Urdu in Translation
Buscar

Capítulo 3 de 12

Stain Your Prayer Mat with Wine (I)

بہ مے سجادہ رنگین کن گرت پیر مغاں گوید (۱)

Abdul Halim Sharar

Escritura
Tamaño

صبح کا وقت تھا اور نسیم کے جھونکے چل رہے تھے کہ مرغانَ سحر نے اپنے نشیمنوں سے نکل نکل کے حسین کو خواب بے ہوشی سے جگایا۔ خمار کی سی کروٹیں بدل کے آنکھیں ملتا ہوا اُٹھا اور چاروں طرف مڑ مڑ کے دیکھا مگر زمرد کا کہیں پتا نہ تھا۔ جب معشوقۂ دل ربا کی پیاری اور محبت بھری صورت کسی طرف نظر نہ آئی تو کلیجا دھک سے ہو گیا۔ ناتوانی اور سر پھرنے کی وجہ سے کئی دفعہ گر کے اٹھا اور لڑکھڑاتا ہوا چلا۔ آس پاس ہر جگہ دیکھا،ہر طرف نظر دوڑا دوڑا کے ڈھونڈا لیکن نازنین و ناز آفریں زمرد کا کہیں نام و نشان نہیں۔ آخر ہر طرف سے مایوس ہو کے اور جستجو میں تھک کے موسیٰ کی قبر کے پاس آ کے بیٹھ گیا اور نہایت ہی حسرت و اندوہ کے عالم میں آنسو بہا بہا کے کہنے لگا:"پیاری زمرد تو کہاں گئ؟ آہ! کیا آسمان و زمین کھا گئے یا رات کی پریاں تجھے بھی ساتھ لے گئیں۔"

اتفاقاً موسیٰ کی قبر پر نظر جا پڑی اور یہ دیکھ کے متعجب ہوا کہ کچھ بدلی ہوئی سی ہے اور دو ایک پتھر زیادہ ہیں جو کل شام نہ تےا۔ حیرت کم نہیں ہوئی تھی کہ اس چٹان پر نظر گئی جس پر موسیٰ کا نام کندہ تھا اور اس کتابے میں بھی کچھ تغیر دیکھ کے غور سے پڑھنے لگا۔ کسی قدر بلند آواز میں اس کی زبان سے نکلا:"موسیٰ و زمرد" اور اس کے ساتھ ہی چیخ مار کے وہ پھر سے بے ہوش ہو گیا۔ غم و اندوہ کے فوری جھٹکے پر طبیعت پھر غالب آئی، ہوش آیا اور دل میں کہا "افسوس وہی ہوا جو زمرد کہتی تھی۔ وہ مر گئی اور میں زندہ ہوں۔آہ! پریاں بڑی ظالم تھیں، اسے مار ڈالا اور مجھے نیم جان چھوڑ گئیں۔ آہ! وہ تو میری جان تھی پھر اس کے بغیر میں کیوں زندہ ہوں؟"

یہ کہہ کے اس چٹان سے سر ٹکرانے لگا جس پر دونوں بہن بھائیوں کے نام کندہ تھے۔ دل میں آئی کہ قبر کھول کے اپنے آپ کو بھی اس میں دفن کر دے۔ بلکہ اس ارادے سے چلا تھا کہ مذہب کے فرشتے نے کان میں کہا:"یہ دین کے خلاف اور مرنے والوں کی توہین ہے۔" فرشتۂ غیب کی یہ آواز سنتے ہی اس نے زور سے چلاّ کے کہا:"تو آہ پھر میں کیا کروں؟" اور یہ کہہ کے زمیں پر گرا اور تڑپنے لگا۔دیر تک تڑپنے اور نالہ و زاری کے بعد اُٹھا اور دوڑ کے موسیٰ کی قبر سے لٹر گیا جسے اب وہ زمرد کی تربت سمجھتا ہے ، اور جس طرح کوئی کسی زندہ شخص کی طرف متوجہ ہو کے باتیں کرتا ہے اسی طرح اس قبر کی طرف خطاب کر کے کہنے لگا:

"پیاری زمرد مرنا میرے اختیار میں نہیں؛ خودکشی حرام ہے اور جینا بے سود و بے مزہ،لیکن کب تک؟ مرنا برحق ہے اور موت ایک دن آنی ہی ہے ، پھر اس کا انتظار اسی جگہ کیوں نہ کیا جائے زندگی کے ان باقی دنوں میں تیری قبر میری مونس و جلیس ہو گی اور تیرا خیال میرا بے وفا معشوق۔ بس اب یہیں رہوں گا اور یہیں مروں گا۔ ہائے جس طرح تیرے بھائی نے تجھے اپنے پاس بلایا اسی طرح تو مجھے بلا لے۔ تیری وصیت مجھ سے نہیں پوری ہو سکتی۔ اب میں یہیں کا ہوں۔ کیا عجب کہ ان پریوں کا پھر کبھی ادھر گزر ہو؛ وہ بڑی آسانی سے مجھے تیرے پاس پہنچا دیں گی۔"

دل میں یہ فیصلہ کر لینے کر بعد حن ط کو کسی قدر تسکین سی ہو گئی۔ قبر پر سے اٹھ کے نہر کے کنارے گیا؛ پر نم آنکھوں پر پاک و صاف پانی کے چھینٹے دیے ، وضو کیا اور قبر کے برابر کھڑے ہوکے چند نوافل ادا کیں۔ پھر بیٹھ کے انتہائی خشوع و خضوع کے ساتھ زمرد کے لیے دعائے مغفرت کرنے لگا اور ہمیشہ کے لیے یہیں کی سکونت اختیار کر لی۔

حسین نے کچھ ایسے مضبوط دل سے اپنے لیے یہ زندگی اختیار کی تھی اور موت کی دعا مانگنے یا جان ستاں پریوں کے انتظار میں اسے کچھ ایسا مزا ملنے لگا تھا کہ اب اسے نہ وطن یاد ہے اور نہ وہ ارادہ حج۔ زمرد کا خیال اس کا قبلہ ہے اور وہ مشترک قبر اس کی مسجد۔ گھاس پات یا کبھی کبھی چڑیوں کے شکار پر زندگی بسر ہوتی ہے۔اور پیامِ مرگ کا ہر گھڑی انتظار رہتا ہے۔ جب کبھی اندوہ و غم کا زیادہ ہجوم ہوتا ہے تو اپنی نازنین معشوقہ کی قبر سے لپٹ کے اور رو دھو کے اپنے دل کی بھڑاس نکالتا ہے۔

اس حالت میں رہتے اور موسیٰ اور زمرد کی تربت کا مجاور بنے اسے چھ مہینے گزر گئے۔ جاڑوں کا پورا موسم ان پہاڑوں پر بسر ہوا، جہاں ایک عرصے تک ان مظلوم شہیدان حسرت کی قبر پر برف کی چادر چڑھی رہی۔ موسم کی سخت سردی اور برف باری اس نے صبر شکر کے ساتھ جھیل لی۔ اب بہار کا زمانہ ہے اور ہر طرف پہاڑوں کے پہلو، نشیبی وادیاں اور یہ سارا مرغ زار پھولوں سے بھرا ہوا ہے۔ ہوا کے جھونکے ہمیشہ معطر اور مشکبار رہتے ہیں اور دل کا ولولہ ساعت بہ ساعت زیادہ بڑھتا جاتا ہے۔ حسین کا غم اب پہلے سے زیادہ جوش و خروش پر ہے۔اب اس بہار کو دیکھ کے اسے پریوں کے آنے کا زیادہ یقین ہے ، اور ان ظالم پری وشوں کے انتظار میں بے صبری اور بے چینی پیدا ہو چلی ہے : "افسوس! موسیٰ اور زمرد کا کام تو پریوں نے ایک ہی دن میں تمام کر دیا اور میں ایسا بدنصیب ہوں کہ انتظار ہی انتظار میں چھ مہینے گزر گئے اور وہ کیوں ادھر کا راستہ ہی بھول گئیں۔"

ایک دن صبح کو سو کے اٹھا تو خلاف معمول زمرد کی قبر پر ایک کاغذ پڑا ملا۔ حیرت و شوق سے دوڑ کے اسے اٹھایا اور پڑھاتو چند لمحے تک نقشِ حیرت بنا کھڑا رہا بار بار تحریر کو غور کر کے دیکھتا اور کہتا:"نگاہ تو نہیں غلطی کر رہی؟"۔ مگر ساعت بہ ساعت یقین پختہ ہوتا جاتا کہ خاص زمرد کے ہاتھ کی تحریر ہے۔ اس خط کی عبارت یہ تھی:

"حسین! میں اس عالم میں نہایت خوش ہوں۔ یہاں کی مسرتیں تیرے وہم و قیاس سے بالا ہیں۔ میں اسی باغ فردوس میں ہوں جس کا قرآن اور تمام کتب سماوی میں ہر مسلمان اور خدا شناس سے وعدہ کیا گیا ہے۔ یہ سب لذتیں خدا کی مہربانی سے مجھے حاصل ہیں۔ زہرہ و مشتری جن کے حسن کی شعاعیں تجھے دور سے نظر آتی ہیں میرے مونس و جلیس ہیں۔ ان کا قصہ تو سن چکا ہے مگر یہ نہیں جانتا کہ اس عالم نور اور اس مرکز لاہوت کی مسرتیں کتنی دل فریب ہیں کہ انھیں ہاروت و ماروت کی جاں بازی کا خیال بھی نہیں آتا۔مگر میں یہاں بھی تیرے لیے حیران اور تجھ سے ملنے کی مشتاق ہوں۔ فرشتوں اور دیگر آسمانی روحوں کے ذریعے مجھے برابر معلوم ہوتا رہا کہ تو میری قبر کا مجاور بنا بیٹھا ہے۔ وہ مادی کشش جو ایک عرصے تک روح کو عالم عناصر کی طرف متوجہ رکھتی ہے ، مجھے بارہا میری قبر پر لے گئی۔ میں نے تجھے اپنی قبر سے لپٹ کے روتے دیکھا اور خود بھی گھنٹوں تیرے ساتھ کھڑی ہو کے رویا کی۔مگر افسوس نہ تیری دنیاوی آنکھیں میری صورت دیکھ سکتی تھیں اور نہ تیرے مادی کان میرے رونے کی آواز سن سکتے تھے۔ تو ناحق موت کا منتظر ہے ؛ ابھی تجھے بہت دنوں دنیا میں رہنا ہے۔ وہ وقت دور ہے جب کہ مجھے تیرے وصال کی خوشی حاصل ہو گی۔ وہ باغ جہاں تو ہے پریوں کا نشیمن تھا مگر تیرے سبب سے وہ وہاں نہیں آ سکیںا اور چوں کہ ابھی تیرے مرنے کا وقت نہیں آیا،لہٰذا تجھے قتل بھی نہیں کر سکتیں۔۔ یہ اسباب ہیں جن کی وجہ سے وہ کسی طرح اپنے تفریح گاہ کو تجھ سے خالی نہیں کروا سکتیں۔ مجبوراً خود ان ہی کو اپنا نشیمن چھوڑ دینا پڑا۔ افسوس تو نے میری وصیت پر عمل نہ کیا۔ بدنام کرنے والے اور میرے نام پر تہمت لگانے والے اسی طرح ذلیل کر رہے ہیں۔ جن کے الزاموں کا طومار مجھے بہت ستاتا ہے۔ اسی وجہ سے میں تجھے پھر اپنی وصیت یاد دلاتی ہوں اور نہایت ہی آرزو کے ساتھ کہتی ہوں کہ جا اور میری وصیت پوری کر۔

تجھ سے دور اور تیری دل دادہ ———— زمرد"

حسین نے ہزارہا دفعہ اس خط کو پڑھا۔ اس کے طرز تحریر اور الفاظ کوٍ قریب سے اور آنکھیں پھاڑ پھاڑ کے دیکھا، کسی طرح سمجھ میں نہ آتا تھا کہ مضمون کیا ہے۔ایک دفعہ گھبرا کے بولا:"کیا زمرد زندہ ہے "پھر آپ ہی کہنے لگا، "نہیں ، یہ ممکن نہیں اور وہ خود ہی لکھ رہی ہے کہ دوسرے عالم میں ہے اور فردوسَ بریں کی سیر کر رہی ہے۔ پھر یہ خط کیوں کر آیا اور کون لایا۔" دیر تک غور کرتا رہا کہ اب مجھے کیا کرنا چاہیے۔ پہلے دل میں آئی کہ زمرد کی ہدایت کے بموجب واپس چلا جائے مگر پھر آپ ہی بولا؛ "نہیں، یہ بالکل بے حاصل ہو گا۔ اول تو وہاں تک جایا کس سے جائے گا اور با لفرض اگر جاؤں بھی تو اس قصے کا یقین کس کو آئے گا؛ سب مجھے جھٹلا کے بے وقوف بنائیں گے۔ نہیں میں نہیں جا سکتا۔ اب تو میں عہد کر چکا کہ زندگی کے باقی ماندہ دن اسی قبر اور زمرد کی یادگار کے پاس بسر کروں گا۔ زمرد کہتی ہے کہ ابھی مجھے بہت دنوں ایڑیاں رگڑنا ہیں؛ بہتر؛ رگڑوں گا، اور جہاں تک جھیلا جائے گا جھیلوں گا۔ اس جگہ ایڑیاں رگڑنا بھی زمانے کی خاک چھاننے سے اچھا ہے۔افسوس زمرد دل میں خفا ہو گی کہ اب بھی اس کی وصیت نہ پوری کی، لیکن میں اپے عذرات پیش کیے دیتا ہوں۔ جو فرشتے میری روز روز کی خبر اس تک پہنچاتے ہیں، میرا عذر بھی اس کے گوش گزار کر دیں گے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ اس وقت وہ کھڑی مجھے دیکھ رہی ہو۔ میری باتیں اپنے کانوں سے سن رہی ہو۔ممکن کیا معنی بالکل قریں قیاس ہے ، اب اپنے خط کا جواب سننے ا س کی روح ضرور یہاں آئی ہو گی؛ ہاں تو جو کچھ کہنا ہے اسی سے کیوں نہ کہہ دوں۔"

یہ خیال اس کے دل میں جم گیا اور زمرد کی قبر کی دیکھ دیکھ کے یوں کہنا شروع کیا:

"پیاری زمرد! نہ میں اس عالم نور میں ہوں جس میں تو ہے اور نہ میرے پاس وہ نورانی نامہ بر ہیں جو مجھ خاکی پیکر کا خط تجھ تک پہنچا دیں۔ اپنی نورانی اور نوری توجہ سے کام لے اور خود میری زبان سے میرا عذر سن۔ او حور وش اور خود مقبولِ الٰہی نازنیں! او غواص دریائے رموز وحدت و کثرت! کیا عجب کہ اپنے نور اور تجرد کی آنکھوں سے تو اس وقت میری ستم زدگی کا تماشا دیکھ رہی ہویا یہ میری آہ و زاری کی جگر دوز آواز تیرے روحانی کانوں تک پہنچ رہی ہو۔ زمرد! مجھے ان لوگوں کے پاس نہ بھیج جن کے فہم و ادراک سے تیری نورانیت اور تیری مقبولیت اور معصومیت کا قصہ بالا تر ہے۔ وہ میرے کہنے کو سچ نہ مانیں گے ، لہٰذا اپنے عشق میں مجھے اس ذلت و رسوائی سے بچا اور اگر بارگاہ لم یزل میں تیری آواز کچھ بھی اثر رکھتی ہو تو مجھے کوشش کر کے اپنے پاس بلا۔ ان پریوں کو بھیج اور جلدی بھیج کہ اپنے تفریح گاہ کو مجھ سے خالی کر لیں۔ میری روح تیرے شوق میں ایک ذبح کیے ہوئے طائر کی طرح تڑپ رہی ہے اور اس مادی پنجرے سے نکلنے کے لیے پھڑکتی ہے۔ او محبت والی نازنین! مجھے کہیں اور نہ بھیج بلکہ اپنے پاس بلا۔"

اس قسم کے خیالات ظاہر کرتے ہوئے حسین کا جوش اس قدر بڑھ گیا کہ بے تاب ہو کے زمین پر گرا اور لوٹنے اور تڑپنے لگا۔ اور جب ناتوانی زیادہ ہوئی تو قبر سے لپٹ کر بے ہوش ہو گیا۔ اس اس خط نے اس کا جوش بڑھا دیا تھا اور اس کے دن پہلے سے زیادہ غم و اندوہ میں گزر رہے تھے۔ زمرد نے عالم سروشستان سے جو مراسلت کی تھی اس نے دل کے جذبات یکایک ابھار دیا تھا۔ روز مینونشین معشوقہ کو خواب میں دیکھتا اور روز ایک نیا خیال پیدا ہوتا۔ شاید عالم آخرت کا اتنا علم الیقین کسی مسلمان کو کم ہو گا جتنا کہ فی الحال حسین کو تھا۔دنیا ا س کی نظر میں ہیچ تھی اور اپنے آپ کو عالم نور و ظلمت کے مابین ایک برزخ میں پاتا اور بے صبری و خود فراموشی کے ساتھ چاہتا تھا کہ کسی طرح اس مادی اور جسمانی جامے کو چاک کر کے عالم نور میں جا پہنچے۔جواب دیے کو بھی ایک مہینہ ہو گیا، جس کی ہر گھڑی زمرد کے نئے خط کے انتظار میں گزری تھی، آخر انتظار کا زمانہ ختم ہوا ور ایک اور خط ملا جس کا مضمون یہ تھا:

"اے محبوس ظلمت کدہ ارض! میری جستجو میں تو حد سے گزرتا جا تا ہے۔ اور یہ نہ سمجھ کہ مجھ پر اس کا کچھ اثر نہیں ہوتا۔ میرے تعلقات تیرے ساتھ روحانی تھے۔ اور یہی سبب ہے کہ اس عالم میں بھی جہاں ہر طرف مسرتیں ہجوم کیے ہوئے ہیں اور خداوند جل و علا نے ایک خاص بعد از فہم و ادراک لذت میرے دل میں پیدا کر دی ہے میں تیری طرف سے اپنا خیال نہیں ہٹا سکتی۔ تیری یاد میں یہ روحانی لذتیں بھی میرے دل سے غم کا کانٹا نہیں نکال سکتیں۔

خیر اب تو نے پورا امتحان دیا ہے اور کوئی چیز تیرے دل سے میرا خیال نہیں نکال سکتی۔ تو مایوس نہ ہو اور مجھ سے ملنے کا سامان کر۔ یاد رکھ کہ یہ وہ جگہ نہیں ہے جہاں تو مجھے پا سکے گا۔ میں تجھ سے قریب بھی ہوں اور دور بھی ہوں لیکن جس دروازے سے تو میرے پاس آ سکے گا وہ بہت فاصلے پر ہے اور وہاں تک تو بڑی محنت و ریاضت سے پہنچ سکے گا۔ ا س کام کے لیے تجھے نفس کشی و ریاضت بھی کرنا ہو گی اور بڑے بڑے سفر بھی کرنا پڑیں گے۔ اس طرح بے مرشد وہ رہبر پہاڑوں سے ٹکرانا بے سود ہے ، اور نہ اس رونے دھونے سے کچھ ہو گا۔ اگر مجھ سے ملنے کا سچا شوق رکھتا ہے تو اس وادی سے نکل اور کوہ جودی کی مغربی گھاٹی میں ایک بڑا غار ہے جس میں بڑے بڑے خدا شناس لوگ چلہ کشی کر چکے ہیں۔ لوگ نہیں جانتے مگر مجھے یہاں آ کے معلوم ہوا کہ جس غار میں جناب ابراہیم علیہ اسلام نے کواکب کے طلوع و غروب سے نسخ کر کے خدا کو پہچانا تھا، وہ یہی غار ہے ، اب لوگ اس غار کو ارض شام میں بتاتے ہیں لیکن یہ صریح جھوٹ ہے۔ حضرت ابراہیم علیہ اسلام کا بچپن شام میں نہیں گزرا بلکہ اس سرزمین میں جہاں ان کا وطن تھا اور جہاں نوح علیہ اسلام کی کشتی ٹھہرنے کے بعد ان کی نسل سکونت پذیر ہو گئی تھی۔ اس غار میں تو چالیس دن تک بیٹھ کے چلہ کھینچ اور کوشش کر کہ اس مدت میں ہر چوتھے دن تھوڑی سی نباتی قوت لا یموت پر زندگی بسر کرے۔ یہ بھی ضروری ہی کہ پورے چلے بھر میں صرف ایک صورت تیرے سامنے ہو اور صرف ایک خیال تیرے دل میں۔وہ صورت تو میری ہو اور وہ خیال یہ ان مرشد سے ملنے کا جن کے مریدوں میں شامل ہونے کو تو غار سے نکل کے روانہ ہو گا۔ اس چلے کی تنہائی میں تو اکثر دیکھے گا کہ میں تجھے اپنی طرف بلا رہی ہو؛ مگر خبردار اس خیالی پیکر کے دھوکے میں نہیں آنا۔ کہیں ذرا بھی تیرے قدم کو لغزش ہوئی تو سمجھ لے کہ مجھ سے ملنے کی کوئی امید نہیں۔ چالیس دن کے بعد پچھلی رات کو اس غار اور کوہ جودی کی گھاٹیوں سے نکل کے سرزمین شام کو روانہ ہو اور بغیر اس کے کہ کسی اور جگہ قیام کرے ، بہ خط مستقیم شہر خلیل میں جا۔ وہاں کے مشہور تہ خانے میں حضرت یعقوب و یوسف علیہم اسلام کے جنازے رکھے ہوئے ہیں۔ لوگوں کی آنکھ بچا کے اتر۔ لوگ تجھے روکیں گے مگر ایسی کوشش کر کہ نگہبانوں اور مجاوروں کو خبر نہ ہو اور تو اندر پہنچ جائے۔ چالیس دن تک ان دونوں جنازوں کے درمیان میں بیٹھ کے چلہ کھینچ۔ پھر وہاں سے نکل کے شہر حلب کو جا۔ وہاں محلہ ارامنہ کے عقب میں تجھے ایک چھوٹی سی مسجد ملے گی جو مسجد الشاسمین کہلاتی ہے۔ اس مسجد میں جا کے ٹھر۔ دوسرے ہی دن نماز فجر کی جماعت میں ایک شخص آئے گا جو صوف کے کپڑے پہنے ہو گا۔ اس کے بال لمبے ہوں گے اور ایک سیاہ کملی میں اپنا سارا جسم چھپائے ہو گا۔اس شخص کی چھوٹی ڈاڑھی میں نصف سے زیادہ بال سفید نظر آئیں گے اور اس کا عمامہ سبز ہو گا اس لیے کہ سادات بنی فاطمہ سے ہے۔اس نورستان میں اگرچہ وہ کسی اور معزز خطاب سے یاد کیا جاتا ہے اس عالم عناصر میں اس کا نام الشریف علی وجودی ہے۔ یہ شخص اگرچہ بالکل منکسرانہ مزاج و وضع کا نظر آئے گا مگر اس کی آنکھوں سے ریاضت و نفس کشی اور جذبات روحانی زیادہ ہونے کی وجہ سے شعلے نکلتے ہوں گے۔ خوب یاد رکھ کہ جب تک تو شریف علی وجودی کے سامنے نہ جا پہنچے گا وہ تیری طرف نہ توجہ کریں گے۔ ان بتائی ہوئی نشانیوں سے تو ان کو پہچان لینا اور ان سے حق کا خواستگار ہونا۔یہی شخص تجھ کو مجھ سے ملا سکتا ہے اور اسی کے ہاتھ میں ہماری کامیابی ہے۔ اگر میرا شیدا اور میرا آرزومند ہے تو جب تک مقصد نہ بر آئے شیخ کی خدمت اور غلامی کرنا۔ اگر تو پورے ایک سال تک شریف علی کی خدمت میں رہے گا تو کوئی ایسا موقع ضرور پائے گا جب کہ وہ ایک جوش اور ولولے میں انسان کو ملاء اعلیٰ کی سیر کر دینے کا دعوی کریں گے۔ یہ دعویٰ سنتے ہی ان کے قدموں پر گر کے اپنی دلی آرزو ظاہر کرنا؛ وہ بے شک منظور کریں گے۔ مگر اس کا خیال رہے کہ شیخ کے ہر حکم کی تعمیل خواہ تیری سمجھ آئے یہ نہ آئے بے عذر اور بلا حجت کرنا۔

"بہ مے سجادہ رنگین کن گرت پیر مغاں گوید"

اگر یہ سب مراحل تو نے طے کر لیے اور شیخ کی اطاعت میں پوری سرگرمی اور گرم جوشی دکھا دی تو جان لے کہ میرا آغوش تیرے لیے کھلا ہوا ہے۔ تجھ سے زیادہ میں تیرے لیے حیران ہوں۔بس اب جلدی اس وادی اور میری قبر کو چھوڑ اور مجھ سے ملنے کی کوشش میں استقلال و مستعدی دکھا۔

تیری دیدا اور مشتاق

زمرد"

حسین اپنے جوش محبت اور وطن و احباب سے متنفر ہو جانے کی وجہ سے زمرد کی پہلی وصیت اور اس کے بعد گزشتہ خط پر عمل نہیں کر سکتا تھا مگر اب اس خط کے بعد ممکن نہ تھا کہ ایک گھڑی بھر کے لیے بھی وہ اس وادی میں ٹھہر سکے۔ زمرد کی محبت اور وفاشعاری یاد آئی، پلے نہایت ہی جوش و خروش کے ساتھ زمرد کی قبر سے رخصت ہوا پھر خط کو کئی بار چوم کے اور آنکھوں سے لگا کے سینے میں دل سے لگا کے رکھا اور کمر باندھ کے چل کھڑا ہوا۔ تنگ و تاریک گھاٹی سے بہ ہزار دشواری سنبھل سنبھل کے نکلا اور اسی مقام پر پہنچا جہاں اپنے اور زمرد کے گدھوں کو درختوں سے باندھ کر چھوڑ گیا تھا۔دونوں گدھے بندھے ہی بندھے سوکھ سوکھ کے سردی و برف باری کے صدمے اٹھا اٹھا کے مر گر گئے تھے۔ ان کی ہڈیاں درخت نے نیچے پڑی ہوئی تھیً۔ مگر یہ دیکھ کے وہ حیران ہوا کی قدیم گدھے کے بدلے اب ایک نیا اور تازہ دم گدھا اُسی درخت میں بندھا اور کسا کھڑا ہے۔ خلاف امید اس سواری کو پا کر اس نے خداوند کریم کا شکریہ ادا کیا جس نے اس عالم نور کے بہت سے رموز سے اسے اسن دینا میں ہی آشنا کر دیا تھا۔ اور آگے کی راہ لی۔ جہاں تک راستہ خراب اور پیچیدہ تھا وہںک تک تو وہ گدھے کا دہانہ پکڑے ہوئے پاپیادہ گیا اور جب صاف اور کشادہ زمین مل گئی تو اس خدا کی دی ہوئی سواری پر سوار ہو کے سیدھا مغرب کی طرف چل کھڑا ہوا۔ چونکہ اس کوہستان کا سلسلہ بھی مشرق سے مغرب کو گیا ہے لہٰذا اس کے دام ہی دام میں بادیہ پیمائی شروع کی اور دو مہینے کی دشت نوردی کے بعد علاقہ آذر بائیجان کے شہر تبریز میں جا پہنچا۔ جہاں سے کوہ جودی دس بارہ دن کی مسافت پر ہے۔ تبریز ایسا با رونق شہر تھا کہ حسین کے دل میں آئی دو دن ٹھہر کے سیر کر لے مگر زمرد کی تاکید یاد آئی اور بغیر اس کے کہ کارواں سرا میں کمر بھی کھولی ہو، آگے کی راہ لی اور دس روز کر دشت نوردی کے بعد کوہ جودی کی سر بہ فلک چوٹی کے نیچے جا کھڑا ہوا۔

کوہ جودی بہت بلند پہاڑ ہے اور ایران و ایشیائے کوچک بلکہ سلسلہ کوہ قاف کی اکثر چوٹیوں سے زیادہ بلند ہے۔ حسین پہلے ایک بڑا چکر کھا کے اس زبردست اور برف سے ڈھکے ہوئے قلعے کے مشرق پہلو پر نکل گیا اور اس غار کو ڈھونڈنے لگا جس میں اسے چلہ کشی کرنا تھی۔ کئی روز تک چٹانوں اور گھاٹیوں میں ٹکراتے رہنے کے بعد غار ملا۔ دور دور کے گاؤں والے اکثر اس غار کی زیارت اور اس کے تاریک دہانے پر کچھ نہ کچھ چڑھانے کو آتے رہتے تھے جن میں اس کی قدیم برکتوں کے قصے بہت مشہور تھے اور یہود و نصاریٰ اور مسلمان سب اس کو حرمت و ادب کی نگاہ سے دیکھتے تھے۔ انھیں گاؤں والوں میں سے ایک زائر کی زبانی حسین کو اس کے حالات معلوم ہوئے اور سمجھ گیا کہ یہی وہ مقام ہے جہاں اسے اپنی ریاضت و نفس کشی کا امتحان دینا ہے ، اور جہاں جناب ابراہیم علیہ سلام نے خدا کو پہچانا تھا۔

دن کو جب حسین اس غار کے دہانے پر پہنچتا ہے اضلاع و جوانب کے چند خوش عقیدہ زائروں کا مجمع تھا۔ شام کو ان کے واپس جانے کے بعد جیسے ہی آفتاب غروب ہوا وہ خدا کا نام لے کر اندر گھسا۔ غار میں جاتے ہی وہ ریاضت میں مشغول ہو گیا اور کوشش کرنے لگا کہ وہاں کی بھیانک تاریکی میں زمرد کی خیالی تصویر کو چراغ بنا کے ہمیشہ نظر کے سامنے رکھے۔ ہر چوتھے دن پچھلی رات کو نکل کے گھاس اور پتوں سے بھوک کی حدت کم کر لیتا اور پھر اسی خلوت کدے میں جا بیٹھتا۔

آخر چلہ پورا کر کے ہمارے پر جوش نوجوان نے شام کی راہ لی۔ تین مہینے کے سفر کے بعد مقدس خلیل کی عمارتیں نظر کے سامنے تھیں۔ آبادی میں داخل ہو کے سیدھا اس تہ خانے پر پہنچا۔ مگر یہاں نےچی اترنا بہت دشوار تھا اس لیے کہ ہر وقت لوگوں کا مجمع رہتا اور خرابی یہ تھی کہ جو کوئی اس مقدس غار میں اترنے کا ارادہ کرے عام مجاوروں کے عقیدے میں واجب القتل تھا۔ حسین نے اپنے ارادے کو چھپایا اور مجاورین کو دوست بنا کے اس بات کی اجازت حاصل کر لی کہ اترنے کے راستے کو قریب ہی شب باش ہو۔ کئی راتیں جاگ کے کاٹیں مگر موقع نہ ملا۔ اس لیے کہ اکثر لوگ یہاں پاس ہی شب بیداری کرتے تھے اور ایسا کوئی وقت نہ ملتا جب لوگ مصروف عبادت و دعا نہ ہوں۔ دو تین ہفتے کے بعد ایک مرتبہ پچھلی رات کو اٹھ کے دیکھا تو میدان صاف تھ، اور جو لوگ تھے ، سو رہے تھے۔ چپکے چپکے دبے پاؤں تہ خانے کے دروازے پر گیا اور چاروں طرف دیکھ کے جب اطمینان کر لیا کہ کوئی نہیں دیکھ رہا ہے تو بے تکلف نیچے اتر گیا۔

اس مقام پر جانا بڑی جرأت کا کام تھا۔ ان انبیائے عضام کا رعب ساعت بہ ساعت دل پر غالب آتا جاتا تھا۔ پاؤں کانپ رہے تھے اور دل دھڑکتا تھا۔ تاہم زمرد کا شوق ان تمام دلی کمزوریوں پر غالب آیا اور وہ برابر بڑھتا چلا جاتا تھا۔ بار بار اسے معلوم ہوتا تھا کہ جیسے فرشتے روک رہے ہیں اور کہتے ہیں کہ اس مقدس جگہ کو اپنے قدموں سے ناپاک نہ کر۔ مگر اس سب خیالات کو مٹا مٹا کے وہ گھٹا ٹوپ اندھیرے میں ہاتھوں اور پاؤں سے ٹٹولتا ہوا تہ تک پہنچ گیا۔ رات کا وقت اور پھر وہ تاریک مقام، حسین نیچے پہنچ کے پریشان ہے کہ ہاتھ کو ہاتھ تو سوجھائی نہیں دیتا ان برگزیدہ پیغمبروں کے جنازے کیوں کر نظر آئیں گے۔ عرصے تک ایک ہی جگہ پر کھڑا سوچتا رہا۔ اور اب دل مضبوط کر کے آمادہ ہوا تھا کہ ٹٹول ٹٹول کے آگے بڑھے ناگہاں صبح کی ہلکی ہلکی روشنی کی شعاعیں اوپر سے پہنچیں اور وہ ٹھہر گیا کہ روز روشن ہولے تو شاید زیادہ آسانی سے اپنے معبودہ مقام پر پہنچ سکوں گا۔ اور یہی ہوا دن کی روشنی نے اندھیرا کم کر دیا اور اسے کئی لاشیں چبوتروں پر رکھی نظر آئیں جن میں سب کے درمیان میں حضرت یعقوب و حضرت یوسف علیہم سلام کے جسم تھے۔ ان کا انتقال چوں کہ مصر میں ہوا تھا لہٰذا قدیم مصریوں کے مذاق پر ان کی ممیاں بنائی گئی تھیں۔۔ جسم تو گلی تابوتوں میں تھے مگر چہرے کھلے ہوئے تھے جن سے اس تاریکی میں عجیب رعب و جلال برستا نظر آتا تھا۔ حسین یہ مقدس چہرے دیکھ کے سر سے پاؤں تک کانپ گیا اور کسی طرح قدم آگے بڑھانے کی جرأت نہ ہوتی تھی۔ چند لمحے تک مرعوب اور سہما کھڑا رہا، مگر پھر جی کڑا کر کے قدم آگے بڑھایا اور دونوں تابوتوں کے درمیان میں جا کے چپکے سے بیٹھ گیا جہاں دونوں با ہیبت چہرے ہر وقت پیش نظر رہتے۔ اور ان کا رعب اس قدر غالب تھا کہ زمرد کے خیال کو وہ بہت مشکل سے آنکھوں کے سامنے متشکل کر سکتا تھا۔ مگر کوہ جودی کے چلے کی کوششوں نے وہ پیاری صورت زیادہ استقلال سے نظر کے سامنے قائم کر دی تھی۔ اور تھوڑی دیر ہی کوشش سے ان دونوں متبرک چہروں کے درمیان وہ اپنی معشوقہ کا چہرہ دیکھ لیا کرتا تھا۔

¿Qué te deja este capítulo?

Inicia sesión para reaccionar

Conversación

Nadie ha hablado todavía. Cuenta qué removió en ti este capítulo.

¿Te ha gustado este capítulo? Comparte una línea.