
Chapter 3 of 56
The Founding and Growth of Lucknow
لکھنؤ کی بنیاد اور ترقی
(۲)
ٹھیک کسی کو نہیں معلوم کہ لکھنؤ کی آبادی کی بنیاد کب پڑی؟ اس کا بانی کون تھا؟ اور وجہ تسمیہ کیا ہے؟ لیکن مختلف خاندانوں کی قومی روایتوں اور قیاسات سے کام لے کے جو کچھ بتایا جا سکتا ہے یہ ہے۔
کہتے ہیں راجہ رامچندر جی لنکا کو فتح کر کے اور اپنے بن باس کا زمانہ پورا کر کے جب سریر جہاں پناہی پر جلوہ افروز ہوئے تو یہ سرزمین انھوں نے جاگیر کے طور پر اپنے ہمسفر و ہمدرد بھائی لچھمن جی کو عطا کر دی۔ چنانچہ انھیں کے قیام یا ورود سے یہاں دریا کنارے ایک اونچے ٹیکرے پر ایک بستی آباد ہو گئی، جس کا نام اس وقت سے "لچھمن پور" قرار پایا، اور وہ ٹیکرا "لچھمن ٹیلا" مشہور ہوا۔ اس ٹیلے میں ایک بہت گہرا غار یا کنواں تھا جس کی کسی کو تھاہ نہ ملتی تھی، اور لوگوں میں مشہور تھا کہ وہ سیس ناگ [1] تک چلا گیا ہے۔ اس خیال نے جذبات عقیدت کو حرکت دی، اور ہندو لوگ خوش اعتقادی سے جا جا کے اس میں پھول پانی ڈالنے لگے۔
یہ بھی کہا جاتا ہے کہ مہاراجہ جودھشٹر کے پوتے راجہ جنمے جے نے یہ علاقہ مرتاض بزرگوں، رشیوں اور منیوں کو جاگیر میں دے دیا تھا، جنھوں نے یہاں چپے چپے پر اپنے آشرم بنائے اور ہر کے دھیان میں مصروف ہو گئے۔ ایک مدت کے بعد ان کو کمزور دیکھ کے دو نئی قومیں ہمالیہ کی ترائی سے آ کے اس ملک پر قابض ہو گئیں، جو باہم ملتی جلتی اور ایک ہی نسل کی دو شاخیں معلوم ہوتی تھیں: ایک "بھر" اور دوسری "پاسی"۔ انھیں لوگوں سے سید سالار مسعود غازی سے سنہ ۴۵۹ محمدی (۱۰۳۰ء) میں مقابلہ ہوا، اور غالباً انھیں پر بختیار خلجی نے سنہ ۶۳۱ محمدی (۱۲۰۲ء) میں چڑھائی کی تھی۔ لہذا اس سرزمین پر جو مسلمان خاندان پہلے پہل آ کے آباد ہوئے وہ انھیں دونوں حملہ آوروں، خصوصاً سید سالار مسعود غازی کے ساتھ آنے والوں میں سے تھے۔
بھر اور پاسیوں کے علاوہ برہمن اور کایستھ بھی یہاں پہلے سے موجود تھے۔ ان سب لوگوں نے مل کے یہاں ایک چھوٹا سا شہر بسا لیا اور امن و امان سے رہنے لگے۔ لیکن یہ نہیں کہا جا سکتا کہ اس بستی کا نام "لچھمن پور" سے بدل کے "لکھنؤ" کب ہو گیا۔ اس آخری مروجہ نام کا پتہ شہنشاہ اکبر سے پہلے نہیں چلتا، لیکن اس سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ ہندو مسلمانوں کی کافی آبادی پہلے سے موجود تھی، جس کا ثبوت اس واقعے سے ہو سکتا ہے جو شیوخ لکھنؤ کی خاندانی روایتوں میں بہت پہلے سے موجود ہے کہ سنہ ۹۶۹ محمدی (۱۵۴۰ء) میں جب ہمایوں بادشاہ کو شیر شاہ کے مقابل جونپور میں شکست ہوئی تو وہ میدان چھوڑ کے سلطان پور، لکھنؤ، پیلی بھیت ہوتا ہوا بھاگا تھا۔ لکھنؤ میں اس نے صرف چار گھنٹے دم لیا تھا، اور گو کہ شکست کھا کے آیا تھا اور کوئی قوت و حکومت نہ رکھتا تھا، مگر لکھنؤ کے لوگوں نے محض انسانی ہمدردی اور مہمان نوازی کے خیال سے ان چند گھنٹوں ہی میں دس ہزار روپیہ اور پچاس گھوڑے اس کی نذر کیے تھے۔ اتنے تھوڑے زمانے میں اس سامان کے فراہم ہو جانے سے قیاس کیا جا سکتا ہے کہ ان دنوں یہاں معتدبہ آبادی موجود تھی، اور ان دنوں کا لکھنؤ آج کل کے اکثر قصبات سے زیادہ بارونق اور خوشحال تھا۔
اسی قدیم زمانے کے آنے والوں میں شاہ مینا کا خاندان بھی ہے، جن کا مزار پرانوار آج تک مرجع انام ہے۔ اور غالباً اسی عہد کے آنے والوں میں شاہ پیر محمد بھی تھے، جنھوں نے خاص لچھمن ٹیلے پر سکونت اختیار کی، اور وہیں پیوند زمین ہوئے۔ ان کے قیام کی وجہ سے وہ پرانا ٹیکرا لچھمن ٹیلے سے "شاہ پیر محمد کا ٹیلا" ہو گیا، اور مرور ایام سے وہ گہرا غار بھی پٹ گیا۔ اس کے بعد کے زمانے میں شہنشاہ اورنگ زیب نے جو بہ نفس نفیس یہاں آیا تھا ایک عمدہ، مضبوط، خوبصورت اور شاندار مسجد بنا کے کھڑی کر دی، جو آج تک عالمگیر کی طرف سے صدائے "اللہ اکبر" بلند کرا رہی ہے۔
سنہ ۱۰۱۹ محمدی (۱۵۹۰ء) میں شہنشاہ اکبر نے جب سارے ہندوستان کو بارہ صوبوں میں تقسیم کیا تو صوبۂ اودھ کے صوبہ دار یا والی کا مستقر بادی النظر میں لکھنؤ ہی قرار پایا تھا۔ ان دنوں اتفاق سے شیخ عبد الرحیم نام ضلع بجنور کے ایک خستہ حال و پریشان روزگار بزرگ بہ تلاش معاش دہلی پہنچے۔ وہاں امرائے دربار میں رسوخ پیدا کر کے بارگاہ شہنشاہی میں باریاب ہوئے۔ آخر منصبداران شاہی میں شامل ہو کے لکھنؤ میں جاگیر پائی، اور چند روز بعد بڑے تزک و احتشام اور کر و فر سے اپنی جاگیر میں آ کے مقیم ہوئے۔ یہاں خاص لچھمن ٹیلے یا شاہ پیر محمد کے ٹیلے پر مقیم ہو کے انھوں نے اپنا پنج محلا بنوایا، شیخن دروازہ تعمیر کرایا، اور لکھنؤ ہی میں پیوند زمین ہوئے۔ ان کا مقبرہ "نادان محل" کے نام سے آج تک مشہور ہے، جس کی عمارت کو ابھی چند روز ہوئے گورنمنٹ آف انڈیا نے پسند کر کے اپنی زیر حمایت لے لیا ہے۔
اسی زمانے میں یہاں شیخ عبد الرحیم نے لچھمن ٹیلے کے پاس ایک دوسری بلندی پر ایک چھوٹا سا قلعہ تعمیر کرایا، جو قرب و جوار کی گڑھیوں سے زیادہ مضبوط تھا، اور گرد و نواح کے لوگوں پر اس کا بڑا اثر پڑتا تھا۔ یا تو اس لیے کہ شیخ عبد الرحیم کو دربار شاہی سے علم ماہی مراتب عطا ہوا تھا، یا اس لیے کہ اس قلعے کے ایک مکان میں چھبیس محرابیں تھیں اور ہر محراب پر معمار نے دو دو مچھلیاں بنا کے باون مچھلیاں بنا دی تھیں، اس قلعے کا نام "مچھی بھون" مشہور ہو گیا۔ "بھون" کا لفظ یا تو قلعہ کے معنوں میں ہے، یا "باون" سے بگڑ کے بن گیا ہے۔ جس معمار نے اس قلعہ کو تعمیر کیا وہ "لکھنا" نام ایک اہیر تھا، اور کہتے ہیں کہ اسی کے نام سے شہر کا نام لکھنؤ ہو گیا۔ اور بعض کا خیال ہے کہ لچھمن پور ہی بگڑ کے لکھنؤ بن گیا ہے۔ ان میں سے جو بات ہو، مگر اس آبادی نے یہ نام شیخ عبد الرحیم کے آنے کے بعد پایا۔
چند روز بعد شیخ عبد الرحیم کے خاندان والوں یعنی شیخزادوں کے علاوہ یہاں پٹھانوں کا ایک گروہ آ گیا، جو جنوب کی طرف بسے اور "رام نگر کے پٹھان" مشہور ہوئے۔ انھوں نے اپنی زمینداری کی حد اس مقام تک قرار دی تھی جہاں اب گول دروازہ واقع ہے، کیونکہ وہاں سے دریا کی طرف بڑھیے تو شیخزادوں کی زمین شروع ہوتی تھی۔ ان پٹھانوں کے بعد شیوخ کا ایک نیا گروہ آ کے مشرق کی طرف بس گیا، جو "شیوخ نہرہ" کہلاتے ہیں۔ ان لوگوں کی زمین وہاں پر تھی جہاں اب ریزیڈنسی کے کھنڈر پڑے ہیں۔
یہ تینوں گروہ اپنے اپنے علاقوں پر متصرف اور اپنے حلقوں کے حاکم تھے، لیکن شیخزادوں کا اثر سب پر غالب تھا اور قرب و جوار پر ان کا دباؤ پڑتا تھا، جس کا قوی سبب یہ تھا کہ یہ لوگ دربار دہلی میں رسوخ رکھتے تھے۔ ان میں سے کئی شخص پورے ملک اودھ کے صوبہ دار مقرر ہو گئے تھے، اور ان کے قلعۂ مچھی بھون کی مضبوطی کی اس قدر شہرت تھی کہ عوام کی زبان پر تھا: "جس کا مچھی بھون اس کا لکھنؤ۔"
اکبر ہی کے زمانے میں لکھنؤ ترقی کرنے لگا تھا، اور اس کی آبادی بڑھتی اور پھیلتی جاتی تھی۔ یہ صحیح ہے کہ صوبہ دار اودھ انھیں شیخزادوں میں سے منتخب ہوئے، لیکن عام معمول یہ تھا کہ اس خدمت پر معززین دہلی مقرر ہوتے، جو سالوں سال اپنے گھر بیٹھے رہتے، فقط تحصیل وصول کے زمانے میں ایک دورہ سا کرتے، اور ان کے نائب یہاں رہا کرتے۔ لہذا ان سے شہر کی ترقی کی کوئی امید نہ کی جا سکتی تھی۔ ہاں یہاں کے دو ایک شیخزادے جو صوبہ دار مقرر ہو گئے تو ان کے تقرر سے البتہ لکھنؤ کو فائدہ پہنچا۔
لیکن معلوم ہوتا ہے کہ اکبر کو لکھنؤ کی طرف خاص توجہ تھی۔ چنانچہ اس نے یہاں کے برہمنوں کو باجپئی چڑھاوے کے لیے ایک لاکھ روپے مرحمت فرمائے تھے، اور اسی وقت سے لکھنؤ کے باجپئی برہمن مشہور ہوئے۔ اسی سے پتہ چلتا ہے کہ لکھنؤ کے قدیم ترین ہندو محلے جو اکبر کے وقت میں موجود تھے، باجپئی ٹولہ، کساری ٹولہ، سوندھی ٹولہ، بنجاری ٹولہ اور اہیری ٹولہ ہیں، اور یہ سب چوک ہی کے اطراف میں ہیں۔
مرزا سلیم نے جو تخت پر بیٹھ کے نور الدین جہانگیر کے لقب سے مشہور ہوئے، باپ کی زندگی اور اپنے ایام ولیعہدی میں مرزا منڈی کی بنیاد ڈالی، جو مچھی بھون سے مغرب طرف واقع ہے۔ اکبر کے آخر عہد میں یہاں کے صوبہ دار جواہر خان تھے۔ وہ تو دہلی میں رہتے، مگر ان کے نائب قاضی محمود بلگرامی نے چوک کے جنوب میں اس سے ملے ہوئے داہنی طرف محمود نگر اور بائیں طرف شاہ گنج آباد کیے، اور ان کے اور چوک کے درمیان میں بادشاہ کے نام سے اکبری دروازہ تعمیر کرایا۔
عہد اکبری میں جبکہ یہ عمارتیں بن رہی تھیں اور یہ محلے آباد ہو رہے تھے، لکھنؤ ایک اچھی تجارت گاہ بن گیا تھا، اور ترقی کے اس درجے کو پہنچا ہوا تھا کہ ایک فرانسیسی تاجر نے جو گھوڑوں کی تجارت کرتا تھا یہاں قیام کر کے نفع حاصل کرنے کی کوشش کی، اور دربار شہنشاہی سے لکھنؤ کے قیام کے لیے سند مستامنی [2] حاصل کر کے یہاں اپنا اصطبل قائم کیا، اور پہلے ہی سال میں اس قدر پھلا پھولا کہ چوک کے متصل چار عالیشان مکان تعمیر کر لیے۔ سال ختم ہونے پر جب اس نے پروانۂ مستامنی کی تجدید چاہی تو اسے زیادہ قیام کی اجازت نہ ملی، اور اس پر بھی اس نے زبردستی ٹھہرنے کا ارادہ کیا تو حسب الحکم شہنشاہی حکام شہر نے اس کے مکانات ضبط کر کے نزول سرکار کر لیے اور اسے یہاں سے نکال دیا۔ وہ چاروں مکان مدت تک سرکار کے قبضے میں رہے، یہاں تک کہ شہنشاہ اورنگ زیب عالمگیر کے عہد میں جب ملا نظام الدین سہالوی نے اپنے قصبے کے فسادوں سے عاجز آ کے لکھنؤ میں سکونت اختیار کرنے کا قصد کیا تو عطیۂ سرکار کے طور پر وہ چاروں مکان انھیں دے دیے گئے، اور انھوں نے اپنے پورے خاندان کے ساتھ آ کے ان مکانوں میں سکونت اختیار کی، جو اپنے گرد و پیش کے بہت سے مکانات کے ساتھ آج تک "فرنگی محل" کہلاتے ہیں۔ ملا صاحب کے قدوم کی برکت سے لکھنؤ علم و فضل کا مرکز اور طلبۂ علوم کا مرجع و ماوی بن گیا، اور اس علمی مرجعیت کو اس قدر ترقی ہوئی کہ ملا نظام الدین کا مرتب کیا ہوا نصاب تعلیم جو "سلسلۂ نظامیہ" کہلاتا ہے مدت دراز سے ہندوستان ہی کا نہیں سارے ایشیا کا نصاب تعلیم ہے، اور علمی کمالات کے ساتھ اس میں ولیانہ برکتیں بھی مضمر تصور کی جاتی ہیں۔ اور اس سے بخوبی اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ اس قدیم زمانے میں کہاں کہاں اور کتنی کتنی دور کے طلبۂ علوم لکھنؤ میں جمع رہتے ہوں گے۔
یورپین سیاح لیکٹ، جو سنہ ۱۰۶۱ محمدی (۱۶۳۱ء) یعنی شاہجہان بادشاہ کی سلطنت کے اوائل میں ہندوستان کی سیر کر رہا تھا، لکھنؤ کی نسبت لکھتا ہے کہ "یہ عظیم الشان منڈی ہے۔" عہد شاہجہانی میں یہاں کے صوبہ دار سلطان علی شاہ قلی خان تھے۔ ان کے دو بیٹے تھے، مرزا فاضل اور مرزا منصور۔ انھیں دونوں کے نام سے انھوں نے محمود نگر سے جنوب کی طرف آگے بڑھ کے دو نئے محلے فاضل نگر اور منصور نگر آباد کیے۔
اس زمانے میں یہاں اشرف علی خان نام ایک رسالدار تھے۔ انھوں نے اسی سلسلے میں اشرف آباد بسایا، اور ان کے بھائی مشرف علی خان نے نالے کے دوسری طرف اپنا گھر بنا کے مشرف آباد نام ایک اور محلہ قائم کیا، جس کا نام مرور ایام سے اب نوبستہ ہو گیا ہے۔ انھیں دنوں پیر خان نام ایک اور فوجی افسر تھے، جنھوں نے ان سب محلوں سے مغرب کی طرف دور جا کے اپنی گڑھی بنائی، جو مقام آج تک "پیر خان کی گڑھی" کہلاتا ہے۔
شہنشاہ اورنگ زیب عالمگیر نے کسی ضرورت سے اجودھیا کا سفر کیا تھا۔ واپسی کے وقت لکھنؤ میں ٹھہرتا ہوا دہلی گیا۔ اس موقع پر اس نے شاہ پیر محمد کے ٹیلے والی مسجد تعمیر کرائی، جو خاص لچھمن ٹیلے پر ہونے کی وجہ سے ایسی بلندی پر واقع ہے جس سے زیادہ مناسب جگہ مسجد کے لیے لکھنؤ میں نہیں ہو سکتی۔ اور غالباً اسی موقع پر اس نے فرنگی محل کے مکانات علامۂ زمان ملا نظام الدین کی نذر کیے ہوں گے۔
محمد شاہ رنگیلے کے زمانے میں لکھنؤ کا صوبہ دار گردھا ناگا نام ایک بہادر ہندو رسالدار تھا۔ اس کا چچا چھبیلے رام دربار دہلی کی طرف سے الہ آباد کی حکومت پر مامور تھا۔ چھبیلے رام کے مرنے پر گردھا ناگا نے سرکشی اختیار کی اور ارادہ کیا کہ چچا کی جگہ زبردستی الہ آباد کا حاکم ہو جائے، مگر پھر خود ہی کچھ سوچ کے اس نے اظہار اطاعت و فرمانبرداری کیا، اور دربار سے اسے اودھ کی صوبہ داری کا خلعت عطا کیا گیا۔ اس نے یہاں کی سکونت اختیار کی، اور اس کی بی بی نے جو رانی کہلاتی تھی رانی کٹرہ آباد کیا۔
مگر یہاں کا حاکم اور صوبہ دار چاہے کوئی ہو، شیخزادوں کا اس قدر زور تھا کہ کسی والی کو، چاہے کیسا ہی زبردست ہو اور کیسی ہی سند حکمرانی لے کے آیا ہو، یہ جرأت نہ ہو سکتی تھی کہ ان کے حلقے میں قدم رکھے۔ مچھی بھون کو اگرچہ قصر امارت کی حیثیت حاصل تھی، لیکن شیخزادوں نے اسے اپنی موروثی جائداد بنا لیا تھا، اور دہلی سے جو والی آتا اس کے پاس پھٹکنے نہ پاتا۔ انھوں نے مچھی بھون کے پاس دو اور عمارتیں تعمیر کر لی تھیں، جن میں سے ایک کا نام "مبارک محلا" تھا اور دوسری کا نام "پنج محلا" تھا۔ پنج محلے کی نسبت کوئی کہتا ہے کہ پنج منزلی عمارت تھی، اور کوئی کہتا ہے کہ ایک دوسرے کے پاس پانچ محل بنے ہوئے تھے۔ اور ان کے جنوب طرف ایک بڑا معرکہ دار پھاٹک تھا جو "شیخن دروازہ" کہلاتا۔ شہر سے جو لوگ شیخزادوں کی مذکورہ عمارتوں میں جانا چاہتے اسی پھاٹک میں سے ہو کے گزرتے۔
اس پھاٹک کی محراب میں بانکے شیخزادوں نے ایک ننگی تلوار لٹکا رکھی تھی، اور حکم تھا کہ جو کوئی یہاں آنا چاہے، کوئی ہو اور کتنا ہی بڑا شخص ہو، پہلے اس تلوار کو جھک کے سلام کرے پھر آگے قدم بڑھائے۔ کس کی مجال تھی کہ اس حکم کی تعمیل میں عذر کرے؟ یہاں تک کہ دہلی سے جو والی اور حاکم مقرر ہو کے آتے تھے اور شیخوں سے ملنے جاتے تو انھیں بھی جبراً و قہراً اس تلوار کے آگے ضرور سر جھکا دینا پڑتا۔
لکھنؤ کی یہ حالت تھی کہ سنہ ۱۱۶۲ محمدی (۱۷۳۲ء) میں نواب سعادت خان برہان الملک دربار دہلی سے اودھ کے صوبہ دار مقرر ہو کے آئے، جن سے ہندوستان کے اس آخری مشرقی دربار کی بنیاد پڑی جس کے عروج کو ہم مشرقی تمدن کا آخری نمونہ قرار دے کے بیان کرنا چاہتے ہیں۔ پہلے نمبر میں ہم نے فیض آباد کی حالت دکھائی، جو اسی تمدن کا نقش اولین اور اسی مشرقی دربار لکھنؤ کا ایک ضمیمہ تھا۔ اس نمبر میں اس دربار کے قائم ہونے سے پیشتر کے لکھنؤ کی تصویر دکھا دی، اور اس بساط کو اپنے ناظرین کے پیش نظر کر دیا جس پر اس دربار نے اپنی شطرنج بچھائی۔ آئندہ چند نمبروں میں ہم اس نیشاپوری خاندان کی تاریخ حکومت بیان کریں گے، اور اس کے بعد دکھائیں گے کہ یہ تمدن کیا اور کیسا تھا۔
حواشی
[1] ہندو دیومالا میں سیس ناگ اس ہزار سر والے سانپ کا نام ہے جو دھرتی (زمین) کو اپنے پھن پر اٹھائے ہوئے ہے، اور قدرت و عظمت الٰہی کا ایک واجب الاحترام مظہر ہے۔
[2] مستامن کے معنی طالب امن ہیں۔ یورپ والوں کو چونکہ مسلمانوں اور ہندوؤں میں اپنے لیے خطرہ نظر آیا کرتا تھا اس لیے جہاں قیام کرنا چاہتے وہاں کے لیے دربار دہلی سے مستامنی کی سند حاصل کر لیا کرتے، تاکہ عمال و حکام اور نیز رعایا انھیں نہ ستائے۔ اس سند سے چونکہ سلطنت پر ذمہ داریاں عائد ہو جاتی تھیں اس سبب سے ایک سال سے زیادہ کی سند کم دی جاتی تھی۔
What did this chapter leave with you?
Sign in to react
Discussion
No one has spoken yet. Say what this chapter stirred in you.