
第 43 章,共 56 章
Gatherings and Forms of Greeting
صحبتیں اور سلام کے طریقے
(۴۲)
نشست و برخاست ہی کے سلسلے میں ہمیں یہ بھی بتا دینا چاہیے کہ یورپ یا عرب و عجم کی طرح ہندوستان میں باہم ملنے جلنے اور لطف صحبت اٹھانے کے لیے کلبوں اور سوسائٹیوں کا رواج نہ تھا۔ یورپ میں ہر جگہ ایسے کلب یا ایسی سوسائٹیاں قائم ہیں جن میں جا کے لوگ احباب اور ہم مذاق لوگوں سے ملتے اور ان کی صحبت سے لطف اٹھاتے ہیں۔ عربوں، ایرانیوں اور ترکوں میں چائے خانے یا قہوہ خانے میل جول اور مبادلۂ خیالات کا ذریعہ بن گئے ہیں۔ جس طرح آپ دیکھتے ہیں کہ جس جگہ دو چار انگریز ہوتے ہیں وہاں اپنا ایک کلب قائم کر لیتے ہیں، اور فرصت کے اوقات میں وہاں جا کے اخبار پڑھتے اور احباب سے ملتے ہیں، اسی طرح جس شہر میں ایرانیوں اور عربوں کی کافی تعداد ہوتی ہے وہاں ان کا کوئی چائے خانہ یا قہوہ خانہ کھل جاتا ہے، اور اس میں جس وقت دیکھیے ان کا کوئی نہ کوئی گروہ ضرور موجود ہوتا ہے جو وہاں چائے اور حقے پیتے، کھانے کھاتے اور ساتھ بیٹھ کے گپیں اڑاتے ہیں۔
بخلاف اس کے ہندوستان میں کبھی اس قسم کے کلبوں یا چائے خانوں کا رواج نہ تھا اور نہ آج تک ہے۔ سرکار انگریزی نے جابجا شہروں میں اس مذاق کے پیدا کرنے کی کوشش کی، بڑے بڑے مصارف کا بار اٹھا کے چائے خانے کھلوائے، مگر کامیابی نہ ہوئی۔ آج سے تیس پینتیس سال پیشتر خاص لکھنؤ کے چوک میں میر محمد حسین صاحب مرحوم، ڈائرکٹر زراعت و تجارت ریاست نظام، نے حیدرآباد جانے سے پہلے گورنمنٹ کی اعانت سے ایک چائے خانہ کھلوایا تھا، جس میں فرنیچر بھی اچھا تھا، اور سوا ناجائز چیزوں کے ہر قسم کے مشروبات تیار رہتے تھے۔ مگر کسی نے توجہ نہ کی، اور آخر میر صاحب کو نقصان اٹھا کے اسے بند کر دینا پڑا۔
یہاں کا پرانا مذاق صحبت یہ ہے کہ ہر محلے میں یا آبادی کے ہر حلقے میں کوئی خوشحال یا دولتمند شخص اپنے گھر میں لوگوں کے آنے اور اٹھنے بیٹھنے کا سامان کرتا ہے۔ احباب کی تواضع و خاطرداشت کے لیے حقے پان وغیرہ ضروری چیزوں کو وہ اپنے ذاتی صرف سے مہیا کرتا ہے، اور اس کے ہم مذاق بلاناغہ اور پابندی سے آتے ہیں۔ دیر تک صحبت رہتی ہے، بذلہ سنجیاں اور لطیفہ گوئیاں ہوتی ہیں، اور جب تک صحبت قائم رہے حقے پان سے تواضع ہوتی رہتی ہے۔ اور پھر ندیمان صحبت کے مذاق کے اعتبار سے ان کی محفلوں کا رنگ بھی بدلتا جاتا ہے۔ ارکان محفل اگر ادب اور شعر و سخن کا مذاق رکھتے ہیں تو شاعری، نثاری اور سخن فہمی و سخن سنجی کا چرچا رہتا ہے۔ اگر وہ علما و فضلا ہیں تو عالمانہ مذاق کے ساتھ علمی مباحث چھڑتے ہیں۔ اگر مہذب امرا کی صحبت ہے تو وضع و لباس، سامان عیش، کھانے پینے، اور ہر چیز کے برتنے اور ہر مذاق کے اختیار کرنے میں انتہا درجے کی نفاست و شائستگی اور رکھ رکھاؤ کے ساتھ تمیزداری ظاہر کی جاتی ہے۔ اگر رنگین مزاج عیاشوں کی صحبت ہے تو اس میں بازاری مہ لقائیں بھی شریک ہوتی ہیں، اور ناز آفرینی و ناز برداری کی ادائیں نظر آتی ہیں۔ یہ خیال رکھنا چاہیے کہ یورپ کی طرح یہاں مردوں کی کسی صحبت میں شریف و پاکدامن عورتیں نہیں شریک ہو سکتیں، اور احباب کی محفل میں جب کوئی عورت نظر آ جائے تو یقین جان لیجیے کہ وہ عصمت فروش بازاری رنڈی ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ یورپ کی صحبتوں میں شریف و شائستہ عورتوں کے شریک ہونے کی وجہ سے بازاری عورتوں کا درجہ اور مرتبہ سوسائٹی میں اس قدر گر گیا کہ کسی شریف خاندان کا دروازہ ان کے لیے نہیں کھل سکتا، اور نہ شرفا کے کلبوں اور سوسائٹیوں میں وہ قدم رکھ سکتی ہیں۔ بخلاف اس کے ایک حد تک سارے ہندوستان میں اور اسی طرح لکھنؤ میں بازاری عورتوں کو یہ رتبہ حاصل ہو گیا کہ مہذب و شائستہ امرا کی محفلوں میں ان کے پہلو بہ پہلو بیٹھیں۔ اور یہاں اس مذاق میں یہاں تک ترقی ہوئی کہ بعض معزز رنڈیوں نے بھی اپنے گھروں میں ایسی ہی نشست و برخاست کی صحبتیں قائم کر دیں، جن میں جاتے بہت سے مہذب لوگوں کو بھی شرم نہیں آتی۔ لکھنؤ میں چودھرائن بی حیدر جان اور اسی پائے کی چند اور رنڈیوں کے مکان اچھے خاصے شرفا کے کلب تھے، جن میں صاحب محفل یعنی ان بی صاحب کی طرف سے حقے پان کی بخوبی خاطر کی جاتی۔ انگریزی مذاق نے اب اتنی اصلاح ضرور کی ہے کہ اگرچہ طرح طرح کی نئی بداخلاقیاں پیدا ہو گئی ہیں، مگر رنڈیوں کے گھروں میں علانیہ بیٹھ کے لطف صحبت اٹھانا ذرا معیوب سمجھا جانے لگا ہے۔
بہرحال لکھنؤ کے کلب خوش باش لوگوں اور امیروں کے گھر تھے۔ یہاں یہ طریقہ نہایت ہی معیوب تھا اور اب تک ہے کہ ساجھے کی ہانڈی پکائی جائے، یا حاضرین محفل چندہ دے کے اور اپنے اپنے داموں کا حقہ پان یا کھانا پانی ایک ساتھ بیٹھ کے کھائیں پئیں۔ یہاں چندے کے ذکر قوم کے لیے مایۂ شرم اور خلاف شرافت تھے۔ اور یہاں کی تمام دعوتیں، عام اس سے کہ خوشی کی تقریب میں ہوں یا محض دوستانہ ہم صحبتی کے لیے، فقط ایک شخص کی طرف سے ہوا کرتیں۔ دوسرا اگر استطاعت رکھتا ہو تو اپنی طرف سے پوری دعوت دے سکتا ہے، یہ نہیں کر سکتا کہ "اپنی دعوت میں مجھ سے کھانے کے پانچ روپے لے کے مجھے بھی شریک کر لیجیے"۔
دہلی کے تاجروں میں پتی پڑنے کا رواج ہے، یعنی بہت سے تاجر مل کے چندہ جمع کرتے ہیں، اور اس رقم سے کوئی دعوت یا رقص و سرود کی صحبت کسی گھر میں یا باہر کی تفرج گاہوں میں کی جاتی ہے۔ مگر ہمیں یقین ہے کہ یہ طریقہ وہاں کی تجارت نے زوال سلطنت کے بعد نکال لیا ہے۔ شرفائے دہلی کا یہ مذاق ہرگز نہ تھا، اس لیے کہ وہاں کے شرفا میں ہوتا تو لکھنؤ میں بھی ہوتا، جو معاشرت میں دہلی کا شاگرد اور اسی کے اگلے کھرے مذاق کا نام لیوا ہے۔
(۶) صاحب سلامت اور مزاج پرسی۔ آداب معاشرت میں چھٹی چیز جو سب باتوں سے زیادہ اہم اور ضروری ہے سلام کرنا اور جس سے ملیں اس کا مزاج پوچھنا ہے۔ اسلام کا قدیم مذہبی اور سیدھا سادہ سلام "السلام علیک"، اور بہت سے لوگ ہوں تو "السلام علیکم" ہے۔ اس کے ساتھ ہی وہ لوگ اس سلام کے بعد ہر ملنے والے سے صبح کو ملیں تو "صبحکم اللہ بالخیر" یعنی اللہ تمھاری صبح خیریت سے گزارے، اور شام کو ملیں تو "مساکم اللہ بالخیر" کہا کرتے تھے۔ یہی سلام اور مزاج پرسی عربوں کی تھی، جسے تعلیم دیتے ہوئے وہ مغرب میں اندلس تک چلے گئے، اور مشرق میں ہندوستان تک چلے آئے۔ یورپ میں یہی طریقۂ صاحب سلامت ان سے اہل فرنگ نے سیکھا، اور مشرق میں ایرانیوں، تورانیوں اور ہندوستانیوں نے سیکھا۔ چنانچہ یورپ میں اصلی سلام جو اسلام کا خصیصہ تھا وہ تو غائب ہو گیا، فقط سلام کے بعد والی دعائیں "صبحکم اللہ بالخیر" اور "مساکم اللہ بالخیر" باقی رہ گئیں۔ انھیں کا ترجمہ "گڈ مارننگ" اور "گڈ ایوننگ" آج تک ہم صاحب سلامت میں انگریزوں کی زبان سے سنتے ہیں۔ فرانسیسی میں "بون متیں"، "بون ژور" اور "بون سوار" یعنی تمھاری صبح، دن اور شام اچھی ہو، کہا جاتا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ان مغربی قوموں کو صاحب سلامت کا یہ سبق اندلس کے عرب فاتحوں سے ملا ہے۔
ہندوستان اور ایران میں چونکہ بزرگوں کی پرستش کا رواج تھا، اور یہ چیز ان مشرقی لوگوں کے رگ و پے میں سمائی ہوئی تھی، اس لیے خالی خولی "السلام علیکم" کے الفاظ جو افراد قوم کی مساوات کو قائم کرتے تھے دولتمندوں کو اپنے تکبر اور اپنی نخوت کے جوش میں بہت پھیکے اور اپنی شان سے کم نظر آئے۔ خصوصاً جب یہاں شاہنشاہی دربار قائم ہوا اور تاجداروں نے اپنی تعظیم و تکریم کرانے میں سارے اسلامی آداب کو مٹا دیا، درباریوں کو اپنے سامنے اسی طرح ہاتھ باندھ کے کھڑے ہونے اور اپنی تعظیم میں جھکنے کا حکم دیا جس طرح کہ بندے خدا کے سامنے ہاتھ باندھ کے کھڑے ہوتے اور رکوع و سجود کرتے ہیں، تو شاہی درباروں کی پیروی میں عام امرا اور دولتمندوں نے بھی بجائے "السلام علیکم" کے دیگر تعظیمی الفاظ سلام کے لیے مقرر کیے، مثلاً "تسلیم"، "کورنش"، "آداب"، "بندگی"۔ اور خود پرست و خدا فراموش امرائے اسلام کی برکت سے فی الحال یہ سب الفاظ ہمارے سلام ہیں۔ عرب میں "السلام علیکم" کہنے کے ساتھ سوا خندہ جبینی کے اور کوئی حرکت نہیں کی جاتی تھی۔ فقط سلام کے بعد ایک ہاتھ سے مصافحہ کیا جاتا، مصافحے میں ہاتھ کو حرکت دی جاتی، اور اسی کے ساتھ "صبحکم اللہ بالخیر" یا "مساکم اللہ بالخیر" کہا جاتا۔ اس عربی طرز صاحب سلامت کی یادگار میں اب یورپ میں سر کی ایک خفیف حرکت کے ساتھ "گڈ مارننگ" وغیرہ کہتے اور ہاتھ کو ملا کے جھٹکا دیتے ہیں۔ بخلاف اس کے ہندوستان میں اب پورا سلام یہ ہے کہ مذکورۂ بالا الفاظ کہنے کے ساتھ ہاتھ کو سر یا پیشانی پر رکھتے، اور رکوع کے درجے تک یا اس سے کسی قدر کم جھکتے ہیں۔ یہ جھکنا اور پیشانی پر ہاتھ رکھنا خالص ہندو اثر اور مشرکانہ جذبات کی یادگار ہے۔ ان دونوں باتوں میں اشارہ ہے کہ ہم آپ کے قدموں پر سر جھکاتے اور آپ کے سامنے زمین بوس ہوتے ہیں۔
اسی قدر نہیں، بادشاہوں اور امیروں کے درباروں میں سلاموں کی تعداد مقرر تھی۔ کہیں سات سلام کیے جاتے اور کہیں تین۔ عام بزرگوں اور دوستوں سے ملنے میں ایک سلام کافی تھا۔ لکھنؤ میں چونکہ آداب و حفظ مراتب کا زیادہ خیال تھا، اس لیے کہ خردوں کا سلام بزرگوں سے اور نیز متوسط درجے والوں کا معزز لوگوں سے یہ ہے کہ الفاظ مذکورہ میں سے کسی ایک کو زبان سے ادا کرنے کے ساتھ داہنے ہاتھ کو سینے یا چہرے کے سامنے تک اٹھا کے کئی بار حرکت دی جائے۔ خردوں کے لیے آج تک یہ نہایت ہی پسندیدہ اور سعادتمندانہ سلام ہے۔ یہ ہاتھ کو کئی بار حرکت دینا متعدد سلاموں کا اشارہ ہے۔ علیٰ ہذا القیاس اکثر لوگ تسلیم اور کورنش کو جمع کے صیغوں میں استعمال کر کے کہتے ہیں "تسلیمات" اور "کورنشات"۔ یہ بھی سلام کے تعدد کی یادگار ہے۔
اب ہم مذکورۂ بالا مروجہ الفاظ سلام کے معنی اور ان کی شان و اصلیت جدا جدا بیان کرتے ہیں۔ تسلیم کے معنی عربی میں "سلام کرنا" ہیں۔ بظاہر "السلام علیکم" کو چھوڑ کے فعل کا صیغہ استعمال کرنا لغو سا معلوم ہوتا ہے، مگر یہاں کی سوسائٹی میں یہ سمجھا گیا کہ بجائے سلام کرنے کے "میں سلام کر رہا ہوں" کہنے میں زیادہ اظہار تعظیم ہوتا ہے۔ کورنش ترکی زبان کا لفظ ہے، جو ترکی فاتحان ہند کے ساتھ یہاں آیا۔ اس کے معنی سلام کے لیے جھکنے کے ہیں، لہٰذا اس میں بھی جھک کے زمین بوس اور قدمبوس ہونے کا خیال موجود ہے۔ آداب فقط ادب کی جمع، سلام کے محل پر اس کے زبان پر لانے کا منشا یہ ہے کہ ادب و تعظیم کے جتنے طریقے ہیں ان سب کو بجا لاتا ہوں۔ بندگی، یہ تمام الفاظ سلام سے زیادہ ذلیل اور مشرکانہ لفظ ہے۔ بندگی کے معنی پوجنے اور عبادت کرنے کے ہیں۔ سلام میں اس کا منشا اس کے سوا اور کوئی نہیں ہو سکتا کہ میں حق عبودیت بجا لاتا ہوں، جو مسلمانوں کے عقائد کی رو سے خدا کے سوا اور کسی کے مقابل نہیں کہا جا سکتا۔
بخلاف ان ہندوستانی سلاموں کے، عرب میں جو الفاظ "السلام علیکم" کہے جاتے ہیں ان کا لغوی ترجمہ یہ ہے کہ "تم پر سلامتی"، یا صاف اردو میں یوں کہ "تم سلامت رہو"، یعنی سلام کرنا دراصل ہر سننے والے کو سلامتی کی دعا ہے۔ اسلام نے اس پر ترقی یہ کی کہ "سلام" خدا کا پیام ہے جو رسول خدا صلعم نے مسلمانوں کو پہنچایا، اور قیامت تک آپ کا یہ پیام ہر مسلمان دوسرے مسلمان کو پہنچاتا رہے گا۔ السلام علیکم میں سلام پر جو الف لام لگا ہوا ہے اس میں صاف اسی جانب اشارہ ہے کہ وہی سلام جو حضرت رسالت کا پیام ہے تم کو پہنچے۔
اسلام کی اصلی سلام کے ان معنوں اور اس کے مقصد کو سمجھ کے ہر شخص اندازہ کر سکتا ہے کہ یہ سلام قومی مساوات کا خیال دلانے اور تمام پیروان رسالت محمدی میں قومیت و اخوت پیدا کرنے کا ذریعہ ہے۔ مگر افسوس مسلمانوں نے اس کو چھوڑ دیا، اور ہمارا فضول تکبر اب ہمیں یہ خیال دلاتا ہے کہ کسی معمولی مسلمان کا ہم سے ملتے وقت السلام علیکم کہنا ہماری توہین کرنا ہے۔ اس پر طرہ یہ ہوا کہ شیعہ سنی کے اختلاف نے چونکہ یہ شان پیدا کر دی ہے کہ دونوں بجائے ایک قوم بننے اور ایک جماعت ثابت ہونے کے ایک دوسرے سے جدا اور ممتاز رہنا چاہتے ہیں، عوام ہی نہیں دونوں فریقوں کے متاخر علما و مصنفین تک نے اپنے اپنے فریق کو دوسرے کے عادات و اطوار سے نفرت کرنے کا سبق دیا ہے۔ اس رجحان کا نتیجہ یہ ہوا کہ عرب و عجم تک میں تو شیعہ و سنی دونوں کا سلام "السلام علیکم" تھا، مگر ہندوستان خصوصاً لکھنؤ کے شیعوں نے "السلام علیکم" کو سنیوں کے سر مار کے اپنے لیے "سلامٌ علیکم" کے الفاظ مخصوص کر لیے ہیں۔ وہ زیارت ائمہ پڑھنے میں تو وہی پرانے الفاظ مثلاً "السلام علیک یا ابا عبد اللہ علیہ السلام" کہتے ہیں، مگر ملنے جلنے والوں سے جب صاحب سلامت کرتے ہیں تو کہتے ہیں "سلامٌ علیکم"، اس لیے کہ "السلام علیکم" سنیوں کا سلام ہے۔
تاہم زیادہ تر یہ اگلا عربی سلام سنی اور شیعہ دونوں میں مذہبی لوگوں کے لیے مخصوص ہو گیا ہے، یا مذہبی شان و وضع میں داخل ہے۔ ورنہ امرا کی سوسائٹی میں "آداب" و "تسلیم" کا عام رواج ہے۔ بندگی بھی اکثر لوگ کہتے ہیں، مگر یہ لفظ عورتوں میں زیادہ مروج ہے۔
لکھنؤ میں پرانا مہذب اور شائستہ لوگوں کا سلام یہ تھا کہ چھوٹا بڑے سے، غریب امیر سے نہایت جھک کے تسلیم یا آداب کہے۔ جواب میں بزرگ خردوں سے کہیں "جیتے رہو"، "بڑے ہو"، "صاحب اقبال ہو"۔ امرا غریبوں کے لیے بغیر جھکے فقط ہاتھ اٹھا دیں، یا ہاتھ اٹھانے کے ساتھ انھیں الفاظ تسلیم و آداب و تسلیم کا اعادہ کر دیں، یا بندگی کہہ دیں۔ مگر برابر والوں کا طریقہ جواب دینے میں یہ تھا کہ راہ چلتے میں صاحب سلامت ہو تو اسی طرح جھک کے تسلیم یا آداب کہیں، اور اگر کسی محفل میں بیٹھے ہوں تو پوری طرح اٹھ کھڑے ہوں اور جھک کے جواب دیں۔
سلام کے بعد ایک دوسرے سے کہے "مزاج شریف" یا "مزاج اقدس" یا "مزاج عالی" یا "مزاج مبارک" یا "مزاج معلیٰ"، اور دوسرا ہاتھ جوڑ کے کہے "دعا کرتا ہوں"۔ تقریباً سارے ہندوستان میں مہذب و شائستہ لوگوں کا طریقۂ سلام و مزاج پرسی یہی ہے۔ مگر لکھنؤ میں اور چند شہروں میں جہاں ہندوستانی ریاست قائم ہے اور کوئی دربار موجود ہے ان طریقوں کے ادا کرنے میں زیادہ اہتمام کیا جاتا ہے، اور اس میں کمی ہونا بدتمیزی خیال کی جاتی ہے۔
مگر اب چند روز سے خصوصاً لکھنؤ میں عوام اہل حرفہ اور ادنیٰ طبقے والوں میں اگلے دربار اور اس کے آداب کے مٹ جانے سے "السلام علیکم" کہنے کا بہت رواج ہو گیا ہے۔ خدا کرتا امرا بھی اس کی پیروی کرتے اور ادنیٰ و اعلیٰ کا امتیاز بالکل اٹھ جاتا۔
这一章在你心里留下了什么?
登录后参与
讨论
还没有人开口。说说这一章触动了你什么。