
第 11 章,共 56 章
Poetry: the Masnavi, Rekhti and Other Forms
شاعری: مثنوی، ریختی اور دوسری اصناف
(۱۰)
فارسی شاعری کا اصلی اٹھان مثنوی سے ہوا ہے، اور یہ صنعت شاعری ہمیشہ سب سے زیادہ اہم اور باوقعت سمجھی گئی۔ ابتدا فردوسی کی رزمیہ مثنوی شاہنامے سے پڑی۔ پھر نظامی، سعدی، مولانائے روم، خسرو، جامی، اور ہاتفی وغیرہ نے اس میں اعلیٰ ترین شہرت و ناموری حاصل کی۔ اردو میں میر تقی میر نے چھوٹی چھوٹی بہت سی مثنویاں دہلی و لکھنؤ کے قیام کے زمانے میں لکھی تھیں مگر وہ اس قدر مختصر اور معمولی ہیں کہ مثنویوں کے تذکرے میں ان کا ذکر بھی بے محل سا معلوم ہوتا ہے۔
مثنوی لکھنے کا آغاز اردو میں میر ضاحک کے بیٹے میر غلام حسن حسن سے ہوا، جو بچپن ہی میں اپنے پدر بزرگوار کے ساتھ لکھنؤ چلے آئے تھے۔ یہیں کی صحبت میں ان کا نشو و نما ہوا تھا، یہیں پرورش پائی تھی، اور یہیں کی آب و ہوا کے آغوش میں ان کی شاعری پلی تھی۔ کیونکہ جس تعلیم اور جس سوسائٹی نے ان کی مثنوی "بے نظیر و بدر منیر" لکھوائی وہ خالص لکھنؤ کی تھی۔ اسی زمانے میں مرزا محمد تقی خان ہوس نے مثنوی لیلیٰ مجنون لکھی، اور لکھنؤ میں مثنویت کا مذاق بڑھنا شروع ہوا۔ آتش و ناسخ کے زمانے میں تو ذرا خاموشی رہی، مگر پھر جو یہ مذاق ابھرا تو پنڈت دیا شنکر نسیم نے گلزار نسیم، آفتاب الدولہ قلق نے طلسم الفت، اور نواب مرزا شوق نے بہار عشق، زہر عشق اور فریب عشق لکھیں، اور انھیں اس قدر عام نمود و شہرت اور عالمگیر مقبولیت حاصل ہوئی کہ ہر ادنیٰ و اعلیٰ کی زبان پر ان مثنویوں کے اشعار چڑھ گئے۔ اس سے پیشتر کے زمانے میں کسی صاحب نے مثنوی میر حسن کے جواب میں لذت عشق نام ایک مثنوی لکھی تھی، وہ نواب مرزا شوق کی مثنویوں کے ساتھ شائع ہونے کی وجہ سے انھیں کی جانب منسوب ہو گئی، لیکن حقیقت میں نہ وہ ان کی ہے اور نہ ان کے زمانے کی ہے۔
ان سب مثنویوں کے دیکھتے مثنوی گلزار نسیم باوجود عام مقبولیت کے صدہا غلطیوں سے مملو ہے۔ دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک نازک خیال نومشق ہے جو ہر قسم کی شاعرانہ خوبیاں اپنے کلام میں پیدا کرنا چاہتا ہے مگر قادر الکلامی کے نہ ہونے سے قدم قدم پر ٹھوکریں کھاتا ہے اور کسی جگہ اپنے مقصد کو نہیں حاصل کر سکتا۔ اس کے جواب میں آغا علی شمس نے جو ایک بہت ہی کہنہ مشق شاعر تھے اسی بحر میں ایک مثنوی لکھی تھی جس میں غلطیوں سے پاک رہ کے تشبیہات، استعارات اور رعایت لفظی کے کمالات دکھائے تھے، مگر افسوس وہ مثنوی مٹ گئی، اور گلزار نسیم کو جو شہرت حاصل ہو چکی تھی اس پر غالب نہ آ سکی۔ دلی میں ان دنوں مومن خان نے چند چھوٹی چھوٹی بے مثل مثنویاں لکھیں جو بہت ہی مقبول اور مشہور ہوئیں۔
مومن خان کے مذاق شاعری میں نازک خیالی بڑھی ہوئی تھی۔ خیالی تشبیہوں اور استعاروں پر وہ اپنی سخن آفرینی کی عمارت قائم کرتے تھے۔ مثنویوں میں وہ زیادہ تر خیالی جذبات و صفات کو متشخص کر کے اپنے کلام میں ایک خاص لطف پیدا کیا کرتے تھے۔ مومن خان کے ایک شاگرد نسیم دہلوی لکھنؤ میں آئے، اور یہاں کے مشاعروں میں اپنا رنگ ایسا جمایا کہ بہت سے لوگ ان کے شاگرد ہو گئے۔ نسیم دہلوی نے لکھنؤ میں اپنے استاد کے رنگ کو خوب چمکایا، اور ان کے شاگرد تسلیم لکھنوی نے اردو مثنوی میں نظیری و عرفی و صائب کی خیال آرائیاں دکھا دیں، اور نظم اردو میں جیتے جاگتے فیضی و غنیمت لا کے کھڑے کر دیے۔ ادھر آخر زمانے میں مولوی سید علی حیدر طباطبائی نظم لکھنوی نے شراب کی مذمت میں ساقی نامۂ شفقتیہ کے نام سے ایک ایسی بے نظیر اخلاقی نظم اردو پبلک کے سامنے پیش کر دی کہ اس کا جواب نہیں ہو سکتا۔ غرض کہ مومن خان کی چند مختصر مثنویوں سے اگر قطع نظر کر لی جائے تو اردو مثنوی گوئی کا آغاز بھی لکھنؤ میں ہوا، اور ترقی بھی یہیں ہوئی۔
بعض حضرات مثنوی میر حسن اور گلزار نسیم کے ذریعے سے دہلی اور لکھنؤ کی زبان کا مقابلہ و موازنہ کیا کرتے ہیں، جس خیال کو مولوی محمد حسین صاحب آزاد نے اور زیادہ قوت دے دی۔ لیکن اول تو گلزار نسیم کو نظیر اکبر آبادی کے بنجارہ نامے کی طرح اگر شہرت ہو بھی گئی تو اسے مثنوی میر حسن کے مقابلے میں رکھنا اردو شاعری کی سخت تذلیل و توہین ہے۔ صحیح مقابلہ ہو سکتا ہے تو مثنوی میر حسن اور مثنوی طلسم الفت کا۔ اور اگر گلزار نسیم کی زبان زبردستی لکھنؤ کی زبان مان بھی لی جائے تو مثنوی میر حسن اور گلزار نسیم کا مقابلہ دہلی اور لکھنؤ کی شاعری کا نہیں بلکہ خود لکھنؤ کی اگلی پچھلی زبانوں کا مقابلہ ہے، اس لیے کہ مثنوی میر حسن لکھنؤ کی پہلی زبان کا نمونہ ہے اور یہ آخری زبان کا۔
شاعری کی ایک اہم اور قدیم ترین صنف مرثیہ خوانی ہے۔ قدیم عربی شاعری میں زیادہ تر مرثیے اور رجز ہی شعر و سخن میں اظہار کمال کا ذریعہ تھے۔ فارسی میں مرثیہ خوانی کمزور پڑ گئی تھی، لیکن بعہد سلاطین صفویہ ایران میں مذہب شیعہ کو فروغ حاصل ہوا تو مصائب اہل بیت رسالت کی یاد تازہ کرنے کے لیے شعرا کو مرثیہ خوانی کی طرف توجہ ہوئی۔ مولانا محتشم کاشی نے چند بندوں کا ایک بے مثل مرثیہ لکھا تھا جو عموماً مقبول ہوا۔ اس کے بعد سے رواج تھا کہ شعرا کبھی کبھی ماتم حسین میں دو ایک مرثیے بھی موزوں کر دیا کرتے۔ لیکن شعر و سخن کی دنیا میں مرثیہ گوئی کی وقعت اس قدر کم تھی کہ مشہور تھا "بگڑا شاعر مرثیہ گو۔" پھر جب مذہبی اقبال سے دولت صفویۂ مرحومہ کی جانشین اودھ کی سلطنت قرار پائی تو لکھنؤ میں مجالس کی ترقی و عزاداری کے جوش و خروش نے مرثیہ گوئی کی ایسی قدردانی کی کہ اس فن کو غیر معمولی عروج حاصل ہونا شروع ہوا، اور در اصل لکھنؤ کے عروج کا سارا راز اسی تاریخی واقعے میں مستتر ہے۔ ہندوستان میں مغلوں کی سلطنت تھی جنھوں نے فارسی زبان کو درباری زبان قرار دیا، اور فارسی معاشرت ان کی امیرانہ زندگی اور ان کے تمام کمالات کا مرکز تھی۔ نتیجہ یہ تھا کہ ہر ایرانی ہندوستان میں آتے ہی آنکھوں پر بٹھایا جاتا، اور اس کی ہر حرکت اور ہر وضع مقبولیت کی نگاہوں سے دیکھی جاتی۔ دہلی کی سلطنت میں بادشاہوں کا مذہب سنی ہونے کی وجہ سے ایرانی اپنی بہت سی باتوں کو چھپاتے، اور وہاں کی محفلوں میں اس قدر شگفتہ نہ ہونے پاتے جس قدر کہ وہ اصل میں تھے۔ اودھ کا دربار شیعہ تھا اور یہاں کا خاندان حکمرانی خاص خراسان سے آیا تھا۔ اس لیے یہاں ایرانی بالکل کھل گئے، اور اپنے اصلی رنگ میں نمایاں ہونے کی وجہ سے وہ جس قدر شگفتہ ہوئے اسی قدر زیادہ ہم مذہبی کے باعث یہاں کے اہل دربار نے ان کے اوضاع و اطوار کو حاصل کرنا شروع کیا، اور ایرانیت جو در اصل ساسانی اور عباسی شان و شوکت کے آغوش میں پلی ہوئی تھی چند ہی روز کے اندر لکھنؤ کی معاشرت میں سرایت کر گئی۔
غرض سودا و میر کے زمانے میں میاں سکندر، گدا، مسکین، اور افسردہ مرثیہ گو تھے جو چھوٹی چھوٹی نظمیں شہادت امام حسین کے بیان میں تصنیف کر کے مجلسوں میں سنا دیا کرتے۔ ان کے بعد میر خلیق اور میر ضمیر نے مرثیہ گوئی کو بہت ترقی دی، اور مرثیوں کی موجودہ وضع انھیں کے زمانے میں ایجاد ہوئی۔ یہاں تک کہ زمانہ میر ضمیر کے شاگرد مرزا دبیر اور میر خلیق کے صاحبزادے میر انیس کو ناموری کے شہ نشین پر لایا، اور ان دونوں بزرگوں نے مرثیہ خوانی میں ایسے ایسے کمالات شاعری دکھائے کہ شعر و سخن کے آسمان پر آفتاب و ماہتاب بن کے چمکے۔ وہی مقابلہ جو میر و سودا اور آتش و ناسخ میں رہا تھا اب میر انیس اور مرزا دبیر میں قائم ہوا۔ مرزا دبیر میں شوکت الفاظ تھی، بلند خیالی تھی، اور علم و فضل کا زور تھا۔ میر انیس میں سادی بے تکلف اور جذبات انسانی پر حکومت کرنے والی زبان کی وہ خوبیاں تھیں جو سوا مبدأ فیاض کی عنایت کے سیکھنے سے نہیں آ سکتیں۔ ان دونوں بزرگوں نے فن مرثیہ گوئی کو شاعری کی اور تمام اصناف سے بڑھا دیا، اور ادب اردو میں وہ نئی چیزیں پیدا کر دیں جن کو انگریزی تعلیم کے اثر سے طبیعتیں ڈھونڈھنے لگی تھیں۔
انیس و دبیر نے مرثیہ گوئی کو اس درجۂ کمال پر پہنچا دیا تھا کہ اب مرثیہ گوئی بجائے معیوب ہونے کے سب سے بڑا شاعرانہ ہنر بن گئی تھی۔ تمام اہل لکھنؤ ان دونوں بزرگوں کے اس قدر معترف و مداح ہوئے کہ سارا شہر دو گروہوں میں بٹا ہوا تھا اور ہر سخن سنج یا انیسیا تھا یا دبیریا، اور ان دونوں گروہوں میں ہمیشہ باہمی مخالفت رہتی۔
میر انیس نے مرثیہ گوئی کے ساتھ مرثیہ خوانی کو بھی ایک فن بنا دیا۔ یونانیوں کے بعض مقرروں اور خطیبوں کی نسبت سنا جاتا ہے کہ انھوں نے اپنی تقریروں میں اثر پیدا کرنے کے لیے خاص خاص کوششیں کی تھیں، اور آواز کے نشیب و فراز اور اوضاع و اطوار کے تغیرات سے گفتگو میں اثر پیدا کرتے تھے۔ اسلام کی اس طولانی عمر میں اس نہایت ضروری فن کو اصول کے ساتھ خاص میر انیس نے زندہ کیا۔ الفاظ کے مناسب آواز کے تغیرات اور مضامین کے موافق چہرہ بنا لینے، کلام کو اعضا و جوارح کے مناسب حرکات اور خط و خال کے اشارات سے قوت دینے کا فن خاص لکھنؤ کی، اور وہ بھی میر انیس کے گھرانے کی ایجاد ہے، جس کی ترقی میں اب تک کوششیں جاری ہیں۔ اور ہمارے اسپیکر اپنی فصیح البیانی میں اثر پیدا کرنے کے لیے اگر ان باکمالوں کی شاگردی کریں تو نہایت ہی کامیاب اسپیکر ثابت ہوں۔
ڈراما کا فن سخن جو مغربی شاعری کی جان ہے اس سے عربی و فارسی کا ادب مطلقاً خالی تھا، اور فارسی کی شاگردی کی وجہ سے اردو میں بھی اس کی طرف کبھی توجہ نہیں کی گئی۔ سنسکرت میں اعلیٰ درجے کے ڈراما تھے، مگر ان سے ہندوستان کی آخری سوسائٹی بالکل ناآشنا ہو چکی تھی۔ رامچندر جی اور سری کرشن جی کے کارنامے البتہ ہندوؤں میں مذہبی آداب کے ساتھ دکھائے جاتے تھے، مگر اردو شاعری کو ان سے کسی قسم کا تعلق نہ تھا۔ رام چندر جی کے حالات انگلستان کے المپیا کی طرح کھلے میدانوں میں رزمیہ نقالیوں کی شان سے دکھلائے جاتے، اور سری کرشن جی کے حالات رقص و سرود اور موسیقی کے پیرائے میں مذہبی اسٹیجوں پر بعینہ اپیرا کے طریقے سے نظر آتے جو "رہس" کہلاتے۔ واجد علی شاہ کو رہس سے خاص دلچسپی پیدا ہو گئی، اور رہس کے پلاٹ سے ماخوذ کر کے انھوں نے اپنا ایک ڈراما تیار کیا جس میں وہ کنھیا جی بنتے یا عشق کے ستائے ہوئے جوگی بن کے دھونی رماتے، اور بہت سی عورتیں پریاں اور عاشق مزاج گوپیاں بن کے انھیں ڈھونڈھتی پھرتیں۔ پھر جب قیصر باغ کے میلوں کا دروازہ عوام الناس کے لیے بھی کھل گیا تو سارے شہر کے شوقینوں میں ڈراما کا فن خود بخود ترقی کرنے لگا، اور چند ہی روز میں اس شوق کو اس قدر ترقی ہوئی کہ بعض مشہور شعرا بھی اس زمانے کے مذاق کے موافق طبع آزمائیاں کرنے اور ڈراما لکھنے لگے۔ چنانچہ واجد علی شاہ کے شوق کے ساتھ ہی میاں امانت نے جو ایک مشاق شاعر تھے اندر سبھا لکھی، اور موجودہ عہد کی کمپنیوں کی طرح شہر میں جا بجا مختلف جماعتیں ان کی "اندر سبھا" کو اسٹیج پر کھیلنے لگیں، جن میں کہیں عورتیں اور کہیں لڑکے ایکٹ کرتے۔ اس اندر سبھا میں اصول موسیقی کے مطابق دلکش دھنیں قائم کی گئیں، اور سارا شہر اندر سبھا کے جلسے دیکھنے کا مشتاق تھا۔ میاں امانت کی اندر سبھا کی کامیابیاں دیکھ کے اور لوگوں کو بھی شوق ہوا، اور اس قسم کے بہت سے ڈرامے ایجاد ہو گئے، اور سب کا نام "سبھا" قرار پا گیا۔ چنانچہ شہر میں مداری لال وغیرہ کی بہت سی سبھائیں قائم ہو گئیں جن کے پلاٹ بدلے ہوئے تھے۔
سبھا کے نئے رنگ نے شہر میں ایسی زندہ دلی پیدا کر دی کہ سوا اندر سبھا کے لوگ کسی اور قسم کا ناچ گانا پسند ہی نہ کرتے تھے۔ ہر طرف سبھاؤں کی دھوم تھی، اور اس کی بنیاد پڑ گئی کہ سوسائٹی کے مذاق کے مطابق اگلے عاشقانہ قصے نقل کے طور پر اچھی نظموں میں اور دلکش مضمون کے ساتھ پبلک کے سامنے پیش کیے جائیں۔ اس میں شک نہیں کہ پارسی تھیٹروں نے اپنی انتظامی خوبیوں اور نمائشی دلفریبیوں کی وجہ سے سبھاؤں کا رنگ پھیکا کر دیا، لیکن یہ نہ سمجھو کہ ڈراما کا وہ پرانا مذاق جو لکھنؤ میں ایجاد ہو کے مروج ہوا تھا مٹ گیا۔ اول تو پارسیوں نے بھی اس چیز کو لکھنؤ سے لیا ہے، ان کا پہلا عام کھیل امانت کی اندر سبھا تھا۔ اور باوجود اس کے لکھنؤ کے تمام قومی جلسوں میں آج تک سیہرے، ہرش چندر وغیرہ کے ایسے بیسیوں پرفارمنس ہو رہے ہیں، اور اس مذاق کے ایکٹروں کا ایک مستقل گروہ پیدا ہو گیا ہے جو شرفا میں سے قومی مذاق اٹھ جانے پر بھی عوام کو محظوظ کرتا ہے۔ بہر تقدیر اس میں شک نہیں کیا جا سکتا کہ اردو ڈراما کی بنیاد خاص لکھنؤ ہی میں پڑی اور یہیں سے سارے ہندوستان میں اس کا رواج ہوا۔
اردو شاعری کی ایک قسم واسوخت ہیں۔ یہ خاص قسم کے عاشقانہ مسدس ہوتے ہیں، اور ان کا مضمون عموماً یہ ہوتا ہے کہ پہلے اپنے عشق کا اظہار، اس کے بعد معشوق کا سراپا، اس کی بے وفائیاں، پھر اس سے روٹھ کے اسے یہ باور کرانا کہ ہم کسی اور معشوق پر عاشق ہو گئے۔ اس فرضی معشوق کے حسن و جمال کی تعریف کر کے معشوق کو جلانا، چھیڑنا، جلی کٹی سنانا، اور یوں اس کا غرور توڑ کے پھر ملاپ کر لینا۔ نظم اردو کی یہ قسم لکھنؤ ہی سے شروع ہوئی۔ زمانۂ وسط کے قریب قریب تمام شاعروں نے واسوخت لکھے ہیں اور ان میں بڑے بڑے لطف پیدا کیے ہیں۔ دہلی میں بھی بعد کے زمانے میں مختلف واسوخت لکھے گئے، خصوصاً مومن خان نے کئی بہت اچھے واسوخت لکھے، مگر آغاز لکھنؤ ہی سے ہوا۔
امرا کی عیاشانہ طبیعتوں نے شاعری کی کئی اور صنفوں کو بھی پیدا کرایا جن کا آغاز دہلی ہی سے ہوا تھا۔ ان میں سب سے زیادہ مہمل ہزل گوئی ہے اور کسی قدر لطف ریختی ہے۔ ہزل گوئی کا آغاز دہلی میں جعفر زٹلی سے ہوا جو غالباً محمد شاہ کے زمانے میں تھے۔ ان کے کلام کو میں نے اول سے آخر تک دیکھا ہے۔ سوا فحش گوئی اور حد سے گزری ہوئی بیحیائی کے نہ کوئی شاعرانہ خوبی نظر آتی ہے اور نہ زبان کا کوئی لطف ہے۔ اس کے بعد دہلی ہی کی خاک کے صاحبقران تخلص بلگرام کے ایک ہزل گو لکھنؤ میں آئے، اور یہیں چمکے۔ ان کا نام سید آغا علی تھا، اور آصف الدولہ کے زمانے میں وارد لکھنؤ ہوئے تھے۔ معلوم ہوتا ہے کہ لکھنؤ کے مبتذل مذاق والے رئیس زادوں میں ان کا نشو و نما ہوا۔ ان کا دیوان ملتا ہے، اور گو کہ کلام فحش اور تہذیب سے کوسوں دور ہے مگر پھر بھی اس میں ایک بات ہے: شاعرانہ خوبیوں کے ساتھ زبان اور محاوروں کا پورا لطف ہے۔ لیکن اس فن کو لکھنؤ کے آخری دور میں میاں مشیر نے جو مرزا دبیر کے شاگرد تھے کمال کے درجے کو پہنچا دیا۔
مجھے اس موقع پر بلا لحاظ اس کے کہ شیعوں اور سنیوں کے متعصبانہ جذبات کا لحاظ کروں یہ بتا دینا ضروری ہے کہ لکھنؤ میں جب شیعہ سلطنت قائم ہوئی تو شیعیت نے اپنے اصلی رنگ کو قائم رکھ کے کمال آزادی کے ساتھ اپنے ہر اصول میں ترقی شروع کی۔ مذہب شیعہ کی بنیاد دو چیزوں پر ہے: ایک تولا، یعنی اہل بیت کرام اور خاندان نبوت کے ساتھ اظہار محبت؛ اور دوسرا تبرا، یعنی اس خاندان محترم کے دشمنوں سے اپنی براءت ظاہر کرنا، جس نے باہمی رقابت و تعصب کے بڑھنے سے سب و شتم کی صورت اختیار کر لی۔ اصولاً اس عقیدے میں سنی بھی ان کے ساتھ شریک ہیں، مگر فرق یہ آ پڑا کہ پہلے تینوں جانشینان رسالت کو اہل سنت افضل الناس بعد انبیا و رسل اور سچے جانشینان رسالت مانتے ہیں، اور شیعہ ان کو غاصب و ظالم بتاتے ہیں۔ اور جب یہ بزرگ بھی ان کے عقائد میں خاندان رسالت کے دشمن قرار پائے تو ان سے بھی تبرا واجب ہو گیا۔ جس کو مہذب اور صاحب علم لوگوں نے اگر حرف براءت کے صحیح معنوں کی حد تک رکھا تو عوام شیعہ اپنے مذاق کے مطابق ان پر زبان سب و شتم دراز کرنے لگے، اور یہی چیز سنی شیعوں کے باہمی تعصب کی بنا قرار پا گئی۔
ان دونوں مذہبی چیزوں نے لکھنؤ کی شاعری پر نہایت ہی عمدہ اور مناسب اثر ڈالا۔ تولا نے مرثیہ گوئی کے فن کو اپنے آغوش میں لے کے جملہ اصناف شاعری سے بڑھا دیا، تو دشمنان خاندان نبوت سے تبرا کرنے کے جوش نے پرانی ہجو گوئی کو اختیار کر کے اسے ہرزیہ گوئی کے نام سے ترقی دی۔ اس فن کے متعدد باکمال لکھنؤ میں مشہور ہوئے، مگر افسوس یہ چیز بالتخصیص اہل سنت کو ناگوار گزرنے والی تھی۔ عہد شاہی میں اس پر تلواریں نکل پڑا کرتی تھیں، اور انگریزی میں بھی آج تک کبھی کبھی فوجداریاں اور مقدمہ بازیاں ہو جایا کرتی ہیں۔ جس کا نتیجہ یہ تھا کہ ہرزیہ گوئی و ہرزیہ خوانی کو مکانوں کی چار دیواری سے باہر نکلنے کی جرأت نہ ہو سکی۔ اگر ہرزیہ گوئی کا تمام سبجکٹ ایسا محدود اور مایۂ النزاع نہ ہوتا تو زمانہ دیکھتا کہ لکھنؤ کے ہرزیہ گویوں نے اپنی بیہودہ گوئیوں اور فحاشیوں میں بھی کیسے کیسے کمال دکھائے ہیں۔
اس فن میں سب سے زیادہ شہرت مرزا دبیر کے شاگرد میاں مشیر کو حاصل [illegible] کی۔ اور صحبت کو مارے ہنسی کے لٹا دینے اور سامعین کے پیٹ میں بل ڈال دینے کے لیے جو زبان اور جیسا اسلوب سخن اختیار کیا اس کی خوبیاں اور حد بیان سے باہر ہیں۔ ابتذال میں بھی لطف پیدا کر کے اسے شائستہ لوگوں کے سامنے پیش کرنے کے قابل بنا دینا ان کا خاص جوہر تھا جو ان سے پہلے اور ان کے بعد کسی کو نہیں نصیب ہوا۔
ہزل گوئی ہی کے سلسلے میں میاں چرکین کا نام بھی لینا چاہیے۔ لکھنؤ کے زمانۂ وسطیٰ میں عاشور علی خان نام ایک زندہ دل اور نہایت ہی قابل و با مذاق رئیس تھے۔ ان کے وہاں کی صحبت اس وقت کی سوسائٹی کا ایک اکمل ترین نمونہ تھی۔ انھیں نے جان صاحب اور چرکین کو پیدا کیا، اور بعض لوگ کہتے ہیں کہ انھیں کی صحبت میں صاحبقران کا بھی نشو و نما ہوا تھا۔ چرکین اپنے ہر شعر میں پیشاب پاخانے کی رعایت رکھتے، اور ان کے اشعار سے ایسی سڑاند آتی ہے کہ نام سنتے ہی ہمارے ناظرین کے دماغ سڑ گئے ہوں گے۔ مگر چونکہ ان کو ایک قسم کی خصوصیت تھی ہم نے ان کا ذکر کر دیا۔ ان کے کلام میں بعض شاعرانہ خوبیاں اور اچھی تشبیہیں بھی ہیں مگر ان کے مذاق نے ان خوبیوں کو بھی گندہ اور پلید کر دیا ہے۔
لیکن ریختی کا فن باوجود غیر مہذب ہونے کے دلچسپ ہے، اور چرکین کی شاعری کی طرح اذیت رساں نہیں۔ مردوں اور عورتوں کے محاوروں اور لہجے میں تھوڑا بہت فرق ہر زبان میں ہوا کرتا ہے، مگر اتنا نہیں جتنا ہماری زبان میں نظر آتا ہے۔ فارسی عربی سب زبانوں میں یہ امتیاز موجود ہے، مگر اردو اس خصوصیت میں بڑھی ہوئی ہے۔ فارسی اور عربی کا پرانا مذاق تھا کہ عورتیں شعر کہتیں تو اپنی زبان میں کہتیں، اور مرد کبھی عورتوں کی زبان سے کوئی خیال ادا کرتے ہیں تو زبان میں لطف پیدا کرنے کے لیے ان کی زبان اختیار کر لیتے۔ یہی حال انگریزی کا ہے۔ اردو شاعری ہمیشہ سے صرف مردوں کی زبان میں رہی، یہاں تک کہ اس میں عورتیں کہتی بھی ہیں تو مرد بن کے کہتی ہیں۔ مردوں ہی کی زبان اختیار کرتی ہیں اور اپنے لیے ضمیریں تک مذکر استعمال کرتی ہیں۔ اگر شاعر کا نام نہ معلوم ہو تو کوئی نہیں پہچان سکتا کہ یہ کسی مرد کا کلام ہے یا عورت کا۔
اردو شاعری کا تیسرا یا چوتھا ہی دور تھا کہ شوخ طبع جوانوں میں خیال پیدا ہوا کہ ریختہ کی طرح ایک ریختی ایجاد کی جائے۔ میر حسن نے اپنی مثنوی میں ضرورت کے موقعوں پر یہ زبان موزوں کی تھی، مگر وہاں تک مضائقہ نہ تھا۔ میاں رنگین نے اس رنگ کو مستقل طور پر اختیار کیا، جو دہلی کے رہنے والے تھے اور لکھنؤ کی صحبتوں میں شریک رہا کرتے تھے۔ ابتداءً مہذب لوگوں کی صحبت نے اس رنگ کو بے شرمی اور خلاف تہذیب جانا۔ چنانچہ سید انشا کی زبانی ہم نے لکھنؤ میں دہلی کے جن مہذب سن رسیدہ بزرگ اور وہیں کی ایک رنڈی نورا کی گفتگو لکھی ہے اس میں وہ بزرگ فرماتے ہیں: "اور سب سے زیادہ ایک اور سنیے کہ سعادت یار خان کا بیٹا انوری ریختہ اپنے کو جانتا ہے، رنگین تخلص ہے۔ ایک قصہ کہا ہے، اس مثنوی کا نام دلپذیر رکھا ہے۔ رنڈیوں کی بولی اس میں باندھی ہے۔ میر حسن پر زہر کھایا ہے۔ ہر چند اس مرحوم کو بھی کچھ شعور نہ تھا۔ بدر منیر کی مثنوی نہیں کہی، گویا سانڈے کا تیل بیچتے ہیں۔ بھلا اس کو شعر کیونکر کہیے؟ سارے لوگ دلی کے لکھنؤ کے رنڈی سے لے کے مرد تک پڑھتے ہیں۔
چلی وہاں سے دامن اٹھاتی ہوئی / کڑے سے کڑے کو بجاتی ہوئی
سو اس بچارے رنگین نے بھی اسی طور پر قصہ کہا ہے۔ کوئی پوچھے کہ بھائی تیرا باپ رسالدار مسلم، لیکن بچارا برچھی بھالے کا ہلانے والا تیغے کا چلانے والا تھا۔ تو ایسا قابل کہاں سے ہوا؟ اور شہدپن مزاج میں رنڈی بازی سے آ گیا ہے۔ تو ریختہ کے تئیں چھوڑ کر ایک ریختی ایجاد کی ہے، اس واسطے کہ بھلے آدمیوں کی بہو بیٹیاں پڑھ کر مشتاق ہوں، اور ان کے ساتھ اپنا منہ کالا کرے۔ بھلا یہ کلام کیا ہے؟
ذرا گھر کو رنگین کے تحقیق کر لو / یہاں سے ہے کے پیسے ڈولی کہار و
مرد ہو کر کہتا ہے۔ مصرع: کہیں ایسا نہ ہو کمبخت میں ماری جاؤں۔ اور ایک کتاب بنائی ہے اس میں رنڈیوں کی بولی لکھی ہے، جس میں اوپر والیاں چیلیں، اوپر والا چاند، اجلی دھوبن، وغیرہ وغیرہ۔"
مگر مہذب بڈھے شکایت کرتے کرتے مر گئے، نوجوانوں کی رنگینی نے رنگین کے مذاق کو ترقی دے ہی کے چھوڑا، اور ریختی اردو کا ایک فن ہو گیا جس کی ایجاد گو ایک دہلی ہی کے شاعر سے ہوئی تھی مگر لکھنؤ میں ہوئی، اور یہیں اسے فروغ ہوا۔ قصے کے سلسلے میں اس زبان کو میر حسن کے بعد نواب مرزا شوق نے جس اعلیٰ درجۂ کمال کو پہنچا دیا تعریف نہیں ہو سکتی۔ صفحے کے صفحے پڑھتے چلے جائیے یہی نہیں پتہ چلتا کہ موزوں کرنے میں شاعرانہ ضرورتوں نے بولنے کی زبان پر کہیں کچھ تصرف بھی کیا ہے یا نہیں۔ لیکن غزل گوئی میں رنگین کی جانشینی جان صاحب نے کی جو لکھنؤ کے ایک معمولی شخص تھے اور عاشور علی خان کی خراد پر چڑھ کے تیار ہوئے تھے۔ گو کہ جان صاحب کے بعد اور ریختی گو بھی لکھنؤ میں پیدا ہوئے، مگر جان صاحب پر کمال اور شہرت کا خاتمہ ہو گیا۔ انھوں نے غزلیں کہیں، واسوخت کہے اور اور بھی کئی نظمیں کہیں۔
ریختی میں اگر فحش اور بدکاری کے مذاق سے پرہیز کر کے پاکدامنی کے جذبات اختیار کیے جاتے تو یہ فن ایک حد تک قابل ترقی ہوتا، مگر خرابی یہ ہوئی کہ اس کی بنیاد ہی بدکاری کے جذبات اور بے عصمتی کے خیالات پر تھی۔ اس لیے ریختی گویوں کا قدم ہمیشہ جادۂ تہذیب و اعتدال سے باہر ہو گیا، اور اس سے زبان کو چاہے کسی حد تک فائدہ ہوا ہو مگر اخلاق کو نقصان پہنچا۔
这一章在你心里留下了什么?
登录后参与
讨论
还没有人开口。说说这一章触动了你什么。