Urdu in Translation
Buscar

Capítulo 13 de 56

The Language of Every Class: Wit, Storytelling and Speech

ہر طبقے کی زبان: ضلع جگت، داستان گوئی اور گفتگو

Abdul Halim Sharar

Escritura
Tamaño

(۱۲)

لیکن زبان اردو کو جو ترقیاں لکھنؤ میں حاصل ہوئیں وہ شاعروں، ادیبوں، نثاروں اور مصنفوں ہی تک محدود نہیں ہیں۔ مختلف سوسائٹیوں اور طبقوں میں ترقی و وسعت زبان کی نئی نئی صورتیں پیدا ہوئیں جنھوں نے ہر گروہ والوں کے لیے خاص دلچسپیاں پیدا کیں۔

ان میں سے زیادہ قابل توجہ داستان گوئی ہے، جو در اصل فی البدیہ تصنیف کرنے کا نام ہے۔ یہ فن اصل میں عربوں کا ہے جہاں عہد جاہلیت میں بھی داستان گوئی کی صحبتیں مرتب ہوا کرتی تھیں۔ لیکن ہندوستان کی داستان گوئی کی نسبت ہم نہیں جانتے کہ عرب کی قصہ خوانی سے اس کا کوئی رشتہ ہے یا نہیں۔ امیر حمزہ کی داستان جو داستان گویوں کی اصلی اور حقیقی جولانگاہ ہے وہ در اصل فارسی میں تھی، اور کہتے ہیں کہ شہنشاہ اکبر کے زمانے میں امیر خسرو نام ایک قابل شخص نے اسے تصنیف کیا۔ تاریخ سے ثابت ہے کہ لوگ تغلق کے عہد میں داستان امیر حمزہ موجود تھی۔

دہلی کے مشہور داستان گو لکھنؤ میں آنا شروع ہوئے۔ یہاں افیونیوں نے ان کی یہاں تک قدر کی کہ داستان سننے کو اپنی صحبتوں کا ایک عنصر اعظم قرار دے لیا۔ چند ہی روز میں لکھنؤ کے اندر اس کو اس قدر فروغ ہو گیا کہ کوئی دولتمند نہ تھا جس کی سرکار میں کوئی داستان گو نہ مقرر ہو۔ سیکڑوں داستان گو پیدا ہو گئے۔ سچ تو یہ ہے کہ ہمارے آج کل کے مقبول سے مقبول اسپیکروں میں سے ابھی تک کسی کو فصیح البیانی میں وہ درجہ نہیں نصیب ہو سکا ہے جو قادر الکلام داستان گویوں کو حاصل تھا۔ دہلی میں بھی دو ایک صاحب کمال داستان گو آج تک پڑے ہیں، مگر لکھنؤ میں ان کا شمار بہت زیادہ ہے، اور ان کے طرز تقریر کا اثر عوام شہر کی زبانوں پر بیحد پڑ گیا ہے۔ ناولوں کا ذوق پیدا ہونے کے بعد جب اس بات کی کوشش کی گئی کہ داستان گویوں کی زبان میں داستان قلمبند کرا لیا جائے تو لکھنؤ ہی ایسے باکمال داستان گو پیش کر سکا جنھوں نے ضخیم جلدیں لکھ کے اردو داں پبلک میں پھیلا دیں۔ چنانچہ جاہ اور قمر کے تصانیف ملک میں بڑی قدر کی نگاہوں سے دیکھے جاتے ہیں۔

داستان کے چار فن قرار پا گئے ہیں: رزم، بزم، حسن و عشق، اور عیاری۔

ان چاروں فنون میں لکھنؤ کے داستان گویوں نے ایسے ایسے کمال دکھائے ہیں جن کا اندازہ بغیر دیکھے اور سنے نہیں ہو سکتا۔ الفاظ میں تصویر کھینچنا اور تصویروں کا نہایت گہرا دیرپا اثر سامعین کے دلوں پر ڈال دینا ان لوگوں کا خاص کمال ہے۔

سوشل تفنن، مذاق ظرافت اور دل لگی کے عنوان سے بھی لکھنؤ میں علم زبان کے کئی فن پیدا ہو گئے جن میں کوئی مقام لکھنؤ کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔ انھیں میں سے ایک فن پھبتی کہنا ہے۔ اس کو در اصل شاعرانہ تشبیہ و استعارے سے تعلق ہے، لیکن اس میں اتنی خصوصیت ہے کہ یہ کسی کو بگاڑ کے دکھانے، اس کے عیب کے نمایاں کرنے، اور برجستہ کوئی انوکھی، ہنسانے والی اور عیب و نقصان ظاہر کرنے والی تشبیہ پیش کر دینے تک محدود ہے۔ لکھنؤ کے ادنیٰ ادنیٰ لڑکے، بازاری عورتیں، جاہل دکاندار، ادنیٰ طبقوں کے اہل حرفہ تک ایسی برجستہ پھبتیاں کہہ جاتے ہیں کہ باہر والوں کو حیرت ہو جاتی ہے۔ ایک صاحب کربلائے معلیٰ کی زیارت کر کے واپس آئے اور براق کپڑے پہن کے دوستوں میں آ کے بیٹھے ہی تھے کہ ایک لونڈے نے کہا: "آہا! یہ فرات کا بگلا کہاں سے آ گیا؟" ایک بوڑھے دولھا خضاب کر کے دولھن بیاہنے کو آئے اور بڑی دھوم کی برات لائے۔ زنانے سے نکل کے وہ محفل میں آ رہے تھے۔ جوتا اتارنے کے لیے جھکے، اور چند قدم فرش پر گھٹنے ٹیک کے چلے۔ کسی کی زبان سے نکلا: "دولھا کہاں ہیں؟" شوخ مزاج رنڈی جو کھڑی مجرا کر رہی تھی ہنس کے بولی: "اے وہ مینوں مینوں چلا تو آتا ہے۔" ایک کبڑا چوک میں پونڈے بیچ رہا تھا، صدا یہ تھی کہ "ارے بھئی یہ کنکوے کون لوٹے گا؟" کیا اس سے زیادہ بامذاق کوئی استعارہ ہو سکتا ہے؟ نازک ترین استعارہ وہ ہے جس میں مشبہ اور مشبہ بہ دونوں کا نام نہ لیا جائے، صرف مشبہ بہ کی کوئی خصوصیت بتا کے کلام میں لطف پیدا کر دیا جائے۔ اس کی اس سے بہتر مثال کون ہو سکتی ہے کہ نہ پونڈے کا نام لیا نہ لگے کا جس سے کنکوے لوٹے جاتے ہیں، صرف اتنا کہہ کے کہ "کنکوے کون لوٹے گا" یہ بتا دیا کہ یہ پونڈے لگوں کے لیے بہترین ہیں جن سے کنکوے لوٹے جاتے ہیں۔ اور پھر اس سے زیادہ مناسب اور بازاری لوگوں کے مذاق کی کوئی تشبیہ نہیں ہو سکتی۔ اسی طرح کی صدہا ہزارہا مثالیں ہیں جو یہاں کی صحبتوں میں اٹھتے بیٹھتے ہر وقت سنی جاتی ہیں۔

دوسرا "ضلع" ہے۔ یہ در اصل شاعرانہ رعایت ہے جس نے عوام کی بات چیت اور مذاق کی گفتگو میں آ کے خاص رنگ پیدا کر لیا ہے۔ ضلع میں کوشش کی جاتی ہے کہ جس چیز کا تذکرہ آ جائے اس کے تمام متعلقات کسی نہ کسی پہلو سے باتوں میں لے آئے جائیں۔ آزاد فقیر جو ایک خاص وضع رکھتے تھے ضلع بولنے میں باکمال مانے جاتے تھے۔ امانت نے اپنی شاعری میں رعایت کی اس قدر کوشش کی کہ تمام شاعرانہ خوبیوں سے قطع نظر کر کے رعایت ہی کو اپنا مقصد قرار دے لیا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ ان کا کلام شاعری کے درجے سے نکل کے ضلع بولنے کے علم میں داخل ہو گیا۔ مگر لکھنؤ کے اکثر عوام نے اپنی بے تکلفی کی صحبتوں میں اس فن کو اس قدر بڑھا دیا ہے کہ امانت کی شاعری پیچھے پڑ گئی۔ سچ یہ ہے کہ کسی جگہ کے لوگ ضلع بولنے میں اہل لکھنؤ کے عشر عشیر درجے کو بھی نہیں پہنچ سکتے۔ اس فن میں ایک کتاب بھی شائع ہوئی ہے۔

تیسرا فن تک بندی ہے۔ یہ شاعری کی قافیہ پیمائی ہے۔ بہت سے جاہل جب ادھر توجہ کرتے ہیں تو جواب سوال میں اس طرح فی البدیہ قافیہ استعمال کرتے ہیں کہ بڑے بڑے شعرا کو حیرت ہو جاتی ہے۔ ہم نے اپنے طالب علمی کے زمانے میں ایک ہندو بڑھیا کے کاتے والا دیکھا تھا جو صبح کو خوانچہ لگا کے نکلتا۔ صورت دیکھتے ہی صدہا بازاری لونڈے اسے گھیر لیتے، اور وہ سر راہ خوانچہ رکھ کے بیٹھ جاتا۔ فوراً لونڈوں سے اس سے تک بندی میں مقابلہ شروع ہو جاتا۔ سارا مجمع ایک طرف ہوتا۔ فریقین میں گالیوں کی بوچھار ہوتی، مگر شرط تھی کہ کوئی گالی تک سے باہر نہ ہو اور کوئی قافیہ رہ نہ جائے۔ ہم نے اسے بیسیوں بار دیکھا۔ گھنٹوں اس سے مقابلہ رہتا، مگر ہم نے کبھی نہیں دیکھا کہ وہ جواب میں کبھی عاجز رہا ہو۔ کوئی نہ کوئی قافیہ ڈھونڈھ کے پیش ہی کر دیتا تھا۔

اسی طرح مذاق اور گفتگو میں طرح طرح کی خیال آفرینیاں ہوتی تھیں، اور جاہل عوام بعض وقت ایسے خیالات پیش کر دیا کرتے تھے کہ بڑے بڑے شعرا حیرت میں رہ جاتے۔ یہ زمانہ در اصل لکھنؤ کا گولڈن ایج تھا۔ شاعری اور ادبی خوبیاں لوگوں کے رگ و پے میں سرایت کر گئی تھیں۔ ہر شخص جو معمولی طور پر پڑھنے میں شد بد ہو جاتا طبع آزمائی شروع کر دیتا۔ جہلا و عوام، ادنیٰ طبقے کے لوگوں اور گھر کی بیٹھنے والی عورتوں تک میں شاعرانہ لوچ اور ادبی نزاکتیں پیدا ہو گئی تھیں۔ ان پڑھ کپڑبیے شاعر تھے، اور جہلا کی زبان بھی اس قدر شستہ و رفتہ، اخلاقی حفظ مراتب کے الفاظ سے مملو، اور تمدنی آداب سے لبریز تھی کہ اکثر صاحب علم ان کی گفتگو سن کے ششدر رہ جاتے، اور کسی کو ان پر جاہل ہونے کا گمان بھی نہ ہوتا۔ سودا بیچنے والوں کی صدائیں شاعرانہ نکات اور فصاحت و بلاغت کے غوامض سے اس قدر آراستہ و پیراستہ تھیں کہ اوروں کو سمجھنا بھی دشوار تھا۔

ادنیٰ طبقے والوں نے بھی اپنے مذاق کے مطابق خاص ادبی دلچسپیاں پیدا کر لی تھیں۔ مثلاً ایک فن خیال کا پیدا ہو گیا۔ لوگ فی البدیہ اشعار تصنیف کر کے دائرے پر گاتے۔ اس کا نام خیال اس لیے رکھا گیا کہ ہر شخص اپنی تخییل کا جوہر دکھائے اور کوئی نئی بات پیدا کرے۔ اس فن میں یہاں بہت سے باکمال پیدا ہوئے جن کو اعلیٰ سوسائٹی اور تعلیم یافتہ لوگوں کی صحبتوں سے کوئی تعلق نہ تھا، مگر بجائے خود اگر غور کیجیے تو وہ اصلی اور فطری شاعری تھی، اور اسی وضع کی شاعری جیسی کہ عہد جاہلیت عرب میں تھی۔

اسی طرح ایک گروہ ڈنڈے والوں کا پیدا ہو گیا۔ ان لوگوں کی یہ شان تھی کہ قریب کے زمانے کے اہم اور مشہور واقعات کو کمال آزادی کے ساتھ موزوں کرتے۔ جو جیسا ہوتا چاہے وہ کتنا ہی بڑا صاحب اثر اور دولتمند ہو اسے ویسا ہی بڑی بیباکی سے دکھاتے، اور ثابت کرتے کہ ملک و قوم کو اس سے کیا فائدہ ہوا یا کتنا بڑا ضرر پہنچا۔ پھر اپنی ان نظموں کو ایک شعر خوانی کی خاص وضع میں ڈنڈے بجا بجا کے سناتے۔

عورتوں کی زبان مردوں کے مقابل ہر ملک اور ہر قوم میں زیادہ شستہ اور دلکش ہوتی ہے، مگر لکھنؤ میں یہ خاص بات تھی کہ محلات اور محترم خاندان کی معزز بیگموں کی زبان میں علاوہ نسائی دلفریبیوں کے ادبی اور شاعرانہ نزاکتیں پیدا ہو گئی تھیں۔ باتیں کرتیں تو معلوم ہوتا کہ منہ سے پھول جھڑ رہے ہیں، اور غور کیجیے تو صحت الفاظ، پیاری بندشیں، اور طرز ادا کی نزاکتیں بتاتیں کہ زبان کی خوبیاں اس سرزمین میں کس اعلیٰ کمال کو پہنچ گئی ہیں۔

¿Qué te deja este capítulo?

Inicia sesión para reaccionar

Conversación

Nadie ha hablado todavía. Cuenta qué removió en ti este capítulo.

¿Te ha gustado este capítulo? Comparte una línea.