ کے جما لیتے ہیں۔ عام طور پر سب جگہ اتنا ہی ہوتا ہے۔ مگر یہاں ایک طباق یا توسے میں راکھ بھر کے اس پر ایک کپڑا ڈالتے ہیں، اور اس کپڑے پر اس جمے ہوئے کتھے کو روٹی کی طرح پھیلا دیتے ہیں، اور اس پر بار بار پانی چھڑکتے جاتے ہیں۔ پانی اس کی سرخی کو لے کر، جس میں بکٹھا پن ہوتا ہے، راکھ میں جذب ہو جاتا ہے۔ اس طرح صاف کرتے کرتے کتھے کا فقط وہ لطیف ترین حصہ باقی رہ جاتا ہے جو دھوئے کپڑے کا سا سفید اور نہایت ہی نفیس ہوتا ہے۔ پھر اس میں کیوڑے کی خوشبو دے کر یا کیوڑے کے پھولوں میں رکھ کر خشک کر لیتے ہیں۔ اس تدبیر پر بعض اور مقامات میں بھی اب عمل ہونے لگا ہے، مگر یہ ایجاد لکھنؤ ہی کی ہے، اور جس تکمیل کے ساتھ یہاں اس پر عمل ہوتا ہے وہ کہیں ہو بھی نہیں سکتا۔ اب اس قسم کا کتھا اکثر تاجر لکھنؤ میں تیار کر کے فروخت بھی کرنے لگے ہیں، جن میں سے ہمارے مکرم مہربان قاضی محمد یونس صاحب مقیم محمود نگر لکھنؤ نے بہت شہرت حاصل کی ہے۔ مگر نفاست پسند امرا کے گھروں میں جو سفید، اچھا اور صاف کتھا خود ہی بنا لیا جاتا ہے وہ اس قدر نفیس ہوتا ہے کہ اس کی نفاست کو بازار والوں کا تیار کیا ہوا کتھا چاہے کیسا ہی اچھا ہو نہیں پہنچ سکتا۔ دکن کے شہروں پونا وغیرہ میں ایک نئی طرح کا بنا ہوا خشک کتھا بازار میں ملتا ہے، جو سوکھا ہی پان میں ڈالا جاتا ہے۔ وہاں کے لوگوں کو وہ کتھا پسند بھی ہے، مگر ہم باوجود کوشش کے اس کی خوبیوں کو نہ محسوس کر سکے اور نہ سمجھ سکے، اس لیے کہ بظاہر وہ کرکرا بھی ہوا کرتا ہے، اور بکٹھا پن اس میں اصلی بےبنے کتھے سے بھی زیادہ ہوتا ہے۔
پان کے مسالوں میں تیسری چیز ڈلیاں ہیں، جو سروتے سے کاٹ کے اور چھوٹے چھوٹے ٹکڑے کر کے پان میں ڈالی جاتی ہیں۔ ان کا کاٹنا ایک معمولی چیز تھا، مگر لکھنؤ میں ڈلیوں کا کاٹنا بھی ایک صنعت بن گیا، اس لیے کہ اب اکثر خاتونیں باجرے کے دانوں کے برابر باریک کاٹتی ہیں، جس میں سب دانے برابر اور یکساں ہوتے ہیں، اور پھر اس شرط کے ساتھ کہ چورا زیادہ نہ نکلے اور ڈلی کا کوئی حصہ ضائع نہ ہونے پائے۔
الائچیوں میں کسی اصلاح کی گنجائش ابھی تک محسوس نہیں ہوئی، اس لیے کہ جیسی آتی ہیں ویسی ہی استعمال ہوتی ہیں۔ مگر تکلفات نے اتنا ضرور کیا ہے کہ خاص تقریبوں میں اور خاص موقعوں پر ان میں چاندی کا ورق لگا دیا جاتا ہے، اور جب خاصدان یا تھالی میں رکھی جاتی ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ چاندی کے چمکتے ہوئے ٹکڑے رکھے ہیں۔
اس کے بعد تمباکو ہے۔ تمباکو کا استعمال دھوئیں کی صورت میں جس طرح عالمگیر ہے، اسی طرح کھانے میں بھی اس کا رواج بڑھتا جاتا ہے۔ انگلستان میں میں نے بہت سے انگریزوں کو دیکھا جو تمباکو کی خشک پتی مل کر پھانک لیا کرتے ہیں۔ ہندوستان میں بھی مدت سے خشک تمباکو کے کھانے کا رواج چلا آتا ہے، جس کو دہلی میں اس کی سنہری رنگت کے لحاظ سے زردہ کہتے ہیں۔ پہلے فقط غیر مدبر اور غیر اصلاح شدہ پتی کو پان میں ڈال کر کھایا کرتے تھے۔ مگر اگلے ہی دنوں یہ بھی رواج تھا کہ بہت سے گھروں میں تمباکو کی پتی میں اس کے ڈنٹھلوں کو ابال کر اور اس کے عرق میں چند اعتدال پیدا کرنے والے خوشبودار مسالے ملا کر تمباکو کی کڑواہٹ اپنے مذاق کے مطابق گھٹا یا بڑھا دی جاتی، اور لطافت و خوشگواری کے ساتھ اس میں ایک جانفزا خوشبو بھی پیدا کر دی جاتی۔ مگر یہ تدبیر مخصوص گھروں اور خاندانوں تک محدود تھی۔ عام لوگ تمباکو کی پتی ہی بغیر بنائے کھاتے، جو ہر پاندان میں موجود رہا کرتی۔ لیکن اب تقریباً بیس برس ہوئے منشی سید احمد حسین صاحب نے اپنی ایجاد سے ایک خاص قسم کا بنا ہوا تمباکو، جس کی صورت ٹرتے دار بارود کی سی ہوتی ہے، ملک کے سامنے پیش کیا، اور وہ ایسا مقبول ہوا کہ چند ہی سال کے اندر بےبنی پتی کے کھانے کا رواج قریب قریب اٹھ گیا۔
ما الذي تركه هذا الفصل فيك؟
سجّل الدخول للتفاعل
النقاش
لم يتكلم أحد بعد. قل ما حرّكه هذا الفصل فيك.