
Глава 30 из 56
Famous Cooks and Dishes
مشہور رکابدار اور کھانے
(۲۹)
نواب ابو القاسم خان ایک شوقین رئیس تھے۔ ان کے وہاں بہت بھاری پلاؤ پکتا۔ ۴۲ سیر گوشت کی یخنی تیار کر کے مقطر کر لی جاتی، اور اس میں چاول دم کیے جاتے، اور پھر اس لطف کے ساتھ کہ لقمہ منہ میں رکھتے ہی معلوم ہوتا کہ سب چاول خود ہی گھل کے حلق سے اتر گئے۔ پھر اس کے ساتھ اس درجہ لطافت کہ مجال کیا جو ذرا بھی محسوس ہو سکے کہ اس میں کسی قسم کی گرانی ہے۔ اتنی ہی یا اس سے زیادہ قوت کا پلاؤ واجد علی شاہ کی خاص محل صاحبہ کے لیے روز تیار ہوا کرتا تھا۔
ممدوح بالا معزول شاہ اودھ کے ہمراہ مٹیا برج میں ایک رئیس تھے جن کا منشی السلطان بہادر خطاب تھا۔ بڑے وضعدار اور نفیس مزاج شوقینوں میں تھے۔ کھانے کا بےحد شوق تھا، اور اگرچہ کئی صاحب کمال باورچی موجود تھے مگر انھیں جب تک دو ایک چیزیں خود اپنے ہاتھ سے نہ پکا لیتے کھانے میں مزہ نہ آتا۔ آخر ان کے اچھے کھانے کی یہاں تک شہرت ہوئی کہ واجد علی شاہ کہا کرتے: "اچھا تو منشی السلطان کھاتے ہیں، میں کیا اچھا کھاؤں گا!" بچپن میں چھ سات برس تک مٹیا برج میں میں انھیں کے ساتھ رہا، اور انھیں کے ساتھ دسترخوان پر شریک ہوتا رہا۔ میں نے ان کے دسترخوان پر تیس چالیس قسم کے پلاؤ اور بیسیوں قسم کے سالن کھائے، جن میں سے بعض ایسے تھے کہ پھر کبھی کھانا نصیب نہ ہوئے۔ انھیں حلوا سوہن کا بھی بڑا شوق تھا جس کا ذکر اپنے محل پر آئے گا۔
آخر زمانے میں اور غدر کے بعد لکھنؤ میں حکیم بندہ مہدی مرحوم کو کھانے اور پہننے کا بےحد شوق تھا، اور بڑے بڑے دولتمند اور شوقین لوگوں کو یقین ہے کہ جیسا کھانا انھوں نے کھایا اور جیسا کپڑا انھوں نے پہنا اس زمانے میں بہت کم کسی کو نصیب ہو سکا۔ ہمارے ایک معمر و معزز دوست فرماتے ہیں کہ "ہمارے خاندان سے حکیم صاحب موصوف سے بہت ربط و ضبط تھا۔ ایک دن حکیم صاحب نے ہمارے والد اور چچا کو بلا بھیجا کہ ایک پہلوان کی دعوت ہے، آپ بھی آ کے لطف دیکھیے۔ والد تشریف لے گئے، اور میں بھی ان کے ساتھ گیا۔ وہاں جا کے معلوم ہوا کہ وہ پہلوان روز صبح کو بیس سیر دودھ پیتا ہے۔ اس پر ڈھائی تین سیر میوہ یعنی بادام اور پستے کھاتا ہے، اور دوپہر اور شام کو ڈھائی سیر آٹے کی روٹیاں اور ایک متوسط درجے کا بکرا کھا جاتا ہے۔ اور اسی غذا کے مناسب اس میں طاقت و توش بھی تھا۔ وہ ناشتے کے لیے بیتاب تھا، اور بار بار تقاضا کر رہا تھا کہ کھانا جلدی منگوائیے، مگر حکیم صاحب جان بوجھ کے ٹال رہے تھے، یہاں تک کہ بھوک کی شدت نے اسے بیتاب کر دیا، اور اب وہ ناراض ہو کے اٹھنے لگا۔ تب حکیم صاحب کھانا بھیجنے کا وعدہ کر کے اندر چلے گئے۔ تھوڑی دیر اور ٹالا، اور جب دیکھا کہ اب وہ بھوک کو بالکل برداشت نہیں کر سکتا تو مہری کے ہاتھ ایک خوان بھیجا، جس کی صورت دیکھتے ہی پہلوان صاحب کی جان میں جان آئی۔ مگر جب اسے کھولا تو ایک چھوٹی طشتری میں تھوڑا سا پلاؤ تھا، جس کی مقدار چھٹانک بھر سے زیادہ نہ ہو گی۔ پرخور مہمان کو یہ چاول دیکھ کے بڑا طیش آیا جو اس کے ایک لقمے کے لیے بھی کافی نہ تھے۔ قصد کیا کہ اٹھ کے چلا جائے، مگر لوگوں نے سمجھا بجھا کے روکا، اور اس نے مجبوراً وہ طشتری اٹھا کے منہ میں انڈیل لی، اور بغیر منہ چلائے نگل گیا۔ پانچ منٹ کے بعد اس نے پانی مانگا، اور اس کے پانچ منٹ بعد پھر پانی پیا اور ڈکار لی۔ اب اندر سے کھانے کے خوان آئے۔ دسترخوان بچھا۔ خود حکیم صاحب بھی آئے۔ کھانا چنا گیا، اور وہی پلاؤ جس میں سے ایک لقمہ پہلے بھیجا گیا تھا اس کی پلیٹ جس میں کوئی ڈیڑھ پاؤ چاول ہوں گے حکیم صاحب کے سامنے لگائی گئی۔ حکیم صاحب نے اس پلیٹ کو اس پہلوان کے سامنے پیش کیا اور کہا: "دیکھیے، یہ وہی پلاؤ ہے یا کوئی اور؟" اس نے قبول کیا کہ وہی ہے۔ حکیم صاحب نے کہا: "تو اب کھائیے۔ مجھے افسوس ہے کہ اس کی تیاری میں دیر ہوئی اور آپ کو تکلیف اٹھانا پڑی۔" پہلوان نے کہا: "مگر اب مجھے معاف فرمائیے۔ میں اسی پہلے لقمے سے سیر ہو گیا، اور اب ایک چاول بھی نہیں کھا سکتا۔" ہزار اصرار کیا گیا مگر اس نے قطعاً ہاتھ روک لیا، اور کہا: "کھاؤں کیونکر؟ جب پیٹ میں جگہ بھی ہو۔" حکیم صاحب نے وہ چاول لے کے سب کھا لیے، اور اس سے کہا: "بیس بیس سیر اور تیس تیس سیر کھا جانا انسان کی غذا نہیں، یہ تو گائے بھینس کی غذا ہوئی۔ انسان کی غذا یہ ہے کہ چند لقمے کھائے، مگر ان سے قوت و توانائی وہ آئے جو بیس تیس سیر غلہ کھا لینے میں بھی نہ آ سکے۔ آپ اس ایک لقمے میں سیر ہو گئے ہیں۔ کل پھر آپ کی دعوت ہے۔ کل آ کے بتائیے گا کہ اس ایک لقمے سے آپ کو ویسی ہی قوت و توانائی محسوس ہوئی جیسی کہ ۲۰ سیر دودھ اور سیروں میوے اور گوشت اور غلے سے حاصل ہوتی تھی یا اس سے کم؟" اور ہم سب کو بھی حکیم صاحب نے دوسرے دن مدعو کر دیا۔ دوسرے دن اس پہلوان نے آ کے بیان کیا کہ "مجھے زندگی بھر ایسی توانائی اور چونچالی نہیں نصیب ہوئی تھی جیسی کہ کل سے آج تک رہی۔"
شاہی خاندان کے لوگوں میں سے آخر عہد میں نواب محسن الدولہ اور نواب ممتاز الدولہ دسترخوان اور باورچی خانے کے شوق اور کمال میں بےنظیر مانے جاتے۔ اور انھیں کا باورچی تھا جو حکیم بندہ مہدی صاحب کے لیے یہ پلاؤ تیار کیا کرتا تھا۔ انھیں دنوں ملکہ زمانیہ کی ایک بڑی سرکار قائم تھی، اور ان کا باورچی خانہ مشہور تھا، جس میں روزانہ تین سو روپے کی پخت ہوتی۔ اسی عہد میں شاہزادہ یحییٰ علی خان کی سرکار میں عالم علی نام ایک باورچی نوکر تھا۔ وہ مسلم مچھلی ایسی بےمثل پکاتا تھا کہ تمام رئیسوں میں مشہور تھی، اور دوسری سرکاروں کے باورچیوں نے ہزار کوشش کی مگر وہ بات نہ پیدا کر سکے۔
نصیر الدین حیدر کے زمانے میں محمو نام ایک ولایتی شخص نے آ کے فرنگی محل میں باورچی کی دکان کھولی، اور اس کی نہاری کی ایسی شہرت ہوئی کہ بڑے بڑے رئیس اور شاہزادے تک اس کی نہاری کی قدر کرتے۔ قدردانی نے اس کا حوصلہ بڑھایا، اور اس نے شیرمال ایجاد کی جو آج تک لکھنؤ کا سرمایۂ ناز ہے۔ روٹیوں کی بہت سی قسمیں مشہور اور مختلف شہروں میں مروج ہیں۔ ایران سے مسلمان خمیری روٹیاں کھاتے اور ہندوستان کی سرزمین میں تنور گاڑتے ہوئے آئے تھے، مگر اس وقت تک سادی روٹیاں تھیں جن میں گھی کا لگاؤ نہ ہوتا۔ ہندوؤں کو پوریاں تلتے دیکھ کے مسلمانوں نے توے کی روٹیوں میں گھی کا جزو دے کے پراٹھے ایجاد کیے، اور پھر ان میں متعدد پرتیں اور تہیں دینا شروع کیں۔ پھر اسی پراٹھے میں پہلی ترقی یہ ہوئی کہ باقرخانی کا رواج ہوا، جو ابتداءً امرا کے دسترخوان کی بہت تکلفی روٹی تھی۔ لکھنؤ میں محمو نے باقرخانی پر بہت ترقی دے کے شیرمال پکائی، جو مزے، بو باس، نفاست اور لطافت میں باقرخانی اور تکلفی روٹیوں کے تمام اصناف سے بڑھ گئی۔ شیرمال آج تک سوا لکھنؤ کے اور کہیں نہیں پکتی، اور پکتی بھی ہے تو ایسی نہیں پک سکتی۔ چند ہی روز میں شیرمال کو ایسی عام مقبولیت حاصل ہوئی کہ وہ لکھنؤ کی منتخب روٹی قرار پا گئی، یہاں تک کہ جس دعوت میں شیرمال نہ ہو وہ مکمل نہیں سمجھی جاتی۔
شیرمال کی ایجاد نے محمو کی اس قدر قدر بڑھائی کہ شاہی مجالس اور تقریبوں کے لیے اسے بعض اوقات ایک ایک لاکھ شیرمالوں کا آرڈر ایک دن میں ملا، اور اس نے بھی ایسا کافی انتظام کر رکھا تھا کہ جتنی شیرمالیں مانگی جاتیں مہیا کر دیتا۔ محمو کا جانشین ان دنوں علی حسین تھا، جو کئی مہینے ہوئے مر گیا۔ مگر اس کی دکان سے آج بھی جیسی اعلیٰ درجے کی شیرمالیں مل سکتی ہیں اور کہیں نہیں مل سکتیں۔
شیرمال سے بھی زیادہ مزہ دار نان جلیبی ہوتی ہے، جو خاص اہتمام سے پکوائی جاتی ہے، اور وہی رکابدار اسے تیار کر سکتے ہیں جو واقف ہیں۔ اور باورچیوں کو دعویٰ ہے کہ لکھنؤ کے باورچیوں سے اچھی نان جلیبی کوئی نہیں پکا سکتا۔ پراٹھوں میں لکھنؤ اسی درجے پر ہے جو دوسرے شہروں کو حاصل ہے۔ اس میں بظاہر کوئی خاص ترقی نہیں ہوئی، بلکہ کہا جاتا ہے کہ دہلی کے اچھے نانبائی بہت اعلیٰ درجے کے پراٹھے پکاتے ہیں، اور سیر بھر آٹے میں پورا سیر بھر گھی کھپا دیتے ہیں۔ مگر میں نے اپنے زمانۂ قیام دہلی میں کئی بار مشہور نانبائیوں سے پراٹھے پکوائے۔ بیشک انھوں نے گھی بہت خرچ کر دیا، مگر چونکہ آٹے کے اندر گھی نہیں دیا تھا اس لیے وہ اسی وقت تک کھانے کے قابل تھے جب تک کہ تازے کھا لیے جائیں۔ ٹھنڈے ہوتے ہی چمڑا ہو گئے۔
روٹی کو توڑ کے اور اس میں گھی شکر ملا کے مل دینا ایک عام اور معمولی غذا ہے جس کا اکثر فاتحوں اور نیازوں میں زیادہ رواج ہے۔ مگر شاہی باورچی خانے کے یہاں کے باورچی ایسا لطیف ملیدہ تیار کرتے جو بعض فرمانرواؤں کو نہایت ہی مرغوب تھا، اور تعریف یہ تھی کہ منہ میں لقمہ لیتے ہی شربت بن جائے، اور معلوم ہو کہ چبانے یا منہ چلانے کی مطلق ضرورت نہیں۔
اسی روٹی کے سلسلے میں یہاں تک ترقی ہوئی کہ صرف دودھ کی پوریاں پکائی جانے لگیں جن میں آٹے کا بالکل جز نہ ہوتا۔ صرف دودھ کے جبن میں گندھے ہوئے میدے کی شان پیدا کر لی، اور آخر میں یہاں تک ترقی ہوئی کہ دودھ کی گلوریاں اور دیگر اقسام کی چیزیں تیار ہونے لگیں۔ اسی طرح خالص دودھ کی پنیری دسترخوانوں پر آتی جو بہت ہی نفیس و لطیف غذا اور امرا کو بہت پسند تھی۔
لیکن مسلمانوں کی منتخب ڈش یعنی قومی غذا پلاؤ اور قورمہ ہے، لہذا سب سے زیادہ نزاکت و لطافت انھیں چیزوں میں دکھائی گئی۔ پلاؤ کے متعلق ہم بہت کچھ بیان کر چکے ہیں، پھر بھی بعض باتیں باقی رہ گئیں۔ دولتمند اور شوقین امیروں کے لیے مرغ مشک و زعفران کی گولیاں کھلا کھلا کے تیار کیے جاتے، یہاں تک کہ ان کے گوشت میں ان دونوں چیزوں کی خوشبو سرایت کر جاتی، اور ہر رگ و ریشہ معطر ہو جاتا۔ پھر ان کی یخنی نکالی جاتی، اور اس یخنی میں چاول دم دے دیے جاتے۔
موتی پلاؤ کی یہ شان تھی کہ معلوم ہوتا چاولوں میں آبدار موتی ملے ہوئے ہیں۔ اس کے لیے موتیوں کے تیار کرنے کی یہ ترکیب تھی کہ تولہ بھر چاندی کے ورق اور ماشہ بھر سونے کے ورق انڈے کی زردی میں خوب حل کیے جاتے، پھر اس حل شدہ مرکب کو مرغ کے نرخرے میں بھر کے نرخرے کے ہر ہر جوڑ پر باریک دھاگا کس کے باندھ دیا جاتا، اور اسے خفیف سا جوش دے کے چاقو سے نرخرے کی کھال چاک کر دی جاتی، اور سڈول آبدار موتی نکل آتے، جو پلاؤ میں گوشت کے ساتھ دم کر دیے جاتے۔ بعض رکابدار پنیر کے موتی بناتے اور اس پر چاندی کا ورق چڑھا دیتے۔ بہرحال ایسی ایسی جدتیں عمل میں آئیں کہ اور کہیں لوگوں کے خیال میں بھی نہ آئی ہوں گی۔ بعض رکابداروں نے پلاؤ کی تیاری میں یہ صنعت دکھائی کہ گوشت کی چھوٹی چھوٹی چڑیاں بنا کے اور خوب احتیاط سے اس طرح پکا کے کہ صورت نہ بگڑنے پائے پلیٹ میں بٹھا دیں، چاولوں کی صورت دانے کی کر دی، اور معلوم ہوتا کہ ہر مہمان کے سامنے پلیٹ میں چڑیاں بیٹھی دانہ چگ رہی ہیں۔ پھولے ہوئے سموسے جن میں سے توڑتے ہی لال نکل کے اڑ جاتی۔ حیدرآباد دکن میں غالباً لکھنؤ کے رکابدار پیر علی نے آ کر تیار کیے، جو سرکاری ڈنروں میں میز پر آئے، اور معزز انگریزوں اور لیڈیوں کو بہت محظوظ کیا۔ اس کی ایجاد سب سے پہلے نصیر الدین حیدر کے دسترخوان پر ہوئی تھی۔ مگر چڑیوں والا مذکورۂ بالا پلاؤ اس سے بدرجہا زیادہ دلچسپ صنعت تھا۔
ایک رکابدار نے یہ صنعت دکھائی کہ دسترخوان پر بڑے بڑے سیر سیر بھر کے انڈے ابلے اور تلے ہوئے پیش کیے، جن میں سفیدی اور زردی اسی نسبت اور وضع سے قائم تھی جو معمولی انڈوں میں ہوا کرتی ہے۔ بعض رکابداروں نے بادام کا سالن پکایا جو بعینہ سیم کے بیجوں کے مثل اور مزے اور لطافت میں اس سے بڑھا ہوا تھا۔ وزیر سلطنت روشن الدولہ کے باورچی نے کچے بھٹوں کے لچھے اس نفاست سے کاٹے کہ کہیں ٹوٹنے نہ پائے، اور ان کا رائتا ایسا اعلیٰ درجے کا بنایا کہ جس نے چکھا عش عش کر گیا۔
ہمارے معجز رقم خوشنویس منشی شاکر علی صاحب نے چاول پر قل ہو اللہ لکھ کے بےمثل کمال دکھایا ہے، مگر یہاں کے ایک باورچی نے شاہی میں خشخاش کے دانوں میں چاروں طرف ککڑی کے سے خار پیدا کیے، اور اسے خاص ترکیب سے پکا کے دسترخوان پر پیش کیا تھا۔
پیر علی لکھنؤ کا مشہور رکابدار جو حضور نظام کے باورچی خانے میں ملازم تھا ایک نہایت قیمتی اور لذیذ ارہر کی دال پکایا کرتا جو اگلے فرمانروایان لکھنؤ کے باورچی خانوں میں پکا کرتی تھی، اور سلطانی دال کے نام سے مشہور تھی۔
بعض رکابدار مسلم کریلے ایسی نفاست اور صفائی سے پکاتے کہ دیکھیے تو معلوم ہوتا کہ انھیں بھاپ بھی نہیں لگی ہے، ویسے ہی ہرے اور کچے رکھے ہیں، مگر کاٹ کے کھائیے تو نہایت ہی پرلطف اور لذیذ ہوتے ہیں۔ اسی قسم کا ایک واقعہ آج ہی کل کے زمانے میں ہمارے مکرم دوست سید علی اوسط صاحب کو پیش آیا۔ ان کا بیان ہے کہ موجودہ خاندانی رؤسائے لکھنؤ میں سے نواب علی نقی خان نے ایک دن مجھ سے کہا کہ رات کا کھانا ذرا انتظار کر کے کھائیے گا، میں کچھ بھیجوں گا۔ رات کو حسب وعدہ کھانے کے وقت ان کا آدمی ایک خوان لے کے آیا۔ میں نے دفور شوق سے خوان اپنے سامنے منگوا کے کھلوایا تو اس میں صرف ایک پلیٹ تھی اور اس پر ایک کچا کدو رکھا ہوا تھا۔ دیکھ کے طبیعت نہایت منغص ہوئی۔ انتہائے یاس سے میں نے ماما سے کہا: "اسے لیجا کے رکھو، کل پکا لینا۔" مگر شاہزادے صاحب کے آدمی نے ہنس کے کہا: "اسے کاٹ کے یوں ہی کھائیے، پکانے کی ضرورت نہیں۔" اب میں نے جو اسے کاٹا تو عجیب لذیذ اور مزے کی چیز نظر آئی، اور ایسا کبھی نہیں کھایا تھا۔
رکابداروں نے سچ یہ ہے کہ اس قسم کی صنعتوں میں یہاں عجیب عجیب کمال دکھائے تھے۔ پیر علی رکابدار مٹھائی کا انار بناتا تھا، جس میں اوپر کا چھلکا، اندر کے دانے، ان کی ترتیب، اور ان کے بیچ کے پردے سب اصلی معلوم ہوتے۔ دانوں کی گٹھلیاں بادام کی ہوتیں، ناشپاتی کے عرق کے دانے ہوتے، دانوں کے بیچ کے پردے اور اوپر کا چھلکا دونوں شکر کے ہوتے۔
علی العموم رکابدار مربے اور اچار وغیرہ اور طرح طرح کی مٹھائیاں تیار کرتے، جن میں صدہا قسم کی ترکیبیں اور عجیب عجیب صنعتیں اور نفاستیں دکھائی جاتیں۔ آم کا مربہ سب نے کھایا ہے، مگر یہاں رکابدار مسلم ہری کیریوں کا مربہ تیار کرتے، اور ان میں ویسے ہی سبز چھلکے اپنی اصلیت پر قائم رہتے۔ بس یہ معلوم ہوتا کہ تازی کیریاں ابھی توڑ کے لائی اور شیرے میں ڈال دی گئی ہیں۔
Что оставила в вас эта глава?
Войдите, чтобы отреагировать
Обсуждение
Пока никто не высказался. Расскажите, что всколыхнула в вас эта глава.