Urdu in Translation
搜索

第 49 章,共 56 章

Mourning and Funeral Customs

غم اور تجہیز و تکفین کی رسمیں

Abdul Halim Sharar

文字
字号

(۴۸)

خوشی کی تقریبوں کو ہم بقدر ضرورت بتا چکے، اب غمی کی صحبتوں کا بیان کر دینا بھی ضروری ہے۔ مگر یہ سارے ہندوستان میں عام ہیں۔ جہاں تک میں نے غور کیا ان میں لکھنؤ کی کوئی خصوصیت نہیں نظر آتی۔ غمی کا باعث کسی کا مرنا ہوتا ہے، لہٰذا مرنے کے دن اعزا و احباب کو خبر کر دی جاتی ہے، اور جن لوگوں کو مجبوری مانع نہیں ہوتی ضرور آتے ہیں۔ عورتیں جو آتی ہیں اپنی ڈولی یا سواری کا کرایہ آپ دیتی ہیں۔ شادی کی تقریبوں میں اور عام قسم کی آمد و رفت میں لازم ہے کہ مہمان آنے والیوں کا کرایہ دیا جائے، مگر غمی کا گھر اس تکلیف سے مستثنیٰ کر دیا گیا ہے۔

اس کے بعد مردے کو نہلاتے ہیں۔ شیعوں کے یہاں معمول ہے کہ غسل کے لیے جنازہ پہلے غسل خانے میں لے جایا جاتا ہے، جہاں غسال جو نہلانے میں نہایت مشاق، مگر اس کے ساتھ قسی القلب مشہور ہیں، مردے کو غسل دے کے کفن پہناتے ہیں۔ مگر سنیوں کے یہاں مردہ اپنے گھر ہی میں نہلایا جاتا ہے، اور خود اعزا و اقارب یا دوست احباب نہلاتے ہیں۔ اکثر مرد اور عورتیں جو زیادہ مشاق ہوں بلا لیے جاتے ہیں، اور اکثر جگہ یہ ہوتا ہے کہ کوئی شرع دان مولوی صاحب یا اور کوئی پڑھے لکھے واقف کار بزرگ بتاتے جاتے ہیں کہ اس ترتیب سے نہلانا چاہیے، اور مسنون غسل میت کیا ہے۔

غسل کے بعد کفن پہنایا جاتا ہے، جس میں ایک ازار، ایک کفنی جو کرتے کے نام سے مشہور ہے پہنا کے اوپر سے دو چادریں لپیٹ دی جاتی ہیں، اور سر اور پاؤں کے پاس اور کمر میں کپڑے کی چٹیں پھاڑ کے باندھ دی جاتی ہیں تاکہ کھلنے نہ پائیں۔

اس کے بعد اگر شیعوں کا جنازہ ہے تو صندوق میں رکھ کے اس پر کوئی دوشالہ ڈال کے جنازے کو شامیانے کے سائے میں لے جاتے ہیں۔ اور ساتھ ساتھ کوئی شخص قرأت و ادائے مخارج سے سورۂ رحمٰن کی بعض آیتیں پڑھتا جاتا ہے۔ صندوق شامیانے کے اٹھانے والے علی العموم شہدے ہوتے ہیں، جن کا مدت دراز سے مردے اٹھانا پیشہ ہو گیا ہے۔ مگر ان لوگوں کی بیہودگیوں اور بدتمیزیوں سے شیعوں میں خیال پیدا ہوا ہے کہ جنازوں کو خود اٹھانا چاہیے، جس کے لیے متعدد کمیٹیاں شہر میں قائم ہو گئی ہیں، اور ان کے پرجوش اور دیندار ارکان تلاش میں رہتے ہیں کہ کوئی مر جائے تو اس کے جنازے کو خود اپنے اہتمام میں لے کے مذہبی آداب اور احتیاطوں سے اٹھائیں۔

سنیوں میں میت کو کسی ہلکی چارپائی پر لٹا کے اور اوپر سے چادر ڈال کے لے جاتے ہیں۔ اگر عورت کا جنازہ ہو تو چارپائی پر بانس کی کھپاچوں کو قوس کی صورت میں قائم کر کے، اور ان کے سروں کو دونوں جانب چارپائی میں اٹکا کے، اوپر سے چادر ڈالتے ہیں۔ اس کو گہوارہ بنانا کہتے ہیں، اور اس کی ضرورت محض پردے کے خیال سے پیدا ہوئی ہے۔ سنیوں میں جنازے کو خود اعزا و احباب اپنے کندھوں پر اٹھا کے آہستہ آہستہ کلمہ پڑھتے ہوئے لے جاتے ہیں، اور نماز جنازہ پڑھائی جاتی ہے۔

قبر یہاں عموماً صندوقی کھودی جاتی ہے، جس میں انسان کے سینے تک ایک چوڑا حوض کھدوایا جاتا ہے۔ پھر اس کے اندر دونوں جانب کنارے چھوڑ کے ایک دوسرا پتلا حوض کھودا جاتا ہے۔ وہ بھی انسان کی کمر سے کم گہرا نہیں ہوتا۔ جب قبر خوب صاف کر لی جاتی ہے تو مردے کو اس میں نہایت احتیاط سے اتارتے ہیں تاکہ ہاتھ سے گرنے اور چوٹ کھانے نہ پائے۔ قبر میں عموماً سرہانا شمال کی طرف رکھا جاتا ہے، اور مردے کا منہ ڈھیلوں وغیرہ کی آڑ لگا کے قبلے کی طرف کر دیا جاتا ہے۔ اس کے بعد بند کھول دیتے ہیں، اور اکثر اعزا کو منہ کھول کے میت کی آخری صورت بھی دکھا دیا کرتے ہیں۔ اس موقع پر شیعوں کے وہاں تلقین پڑھی جاتی ہے، جس کی صورت یہ ہے کہ کوئی ثقہ اور متقی بزرگ قبر میں اتر کے میت کا شانہ ہلاتے جاتے ہیں اور ایک عربی عبارت پڑھتے جاتے ہیں، جس میں میت کی طرف خطاب کر کے بتایا جاتا ہے کہ وہاں نکیرین آ کے سوال کریں تو تم یہ جوابات دینا۔ جس کے سلسلے میں تمام عقائد دینیہ کی تعلیم کر دی جاتی ہے۔ اس کے بعد اندرونی حوض پر تختے جما دیے جاتے ہیں، اور اگر ان میں درز یا جھری ہو تو مٹی کے ڈھیلے رکھ رکھ کے اطمینان کر لیتے ہیں کہ مٹی اندر نہ جانے پائے گی۔ قبر میں کافور اور خوشبو تو کفن ہی میں موجود ہوتی ہے، بعض لوگ کیوڑے کی بوتل بھی ڈال دیتے ہیں۔ اور اس کے بعد اوپر سے مٹی ڈال کے قبر کا اوپر والا حوض بھر دیا جاتا اور قبر کی صورت بنا دی جاتی ہے۔

مٹی دینے کو لوگ بڑا اہم اور ضروری کام تصور کرتے ہیں۔ اور جب قبر میں مٹی ڈالی جانے لگتی ہے تو حاضرین میں سے ہر شخص، عام اس سے کہ کوئی ہو، تین مرتبہ ہاتھ میں مٹی لے کے قبر میں ڈالتا ہے، اور قرآن کی تین آیتیں پڑھتا ہے جن کا ترجمہ یہ ہے کہ "ہم نے تم کو اس سے (مٹی سے) پیدا کیا، ہم نے تم کو پھر اسی میں پہنچایا، اور ہم پھر آئندہ (روز قیامت) تم کو اس سے نکال کے کھڑا کریں گے"۔

بہرحال جب قبر بن کے تیار ہو جاتی ہے تو اس پر وہی چادر جو جنازے پر پڑی تھی یا پھولوں کی چادر ڈال دی جاتی ہے، اور فاتحہ پڑھ کے اور دعائے مغفرت کر کے لوگ واپس آتے ہیں۔

مرنے والے کے گھر میں اس کی وفات کے دن چولھا نہیں جلتا، بلکہ جنازے کے گھر سے نکلنے کے بعد کسی عزیز و قریب کے گھر سے پکا پکایا کھانا آ جاتا ہے، جس کو لوگ دفن سے واپس آ کے کھاتے ہیں، اور اسی وقت تمام مہمان اس کھانے سے پیٹ بھرتے ہیں۔ تین دن تک معمولاً یہی ہوتا ہے کہ گھر میں کھانا نہیں پکتا۔ یہ طریقہ اصل میں آغاز اسلام اور خود حضرت رسالت علیہ السلام سے شروع ہوا، جبکہ حضرت جعفر طیار کی شہادت کا حال سن کر اور ان کے گھر والوں کو روتا پیٹتا دیکھ کر آپ نے کھانا بھجوا دیا تھا۔ مگر لوگوں نے اس شائستہ بنیاد پر جو عمارت یہاں قائم کر لی ہے وہ نہایت لغو اور شرمناک ہے۔ کسی کے مرتے ہی گھر میں جتنا کھانا تیار ہو پھینک دیا جاتا ہے، گھڑوں مٹکوں کا پانی بہا دیا جاتا ہے، اور اس کا سبب عورتیں بچوں سے یہ بیان کرتی ہیں کہ فرشتۂ موت جس چھری سے جان لیتا ہے اس کو کھانے پینے کی چیزوں میں دھو ڈالتا ہے۔

مرنے کے تیسرے دن، اور کبھی مناسب دن دیکھ کے چوتھے روز، سوم ہوتا ہے۔ دراصل اس کا آغاز اس سے ہوا کہ یہ دن اس لیے مقرر تھا کہ لوگ آ کر مراسم تعزیت ادا کریں اور پسماندوں کی تسلی و تشفی کریں۔ مگر یہ خیال کر کے کہ ایک مجمع کثیر کا خالی بیٹھا رہنا اچھا نہیں معلوم ہوتا، یہ طرز عمل اختیار کیا گیا کہ جو لوگ آئیں بیٹھ کر قرآن مجید کی تلاوت کریں، اور دو ایک پارے پڑھ کے ان کا ثواب مرحوم کی روح کو بخشیں۔ چند روز میں تعزیت کا خیال جاتا رہا، اور فقط یہ رہ گیا کہ اس دن کتنے لوگ آئے اور کتنے قرآن مرنے والے کو بخشے گئے۔ ختم صحبت کے وقت پہلے مختلف لوگ قرآن کے چند رکوع اور آخر کی چھوٹی سورتیں پڑھ کر فاتحے کے لیے ہاتھ اٹھاتے ہیں۔ اس میں ایک نیا لغو طریقہ یہ اختیار کیا گیا ہے کہ تھوڑا گھسا ہوا صندل، ایک پیالے میں تیل، اور تھوڑے پھول لا کے حاضرین میں سے ہر ایک کے سامنے پیش کیے جاتے ہیں۔ ہر شخص ایک پھول اٹھا کے تیل میں ڈالتا ہے، اور وہ صندل اور تیل اور پھول لے جا کے مرحوم کی تربت پر ڈال دیے جاتے ہیں۔

اسی روز شام کو پہلے بڑی فاتحہ خوانی ہوتی ہے، اور گھر میں پہلی بار کھانا پکتا ہے۔ اگرچہ اب غربت نے ہمدردوں کی اس قدر کمی کر دی کہ میت کے گھر کھانا بھیجنے والے بہت کم رہ گئے ہیں، اور اکثر غریب گھر والوں کو اس سے پہلے ہی کھانا پکانے پر مجبور ہو جانا پڑتا ہے، لیکن مروجہ طریقہ یہی ہے کہ تیجے یعنی سوم سے پہلے باہر ہی کے کھانے پر بسر ہو۔

سوم اور چہلم کی فاتحوں نے عوام میں عجب شان پیدا کر لی ہے۔ اصلیت تو اسی قدر ہے کہ جہاں تک ہو سکے غریبوں اور محتاجوں کو کھانا کھلایا جائے اور اس کا ثواب مرنے والے کو پہنچا دیا جائے۔ ہندوستان میں ہندوؤں میں مردوں کی تیرہویں اور برسی ہوتے دیکھ کے مسلمانوں کا جی چاہا کہ ہم بھی اسی قسم کے کام ناموری اور دھوم دھام سے کریں۔ اس شوق کے تقاضے نے تیجے، دسویں، بیسویں، چہلم، اور دلیسے کے نام سے غمی کی تقریبیں پیدا کر دیں، جن میں ہوتا وہی ایصال ثواب ہے، مگر دکھانے، نام پیدا کرنے، اور برادری کو کھانا دینے کی شان سے۔ پھر اس پر قیامت یہ ہوئی کہ عوام میں یہ عقیدہ پیدا ہوا کہ ان ہمارے مروجہ فاتحوں میں جو کچھ دیا جاتا ہے وہ خدا کے حکم سے بجنسہ مردے کو پہنچا دیا جاتا ہے۔ اس عقیدے نے فاتحوں میں یہ شان پیدا کر دی کہ گویا مردے کی دعوت کی جاتی ہے۔ وہ کھانے زیادہ اہتمام سے دیے جاتے ہیں جو مرحوم کو مرغوب تھے۔ حالانکہ خیرات کا اصول یہ چاہتا ہے کہ جس غریب کو کھلایا جائے اس کی پسند کا لحاظ رکھا جائے، تاکہ اس کے خوش کرنے سے ثواب میں ترقی ہو۔

اسی قدر نہیں، فاتحوں میں تو اب یہ ہوتا ہے کہ چار چار پانچ پانچ جوڑ کھانے کے نکال کے ایک پاک و صاف مقام پر ترتیب سے چن دیے جاتے ہیں۔ آبخورے میں پانی بھی لا کے رکھ دیا جاتا ہے، اس لیے کہ کھانے میں مردے کو پانی پینے کی بھی ضرورت ہو گی۔ پھر اس کے لیے کپڑوں کے نئے اور حتی الامکان نفیس و قیمتی کپڑے، اوڑھنا بچھونا، جانماز، نئی قلعی کیے ہوئے تانبے کے برتن، لوٹا، کٹورا، پتیلی وغیرہ بھی کھانے کے برابر رکھ دیے جاتے ہیں۔ اور جب یہ سب سامان تیار ہو جاتا ہے تو کوئی ملا آ کے فاتحہ کرتا، یعنی قرآن کی چند مخصوص آیتیں اور چھوٹی سورتیں پڑھ کر دعا کرتا ہے کہ خداوندا ان چیزوں کا ثواب فلاں شخص کو پہنچا۔ اس طریقے سے عوام کو اطمینان ہو جاتا ہے کہ یہ چیزیں مردے کو پہنچ گئیں، اور وہ سب کھانے اور چیزیں کسی محتاج یا دیندار مسلمان کے گھر پہنچا دی جاتی ہیں۔

ان چیزوں سے خود مرحوم کے متمتع ہونے کے خیال نے دلوں میں یہاں تک رسوخ پیدا کر لیا ہے کہ بعض ادنیٰ طبقے کی جاہل عورتیں فاتحے کی چیزوں کے پاس بن سنور کے خود بھی بیٹھ جاتی ہیں کہ مرحوم شوہر ان کھانوں اور کپڑوں سے لطف اٹھائے گا تو خود ان کے حسن و جمال کی لذت سے کیوں محروم رہ جائے۔

فاتحوں میں کھانا فاتحے کی ضرورت سے بہت زیادہ پکوایا جاتا ہے، [illegible] حسب توفیق اعزا و احباب میں جن سے حصہ داری ہے تقسیم ہوتا ہے۔ گھر کے پرجوں، دھوبی، نائی، حلال خور وغیرہ کو دیا جاتا ہے، جنھوں نے فاتحوں کے شاندار تقریبیں بن جانے کی وجہ سے اپنے حقوق پیدا کر لیے ہیں۔

گو کہ ہم نے یہ سب کارروائیاں فاتحۂ سوم کے ضمن میں بیان کر دی ہیں، لیکن ان کی تعمیل زیادہ اہمیت کے ساتھ چہلم میں ہوتی ہے، جو کہنے کو تو مرنے کے چالیسویں دن، مگر ازروئے عمل درآمد چالیس سے دو چار روز کم زمانے میں ہوا کرتا ہے۔ اور فاتحے دسویں، بیسویں کے بھی گو امتیاز سے ہوتے ہیں، اور ہر جمعرات کا دن خاندان کے بزرگوں کے فاتحے کے لیے مقرر ہو گیا ہے، مگر علی العموم سوم اور چہلم کے فاتحے غیر معمولی اہتمام سے ہوتے ہیں۔ اور حضرات امامیہ کے وہاں ہر غمی کے فاتحے میں لزوم کے ساتھ مجلس عزائے آل عبا علیہم السلام بھی ہوتی ہے۔

غمی کی تقریبوں کے خصوصیات ہم نے بیان کر دیے۔ اب رہی محفلوں کی نشست کا طریقہ، وہ وہی ہے جو دوسری تقریبوں میں عرض کر دیا گیا۔ یہ خوشی اور غمی کی وہ تقریبیں تھیں جو اخلاقی و معاشرتی طریقے سے مروج ہیں۔ مذہب نے جن محفلوں کو رواج دیا ہے ان کو ہم آئندہ بیان کریں گے۔

这一章在你心里留下了什么?

登录后参与

讨论

还没有人开口。说说这一章触动了你什么。

喜欢这一章吗?分享其中的一句话吧。