Urdu in Translation
Buscar

Capítulo 3 de 31

Mubtala's Birth and Childhood

پہلا باب: مبتلا کی ولادت اور طفولیت

Deputy Nazir Ahmad

Escritura
Tamaño

تمول کے اعتبار سے مبتلا ایک خوش حال باپ کا بیٹا تھا اور چونکہ اکٹھی نو بیٹیوں پر جن میں سے پانچ زندہ تھیں، باپ کے بڑھاپے میں بڑی آرزوؤں اور تمناؤں کے بعد پیدا ہوا، اس سے بڑھ کر اللہ آمین کس کی ہو گی۔ بیٹے کا ارمان تو شروع ہی سے تھا۔

ہر مرتبہ ملنے جلنے دیکھنے بھالنے والے مولوی، ملّا، نجومی، رمّال۔ حتی کہ دائی جی کے خوش کرنے کو کہہ دیا کرتے تھے کہ اب کے ضرور بیٹا ہو گا۔ مگر ایک عمر اسی میں گزر گئی۔ توقع کی ناامیدی کے واسطے، امید لگائی، ناکامیابی کے لیے، مبتلا کی نوبت میں تو یاس اس درجے کو پہنچ چکی تھی کہ سارے گھر میں کسی کو بیٹے کا سان گمان تک بھی نہ تھا۔

دم کے پانی تعویذ گنڈے ٹونے ٹوٹکے اور دوا درمن برسوں سے موقوف تھے۔

مبتلا پیدا ہوا تو سب سے پہلے دائی کو معلوم ہوا کہ بیٹا ہے۔ اس نے اتنی عقل مندی کی کہ لوگوں پر بیٹے کا ہونا فوراً ظاہر نہیں ہونے دیا۔ ورنہ زچہ جس کو سکون اور قرار درکار تھا۔ مارے خوشی کے پھولی نہ سماتی اور الٹے لینے کے دینے پڑ جاتے۔ بارے بتدریج سب کو خیر ہوئی، سننے کے ساتھ جو کھڑا تھا تو کھڑا اور بیٹھا تھا تو بیٹھا۔ سجدے میں گر پڑا۔

کسی کے منہ سے دعا نکلی۔ کوئی لگا بے ساختہ زچہ گیریاں گانے، کسی نے دوڑ کر چٹا چٹ زچہ اور بچہ کی بلائیں لے لیں۔ غرض گھر کیا اسی وقت سارے محلے میں شور و غل مچ گیا اور صبح ہوتے ہوتے تو گلی میں ڈولیوں سے اور گھر میں بیبیوں سے تل دھرنے کو جگہ نہ تھی۔ ہر چند بیٹے کا ارمان اس بلا کا تھا کہ کیسا ہی بدصورت بیٹا ہوتا چوم چاٹ کر ماتھے چڑھاتے۔ مگر اس خاندان میں ہمیشہ سے صورتوں سے پرچول رہا کرتی تھی۔

گھر میں جو آتا بچے کو دیکھنا چاہتا۔ یہ لوگ پرچھاویں اور نظر کے ڈر سے اس کے دکھانے میں مضائقہ کرتے تھے۔ جب بیبیوں کا بہت تقاضا ہوا اور گرمی پڑنے لگیں تو زچہ کے پاس گھر کی کوئی عورت بیٹھی تھی۔ اس نے کہا خدا کے لیے بیبیو ذرا ہوا کا رخ چھوڑو کہ دم گھٹا جاتا ہے۔ مرد بچے کی صورت کیا دیکھنا ہے۔ خدا عمر دے، پروان چڑھائے الٰہی ماں باپ کا کلیجہ ٹھنڈا رہے۔

ایک بی بی باوجود یکہ خود بھی ہجوم کرنے والیوں میں تھیں بول اٹھیں، لوگو بھیڑ کیا لگائی ہے۔ اللہ رکھے پانچ بہنوں کا بھائی ہے۔ انیس بیس کے فرق سے اپنی بہنوں میں ملتا ہو گا۔ اتنے میں دائی اندر سے نکلی تو ساری بیبیوں نے اس کو گھیر لیا۔ کیوں بوا بچہ پورے دنوں کا صحیح سلامت تو ہوا۔ دائی بولی: ہاں پورے دن بھی کئے خوب بھرپور ہاتھ پاؤں، بال، ناخن، سب خاصے توانا ماشاء اللہ پڑے کا پڑا اور ان کے جتنے بچے ہوئے سب اسی طرح کے۔

خدا کے فضل سے کوکھ تو بہت صاف ہے۔ بیبیاں: کیوں بوا بہنوں میں ملتا ہوا تو ہے۔ دائی: بہنوں کی اس سے کیا نسبت لڑکیاں بھی اچھی صورت کی ہیں۔

مگر اس سے پہلے کی دو لڑکیاں کہ ایک دو مہینے کی ہو کر اترگئیں اور دوسری دو سوا دو برس کی بس دونوں آفتاب و ماہتاب تھیں اور یہ تو خدا جیتا رکھے نور کا پتلا ہے۔ بڑی بڑی غلافی آنکھیں، اونچی اور ستی ہوئی ناک پتلے ہونٹ چھوٹا دہانہ، چمکتے ہوئے سیاہ گھونگر والے بال کتابی چہرہ، صراحی دار لمبی گردن، سانچے میں ڈھلا ہوا بدن۔

میری اتنی عمر ہونے آئی۔ تیرہ برس کی بیاہی آئی تھی۔ تب سے اپنی ساس کے ساتھ یہ کام کرنے لگی، خدا جھوٹ نہ بلوائے اتنے بچے میرے ہاتھ سے ہوئے کہ جن کا شمار نہیں، مگر ایسا قبول صورت بچہ میں نے تو بڑے بڑے نامی گرامی امیروں کے ہاں بھی جن کے حسن کی آج بڑی دھاک ہے نہیں دیکھا۔ بات یہ ہے کہ اللہ عمر دے اور بھاگوان ہو، سب نے کہا: آمین۔ مبتلا کے پیدا ہونے کی روداد جو ہم نے اوپر بیان کی اس سے ہر شخص سمجھ سکتا ہے کہ مبتلا کے ساتھ ماں باپ اور عزیز و اقارب نے کیا کچھ چو چلے نہ کئے ہوں گے۔

غرض وہ تمام خاندان اور سارے کنبے میں ایک انوکھی چیز سمجھا جاتا تھا اور حقیقت میں جس جس پہلو سے دیکھئے وہ انوکھی چیز تھا بھی، جب سے پیدا ہوا سارے سارے دن ساری ساری رات گودوں ہی میں رہتا۔ نہالچے پر لٹانے کی نوبت نہ آئی تھی۔

اپنے ہی گھر میں ماں، نانی، خالہ، ممانی ایک کم آدھی درجن سگی بہنیں۔ اتنے آدمی لینے والے تھے کہ ایک سے ایک چھینے لیتا تھا۔

باپ کا یہ حال کہ جتنی دیر ممکن تھا، گھر میں رہتے اور جتنی دیر گھر میں رہتے خود لئے رہتے یا پیش نظر رکھتے۔ مبتلا کے پہلے پانچ بلکہ سات آٹھ برس کی زندگی یعنی جب تک وہ محتاج پرورش رہا، اس قابل ہے کہ مستقلاً ان حالات کی ایک کتاب لکھی جائے مگر ہم کو تو اس کے دوسرے ہی معاملات سے بحث کرنی ہے۔ اس کی پرورش کے متعلق ہم اتنا ہی لکھنا کافی سمجھتے ہیں۔

کہ اگرچہ خاندان کے لوگ سب کے سب دین کے پابند نہ تھے، مگر مبتلا کا باپ بڑا نمازی اور پرہیز گار آدمی تھا۔ مولوی شاہ حجت اللہ صاحب کے وعظ سے اس کو ایسا عشق تھا کہ آندھی جائے، مینہ جائے، طبیعت درست ہو نہ ہو جہاں سنا کہ مولوی صاحب کا وعظ ہے سب سے پہلے موجود۔ گھر کی بڑی بوڑھیاں بھی نماز پڑھتی تھیں باہمی جو احتیاطیں مبتلا کی پرورش میں بڑھتی جاتی تھیں۔

ان سے ایسا مستنبط ہوتا تھا کہ ان لوگوں کے پندار میں مبتلا کی تندرستی نہ صرف غذا سے آب و ہوا سے بلکہ مکان سے برسوں سے، مہینوں سے، دنوں سے لیل و نہار کے خاص خاص اوقات سے اپنے بیگانے کی نگاہ سے آئے گئے کی پرچھائیں سے، لوگوں کی باتوں سے، دلی خیالات سے تنہائی سے، تاریکی سے، چاندنی سے، کسوف خسوف سے، کتے سے، بلی سے، چھپکلی سے، دیو سے، بھوت سے، جن سے، پری سے، غرض ہر چیز سے جو واقعی ہے اور ہر چیز سے جو ادعائی ہے، معرض خطر میں ہے ہم تو معاذ اللہ کسی کلمہ گو مسلمان پر کفر اور شرک کا الزام کیوں لگانے لگے۔

مگر بہ مجبوری اتنی بات کہنی پڑتی ہے کہ مبتلا کے ساتھ جو برتاؤ کئے جاتے تھے واہمہ شرک اور مطنئہ کفر سے خالی نہ تھے۔ یہ بات کہ جس خدا نے ہم کو پیدا کیا ہے وہی ایک وقت مقررہ تک جس کا حال اسی کو معلوم ہے، ہماری زندگی اور تندرستی کی حفاظت کرتا ہے اور جس طرح بغیر اس کے فضل و کرم کے ہم دنیا میں رہ بھی نہیں سکتے تھے۔ سوتے جاگتے پھرتے اٹھتے بیٹھتے کہیں اور کسی حالت میں ہوں۔

ہم اس کی پناہ میں ہیں اور اس کا سایہ رحمت ہمارے سر پر ہے۔ وہ ہر مرض میں ہمارا طبیب ہے اور ہر مصیبت میں ہمارا معین و مددگار۔ ہر تکلیف میں ہمارا غمگسار۔ بغیر اس کی مرضی کے نہ غذا میں تقویت ہے نہ دوا میں تاثیر۔ بغیر اس کے حکم کے نہ زہر زہر ہے نہ اکسیر اکسیر۔ غرض یہ بات ان لوگوں کے معتقدات میں تو ضرور ہو گی جو مبتلا کو پال رہے تھے مگر ان کے برتاؤ میں تو کل و انابت کی کوئی بات ہمارے دیکھنے میں نہ آئی بلکہ ان کی تدبیریں سن کر حیرت ہوئی تھی کہ مبتلا کا پلنا اور پرورش پانا کیسا تھا۔

یہ گراں جان ان نادان دوستوں کے ہاتھ سے بچ کیوں کر گیا۔ کوئی دکھ کوئی روگ نہ تھا کہ جس کو یہ لوگ اسباب غلط اور ادعائی نظر آسیب وغیرہ کی طرف منسوب نہ کرتے ہوں اور چونکہ تشخیص میں غلطی ہوتی اسی وجہ سے جو تدبیریں کی جاتی تھیں غلط در غلط مگر مبتلا خلقتاً توانا پیدا ہوا تھا۔ ہمیشہ اس کی طبیعت امراض پر غالب آتی رہی۔

بہرکیف مبتلا کسی نہ کسی طرح خدا کے فضل سے پل پلا کر بڑا ہوا۔ یہاں تک کہ ان گنا یعنی آٹھواں برس بھی خیریت کے ساتھ گزرا، جسے میٹھا برس بھی کہتے ہیں۔ مبتلا کی تعلیم و تربیت سے مستورات کو ظاہر میں تو کچھ سروکار نہ تھا۔ ہر چند وہ مکتب میں نہیں بیٹھا، کسی استاد سے اس نے سبق نہیں لیا تاہم ہمارے نزدیک (اور ہمارے نزدیک کیا بلکہ واقع میں) ایک اعتبار سے اس کی تعلیم و تربیت بہت ہو چکی تھی۔

دنیا میں سارے لوگ پڑھے لکھے نہیں ہوتے اور نہ پڑھنے لکھنے پر زندگی یا معاش کا انحصار ہے۔ اصل چیز ہے عادت کی درستی، مزاج کی شائستگی طبیعت کی اصلاح سو جس وقت سے بچہ پیدا ہوتا ہے۔ اسی وقت سے وہ ماحول سے سیکھ کر چلتا ہے ان لوگوں کی خوبو جو اس کو پالتے، اس کو اٹھاتے بٹھاتے، اس کو سلاتے اور اس کو کھلاتے پلاتے ہیں۔

ظاہر میں معلوم ہوتا ہے کہ ایک مضغئہ گوشت کی طرح پڑے ہیں، نادان اور لایعقل نہیں ہیں۔

وہ اپنے سارے حواس سے ظاہری ہوں یا باطنی بڑی کوشش کے ساتھ کام لے رہے ہیں۔ چیزوں کو دیکھتے ٹٹولتے آوازوں کو سنتے اور جو دیکھتے سنتے اس کو حافظے میں رکھتے جاتے ہیں۔ اس کی ایک آسان شناخت ہے کہ اگر بڑی عمر میں ہم کوئی دوسری زبان سیکھنی چاہئیں تو کس قدر کوشش کرنی ہوتی ہے۔ بعض بعض اوقات سارے سارے دن رٹنا پڑتا ہے اور ہم کو اپنی مادری زبان سے لکھنا آتا ہے تو لکھنے سے اس زبان کو صرف ونحو سے لغت سے بھی بڑی مدد ملتی رہتی ہے۔

تب ہم کو کہیں برسوں میں جا کر وہ زبان آتی ہے۔

تاہم ناقص و نا تمام بچے جن کو ہماری سہولتوں میں کوئی سہولت بھی حاصل نہیں، کیا کچھ زحمت اٹھاتے ہوں گے کہ ذہین ہوئے تو برس کے اندر ہی اندر ورنہ ڈھائی تین برس کی عمر میں تو مٹھے لدھڑ کند ذہن تک طوطے کی طرح چرغنے لگتے ہیں۔ کیا اتنی بات سے کہ کسی نے پپا مما اور اما، دس بیس بار سکھانے کے طور پر ان کے سامنے کہہ دیا۔

کوئی دعویٰ کر سکتا ہے کہ ہم نے ان کو بولنا سکھایا، زبان کی تعلیم کی۔ نہیں یہ سب بچوں کی ذاتی کوشش ہے۔ پھر یہ خیال کرنا بھی غلط ہے کہ بچوں کی ساری ہمت صرف زبان کے سیکھنے میں مصروف رہتی ہے۔ ایک زبان ہی نہیں بھلا بُرا، ادب قاعدہ، نشست برخاست، رغبت اور نفرت، سود و زیاں، دوست دشمن، خویش و بیگانہ، محبت اور عداوت، حیا اور غیرت، غصہ اور لالچ، حسد اور رشک وغیرہ وغیرہ سارے سبق ان کو ایک ساتھ شروع کرا دیئے جاتے ہیں۔

پس مبتلا جس کی عمر آٹھ برس ہو چکی تھی۔ پڑھ چکا تھا۔ جو کچھ اس کو پڑھنا تھا۔ وہ پڑھ چکا تھا۔ جو کچھ اس کو سیکھنا تھا۔ ماں سے، باپ سے، نانی سے، خالہ سے، بہنوں سے، گھر کے نوکروں سے، آئے گئے سے، عمر کے اعتبار سے اس کی تعلیم و تربیت کی ایسی مثال تھی کہ جیسے کپڑا مول لیا گیا، درزی نے قطع کیا، سیا اور کھڑا کرنے کے بعد اس نے پہنا کر بھی دیکھ لیا۔

صرف بخیہ کر دینا باقی ہے۔ اب اگر کپڑا بد رنگ یا گلا ہوا نکلے یا کہیں سے تنگ ہو جائے تو درزی اس میں کیا کمال کرے گا۔ کپڑا لیتے وقت یا قطع کراتے وقت یہ باتیں دیکھنے کی تھیں اور نہیں دیکھیں تو جھک مارو اور وہی پہنو گلا ہوا، کہ پہنا اور کھسکا، کچے رنگ کا جس میں پہلے ہی دن دھبے نمودار ہوں۔ یہاں تک کہ پہلے سے بدن میں بدھیاں پڑیں اور سانس اندر کا اندر اور باہر کا باہر رہ جائے اب دیکھنا چاہیے کہ مبتلا پر زنان خانے کی تعلیم کا کیا اثر مترتب ہوا تھا۔

جوں جوں وہ بڑا ہوتا گیا، ضدی، چڑچڑا، غصیلا، مچلا، ٹنیلا زودرنج، مغرور، خود پسند، طماع، حریص، تنگ چشم، بودا، ڈرپوک، شوخ شریر، بے ادب، گستاخ، کاہل، آرام طلب، جابر، سخت گیر، گھر گھسنا، زنانہ مزاج بنتا گیا۔ اس کو دنیا و مافیہا کی کچھ خبر تو تھی نہیں، کبھی وہ بے رت کے پھلوں اور بے موسم کے میووں کے لیے گھنٹوں لوٹتا اور پٹخنیاں کھاتا، پہروں ایڑیاں رگڑتا اور آخر کو ایڑیوں کے بدلے اپنے چاہنے والوں اور ناز برداروں سے ناک رگڑوا لیتا تب بہ مشکل چپ کرتا، وہ جب جی چاہتا جو چیز چاہتا جتنی چاہتا کھاتا اور اپنی بے اعتدالیوں اور بے احتیاطیوں سے بیمار پڑتا اور الٹا ماں سے لڑتا۔

ایک مرتبہ وہ اس بات پر خوب رویا اور بہت بکھرا کہ ہائے بادل کیوں گرج رہا ہے۔ ہر چند سارا گھر اس بات کے اہتمام میں لگا رہتا تھا کہ کوئی امر اس کے خلاف مزاج نہ ہو۔ مگر اس کے رونے اور بگڑنے کے لیے ہر وقت کوئی نہ کوئی بہانہ ایک نہ ایک حیلہ مل ہی جاتا تھا۔ اس کی ناخوشی کا روکنا حقیقت میں انسان کے اختیار سے خارج اور آدمی کی قدرت سے باہر تھا۔

کوئی جان نہیں سکتا تھا کہ وہ کس بات پر روٹھ جائے گا اور روٹھے پیچھے کسی کو خبر نہ تھی کہ وہ کیونکر منے گا۔ لاکھ اللہ آمین کیوں نہ ہو، کہاں تک برداشت، کتنا تحمل، آخر رفتہ رفتہ لوگ اس کے لاڈ پیار میں کمی کرنے لگے۔ سب سے پہلے بڑی اور بیاہی ہوئی صاحب اولاد بہنوں نے بے رخی ظاہر کی۔ آخر تھیں تو اس کی بہنیں، جب اس کی شوخی و شرارت سے عاجز آتیں جھڑک دیتیں اور گھرک بیٹھتیں بلکہ ایک تو ایسی جلے تن تھی کہ یہ اس کے پاس بھانجے کو دق کرنے اور بوٹیاں توڑنے گیا اور اس نے دور ہی سے ڈانٹا کہ خبردار جو میرے بچے کو چھیڑا۔

میں ایسے چوچلے ایک نہیں سمجھتی۔ دیکھو خدا کی قسم میں مار بیٹھوں گی۔ ماں کا بھی مبتلا کے ہاتھوں دم ناک میں تھا۔ مگر جیسا کہ کہتے ہیں کہ انسان کو ایک چیز کی محبت اندھا کر دیتی ہے لہٰذا وہ کھسانی تو ہوتی تھی مگر ادھر جوش آیا اور فوراً ٹھنڈی پڑ گئی۔ تیوری پر بل پڑ چلا تھا کہ کھلکھلا کر ہنس دی۔ مبتلا کی برائیوں کو برائی سمجھنا تو درکنار وہ اس کی طرف سے ساری دنیا کے ساتھ ہر وقت لڑنے کو تیار تھی ایک مرتبہ مبتلا خدا جانے کس بات پر پیچھے سے ماں کی چوٹی گھسیٹتے جاتا تھا۔

سب سے بڑی بہن نے (جس کی پہلو نٹی بیٹی مبتلا سے بھی دو برس بڑی تھیں) دیکھ کر کہا: سبحان اللہ کیا ماں کا وقار ہے۔ لاڈ پیار بہت دیکھے مگر اتنا ناہموار، اس درجے بے تمیز جب ماں کا یہ بدڑا کر رکھا ہے تو ہمارا تو سر مونڈ کر بھی بس نہیں کرے گا۔ ہائے تو میرا بیٹا نہ ہوا تجھ کو ایسا ٹھیک بناتی کہ یاد ہی تو کرتا۔ باوجود یکہ بیٹی نے نصیحت کی بات کہی تھی مگر ماں پنجے جھاڑ کر اس کے پیچھے لپٹی اور سر ہو گئی۔

ماں کی پردہ داری کی وجہ سے باپ کو مبتلا کی شوخیوں کی پوری پوری خبر نہیں ہونے پاتی تھی پھر بھی جس قدر حال چار و ناچار معلوم تھا اس سے انہوں نے اتنا تو سمجھ لیا تھا کہ اس کا اٹھان اچھا نہیں۔ مبتلا کو چھٹا سال لگا تھا۔ باپ نے اس کو مکتب میں بٹھانا چاہا۔ عورتوں نے عذر کیا کہ آئے دن تو یہ بیمار رہتا ہے۔ مکتب کی قید، استاد کی تنبیہہ سے اس کا نگوڑا اتنا سا جی رہا سہا اور بھی اداس ہو جائے گا۔

ابھی جینے تو دو اور مبتلا کی ماں نے تو کھلا کھلا کہہ دیا کہ جب تک اصلی خیر سے اَن گنا نہ گزر جائے میں تو اس کو نہ لکھاؤں نہ پڑھاؤں غرض عورتوں کی ہٹ اور ہیکڑی نے مبتلا کے پورے تین برس کھوئے مگر سچی بات یہ ہے کہ مبتلا کا باپ اپنی طرف سے برابر اس کی کوششوں میں لگا رہا۔ اس پر بھی جو مبتلا تین برس تک آوارہ ہوتا رہا تو یہ اس کے باپ کا تساہل اور کمزوری، ماں کی نادانی اور حماقت اور خود مبتلا کی بدقسمتی اور کم بختی تھی۔

اتنا تھا کہ جب باپ کو مبتلا کی کوئی بے جا بات معلوم ہوتی تو اسے ڈراتے دھمکاتے تو نہیں مگر نرمی اور دل جوئی کے ساتھ اس کو سمجھا ضرور دیتے کہ بیٹا یہ حرکت بہت نامناسب ہے اور خود اس کے ساتھ ظاہری پیار اخلاص اتنا نہ رکھتے کہ ماں کی چوٹی کے ساتھ ان کی داڑھی بھی کھسوٹنے لگتا۔

مبتلا کو باپ کا کسی طرح کا خوف تو نہ تھا۔ مگر یوں کہو کہ زیادہ میل جول نہ ہونے کی وجہ سے ایک طور کی جھجک اور رکاوٹ تھی۔

چاہو اس کو لحاظ سے تعبیر کر لو۔ مگر کیا اتنا کرنے سے مبتلا کے باپ نے باپ ہونے کا فرض ادا کیا۔ ہرگز نہیں۔ اس نے عورتوں کو مبتلا کی شرارتوں کی پردہ داری کرنے دی۔ اس نے بیٹے کے حالات سے پوری پوری خبر نہ رکھی۔ اس نے جتنی خبر رکھی اس کا بھی تدارک جیسا چاہیے تھا نہ کیا۔ اس نے مستورات ناقصات العقل کی رائے میں آکر جلد سے جلد بیٹے کو پڑھنے کے لئے نہ بٹھایا اور اس کے اکٹھے تین برس ضائع ہونے دیئے اتنا غنیمت ہوا کہ مبتلا کو اس کی ماں نے اپنے وہم کے پیچھے اکیلا دو کیلا گھر سے باہر نہیں نکلنے دیا ورنہ محلے میں دھوبی کنجڑے، بھٹیارے، قصائی، تیلی اس قسم کے لوگ بھی رہتے تھے۔

اگر کہیں مبتلا ان لوگوں کے لڑکوں میں کھیلنے کودنے پاتا تو ساری خوبیاں جا کر ایک ذاتی شرافت باقی تھی وہ بھی گئی گزری ہوتی۔ جب تک میٹھا برس ختم ہو، مبتلا کے مزاج کی تلخی بڑھ گئی تھی۔ ادھر ابھی سالگرہ کو دو تین مہینے باقی تھے کہ باپ نے بسم اللہ اور مکتب کی چھیڑ چھاڑ شروع کی۔ بارے اس مرتبہ عورتوں نے بھی چنداں مزاحمت نہیں کی اور سالگرہ اور بسم اللہ دونوں تقریبیں ایک ساتھ ہو گئیں۔

¿Qué te deja este capítulo?

Inicia sesión para reaccionar

Conversación

Nadie ha hablado todavía. Cuenta qué removió en ti este capítulo.

¿Te ha gustado este capítulo? Comparte una línea.