Urdu in Translation
Recherche

Chapitre 12 sur 56

Urdu Prose

اردو نثر

Abdul Halim Sharar

Écriture
Taille

(۱۱)

نثر اردو کی عمر نظم کے دیکھتے کم ہے۔ مدت تک تعلیم یافتہ لوگوں کی یہ وضع رہی کہ اگرچہ بعض لوگ فارسی میں بھی شعر کہتے تھے مگر عام رجحان اور میلان اردو غزل سرائی کی طرف تھا، اور ہندوستان میں اردو شاعروں کی تعداد فارسی شاعروں سے بہت زیادہ تھی۔ مگر نثر میں سارے ملک کو فارسی ہی میں لکھنے پڑھنے کا شوق تھا۔ علوم و فنون کی کتابیں فارسی میں لکھی جاتیں۔ دین و مذہب کی کتابیں فارسی میں تصنیف ہوتیں۔ یہاں تک کہ بڈھے سے لے کے بچے تک سب فارسی ہی میں خط و کتابت کرتے۔ بچوں کو مکتب میں فارسی ہی کی انشائیں پڑھائی جاتیں اور فارسی ہی میں خط لکھنا انھیں سکھایا جاتا۔ نتیجہ یہ تھا کہ بول چال میں اردو زبان چاہے کیسی ہی شیریں و فصیح ہو گئی ہو، لکھنے کی ضرورت پیش آئی اور سب گونگے ہو گئے۔

پہلے پہل اردو میں میر امن دہلوی نے انگریزوں کی حوصلہ افزائی و ہدایت سے اپنی کتاب چار درویش لکھی۔ اسی زمانے میں میرزا علی لطف نے اپنا تذکرۂ شعرائے اردو تصنیف کیا جو عبد اللہ خان صاحب مقیم حیدر آباد کی کوشش سے چھپ گیا ہے۔ اسی زمانے کے قریب مولوی اسماعیل صاحب شہید نے توحید و اتباع سنت پر اپنی کتاب تقویۃ الایمان تحریر فرمائی۔ جو کتابیں اب چاہے جس نظر سے دیکھی جائیں ان دنوں ادبی کمال دکھانے کے لیے نہیں لکھی گئی تھیں۔ ان کی تصنیف سے صرف مقصود یہ تھا کہ بے تکلف اور سیدھی سادھی زبان میں مطلب ادا کر دیا جائے اور عوام فائدہ اٹھا سکیں۔ مذکورۂ بالا بزرگوں کو اگر ادب اردو کا کمال دکھانا ہوتا تو اس زمانے کی انشا پردازی کے اصول کے مطابق ظہوری و نعمت خان عالی اور ابو الفضل و طاہر وحید کا رنگ اختیار کرتے جو اس وقت ادبی دنیا پر حکومت کر رہا تھا، اور جس کے بغیر کوئی تحریر ملک میں قابل داد نہ تصور کی جاتی۔ تحریر ہی نہیں گفتگو میں بھی اگر زیادہ تہذیب و شائستگی ملحوظ خاطر ہوتی تو وہی انداز اختیار کر لیا جاتا، جیسا کہ سید انشا نے میرزا مظہر جان جاناں کی تقریر کے چند الفاظ نقل کر کے بتا دیا ہے۔

سچ پوچھیے تو اردو کی نثاری لکھنؤ ہی سے شروع ہوئی، جبکہ پہلے مرزا رجب علی بیگ سرور نے فسانۂ عجائب اور اپنی دوسری کتابوں کو شائع کیا۔ اسی زمانے میں یا بعد نو رتن بھی لکھنؤ میں لکھی گئی جس کے مصنف محمد بخش مہجور شاگرد جرأت لکھنؤ ہی کی صحبت کے ساختہ و پرداختہ تھے۔

رجب علی بیگ سرور نے سچ یہ ہے کہ انشا پردازی کا اعلیٰ کمال دکھایا ہے، اور جس وقت وہ کتاب شائع ہوئی ہے اردو صحبتوں میں حیرت کے ساتھ دیکھی گئی۔ مگر بدقسمتی سے انھوں نے دیباچے میں میر امن پر حملہ کر دیا تھا جس کی وجہ سے ان کے تمام کمالات اہل دہلی کے نزدیک خاک میں مل گئے، یہاں تک کہ میر محمد حسین آزاد کے سے مہذب بزرگ بھی انھیں "لکھنؤ کا شہدا" فرماتے ہیں۔ اور معلوم نہیں رجب علی بیگ مرحوم سے اس گستاخی کا انتقام کب تک لیا جائے گا؟ میر امن کا ہنر انشا پردازی انگریزوں کو ان دنوں چاہے نظر آ گیا ہو مگر ہندوستان کے اہل زبان میں سے کسی کو نہ نظر آیا تھا اور نہ نظر آ سکتا تھا، اس لیے کہ انگریزی تعلیم کے اثر نے اس وقت تک ملکی لٹریچر کا مذاق نہیں بدلا تھا، اور مشرقی ادب خیالوں اور دماغوں میں بسا ہوا تھا۔

ادبی رنگ کے متعلق میں نے کئی بار لکھا ہے اور پھر لکھتا ہوں کہ وہ بالکل تعلیم اور مذاق کی پرورش سے وابستہ ہوتا ہے۔ جس طرح غذاؤں، خوشبوؤں اور رنگوں اور دیگر تمام چیزوں کو گرد کی معاشرت پسندیدہ بنایا کرتی ہے، اور مختلف قوموں اور ملکوں میں اس قدر اختلاف رہتا ہے کہ ایک کی لذیذ ترین اور محبوب ترین چیز دوسرے کے نزدیک نہایت ہی بدمزہ اور سخت قابل نفرت ہوتی ہے، ویسے ہی ادب اور لٹریری مذاق کا حال ہے کہ جو رنگ ایک قوم میں پرورش پا کے دماغوں اور زبانوں پر چڑھ جاتا ہے دوسری قوم کے نزدیک بیہودہ، بے لطف اور بدمزہ ہوتا ہے، اور صحیح فیصلہ کوئی نہیں کر سکتا کہ کون اچھا ہے اور کون برا ہے۔

جاہلیت عرب میں فصاحت و بلاغت کا رنگ یہ تھا کہ مقفیٰ فقرے لائے جائیں، عبارت میں تناسب و متداول الفاظ مترادف آئیں، اور ایک ہی مطلب بار بار ادا کر کے موثر اور دلچسپ بنایا جائے۔ اسی مذاق کو قرآن نے چونکہ وہ لسان قوم میں تھا نہایت معجز نما طرز سے تکمیل کو پہنچایا۔ پھر وہی مذاق ادب عربی کا عنصر اعظم بن گیا۔ آج کل کے معیار سے دیکھا جائے تو عربی کی فصیح ترین کتابیں مقامات حریری و تاریخ تیموری وغیرہ میں قافیہ پیمائی، تطویل بیجا، اور بے ضرورت الفاظ لانے کے سوا کچھ نہیں ہے، جس کا مدتوں اور صدیوں تک ایک دنیا مزہ لیتی رہی ہے۔ یہی رنگ فارسی کے ادیبوں نے اختیار کیا، اور جوں جوں ادبی ترقی ہوتی گئی وہی رنگ پختہ اور گہرا ہوتا گیا۔ اور اس مذاق کے دماغوں میں بسے ہونے کی وجہ سے وہی رنگ اردو کے ادبائے اولین نے اختیار کیا اور دنیا سے داد پائی۔ لہذا یہ خیال کرنا کہ چار درویش جن دنوں لکھی گئی ہے ان دنوں وہ سوا انگریزوں کو پسند ہونے کے جو اردو کو جانتے ہی نہ تھے ہندوستان کے اہل علم میں کوئی ادبی کمال تصور کی گئی ہو گی بالکل بے اصل ہے۔

اب انگریزی کے اثر سے بیشک ایسا زمانہ آ گیا ہے جب اردو کو پرانے لٹریچر نے جو زیور اور لباس پہنایا تھا اتار لیا گیا اور نئے مغربی کپڑے پہنائے گئے۔ چار درویش اور اس کی سی دوسری کتابیں چونکہ پرانے ادبی زیور و لباس سے معریٰ تھیں اس لیے لوگوں کو پسند آئیں۔ اس لیے نہیں کہ ان میں کوئی خاص خوبی تھی، بلکہ اس لیے کہ اس پرانے مقبول عام قومی لٹریچر کے رنگ سے معریٰ تھیں جو موجودہ لوگوں کو ناپسند ہے۔

اسی زمانے میں لکھنؤ میں مولوی غلام امام شہید نے اپنا مشہور مولد شریف لکھا جو اس وقت کے ادبی مذاق میں اس قدر ڈوبا ہوا تھا کہ لوگوں کو بہت پسند آیا، اور مذہبی مقبولیت کی وجہ سے آج تک بہت پسند ہے۔

مگر موجودہ نثر اردو اصل میں دہلی ہی سے نکلی اور ہمیشہ دہلی کی زیر بار احسان رہے گی۔ مرزا غالب نے اردو انشا میں بے تکلفی کا رنگ اختیار کیا جو موجودہ مذاق سے بہت ہی قریب ہے۔ اگرچہ وہ بھی کبھی کبھی قافیہ بندی کی رعایت کر جاتے ہیں لیکن اس بے تکلفی کے ساتھ کہ پڑھنے والے کو قافیہ کا خیال بھی غور کرنے سے آتا ہے۔ موجودہ تعلیم نے لوگوں کو اس رنگ کو قبول کرنے کے لیے خوب تیار کر دیا تھا۔ ہر صحبت میں واہ واہ ہونے لگی۔ ان کے بعد سر سید نے اس سادگی میں متانت پیدا کی، مگر اس کوشش کے ساتھ کہ زبان دقیق نہ ہونے پائے، اور ایسی رہے کہ ہر ادنیٰ و اعلیٰ اسے سمجھ لے۔ مولوی محمد حسین آزاد نے اس میں متانت کے ساتھ اور لطف پیدا کر دیا، جبکہ لکھنؤ کے لوگ انگریزی کے اثر سے دور ہونے کے باعث ہنوز پرانے ہی رنگ کے دیوانے تھے۔ یہاں واجد علی شاہ کے آخر ایام زندگی تک رنگین اور مقفیٰ عبارت لکھی جاتی تھی اور لوگوں کو اس سادگی کا مزہ نہیں ملنے پایا تھا۔

اب علی گڑھ سے تہذیب الاخلاق، آگرے سے تیرھویں صدی، اور لکھنؤ سے اودھ پنچ نکل رہے تھے جن میں سے ہر ایک نثر اردو کی ایک ممتاز شان رکھتا تھا۔ تہذیب الاخلاق میں متانت اور عالمانہ وقار کے ساتھ قومی درد کا سوز و گداز تھا، سلجھی ہوئی صاف زبان تھی، اور نئے مغربی فلسفہ و ادب سے لیے ہوئے خیالات اور اثر ڈالنے والے مضامین و خطبات تھے۔ تیرھویں صدی میں اعلیٰ انشا، قابلیت کے ساتھ قدیم ادبی مذاق کی نگہداشت نئی خیال آرائیوں اور جدتوں کے ساتھ کی جاتی تھی، اور پرانا مشرقی لٹریچر کچھ ایسی جدت طرازیوں کے ساتھ نئے لباس میں ظاہر کیا جاتا تھا کہ نئے اور پرانے دونوں گروہوں سے بے اختیار "واہ واہ" کے نعرے بلند ہوتے تھے۔

اودھ پنچ میں زبان اپنی اصلی شان میں دکھائی جاتی تھی جس میں مذاق کا پہلو غالب رہتا۔ اس میں مختلف لکھنے والے تھے اور ہر ایک کا مذاق خاص لطف اور خاص خوبیاں رکھتا تھا۔ منشی سجاد حسین ایڈیٹر کی شوخیاں، مرزا مچھو بیگ صاحب کی کوثر کی دھوئی ہوئی زبان، منشی احمد علی کسمنڈوی کی فارسیت کی اعلیٰ ادبی اور شاعرانہ دلچسپیاں ظاہر کرنے والا رنگ، پنڈت تربھون ناتھ ہجر کی ہندی نظمیں اور ان کی خوبیوں کو نہایت دلچسپی کے ساتھ ظاہر کرنے والے مضامین اردو نثر میں ایک عجیب زندگی و شگفتگی پیدا کر رہے تھے۔

اسی اثنا میں اودھ اخبار کے ساتھ پنڈت رتن ناتھ کا ناول "فسانۂ آزاد" شائع ہونا شروع ہوا جس نے ملک پر بہت بڑا اثر ڈالا، اور اردو دنیا ناول نویسی کے مذاق سے آشنا ہو کے اس کی بے انتہا فریفتہ ہو گئی۔ فسانۂ آزاد میں جہاں مصنف نے اپنے قلم سے کوئی سین دکھایا ہے یا کوئی واقعہ لکھا ہے وہی فسانۂ عجائب کا پرانا رنگ ترقیوں کے ساتھ اختیار کیا ہے، اور جہاں دوسروں کی زبان سے گفتگو کرائی ہے بہت ہی سادی اور بے تکلف زبان رکھی ہے۔ خصوصاً عورتوں کی زبان بہت ہی پاکیزہ ہے، گو کہ جا بجا غلطیاں بھی ہو گئی ہیں۔ مگر سچ یہ ہے کہ اپنی کوشش میں وہ جس درجے تک پہنچ گئے ہیں ان سے پہلے کوئی نہیں پہنچا تھا۔

یہی زمانہ ہے جبکہ مولوی نذیر احمد صاحب نے گورنمنٹ کی فرمائش سے تعزیرات ہند کا ترجمہ کیا اور اپنی کتابوں کے ذریعے سے ایک ایسی زبان ملک کے سامنے پیش کی جو کہیں روانی اور صفائی میں بے نظیر ہے اور کہیں لغات عربی سے مملو ہونے کے باعث سخت دقیق و بلیغ۔ اور اسی عہد میں مولوی محمد حسین صاحب آزاد کا لٹریچر ایک بہت ہی پسندیدہ رنگ پیش کر رہا تھا۔ خصوصاً انھوں نے زبان اردو کی تاریخ اور تذکرۂ شعرائے اردو لکھ کے ادب اردو میں خاص ناموری حاصل کی۔

اسی زمانے میں سنہ ۱۸۸۲ء میں محشر نام ایک ہفتہ وار رسالہ میں نے مولوی محمد عبد الباسط صاحب محشر کے نام سے نکالا جس کے ذریعے سے ایڈیسن کا رنگ اردو میں ایسے دلکش عنوان اور موزوں و مناسب الفاظ و خیالات میں پیش کیا گیا کہ ملک یکبیک چونک سا پڑا۔ ساتھ ہی میرے مضامین اودھ اخبار کے کالموں میں شائع ہونا شروع ہوئے جنھوں نے ملک کے سامنے ایک بالکل نیا لٹریچر پیش کیا جو اس قدر مقبول ہوا کہ ہر طرف سے مرحبا کی صدائیں سنی جانے لگیں۔ یکایک نظر آیا کہ اکثر مضمون نگار اسی رنگ کو اختیار کر رہے ہیں، اور ملک کا عام رجحان اسی طرف ہے۔ اسی درمیان میں میں نے اپنا ناول دلچسپ اور موثر ڈراما شہید وفا ملک کے سامنے پیش کیا، اور ہر طرف سے حوصلہ افزائی ہونے لگی۔

آخر ملک کا اصرار و تقاضا دیکھ کے آغاز سنہ ۱۸۸۷ء سے میں نے رسالہ دلگداز جاری کیا جس کا لٹریچر انگریزی دانوں اور پرانے مذاق کے لوگوں دونوں میں مقبول ہوا۔ پھر سنہ ۱۸۸۸ء سے اس کے ساتھ تاریخی ناولوں کا سلسلہ جاری کیا گیا جن میں سب سے پہلا ناول "ملک العزیز ورجنا" ہے۔ ان ناولوں کو ملک نے جس شوق سے لیا اس کے بیان کرنے کی تو ضرورت نہیں ہے، مگر اتنا عرض کر دینا ضروری ہے کہ انھیں ناولوں کی وجہ سے واقعات کے معلوم کرنے اور کتابوں کے مطالعے کا شوق بڑھنے کی بنیاد پڑی۔ انھیں ناولوں کے ذریعے سے ملک میں تاریخ کے پڑھنے اور واقعات عالم سے دلچسپی حاصل کرنے کا شوق پیدا ہوا، اور انھیں ناولوں اور دلگداز کے صفحوں نے وہ رنگ پیدا کیا جس پر موجودہ ادب اردو کی بنیاد قائم ہے۔

بہرحال نثر اردو کا تعلق جہاں تک پرانے ادبی رنگ سے ہے اس کی بنیاد لکھنؤ میں پڑی۔ ہاں جدید رنگ کا آغاز دہلی سے ہوا، مگر اس کوشش میں جہاں تک ممکن ہوا لکھنؤ نے دہلی کی رفاقت کی۔ خصوصاً ظرافت کا مذاق تو لکھنؤ ہی سے پیدا ہوا اور لکھنؤ میں تکمیل کو پہنچا۔

Que vous laisse ce chapitre ?

Connectez-vous pour réagir

Discussion

Personne n’a encore parlé. Dites ce que ce chapitre a remué en vous.

Ce chapitre vous a plu ? Partagez-en une ligne.