Urdu in Translation
Поиск

Глава 31 из 56

The Tora, the Trays and Sweetmeats

توڑا، خوان اور مٹھائیاں

Abdul Halim Sharar

Письмо
Размер

(۳۰)

مذکورہ تمام تکلفات سے دعوتوں اور حصوں کے لیے جو کھانے علی العموم منتخب کر دیے تھے ان کے مجموعے کا نام تورا تھا، جس میں لازمی طور پر حسب ذیل غذائیں ہوتیں: (۱) پلاؤ، (۲) مزعفر، (۳) متنجن، (۴) شیرمال، (۵) سفیدہ (میٹھے چاول جن میں زعفران کا رنگ نہ دیا گیا ہو)، (۶) بورانی کے پیالے، (۷) شیر برنج کے خوانچے، (۸) قورمہ، (۹) تلی ہوئی اروِیاں گوشت میں، (۱۰) شامی کباب، (۱۱) مربہ، (۱۲) اچار یا چٹنی۔ اکثر جگہ تورے میں ان میں سے بعض چیزیں کم و بیش بھی کر دی جاتیں، مگر لکھنؤ میں علی العموم یہی کھانے مقبول تھے، اور دعوتوں اور حصوں میں ان کے سوا اور کوئی چیز کم ہوتی تھی۔ دعوتوں میں یہ چیزیں دسترخوان پر ہر شخص کے سامنے جدا جدا پلیٹوں میں چنی جاتیں، اور کہیں بھیجنا ہوتا تو یہی تورہ لکڑی کے خوانوں میں رکھ کے اہتمام سے بھیجا جاتا۔

انگریزوں میں رواج ہے کہ میز پھولوں، گلدستوں اور طرح طرح کی زینتوں سے آراستہ کی جاتی ہے۔ اس کا اس قدر نمونہ یہاں بھی تھا کہ امیروں، نوابوں اور شاہزادوں میں جو تورے تقسیم ہوتے ان میں کھانوں کے درمیان میں کاغذ کے پھولوں کا ایک گلدستہ بھی رکھ دیا جاتا، جس کو عوام اور اوسط درجے کے لوگوں نے فضول سمجھ کے ترک کر دیا۔

جن معزز سرکاروں اور اعلیٰ درجے کی ڈیوڑھیوں میں کھانا جاتا ان کے رتبے اور درجے کے مطابق تورے میں الوان نعمت کا شمار بھی بڑھ جاتا۔ بادشاہ کے محل میں خاص جہاں پناہ کے لیے ایک سو ایک خوانوں کا تورہ جاتا، جس کی لاگت کا اندازہ پانچ سو روپیہ کا تھا۔ فرمانروایان اودھ میں واجد علی شاہ کے والد امجد علی شاہ بڑے ثقہ، متقی اور پرہیزگار فرمانروا تھے۔ شاہی سے بچتے اور امر شریعت کی پوری پابندی کرتے، اور کوئی کام بغیر جناب قبلہ و کعبہ کی اجازت کے نہ کرتے۔ انھوں نے جوش اتقا میں ملک کا روپیہ اپنی ذات پر صرف کرنا حرام تصور کیا، اور اپنے تمام اعزا سے خواہش کی کہ ہمیں دعوت میں بجائے کھانے کے تم لوگ نقد روپیہ بھیجا کرو۔ نتیجہ یہ ہوا کہ لوگ پانچ سو روپیہ بھیجا کرتے، مگر اس کے ساتھ خوشنودی مزاج کے لیے ایک تورا بھی ضرور بھیجا جاتا، جس کے لیے اس کی پابندی نہ تھی کہ ایک سو ایک خوان ہوں۔

خوانوں کی شان عام سوسائٹیوں میں یہ تھی کہ لکڑی کے خوان، ان پر رنگین تیلیوں کا گنبد نما جھابا، اس پر ایک سفید کپڑے کا کسنا جو چوٹی کے اوپر باندھ دیا جاتا۔ اور شاہی باورچی خانے اور معزز امرا میں دستور تھا کہ اس پر لاکھ لگا کے مہر بھی کر دی جاتی، تاکہ درمیان میں کسی کو تصرف کا موقع نہ ملے۔ پھر اس کسنے کے اوپر نہایت پرتکلف رنگین اور اکثر ریشمی خوان پوش ہوتا۔ یہ خوان پوش بڑی سرکاروں میں لازمی طور پر اطلس اور کمخواب یا زربفت کے ہوتے، اور کبھی فقط لچکا ٹانک دیا جاتا یا کارچوب کا کام ہوتا۔

ممکن ہے کہ یہ طریقہ دربار مغلیہ میں بھی جاری ہو اور وہیں سے لکھنؤ میں آیا ہو، مگر ہم نے ان تکلفات کو جس اعلیٰ پیمانے پر لکھنؤ میں دیکھا دہلی میں نہیں دیکھا۔ یہاں کھانے پینے کے ادنیٰ ادنیٰ معاملے میں یہ تکلفات لازمی اور طبیعت ثانیہ ہو گئے ہیں۔ کسی معمولی شخص کے لیے بھی فقط پانی مانگا جائے تو خدمتگار نہایت نفاست کے ساتھ گلاس کو تھالی میں رکھ کے اور اس پر جھجھرا ڈھانک کے لائے گا اور ادب سے پیش کرے گا۔

اس شوق، اس نفاست اور ان تکلفات نے سو ہی برس کے اندر لکھنؤ میں ایسے باکمال باورچی پیدا کر دیے جن کی ہندوستان کے ہر شہر اور ہر دربار میں شہرت اور قدر تھی، اور میں نے ہندوستان کے تمام مسلمان درباروں اور ریاستوں میں جہاں گیا لکھنؤ ہی کے باورچیوں کو پایا، جن کو خاص امرا اور والیان ملک کے مزاج میں دخل تھا اور ان کی بڑی قدر ہوتی تھی۔ اس سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ اب حیدرآباد دکن، بھوپال اور رامپور میں بڑے بڑے صاحب کمال باورچی موجود ہیں۔ لیکن اگر آپ ان کی اصلیت کا پتہ لگائیں، ان کے خاندان کا پتہ لگائیں اور ان کی ترقی کی تاریخ پر غور کریں تو یہی ثابت ہو گا کہ باورچی یا تو وہ لکھنؤ کے ہیں، یا لکھنؤ سے آئے ہوئے باورچیوں کی نسل سے ہیں، یا کسی لکھنؤ ہی باورچی کے شاگرد ہیں۔

ہم باورچی خانے کا حصہ ختم کر چکے، مگر ابھی مٹھائیوں کا ذکر باقی ہے۔ مٹھائیوں کا بنانا ہندو حلوائیوں کا کام ہے، اور انھیں کی مٹھائیوں سے عام پبلک آشنا ہوئی ہے۔ لیکن مٹھائیاں تیار کرنے میں مسلمان رکابداروں کا درجہ بڑھا ہوا ہے۔ رکابدار عوام کی ضرورتوں کو نہیں پورا کر سکتے، اس لیے کہ یہ ہندو حلوائیوں کا حصہ ہے۔ رکابدار خاص امیروں اور شوقین اور نفاست پسند امیروں کے لیے مٹھائیاں تیار کرتے ہیں جو بےنظیر اور بہت ہی لذیذ ہوتی ہیں۔

حلوائی لکھنؤ میں دو طرح کے ہیں: مسلمان حلوائی اور ہندو حلوائی۔ مسلمان حلوائیوں کی شان یہ ہے کہ اگر عام قسم کی مٹھائی لی جائے تو ان کی دکان کی چیز ہندو حلوائیوں کی دکانوں سے اچھی نہیں ہوتی، لیکن اگر فرمائش کر کے ان سے خاص قسم کی تکلفی مٹھائی بنوائیے تو ہندو حلوائیوں کی مٹھائی سے بہت زیادہ اچھی اور بہت ہی نفیس و لذیذ ہوتی ہے۔ لیکن علی العموم لکھنؤ میں جلیبیاں، امرتیاں اور بالوشاہی بہت اچھی بنتی ہیں۔

مٹھائیوں میں یہ امتیاز کرنا دشوار ہے کہ کون اصلی ہندوؤں کی ہے اور کون مسلمانوں کے ساتھ ہندوستان میں آئی۔ لیکن ناموں اور مذاق پر قیاس کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ حلوا خالص عربی چیز ہے، جو عرب سے ایران ہوتا ہوا ہندوستان میں آیا اور اپنا نام بھی ساتھ لیتا آیا۔ لیکن بظاہر یہ عام فیصلہ نہیں ہو سکتا۔ اس میں تفریق ہے۔ تر حلوہ جو عموماً حلوائیوں کے وہاں ملتا ہے اور پوریوں کے ساتھ کھایا جاتا ہے وہ خالص ہندو چیز ہے، جسے وہ موہن بھوگ بھی کہتے ہیں۔ مگر حلوا سوہن کی چار قسمیں پپڑی، جوزی، حبشی اور دودھیا یہ خالص مسلمانوں کی معلوم ہوتی ہیں، جیسے عربی مذاق کے حلوے جو جنوبی ہند خصوصاً مدراس میں مروج ہیں، ان کا پتہ نہیں۔ وہ واقعی خالص عربی حلوے ہیں جو براہ راست عرب سے ہندوستان میں آ گئے۔

مگر ہندو حلوائیوں کی اکثر مٹھائیاں بھی مسلمانوں ہی کے زمانے کی ایجاد معلوم ہوتی ہیں۔ مثلاً برفی کا نام بتا رہا ہے کہ اسے فارسی و عجمی مذاق نے ایجاد کیا۔ بالوشاہی، خرمے، نکتیاں، گلاب جامن، دربہشت وغیرہ بھی عہد اسلام کی ایجادیں ہیں۔ جلیبی کو عربی میں زلابیہ کہتے ہیں، اور صاف معلوم ہوتا ہے کہ زلابیہ ہی سے بگڑ کے جلیبی کا لفظ بنا ہے، اس لیے یہ بھی انھیں عربی و فارسی مٹھائیوں میں شامل کرنے کے قابل ہے۔ پیڑا خالص ہندی مٹھائی ہے، اور امرتیاں بھی ہندی ہیں، مگر مجھے بتایا گیا ہے کہ امرتی خاص لکھنؤ میں ایجاد ہوئی۔ فی الحال ان مٹھائیوں کے اعتبار سے لکھنؤ کی کوئی خصوصیت نہیں۔ جو درجہ بلاد ہند کے تمام ممتاز شہروں کو حاصل ہے وہی لکھنؤ کو بھی حاصل ہے، بلکہ یہ عجیب تماشا نظر آتا ہے کہ لکھنؤ میں تو آگرے اور پنجاب کے حلوائی زیادہ مشہور ہیں، اور دوسرے شہروں میں مجھے یہ نظر آیا کہ لکھنؤ اور اطراف لکھنؤ کے حلوائیوں کو زیادہ نمود حاصل ہے۔ دراصل اس کو کسی دکان کے چل جانے سے تعلق ہے، اس لیے کہ جس حلوائی کی دکان جس قدر زیادہ چل جاتی ہے اسی قدر اسے مٹھائیوں میں ترقی کرنے کا موقع مل جاتا ہے۔

حلوائیوں کی نسبت اصلی فیصلہ یہ ہے کہ ہندو حلوائیوں کا درجہ بہت بڑھا ہوا ہے۔ مٹھائیوں کے سچے قدردان ہندو ہیں، مسلمان نہیں۔ مسلمانوں کو شاید گوشت خوری کی وجہ سے علی العموم نمکین کھانوں کا زیادہ شوق ہے۔ بخلاف ان کے ہندو مٹھائیوں کے زیادہ شوقین ہیں۔ وہ فقط مٹھائیوں سے پیٹ بھر لیتے ہیں جو مسلمانوں سے غیر ممکن ہے۔ اور ہندوؤں کی رغبت کی وجہ سے متھرا، بنارس اور اجودھیا جو ہندوؤں کے مذہبی مرکز ہیں مٹھائیوں کے اقسام اور مزے کے اعتبار سے دوسرے شہروں پر فوقیت رکھتے ہیں۔

مگر حلوا سوہن کے بنانے میں مسلمان رکابداروں کے علاوہ اور بہت سے لوگوں نے بھی شہرت حاصل کی۔ آخر زمانے میں یہاں کے مشہور خوشنویس منشی ہادی علی صاحب نے پپڑی حلوا سوہن میں خاص ناموری حاصل کی۔ وہ سیر بھر سمنک میں پچیس تیس سیر گھی کھپا دیتے، اور اس کی ٹکیوں پر عجیب عجیب قسم کے خوبصورت طغرے بناتے، جن سے حلوا سوہن بنانے کے ساتھ خوشنویسی اور نقاشی کے کمالات بھی ظاہر ہوتے۔ اس کے بعد میں نے مٹیا برج (کلکتہ) میں منشی السلطان بہادر کو جو لکھنؤ کے ایک رئیس زادے تھے اپنی آنکھوں سے بارہا دیکھا کہ چھٹانک بھر سمنک میں دو ڈھائی سیر گھی کھپا دیتے، جو فی سیر چالیس سیر کے قریب پڑا۔ ان کا پپڑی حلوا سوہن بجائے زرد کے دھوئے کپڑے کے مانند اجلا اور سفید ہوتا۔

Что оставила в вас эта глава?

Войдите, чтобы отреагировать

Обсуждение

Пока никто не высказался. Расскажите, что всколыхнула в вас эта глава.

Понравилась глава? Поделитесь строкой из неё.