Urdu in Translation
Поиск

Глава 32 из 56

Cream, the Dining Cloth and the Abdar-khana

بالائی، دستر خوان اور آبدار خانہ

Abdul Halim Sharar

Письмо
Размер

(۳۱)

باورچی خانے اور کھانوں کی ایجاد و ترقی کے متعلق ہم کافی درجے تک لکھ چکے ہیں۔ لیکن اتنا اور کہنا چاہتے ہیں کہ یہاں اور عموماً ایشیائی ممالک میں خوش مزگی پیدا کرنے کے ساتھ اس بات کی بھی کوشش اہمیت کے ساتھ کی جاتی تھی کہ لطافت ذوق کے ساتھ غذاؤں میں اعلیٰ درجے کی روح افزا خوشبوئیں پیدا ہوں، رنگ نفیس اور دلکش رہے، صورت نظر فریب اور شوق دلانے والی ہو۔ اگرچہ ہندوستان کے تمام شہروں میں جہاں لوگوں کو اچھا کھانے کا شوق ہے ان تمام امور کی کوشش کی جاتی ہے، مگر اس سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ لکھنؤ سب جگہ سے زیادہ کامیاب رہا ہے۔ کسی جگہ کھانے کا سچا ذوق چند امیروں اور مخصوص لوگوں تک محدود رہا ہے، مگر یہاں قریب قریب ہر شخص میں ایک صحیح ذوق پیدا ہو گیا۔ اچھے باورچی ہی نہیں پیدا ہوئے بلکہ معزز اور شریف گھرانوں کی عورتوں میں رکابداروں سے زیادہ نفاست مزاجی اور ذوق کی خوش سلیقگی پیدا ہو گئی۔ کوئی معزز خاندان نہیں ہے جس کی محترم بیگموں میں سے ہر ایک کھانا پکانے میں اچھا سلیقہ نہ رکھتی ہو، اور اسے کسی اچھی غذا کے تیار کرنے میں دعویٰ نہ ہو۔

دودھ دہی کا ہر جگہ رواج ہے۔ لکھنؤ میں ان دونوں چیزوں کے علاوہ بالائی کی تیاری میں زیادہ توجہ ہوئی، اس لیے کہ دودھ کا لطیف ترین حصہ اس میں آ جاتا ہے۔ انگریزی میں اسی کو "کریم" کہتے ہیں، جس کا رواج یورپ میں کثرت سے ہے۔ مگر وہاں کریم اس کا نام ہے کہ دودھ تھوڑی دیر رکھا رہے، اور جب دہنیت کا سفید اور لطیف حصہ اوپر آ جائے تو کاچھ کے الگ کر لیا جائے۔

یہاں دودھ کا یہ لطیف حصہ ہلکی آگ پر رکھ کے اور جما کے الگ کیا جاتا ہے، اور بڑی نفاست سے اس کی تہ پر تہ جما دی جاتی ہے۔ بالائی کی تہوں کو نفاست اور خوشنمائی سے جمانا ایسا کام ہے جو لکھنؤ کے سوا شاذ و نادر ہی کسی اور شہر کے لوگوں کو آتا ہو گا۔

اس کو پرانی زبان میں ملائی کہتے ہیں۔ آصف الدولہ بہادر نواب اودھ کو یہ اس قدر پسند تھی کہ خاص اہتمام سے ان کے لیے تیار کی جاتی۔ انھوں نے اس کا نام ملائی کے عوض بالائی رکھ دیا، اس لیے کہ یہ دودھ کے اوپر کی چیز ہے۔ اہل لکھنؤ کو اپنے فرمانروا کا یہ تصرف بہت پسند آیا، اور بالائی کا لفظ زبانوں پر اس قدر چڑھ گیا کہ اب لکھنؤ میں سوا دیہاتیوں یا ہندو جہلا کے سب اسے بالائی ہی کہتے ہیں، اور ملائی کا لفظ کسی مہذب شخص کی زبان پر باقی نہیں رہا۔

اس پر مولوی محمد حسین صاحب آزاد مرحوم نے آب حیات میں اعتراض کر دیا، اور انصاف کو ذوق سلیم پر محول فرمایا، جس معیار سے ان کے مذاق میں "ملائی" کا لفظ بالائی سے زیادہ لطیف و فصیح ہے۔ کسی لفظ کو محض اپنے مذاق کے اعتبار سے غیر فصیح کہہ دینا میرے نزدیک ایک بےمعنی سی چیز ہے، اس لیے کہ ہر جماعت کو وہی الفاظ اپنے ذوق میں اچھے معلوم ہوتے ہیں جو ان لوگوں کی زبان پر چڑھے ہوں اور ان کے لہجے اور محاورے سے مانوس ہو گئے ہوں۔ جن شہروں کے لوگ ملائی کہتے ہیں ان کو بےشک بالائی کا لفظ گراں گذرتا ہو گا، اور ان کی زبان سے ناآشنا ہو گا۔ مگر جس شہر میں لوگ بالائی کہتے ہیں اور یہی لفظ ان کے محاورے میں شامل ہو گیا ہے ان کو جو فصاحت بالائی میں نظر آتی ہے ملائی میں ممکن نہیں۔ ان کو ملائی جاہلوں اور گنواروں کا لفظ معلوم ہوتا ہے۔ فصاحت و لطافت زبان کا اندازہ کسی خاص ذوق یا کسی منطق سے نہیں ہوتا، بلکہ جو لوگ اہل زبان مان لیے جاتے ہیں فقط ان کا ذوق اور محاورہ معیار قرار پا جاتا ہے، اور سب کو بغیر کسی منطقی دلیل کے ان کی پیروی کرنا پڑتی ہے۔ اردو کے لیے اب دہلی و لکھنؤ دونوں اہل زبان کے مستند اسکول سمجھے جاتے ہیں، لہذا دونوں مسلم الثبوت معیار سخن ہیں۔ چاہے ایک کا لفظ دوسرے کو غیر مانوس ہی کیوں نہ ہو۔ یہ اور بات ہے کہ لکھنؤ کی زبان کو سچا اور مستند معیار ہی تسلیم کیا جائے، لیکن اس جھگڑے میں ہم پڑنا نہیں چاہتے، اور غالباً یہ جھگڑا طے بھی ہو چکا ہے۔ بہرحال اگر دونوں شہر معیار مانے جائیں تو ملائی اور بالائی بجائے خود دونوں فصیح ہیں: ملائی اہل دہلی کے نزدیک اور بالائی اہل لکھنؤ کے نزدیک۔ کسی کو کسی پر اعتراض کرنے کی کوئی وجہ نہیں ہو سکتی۔

کھانے کے پکانے سے زیادہ یا اسی کے برابر ضرورت کھانوں کے نکالنے میں اچھا سلیقہ دکھانے، اور نکالنے کے بعد اس کے آراستہ کرنے اور سجنے کی ہے۔ یورپ کا موجودہ مذاق یہ ہے کہ میز خوب آراستہ کی جاتی ہے۔ اس پر جابجا گلدستے لگائے جاتے ہیں، اور بعض جگہ تکلف کے لیے کچے چاولوں کو مختلف رنگوں میں رنگ کے ان سے میز پر حروف اور نقش و نگار بنا دیے جاتے ہیں۔ ظروف بھی نہایت صاف ستھرے، قیمتی اور اکثر چاندی کے کام میں لائے جاتے ہیں۔ مگر خاص کھانے کی سجاوٹ کا انگریزی باورچیوں یا خانساماؤں کو چنداں خیال نہیں ہوتا، بجز شادیوں کے کیک کے، جو امرا اور لارڈوں کے عروسی ڈنروں میں عجیب تکلفات سے برجوں یا خوبصورت عمارتوں کی وضع میں بنا کے دعوت ولیمہ کی میز پر لگا دیے جاتے ہیں۔

اس کے خلاف ہندوستان میں دسترخوان کی آراستگی کی طرف تو کم توجہ کی جاتی ہے، مگر خود کھانے اعلیٰ درجے کی نفاست سے نکال کے سجے جاتے ہیں۔ ان پر چاندی سونے کے ورق لگائے جاتے ہیں۔ پستہ اور بادام کی ہوائیوں سے نقش و نگار اور رنگ رنگ کے پھول بنائے جاتے ہیں۔ کھوپرے کے ورق کاٹ کاٹ کے نہایت ہی موزوں ترتیب سے انھیں آراستہ کیے جاتے ہیں۔ اس فن میں رکابداروں کو خاص کمال حاصل ہے، بلکہ ان کا کام یہی ہے کہ جس خوبی سے غذاؤں کو تیار کریں اس سے زیادہ خوشنمائی سے انھیں سجائیں، اور ہر پلیٹ کو ایک گلدستہ بنا دیں۔

لکھنؤ میں یہ تکلفات اہل پیشہ باورچیوں اور رکابداروں سے شروع ہو کے شرفا کے تمام گھروں میں پہنچ گئے، اور خاتونوں اور بیگموں کو اس میں ایسا اچھا سلیقہ ہو گیا کہ جو خوبی پلیٹوں اور قابوں کے سجنے میں اکثر وہ دکھاتی ہیں خود رکابداروں سے بھی ممکن نہیں، اگرچہ یہ خاص انھیں کا ہنر ہے۔ یورپ کے محققین نے طے کر دیا ہے کہ عورتیں فنون لطیفہ سے خاص مناسبت رکھتی ہیں، خصوصاً کسی چیز کے سجنے اور آراستہ کرنے میں ان کو بالطبع مردوں پر فوقیت حاصل ہوتی ہے۔ اس کا ثبوت ہندوستان میں لکھنؤ کی ان عورتوں کی طبیعت داری سے مل سکتا ہے جو کھانوں کے سجنے میں کمال دکھا دیا کرتی ہیں۔

ہندوستان کے عروسی کیک جن کا ابھی ذکر ہو چکا ہے چوگھڑے ہیں، جو عموماً رسم کے طریق سے شادیوں میں دولہا دلہنوں کے سامنے لگائے جاتے ہیں۔ ان کو اکثر گھروں کی خاتونیں ایسی نفاست مزاجی اور ذہانت و طباعی سے آراستہ کرتی ہیں کہ جی چاہتا ہے بیٹھے انھیں دیکھا کیجیے۔

کھانے کے ساتھ ہی آبدار خانے کی ترقیوں کو بھی بیان کر دینا لطف سے خالی نہ ہو گا۔ آبدار خانہ بادشاہوں اور امیروں کے پانی کے انتظام کا نام ہے۔ اگلے دنوں برف نہ تھی، اور بعض موسموں میں ٹھنڈا پانی ملنا نہایت ہی دشوار ہوتا تھا، اس لیے ان دنوں خاص قسم کے انتظام کیے جاتے تھے۔ پانی کورے گھڑوں میں بھر کے رکھا جاتا۔ نازک اور نفیس آبخورے پینے کے لیے موجود رہتے۔ گھڑوں اور آبخوروں پر سرخ کپڑا چڑھا دیا جاتا اور وہ تر رکھا جاتا، اس لیے کہ ہوا لگنے سے بھیگا کپڑا خوب ٹھنڈا ہو جاتا، یہاں تک کہ گرم ہوا اور لو بھی جتنی زیادہ گرم ہوتی اتنا ہی زیادہ کپڑے کو ٹھنڈا کر دیتی، اور کپڑے کی ٹھنڈک اندر کے پانی کو ٹھنڈا کرتی۔ اکثر جھجریاں اور صراحیاں بلکہ گھڑے بھی منہ پر کپڑا باندھ کے کسی درخت کی ٹہنیوں میں الٹے لٹکا دیے جاتے۔ ہوا کا اندر نفوذ نہ ہونے کی وجہ سے پانی نہ گرتا، اور خوب ٹھنڈا ہو جاتا۔ برسات میں جب یہ تدبیر بھی کامیاب نہ ہوتی تو اکثر گھڑے بھر کے کنوؤں کے اندر لٹکا دیے جاتے، جہاں ان میں خوب خنکی پیدا ہو جاتی۔

اس کے علاوہ سب سے بڑا انتظام یہ تھا کہ جست کی نازک صراحیاں موجود رہتیں، اور وہ ناندوں میں شورا اور پانی ڈال کے اس میں پھرائی جاتیں۔ اس تدبیر سے تھوڑی ہی دیر میں پانی میں برف کی سی خنکی پیدا ہو جاتی، اور اس کی ٹھنڈک نہایت ہی لطیف و خوشگوار ہوتی۔ اس تدبیر کو صراحیوں کا جھلنا کہتے تھے۔

بعد کے زمانے میں برف کے فراہم کرنے کی بھی ایک معقول اور دیرپا تدبیر نکال لی گئی تھی۔ چلوں کے جاڑوں میں جب سردی خوب شدت پر ہوتی کھیتوں اور کھلے میدانوں میں رات کو گلی رکابیوں اور پیالوں میں گرم گرم پانی بھر کے رکھ دیا جاتا، جو صبح کو جما ہوا ملتا۔ اس برف کو اسی وقت فوراً زمین کے اندر گہرے کھتوں میں جو پہلے سے کھدے تیار رہتے دفن کر دیتے، اور ان میں وہ برف جب تک دبی رہتی اپنی حالت پر قائم رہتی۔ بہرحال اس طریقے سے اتنی برف بنا کے کھتوں میں بھر دی جاتی کہ سال بھر کے لیے کافی ہوتی، اور اسی میں سے ہر روز نکال لی جاتی۔ مگر یہ برف اس قدر صاف نہ ہوتی کہ پانی میں ملائی جا سکے، بلکہ شورے کی طرح اس میں نمک اور شورا ملا کے صراحیاں جھلی جاتیں، یا برف کی قلفیاں جمائی جاتیں۔

مگر یہ انتظام خاص بادشاہوں یا ان کے ہمرتبہ امیروں تک محدود رہتا۔ غریب لوگ اس سے فائدہ نہ اٹھا سکتے۔ غربا اور متوسط درجے کے لوگ انھیں اول الذکر تدبیروں سے کام لے کے پانی ٹھنڈا کرتے، اور یہ اہتمام اس قدر عام ہو گیا تھا کہ تھوڑا بہت ہر گھر میں رہتا۔

بہر تقدیر لکھنؤ میں پانی کے لیے یہ اہتمام ان دنوں ہوا کرتا، اور نفاست مزاجی نے یہ تکلفات پیدا کر دیے تھے کہ مٹی اور جست کی صراحیوں اور ایسے ہی آبخوروں پر اکثر سرخ شالباف (ڈول) کا کپڑا چڑھا ہوتا، اور ڈول پر روپہلا گوٹا خوبصورتی سے لپیٹ کے ان میں ایسا لطف پیدا کر دیا جاتا کہ پینا درکنار ان کے ظروف دیکھ کے آنکھوں میں خنکی پیدا ہو جاتی۔

مجھے یہ نہیں معلوم کہ آبدار خانے کا یہ انتظام جو میں نے بیان کیا ہے پورا پورا دہلی میں تھا بھی یا نہیں۔ غالباً وہاں ضرور ہو گا، اور وہیں سے یہ سب چیزیں لکھنؤ میں آئی ہوں گی۔ مگر میں نے اس اہتمام اور سامان کو جس تکمیل کے ساتھ اور جس تعمیم سے لکھنؤ کے لوگوں میں دیکھا تھا دہلی میں نہیں دیکھا۔ ممکن ہے کہ وہاں بھی ایسا ہی ہو، لیکن اس میں شک نہیں کیا جا سکتا کہ لکھنؤ میں آ کے مٹی کے ظروف آب کی لطافت و نفاست اور نزاکت بہت بڑھ گئی، اس لیے کہ یہاں کی مٹی کی عمدگی کی وجہ سے جیسے نازک و خوشنما اور خوش قطع ظروف گلی لکھنؤ میں بن سکتے ہیں اور کہیں نہیں بن سکتے۔ دہلی والوں کے پاس جست کی صراحیاں ایسی ہی ہوں گی، مگر ایسی مٹی کی صراحیاں وہاں کسی کو نصیب نہیں ہو سکیں۔ ان ظروف گلی کا حال ہم آیندہ مناسب موقع پر بیان کریں گے۔

بادشاہوں کے ساتھ جہاں وہ جائیں باورچی خانہ اور آبدار خانہ بھی جایا کرتا تھا۔ لیکن یہاں آبدار خانے کا اہتمام دوسرے امرا کے وہاں بھی اس قدر بڑھ گیا تھا کہ بہت سے امرا تھے جو اپنا آبدار خانہ اپنے ساتھ رکھتے۔ چنانچہ مرزا حیدر صاحب کا آبدار خانہ اور حقے خانہ اس فیاضی کے اصول پر قائم تھا کہ وہ جس شادی کی محفل میں جاتے ساری محفل کو پانی اور حقہ پلانے کا انتظام انھیں کے سپرد ہو جاتا، اور ان کی شرکت محفل بہت سے لوگوں کے لیے ایک نعمت غیر مترقبہ اور رحمت الٰہی بن جاتی۔

Что оставила в вас эта глава?

Войдите, чтобы отреагировать

Обсуждение

Пока никто не высказался. Расскажите, что всколыхнула в вас эта глава.

Понравилась глава? Поделитесь строкой из неё.