
第 4 章,共 12 章
Stain Your Prayer Mat with Wine (II)
بہ مے سجادہ رنگین کن گرت پیر مغاں گوید (۲)
الغرض یہاں بھی وہ چلہ کشی میں مشغول ہو گیا۔ مگر یہاں کوہ جودی کے غار کی طرح یہ ممکن نہ تھا کہ کسی وقت نکل کے قوت لایموت حاصل کر لے۔ اس کا اسے پہلے ہی سے خیال تھا اور اس ضرورت سے تھوڑا سا پنیر چادر میں باندھ کر لیتا آیا تھا۔ دو تین ٹکڑے چوتھے دن کھا کر خدا کا شکر گزار ہوتا۔ خدا خدا کر کے یہ چلہ بھی پورا ہوا اور اکتالیسویں رات کو وہ چپکے چپکے اور دبے پاؤں باہر نکلا کہ کسی کو خبر بھی نہ ہو اور وہ حلب کی راہ لے۔ مگر لوگ جاگ رہے تھے جن میں سے بعض اسے پہلے ہی دیکھ چکے تھے۔ انھوں نے دیکھتے ہی دیکھتے غل مچا کے حملہ کیا اور حسین غار سے نکلتے ہی مجاورین کے ہاتھ میں گرفتار تھا۔ ایک بڑی سخت بے ادبی اور گستاخی کا الزام اس پر لگایا گیا تھا۔اور قریب تھا کہ قتل کر ڈالا جائے مگر اتفاق یا اس کی خوش قسمتی شہر خلیل کا حکمران اسی روز ایک باطنی فدائی کے ہاتھوں مارا گیا تھا۔ لوگ اگرچہ باطنیہ لوگوں سے ڈرتے تھے مگ یہ اتنا بڑا اہم معاملہ تھا کہ انتقام کے درپے ہو گےگ۔ اور باطنیوں کے ایک گاؤں پر تاخت کرنے کا سامان ہی کر رہے تھے کہ باطینوں کا ایک بڑا بھاری گروہ خود ان پر آ پڑا۔سخت قتل و خون ہوا۔ بہت سے لوگ مارے گئے اور اسی بے امنی کی حالت میں حسین مجاوروں کی قید سے چھوٹ کے حلب کو روانہ ہوا۔
آٹھویں دن شام کے وقت حلب میں داخل ہوا۔ راہ گیروں سے پوچھتا ہوا محلہ ارامنہ میں اور پھر مسجد الشماسین میں پہنچا۔ یہاں آتے ہی کمر کھول دی؛ سر شام ہی کچھ کھا پی لے عشاء کی نماز پڑھی اور پڑ کے سو گیا۔ اگرچہ تھکا ماندہ تھا مگر زمرد کے وصال کا شوق سب پر غالب تھا۔ آدھی رات سے زیادہ نہ گزری ہو گی کہ آنکھ کھل گئی اور صبح تک نماز فجر کے انتظار میں کروٹیں بدلتا رہا۔ صبح کی اذان سے پہلے ہی وضو کر کے تیار ہو گیا اور دروازے پر بیٹھ کے ہر آنے والے کی صورت کا مطالعہ کرنے لگا۔ آس پاس کے مکانوں والے نیند کے خمار میں لّڑکھڑاتے اور ٹھوکریں کھاتے ہوئے آتے اور وضو میں مشغول ہو جاتے۔ حسین کو اکثر لوگوں پر شیخ شریف علی وجودی کی صورت کا گمان ہوتا تھا۔ہر آنے والے میں اگر کوئی ایک علامت ہوتی تو اور علامتیں نہ پائی جاتیں۔ آخر دل ہی دل میں پریشان ہونے لگا اور خود اپنے سے خطاب کر کے چپکے سے کہا: "مجھے یقین نہیں کہ شیخ کو پہچان سکوں"۔ یہ جملہ اس کی زبان سے نکلا ہی تھی کہ اسی حلیے اور وضع کا ایک شخص آیا ا س کی پیٹھ پر ہاتھ رکھ کے کھڑا ہو گیا اور مسکرا کے نہایت ہی تسلی و تشفی کے لہجے میں بولا: "حسین! میں جانتا ہوں کہ تو میری تلاش میں آیا ہے "
اتنا سننا تھا کہ حسین قدموں پر گر پڑا اور شیخ شریف علی وجودی کے قدم چوم چوم کے اور ان کے پاؤں کو اپنے آنسوؤں سے دھو دھو کے کہنے لگا: "یا حضرت! میری مدد کیجیے۔ صرف آپ ہی کی رہبری سے مجھے حق کا راستہ مل سکتا ہے۔ جس صراط مستقیم پر چل کے انسان خدا اور عالم ارواح کو پہچان سکے وہ صرف آپ ہی جانتے ہیں۔"
شیخ: (جلال میں آ کے ) اے بحر وجود اور دریائے وحدت کے ذلیل و ناپاک قطرے ! تیرا کیا حوصلہ کہ اس وجود غیر وجوٗد اور اس لاہوت غیر متنوع کی رموز سمجھ سکے ؟
(١=باطنین کا یہ عقیدہ تھا کہ خدا کی طرف کسی صفت کا منسوب کرنا کفر ہے۔ اور بظاہر جو صفات قرآن میں اس مذکور ہیں وہ اس اعتبار سے ہیں کہ یہ صفات اس نے مخلوق کو عطا کیے۔یعنی خدا کو نور کہیں تو منور بصیر کہیں تو مبصر بصریت دینے والا اور اسی طرح موجود کہیں تو موجود کرنے ولا مراد ہے۔ اسی سے وہ صفات کو منسوب کر کے پھر نفی بھی کر دیا کرتے تھے۔ یعنی کہتے تھے موجود غیر موجود، نور لا نور وغیرہ۔
حسین: بے شک میری کوئی ہستی نہیں مگر جب آپ کے سے شناورِ بحر وحدت کا ہاتھ پکڑ لوں گا تو کیا عجب کہ اس طوفان خیز دریا سے پار ہو جاؤں۔
اور رو رو کے پھر سے شیخ کے قدم چومنے لگا۔
شیخ کا جلال کسی قدر کم ہوا۔ انھوں نے حسین کو ہاتھ پکڑ کے اٹھایا اور سینے سے لگا لیا۔ اپنا سینہ کئی دفعہ خوب روز سے اس کے سینے سے رگڑا اور کہا: "اچھا آ میرے ساتھ چل؛ میں تیرے ضبط و ظرف کا اندازہ کروں گا، اور جب معلوم ہولے گا کہ تیری طلب کہاں تک صادق ہے ،اس وقت تجھے اپنے حلقہ ذوق میں شریک کروں گا۔"
حسین نے یہ سن کے شکر گزاری کے طریقے سے سر اٹھایا؛ شیخ کے ہاتھ کو بوسہ دیا اور ان کے ساتھ جا کے نماز میں شریک ہوا۔ نماز کے بعد شیخ علی وجودی اسے اپنی خانقاہ میں لے گئے جو شہر سے فاصلے پر ایک غیر آباد مقام میں تھی۔ حسین کو یہ خیال کر کے تعجب ہوا کہ مسجد شماسین کو کیا خاص تخصیص ہے کہ شیخ وہاں فجر کی نماز ادا کرنے کو گئے تھے۔اس کا راز دریافت کرنے کو پوچھا: "کیا حضرت ہر روز نماز کے لیے اسی مسجد میں تشریف لے جاتے ہیں؟"
شیخ: (لاپروائی سے ) نہیں صرف آج ہی گیا تھا!
حسین: تو شاید کسی خاص کام کے لیے ادھر تشریف لے جانے کا اتفاق ہوا ہو گا؟
شیخ: (ذرا ہرہمی سے )"ولا تجسسو (قرآن کی آیت ہے۔ مراد یہ ہے کہ لوگوں کے افعال کی جستجو نہ کیا کرو)!ان رموز معنی کے پیچھے نہ پڑنا چاہیے۔ اگر سچا شوق ہے تو کبھی خود ہی سارا راز کھل جائے گا۔ اب حرف سوال تیرے منہ سے نکل ہی گیا تو لے بتائے دیتا ہوں۔ سن! جو لوگ خدا کے انوار ازلی و سرمدی کا انعکاس اپنے دل پر کرتے ہیں ان کی آنکھوں سے حجاب کا پردہ گر جاتا ہے۔اور جہاں جہاں وہ نور لا نور اپنی کرنیں ڈالتا ہے وہاں ان کی آنکھوں کی شعاعیں بھی پنچے جاتی ہیں۔ میرا یہ جسم مادی اسی خانقاہ میں تھا۔مگر ان آنکھوں کی تیز شعاعیں کوہ البرز کے پہلو میں تھیں جب تو زمرد کی قبر سے لپٹا ہوا رو رہا تھا۔ پھر جبل جودی کے غار ابراہیم میں تھیں جب زمرد کی تصویر تیرے سامنے اور میری جتجود تیرے دل میں تھی۔ پھر یہ شعاعیں اس تیرہ و تار تہ خانے میں تھیں جہاں یعقوب و یوسف علمہ اسلام کے چہروں کے درمیان میں تو زمرد کا چہرہ دیکھ رہا تھا۔ پھر میں نے تیری اس بے کسی کو بھی دیکھا جب تو شہر خلیل کے مجاوروں کے ہاتھ میں اسیر تھا۔ تیری ہی مدد کے لیے میں نے اپنے دوستوں کو بھیجا۔ انھوں نے شہر والوں پر حملہ کر کے تجھے ادھر آنے کا موقع دیا۔ یہ کہتے وقت شیخ کی آنکھیں اس تیزی سے چمکیں کہ حسین بالکل سہہ نہ سکا اور شیخ کے قدموں پر سر رکھ کے ایک مجذوباتی جوش کے ساتھ کہنے لگا: "آپ سب جانے ہیں کوئی راز آپ سے پوشیدہ نہیں۔ میری آرزو و تمنا بھی آپ کو معلوم۔۔۔۔۔"
شیخ: (جوش و خروش سے ) سب جانتا ہوں، مگر ابھی ا س کے اظہار کا وقت نہیں آیا۔ اس شوق کا تیری زبان سے ظاہر ہونا کسی خاص وقت اور خاص حال و کیفیت ہر موقوف ہے۔ بس اب اس وقت خاموش رہنا چاہیے۔
یہ حکم سن کے حسین اس قدر مرعوب ہوا کہ زمین پر پڑے ہی پڑے کانپنے لگا۔ تھوڑی دیر کے بعد شیخ نے اسے اٹھا کے بٹھایا۔ سینے اور آنکھوں پر اپنا دست برکت پھیر کے ا س کے دل کو تسلی دی اور کہا: "حسین تو میری خانقاہ میں اور خاص میری صحبت میں رہا کر، اور جس قدر زیادہ خدمت کرے گا اور جس مستعدی سے بلا عذر و حجت میرے احکام کی جو اصل میں احکام الٰہی ہیں کی تعمیل کرے گا اسی قدر جلد کامیاب ہو گا۔ مگر یہ خوب سمجھ لے کہ ابھی تیرا ظرف اور تیرا دل اس قابل نہیں ہوا کا تنوعات ربانی اور انقلابات قدرت کے اسباب و علل سمجھ سکے۔ موسیٰ و خضر کا قصہ ہر وقت پیش نظر رکھنا اور یہ یقین کر لے کہ ہر ظاہر کا ایک باطن ہے ، نتائج ہمیشہ باطن پر مترتب ہوتے ہیں۔ ظاہر پرست رموز قدرت کو نہیں سمجھ سکتے۔ سزا و جزا روح کے لیے ہے جو باطن پر منصرف رہتی ہے اور ہمیشہ دل کے اندر اور نیت پر حکمران ہے۔ یہ ظاہری ارکان و جوارح اسی مادے میں مل جائیں گے اور یہیں رہیں گے۔ لہٰذا اس کی حرکات کا کوئی اعتبار نہیں۔وہ قاضی و مفتی جاہل و لا نور یزدانی سے دور ہیں جو ظاہری افعال و حرکات پر حکم دیتے ہیں۔ خضر و موسیٰ کے قصے میں اس لاہوت اکبر نے موسیٰ کے کی تائید نہیں کی جو ظاہر پرستی کر رہے تھے ، بلکہ خضر کے موافق فیصلہ کیا جو رموز باطنی اور ارادہ صمدانی کو سمجھ رہے تھے۔ اسی طرح دیکھو ابراہیم علیہ سلام نے جب بی بی کو بہن بتایا تو ظاہر پرست بہت بہت گھبرائے کہ پیمبر کی عصمت میں فرق آ گیا۔ مگر ان کی جہالت ہے۔ خدا ابراہیم علیہ اسلام کے دل کو دیکھ رہا تھا۔
الحاصل اے حسین! تو خوب سمجھ لے کہ ہر ظاہر کا ایک باطن ہے اور خدا باطن کا طرف دار ہے۔ تجھے شیخ اور مرشد کی اطاعت آنکھیں بند کر کے اسی طرح کرنی چاہیے جیسی اطاعت کی خواہش خضر نے موسیٰ سے کی تھی۔ "
حسین : (سینے پر ہاتھ رکھ کے ) بے شک میں ایسی ہی اطاعت کروں گا۔ مگر کیا معاصی اور برے کاموں کا بھی بے سمجھے ارتکاب کر لینا چاہیے ؟
شیخ : (نہایت ہی جلال کے ساتھ اور آنکھیں سرخ کر کے )کیا تجھے یہ گمان ہے کہ مرشد برے کام کا حکم دے گا؟
حسین: (ڈر کے اور اخلاقی کمزوری کی شان سے ) نہیں لیکن ممکن ہے کہ مرید اور عقیدت کیش کو وہ فعل گناہ نظر آتا ہو؟
شیخ :ممکن ہے۔ مگر اس کا باطن گناہ نہیں اور نتائج صرف باطن پر مترتب ہوتے ہیں۔
حسین : مگر اسی باطن پر جو مرتکب اور کرنے والے کے دل میں ہو۔ میں ایک فعل کا ارتکاب کروں تو اس کے نتائج اسی نیت پر مترتب ہونگے جو میرے دل میں ہے۔ اگر مجھے اس کا باطنی اچھا رخ معلوم نہیں تو خواہ مخوہ میری نیت بھی بری ہی ہو گی۔ اور جب میری نیت بری ہو گی تو نتیجہ بھی اس نیت کے مطابق برا ہونا چاہیے۔
شیخ : (ذرا جوش میں آ کے اور آنکھیں سرخ کر کے ) تو کیا تیرے نزدیک شیخ کی نیت پر شبہ کیا جا سکتا ہے ؟ اور اسی پہلے رازِ لاہوتی کو تسلیم کرنے سے تجھے ان کار ہے ؟
حسین : (شیخ کے قدموں پر گر کے ) ہر گز نہیں مگر میری یہ باتیں محض اس لیے ہیں کہ "لیطمئن قلبی (قرآن کی آیت ہے تاکہ میرے دل کو اطمینان حاصل ہو جائے )" اور خدا وہ روزِ بد نہ لائے کہ میں شیخ کی نیت پر شبہ کروں۔
یہ جواب سن کے شیخ نے حسین کو اٹھا کے سینے سے لگایا اور اس کی پیٹھ پر شفقت کا ہاتھ پھر کے کہا: "سن! بے شک تیرے دل میں ابھی شکوک آتے ہوں گے مگر اس راہِ باطن میں جو جو قدم آگے بڑھانے کا تجھے نظر آتا جائے گا کہ مرید کی وقعت ایک بے جان آلے سے زیادہ نہیں۔ مرید بعینہ ایک تلوار ہے جس کے قبضے پر شیخ کا ہاتھ ہو۔ اور تو سمجھ سکتا ہے کہ تلوار برے بھلے جس کا سر چاہے اڑا دے۔ مگر الزام یا تحسین کی نسبت تلوار سے نہیں کی جا سکتی، بلکہ یہ چیزیں اسی کی طرف منسوب ہوتی ہیں جو اس تلوار کو ہاتھ میں لیے ہو۔ یقین ہے کہ اب تیرا شک رفع ہو گیا ہو گا اور تو سمجھنے لگا ہو گا کہ مرید کے افعال کا باطنی پہلو شیخ کی نیت سے متعلق ہے نہ خود مرید کے ارادے سے۔ جب اس طرح اطاعت و مستعدی دکھا کے انسان ارادت کے مدارج طے کر چکتا ہے اس وقت ارشاد کے درجے کو پہنچتا ہے اور اسی وقت اس کی نیت قابلِ اعتبار اور بنائے نتائج ہوتی ہے۔ لیکن جب تک وہ ارادت کے درجے طے کر راہا ہے اس کے ارادوں اور اس کی نیت کا کوئی اعتبار نہیں۔ اس وقت تک اس کے ہر قول و فعل کا ذمہ دار شیخ اور مرشد ہے۔"
حسین: (جوش و خروش سے شیخ کا ہاتھ چوم کر) بے شک بجا ہے۔ اب میری آنکھوں کے سامنے سے حقیقت کا پردہ اٹھ گیا اور مجھے کسی حکم کی تعمیل میں عذر نہ ہو گا۔
شیخ: "حسین! مرید کے سر پہ بڑی نازک ذمہ داری ہے اس سے زیادہ نفس کشی کیا ہو سکیم ہے کہ انسان اپنے دل اور اپنی عقل کو اپنے افعال سے بالکل الگ کر دے ؛ مگر تو غور کرے گا تو معلوم ہو جائے گا کہ یہ احکام الٰہی اور رفتار زمانہ کے بالکل موافق ہے۔ جن کاموں کی تعمیل خضر نے کی اور جن میں موسیٰ سے مدد لی ان کا باطنی پہلو صرف خضر کے دل میں تھا اور موسیٰ کی نیت میں وہ قطعی معاصی و گناہ تھے۔ مگر کوئی یہ نہیں کہہ سکتا کہ موسیٰ نے گناہ کیا اور اتنے اتنے بڑے کبائر میں شریک ہوئے۔ ایسا کیوں ہوا؛ محض اس لیے کہ اس عالم باطنی میں خضر مرشد اور موسیٰ مرید تھے۔ اس کی تعمیل خود ظاہر پرستوں میں روز ہوتی رہتی ہے۔ طبیب بظاہر نہایت حار بلکہ سمی دوا دیتا ہے اور مریض اگرچہ اس کے منافع سے بے خبر ہے مگر بلا تامل کھا لیتا ہے اور نتیجہ وہی ہوتا ہے اور وہی سمجھا جاتا ے جو طبیب کی نیت میں ہے۔ ماں باپ لڑکے کو کسی کام پر مارتے ہیں ، لڑکا اس کام کو اپنے دل میں اچھا سمجھ کے کرتا ہے مگر ماں باپ اپنے ہی دل اور اپنے ہی خیال کی مضرت کی بنیاد پر مارتے ہیں۔ اور اس مار کا نتیجہ ہر ایک کے نزدیک اچھا۔۔۔۔۔"
یہ تقریر ایسی موثر تھی کہ حسین اس سے زیادہ سننے کی تاب نا لا سکا اور ایک نہایت بے خودی کی وضع سے جوش میں آ کے چلا اٹھا: "بے شک آپ بجا فرماتے ہیں۔ میرے دل کو اطمینان ہو گیا اور کبھی کسی حکم سے سرتابی نہ کروں گا۔"
اس علم غیب اور اس مدلل تقریر نے حسین کو شیخ علی وجودی کا ایسا گرویدہ بنا دیا کہ اس کی نظر میں اب سوا شیخ کے اور کسی چیز کی ہستی نہ تھی۔ اس کے کانوں میں ہر وقت شیخ کی آواز گونجتی، اس کی آنکھوں کے سامنے ہر گھڑی شیخ کی تصویر بھرتی اور اس کے دل میں ہر لحہی شیخ کے احکام کا انتظار رہتا۔ زمرد کی تصویر بھی اب اسی طرح ہمیشہ پیش نظر نہ تھی بلکہ کبھی کبھی خانقاہ کے حجرے میں لیٹ کے وہ زمرد کو خیال کی طرف متوجہ ہو کے کہتا: "پیاری زمرد! تو نے مجھے کہاں بھیجا ہے کہ خود تجھے بھولا جاتا ہوں؟"الغرض اب پورے کمال کے ساتھ اسے فنا فی الشیخ کا درجہ حاصل تھا۔
حسین کو ارادت و عقیدت مندیکے ساتھ شیخ کی خدمت کرنے گیارہ مہینے گزر گئے ؛ اس نمانے میں ایک مرتبہ شیخ تین مہینے کے لیے غائب رہے اور کسی ایسے سفر پر گئے جس کو انھوں نے بالکل راز رکھا۔ حسین ا نکی غیر موجودگی میں خانقاہ ہی میں رہا مگر اتنی مدت می اسے معلوم ہو گیا کہ شیخ علی وجودی کے مرید و معتقد کن کن شہروں اور کتنی کتنی دور پھیلے ہوئے ہیں۔ جن کا معمول تھا کہ سال میں ایک مرتبہ دور دراز کا سفر کر کے ان کی خدمت میں حاضر ہوتے اور نئے نئے عجیب و غریب احکام سن کے واپس جاتے اور ان کی فوراً تعمیل ہوتی۔ ایک طرف خراسان، مکران، سیستان،فارس، رودبار،آذر بائجان،عراق عرب اور عراق عجم کے مرید آتے اور دوسری طرف عمان،حضرت موت،حجاز،یمن، زنجبار، مصر ، طرابلس الغرب،الجزیرہ اور تمام علاقہ افریقہ و ایشیائے کوچک کے معتقد۔ یہ سب لوگ مختلف وضع و لباس میں ہوتے اور پوشیدہ ہی پوشیدہ اکثر راتوں کو شیخ سے مل کے صبح ہونے سے پہلے ہی چلے جاتے۔ حسین اس امر کو نہایت ہی وقعت کی نظر سے دیکھتا کہ شیخ کے خوشہ چین اور ارادت مند کن کن اقطاع عالم میں پھیلے ہوئی ہیں اور اتنے بڑے اژر اور حکومت کے ساتھ بظاہر کس سادگی اور بے نفسی کی زندگی بسر کرتے ہیں۔
ایک رات کو شیخ کے گرد دس بارہ مریدوں کا مجمع تھا، حسین بھی نہایت ہی ادب کے ساتھ ایک کونے میں بیٹھا تھا اور شیخ کی زبان فیض ترجمان بہت بڑے بڑے رموز حکمی اور روحانی کھول رہی تھی۔ ایک شخص نے جو مصر سے آیٰا ہوا تھا ادب سے مگر شک کرنے کے لہجے میں کہا: "میری سمجھ میں نہیں آتا کہ انسان جب اس جسم خاکی کو اسی خاک دان میں چھوڑ جاتا ہے تو جنت کی مسرتوں میں اسے کیوں کر لطف آتا ہے ؟"
اس کے جواب میں شیخ نے کسی قدر برہمی سے کہا: "بعینہ ایسے ہی جس طرح کہ تم دنیا میں اس جسم کے ساتھ مزہ اٹھاتے ہو"
شخص : کیوں کر؟ جب لذت اور درد تو صرف جسم کے لواحق میں سے ہیں؟
شیخ : (ذرا اور جوش میں آ کے ) روح تو بے جسم ہوتی ہے مگر اسے معلوم یہی ہوتا ہے کہ گویا جسم میں ہے۔
شخص : یہ کیوں کر ہو سکتا ہے ؟ جب مادے کی کثافت ہی نہیں تو اسے متشکل اور متحیزکون چیز کرتی ہے ؟
یہ سن کے شیخ کی برہمی اعتدال سے زیادہ ہو گئی۔ انھوں نے حسین کو پکار کے قریب بلایا اور کہا: "بتا جب تو کوہ البرز کی گھاٹی،کو جودی کے غار اور شہر خلیل کے تیرہ و تار تہ خانے میں تھا اس وقت تجھے میرے وہاں موجود ہونے تیری حالت دیکھتے رہنے کا یقین ہے ؟"
حسین: (سینے پر ہاتھ رکھ کے ) بے شک ہے۔ گو میری ناتواں آنکھیں نہ دیکھتی ہوں مگر حضرت کا جلوہ ضرور موجود تھا ورنہ وہاں کے رموز حضرت کو کیوں کر معلوم ہو سکتے۔
یہ سن کے شیخ نے ذرا فخر وناز کی شان سے گرد کے لوگوں کو دیکھا اور سب کے بعد اس شخص کے چہرے پر جس نے شک کیا تھا اپنی تیز نظریں جما دیں۔ مگر ا س کے دل کو ابھی اطمینان نہیں ہوا تھا۔ شیخ علی وجودی کی اتنی برہم مزاجی دیکھ چکنے پر بھی معترضانہ طریقے سے بول اٹھا: "بے شک آپ وہاں موجود ہونگے اور حسین کے ہر حال کو دیکھ رہے ہوں گے مگر صرف آپ کی روح تھی اور متشکل نہیں ہوئی تھی۔ ایسا ہوتا تو حسین آنکھوں سے بھی آپ کے نورانی جلوے کو دیکھ لیتا۔"
یہ سنتے ہی شیخ کو تاب نہ رہی؛ زرو میں آ کے اٹھ کھڑے ہوئے ، آنکھوں کی چمک دو چند ہو گئی منہ میں کف بھر آیا ور اس شخص کی طرف دیکھ کے کہا: "یہ مشت خاک نہایت ہی سرکش ہے یہ اس نور لا نور کے شہود و وجود کو نہ سمجھتی ہے اور نہ سمجھنے کی کوشش کرتی ہے۔ کسی کو یہ راز بھی نہیں معلوم کہ دنیا کیوں ہے اور یہ روح لطیف اس پیکر خاکی میں ایک مدت تک کیوں قید رکھی جاتی ہے ؟ اس کا راز مجھ سے سنو۔ میں وہ شخص ہوں جو سروشستان اور عالم لاہوت کا ایک آن میں دورہ کرتا ہوں۔ اور ان رموز کو جو اس اولی تنوع نور لاہوتی یعنی عرش اعلیٰ کے اطراف میں لکھے ہیں پڑھ آتا ہوں۔ اصل یہ ہے کہ جسم میں آنے سے پیشتر روح مجرد میں یہ صلاحیت نہیں ہوتی کہ کسی مادی مسرت سے لطف اٹھا سکے۔ اس وقت وہ محض مفر ہوتی ہے اور حظوظ و لذائذ سے فائدہ یاب ہونے کے طریقوں سے بالکل بے خبر۔صرف اسی چیز کا سبق لینے کے لیے وہ اس جسم خاکی میں رکھی جاتی ہے۔ وہ حدود زمانہ جسے تم زندگی کہتے ہو اور ہم روحوں کے کمال حاصل کرنے کا مدرسہ صرف اسی لیے ہے کہ روح لطیف اس مادے کے ساتھ علائق پیدا کر کے ہر قسم کی لذتوں اور ہر قسم کے الموں سے اتنی آشنائی پیدا کر لے کہ اس سے علیحدہ ہونے کے بعد بھی جب چاہے اپےم آپ کو متحیزو متشکل اور لذت و الم سے متاثر کر سکے۔ جس طرح کوئی شخص مدارج روحانی طے کرنے کے بعد یہ صلاحیت اور قوت حاصل کر لیتا ہے کہ اس جسم میں رہنے کی حالت میں بھی اپنے آپ کو غائب یا روح مجردہ کی طرح غیر متشکل و غیر متحیز بنا لے اسی طرح روح انسانی عموماً اس جسم خاکی کے حجرے میں بند ہو کے اتنا چلہ کھینچ لیتی ہے کہ اس کے چھوڑنے کے بعد بھی جب چاہے اور جیسی شکل میں چاہے نمودار اور آشکارا ہو جائے۔ بہت سے با کمال بزرگوں یا شہیدوں کو سنا ہو گا کہ ان کے جسم تو قبر کے کونے میں پڑے سڑ رہے تھے مگر روح اکثر لوگوں کی نظر کے سامنے اپنی سی یا کسی دوسری شکل میں نمودار ہو گئی۔ صرف ایک روح ہے جس نے بغیر جسم میں آئے اس کمال کو حاصل کر لیا۔ اس سے مراد جبرائیل علیہ سلام ہیں جو کبھی وحیہ کلبی اور کبھی دیگر پیکروں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے سامنے نمودار ہوئے۔ مگر اس راز کا جاننے ولا اس عالم میں میرے سوا کوئی نہیں کہ جبرائیل نے یہ کمال روح کیوں کر حاصل کیا۔ سنو! مسیح کی ولادت کو اسی رمز سے تعلق ہے۔ جبرائیل ہی تھے جو مریم صدیقہ کے جسم میں حلول کر کے مسیح کو صورت میں متحیزہوئے اور تھوڑے ہی زمانے میں اپنا روحی کمال حاصل کر کے چلے گئے۔ مسیحیوں کو دھوکا ہوا کہ خدا تھا۔ مگر نہیں، وہ صرف ایک روح تھی جو ایک جسم سے جس میں دوسری روح بھی موجود تھی ، کمالات جسمانی حاصل کر کے آسمان پر چلی گئی۔ مسیح کو روح ایک دوسری روح تھی جو اس کے جسم میں تھی۔ مگر اسی کے ساتھ جبرائیل کی روح بھی ان کے پیکر میں اتر کے چند روز رہی اور مسیح کے جسم سے الوہیت کی شان نمودار کر کے غائب ہو گئی۔ مردوں کو زندہ کر دینا یہ مسیح کا کام نہ تھا بلکہ صرف جبرائیل کی ملکوتی وقت کا مشہور و مسلم نتیجہ تھا جس کا تجربہ لوگوں کو موسیٰ کے عہد میں بھی ہو چکا تھا(بعض مفسرین کہتے ہیں کہ جب موسیٰ علیہ سلام نے بحر قلزم میں قدم بڑھائے تو فرعون نے تعاقب میں بڑھنا چاہا مگر اس کا گھوڑا نہ بڑھتا تھا۔ پھر جبرائیل ایک گھوڑی پر سوار نمودار ہوئے اور بڑھے جن کے ساتھ فرعون کا گھوڑا بھی آگے بڑھا۔ سامری نے جبرائیل کی گھوڑی کے قدم کے نیچے کی مٹی اٹھا کے رکھ لی تھی اور اس مٹی کے ڈالنے سے وہ گوسالا بولنے لگا جس کی بنی اسرائیل نے پرستش کی تھی۔)۔ مگر جن کو خدا نے چشم بینا نہیں دی آج بھی نہیں سمجھ سکتے اور مسیح کے اس معجزے کو یاد کر کے پریشان ہوتے ہیں۔ الغرض یہ متحیز اور متشکل ہو سکنے کا کمال ہے اور جس کے حاصل کرنے کے لیے ہر روح دنیا میں آئی ہے اور یہاں سے جانے کے بعد اسی کمال کے مطابق جنت و دوزخ میں اپنے کردار کا جزا و ثواب پاتی ہے۔
تم میرے کمالات سے ناواقف ہو۔ میں وہ شخص ہوں کہ خود ہی نہیں بلکہ ہر شخص کو اس ملاء اعلی پر پہنچا کے وہاں کی ہر چیز دکھا سکتا ہوں۔ اور میرے اختیار میں ہے کہ متبہ کے روحانی پیکروں کو اس جسم خاکی کے سامنے لا کے کھڑا۔۔۔۔۔۔"
شیخ نے یہیں تک کہا تھا کہ حسین روتا اور التجا کرتا ہوا ان کے قدموں میں گرا اور کہا: "یا حضرت! مجھے کسی مسئلے میں شک نہیں مگر اتنی تمنا کے کہ اس سروشستان اور جنت میں ہو آؤں۔ وقت آ گیا کہ اپنی التجا آُ پکے سامنے پیش کروں اور یقین ہے کہ محروم نہ رہوں گا۔"
حسین دیر تک شیخ کے قدموں پر لوٹتا رہا، مگر شیخ اس قدر جوش میں بھے ہوئے تھے کہ چند ساعت تک خاموش کھڑے رہے ، پھر اس کو اٹھا کے بٹھایا اور کہا: "حسین ! میرے اس وقت کے جوش سے تو نے بہت بڑا فائدہ اٹھایا۔ خیر، اب اس وقت تو تامل کر؛ کل تنہائی میں پھر درخواست کرنا۔ بے شک وقت آ گیا ہے کہ تجھے اس محنت و ریاضت کا پھل ملے۔ مگر ابھی تیرا امتحان باقی ہے اور سخت امتحان۔ مجھے ابھی دیکھنا ہے کہ تو نے کہاں تک اپنے آُ پکو مرشد کے ہاتھ میں دیا ہے اور یاد رکھ کہ جس قدر تجھے مرشد کا حکم بجا لانے میں تامل ہو گا اسی قدر اپنا مقصد حاصل کرنے میں دیر ہو گی۔"
سب مرید رخصت ہو کے چلے گئے ؛ حسین بھی اپنے بچھونے پر لیٹا۔ مگر یہ رات اسے نہایت ہی انتظار و اضطراب سے بھرپور لگی اس لیے کہ "آتش شوق تیز تو گر دد" کا مضمون تھا۔ صبح کو نماز کے بعد جیسے ہی شیخ شریف علی وجودی نے وظیفے سے فراغت پائی،اور اد ختم کر کے بیٹھے ہی تھے کہ حسین جا کے قدموں میں گر پڑا اور چلایا: "اب زیادہ صبر کی تاب نہیں۔ آپ کو سب حالات خود ہی معلوم ہیں۔ مجھے کہنے کی بھی ضرورت نہیں۔ مگر خدا کے لیے زمرد سے جلدی ملائیے۔"
شیخ: بہتر تو زمرد سے ملے گا اس کے وصل سے کامیاب ہو گا۔ مگر اس کے لیے اچھی طرح تیار ہے ؟
حسین: دل و جان سے تیار۔
شیخ: دیکھ تجھے تامل نہ ہو؟
حسین: ذرا نہیں۔
شیخ: تیرے دل میں شک اور بد عقیدگی پیدا نہ ہو؟
حسین: ہر گز نہیں۔
شیخ: جرات کا کام ہے !
حسین: میں جان لڑا دوں گا۔
شیخ: اس میں خطرے بھی ہیں؟
حسین: ہوں۔
شیخ: تو سن!
حسین: ارشاد؟
شیخ: یہی نہیں دل مضبوط کر لے۔
حسین: خوب
这一章在你心里留下了什么?
登录后参与
讨论
还没有人开口。说说这一章触动了你什么。