
Chapitre 4 sur 7
The Fairy of Khayalistan, Sections 7–9
خیالستان کی پری: حصہ ۷ تا ۹
(٧)
یہ سوچتے ہی غفیرہ اٹھی اور ایک طرف کو چل نکلی۔ تارے پھیکے پڑ چکے تھے، آسمان کروٹ بدل رہا تھا اور بادِ صبا کے جھونکے جھوم جھوم کر صبح کا پیغام لا رہے تھے۔ اس وقت غفیرہ کے دل میں ارمانوں کا دریا امنڈ امنڈ کر لہریں لے رہا تھا۔ مدتوں خاک اڑاتی رہی اور سر ٹکراتی پھری۔ نت نئے تماشے اور رنگ برنگ کے لوگ دیکھنے میں آئے، مگر کامل گیارہ ساڑھے گیارہ مہینے تک کوئی چیز ایسی نظر نہ آئی جو انتخاب میں آتی۔ ایک روز جب کہ آفتاب اچھی طرح بلند ہو چکا تھا، وہ پھرتی پھراتی ایسے گھر میں پہنچی جس پر ایک متوسط العمر عورت حکمران تھی۔ مامائیں اپنے اپنے کاموں میں مصروف تھیں اور دو تین چھوٹے چھوٹے بچے انگنائی میں ٹہلتے پھر رہے تھے۔ اور ایک بڑی لڑکی جس کی عمر دس گیارہ برس کی ہوگی، میلے کچیلے کپڑے پہنے کونے میں بیٹھی کچھ سی رہی تھی۔ ماں کی محبت بھری نظریں لڑکوں پر پڑ رہی تھیں اور ان کے اچھلنے کودنے سے نہال نہال ہو رہی تھی۔ دروازہ پر انگور والا بولا، بیوی کے حکم سے ماما اسے بلا کر لائی، دونوں لڑکوں نے آدھ آدھ پاؤ انگور لیے اور کھائے۔ لڑکی کچھ دیر تک تو چپکی بیٹھی رہی اور پھر اٹھ کر کہنے لگی: “اماں جان! چھٹانک بھر مجھے بھی منگا دیجیے”۔ ماما لینے گئی۔ اب کاچھی کے پاس صرف پاؤ سیر انگور باقی تھے۔ ماما سے پہلے لڑکے پہنچے آدھ آدھ پاؤ تلوا کر لے آئے اور بہن کے سامنے بیٹھ کر ختم کر دیے۔
غفیرہ آگے بڑھنے کو تھی کہ اس کی نظر اس دس برس کی بچی پر پڑی جو حسرت سے اس توقع پر ماں کا منہ تک رہی تھی کہ شاید مجھے بھی ان دونوں کے ہاں سے کچھ مل جائے، مگر جب ماں نے اس کو معمولی سی بات سمجھ کر یہ کہہ دیا: “تجھے پھر لے دوں گی” تو غفیرہ ٹھٹکی۔ کھانے کا وقت آگیا تھا، ماما نے پتیلیاں آگے رکھیں، باہر سے رقعہ آیا کہ دو آدمیوں کا کھانا زیادہ بھیجنا۔ بیوی نے اٹھ کر کھانا نکالا، پہلے مردانہ میں بھیجا اور پھر لڑکوں کو دیا۔ اب سالن نہ بچا تھا۔ پتیلی سے روٹی پونچھ کر دونوں ماں بیٹیوں نے کھا لی۔ غفیرہ تعجب سے اس لڑکی کو دیکھ رہی تھی، اس کی عقل کام نہیں کرتی تھی کہ کیوں اس لڑکی کی روزانہ زندگی ان لڑکوں کے مقابلے میں ایسی خراب ہے۔ حالانکہ یہ سب ایک پیٹ کے بچے اور ایک باپ کی اولاد ہیں۔ غفیرہ کو اس معمے کے حل کرنے کا شوق ہوا اور وہ اطمینان سے بیٹھ گئی۔ دو بجے کے قریب لڑکی نہایت خوش خوش اٹھی اور ماں سے آکے کہا: “لیجیے اماں جان! میرا بٹوا تیار ہوگیا۔ دیکھیے چھریاں ٹھیک پڑی ہیں نا؟”
بٹوے کی تیاری اس بچی کے واسطے ہفت اقلیم کی بادشاہت تھی۔ اس کا دل باغ باغ تھا اور چہرہ اس ننھے سے دل کی اس خوشی کا پتا دے رہا تھا جو تین دن کی محنت کے بعد اس لڑکی کو حاصل ہوئی تھی۔ وہ اچھلتی ہوئی باہر آئی، لوٹا بھر کر وضو کیا اور نماز کو کھڑی ہو گئی۔ بڑا لڑکا جو تقریباً سات برس کا تھا، ماں کے پاس آیا، بٹوا دیکھ رہا تھا کہ لڑکی نے سلام پھیرا اور کہا: “اماں جان! ان کو بٹوا نہ دیجیے گا یہ خراب کر دیں گے”۔
ماں نے اس درخواست کا مطلق خیال نہ کیا۔ لڑکا بٹوا باہر لے گیا اور لڑکی نماز میں مشغول ہو گئی۔ لڑکے کے میلے کچیلے ہاتھوں میں بٹوے کی آب و تاب بالکل جاتی رہی۔ لڑکی نماز پڑھ چکی تو بہ منت کہا: “اماں جان! میرا بٹوا دلا دیجیے، دیکھیے خراب ہوگیا”۔ بہن کے اتنا کہتے ہی بھائی نے بٹوا انگنائی میں پھینک دیا جو تمام کیچڑ میں لت پت ہو گیا۔ ماں لڑکے پر خفا ضرور ہوئی مگر جب بیٹی سے یہ کہا کہ “بگڑتی کیوں ہے، اور بنا لیجیو” تو وہ ننھا سا دل جس میں چند لمحے پہلے خوشی کا دریا لہریں لے رہا تھا، اس فیصلے سے بالکل خشک ہو گیا۔ وہ مجبور اور معذور بچی جو ماں کے گھر پر چند روز کی مہمان تھی، جس کی اتنی مجال نہ تھی کہ منہ سے اف کر سکے، جس کا ماں کے سوا کوئی رفیق شفیق نہ تھا، جس کی تمام خوشی ایک آن کی آن میں ماں کی آنکھوں کے سامنے بھائی کے ہاتھوں کرکری ہوگئی، اٹھ کھڑی ہوئی اور ایک کونے میں منہ لپیٹ کر رونے لگی۔ آنسوؤں کا وہ پہلا قطرہ جو اس کی آنکھ سے نکلا غفیرہ نے قبضہ میں کیا اور روانہ ہوئی۔
جھٹ پٹا وقت ہوگا کہ غفیرہ خیالستان کی سرحد میں داخل ہوئی۔ متواتر ناکامیوں نے اس کی ہمت اس قدر پست کر دی تھی کہ اندر پہنچنے کا خیال اب اس کو ایک یوں ہی سی امید تھی اور ایسی امید، جس میں روشنی کی جھلک کا نشان تک نہ تھا۔ اس وقت بھی دل یہ گواہی دے رہا تھا کہ تمام سال کی محنت دم بھر میں برباد ہوگی مگر اس کے ساتھ ہی دل نے یہ فیصلہ کردیا تھا کہ کوشش کی حد اور تلاش کی انتہا ہو چکی۔ اگر آج بھی داروغہ نے رخ نہ کیا تو ادھر کا رخ نہ کروں گی۔ متواتر کئی گھنٹے تک غفیرہ انھیں خیالات میں غلطاں و پیچاں رہی، یہاں تک کہ وقت مقرر آپہنچا۔ دیوار شق ہو گئی اور غفیرہ نے اپنا تحفہ داروغہ کے حضور میں پیش کیا۔
داروغہ: غفیرہ تیری کوشش قابل داد، تیری محنتیں لائق تعریف؛ تو نے انسانی دنیا کا خوب مطالعہ کیا اور ایسے ایسے تحفہ لائی کہ خیالستان ان پر فخر کر رہا ہے اور ہمارا عجائب خانہ اس بے نظیر انتخاب پر ہمیشہ ناز کرے گا، مگر غفیرہ تیرا قصور اس قدر سنگین ہے کہ میں اس تحفے کو بھی معافی جرم کے برابر نہیں سمجھتا۔ ہمت نہ ہار اور کوشش کر۔
ان الفاظ کے بعد کچھ بھی نہ تھا۔ وہ روشنی، وہ دیوار، وہ داروغہ، وہ تقریر ندارد۔ داروغہ کا آنکھ سے اوجھل ہونا تھا کہ غفیرہ نے اپنی ناکامی پر ایک چیخ ماری اور یہ کہتی ہوئی گر پڑی:
“خیالستان کی دیوارو! میرا آخری سلام قبول کرو اور مجھے اجازت دو”۔
عطر اور لخلخہ کے بجائے ببول کے پھول اور جنگل بیابان کی ہوا تھی۔ سب سے بڑا معالج آفتاب عالم تاب تھا جس کی حرارت غفیرہ کو ہوش میں لائی، اٹھی اور اٹھ کر آگے بڑھی۔
نا امیدی کی خطرناک صورتیں ہر طرف پیش نظر تھیں مگر غفیرہ خیالستان کی پری ہی تھی کہ پھر سنبھلی اور دل سے اس طرح مخاطب ہوئی:
“انسانی دنیا کی یہ مثل سننے کے بعد “جب تک سانس ہے اس وقت تک آس ہے” میرا مایوس ہونا میرے وطن خیالستان کی شان پر بٹہ لگا دے گا۔ چلوں پھر چلوں اور دنیا کا مطالعہ کروں۔ جو ہاتھ لگے، لاؤں اور کوشش میں کمی نہ کروں۔ وطن کی محبت سے بہتر مشغلہ اور ناکامیابیوں کے بعد کامیابی کی کوشش سے بہتر کام اور کیا ہو سکتا ہے؟”
(٨)
اتنا کہہ کر غفیرہ روانہ ہوئی۔ نیا دانہ، نیا پانی، آج یہاں، کل وہاں، تقریباً تمام دنیا چھان ڈالی۔ نت نئے سوانگ دیکھتی اور طرح طرح کے معاملے آنکھ کے سامنے گذرتے، مگر وہ ان کو معمولی سمجھ کر ٹال دیتی۔ ایک دن کا ذکر ہے آدھی رات کا وقت ہوگا کہ وہ ایک ایسے میدان میں پہنچی جو کسی وقت عالیشان محلوں سے آراستہ تھا۔ اور جہاں ریاست حسین پور کا مشہور سردار اپنی محبوبہ بیوی گیتی آرا بیگم کے ساتھ گیتی محل میں اپنا وقت آرام و اطمینان سے بسر کرتا تھا۔
آج انقلاب زمانے نے حسین پور کی اینٹ سے اینٹ بجا دی۔ محلوں کی جگہ خاک اڑ رہی تھی اور گیتی محل پھونس کی ایک ٹوٹی پھوٹی جھونپڑی تھی۔ یہ دونوں میاں بیوی دنیائے ناپائدار کی بے وفائی کی ایک ایسی تصویر تھے جس کو دیکھ کر کلیجہ منہ کو آتا تھا۔ جس شحض کے ادنی سے اشارے پر سینکڑوں ہزاروں آدمی جانیں لڑا دینے کو تیار تھے، آج لق و دق جنگل میں اپنی مصیبت ناک زندگی کے دن بسر کر رہا تھا۔ خارستان کے تنکے اور درختوں کے پتے اس کا بچھونا تھے اور میدان کا گھاس پھونس اس کا اوڑھنا۔ وہ بیگم جو والیِ سعید آباد سے مشہور رئیس کی بیٹی تھی، آج اپنا تمام مال و زر شوہر پر لٹا کر دو دو دانوں کی محتاج تھی۔ جنگل کے پھل اس کی خوراک تھے اور چشموں کی روانی اس کی پیاس بجھاتی تھی۔ دونوں میاں بیوی علی الصباح نکل جاتے، جنگلی میوے چن کر لاتے اور اپنی جھونپڑی میں پتوں کا دسترخوان بچھا کر پیٹ بھر لیتے۔ فرش فروش کے بدلے گو ان کے ہاں پیپل کے پتے ہی تھے۔ مگر یہ جھونپڑی محبت کے ایسے پھولوں سے مہک رہی تھی جس پر آسمان اور زمین درود پڑھ رہے تھے۔
چاندنی رات میں جس وقت یہ جوڑا جو انسانی زندگی کے اصل مقصد کا ایک نمونہ تھا، دریا کے کنارے بیٹھا ہوا ہوا کے ترانے سنتا اور فانوس محبت کی روشنی میں ایک دوسرے کے چہرے کو دیکھ دیکھ بشاش ہوتا تو چاروں طرف سے ان پر مرحبا کے نعرے لگتے، درختوں کے پتے ان کو مبارک باد دیتے اور چشموں کا پانی ان کے خلوص کے گیت گاتا۔
غفیرہ جس وقت یہاں پہنچی، آدھی سے زیادہ رات گذر چکی تھی۔ سردی کی شدت کی پڑ رہی تھی، چاند نکلا ہوا تھا اور یہ دونوں میاں بیوی ایک پھٹی سی چادر میں، جو ان کی کل کائنات تھی، سکڑے ہوئے بیٹھے تھے۔ سردی کی اذیت کا احساس ان کو بالکل نہ تھا۔ چاند کی روشنی میں ان کی محبت بھری نظریں خلوص باہمی کی سچی قدردانی کا پتہ دے رہی تھیں۔ اس وقت زندگی کا کوئی فکر ان کے دماغ میں نہ تھا، نہ ان کو صبح کے کھانے کی سوچ تھی، نہ کڑاکے کی سردی کا غم، نہ عزیزوں کے ملنے کی توقع تھی، نہ غیروں کے حسد کا کھٹکا، دونوں اپنی حالت میں مگن تھے اور باہمی محبت کے سوا ان کے دلوں میں کسی اور چیز کا گذر نہ تھا۔
پچھلا پہر ہوگا کہ شوہر کو بخار چڑھا اور پیاس کی شدت میں اس نے اپنی محبوبہ کو پانی پلانے کی تکلیف دی۔ فرماں بردار بیوی اور عاشق زار بیگم دریا کی طرف چلی۔ پانی کی لب دریا سے بھری اور واپس ہوئی۔ دفعتاً آسمان نے رنگ بدلا اور باد و باراں کے زبردست طوفان نے عاشق زار بیوی کے پاؤں پکڑ لیے۔ آناً فاناً پھیلی ہوئی چاندنی اندھیرے گھپ سے بدل گئی۔ ہوا کا جھکڑ، مینہ کا طوفان، بادل کی کڑک، بجلی کی چمک نازک دل کو دہلانے لگی مگر حقیقی محبت کا سرشار دل ان سختیوں کو جھیلتا ہوا جھونپڑی کی طرف لے جا رہا تھا کہ اولوں کی باڑ نے محبت کی دیوی کو زخمی کر دیا۔
سہارے کے واسطے کوئی جگہ بہ ظاہر نہ تھی مگر بہادر درخت چاروں طرف سے اپنی سپر لیے کھڑے تھے۔ ہر چند اس قیامت خیز طوفان نے پاؤں پکڑے، مگر دل مجروح انتظار شوہر کے خیال سے تھرا اٹھا اور یہ جنت کی حور آسمانی اولوں کو سر پر لیتی جھونپڑی کے قریب پہنچی۔ اولوں کی متواتر باڑ نے سر اور سینہ زخمی کر دیا تھا۔ خون کے فوارے جسم سے جاری تھے مگر وہ پانی جو ہاتھ میں موجود تھا اس کی حفاظت جان کے ساتھ تھی۔ جھونپڑی میں داخل ہونا چاہتی تھی کہ ایک بھاری اولے نے سر کو پاش پاش کر دیا۔
مریض شوہر بخار میں بے ہوش تھا۔ اس کو مطلق خبر نہ تھی کہ آسمان کیا رنگ دکھا رہا ہے، کہ فرماں بردار بیوی عاشق زار بیگم اور غم گسار عورت نے پانی کے قطرے حلق میں ٹپکائے، مرد نے آنکھ کھولی۔ ابھی کچھ بات نہ کرنے پایا تھا کہ یہ وفا شعار بیگم جس کا سر پاش پاش اور بدن زخمی ہو چکا تھا، شوہر کے سامنے دنیا سے سدھار گئی۔
بدنصیب منکوحہ کا یہ آخری سانس غفیرہ نے اپنی مٹھی میں لیا اور خیالستان روانہ ہوئی۔
(٩)
کوشش کی انتہا اور ناکامی کی ایک حد ہوتی ہے۔ غفیرہ پرستش کے قابل عورت تھی کہ مردہ سے بدتر ہو گئی اور جس دھن کے پیچھے پڑی اس سے ہاتھ نہ اٹھایا۔ کاش ہمارے ہندوستانی عورتیں غفیرہ کے واقعات سے اتنا ہی سبق سیکھیں کہ جو ارادہ کریں، اس میں استقلال اور ثابت قدمی کو ہاتھ سے نہ دیں۔ رات آدھی سے بھی کم گذری تھی کہ غفیرہ خیالستان پہنچی۔ وہ اپنی تقدیر سے مایوس ہو چکی تھی اور اچھی طرح سمجھ گئی تھی کہ اب مجھے خیالستان کی بہار دیکھنا نصیب نہ ہوگی، پیارا وطن مجھ سے ہمیشہ کے لیے چھوٹ چکا۔ مگر جب تک زندہ ہوں کوشش میں کمی نہ کروں گی۔ سچ یہ ہے کہ انسانی زندگی کا مطالعہ بھی میرے واسطے خیالستان سے کم دلچسپ نہیں۔
غفیرہ ان ہی خیالات میں غلطاں و پیچاں تھی کہ دیوار شق ہوئی اور غفیرہ نے وہ سانس پیش کیا۔
داروغہ: آ آ غفیرہ! اندر داخل ہو، آخر تو نے گوہرِ مقصود پا لیا۔ بے شک! بے شک! وہ دنیا جس میں ایسے ایسے لوگ بستے ہوں، داد دینے کے قابل ہے۔ تیرا قصور معاف۔ تیرا وطن تجھ کو مبارک ہو۔ خیالستان اس سانس پر ہمیشہ ہمیشہ ناز کرے گا اور ہم کہ انسان نہیں ہیں، محبت کے اس پھول کو سر آنکھوں پر رکھیں گے۔ آگے بڑھ غفیرہ! کہ میں تیرے قدموں کو بوسہ دوں جو انسانی دنیا سے ایسا بے نظیر تحفہ لائے۔
Que vous laisse ce chapitre ?
Connectez-vous pour réagir
Discussion
Personne n’a encore parlé. Dites ce que ce chapitre a remué en vous.