
Capítulo 3 de 7
The Fairy of Khayalistan, Sections 4–6
خیالستان کی پری: حصہ ۴ تا ۶
(٤)
فصیل بند ہوگئی اور غفیرہ حسرت نصیب دل پہلو میں لیے شہر شہر گاؤں گاؤں میں خاک اڑاتی پھری، یوں تو رات دن ہی دنیا کے سینکڑوں کرشمے اس کی آنکھ سے گذرتے مگر یہ خیال کہ دنیا کی بہترین شے کیا ہے؟ اس کو سخت پریشان کر رہا تھا۔ پھرتی پھراتی وہ ایک روز ایسے مقام پر پہنچی جہاں ایک جوان اکلوتی بچی مرض الموت میں گرفتار تھی اور عزیزوں کا مجمع اس کے چاروں طرف تھا۔ موت خیالستان میں چاہے غیر معمولی شے ہو مگر اس دنیا میں تو کوئی لمحہ اس سے خالی نہ تھا۔ غفیرہ بھی یہ اچھی طرح سمجھتی تھی مگر ان عزیزوں کے چہروں پر کچھ ایسی حسرت اور مایوسی برس رہی تھی کہ وہ تھوڑی دیر وہاں ٹھٹکی، اس مجمع میں ایک عورت ایسی بھی تھی جس کو ہر چند لوگ سمجھا رہے تھے مگر اس کی آنکھ سے آنسو نہ تھمتا تھا۔ وہ تھوڑی تھوڑی دیر کے بعد جھکتی تھی اور مریضہ کے منہ کو بوسہ دیتی تھی۔ اس کے ہاتھ اپنی آنکھوں سے لگاتی تھی اور اپنے ہاتھ اس کے منہ پر پھیرتی تھی۔ دفعتاً مریضہ نے درد سے بے تاب ہو کر ایک آہ کی اور ان آنکھوں سے جن میں سوا نا امیدی کے اور کچھ نہ تھا، اس عورت کو دیکھا اور دیکھ کر کہا: “بس اماں جان خدا حافظ”۔
مریضہ کی زبان سے یہ لفظ ایسے درد سے نکلے کہ سیدھے اس عورت کے کلیجے پر جا گرے، وہ چاہتی تھی کہ ضبط کرے مگر نہ کر سکی۔ بے اختیار ایک چیخ ماری اور کہا:
“ماں کی جان صالحہ! گو موت کا ایک وقت مقرر ہے لیکن میں وہ بد نصیب ماں ہوں جس نے اپنی بچی کو جو تمام عمر کی کمائی اور زندگی کا حاصل تھی، اپنے ہاتھ سے موت کے منہ میں دھکیلا اور وہ شخص جس کے نام سے ترے بدن پر رعشہ ہوتا تھا اور تو لرزتی تھی، اے صالحہ! میں نے زبردستی تیری شادی کر کے تجھے اس ظالم قصائی کے سپرد کر دیا، جس کے ظلم آج تیری جان لے کر بھی ختم نہ ہوئے۔ نہ معلوم مجھے اس دنیا میں ابھی کتنے روز اور جینا ہے مگر اب زندگی کا ہر لمحہ مجھ پر لعنت برسائے گا، دنیا کی ہر جاندار اور بے جان شے مجھ کو نفرت سے دیکھے گی۔ زمین کا وہ حصہ جس کے اوپر اور آسمان کا وہ ٹکڑا جس کے نیچے میں زندہ ہوں گی، بلند آواز سے کہے گا کہ یہی ہے وہ سنگ دل ماں جس نے ایک معصوم روح کو ناشاد اور نامراد دنیا سے رخصت کیا اور خدا کی ایک مخلوق اور اپنے کلیجے کے ٹکڑے کو دیدہ و دانستہ دنیا کے عذاب میں پھنسا دیا۔ سنگدل ماں کی مظلوم و معصوم صالحہ، وہ صالحہ جو ماں کے حکم پر فدا اور اس کی خواہش پر قربان ہو رہی ہے۔ جس طرح میں تجھ کو منہ دکھانے کے قابل نہیں، اسی طرح قیامت کے روز نادم اور شرم سار نہیں خدا کے حضور میں نافرمان گناہ گار حاضر ہوں گی اور اس عذاب کو بھگتوں گی جو میرے واسطے تجویز ہوگا۔ مگر وہی خدا شاہد ہے اس بات کا کہ مجھے یہ اندیشہ نہ تھا کہ یہ شقی القلب تجھ پر سوکن لا کر دنیا میں تیری یہ کچھ مٹی پلید کرے گا”۔
ان واقعات نے گو غفیرہ کے دل میں اس بیمار کی طرف سے ہمدردی پیدا کر دی لیکن یہ کوئی ایسی غیر معمولی بات نہ تھی کہ غفیرہ اس کو دنیا کے عجائبات میں شمار کرتی۔ وہ آگے بڑھنے کا ارادہ کر رہی تھی کہ ایک نوجوان ایک ہم عمر لڑکی کے ہاتھ میں ہاتھ ڈالے داخل ہوا، بیمار کے قریب آیا اور کہا:
“قیوم کی ماں! ابھی تک چوں کہ تو زندہ ہے، میں تجھ کو اس لیے طلاق دیتا ہوں کہ شرعاً و عقلاً تیرا کوئی مطالبہ مجھ پر نہ رہے”۔
لفظ طلاق نے غفیرہ کو بالکل حیران کر دیا اور اس نے یہ فیصلہ کر دیا کہ اس سے زیادہ شقی مرد اور اس سے زیادہ مظلوم عورت دنیا میں کوئی نہ ہوگی۔ وہ قریب آئی تو اس نے دیکھا کہ طلاق نے مریضہ پر ایک خاص اثر کیا۔ اس نے ایک نگاہ جس میں منت و سماجت شامل تھے اپنے شوہر پر ڈالی چونکہ زبان نے یاری نہ دی، اس نے اپنے ہاتھ بڑھائے، ان کو جوڑا اور آہستہ آہستہ زبان سے کچھ کہا، کھانسی اٹھی اور صالحہ اسی حالت میں شوہر کے آگے ہاتھ باندھے دنیا سے رخصت ہوئی۔
یہ آخری سانس جو دم واپسیں تھا، غفیرہ نے مٹھی میں لیا اور خیالستان روانہ ہوئی۔
پہلی دفعہ بھی نہ معلوم کیا بلی کے بھاگوں چھینکا ٹوٹ گیا تھا کہ ادھر غفیرہ خون کا قطرہ لے کر پہنچی اور ادھر فصیل شق ہوئی۔اب کے تو انتظار کرتے کرتے آنکھیں پتھرا گئیں اور راہ دیکھتے دیکھتے آندھ آ گئی مگر نوروز ہی نہ آیا۔ دن بھر آس پاس کے جنگلوں میں خاک چھانتی مگر جہاں جُھٹ پٹا ہوا اور وہ فصیل کی طرف لپکی۔ ایک دل اور بیسیوں وہم، ایک سر اور سینکڑوں خیال۔ وہ جانتی تھی کہ تقدیر بری طرح ہاتھ دھو کر پیچھے پڑی ہے۔ کیا تعجب، مَیں بیٹھی کی بیٹھی ہی رہوں، آنکھ جھپک جائے اور وہ روشنی آ بھی جائے، چلی بھی جائے، جوئندہ یابندہ۔ آخر خدا خدا کر کے وہ وقت آیا۔ موسلا دھار بارش ہو رہی تھی۔ اس جنگل بیابان میں اگر کوئی پناہ تھی، تو کیکر کے درخت۔ ان ہی میں سے ایک کے نیچے غفیرہ کھڑی ٹکٹکی باندھے دیوار کو تک رہی تھی۔ اِدھر آسمان پر بجلی چمکی، اُدھر خیالستان کی روشنی نمودار، گرتی پڑتی بے تاب ہو کر لپکی۔ داروغہ موجود تھا۔ غفیرہ نے وہ سانس پیش کی۔ ساری رام کہانی سننے کے بعد داروغہ کا دل بھی پسیج گیا اور اس نے کہا:
“غفیرہ! افسوس تو آج کل ایسی زندگی بسر کر رہی ہے جہاں ایسے ایسے سنگ دل لوگ بستے ہیں۔ مجھے اس مظلوم لڑکی کا حال سن کر سخت صدمہ ہوا اور گو میں اس سانس کو عجائبات میں شمار کرتا ہوں، مگر غفیرہ! ابھی تو نے انسانی دنیا کو اچھی طرح نہیں پرکھا۔ جا ابھی اور دیکھ اور اگلے سال پھر آ”۔
یہ الفاظ ختم بھی نہ ہوئے تھے کہ دیوار بند، روشنی ندارد اور داروغہ غائب۔
اس وقت غفیرہ کی حالت قابل رحم تھی۔ امید نے اس کا ساتھ چھوڑ دیا اور نا امیدی کی مجسم تصویر اس کے سامنے آ گئی۔ اس وقت اس کو یقین ہو گیا کہ اب خیالستان کا دیکھنا مجھے نصیب نہ ہوگا۔ میں اپنے وطن سے ایسی نہیں چھوٹی کہ پھر مل سکوں۔ میری جدائی ابدی ہے اور میرا فراق قطعی، بس یہی دنیا، ناپاک دنیا، انسانوں کی دنیا، خود غرضوں کی بستی میرا مسکن ہوگا اور اسی زمین میں خیالستان کو ترستی پھڑکتی کسی دن سرد ہو جاؤں گی۔
کچھ دیر انھیں خیالات میں محو رہنے کے بعد امید نے پھر اپنا نقشہ جمایا اور نا امیدی کا خوفناک منظر آنکھ سے اوجھل ہونا شروع ہوا۔
(٥)
صبح کا سہانا وقت تھا، پرند اپنے سچے معبود کی تسبیح میں مصروف تھے کہ غفیرہ وہاں سے چلی، روز نیا دانہ تھا، نیا پانی۔ دن کہیں رات کہیں بسر کرنے لگی۔ کامل گیارہ مہینے غفیرہ نے یہ زندگی بسر کی۔ روز سینکڑوں اور ہزاروں واقعات اس کی آنکھ سے گذرتے مگر اب کوئی واقعہ اس کی رائے میں ایسا نہ ہوتا، ہزاروں اور لاکھوں چیزیں وہ صبح سے شام اور رات سے صبح تک دیکھتی، مگر کسی کو اس قابل نہ سمجھتی کہ خیالستان لے جائے۔ ایک دن خدا کا کرنا کیا ہوتا ہے کہ غفیرہ پھرتی پھراتی ایسے گھر میں پہنچی جہاں ایک ضعیفہ حسرت و یاس کی تصویر بنی بیٹھی تھی اور اس کے گرد و پیش بہت سے آدمی مرد اور عورتیں ہشاش بشاش پھر رہے تھے۔ گھر آراستہ کیا گیا تھا اور گھر والے اجلے اور نئے کپڑے بدلے، اس طرح کاموں میں مصروف تھے گویا آج ان کو کوئی غیر معمولی خوشی ہے۔ چھوٹے سے بڑے تک، مرد سے عورت اور بچے سے بڈھے تک کوئی متنفس ایسا نہ تھا جو کسی نہ کسی کام میں مصروف نہ ہو۔ کچھ ڈولیاں اتریں، کچھ مرد آئے۔ ان سب کے چہرے شگفتہ اور شاداب تھے اور سوا اس ضعیفہ کے جو کسی خیال میں محو اور کسی یاد میں از خود فراموش تھی، ہر شخص خوشی کے نعرے لگا رہا تھا۔ آخر یہ گروہ متفق ہو کر اس ضعیفہ کے قریب آیا اور ایک شخص نے اس طرح کہنا شروع کیا:
“محترمہ! اس سے زیادہ خوشی کا وقت آپ کو اور کیا نصیب ہوگا کہ آپ اب تھوڑی دیر میں اس صورت کو اپنی آنکھوں سے دیکھتی ہیں جس کو زمانے نے مدت العمر کے لیے آپ کی نظر سے اوجھل کر دیا تھا، کسے امید تھی کہ صغیر بھائی ہماری زندگی میں جلا وطنی کا زمانہ پورا کرکے ہمارے گھر میں واپس آئیں گے، ہماری آنکھیں اس صورت کو دیکھ لیں گی جس کا ہمارا مدتوں کا ساتھ تھا۔ یہ وقت آپ کے گم سم بیٹھنے کا نہیں ہے، رونے کے دن ہو چکے، اب ہنسنے کا وقت ہے۔ اب چار بجے ہیں، ساڑھے چار بجے کا وقت مقرر ہے۔ ہم استقبال کو جاتے ہیں۔ خدا صغیر بھائی کا آنا مبارک کرے اور آپ کی آنکھیں ان کے دیدار سے روشن ہوں”۔
ضعیفہ کی زبان سے کوئی لفظ نہ نکلا، اس کی ٹکٹکی اس شخص کے چہرے پر تھی اور اس کی صورت اس کے دل کی اس حالت کو ظاہر کر رہی تھی جس میں نا امیدی کے سوا اب کچھ نہ تھا۔ یہ وہ عورت تھی جس کے اکلوتے بچے کو بے گناہ محض دشمنوں کی شرارت سے عمر بھر کے واسطے جلاوطن ہونا پڑا۔ اس مبارک لمحہ کے انتظار میں جب اس کی آنکھیں اس لال کی صورت دیکھیں، اس آنے والے وقت کی امید پر جب یہ اپنے کلیجہ کے ٹکڑے کو سینہ سے لگائے، اس کی جوانی بڑھاپے سے بدل چکی تھی اور پچیس برس کے فراق نے مامتا کی ماری کو دیوانہ بنا دیا تھا۔ اس کے آنسو خشک ہو چکے تھے اور ہاتھ پاؤں نے جواب دے دیا تھا۔ ہڈیاں اور ہڈیوں میں صرف ایک سانس کی حرکت باقی رہ گئی تھی۔ سروپا کا مطلق ہوش نہ تھا۔ دیوانہ وار ایک ایک کی صورت تک رہی تھی، بے گناہ بچہ کی صورت اور اس کی محبت آنکھوں کے سامنے تھی۔ لمحہ لمحہ کے بعد کلیجہ پکڑ لیتی اور ٹھنڈا سانس بھر کر آنکھیں بند کر لیتی۔ اس میں بولنے کی طاقت نہ تھی اور اس کی ترستی پھڑکتی روح جسم سے جدا ہونے کے واسطے صرف اس صورت کے دیکھنے کا انتظار کر رہی تھی جس کو خون جگر پلا کر بڑا کیا تھا اور جس کو مدتوں کلیجے اور سینے پر لٹایا اور سلایا تھا۔
دفعتاً مبارک سلامت کا غلغلہ بلند ہوا اور ۲۵ برس کے چھوٹے ہوئے بچے کے ہاتھ ماں کے گلے میں پڑے۔ مصیبت زدہ ماں نے اس لال کی صورت دیکھ کر ایک چیخ ماری۔ فرط محبت میں اس کی آنکھ سے آنسو جاری ہوئے اور اپنے بے گناہ بچہ کو کلیجہ سے چمٹا کر نہ معلوم بے ہوش ہوئی یا مر گئی۔
آنسو کا وہ پہلا قطرہ جو اس ماں کی آنکھ سے اس وقت نکلا جب وہ بچہ کو کلیجہ سے لگائے تھی، غفیرہ نے مٹھی میں لیا اور خیالستان پہنچی۔ اس مرتبہ غفیرہ کو انتظار کی زیادہ تکلیف نہ اٹھانی پڑی۔ چار پانچ ہی روز ہوئے ہوں گے کہ ایک رات آسمان پر اس کی نگاہ تھی گو چاند نہ تھا مگر تارے کچھ ایسی دلفریبی سے کھلے ہوئے تھے کہ نیلگوں آسماں کا کونہ کونہ قدرت کی صنعت یاد دلا رہا تھا۔ یہ کچھ ایسا دلکش منظر تھا کہ غفیرہ بالکل محو ہو گئی اور اس کو وہ وقت یاد آیا جب وہ بچپن میں ماں کے ساتھ سبھا میں جاتی اور راجا بطور انعام اس کو ایک زمردیں قمقمہ دیتا۔ یہ خیال آتے ہی خیالستان اس کی آنکھ کے سامنے تھا اور عمر گذشتہ کی دلچسپیاں، عزیزوں کا جمگھٹا، برابر والیوں کی چھیڑ چھاڑ، ہم جولیوں، سہیلیوں اور بہنیلیوں کا ملنا جلنا اور سب سے زیادہ وطن کے در و دیوار۔ اس کے کلیجے پر چھریاں چل رہی تھیں، وہ ان ہی خیالات میں محو تھی کہ فصیل شق ہوئی اور غفیرہ سٹ پٹا کر لپکی۔
داروغہ: کوئی شک نہیں کہ تیرا انتخاب قابل داد ہے مگر غفیرہ ابھی کے دن اور کے رات۔ ابھی تو اس دنیا کی تہہ کو نہیں پہنچی۔ جا! جا! جا! غفیرہ جا اور پھر ڈھونڈنے جا۔
اس سے پہلے کہ غفیرہ کچھ بولتی، نہ داروغہ تھا نہ خیالستان۔ وہ سماں درہم برہم اور وہ صورت غائب!
چند گھنٹے ششدر و متحیر، مایوس و نا امید سر پکڑے بیٹھی رہی۔ مگر غفیرہ کے کلیجے میں ایسی آگ نہ لگی تھی جو کسی کے بجھائے بجھ جاتی۔ ایک ٹھنڈا سانس بھرا اور جدھر منہ اٹھا، چل کھڑی ہوئی۔ شہر اور جنگل ایک کر دیا۔ دس ساڑھے دس مہینے تک خاک اڑاتی پھری۔ اس دنیا میں واقعات کی کیا کمی تھی مگر پچھلے واقعات نے اس کی کمر کچھ ایسی توڑ دی تھی کہ وہ غیر معمولی واقعات کو بھی معمولی ہی سمجھتی۔
(٦)
برسات کا موسم، ساون کا آخری دن اور رات کا وہ وقت تھا جب ساون بھادوں گلے مل مل کر رو رہے تھے۔ سات دن اور سات رات کی متواتر بارش نے خلق خدا کے چھکے چھڑا دیے تھے۔ کچے پکے دھابے، ٹوٹے پھوٹے کھنڈلے تو کبھی کے مہندم ہو چکے تھے۔ اب بڑی بڑی محل سرائیں بھی اس طوفان کا مقابلہ نہ کر سکیں۔ چاروں طرف سے دھواں دھوں کی آوازیں آ رہی تھیں۔ سینکڑوں بندگان خدا اور بیسیوں پردہ نشین بیبیاں بھرے گھر چھوڑ چھاڑ سڑکوں پر آن بیٹھے۔ پوروا ہوا فراٹے بھر رہی تھی اور موسلا دھار مینہ دم بھر کو بھی ہلکا نہ ہوتا تھا۔
ٹھیک آدھی رات کا وقت تھا کہ دریا میں طغیانی شروع ہوئی اور آناً فاناً تمام سڑکوں پر پانی کے نالے بہنے لگے۔ عورتوں کی گریہ و زاری، مردوں کی چیخ پکار، بچوں کی واویلا بے سود تھی۔ ہوا کا شور، پانی کا زور لمحہ بہ لمحہ ترقی کر رہا تھا۔ ابھی رات کا پچھلا پہر شروع نہ ہوا تھا کہ سینکڑوں جانیں ظغیانی کی بھینٹ چڑھ گئیں۔ کیسا درد ناک سماں اور نازک وقت تھا کہ سب کو اپنی جان کے لالے پڑے ہوئے تھے۔ دیکھتے ہی دیکھتے ساری بستی سمندر بن گئی اور سوتے جاگتے، روتے چیختے، اس سر زمین کے بسنے والے چشم زدن میں لقمۂ اجل ہو گئے۔ البتہ بچ گئیں تو وہ چند جانیں جو پہاڑی پر پہنچ گئیں اور دریا کی زد سے محفوظ رہیں۔
اس پہاڑی کے دامن میں ایک ٹوٹی سی جھونپڑی تھی جہاں ایک بد نصیب عورت اپنے چھ مہینے کے بچہ کو کندھے سے لگائے ٹہل رہی تھی۔ ہوا کے ایک جھکڑ نے جھونپڑی کا ایک حصہ اڑا دیا اور اب اس قیامت خیز وقت میں اس بد نصیب عورت کے پاس اگر کوئی معاون و مددگار تھا تو صرف شیر خوار بچہ۔
آدھی رات کا وقت تھا۔ ہوا سائیں سائیں کر رہی تھی اور موسلا دھار مینہ پڑ رہا تھا۔ گو یہ جھونپڑی کچھ بلندی پر تھی، مگر دریا کی طغیانی نے اس کو بھی نہ چھوڑا اور پانی اس طرف بھی پہنچنا شروع ہوا۔ مال اور اسباب کا ہوش کسے تھا، لوگ اپنی جانوں ہی کو بچا لینا غنیمت سمجھ رہے تھے۔ چند مردوں کی ایک جماعت روشنی ہاتھ میں لیے اس جھونپڑی کے قریب پہنچی تو اس بدنصیب عورت کو با آواز بلند پکارنا شروع کیا کہ بچہ کو لے کر باہر نکل آئے اور پہاڑی پر پہنچ کر اپنی اور اس معصوم کی جان بچائے۔
پانی کمر کمر پہنچ چکا تھا اور کوئی دم جاتا تھا کہ دریا کی لہریں ان دونوں ماں بیٹوں کو کہیں کا کہیں پہنچا دیں کہ اس آواز نے عورت کو ہوشیار کیا۔ وہ بھاگنے کے واسطے دروازے تک آئی مگر غیر مردوں کی صورت دیکھ کر پھر اندر چلی گئی، پانی اب گلے گلے تھا کہ ایک دفعہ ان لوگوں نے اور آواز دی اور چلا کر کہا: “بدنصیب عورت یہ پردے کا وقت نہیں ہے، ان دو جانوں پر رحم کر، باہر نکل اور پہاڑی پر چڑھ جا۔”
عورت گھبرا کر آگے بڑھی، بچہ کندھے سے چمٹا ہوا تھا، باہر نکلنے کی کوشش کی مگر پردے کی اس قید نے جو زنجیر کی طرح پاؤں میں پڑی ہوئی تھی، اس کو ایک قدم نہ اٹھانے دیا۔ وہ اپنے دل سے یہ کہہ کر پھر اندر چلی گئی: “جان ایک روز جانی ہے مگر غیروں کی مدد سے جان بچائی تو کیا بچائی”۔ لوگوں نے ایک آواز اور دی اور اس کے بعد ناامید و مایوس پہاڑی پر چڑھ گئے۔ آناً فاناً پانی کی زبردست لہر نے جھونپڑی کو تاراج کردیا اور ماں بیٹوں کی چمٹی ہوئی لاشیں آنکھ سے اوجھل ہو گئیں۔
غفیرہ اس آسمانی عتاب کی کیفیت دیکھ کر لرز رہی تھی۔ جس وقت یہ عورت دوسری مرتبہ واپس ہوئی ہے اور پانی کی لہر نے اس کو غرقاب کر دیا ہے اس وقت دو خیال اس کے دل میں پیدا ہوئے:
1. کیا تعریف کے قابل ہے وہ عورت جس نے اپنی اور اپنے بچے کی جان قربان کردی مگر پردہ کی زنجیر کو نہ توڑا۔
2. افسوس کے قابل ہے وہ سرزمین جس کے بسنے والوں میں ایسی جہالت بھری ہوئی ہو کہ محض ایک قدیم رسم کو پورا کرنے کے واسطے جان تک کی پروا نہ کی۔
جس لہر نے ان دونوں کا خاتمہ کیا اس کے چند قطرے غفیرہ نے لیے اور خیالستان چلی۔
اس مرتبہ غفیرہ کی تقدیر نے اتنا سلوک تو کیا کہ عین وقت کے اوپر پہنچ گئی ورنہ پورے سال بھر سر ٹکراتی جب کہیں جا کر رسائی ہوتی۔ خیالستان کی سرحد میں داخل ہونا تھا کہ جان میں جان آ گئی۔ ابھی اس فرحت سے جی بھرنے بھی نہ پایا تھا کہ دیوار شق ہوئی اور غفیرہ اس خوشی اور فرحت کو چھوڑ چھاڑ ادھر لپکی اور اپنا ہدیہ پیش کیا۔
یہ کہنے کا شاید ہمیں حق نہ ہو کہ داروغہ انسان سے زیادہ سنگ دل تھا، مگر ہاں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ انسان کتنا ہی سنگ دل ہوتا مگر بہت مشکل سے ممکن تھا کہ غفیرہ جیسی مظلوم، بے بس، بے کس کی منت و سماجت پر اس کا دل نہ پسیجتا۔
داروغہ جب تک سوچتا رہا، غفیرہ کی آنکھ سے آنسو گرتے رہے۔ وہ بے تاب تھی اور جانتی تھی کہ عنقریب اس زبان سے وہ لفظ نکلیں گے جو میری سال بھر کی محنت کا فیصلہ کرنے والے ہیں۔
داروغہ نے آخر سر اٹھایا اور کہا:
“غفیرہ! تیرا انتخاب قابل داد مگر منزل مقصود ابھی دور ہے”۔
فقرہ ختم ہونے سے پہلے وہ سماں درہم برہم تھا اور غفیرہ کے سامنے وہ سرحد تھی جس کی دیواریں آسمان سے باتیں کر رہی تھیں۔ اس مرتبہ بد نصیب غفیرہ اپنی کامیابی سے بالکل مایوس ہوگئی اور یہ فیصلہ کر کے کہ اگر زندگی اس ارمان کو پورا نہیں کر سکتی تو موت اس تکلیف کا خاتمہ کر دے گی، وہ دریا کے قریب پہنچی۔
تاروں بھری رات اپنی دو منزلیں طے کر چکی تھی اور چودھویں رات کا چاند غفیرہ کو ٹکٹکی باندھے دیکھ رہا تھا۔ لہریں پانی کے آغوش میں مچل مچل کر لوٹ رہی تھیں اور قریب تھا کہ غفیرہ ان لہروں سے لپٹ کر اپنی تکلیفوں کو خیر باد کہے کہ دفعتاً کامیابی کی امیدوں نے پھر اپنا نقشہ جمایا اور دل نے یہ صدا دی کہ اس فانی دنیا کے چند روزہ قیام میں ایسی ایسی بیویاں دیکھیں کہ آنکھیں آج تک ان کے صبر و استقلال کی داد دے رہی ہیں۔ وہ بھی عورتیں ہی ہیں جو مردانہ وار صدمات کا مقابلہ کر رہی ہیں اور ایسی موت مر رہی ہیں کہ لاکھوں زندگیاں ان پر ست سے قربان ہوں۔ اور میں بھی عورت ہوں کہ اس تھوڑی سی تکلیف میں زندگی سے بیزار ہو گئی۔ چلوں پھر چلوں اور اس وقت تک اپنی کوشش میں کمی نہ کروں جب تک تقدیر مجھ کو میرے پیارے وطن خیالستان میں پہنچا دے یا قدرت اپنی زبردست طاقت سے پیغام موت بھیج کر مجھ کو کوشش کے قابل نہ رکھے۔
¿Qué te deja este capítulo?
Inicia sesión para reaccionar
Conversación
Nadie ha hablado todavía. Cuenta qué removió en ti este capítulo.