Urdu in Translation
Recherche

Chapitre 14 sur 56

Learning and the Scholars of Lucknow

علم اور لکھنؤ کے علما

Abdul Halim Sharar

Écriture
Taille

(۱۳)

زبان اور شاعری کے کمالات کے ساتھ لکھنؤ نے علم و فضل میں بھی ہندوستان کے تمام شہروں سے زیادہ ترقی کی۔ اگر سچ پوچھیے تو علوم کے اعتبار سے لکھنؤ ہندوستان کا بغداد و قرطبہ اور اقصائے مشرق کا نیشاپور و بخارا تھا۔

یہاں کے علم و فضل کا آغاز علمائے فرنگی محل سے ہوا، جن کے حالات کی طرف اس مضمون کے آغاز میں اشارہ کیا جا چکا ہے۔ علم بیشک یہاں دہلی ہی سے آیا ہو گا، لیکن پرانے زمانے میں علمائے دہلی میں سے صرف ایک شیخ عبد الحق نظر آتے ہیں جنھوں نے حدیث اور علوم دینیہ میں شہرت دوام حاصل کی۔ فرنگی محل کے سے کسی دار العلوم کا وہاں کسی زمانے میں پتہ نہیں لگتا۔ ہاں فرنگی محل کے مشہور ہو جانے کے بعد دہلی میں شاہ ولی اللہ صاحب کا خاندان البتہ بہت مشہور ہوا، جن کے فیض و برکت سے آج ہندوستان کے تمام شہروں میں علم حدیث کی تعلیم جاری ہوئی۔ لیکن اگر علم حدیث کی تعلیم اس نامور خاندان دہلی کی یادگار ہے تو اس کے ساتھ ہی صرف و نحو، منطق و حکمت، اور معانی و بیان اور دیگر فنون درسیہ کی تعلیم لکھنؤ کی نامور یونیورسٹی فرنگی محل کی یادگار ہے۔

غائر نظر ڈالنے اور جستجو سے صاف پتہ چلتا ہے کہ جیسے معقولی علما لکھنؤ اور خاص فرنگی محل میں پیدا ہوئے کبھی کسی زمانے میں اور کسی جگہ ہندوستان میں نہیں پیدا ہو سکے تھے۔ اس کا قطعی ثبوت یہ ہے کہ سلسلۂ درس میں جو کتابیں جاری ہیں وہ یا تو سلف کے ناموران عجم کی تصنیف ہیں، یا فرنگی محل والوں کی، یا ان لوگوں کی جنھوں نے فرنگی محل سے فیض حاصل کیا تھا۔

مجتہدین شیعہ کا آغاز بھی فرنگی محل ہی سے ہوا۔ لکھنؤ کے پہلے مجتہد مولوی دلدار علی صاحب نے بھی ابتداءً کتب درسیہ فرنگی محل ہی میں پڑھی تھیں۔ پھر عراق میں جا کے علمائے کربلا و نجف کے سامنے زانوئے شاگردی تہ کیا، اور واپس آ کے خود فرنگی محل والوں کی تصدیق و تقریب سے مجتہد اور شیعہ فرمانروایان وقت کے مقتدا قرار پا گئے۔ انھوں نے چونکہ عراق میں تعلیم پائی تھی لہذا عربی کا نیا ادبی ذوق اپنے ساتھ لائے، اور ادبیت میں خاندان اجتہاد اور لکھنؤ کے شیعہ علما کو فرنگی محل والوں پر ہمیشہ فوقیت حاصل رہی، اور آج تک حاصل ہے۔

علمائے شیعہ کے ادبی مذاق نے لکھنؤ کو ادب کی تعلیم کا اعلیٰ ترین مرکز بنا دیا، جس نے مفتی میر عباس صاحب کا ایسا ادیب گرانمایہ پیدا کیا۔

علوم دینیہ میں سے فقہ، اصول فقہ، کلام اور عقائد میں؛ علوم ادبیہ میں سے نحو و صرف اور معانی و بیان میں؛ علوم عقلیہ میں سے منطق، فلسفہ، طبعیات و الہیات میں؛ اور علوم ریاضی میں سے اقلیدس اور ہیئات میں علمائے فرنگی محل کو خاص ناموری حاصل تھی، اور سارے ہندوستان میں ان علوم کی تعلیم کا مرکز اصلی لکھنؤ تھا۔ ادب، شاعری اور عروض عربی کو علمائے شیعہ و مجتہدین لکھنؤ نے اپنا بنا لیا تھا۔

مناظرہ، جس سے ہماری مراد یہاں خاص کلامی مباحث اور شیعہ و سنی کا باہمی رد و قدح ہے، اس فن کا آغاز ہندوستان میں قاضی نور اللہ شوستری سے ہوا جو ایران سے خاص اس لیے آئے تھے کہ سنیوں کی تردید کریں۔ جب ہی سے یہاں شیعہ سنی میں جھگڑے پیدا ہو گئے۔ اور آخر قاضی صاحب کے ایک مدت بعد شاہ عبد العزیز محدث دہلوی نے شیعوں کی رد میں تحفۂ اثنا عشریہ لکھی۔ مولوی دلدار علی صاحب نے اس کے بعض ابواب کی تردید میں کچھ لکھا۔ پھر مولانا حیدر علی پیدا ہوئے جو اصل میں رہنے والے تو فیض آباد کے تھے مگر ان کا نام لکھنؤ ہی سے چمکا۔ انھوں نے منتہی الکلام لکھی جو شیعوں کی تردید میں اعلیٰ ترین کتاب سمجھی جاتی تھی۔ اسی زمانے میں مولوی لطف اللہ صاحب نے جو لکھنؤ میں تحصیل علم کر کے یہیں کے ہو گئے تھے اپنی کئی کتابیں لکھیں جن میں تحقیق و تردید کے علاوہ شوخی بیان بھی تھی۔ میاں مشیر نے ان کی تردید بڑے زور و شور سے کی، لیکن سچ یہ ہے کہ ان کی کتاب تردید کے درجے سے گزر کے ہزل گوئی و ہجو کی سرحد میں داخل ہو گئی۔ آخر میں مولوی حامد حسین صاحب نے سنیوں کے مذہب کی تردید میں بہت بڑی بڑی ضخیم کتابیں لکھ دیں جن میں محدثانہ شان سے سنیوں کے مذہب کی تردید کی ہے، اور اب ہم دیکھتے ہیں کہ مولوی عبد الشکور صاحب بھی اس فن میں اہل سنت کی طرف سے نمود حاصل کر رہے ہیں۔

ہمارے مذاق میں مذہبی رد و قدح چاہے کسی فریق کے لوگوں کو خوش کر دے مگر بالکل بے نتیجہ ہے، اور اس کے نفع سے مضرت بڑھی ہوئی ہے۔ لیکن اس موقع پر ہمیں صرف یہ دکھانا ہے کہ اس فن میں بھی لکھنؤ نے جو عروج حاصل کیا ہے اس سے پہلے کبھی کسی شہر کو نہیں نصیب ہو سکا تھا۔

علوم دینیہ میں سے لکھنؤ میں تفسیر، حدیث، رجال اور تاریخ کی کمی تھی۔ ان میں سے تفسیر کا فن ایک معمولی درجے تک لکھنؤ میں موجود تھا، اور جتنا تھا اس سے زیادہ اور بھی کہیں نہ تھا۔ تاہم بعض شہروں میں بعض نامور مفسر گزرے ہیں مگر ان کا تبحر و کمال انھیں کی ذات تک محدود رہا اور انھیں پر ختم ہو گیا۔ حدیث کو دہلی ہی کے ساتھ خصوصیت رہی۔ آخر عہد میں مولانا محمد عبد الحی مرحوم مکۂ معظمہ کے شیوخ حدیث سے درس و روایت حدیث کی سند حاصل کر کے آئے اور سلسلۂ درس بھی جاری کر دیا، مگر اس فن کو یہاں اچھا نشو و نما نہیں ہونے پایا۔ رجال کا فن حدیث کے تابع ہے۔ حدیث میں جس قدر توغل بڑھتا ہے اسی قدر فن رجال میں انسان کی بصیرت بڑھتی جاتی ہے۔ لہذا علمائے لکھنؤ جس قدر حدیث کے فن میں ناقص تھے اسی قدر رجال میں بھی ناقص رہ گئے۔ باقی رہی تاریخ، اس فن کو ہندوستان میں کبھی عروج نہیں حاصل تھا۔ اس میں شک نہیں کہ سوسائٹی کی ضرورت سے فارسی دانوں میں تاریخ کا بہت کچھ مذاق تھا، مگر علمائے ہند نے اس فن کو افسانہ خوانی سے زیادہ وقعت کبھی نہ دی، جس کی وجہ سے عموماً علما میں ایک بہت بڑا نقص رہ جاتا تھا۔ اور یہی چیز تھی جس نے ہندوستان کے بچے بچے کے ذہن میں یہ خیال پیدا کر دیا کہ "عالموں کو زمانہ شناسی سے کیا کام؟ وہ لوگ تو سیدھے سادے جنتی ہوتے ہیں!"

لیکن زمانے کی ضرورتیں دیکھ کے دونوں فریق کے علما نے اپنے نصابوں میں مناسب اضافہ شروع کر دیا ہے، اور دوسری طرف ندوۃ العلما کا دار العلوم قائم ہے جو ان ضروری علوم کی طرف خاص توجہ کر رہا ہے جو اس وقت تک متروک تھے۔

لیکن ان نقصانات کے ساتھ بھی لکھنؤ میں جو کچھ ہوا دیگر مقامات سے بہت زیادہ ہی۔

Que vous laisse ce chapitre ?

Connectez-vous pour réagir

Discussion

Personne n’a encore parlé. Dites ce que ce chapitre a remué en vous.

Ce chapitre vous a plu ? Partagez-en une ligne.