
第 50 章,共 56 章
Religious Gatherings: Majlis and Maulud
مذہبی محفلیں: مجلس اور مولود
(۴۹)
آداب صحبت میں دسویں چیز مذہبی صحبتیں یعنی عزاداری کی مجلسیں اور مولد شریف کی محفلیں ہیں۔ مجلسوں کا عام رواج شیعوں میں ہے اور مولد شریف کا سنیوں میں، اگرچہ دونوں میں دونوں فریقوں کے لوگ شریک ہوتے ہیں، بلکہ یہ بھی ہوتا ہے کہ کبھی بعض محب اہل بیت سنی مجلس عزا کرتے ہیں، اور شیعہ حضرات کے یہاں مولد شریف کی محفل ہوتی ہے۔ مگر لکھنؤ کی خاص چیز جس نے لکھنؤ کی سوسائٹی پر اثر ڈالا اور نیز سوسائٹی اس سے متاثر ہوئی وہ مجلسیں ہیں۔ مولد کی محفلوں میں کوئی خصوصیت نہیں۔ جیسی سارے ہندوستان میں ہوا کرتی ہیں یہاں بھی ہوتی ہیں۔ گو اس میں شک نہیں کہ بعض امرا کے یہاں مولد میں بھی قریب قریب وہی شائستگی و تہذیب نظر آتی ہے جو شیعوں کی شائستگی کی وجہ سے مجالس میں بھی آ گئی ہے۔
[illegible] عزاداری کی مجلسیں بہت کثرت سے ہوتی ہیں، اور اگر کوئی شخص چاہے اور پتہ لگاتا رہے تو سال بھر بغیر محنت مزدوری کے محض مجالس کی شرکت سے اپنا پیٹ پال سکتا ہے، اور فقط فیاض و عقیدتمند شیعوں کی فیاضی پر جی سکتا ہے۔ مجالس ہی کی برکت سے یہاں مختلف قسم کے ذاکر پیدا ہو گئے، جو جدا جدا عنوانوں سے مصائب سید الشہدا علیہ السلام کو بیان کر کے روتے رلاتے ہیں۔ ان میں سب سے پہلے علما و مجتہدین کا بیان ہے۔ ان کے بعد حدیث خواں ہیں، جو احادیث کو سنا کر ایسے پر درد اور سوز و گداز کی آواز میں فضائل ائمۂ اطہار و مصائب آل رسول بیان کرتے ہیں کہ سامعین بےاختیار رونے لگتے ہیں، اور کیسا ہی سنگدل ہو ضبط گریہ نہیں کر سکتا۔ انھیں سے ملتے جلتے واقعہ خواں ہیں، جو واقعات مصائب اہل بیت کو ایسے الفاظ اور ایسی فصیح و بلیغ عبارت میں سناتے ہیں کہ جی چاہتا ہے سنتے رہیے اور روتے جائیے۔ واقعہ خوانی کی فصاحت نے دراصل داستان گوئی کو بےمزہ کر دیا ہے۔ ان کے بعد مرثیہ خواں یا تحت اللفظ خواں ہیں، جو مرثیوں کو شاعرانہ انداز سے سناتے ہیں۔ مگر اس سادگی کے سنانے میں بھی چشم و ابرو اور ہاتھ پاؤں کے حرکات و سکنات سے واقعات کی ایسی سچی اور مکمل تصویر کھینچ دیتے ہیں کہ سامعین کو اگر رقت سے فرصت ملی تو داد دینے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ اسی مرثیہ خوانی کی ضرورت و قدر نے میر انیس اور مرزا دبیر پیدا کیے، جو کمال شاعری کے اعلیٰ ترین شہ نشین پر پہنچ گئے۔ یا تو یہ مثل مشہور تھی کہ "بگڑا شاعر مرثیہ گو"، یا لکھنؤ کے کمال مرثیہ گوئی نے سارے ہندوستان سے منوا لیا کہ عالم شعر و سخن میں مرثیہ گوئی کا رتبہ دیگر اصناف سخن سے بدرجہا بڑھا ہوا ہے۔ قدردانی نے بیسیوں مرثیہ گو اور صدہا مرثیہ خواں پیدا کر دیے، جو محرم اور دیگر ایام عزاداری میں لکھنؤ سے نکل کے ہندوستان کے بلاد دور و دراز میں پھیل جاتے ہیں، اور وہاں کی صحبتوں میں اپنے کمالات کا سکہ بٹھا کے واپس آتے ہیں۔ مرثیہ خوانوں کے بعد سوز خواں ہیں۔ یہ لوگ نوحوں اور مرثیوں کو اصول موسیقی کی پابندی میں گا کے سناتے ہیں۔ ان میں علی العموم تین آدمیوں کا گروہ ہوتا ہے۔ دو سر دیتے ہیں جو "بازو" کہلاتے ہیں، اور تیسرا شخص جو بیچ میں بیٹھتا ہے سوز سناتا ہے۔ ان لوگوں نے بھی اصول موسیقی کے برتنے، اور راگوں اور دھنوں کے ادا کرنے میں اس درجہ ترقی کی ہے کہ گویوں کو پیچھے ڈال دیا۔ اور لکھنؤ میں بہت سے اس پائے کے سوز خواں پیدا ہوئے کہ بڑے بڑے استاد گویے ان کے آگے کان پکڑنے لگے۔ بہرحال جو درجۂ کمال مرثیہ گویوں نے شاعری میں حاصل کیا، وہی سوز خوانوں نے موسیقی میں۔
یہ سب فن محض مجالس عزا کی برکت سے پیدا ہوئے، اور خاص لکھنؤ میں پیدا ہوئے۔ اور ان سب نے علاوہ ادب اردو کو بےانتہا ترقی دینے کے نظم و نثر اردو کی دنیا میں یہ خاص شان پیدا کر دی کہ انسانی جذبات کو جس طرح چاہیں حرکت میں لائیں، اور جس قسم کے جذبات اور جیسے جوش کو چاہیں پیدا کر دیں۔ اس فن کو باضابطہ طور پر یونانیوں نے ترقی دی تھی، جنھوں نے اپنی تقریروں کے مؤثر بنانے کے لیے پتہ لگایا تھا کہ کن الفاظ، کن حرکات، کیسے لہجے اور کن آوازوں سے انسان کے دل میں خوشی یا غم یا رحم یا قہر و غضب کا جوش پیدا کیا جا سکتا ہے۔ اس کے بعد کبھی اس فن کی طرف کسی قوم نے توجہ نہیں کی، یہاں تک کہ اب یورپ کے آرٹیروں اور اسپیکروں نے اس فن کو زندہ کرنا شروع کیا۔ مگر لکھنؤ میں محض ذاکری کے طفیل میں اس فن کو خود بخود اس قدر ترقی ہو گئی کہ یورپ والے بھی شاید اس درجے سے آگے نہ بڑھ سکے ہوں گے۔
مجلسوں میں ختم کے وقت شربت پلانا یا مٹھائی یا کھانا تقسیم کرنا لازم ہے۔ مگر مہذب اور دولتمند لوگوں نے اب یہ نہایت ہی شائستہ طریقہ اختیار کر لیا ہے کہ جن حضرات کو بلانا ہوتا ہے ان کے پاس دعوت کے رقعوں کے ساتھ حصہ بھی بھیج دیا جاتا ہے۔ مجلس سے واپس آتے وقت ہاتھ میں حصہ لے کے چلنا بہت سے مہذب اور خوشحال لوگوں کو تہذیب کے خلاف اور نہایت مبتذل معلوم ہوتا تھا۔ گو کہ عوام اور بازاری لوگ اس میں مضائقہ نہیں سمجھتے، مگر خوش حال اور وضعدار لوگوں کو یہ گراں گزرتا تھا۔ اور اگر خدمتگار موجود نہ ہوا تو بہت سے لوگوں کو مجبور ہونا پڑتا تھا کہ مجلس ہی میں کسی دوست یا غریب آدمی کو اپنا حصہ دے دیں۔
مجلس کی نشست کی شان یہ ہے کہ لکڑی کا ایک ممبر جس میں سات آٹھ زینے ہوتے ہیں دالان یا کمرے کے ایک جانب رکھا ہوتا ہے، اور لوگ چاروں طرف دیوار کے برابر پرتکلف فرش پر بیٹھتے ہیں۔ اور اگر مجمع زیادہ ہوا تو بیچ کی جگہ بھی بھر جاتی ہے۔ جب کافی آدمی جمع ہو جاتے ہیں تو ذاکر صاحب ممبر پر رونق افروز ہو کر پہلے ہاتھ اٹھا کر کہتے ہیں "فاتحہ"۔ ساتھ ہی تمام حاضرین ہاتھ اٹھا کے چپکے چپکے سورۂ فاتحہ پڑھ لیتے ہیں۔ اس کے بعد وہ اگر حدیث خواں یا واقعہ خواں ہوئے تو کتاب کھول کے بیان کرنا شروع کرتے ہیں، اور اگر مرثیہ خواں ہوئے تو مرثیے کے اوراق ہاتھ میں لے کے مرثیہ سنانے لگتے ہیں۔ مجتہدوں اور حدیث خوانوں کے بیان کو لوگ خاموشی و ادب سے سنتے اور رقت کے موقعوں پر زار و قطار روتے ہیں۔ مگر مرثیوں کے سننے کے وقت مجمع حاضرین سے بجز رقت کے بندوں کے، جبکہ رونے سے فرصت نہیں ملتی، برابر صدائے آفریں و مرحبا بلند ہوتی رہتی ہے۔
سوز خواں ممبر پر نہیں بیٹھتے، بلکہ لوگوں کے بیچ میں ایک جانب بیٹھ کر نوحے اور مرثیے سناتے ہیں، اور اکثر داد بھی پاتے ہیں۔
اکثر مجلسوں میں مختلف ذاکر یکے بعد دیگرے پڑھتے ہیں، اور عموماً حدیث خوانی کے بعد مرثیہ خوانی اور اس کے بعد سوز خوانی ہوتی ہے۔ سوز خوانی چونکہ دراصل گانا ہے، اس لیے اس کا رواج اگرچہ لکھنؤ ہی میں نہیں سارے ہندوستان میں کثرت سے ہو گیا ہے، مگر مجتہدین اور ثقہ اور پابند شرع بزرگوں کی مجلسوں میں سوز خوانی نہیں ہوتی۔ مجتہدین کے وہاں کی مجلسوں میں پابندی دین کا بہت خیال رہتا ہے۔ خصوصاً یہاں غفرانمآب کے امام باڑے میں نویں محرم کو جو مجلس ہوتی ہے وہ خاص شان اور امتیاز رکھتی ہے، اور اس کی شرکت کے شوق میں لوگ دور دور سے آتے ہیں۔ اس میں اثنائے بیان میں اونٹ حاضرین کے سامنے لائے جاتے ہیں، جن پر کجاوے یا محملیں ہوتی ہیں، اور ان پر سیاہ پوششیں پڑی ہوتی ہیں۔ اور مومنین کو یہ منظر نظر آ جاتا ہے کہ دشت کربلا میں اہل بیت کا لوٹا مارا اور تباہ شدہ قافلہ کس مظلومی و ستم زدگی کی شان سے شام کی طرف چلا جاتا تھا۔ حاضرین پر اس المناک منظر کا ایسا اثر پڑتا ہے کہ ہزارہا حاضرین سے دس بیس کو غش ضرور آ جاتا ہے، جو بڑی مشکلوں سے اٹھا کر اپنے گھروں کو پہنچائے جاتے ہیں۔
خاندان اجتہاد سے مجالس میں اس ڈرامیٹک شان کی ابتدا ہونے کا یہ انجام ہوا کہ اکثر عقیدتمند امرا جدت طرازیاں کرنے لگے، اور بعض بزرگوں نے تو یہاں تک ترقی کی کہ مجلسوں کو بالکل ڈراما بنا دیا۔ چنانچہ مولوی مہدی حسین صاحب مرحوم کے یہاں مجلسوں میں وقتاً فوقتاً تھیٹر کے ایسے پردے کھلتے جن کے ذریعے سے واقعات کربلا کے پرالم سین پیش نظر کر دیے جاتے، اور حاضرین پر عجیب رقت کا عالم طاری ہوتا۔ اس سے بھی زیادہ ترقی مرحوم کے یہاں کی زنانی مجلسوں میں ہوتی، جن میں شہر کی ہزاروں عورتیں جمع ہو جاتیں، اور بجائے اس کے کہ ذاکر حدیث خوانی کریں، اسٹیج پر کربلا کے سین زندہ ایکٹروں اور ایکٹرسوں کے ذریعے سے دکھائے جاتے۔
جہاں تک مجھے معلوم ہے علما و مجتہدین نے ان بدعات کو پسند نہیں کیا، مگر عوام الناس کی دلچسپی ان میں روز بروز بڑھتی ہی جاتی ہے۔
اصل حقیقت یہ ہے کہ شیعوں کی مجلسوں نے لکھنؤ کی معاشرت پر بہت نمایاں اثر ڈالا ہے، اور ان کے ذریعے سے آداب صحبت اور تہذیب و شائستگی کو بہت زیادہ ترقی ہو گئی ہے۔ اور مرثیوں کے ذوق نے شاعری و موسیقی کو زندہ ہی نہیں کر دیا، بلکہ ان دونوں فنون کا سچا مذاق مردوں سے تجاوز کر کے پردہ نشین شریف خاتونوں تک میں پیدا کر دیا۔ اور میں سمجھتا ہوں کہ یہ چیز یورپ کے سوا جہاں رقص و سرود لڑکیوں کی تعلیم میں داخل ہے، ایشیا کے کسی شہر میں نہ پیدا ہو سکی ہو گی۔
مجلسوں کے علاوہ ایک اور طرح کی محفلیں بھی شیعوں میں ہوتی ہیں جو "صحبت" کے نام سے یاد کی جاتی ہیں۔ ان کا زمانہ ۹ ربیع الاول یعنی عید شجاع کے دن سے شروع ہو کر چند روز تک باقی رہتا ہے۔ مجالس عزا جس طرح اہل بیت کے مصائب پر رونے اور آنسو بہانے کے لیے ہیں، اسی طرح یہ صحبتیں اس غرض سے کی جاتی ہیں کہ ڈرامیٹک طریقے سے دشمنان اہل بیت کی توہین و تذلیل کی جائے، اور ان کو بےتکان گالیاں دی جائیں۔ اور چونکہ شیعوں کے خیال میں اہل بیت کے سب سے بڑے دشمن ام المومنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ تھے، اس لیے انھیں دونوں محترم ناموں کی توہین کرنا اور ان کے پتلے بنا کے ذلت و نفرت کے ساتھ جلانا ان صحبتوں کا مقصود اصلی ہو گیا ہے۔ ان میں کسی سنی کے جانے کی کوئی وجہ نہیں ہے، اس لیے کہ وہ اپنے مقتداؤں کی توہین کو گوارا نہیں کر سکتے۔ مگر سنا جاتا ہے کہ یہ نہایت ہی بدتہذیبی و فحاشی کی شرمناک محفلیں ہوتی ہیں، جن میں ابتذال اس درجے تک ترقی کر جاتا ہے کہ کوئی مہذب شیعہ بھی بغیر روحی تکلیف اٹھائے واپس نہیں آ سکتا۔ ان صحبتوں نے بھی شیعوں کے مذاق پر بڑا اثر ڈالا ہے، اور اسی اثر کا نتیجہ ہے کہ ذرا ذرا سی باتوں پر سنی شیعوں میں لڑائیاں ہو جاتی ہیں۔
شیعوں کی ان مجلسوں اور صحبتوں کے بعد سنیوں کی مجالس مولد شریف ہیں۔ ان کی نشست اور شان وہی ہوتی ہے جو مجلسوں کی ہے۔ مگر فرق یہ ہے کہ سنیوں کے یہاں ممبر نہیں ہوتا، بلکہ ایک ممتاز جگہ پر کوئی چوکی بچھا دی جاتی ہے، اس پر پرتکلف کا فرش کر دیا جاتا ہے، اور اس پر بیٹھ کے واعظ یا مولد خواں صاحب مولد سناتے ہیں۔ پہلا طریقہ یہ تھا کہ کوئی مولوی صاحب حالات ولادت سرور عالم بیان کر دیتے، اور ذکر ولادت کے وقت سب لوگ کھڑے ہو جاتے۔ مولد خواں صاحب مسرت ولادت میں کوئی نظم پڑھتے، اور لوگوں پر گلاب پاش سے کیوڑہ چھڑکا جاتا۔ یا کوئی واعظ نہ ملتا تو کوئی پڑھا لکھا آدمی مولوی غلام امام شہید کا مولد شریف پڑھ کے سنا دیتا۔ مگر عوام کے لیے مولد خوانی کا یہ طریقہ اطمینان بخش نہ ثابت ہوا، اور سوز خوانوں کی دیکھا دیکھی ایسے مولد خواں پیدا ہو گئے جن کے ساتھ دو سر ملانے والے ہوتے ہیں، اور ان کے بیچ میں وہ بیٹھ کر ترنم کے خاص لہجے میں واقعات ولادت بیان کرتے ہیں، اور درمیان درمیان میں برابر اشعار و قصائد گائے جاتے ہیں۔ جن میں دونوں بازو ان کا ساتھ دیتے ہیں۔ مگر سوز خوانوں نے تو موسیقی کو زندہ کر دیا، اور مولد خواں گانے والوں نے سچ یہ ہے کہ موسیقی کا گلا گھونٹنے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی۔
لیکن مولد خوانی کے اعتبار سے لکھنؤ کو کوئی خصوصیت نہیں حاصل ہے، اس لیے کہ اسی طرز سے اور اسی شان کی مولد خوانی سارے ہندوستان کے سنیوں میں جاری ہے۔ اور یہی حال سنی صوفیوں کی صحبت حال و قال کا ہے، جو ہر جگہ یکساں ہے۔ مسلمانوں کے ہندوستان میں آنے کے زمانے ہی سے مجلس سماع کی بنیاد پڑ گئی، مگر اس سے سوا اس کے کہ قوالوں کا ایک گروہ پیدا ہو گیا، جو رتبے اور موسیقی دانی میں ڈھاڑیوں اور گویوں سے گرا ہوا سمجھا جاتا ہے، فن موسیقی کو کوئی نمایاں نفع نہیں حاصل ہو سکا۔ حالانکہ سوز خوانی نے ایک صدی کے اندر ہی موسیقی کو اپنی لونڈی بنا لیا، اور حاکمانہ شان سے اس پر تصرف کرنے لگی۔
这一章在你心里留下了什么?
登录后参与
讨论
还没有人开口。说说这一章触动了你什么。