
Chapitre 44 sur 56
The Manner of Speech
طرز گفتگو
(۴۳)
(۷) طرز کلام۔ آداب معاشرت میں ساتویں اہم چیز گفتگو اور طرز کلام ہے۔ دنیا میں ہر شخص کی شائستگی اور ادبی قابلیت کا پہلا اندازہ اس کے الفاظ اور اس کے انداز گفتگو سے ہوتا ہے۔ دنیا کی ہر اقبالمند قوم سب سے پہلے اپنی زبان کی اصلاح کرتی اور اسے ترقی دیتی ہے۔
تہذیب و شائستگی کا تقاضا یہ ہے کہ زبان پر کردہ و فحش الفاظ نہ آئیں۔ جو الفاظ و خیالات مخاطب کو ناگوار گزریں اس کے سامنے زبان سے نہ نکلیں، اور اگر کبھی ناگوار مضامین کے ظاہر کرنے کی ضرورت پیش بھی آئے تو وہ ایسے الفاظ اور ایسے عنوان سے ادا کیے جائیں کہ مخاطب کو گراں نہ گزریں، اور اگر گراں گزریں بھی تو ان کی گرانی میں ایک گونہ گوارائی و لطف پیدا ہو جائے۔
اس بارۂ خاص میں اہل زبان لکھنؤ اور یہاں کے شائستہ لوگوں کو جو کمال حاصل ہے ہندوستان کے اور کسی شہر والوں میں نہ نظر آئے گا۔ اگرچہ موجودہ تعلیم و تہذیب نے ایک حد تک یہ خوبی ہر جگہ انداز گفتگو میں پیدا کر دی ہے، مگر انگریزی اثر سے معریٰ کر کے دیکھیے تو بالذات یہ شائستگی و شستگی زبان اہل لکھنؤ ہی کا حصہ نظر آئے گی۔
باہر کے لوگ اس کا یہاں تک لوہا مانے ہوئے ہیں کہ لکھنؤ والوں کے سامنے گفتگو کرتے جھینپتے اور جس قدر شائستگی ان میں ہے اس کو بھی بھول جاتے ہیں۔ اور اس کے بعد جب اپنی صحبتوں میں بیٹھتے ہیں تو یہ کہہ کے اپنی کمزوری کا الزام دور کرتے ہیں کہ "ہم سادگی سے صاف صاف باتیں کرتے ہیں، اور ہمیں لکھنؤ والوں کی سی چناں چنیں نہیں آتی"۔ مگر دراصل یہ عذر بدتر از گناہ ہے۔ میں نے ایرانیوں کو دیکھا کہ ان کے سامنے ہندوستانی بات کرنا بھول جاتے ہیں۔ انگلستان میں دیکھا کہ فرانسیسیوں کے سامنے انگریزوں کی زبان سے ایک لفظ نکلنا بھی مشکل ہو جاتا ہے۔ اسی طرح عربوں کی طلاقت لسانی کی کبھی یہ حالت تھی کہ ان کے سامنے غیر ملک والوں کی زبان نہ کھل سکتی تھی، اور عرب لوگوں کا خیال ہو گیا تھا کہ "زبان خدا نے فقط ہم کو دی ہے، اور ساری دنیا ہمارے مقابل گونگی ہے"۔ اسی خیال کا نتیجہ تھا کہ ماسوا عرب کے تمام دنیا کے لوگوں کو وہ "عجم" کہتے، جس کے لغوی معنی گونگے کے ہیں۔ بعینہٖ یہی حال ہندوستان میں ہر شہر کے لوگوں کے مقابل لکھنؤ والوں کا ہے کہ وہ فصاحت و بذلہ سنجی میں سب کو دبا کے صحبت پر چھا جاتے ہیں، اور اپنے سامنے کسی اور کو زبان نہیں کھولنے دیتے۔
شائستگی زبان میں سب سے پہلی چیز یہ ہے کہ مخاطب کو کن ضمائر سے یاد کیا جائے۔ اور سب زبانوں میں مخاطب کے لیے دو ضمیریں ہیں، ایک واحد کی اور ایک جمع کی۔ اور معزز مخاطب کے لیے واحد کی جگہ ہر زبان میں تعظیماً جمع کی ضمیر استعمال کی جاتی ہے۔ فارسی میں واحد مخاطب کی ضمیر "تو" ہے اور جمع کی "شما"۔ عربی میں واحد کی "ک" اور "انت"، اور جمع کی "کم" اور "انتم"۔ انگریزی میں "یو" کے لفظ سے معزز شخص مخاطب کیا جاتا ہے۔ بخلاف ان سب زبانوں کے اردو میں مخاطب کے لیے واحد کی تو ایک ہی ضمیر "تو" ہے، مگر جمع کی دو ضمیریں ہیں، "تم" اور "آپ"۔ اور ان تینوں ضمیروں کے لیے مخاطب کا درجہ اور مرتبہ مقرر ہے۔ ایک بہت ادنیٰ شخص کو "تو" کہیں گے۔ ادنیٰ درجے کے لوگوں میں جو ذرا امتیاز رکھتا ہو اسے اور اپنے خردوں کو "تم" کہیں گے۔ اور جو ہم رتبہ، معزز و تعلیم یافتہ شریف ہو اسے "آپ" کہیں گے۔ اگرچہ معزز درجے کے لوگ کبھی بےتکلفی میں اپنے اقران و امثال اور اپنے ہم سنوں کو بھی "تم" کہنے لگتے ہیں، مگر جن لوگوں سے بےتکلفی نہ ہو ان کو تم کہنا اردو میں خصوصاً اہل لکھنؤ میں اخلاقی و ادبی جرم ہے۔
اردو زبان میں اور خاص لکھنؤ والوں میں مخاطب کے اتنے ہی درجے نہیں بلکہ ان سے بھی بڑھ کے بہت سے الفاظ ہیں جن کا شرفا و معززین کے مقابلے میں استعمال کرنا لازمی ہے: جناب، جناب والا، جناب عالی، حضرت، حضرت والا، حضور، حضور والا، حضور عالی، قبلہ، قبلہ و کعبہ، سرکار، اور اسی قسم کے چند اور الفاظ اردو میں معزز مخاطب کی نسبت حسب درجہ استعمال کیے جاتے ہیں، جو لکھنؤ والوں کی زبان پر چڑھے ہوئے ہیں، اور ان کا صحیح استعمال جس قدر اہل لکھنؤ جانتے ہیں اور کسی دوسرے شہر کے لوگ نہیں جانتے۔
ہمارا دعویٰ ہے کہ اتنے تعظیمی الفاظ خطاب دنیا کی کسی زبان میں نہیں ہیں۔ ہندوستان میں وہ زمانہ گزر گیا جب اردو یہاں کی تمام زبانوں کی ادب آموز تھی، اور اب اردو کی شاگردی سے آزاد ہو کے سب زبانیں کوس لمن الملکی بجا رہی ہیں۔ بنگالی، پنجابی، گجراتی، سندھی، مرہٹی، کنڑی، تلنگی وغیرہ سب کو اپنی ادبی ترقی و فصاحت کا دعویٰ ہے۔ مگر ہم مذکورہ ہندوستانی زبانوں کو اور ان کے ساتھ ساری دنیا کی مشہور زبانوں فارسی، عربی، انگریزی اور فرانسیسی کو بھی چیلنج دیتے ہیں کہ اگر ان کو اردو سے زیادہ ادبی وسعت و فصاحت کا دعویٰ ہے تو مخاطب کے لیے اپنی لغتوں میں اتنے لفظ نکال دیں جتنے کہ اردو میں موجود ہیں۔ سچ یہ ہے کہ باوجود اپنی کم عمری اور اپنے محدود رقبۂ تصرف کے اردو چند ہی روز میں شائستگی، لطافت اور مناسبات علم مجلس کے اعتبار سے اس درجۂ کمال کو پہنچ گئی تھی جو دنیا کی کسی زبان کو نہیں حاصل ہے۔ اصل حقیقت یہ ہے کہ اردو کسی ملک، کسی صوبے، کسی گروہ، کسی مذہب کی زبان نہ تھی، بلکہ یہ وہ زبان تھی جو شاہی دربار سے شروع ہو کے ہندوستان کے ہر شہر میں مہذب و شائستہ لوگوں، کھری صحبت والوں، صاحبان علم و فضل، شاعروں اور ادب و اخلاق کے شیداؤں کی زبانوں پر جاری ہو گئی تھی۔ لہٰذا اس کی بنیاد ہی تہذیب و شائستگی کے ہاتھوں سے پڑی، اور آخر تک کھرے مذاق والوں اور شیدایان سخن کے ساتھ مخصوص رہی۔ اسی کا نتیجہ ہے کہ اردو بولنے والوں کی مجارٹی کسی صوبے میں نہیں، مگر یاد رکھنا چاہیے کہ ہر جگہ کے مہذب و شائستہ لوگ اس کے بولنے والے ہیں۔ یہ پیدا اسی لیے ہوئی تھی کہ ہندوستان میں ایک اعلیٰ درجے کی اور ساری دنیا سے زیادہ شائستہ سوسائٹی پیدا کر دے۔ مگر بدنصیبی سے انگریزی دور میں جب مغربی معاشرت و ادب نے جگہ پکڑی تو ہندوستانیوں کے باہمی اور قدیم فطری تعصبات نے یہ رنگ دکھایا کہ مسلمان اس پر ناز کرنے لگے کہ ہماری زبان ہے، اور ہندوؤں نے یہ خیال کر کے کہ اس زبان میں ہم مسلمانوں کا مقابلہ نہ کر سکیں گے اسے مسلمانوں ہی کے سر مارا اور دامن جھٹک کے علیحدہ ہو گئے۔ اس سے اردو کو نقصان پہنچا اور روز بروز زیادہ نقصان پہنچے گا۔ مگر باوجود اس کے اس سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ جو رسیلا پن، جو ادبی خوبیاں اس میں ہیں، نہ نئی پیدا کی ہوئی ہندی زبان میں ہیں اور نہ ہندوستان کی کسی اور زبان میں۔
انگریز ہوں یا عرب، افغانی ہوں یا ایرانی، جب اردو بولتے ہیں تو مخاطب کے لیے سوا "تم" کے اور کوئی لفظ ان کے خیال میں نہیں آتا، اس لیے کہ اس قسم کا اور کوئی لفظ جو "تم" سے زیادہ شائستہ و ترقی یافتہ ہو ان کی زبان میں موجود ہی نہیں ہے۔
انگریزی میں خطاب کے اور الفاظ ہیں مثلاً "یور آنر"، "یور اکسلنسی"، "یور ہائنس" یور مجسٹی وغیرہ، مگر وہ اعلیٰ درجے کے امرا اور بادشاہوں کے لیے خاص ہیں، ان کے سوا اور کسی کی نسبت نہیں استعمال کیے جا سکتے۔ اس قسم کے مختص الاشخاص الفاظ اردو میں بھی ہیں، مثلاً جہاں پناہ، صاحب عالم، مرشد زادہ، نواب صاحب، نواب زادہ، صاحبزادہ۔ یہ خاص اعلیٰ طبقے کے لوگوں کے خطابات ہیں، جن کے ساتھ جناب یا حضور کے الفاظ ملا کے خطاب کیا جا سکتا ہے۔ اور غالباً اس قسم کے مخصوص خطابات ہر زبان میں موجود ہوں گے۔ مگر مذکورۂ بالا تعظیمی الفاظ جو اردو زبان میں ہر معزز و شائستہ انسان کی نسبت استعمال کیے جا سکتے ہیں اردو کے سوا کسی اور زبان میں نہیں نظر آتے۔
مزاج پرسی کو دیکھیے، ہر زبان میں اس کے لیے معمولی الفاظ ہیں، مگر اردو میں ادب و احترام کی نگہداشت کے لیے "مزاج عالی"، "مزاج مبارک"، "مزاج اقدس"، "مزاج مقدس"، "مزاج معلیٰ" وغیرہ کہہ کے معزز مخاطب کی خیریت دریافت کرتے ہیں۔ یہ الفاظ اگرچہ اب ترقی اردو کے ساتھ ہر جگہ اور ہر شہر میں بولے جا رہے ہیں، مگر ان کے استعمال میں جو اجتہادی ملکہ شرفائے لکھنؤ کو حاصل ہے اور کسی جگہ کے لوگوں کو نہیں نصیب ہو سکتا۔
شرفائے لکھنؤ میں ایک خاص بات یہ ہے کہ "ش"، "ق" درست رہیں گے، اور تمام عربی حرفوں کو حتی الامکان ان کے اصلی مخرج سے ادا کریں گے۔ فارسی ترکیبوں میں اضافت نمایاں طور پر ادا کی جائے گی۔ علما اور ذی علم لوگوں سے باتیں کریں گے تو عربی و فارسی الفاظ کو زیادہ استعمال کریں گے، اور ان کو صحیح تلفظ سے ادا کریں گے۔ اطبا سے گفتگو ہوگی تو عربی کے طبی مصطلحات کو گفتگو میں لائیں گے۔ جاہل نوکروں اور عوام سے بات کریں گے تو عربی الفاظ سے بچیں گے۔ عورتوں سے بات چیت ہوگی تو ان کے مذاق کے محاوروں اور مثلوں کو گفتگو میں صرف کریں گے۔
خرد بزرگ سے، ادنیٰ اعلیٰ سے، یا عامی عالم سے گفتگو کرے گا تو ہر لفظ اور ہر فقرے میں ادب و تعظیم کا خیال رکھے گا۔ آواز مناسب درجے تک پست اور نیچی رہے گی۔ اسی طرح بزرگ خردوں سے، اعلیٰ طبقے والے ادنیٰ سے، علما عوام سے بات کریں گے تو ان کے لہجے، ان کے انداز اور ان کے الفاظ میں شفقت و محبت کے جذبات مضمر ہوں گے۔
ان باتوں کا لحاظ رکھنے اور مذکورۂ بالا ادب و تعظیم کے الفاظ و ضمائر استعمال کرنے سے اہل لکھنؤ کی زبان اس قدر شائستہ اور شستہ و رفتہ ہو گئی ہے کہ یہاں کے عوام اور جہلا دوسرے شہروں کے اکثر شعرا و فصحا سے زیادہ اچھی اردو بولتے ہیں، اور جو شائستگی و تمیزداری ان سے ظاہر ہو جاتی ہے کسی اور مقام کے قابل و ذی علم لوگوں سے بھی نہیں ظاہر ہو سکتی۔ مگر افسوس لکھنؤ مٹتا جاتا ہے۔ اب یہاں بیرونی لوگوں کا ایسا طوفان بےتمیزی بپا ہے، یہاں کے شائستہ لوگ اس طرح بیکار ہو کے کونے میں بیٹھ گئے ہیں، اور قانونی آزادی نے جہلا و عوام کو اس درجہ بیباک و بدتمیز بنا دیا ہے کہ یہ تمام ادبی خوبیاں خاک میں مل رہی ہیں، اور چند روز بعد شاید ان کا پتہ بھی نہ ہو۔
Que vous laisse ce chapitre ?
Connectez-vous pour réagir
Discussion
Personne n’a encore parlé. Dites ce que ce chapitre a remué en vous.