Urdu in Translation
بحث

الفصل 6 من 31

Mubtala's Wedding

چوتھا باب: مبتلا کا بیاہ

المولوي نذير أحمد

الخط
الحجم

یہ تب کی بات ہے کہ مبتلا کو مدرسے میں داخل ہوئے چوتھا برس شروع تھا۔ خوشحال باپ کا بیٹا صورت شکل کا اچھا بلکہ حد سے زیادہ اچھا، پڑھا لکھا کماؤ۔ دس روپے کا مدرسے میں وظیفہ دار اس روداد کے لڑکے کو بیٹیوں کی کیا کمی تھی۔ قاعدے کے مطابق مبتلا کی طرف سے بیٹی والوں کے یہاں ابتداءً رقعہ جانا چاہیے تھا۔

مگر مبتلا کی ظاہری حالات دیکھ کر سن کر لوگ اس قدر ریجے ہوئے تھے کہ کئی جگہ سے بیٹی والوں نے منہ پھوڑ کر رقعہ منگوا بھیجا۔ دستور کی بات ہے کہ خریداروں کی کثرت ہوتی ہے تو بیچنے والوں کے مغز چل جاتے ہیں۔ مبتلا کی ماں بہنوں کا یہ حال تھا کہ کہیں کی بات ان کے خاطر تلے آتی ہی نہ تھی ورنہ کیا مبتلا جیسا اللہ آمین کا بیٹا سترہ اٹھارہ برس کی عمر تک کنوارا بیٹھتا۔

اب تک تو اس کے ایک چھوڑ کبھی کے چار چار بیاہ ہو گئے ہوتے۔ اس گھر کی خوشحالی اتنی ہی تھی کہ قلعے کی تنخواہیں، اسامیاں مکانات کا کرایہ ملا کر کل سو سوا سو روپے کی آمدنی تھی اور اس میں اتنا بڑا کنبہ مگر وہ تو مبتلا کا باپ ایسا منظم اور کفایت شعار آدمی تھا کہ اس نے اپنے سلیقے سے گھر کا بھرم بنا رکھا تھا۔ اس حالات پر جہاں کہیں سے پیام آیا چھوٹتے کے ساتھ ایک دم سے چاندی کا بھی نہیں سونے کے پلنگ کی فرمائش ایسے اصرار کے ساتھ ہوتی تھی گویا کہ نکاح کی شرط اعظم ہے اور پھر معاملے کی بات ہے جیسا لینا ویسا دینا، ہیکڑی تو یہ تھی کہ لیں تو سنہرا پلنگ اور دینے کے نام پٹاری کے خرچ کے لیے آدھی نہیں کیونکہ ہمارے خاندان کا دستور نہیں، مہر شرع محمدی، سو روپے کا چڑھاوا، سو روپے کا جھومر، صورت شکل اپنی اپنی جگہ سبھی تلاش کرتے ہیں اور سمجھنے اور غور کرنے والے کو تو یہ بات ہے کہ باوجود یہ کہ ہر شخص خوبصورتی کا خواہاں ہے مگر بُری بھلی کالی گوری یہاں تک کہ کانٹری، کھدری اللہ کی بندیاں سبھی کھپی چلی جاتی ہیں۔

ہم نے تو اتنی عمر ہونے آئی کسی کو صورت کی وجہ سے کنواری بیٹھے نہ دیکھا۔ تاہم چونکہ مبتلا ایک خوبصورت خاندان کا آدمی اور خود بھی بڑا خوبصورت تھا۔ اگر اس کے لیے خوبصورت بی بی تلاش کی جاتی تھی تو کچھ بے جا بات نہ تھی۔ مگر تلاش کرنے کے بھی طریقے ہوتے ہیں کہ عورتیں چوری چھپے حیلے بہانے کسی نہ کسی طرح لڑکی کو یا تو خود کسی وقت دیکھ آتی ہیں یا اپنے دیکھنے کا موقع نہیں بنتا تو کسی کو بھیج کر دکھلوا لیا کرتی ہیں۔

یہاں تو یہ ضد کہ ہم تو اپنی آنکھ سے دیکھ بھال کریں گے اور اپنے ہاتھوں سے لڑکی کے منہ میں مصری کی ڈلی دیں گے۔ کیسی کیسی جگہ سے پیام آئے۔ کہاں کہاں رقعہ گیا مگر کہیں لین دین پر تکرار ہوئی۔ کہیں صورت پسند نہ آئی کہیں دیکھنے بھالنے کی شرط نامنظور ہوئی۔ غرض کوئی بات ٹھہری نہیں پچاسوں پیام مسترد اور بیسویں جگہ سے رقعہ واپس۔ رشتہ ناطے کی بات چیت ہو کر چھٹم چھٹا ہو جاتا یا رقعہ واپس آنا کچھ آسان نہیں ہے۔

بیٹی والے اس میں اپنی ہتک سمجھتے ہیں اور ان کو یہ خیال ہوتا ہے کہ ایک جگہ کا رقعہ واپس جائے گا تو دوسروں کو خدا جانے کیا کیا خیالات پیدا ہوں گے اکثر ایسے موقعوں پر دلوں میں رنجش آجاتی ہے۔ خیر ایک دو جگہ بہ مجبوری ایسا اتفاق ہو تو مضائقہ نہیں نہ کہ مبتلا کا رقعہ آج بھیجا اور بلا کر دس دن بعد الٹا منگوا لیا جب متواتر واپسی رقعے کی نوبت پہنچی تو سارے شہر میں ایک غل سا پڑ گیا اور جہاں جہاں سے رقعہ واپس منگوایا گیا۔

ان کے ساتھ بیٹھے بٹھائے ایک طرح کی عداوت قائم ہوئی۔

یہاں تک نوبت پہنچی کہ جس مشاطہ سے کہتے کانوں پر ہاتھ دھرتی جہاں رقعہ بھیجتے وہ لوگ لانے والے کے اندر آنے تک کے روادار نہ ہوتے۔ پس اس خاندان کے ناز بے جانے مبتلا کو ایسا نکو بنا دیا کہ اب کوئی اس کی بات کی ہامی نہیں بھرتا تھا۔ رقعے کا بے رد و کد واپس آنا تو ممکن نہیں۔ ایک گھر کا تو ہم کو حال معلوم ہے کہ وہاں پہلے مشاطہ کی معرفت زبانی بات چیت ہوئی وہ لوگ ان کے کنبے دار بلکہ کچھ دور کے رشتے دار بھی تھے۔

مہینوں سوال جواب ہوتے رہے۔ اکثر باتیں طے ہو کر بعض کی نسبت کچھ تکرار درپیش تھی کہ یکا یک ان کی طرف سے رقعہ جا موجود ہو، بیٹی والے خوش ہوئے کہ گفت و شنید کے بعد جو رقعہ آیا تو بس اس کے یہی معنی ہیں کہ منظور کر لیا۔ چنانچہ یہی سمجھ کر رقعہ تو رکھ لیا اور جواب میں زبانی اتنا ہی کہلا بھیجا کہ ہم کو بسروچشم منظور ہے۔ خدا انجام اچھا کرے۔

انشاء اللہ دو چار دن میں صلاح کر کے کوئی اچھی سی تاریخ ٹھہرا کر کہلا بھیجیں گے۔ سمدھنیں آکر لڑکی کا منہ میٹھا کر جائیں۔ پھر اللہ خیر کرے۔ جب ان کی مرضی ہو گی بیاہ برات ہو رہے گا۔ ہم تو اس وقت چاہیں تو اس وقت تیار ہیں۔ ہمارے یہاں ذرا دیر نہیں جو عورت یہ پیام لے کر گئی تھی مبتلا والوں نے اسی ہاتھ کہلا بھیجا کہ پہلے ہماری شرطوں کے مطابق تحریری اقرار نامہ بھیج دیں۔

تب تاریخ ٹھہرائی جائے۔ تاریخ کا ٹھہرانا ایسا کیا آسان ہے۔ یہ سن کر سب کو سخت تعجب ہوا اور اپنا سا منہ لے کر رہ گئے۔ آخر مبتلا والوں کی طرف سے واپسی رقعے کا تقاضا ہوا۔ دن میں دوبار رقعے کے لیے آدمی جاتا اور ایسی سخت سخت باتیں کہتا کہ گویا رقعہ کیا ہے، مہاجن کا قرضہ ہے۔ خیر ہار کر رقعہ واپس تو کیا مگر اس طرح کہ مارے غصے کے نکال کر موہری پر پھینک دیا کہ کم خواب کی تھیلی جس میں رقعہ دستور کے مطابق لپیٹ کر آیا تھا۔

تمام کیچڑ میں لت پت ہو گئی اور کہا کہ جاؤ اس کو شہد لگا کر چاٹو اور دیکھو خبردار لڑکے کی ماں سے ضرور ضرور کہہ دینا کہ تم نے کنبے داری میں دو مہینے بات لگی رکھ کر آپ ہی رقعہ بھیجا اور پھر آپ ہی اَن ہونی باتوں پر اصرار کر کے واپس منگوایا۔ یہ کچھ بھلمنساہت کی بات نہیں ہے۔ ہم نے مانا کہ ان کا بیٹا ان کے لیے چوہے کو ہلدی کی گرہ اللہ آمین کا ہے۔

مگر دوسروں نے بیٹیاں کوڑے پر پڑی نہیں پائیں ایسی شرطوں سے جو نہ سنیں نہ دیکھیں، ان کو شہر میں تو انشاء اللہ بیٹی ملنے کی نہیں۔ سونے کا پلنگ ان کو مانگتے ہوئے شرم نہیں آتی اس سے پہلے تین بیٹیاں بیاہ چکے ہیں اور ابھی اللہ رکھے آگے دو اور موجود ہیں۔ بیٹیوں کو تو ڈھنگ کے نواری پلنگ بھی نہ جڑے۔ بیٹے میں ایسا کیا سرخاب کا پر لگا ہے کہ بغیر سونے کے پلنگ کے اس کو نیند نہیں آتی۔ سارا شہر تھڑی تھڑی کر رہا ہے۔ خدا نہ کرے جو بھلا مانس اس کو بیٹی دے۔ منہ پر ہاتھ پھیر کر دیکھیں ناک رہی یا کٹ گئی۔

ہمارے نزدیک دنیا جہان کے نزدیک تو جڑ بنیاد سے کٹ گئی۔ جس گھر سے رقعے کی واپسی کا مذکور ہے اس گھر کی عورتیں ایسی ملنسار تھیں کہ سارے شہر میں ان کا رسوخ چلتا تھا۔ کہیں شادی بیاہ ہو۔ کوئی دوسری تقریب ہو، ان کے یہاں ضرور بلاوا آتا اور یہ بھی اپنے یہاں کی چھوٹی بڑی تقریب میں سبھی کو بلاتے۔ سبھی کو یکساں پوچھتے تھے۔ ان عورتوں نے ضد میں آکر مبتلا کا اچھی طرح خاکہ اڑایا اور سارے شہر میں بھی خوب ڈھنڈورا پیٹا اور رسوا کیا۔

غرض اس گھر کے بگاڑنے رہی سہی اور بھی آس توڑ دی۔ اب شہر میں مبتلا کی نسبت ناتے کا ہونا محال تھا۔ بہت قریب کے رشتہ داروں میں جس قدر بیٹیاں تھیں۔ مبتلا تھے تو بڑے لاڈلے دودھ پی پی کر ان سب کو رضاعی بہنیں بنا چکے تھے۔ مبتلا کے نزدیک و دور کے رشتہ داروں میں وہی مثل تھی۔

ازیں سوراندہ وزاں سودر ماندہ۔ اب صرف ایک گھر رہ گیا کہ ہو تو وہیں ہو ورنہ مبتلا ساری عمر کنوارہ پھرے۔

مبتلا کی پھوپھی دلی سے دس بارہ کوس سید نگر میں بیاہی ہوئی تھیں۔ وہ لوگ زمیندار تھے مگر زمینداروں میں سربر آوردہ بڑے بڑے سالم چھ گاؤں کے مالک۔ ان کے بزرگ تو مہمان داری اور مسافر نوازی اور داد و دہش میں دور دور مشہور تھے۔ مگر اب کثرت پٹی داری کے سبب نہ ویسی آمدنی تھی نہ وہ دل، قریب شہر کی وجہ سے رعایا شوخ، حصہ داروں میں طرح طرح کی تکراریں، غرض ہمیشہ ان میں دو چار آدمی مقدموں کی پے روی کے لیے شہر میں موجود رہتے تھے۔

جس طرح دائم المرض اپنی دوا کرتے کرتے حکیم ہو جاتا ہے اسی طرح یہ لوگ مقدمے لڑتے لڑتے ایسے قانون دان ہو گئے تھے کہ بیرسٹروں کو مات کرتے، وکیلوں کی کچھ حقیقت نہ سمجھتے، ڈھونڈ ڈھونڈ کر لڑائیاں مول لیتے اور تلاش کر کے جھگڑے خریدتے، قرب و جوار میں یہ لوگ ایسے لڑاکو اور جھگڑا لو مشہور تھے کہ لوگ ان سے رشتہ ناطے کرتے ڈرتے تھے۔ رقعہ کا پہنچنا تو بہت بڑی بات تھی۔

اگر ان کے یہاں جھوٹوں بھی تذکرہ ہوتا اور چاہتے تو سچوں سر ہو جاتے اور کچھ ایسے قانونی اڑنگے لگاتے کہ کسی کی ایک نہ چلتی مگر مبتلا کو کوئی دوسرا گھر نہ تھا۔

خدا نے ایسا ان کے غرور کو ڈھایا کہ کس کا پلنگ اور کہاں کا دیکھنا بھالنا۔ مبتلا کی ماں گئیں اور منگنی ٹھہرا کر کان دبا کر چپکی چلی آئیں اور اگر ذرا بھی چیں چپڑ کرتیں تو فوجداری کے استغاثوں اور دیوانی نالشوں کے مارے ہوش بگڑے جاتے۔

اب مبتلا کی منگنی کو منگنی نہ سمجھو بلکہ بیچ ڈالنا یا غلام بنا دینا یا عمر قید۔ سمدھیانے تو برابر ہی کے اچھے ہوتے ہیں۔ خیر اٹھارہ بیس تک کے فرق کا بھی مضائقہ نہیں مگر یہاں تو سید نگر والوں کی اس قدر ہیبت چھا رہی تھی کہ جیسے کسی بڑے جابر کوتوال کی۔ ادھر سے حکم ہوتے تھے، ادھر سے تعمیل۔ اُدھر سے فرمائش ادھر سے بجا آوری۔ ادھر سے ناز ادھر سے نیاز۔

بعد چندی انہوں نے کہلا بھیجا کہ اگلا مہینے کی دسویں کو اس طرح سازو سامان کے ساتھ بارات یہاں پہنچے سو ویسا ہی ہوا۔ بیس ہزار روپیہ کا مہر ماننا ہو گا اور مان لیا ہزار روپیہ جوڑے چڑھاوے کا نقد دینا ہو گا اور دیا۔ پچیس روپے مہینہ پٹاری کا خرچ لکھوانا چاہا اور لکھوا لیا۔ مگر بات یہ ہے کہ سید نگر والوں نے بیٹی کو دیا بھی تو اتنا کہ سونے کا پلنگ تو نہ تھا۔

شاید ان کے ہاں کا دستور نہ ہو گا۔ مگر گلے اور کانوں او رسر کا سارے کا سارا زیور دوہرا ملا جڑاؤ الگ، شادی بیاہ اپنے نام کے مطابق کیا۔ دلّی میں اتنا جہیز ملنا مشکل تھا لوگ باہر کی سوبھا اور مال و اسباب کی فہرست دیکھ کر پانچ ساڑھے پانچ ہزار کا جہیز آنکتے تھے، اوپر کا خرچ الگ۔ سو گھر کا دھڑیوں گھی اور منوں غلہ زمینداروں کے یہاں اس کا حساب کیا۔

انیسویں برس مبتلا کا بیاہ ہوا جہیز کے اعتبار سے تو دلہن بہت اچھی پائی۔ ذات جماعت کچھ پوچھنی نہ تھی سگی پھوپھی کی بیٹی۔ رہی صورت کوئی خاص چیز تو چنداں بری نہ تھی بلکہ الگ الگ دیکھو تو رنگ بھی گوارا نہیں تو کھلتا ہوا۔ آنکھ، ناک، دہانہ، ماتھا، مانگ کسی میں کوئی خاص عیب نہ تھا۔ ہاں چہرے کی مجموعی بناوٹ میں خدا جانے کیا بات تھی۔ نزاکت اور جسم میں جامہ زیبی نہ تھی۔

ہزار بیبیوں میں بیٹھی ہو تو صاف پہچان پڑتی کہ باہر کی ہے اور سچ تو یہ ہے کہ مبتلا کے پہلو میں رہی سہی اور بھی بے رونق معلوم ہوتی تھی جن دنوں مبتلا کا بیاہ ہوا وہ اپنے آپے نہ تھا۔ نشہ شباب میں سرشار اور بدمست سیر تماشوں میں منہمک۔

وہ اپنے بیاہ برات کی خبر سن کر خوش ہوتا تھا۔ مگر صرف اس لیے کہ ناچ دیکھنے میں آئیں گے۔ شادی کی تیاری دیکھ کر مسرت ظاہر کرتا تھا۔

مگر اس غرض سے کہ گانا سنیں گے، وہ اگر سمجھ کو کام میں لاتا تو اس کی سمجھ زیبا تھی اور جان سکتا تھا کہ بیاہ کیا چیز ہے اور بیاہ سے کس طرح کی ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں مگر وہ دنیا کے کام میں مطلق غور کرتا ہی نہ تھا۔ اس نے ایک لمحے کے لیے بھی بیاہ کے انجام کو نہ سوچا۔ اس نے نکاح کے وقت ”قبول“ کچھ ایسے کہا گویا کہ کھیل ہے۔ اقرار نامہ پر دستخط کیے کہ جیسے یہ ہنسی ہے۔

اس کو بی بی کی طرف ملتفت ہونا چاہیے تھا اور ملتفت ہونے کی اس کی عمر بھی تھی مگر اس کی آنکھیں ڈھونڈتی تھیں نازو کرشمہ غمزہ و ادا مٹک چٹک وہ شریف زادیوں میں کہاں اور خصوصاً دیہات کی شریف زادیوں میں۔ پس اس نے بی بی کو دیکھا، ناپسندیدگی سے استکراہ سے اور ناخوشی سے اور بی بی کے ساتھ اس کی لشٹم پشٹم گزرتی گئی اور آپس میں ویسی محبت و موانست پیدا نہ ہوئی جیسے نئے بیاہے ہوئے دولہا دلہن میں ہونی چاہیے اور عموماً نہیں تو اکثر ہوا بھی کرتی ہے۔

علاوہ اس کے مبتلا کو ابھی اپنی ہی پرداخت سے فرصت نہ تھی۔ سو دلہنوں کی ایک دلہن تو وہ آپ بنا تھا۔ بناؤ سنگھار میں ہر دم مصروف، زیب و زینت میں ہر لمحہ مشغول وہ خود اپنی حسین صورت پر اس قدر فریفتہ تھا کہ آئینہ دیکھنے سے کبھی اس کو سیری ہی نہیں ہوتی تھی۔ اس کو یہاں تک خبط نے گھیر رکھا تھا کہ راستہ چلتا تو مڑ مڑ کر اپنے سائے کو دیکھتا جاتا۔

ما الذي تركه هذا الفصل فيك؟

سجّل الدخول للتفاعل

النقاش

لم يتكلم أحد بعد. قل ما حرّكه هذا الفصل فيك.

أعجبك هذا الفصل؟ شارك سطرًا منه.