
Chapitre 17 sur 56
Calligraphy
خوشنویسی
(۱۶)
علوم ہی سے وابستہ کتابت اور تحریر کے فن ہیں۔ مسلمانوں کا پرانا خط عربی تھا جس کو نسخ کہتے ہیں۔ خلافت بغداد کے ازمنۂ وسطیٰ تک ساری دنیائے اسلام میں مشرق سے مغرب تک یہی خط تھا جو ارض حیرہ کے پرانے خط سے خط کوفی، اور خط کوفی سے خط نسخ بن گیا تھا۔ خاندان طاہریہ کے زمانے سے وہ تمام علم و فن جو بغداد میں عروج پا رہے تھے ایران و خراسان کی طرف آنے لگے، اور دیلمیوں اور سلجوقیوں کے زمانے میں بغداد کے اکثر کمالات ایران میں بخوبی جمع ہو گئے۔ خصوصاً دیلمیوں کے علمی ذوق اور تفنن طبع سے ایران کا مغربی صوبہ آذربائجان جو قدرۃً عراق عجم و عراق عرب کے آغوش میں واقع تھا ہر قسم کی خوبیوں اور ترقیوں کا گہوارہ قرار پا گیا۔
اسی علاقے میں پہلے پہل خط نے بھی نئی وضع اختیار کرنا شروع کی۔ کتابت خطاطی کی حدوں سے نکل کے نقاشی کی قلمرو میں داخل ہو گئی، اور اس میں مصورانہ نزاکتیں پیدا کی جانے لگیں۔ عجمی نزاکت پسندوں کو خط عرب کی پرانی سادگی میں بھدا پن نظر آیا، اور پرانی شان اور وضع خود بخود چھوٹنے لگی۔ نسخ میں قلم ہر حرف اور لفظ میں اول سے آخر تک یکساں رہا کرتا تھا۔ حرفوں میں غیر موزوں خمی اور غیر متناسب ناہمواری ہوتی تھی۔ دائرے گول نہ تھے بلکہ نیچے اور چپٹے ہوتے اور ادھر ادھر ان میں کونے پیدا ہو جاتے۔ اب نقاشی کی نزاکت کو خطاطی میں ملا کے تحریر میں نوک پلک پیدا کی جانے لگی۔ حرفوں کی نوکیں، گردنیں، اور دمیں باریک بنائی جانے لگیں۔ دائرے خوبصورت اور گول لکھے جانے لگے۔ اس جدید مذاق کو پوری طرح پیش نظر رکھ کے سب سے پہلے میر علی تبریزی نے جو خاص اقلیم آذربائجان کے رہنے والا تھا، اس نئے خط کو بااصول و باقاعدہ بنا کے مشرقی بلاد میں رواج دیا، اور اس کا نام نستعلیق قرار دیا، جو اصل میں نسخ تعلیق یعنی ضمیمۂ نسخ تھا۔
نہیں معلوم کہ میر علی تبریزی کس زمانے میں تھے۔ منشی شمس الدین صاحب آج لکھنؤ کے مشہور و مستند خوشنویس ہیں، ان کا زمانہ تیمور سے پہلے بتاتے ہیں۔ لیکن نستعلیق کی کتابیں اتنی پرانی ملتی ہیں کہ تیمور درکنار ہم سمجھتے ہیں کہ اس خط کی ایجاد محمود غزنوی سے بھی پہلے ہو چکی تھی۔ اس میں شک نہیں کہ محمود کے دن کے ساتھ ہی ساتھ ہندوستان میں فارسی خوشنویسوں کی بھی آمد شروع ہوئی ہو گی، جن کے اثر سے یہاں اس خط کا رواج شروع ہوا، اور ہندوستان کے ہر صوبے اور ہر خطے میں نستعلیق کے خوشنویس کثرت سے پیدا ہو گئے۔ لہذا یا تو میر علی تبریزی کا زمانہ بہت قدیم ہے، اور یا وہ اصلی موجد خط نہیں ہیں۔ لیکن اس میں شک نہیں کہ دہلی و لکھنؤ بلکہ سارے ہندوستان کی موجودہ خوشنویسی اپنا استاد اول میر علی تبریزی کو بتاتی ہے۔ ان کے ایک مدت دراز کے بعد ایران میں نستعلیق کی استادی میں میر عماد الحسنی کا نام مشہور ہوا، جو خوشنویسوں میں بڑے ممتاز و نامور کاتب اور استاد اکمل مانے جاتے ہیں۔ ان کے بھانجے آغا عبد الرشید دیلمی نادر شاہ کے حملوں کے زمانے میں وارد ہند ہوئے اور لاہور میں آ کے ٹھہر گئے۔ لاہور میں ان کے صدہا شاگرد پیدا ہوئے، جنھوں نے اقطاع ہند میں پھیل کے انھیں ہندوستان کی خوشنویسی کا آدم نہیں تو نوح ضرور ثابت کر دیا۔
انھیں کے دو شاگرد جو ولایتی تھے وارد لکھنؤ ہوئے۔ ان دونوں بزرگوں میں سے ایک حافظ نور اللہ اور دوسرے قاضی نعمت اللہ تھے۔ کہا جاتا ہے کہ عبد اللہ بیگ نام آغا عبد الرشید کے ایک تیسرے باکمال شاگرد بھی لکھنؤ میں آئے تھے۔ ان حضرات کے آنے کا زمانہ غالباً نواب آصف الدولہ بہادر کا عہد تھا، جب یہاں کوئی باکمال آ کے واپس نہ جانے پاتا تھا۔ قاضی نعمت اللہ آتے ہی اس خدمت پر مامور ہو گئے کہ شاہزادوں کو اصلاح دیا کریں، اور حافظ نور اللہ کو بھی دربار اودھ سے تعلق ہو گیا، اور ان دونوں نے یہاں ٹھہر کے لوگوں کو خوشنویسی کی تعلیم دینا شروع کی۔
ان بزرگوں کے علاوہ یہاں اور پرانے خوشنویس بھی تھے، جن میں سے ایک نامور بزرگ منشی محمد علی بتائے جاتے ہیں۔ مگر آغا عبد الرشید کے شاگردوں نے اپنا ایسا سکہ جما لیا کہ خوشنویسی کے تمام شائق بلکہ سارا شہر ان کی طرف رجوع ہو گیا۔ جسے خطاطی کا شوق ہوا انھیں کا شاگرد ہو گیا، اور تمام خوشنویسان سلف کے نام مٹ کے گمنامی کے ناپیدا کنار سمندر میں غرق ہو گئے۔ اور سچ یہ ہے کہ یہ بزرگ اپنے کمال کے اعتبار سے اس کے مستحق بھی تھے۔
حافظ نور اللہ کی لکھنؤ میں جو قدر ہوئی اس کا اندازہ اسی سے نہیں ہو سکتا کہ وہ یہاں سرکار میں ملازم ہو گئے تھے، بلکہ لکھنؤ کی قدردانی کا صحیح اندازہ اس سے ہوتا ہے کہ لوگ ان کے ہاتھ کے لکھے ہوئے قطعوں کو موتیوں کے داموں مول لیتے، یہاں تک کہ ان کی معمولی مشق بازار میں صرف ایک روپیہ حرف کے حساب سے ہاتھوں ہاتھ بک جاتی تھی۔
ان دنوں امرا اور شوقین لوگ اپنے مکانوں کو بجائے تصویروں کے قطعوں سے آراستہ کیا کرتے تھے، جس کی وجہ سے علی العموم قطعوں کی بے انتہا مانگ تھی، اور جہاں کسی اچھے خوشنویس کے ہاتھ کا قطعہ مل جاتا اس پر لوگ پروانوں کی طرح گرتے اور اسے آنکھوں سے لگاتے۔ اس سے سوسائٹی کو تو یہ فائدہ پہنچتا کہ اکثر اخلاقی اصول اور ناصحانہ فقرے یا اشعار ہمیشہ پیش نظر رہتے اور ہر وقت گھر میں اخلاقی سبق ملتا رہتا، اور خوشنویسی کو یہ فائدہ پہنچتا کہ خوشنویسوں اور صاحب کمال خطاطوں نے اپنے کمال کو قطعہ نویسی ہی تک محدود کر دیا تھا، جو آبدار اور عمدہ وصلیوں کو لکھ کے تیار کرتے، اور اسی میں وہ گھر بیٹھے دولتمند ہو جاتے۔
مگر افسوس اب ہندوستان سے قطعات اور کتبوں کا رواج اٹھتا جاتا ہے اور ان کی جگہ تصویروں نے لے لی ہے، جس کی وجہ سے اگلے نفیس و مہذب شرعی مذاق آرائش کے مٹ جانے کے ساتھ خوشنویسی بھی ہندوستان سے اٹھ گئی۔ اب کاتب ہیں، خوشنویس نہیں ہیں، اور جو دو ایک خطاط مشہور بھی ہیں وہ مجبور ہیں کہ کاپی نویسی اور کتابت سے اپنا پیٹ پالیں، جو چیز کہ اصل میں خوشنویسی کی دشمن ہے۔ برخلاف اس کے ان دنوں ایک گروہ قائم ہو گیا تھا جس کا کام فقط یہ تھا کہ خوشنویسی کو اپنے اصول پر قائم رکھے اور اس کو وقتاً فوقتاً مناسب ترقیاں دیتا رہے۔ چنانچہ اگلے خوشنویس کتابت کو اپنی شان سے ادنیٰ سمجھتے تھے، اور خیال کرتے کہ جو شخص پوری پوری کتابیں لکھے گا وہ غیر ممکن ہے کہ اول سے آخر تک اصول و قواعد خوشنویسی کو پوری طرح نباہ سکے۔ اور سچ یہ ہے کہ جتنی محنت اور مشقت وہ لوگ ایک ایک وصلی کی درستی میں کرتے تھے اس کی عشر عشیر محنت بھی کاتب کسی پوری کتاب کے لکھنے میں نہیں کر سکتے۔
ان کی محنت کا اندازہ اس سے ہو سکتا ہے کہ حافظ نور اللہ سے ایک بار نواب سعادت علی خان نے فرمائش کی کہ "مجھے گلستان کا ایک نسخہ لکھ دیجیے۔" نواب سعادت علی خان گلستان سعدی کے بیحد شائق تھے، اور کہتے ہیں کہ گلستان ہر وقت ان کے سرہانے موجود رہا کرتی تھی۔ اور کوئی ایسی فرمائش کرتا تو حافظ نور اللہ اپنی توہین سمجھ کے اس کا منہ ہی نوچ لیتے، مگر فرمانروائے وقت کا کہنا تھا، منظور کر لیا، اور عرض کیا: "تو مجھے اسی گڈی کا غذ (ان دنوں رسم کو گڈی کہتے تھے)، ایک سو قلمتراش چاقو، اور خدا جانے کتنے ہزار قلموں کے تیزے منگوا دیجیے۔" سعادت علی خان نے حیرت سے پوچھا: "فقط اکیلی ایک گلستان کے لیے اتنا سامان درکار ہو گا؟" کہا: "جی ہاں، میں اتنا ہی سامان خرچ کیا کرتا ہوں۔" نواب کے لیے اس سامان کا فراہم کرنا کچھ دشوار تو تھا نہیں، منگوا دیا۔ اب حافظ صاحب نے گلستان لکھنا شروع کی، مگر پوری نہیں ہونے پائی تھی، سات ہی باب لکھنے پائے تھے اور آٹھواں باب باقی تھا کہ انتقال ہو گیا۔ ان کے بعد جب ان کے بیٹے حافظ ابراہیم دربار میں پیش ہوئے اور انھیں سیاہ خلعت تعزیت عطا ہوا تو سعادت علی خان نے کہا: "بھئی، میں نے حافظ صاحب سے گلستان لکھوائی تھی، خدا جانے اس کا کیا حال ہوا؟" حافظ ابراہیم نے عرض کیا: "ان کے لکھے ہوئے سات باب تیار ہیں۔ آٹھواں باب باقی ہے، اسے یہ حقیر لکھ دے گا اور اس قدر ان کی شان سے ملا دے گا کہ حضور امتیاز نہ کر سکیں گے۔ لیکن ہاں اگر کسی مبصر خوشنویس نے دیکھا تو وہ بیشک پہچان لے گا۔" نواب نے اجازت دی، اور اس گلستان کو حافظ ابراہیم نے پورا کیا۔
حافظ نور اللہ کے شاگردوں میں زیادہ ممتاز سب سے اول تو خود ان کے بیٹے حافظ ابراہیم تھے، دوسرے منشی سرب سکھ نام ایک ہندو بزرگ تھے جن کو کوئی کایستھ بتاتا ہے اور کوئی کشمیری پنڈت، اور تیسرے محمد عباس نام لکھنؤ کے ایک خوشنویس۔ حافظ ابراہیم نے بھی بہت نام پیدا کیا۔ سیکڑوں آدمیوں کو خوشنویس بنا دیا، اور فن میں مجتہدانہ مرتبہ پیدا کر کے اپنے والد سے جدا ایک شان پیدا کی۔ حافظ نور اللہ کے دائرے بالکل گول ہوتے تھے، حافظ ابراہیم نے ان میں ایک خفیف سی بیضاویت اختیار کی۔ منشی سرب سکھ کی نسبت کہا جاتا ہے کہ اپنے استاد کی شان اس قدر اڑا لی تھی کہ صدہا وصلیاں حافظ نور اللہ کے نام سے پھیلا دیں، اور بڑے بڑے خوشنویس بالکل تمیز نہیں کر سکتے تھے، اور یہ ان دنوں خوشنویسی کا بہت بڑا کمال تھا۔
حافظ ابراہیم کے ممتاز شاگردوں میں پہلے تو ان کے فرزند حافظ سعید الدین تھے۔ ان کے علاوہ منشی نظیر حمید، منشی عبد المجید جو سرکار شاہی میں احکام شاہی اور پرچہ و پیام (یعنی مراسلت فی مابین دولت انگلشیہ و دولت اودھ) لکھنے پر مامور تھے۔ مگر حافظ ابراہیم کے دو شاگردوں نے بہت ہی فروغ پایا جو اپنے زمانے میں سارے لکھنؤ کے استاد قرار پا گئے تھے۔ ایک تو منشی منسا رام کشمیری پنڈت جو اپنے فن کے بہت بڑے کامل تھے، اور دوسرے منشی محمد ہادی علی جو نستعلیق کے علاوہ نسخ اور طغرا نویسی میں بھی لکھنؤ میں اپنا مثل نہ رکھتے تھے۔
ادھر قاضی نعمت اللہ کے شاگرد ایک تو ان کے فرزند مولوی محمد اشرف تھے اور دوسرے مولوی قل احمد۔
غرض نستعلیق کے یہی لوگ استاد تھے جن سے لکھنؤ میں خوشنویسی کمال کو پہنچی۔ پھر مطبع جاری ہونے کے بعد کتابت و کاپی نویسی کو فروغ ہوا، اور در اصل یہ اسی خاندان کی برکت ہے کہ لکھنؤ میں ہزاروں مسلمان، ہزاروں کایستھ جن سے نوبستہ اور اشرف آباد کے محلے بھرے ہوئے ہیں، اور سیکڑوں کشمیری پنڈت خوشنویس ہو گئے۔ مگر افسوس کشمیری پنڈتوں نے انگریزی تعلیم کے شوق میں اور خوشنویسی کی کساد بازاری دیکھ کے اس فن کو مطلقاً چھوڑ دیا، اور اب جتنے اچھے لکھنے والے ہیں سب مسلمان ہیں یا کایستھ۔
آخر زمانے میں سندیلے کے ایک منشی عبد الحی بھی بڑے باکمال خوشنویس تھے، جن کے شاگرد منشی امیر اللہ تسلیم، ان کے بڑے بھائی منشی محمد عبد اللطیف، اور منشی اشرف علی وغیرہ تھے۔ فی الحال نستعلیق میں منشی شمس الدین صاحب اور نسخ میں منشی حامد علی صاحب کو شہرت ہے، اور یہ دونوں منشی ہادی علی صاحب کے شاگرد ہیں۔
ہندوستان میں خط نسخ جن باکمالوں کی جانب منسوب کیا جاتا ہے ان میں سب سے پہلے شخص یاقوت مستعصمی کے لقب سے مشہور ہیں جو یاقوت اول کہلاتے ہیں۔ ہمیں اس نام کا کوئی باکمال کاتب مستعصم باللہ کے عہد میں نہیں نظر آتا۔ کیا عجب کہ اس سے مراد عماد کاتب جوینی الملقب بہ "فخر الکتاب" المتوفی ۵۹۷ھ ہو، جس کی کتاب "خریدہ" مشہور ہے، اور جو پہلے ارض شام میں سلطان اتابک نور الدین زنگی کا اور اس کے بعد مصر میں سلطان صلاح الدین ایوبی فاتح بیت المقدس کا کاتب تھا، اس لیے کہ نسخ کا سب سے بڑا آخری خوشنویس وہی مانا جاتا ہے۔ اس کے بعد سلطان اورنگ زیب عالمگیر کے عہد میں محمد عارف نام خط نسخ کے ایک بڑے باکمال پیدا ہوئے، جن کو یاقوت رقم ثانی کا خطاب دیا گیا۔ عموماً کہا جاتا ہے کہ انھوں نے خط نسخ کی نئی شان ایجاد کی اور بہ مقابل سابق کے اسے زیادہ خوبصورت بنا دیا، یہاں تک کہ نسخ کے اساتذۂ لکھنؤ دعویٰ کرتے ہیں کہ ان کے کمال کا ساری دنیائے اسلام نے اعتراف کر لیا۔ میں اس کے ماننے کے لیے تیار نہیں ہوں۔ یاقوت رقم ثانی کو ہندوستان میں چاہے جیسی فوقیت حاصل ہو گئی ہو، مگر ان ممالک میں جہاں کا قومی خط خط نسخ اور قومی مادری زبان زبان عرب ہے لوگ یاقوت رقم کا نام بھی نہیں جانتے، اور نہ ان کی شان کے پیرو ہیں۔
محمد عارف یاقوت رقم کے زمانے میں عبد الباقی نام ایک شخص تھے جن کا پیشہ حدادی یعنی لوہاری تھا۔ انھیں یاقوت رقم کی مرجعیت عامہ دیکھ کے شوق ہوا کہ خود بھی اس فن میں کمال پیدا کریں۔ اتفاقاً عبد اللہ طباخ نام نسخ کے ایک اور خوشنویس ان دنوں مشہور تھے۔ حداد جا کے ان کے شاگرد ہوئے، اور ایسی محنت کی کہ استاد کامل مشہور ہو گئے۔ جب ان دونوں کا زمانہ گزر گیا تو یاقوت رقم کی جگہ ان کے بھتیجے قاضی عصمت اللہ نے لی، اور حداد کی یادگار ان کے دو فرزند علی اکبر اور علی اصغر تسلیم کیے گئے۔
اس کے بعد ہندوستان میں بڑے بڑے خوشنویس پیدا ہوئے، اور برابر نسخ کی کتابت ہندوستان میں ترقی کرتی رہی۔ آخر میں شاہ غلام علی صاحب کو شہرت ہوئی جو نسخ کے باکمال خوشنویس تھے۔ اس کے بعد لکھنؤ میں ایک طرف مولوی ہادی علی صاحب کی شہرت ہوئی جن کا خاندان دہلی سے آیا تھا، اور کالپی کے ایک خوشنویس میر اکبر علی کے وہ شاگرد تھے۔ مولوی ہادی علی صاحب کو طغرا نگاری میں بڑا کمال حاصل تھا۔
منشی ہادی علی کے ہم عصر نسخ کے ایک مشہور خوشنویس میر بندہ علی مرتعش تھے۔ ان کے استاد نواب احمد علی نام ایک پرانے وقت کے رئیس اور نسخ کے باکمال استاد تھے۔ میر بندہ علی کے ہاتھ میں رعشہ تھا، مگر قلم جیسے ہی کاغذ پر لگتا معلوم ہوتا کہ لوہے کا ہاتھ ہے، کیا مجال کہ قابو سے باہر ہو۔ ان کی نظر خط کے پہچاننے میں ایسا کمال رکھتی تھی کہ بڑے بڑے لوگ لوہا مان گئے۔
منشی حامد علی صاحب فرماتے ہیں: ایک موقع پر منشی ہادی علی، منشی محمد یحییٰ (یہ بھی نسخ کے بڑے استاد تھے جنھوں نے طبع ہونے کے لیے لکھنؤ میں پہلا قرآن لکھا)، منشی عبد الحی سندیلوی، اور میر بندہ علی مرتعش ایک صحبت میں جمع تھے۔ یہ نسخ کے تمام باکمالوں کی صحبت تھی۔ کسی نے ایک قطعۂ نسخ فروخت کے لیے لا کے پیش کیا۔ گو اس میں کاتب کا نام نہیں لکھا تھا مگر ان باکمالوں نے بالاتفاق پہچان لیا کہ خاص یاقوت کے ہاتھ کا ہے، اور سب کو شوق ہوا کہ اسے اپنے قبضے میں کریں۔ مگر منشی ہادی علی صاحب نے کہا: "یہ ایک دن میرے پاس رہے تو مجھے غور کرنے کے بعد اطمینان ہو گا کہ در اصل یہ یاقوت کے ہاتھ کا ہے یا نہیں۔" مالک نے دے دیا، اور وہ اسے گھر لائے۔ دوسرے دن لے جا کے پیش کیا اور کہا: "واقعی یہ یاقوت ہی کے ہاتھ کا ہے۔ اسی کے ساتھ کا یاقوت کا ایک قطعہ میرے پاس بھی پڑا ہوا تھا۔ میں نے اسے لیجا کے اس سے ملایا تو بعینہ وہی پایا، اور مجھے یقین آ گیا کہ واقعی یاقوت کا ہے۔" اور دونوں قطعے سب کے سامنے رکھ دیے۔ سب نے بلا تامل تسلیم کر لیا کہ دونوں یاقوت ہی کے ہاتھ کے لکھے ہوئے ہیں۔ مگر میر بندہ علی نے منشی ہادی علی والے قطعے کو غور سے دیکھا، پھر مسکرائے، اور اس کے نیچے لکھ دیا: "این کار از تو آید و مردان چنین کنند۔" یہ تحریر دیکھ کے منشی عبد الحی صاحب بگڑے اور کہا: "کیا آپ کو اس میں کچھ شک ہے؟" میر بندہ علی نے کہا: "یہ قطعہ تو یاقوت کے ہاتھ کا نہیں ہو سکتا۔" منشی عبد الحی اور دیگر حریفان صحبت نے دعویٰ کیا کہ "یہ خاص یاقوت کے ہاتھ کا ہے۔" میر بندہ علی نے اس میں ایک واو کا سرا دکھایا اور کہا: "یہ یاقوت کا نہیں ہو سکتا۔" اب سب لوگ گو مگو میں پڑے ہوئے تھے کہ منشی ہادی علی نے اس وصلی کا ایک کونا پھاڑ کے کاغذ کی تہ کے اندر سے نکال کے اپنا نام دکھا دیا، اور سب کو یقین آ گیا کہ یہ کارستانی منشی ہادی علی صاحب کی تھی۔ سب نے ان کی بیحد تعریف کی، اور انھوں نے کہا: "مگر میں تو میر بندہ علی صاحب کی نظر کا قائل ہو گیا۔"
خوشنویسوں کے عام مذاق کے مطابق میر بندہ علی صاحب سے بھی قطعہ نویسی کے سوا کتابت غیر ممکن تھی۔ زندگی بھر کبھی کوئی چھوٹی کتاب بھی نہ لکھی گئی۔ حاجی حرمین شریفین نے جب مطبع جاری کیا تو بہزار منت و سماجت میر بندہ علی کو اس پر راضی کیا کہ انھیں ایک پنجسورہ لکھ دیں۔ میر بندہ علی نے بڑی محنت سے اور خدا جانے کتنے دنوں میں لکھا اور لے گئے، مگر حاجی صاحب کے سامنے جب اس پر آخری نظر ڈالی تو کچھ ایسا ناپسند ہوا کہ بجائے حاجی صاحب کے حوالے کرنے کے پھاڑ ڈالا، اور کہا: "بھئی مجھ سے نہیں ہو سکتا۔"
ان بزرگوں کے تذکرے سے میرا یہ مقصد نہیں ہے کہ خوشنویسی میں لکھنؤ کو کوئی ایسا امتیاز حاصل ہو گیا تھا جو ہندوستان میں عدیم النظیر ہو۔ بخلاف اس کے میرا خیال ہے کہ نسخ کے جیسے جیسے باکمال دولت مغلیہ سے پہلے ہندوستان میں گزر چکے ہیں ان کے عشر عشیر درجے کو بھی یہ لوگ نہیں پا سکتے، بلکہ نسخ کا کمال ان دنوں مٹ چکا تھا۔ نستعلیق کے متعلق اس قدر البتہ کہا جا سکتا ہے کہ حافظ نور اللہ اور حافظ ابراہیم کے ہاتھ کے قطعات جس ذوق و شوق سے سارے ہندوستان میں مقبول ہوئے اور کسی خوشنویس کے شاید نہ ہو سکے ہوں گے۔ لیکن اس پر بھی خطاطی کے فن میں لکھنؤ کا درجہ قریب قریب وہی تھا جو دیگر متمدن شہروں کا ہو سکتا ہے۔
مگر لکھنؤ کی خوشنویسی نے مطبع کی ترقی میں جو کام کیا شاید کہیں کی خوشنویسی نہ کر سکی ہو گی۔ مجھے اس کی تحقیق نہیں ہے کہ ہندوستان میں سب سے پہلے مطبع کہاں سے جاری ہوا۔ کلکتے میں اردو لٹریچر کی ترقی اور نیز عام مشرقی علوم کی تقویت میں بہت کچھ اہتمام کیا گیا، مگر وہاں ٹائپ کے سوا پتھر کے چھاپے کی پرانی کتابیں میں نے نہیں دیکھیں۔
لکھنؤ میں بہ عہد غازی الدین حیدر (سنہ ۱۲۳۳ محمدی تا سنہ ۱۲۵۶ محمدی مطابق سنہ ۱۸۱۴ء تا سنہ ۱۸۲۷ء) آرچر [?] نام ایک یوروپین نے آ کے لوگوں کو مطبع کا خیال دلایا، اور جب اہل علم مشتاق ہوئے تو اس نے پہلا مطبع لکھنؤ میں کھولا۔ اس نے پریس اور تمام سامان یہیں تیار کرا کے چھاپنا شروع کیا، اور زاد المعاد، ہفت قلزم اور تاج اللغات (جو بہت سی جلدوں میں تھی) چھاپ کے پبلک کے سامنے پیش کیں۔ اس سے سیکھ کے اور لوگوں نے بھی مطبع جاری کرنا شروع کیے، جن میں سب سے پہلا مطبع غالباً حاجی حرمین شریفین کا تھا۔ انھیں دنوں مصطفیٰ خان شیشہ آلات کے ایک دولتمند تاجر کچھ چھاپنے کے لیے حاجی حرمین کے پاس لے گئے، اور حاجی صاحب کی زبان سے کوئی ایسا سخت کلمہ نکل گیا کہ مصطفیٰ خان نے گھر آ کے خود اپنا مصطفائی مطبع جاری کر دیا، جسے غیر معمولی فروغ حاصل ہوا۔ تھوڑے دنوں بعد علی بخش خان نے علوی مطبع جاری کیا، اور لکھنؤ میں کثرت سے چھاپے خانے کھلنے لگے۔
ابتداءً طبع کا کام یہاں تاجرانہ اصول پر نہیں بلکہ شوقینی کی شان سے جاری ہوا۔ عمدہ سے عمدہ آروی کاغذ لگایا جاتا جو پتھر کے چھاپے کے لیے نہایت ہی موزوں تھا۔ بڑے بڑے خوشنویسوں کو مجبور کر کے اور بڑی بڑی تنخواہیں دے کے ان سے کتابت کا کام لیا جاتا، اور بغیر اس کے کہ کارگزاری کی کچھ بھی شرط ہو یا اس کا ذرا بھی خیال کیا جاتا ہو کہ وہ دن بھر میں کتنا لکھتے ہیں، یا لکھتے بھی ہیں یا نہیں، ان کی خاطر داشت کی جاتی۔ اسی طرح پریس مینوں سے بھی نہ پوچھا جاتا کہ دن بھر میں کتنے کاغذ چھاپے۔ روشنائی کے لیے کڑوے تیل کے ہزاروں چراغ روشن کر کے اول درجے کا کاجل تیار کیا جاتا۔ کھٹائی کے عوض لیموں کا عرق ہی صرف ہوتا، اور کپڑے کی جگہ اصلی اسفنج کام میں لایا جاتا۔ غرض ہر چیز اول درجے کی کام میں لائی جاتی۔ اس اہتمام کا نتیجہ یہ تھا کہ شاہی کے زمانے میں فارسی و عربی کی درسی و دینی کتابیں جیسی لکھنؤ میں چھپ کے تیار ہوئیں اہل بصیرت کے نزدیک کہیں نہ چھپ سکی ہوں گی۔ اس وقت کی چھپی ہوئی کتابیں جس کسی کے پاس موجود ہیں ایک دولت ہیں، اور لوگ ڈھونڈھتے ہیں اور نہیں پاتے۔
میرے والد کے حقیقی چچا مولوی احمد صاحب کو سفر اور تجارت کا بڑا شوق تھا، اور اس زمانے میں جبکہ لوگ گھر سے باہر قدم نکالتے ڈرتے تھے انھوں نے حاجی حرمین شریفین کے ایجنٹ کی حیثیت سے رتھوں اور بیل گاڑیوں پر سوار ہو کے اور ہزاروں کتابیں ساتھ لے کے لکھنؤ سے راولپنڈی تک سفر کیا تھا۔ ان کا بیان تھا کہ "کتابیں ان دنوں عنقا تھیں۔ یہاں کی مطبوعہ کتابوں کو دیکھ کے لوگوں کی آنکھیں کھل جاتی تھیں اور پروانہ وار گرتے تھے۔ لوگوں کے شوق کا یہ عالم تھا کہ ہم جس شہر یا گاؤں میں پہنچتے ہم سے پہلے ہماری خبر پہنچ چکتی، اور ہمارا داخلہ عجب شان و شوکت سے ہوتا۔ ادھر ہم کسی بستی میں پہنچے، ادھر خلقت نے گھیر لیا، بھیڑ لگ جاتی تھی، اور ہم جس کتاب کو جس قیمت پر دیتے لوگ بے عذر لے کے آنکھوں سے لگاتے۔ ہم کریما، مامقیماں وغیرہ کو فی جلد ۶ یا ۸ آنے کے حساب سے، اور گلستان بوستان کو فی جلد تین روپیہ یا چار روپیہ کے نرخ سے بیچتے۔ اور اس پر یہ حال تھا کہ ہم مانگ کو پورا نہ کر سکتے۔ ایک شہر سے دوسرے شہر تک پہنچتے پہنچتے کتابوں کا ذخیرہ ختم ہو جاتا اور نئے مال کے انتظار میں مہینوں ٹھہر جانا پڑتا۔ ان دنوں مال کا پہنچنا دشوار تھا، مگر ہم نے ایسا انتظام کر لیا تھا کہ برابر مال لکھنؤ سے آتا رہتا۔"
شاہی کے آخر دور میں مصطفائی مطبع اپنی چھپائی کے لحاظ سے دنیا میں جواب نہ رکھتا تھا۔ انتزاع سلطنت کے بعد منشی نول کشور نے اپنا مطبع جاری کیا۔ گو وہ چھپائی کی خوبی میں مصطفائی مطبع کا مقابلہ نہیں کر سکا، مگر تجارت کے اصول پر عمل کر کے اس نے فارسی و عربی کی اتنی اتنی بڑی ضخیم کتابیں چھاپ دیں کہ آج کسی مطبع کو ان کے طبع کی جرأت نہیں ہو سکتی۔ سچ یہ ہے کہ لکھنؤ میں اگلی شوقینی نے پریس کا ایسا مکمل سامان جمع کر رکھا تھا کہ اس سے فائدہ اٹھانے کے لیے منشی نول کشور ہی کے ایسے بلند حوصلہ صاحب مطبع کی ضرورت تھی۔ آخر نول کشور پریس نے یہاں تک عروج پایا کہ سارے مشرقی لٹریچر کو اس نے زندہ کر دیا، اور باعتبار وسعت طبع کے جو فوقیت لکھنؤ کو حاصل ہو گئی اور کسی شہر کو نہیں نصیب ہو سکتی۔ اور اسی کی برکت تھی کہ وسط ایشیا میں کاشغر و بخارا تک اور افغانستان و ایران کی ساری علمی مانگ لکھنؤ ہی پوری کر رہا تھا۔ چنانچہ آج تک نول کشور پریس علمی تجارت کی کنجی ہے، جس سے کام لیے بغیر کوئی شخص علمی دنیا میں قدم نہیں رکھ سکتا۔
مگر افسوس اب لکھنؤ میں باوجود کثرت مطابع کے چھپائی کی حالت ایسی خراب ہو رہی ہے اور روز بروز ابتر ہوتی جاتی ہے کہ دوسرے شہر اس پر فوقیت لے گئے ہیں، اور ہماری نظر میں پریس مینوں کی اخلاقی حالت خراب ہونے کی وجہ سے اب لکھنؤ میں اکثر شہروں کے مقابلے میں خراب چھپتا ہے۔ مگر ہمارے اطمینان کے لیے اتنا کافی ہے کہ کانپور میں منشی رحمت اللہ صاحب کی وجہ سے مطابع کی حالت اچھی ہے، اور کانپور در اصل لکھنؤ ہی کی ترقیوں کا ایک ضمیمہ ہے۔
مطبع ہی کے ساتھ لکھنؤ میں مصلح سنگی کا فن ایجاد ہوا۔ پتھر پر جو کاپی جمائی جائے اسے کسی حد تک چھیل کے اور قلم لگا کے درست کرنا غالباً یورپ ہی سے شروع ہوا ہو گا، اور وہاں اب بھی کیا عجب کہ اصلاح کا یہ عمل جاری ہو۔ مگر نسخ و نستعلیق کے حرفوں کو اس وضع سے درست کرنا کہ خوشنویس کی پوری شان باقی رہے اور کسی کو محسوس نہ ہو سکے کہ اس میں کسی اور کا بھی قلم لگا ہے خاص لکھنؤ کی ایجاد ہے۔ جہاں ابتداءً یہ فن تو اسی حد پر محدود تھا کہ حروف اور نقش و نگار جا بجا جس قدر اڑ گئے یا کچل کے پھیل گئے ہوں ان کو درست کر دیا جائے، مگر چند روز بعد یہاں کی جدت پسندی اس حد سے آگے بڑھی، اور ایسے باکمال مصلح سنگ پیدا ہونے لگے جو پتھر پر پوری پوری کتابیں الٹی لکھ دیتے ہیں اور خط اپنی حدود پر اس قدر مکمل رہتا ہے کہ مجال کیا جو کوئی پہچان سکے کہ یہ پتھر پر الٹا لکھا گیا ہے۔
ابتداءً اس کے صاحب کمال موجد ایک پرانے بزرگ تھے جو مصطفائی مطبع کی شہرت و ناموری کے باعث ہوئے۔ ان کے زمانے ہی میں ان کے شاگردوں کی کثرت نے یہاں کے مطابع کو فائدہ پہنچایا۔ بہت سے لوگوں نے ترقی کی، اور شہر سے مصلح سنگ بہم پہنچانے لگا۔ جب مصلح سنگی بہت عام ہو گئی تو منشی جعفر حسین نام ایک مشہور مصلح سنگ کو ان کی اعلیٰ مشاقی نے آمادہ کیا کہ مطبع کو کاپی نویسی سے بے پروا کر دیں۔ انھوں نے پتھر پر الٹا لکھنا شروع کیا۔ یہ کام ابتداءً چھوٹے چھوٹے بازاری مطابع سے شروع ہوا، اور آخر میں اعلیٰ و ادنیٰ سب مطبعوں میں ایک حد تک اختیار کر لیا گیا۔ اب منشی سید علی حسین صاحب نے اس حد تک ترقی کی کہ ان کے الٹے لکھے ہوئے خط کو بہت سے مشہور خوشنویس بھی نہیں پا سکتے۔ چنانچہ ان کی الٹی کتابت کا ایک معمولی نمونہ ہمارا دلگداز بھی ہے، جس کی کاپیاں نہیں لکھی جاتیں بلکہ منشی علی حسین صاحب مضامین کو پتھر پر الٹا لکھ دیا کرتے ہیں۔ ناظرین دلگداز کو پڑھ کے اور اس کے خط پر غور کر کے اندازہ فرما سکتے ہیں کہ مصلح سنگی کا فن لکھنؤ میں کس درجۂ کمال کو پہنچ گیا ہے۔ گو کہ ہندوستان کے اکثر شہروں میں مصلح سنگ لکھنؤ ہی کے ہیں، لیکن اس وقت تک کسی اور شہر کے مطابع کو یہ بات نہیں نصیب ہوئی کہ کاپیاں جمانے کے عوض عبارت پتھروں پر الٹی لکھوا کے چھاپیں۔ یہ فن آج تک لکھنؤ ہی تک محدود ہے۔ مگر افسوس پریس مینوں کی حالت خراب ہو جانے کے باعث لکھنؤ مصلح سنگی کے اس کمال سے اس قدر فائدہ نہیں اٹھا سکتا جس قدر کہ ہونا چاہیے۔
Que vous laisse ce chapitre ?
Connectez-vous pour réagir
Discussion
Personne n’a encore parlé. Dites ce que ce chapitre a remué en vous.