
Chapitre 29 sur 56
Food and the Kitchen
کھانا اور باورچی خانہ
(۲۸)
انسانی معاشرت میں سب سے زیادہ ضروری اور سب سے اہم کھانا پینا ہے، اور کسی گروہ اور قوم کے ترقی کرتے وقت سب سے پہلے شوق اپنی خوش مذاقی اور جدتوں کا اظہار دسترخوان پر کرتا ہے۔ اسی لیے اب ہم یہ بتانا چاہتے ہیں کہ باورچی خانے اور دسترخوان کے متعلق لکھنؤ کے مشرقی دربار نے کیا رنگ دکھایا، اور کیا کیا جدت طرازیاں کیں، اور اس فن میں یہاں کے لوگوں نے کس درجے تک ترقی کی۔
اودھ کے تمدن کی تاریخ شجاع الدولہ سے اور ان کے بھی آخر عہد سے شروع ہوتی ہے، یعنی اس وقت سے جبکہ وہ بکسر کی لڑائی میں شکست کھا کے اور انگریزوں سے نیا معاہدہ کر کے خاموش بیٹھے اور فوجی سرگرمیوں کی طرف سے بےتوجہی ہوئی۔ اس زمانے میں ان کے مہتمم باورچی خانہ حسن رضا خان عرف مرزا حسنو تھے جو ایک دہلی کے آئے ہوئے معزز و شریف گھرانے سے تھے۔ صفی پور ضلع اناؤ کے ایک شیخ زادے مولوی فضل عظیم جو لکھنؤ میں طالب علمی کو آئے تھے خوش قسمتی سے مرزا حسنو کے گھر میں ان کی رسائی ہو گئی، اور ان کے ساتھ ہی پل کے اور کھیل کود کے بڑے ہوئے تھے۔ ان کو انھوں نے اپنی طرف سے نائب مہتمم باورچی خانہ مقرر کرا دیا تھا۔ اور ان کا معمول تھا کہ خاصے کے خوانوں کو درست کر کے اور ان میں اپنی مہر لگا کے نوابی ڈیوڑھی میں لے جاتے، اور بہو بیگم صاحبہ کی ڈیوڑھی کی مخصوص مہریوں دھنیا، بٹیا اور مینا کے حوالے کر دیتے۔ محض اس غرض کے لیے کہ یہ مہریاں ان کے خلاف کوئی کارروائی نہ ہونے دیں، مولانا نے ان مہریوں سے بھائی چارہ کر لیا تھا۔ چنانچہ یہ مہریاں بہت ہی نازک موقعوں پر ان کے کام آئیں۔
نواب شجاع الدولہ کا معمول تھا کہ محل کے اندر اپنی بی بی بہو بیگم صاحبہ کے ساتھ کھانا کھاتے۔ مہریاں خوانوں کو بیگم صاحب کے سامنے لے جا کے کھولتیں، اور دسترخوان پر کھانا چنا جاتا۔
نواب اور بیگم کے لیے ہر روز چھ باورچی خانوں سے کھانا آیا کرتا۔ (اول) مذکورۂ بالا اصلی نوابی باورچی خانے سے جس کے مہتمم مرزا حسنو تھے، اور مولوی فضل عظیم خاصے کے خوان خود لے کے ڈیوڑھی میں حاضر ہوتے۔ اس باورچی خانے میں دو ہزار روپے روز کی پخت ہوتی، جس کے یہ معنی ہوئے کہ باورچیوں اور دیگر ملازموں کی تنخواہوں کے علاوہ ساٹھ ہزار روپیہ ماہوار یا سات لاکھ بیس ہزار روپیہ سالانہ کی رقم فقط الوان نعمت اور غذاؤں کی قیمت میں صرف ہوتی تھی۔ (دوسرے) سرکاری چھوٹے باورچی خانے سے جس کے مہتمم پہلے تو مرزا حسن علی مہتمم توشہ خانہ تھے، لیکن بعد ازاں وہ عنبر علی خان خواجہ سرا کے سپرد ہو گیا تھا۔ اس میں تین سو روپیہ روز یعنی ایک لاکھ آٹھ ہزار روپیہ ہر سال کھانوں کی تیاری میں صرف ہوتے۔ (تیسرے) خود بہو بیگم صاحبہ کے محل کے اندر کا باورچی خانہ جس کا مہتمم بہار علی خان خواجہ سرا تھا۔ (چوتھے)
[illegible]
[illegible] نے کہا: "کوئی ہو، میں تو اور کسی کے لیے نہیں پکا سکتا۔" جب سالار جنگ نے اصرار کیا تو اس نے کہا: "بہتر، مگر شرط یہ ہے کہ حضور خود لے جا کے اپنے سامنے کھلائیں، اور چند لقموں سے زیادہ نہ کھانے دیں، اور احتیاطاً آبدار خانے کا انتظام بھی کر کے اپنے ساتھ لیتے جائیں۔" سالار جنگ نے یہ شرطیں قبول کیں۔ آخر باورچی نے پلاؤ تیار کیا، اور سالار جنگ خود لے کے پہنچے اور دسترخوان پر پیش کیا۔ شجاع الدولہ نے کھاتے ہی بہت تعریف کی، اور رغبت کے ساتھ کھانے لگے۔ مگر دو ہی چار لقمے کھائے تھے کہ سالار جنگ نے بڑھ کر ہاتھ پکڑ لیا اور کہا: "بس، اس سے زیادہ نہ کھائیے۔" شجاع الدولہ نے حیرت سے ان کی صورت دیکھی اور کہا: "ان چار لقموں میں کیا ہوتا ہے؟" اور یہ کہہ کے زبردستی دو ایک لقمے اور کھا ہی لیے۔ اب پیاس کی شدت ہوئی۔ سالار جنگ نے اپنے آبدار خانے سے جو ساتھ گیا تھا پانی منگوا منگوا کے پلانا شروع کیا۔ بڑی دیر کے بعد خدا خدا کر کے تشنگی موقوف ہوئی، اور سالار جنگ اپنے گھر آئے۔
آج کل کے مذاق میں یہ غذا کی کوئی خوبی نہیں سمجھی جا سکتی، مگر اس زمانے میں اور پرانے مذاق کے کھانے والوں کے نزدیک اب بھی غذا کی خوبی کا اصلی معیار یہی ہے کہ غذائیں بظاہر نفیس و لطیف ہوں مگر اصل میں اس قدر قوی اور معدے پر گراں ہوں کہ ہر معدہ برداشت نہ کر سکے۔
دوسرا کمال یہ تھا کہ کسی ایک چیز کو مختلف صورتوں میں دکھا کے ایسا بنا دیا جائے کہ دسترخوان پر ظاہر میں تو یہ نظر آئے کہ بیسیوں قسم کے الوان نعمت موجود ہیں، مگر چکھیے اور غور کیجیے تو وہ سب ایک ہی چیز ہیں۔ مثلاً معتبر ذرائع سے سنا جاتا ہے کہ دہلی کے شاہزادوں میں سے مرزا آسمان قدر فرزند مرزا خرم بخت لکھنؤ میں آ کے شیعہ ہوئے، اور چند روز یہاں ٹھہرنے کے بعد بنارس میں جا کے اقامت پذیر ہو گئے۔ قیام لکھنؤ کے زمانے میں واجد علی شاہ نے ان کی دعوت کی۔ دسترخوان پر ایک مربہ لا کے رکھا گیا جو صورت میں نہایت ہی نفیس و لطیف اور خوب معلوم ہوتا تھا۔ مرزا آسمان قدر نے اس کا لقمہ کھایا تو چکرا گئے، اس لیے کہ وہ مربہ نہ تھا بلکہ گوشت کا نمکین قورمہ تھا، جس کی صورت رکابدار نے بعینہ مربے کی سی بنا دی تھی۔ یوں دھوکا کھا جانے پر انھیں ندامت ہوئی، اور واجد علی شاہ خوش ہوئے کہ دہلی کے ایک معزز شاہزادے کو دھوکا دے دیا۔
دو چار روز بعد مرزا آسمان قدر نے واجد علی شاہ کی دعوت کی، اور واجد علی شاہ یہ خیال کر کے آئے تھے کہ مجھے ضرور دھوکا دیا جائے گا۔ مگر اس ہوشیاری پر بھی دھوکا کھا گئے، اس لیے کہ آسمان قدر کے باورچی شیخ حسین علی نے یہ کمال کیا تھا کہ گو دسترخوان پر صدہا الوان نعمت اور قسم قسم کے کھانے چنے ہوئے تھے: پلاؤ تھا، زردہ تھا، بریانی تھی، قورمہ تھا، کباب تھے، ترکاریاں تھیں، چٹنیاں تھیں، اچار تھے، روٹیاں تھیں، پراٹھے تھے، شیرمالیں تھیں، غرض کہ ہمہ نعمت موجود تھی، مگر جس چیز کو چکھا شکر کی بنی ہوئی تھی۔ سالن تھا تو شکر کا، چاول تھے تو شکر کے، اچار تھا تو شکر کا، اور روٹیاں تھیں تو شکر کی۔ یہاں تک کہ کہتے ہیں تمام برتن، دسترخوان اور سلفچی آفتابہ تک شکر کے تھے۔ واجد علی شاہ گھبرا گھبرا کے ایک ایک چیز پر ہاتھ ڈالتے تھے اور دھوکے پر دھوکا کھاتے تھے۔
ہم بیان کر آئے ہیں کہ نواب شجاع الدولہ بہادر کے خاصے پر چھ مقاموں سے کھانے کے خوان آیا کرتے تھے، مگر یہ انھیں تک منحصر نہ تھا۔ ان کے بعد بھی یہ طریقہ جاری رہا کہ اکثر معزز امرا خصوصاً اعزائے شاہی کو یہ عزت دی جاتی کہ وہ خاصے کے لیے خاص خاص قسم کے کھانے بلاناغہ بھیجا کرتے۔
چنانچہ ہمارے دوست نواب محمد شفیع خان صاحب بہادر نیشاپوری کا بیان ہے کہ ان کے نانا نواب آغا علی حسن خان صاحب کے گھر سے جو نیشاپوریوں میں سب سے زیادہ نامور اور ممتاز تھے بادشاہ کے لیے روغنی روٹی اور میٹھا گھی جایا کرتا۔ روغنی روٹیاں اس قدر باریک اور نفاست سے پکائی جاتیں کہ موٹے کاغذ سے زیادہ دبیز نہ ہوتیں، اور پھر یہ ممکن نہ تھا کہ چتیاں پڑیں، اور نہ یہ مجال تھی کہ کسی جگہ پر کچی رہ جائیں۔ میٹھا گھی بھی ایک خاص چیز تھا جو بڑے اہتمام سے تیار کرایا جاتا۔
دہلی میں بریانی کا زیادہ رواج ہے اور تھا، مگر لکھنؤ کی نفاست نے پلاؤ کو اس پر ترجیح دی۔ عوام کی نظر میں دونوں قریب قریب بلکہ ایک ہی ہیں، مگر بریانی میں مسالے کی زیادتی سے سالن ملے ہوئے چاولوں کی شان پیدا ہو جاتی ہے، اور پلاؤ میں اتنی لطافت، نفاست اور صفائی ضروری سمجھی جاتی ہے کہ بریانی اس کے سامنے ملغوبہ سی معلوم ہوتی ہے۔ اس میں شک نہیں کہ معمولی قسم کے پلاؤ سے بریانی اچھی معلوم ہوتی ہے۔ وہ پلاؤ خشکہ معلوم ہوتا ہے، جو عیب بریانی میں نہیں ہوتا۔ مگر اعلیٰ درجے کے پلاؤ کے مقابل بریانی نفاست پسند لوگوں کی نظر میں بہت ہی لدھڑ اور بدنما غذا ہے۔ بس یہی فرق تھا جس نے لکھنؤ میں پلاؤ کو زیادہ مروج بنا دیا۔
پلاؤ یہاں کہنے کو تو سات طرح کے مشہور ہیں۔ ان میں سے بھی صرف گلزار پلاؤ، نور پلاؤ، کوکو پلاؤ، موتی پلاؤ اور چنبیلی پلاؤ کے نام ہمیں اس وقت یاد ہیں۔ مگر واقعہ یہ ہے کہ یہاں کے اعلیٰ درجے کے دسترخوان پر بیسیوں طرح کے پلاؤ ہوا کرتے تھے۔ محمد علی شاہ کے بیٹے مرزا عظیم الشان نے ایک شادی کے موقع پر سمدھی ملاپ کی دعوت کی تھی جس میں خود فرمانروائے وقت واجد علی شاہ بھی شریک تھے۔ اس دعوت میں دسترخوان پر نمکین اور میٹھے کل ستر قسم کے چاول تھے۔
غازی الدین حیدر بادشاہ کے عہد میں نواب سالار جنگ کے خاندان سے ایک رئیس تھے، نواب حسین علی خان۔ انھیں کھانے کا بڑا شوق تھا، خصوصاً پلاؤ کا۔ ان کے دسترخوان پر بیسیوں طرح کے پلاؤ ہوا کرتے، اور وہ ایسی نفاست اور لطف کے ساتھ تیار کیے جاتے کہ شہر بھر میں ان کی شہرت ہو گئی، یہاں تک کہ رؤسا و عمائد میں سے کوئی ان کے مقابلے کی جرأت نہ کر سکتا۔ خود بادشاہ کو ان پر رشک تھا۔ اور کھانے کے شوقینوں میں وہ "چاول والے" مشہور ہو گئے تھے۔
نصیر الدین حیدر کے عہد میں باہر کا ایک باورچی آیا جو پستے اور بادام کی کھچڑی پکاتا۔ بادام کے سڈول اور صاف ستھرے چاول بناتا، پستے کی دال تیار کرتا، اور اس نفاست سے پکاتا کہ معلوم ہوتا نہایت عمدہ نفیس اور کھری ماش کی کھچڑی ہے، مگر کھائیے تو اور ہی لذت تھی، اور ایسا ذائقہ جس کا مزہ زبان کو زندگی بھر نہ بھولتا۔
نواب سعادت علی خان کے زمانے میں ایک صاحب کمال باورچی صرف چاولوں کی گلتھی پکاتا، مگر ایسی گلتھی جو شاہی دسترخوان کی رونق، فرمانروائے وقت کو نہایت ہی مرغوب تھی، اور شہر کے تمام رئیسوں کو اس کا ایک لقمہ مل جانے کی تمنا تھی۔ مشہور ہے کہ نواب آصف الدولہ کے سامنے ایک نیا باورچی پیش ہوا۔ پوچھا گیا: "کیا پکاتے ہو؟" کہا: "صرف ماش کی دال پکاتا ہوں۔" پوچھا: "تنخواہ کیا لو گے؟" کہا: "پانچ سو روپیہ۔" نواب نے نوکر رکھ لیا۔ مگر اس نے کہا: "میں چند شرطوں پر نوکری کروں گا۔" پوچھا: "وہ شرطیں کیا ہیں؟" کہا: "جب حضور کو میرے ہاتھ کی دال کا شوق ہو ایک روز پہلے سے حکم ہو جائے، اور جب اطلاع دوں کہ تیار ہے تو حضور اسی وقت تناول فرما لیں۔" نواب نے یہ شرطیں بھی منظور کر لیں۔ چند ماہ کے بعد اسے دال پکانے کا حکم ہوا۔ اس نے تیار کی اور نواب کو خبر کی۔ انھوں نے کہا: "اچھا، دسترخوان بچھاؤ، میں آتا ہوں۔" دسترخوان بچھا، مگر نواب باتوں میں لگے رہے۔ اس نے جا کے پھر اطلاع دی کہ "خاصہ تیار ہے۔" نواب کو پھر آنے میں دیر ہوئی۔ اس نے سہ بارہ خبر کی، اور اس پر بھی نواب صاحب نہ آئے تو اس نے دال کی ہانڈی اٹھا کے ایک سوکھے پیڑ کی جڑ میں انڈیل دی، اور استعفا دے کے چلا گیا۔ نواب کو افسوس ہوا۔ ڈھونڈھوایا، مگر اس کا پتہ نہ لگا۔ مگر چند روز بعد دیکھا تو جس درخت کے نیچے دال پھینکی گئی تھی وہ سرسبز ہو گیا تھا۔
اس میں شک نہیں کہ اس واقعے میں مبالغہ ہے جس نے اسے خلاف قیاس ہونے کے درجے تک پہنچا دیا ہے، مگر اس سے اتنا اندازہ البتہ ہو جاتا ہے کہ دربار میں باورچیوں کی کس درجہ قدر ہوتی تھی، اور کوئی صاحب کمال باورچی آ جاتا تو کس فیاضی سے روک لیا جاتا۔
امیروں کا یہ ذوق و شوق دیکھ کے باورچیوں نے بھی طرح طرح کی جدت طرازیاں شروع کر دیں۔ کسی نے پلاؤ اناردانہ ایجاد کیا۔ اس میں ہر چاول آدھا یاقوت کی طرح سرخ اور جلادار ہوتا اور آدھا سفید، مگر اس میں بھی ہیرے کی سی چمک موجود ہوتی۔ جب دسترخوان پر لا کے لگایا جاتا تو معلوم ہوتا کہ پلیٹ میں ابلق رنگ کے جواہرات رکھے ہوئے ہیں۔ ایک اور باورچی نے نورتن پلاؤ پکا کے پیش کیا جس میں نورتن کے مشہور جواہرات کے مثل نو رنگ کے چاول ملا دیے، اور پھر رنگوں کی صفائی اور آب و تاب عجیب نفاست اور لطف پیدا کر رہی تھی۔ اسی طرح کی خدا جانے کتنی ایجادیں ہو گئیں جو تمام گھروں اور باورچی خانوں میں پھیل گئیں۔
کھانے کے شوقین اگلے رئیسوں میں سے ایک نواب مرزا خان نیشاپوری تھے جو کہتے ہیں کہ چودہ ہزار ماہوار کے وثیقہ یاب تھے۔ اچھا کھانے کے شوق میں انھوں نے وہ کمال دکھایا اور ایسے اچھے اچھے باورچی جمع کر لیے کہ شہر میں ان کے دسترخوان کی دھوم تھی۔ دوسرے مرزا حیدر تھے۔ یہ بھی نیشاپوری اور ایسے محترم رئیس تھے کہ تمام نیشاپوری ان کو اپنا سرتاج اور بزرگ مانتے۔ ان کی شان یہ تھی کہ جس کی دعوت میں جاتے ان کا آبدار خانہ، گلوریوں کا سامان، اور سو ڈیڑھ سو حقے ان کے ساتھ جاتے۔ ان کی اس شان سے اکثر متوسط الحال لوگوں کو بڑی مدد مل جاتی۔ کسی نہ کسی طرح خوشامد درآمد کر کے ان سے دعوت قبول کرا لیتے، اور ان کے قبول کر لینے کے یہ معنی تھے کہ محفل میں حقوں، گلوریوں اور پانی کا انتظام ان کے ذمے ہو گیا، اور پھر کیسا انتظام جو کسی بڑے سے بڑے رئیس کے بھی امکان سے باہر تھا۔
کھانا تیار کرنے والے تین گروہ ہیں۔ پہلے دیگ شو، جن کا کام دیگوں کا دھونا اور باورچیوں کی ماتحتی میں مزدوری کرنا ہے۔ دوسرے باورچی۔ یہ لوگ کھانا پکاتے ہیں اور اکثر بڑی بڑی دیگیں تیار کر کے اتارا کرتے ہیں۔ تیسرے رکابدار۔ یہی لوگ اس فن کے اعلیٰ درجے کے ماہر اور صاحب کمال ہوتے ہیں۔ یہ لوگ علی العموم چھوٹی ہانڈیاں پکاتے ہیں، اور بڑی دیگیں اتارنا اپنی شان اور مرتبے سے ادنیٰ کام خیال کرتے ہیں۔ اگرچہ اکثر باورچی بھی چھوٹی ہانڈیاں پکاتے ہیں، مگر رکابداروں کا کام فقط چھوٹی ہانڈیوں تک محدود تھا۔ یہ لوگ میوہ جات کے پھول کترتے، کھانا نکالنے اور لگانے میں سلیقہ، نفاست اور تکلف ظاہر کرتے۔ جو بھونوں اور قابوں میں جو پلاؤ یا زردہ نکالا جاتا اس پر میوہ جات اور دیگر طریقوں سے گلکاریاں کرتے اور نقش و نگار بناتے۔ نہایت نفیس اور لطیف مربے اور اچار تیار کرتے، اور کھانوں میں اپنی طبیعت داری سے صدہا قسم کی صنعتیں دکھاتے۔
غازی الدین حیدر پہلے شاہ اودھ کو پراٹھے پسند تھے۔ ان کا رکابدار ہر روز چھ پراٹھے پکاتا، اور فی پراٹھا پانچ سیر کے حساب سے ۳۰ سیر گھی روز لیا کرتا۔ ایک دن وزیر سلطنت معتمد الدولہ آغا میر نے شاہی رکابدار کو بلا کے پوچھا: "ارے بھئی، یہ تیس سیر گھی کیا ہوتا ہے؟" کہا: "حضور، پراٹھے پکاتا ہوں۔" کہا: "بھلا میرے سامنے تو پکاؤ۔" اس نے کہا: "بہت خوب!" پراٹھے پکائے۔ جتنا گھی کھپا کھپایا، اور جو باقی بچا پھینک دیا۔ معتمد الدولہ آغا میر نے یہ دیکھ کے حیرت اور استعجاب سے کہا: "پورا گھی تو خرچ نہیں ہوا؟" اس نے کہا: "اب یہ گھی تو بالکل تیل ہو گیا۔ اس قابل تھوڑے ہی ہے کہ کسی اور کھانے میں لگایا جائے؟" وزیر سے جواب تو نہ بن پڑا، مگر حکم دے دیا کہ "آئندہ سے صرف پانچ سیر گھی دیا جایا کرے، فی پراٹھا ایک سیر بہت ہے۔" رکابدار نے کہا: "بہتر، میں اتنے ہی گھی میں پکا دیا کروں گا۔" مگر وزیر کی روک ٹوک سے اس قدر ناراض ہوا کہ معمولی قسم کے پراٹھے پکا کے بادشاہ کے خاصے پر بھیجنے لگا۔ جب کئی دن یہی حالت رہی تو بادشاہ نے شکایت کی کہ "یہ پراٹھے اب کیسے آتے ہیں؟" رکابدار نے عرض کیا: "حضور، جیسے پراٹھے نواب معتمد الدولہ بہادر کا حکم ہے پکاتا ہوں۔" بادشاہ نے اس کی حقیقت پوچھی تو اس نے سارا حال بیان کر دیا۔ فوراً معتمد الدولہ کی یاد ہوئی۔ انھوں نے عرض کیا: "جہاں پناہ! یہ لوگ خواہ مخواہ کو لوٹتے ہیں۔" بادشاہ نے اس کے جواب میں دس پانچ تھپڑ اور گھونسے رسید کیے، خوب ٹھونکا، اور کہا: "تم نہیں لوٹتے ہو؟ تم جو ساری سلطنت اور سارے ملک کو لوٹے لیتے ہو اس کا خیال نہیں۔ یہ جو تھوڑا سا گھی زیادہ لے لیتا ہے، اور وہ بھی میرے خاصے کے لیے، یہ تمھیں نہیں گوارا ہے؟" بہرحال معتمد الدولہ نے توبہ کی، کان اینٹھے، تو خلعت ہوا، جو اس بات کی نشانی تصور کی جاتی کہ جہاں پناہ نے دست شفقت پھیرا ہے، اور اپنے گھر آئے۔ پھر انھوں نے کبھی اس رکابدار سے تعرض نہ کیا، اور وہ اسی طرح ۳۰ سیر گھی روز لیتا رہا۔
Que vous laisse ce chapitre ?
Connectez-vous pour réagir
Discussion
Personne n’a encore parlé. Dites ce que ce chapitre a remué en vous.