
الفصل 26 من 31
Ghairat Begum's Revenge on Hariyali, Part 2: The Case
تئیسواں باب: حاملہ ہریالی سے غیرت بیگم کا انتقام (حصہ دوم)
محلے والوں نے اظہار دیئے کہ دونوں گھروں میں ہر وقت کو سم کاٹا رہا کرتی تھی۔ اب ہفتے عشرے سے امن ہے۔ گھوسن نے بیان دیا کہ میں مدت سے دونوں گھروں میں دودھ کا راتب لاتی ہوں کبھی کسی نے دودھ کو برا نہیں بتایا۔ کل خاتون نے پہلے پہل مجھ سے کہا کہ تیرے دودھ میں ملاوٹ ہوتی ہے اور ہنڈیا میرے ہاتھ سے لے ڈیوڑھی میں گھس گئی اور پھر الٹے پاؤں ہنڈیا لے کر باہر آئی کہ بیوی نہیں ہیں۔
میں نے وہی ہنڈیا جوں کی توں چھوٹے گھر میں بھیج دی۔ دونوں گھروں کی ماماؤں نے ایک زبان گواہی دی کہ گھوسن نے دودھ کبھی برا نہیں دیا۔ حکیم عطار نے تصدیق کی کہ میری دکان پر خاتون کا بھانجا بیٹھتا ہے اور جب میں دکان پر نہیں ہوتا وہی بیچتا کھوچتا ہے۔ اور میری دکان میں سنکھیا بھی رہتی ہے مگر میری سخت تاکید ہے کہ دیکھو سنکھیا، کچلا، جمال گوٹا، شخرف، ہڑتال، بچناگ، دھتورہ اس قسم کی چیزیں انجان آدمی کے ہاتھ مت بیچنا۔
ان چیزوں کی فروخت کا حساب کتاب میں کیا شہر میں کوئی عطار بھی نہیں رکھتا۔ خاتون کے بھانجے کو بلوایا۔ بہتیرا ڈھونڈا اتفاق سے اس وقت نہیں ملا بلکہ کوتوالی والوں کو شبہ ہوا کہ کہیں خبرپا کر روپوش تو نہیں ہو گیا۔
بس اس کے آنے کی کسر رہ گئی ورنہ مقدمہ اسی وقت لکھا پڑھی ہو کر چالان ہو جاتا۔ گھر کے نوکروں میں خاتون ذرا سب سے زیادہ معزز تھی اور ڈیوڑھی تک بھی بہت ہی کم آتی جاتی تھی۔
کوتوالی والوں کو ہوا تامل کہ اس کو دوسرے نوکروں کی طرح باہر بلوائیں یا آپ ڈیوڑھی کے پاس جا کر اس سے پوچھ پاچھ کر لیں کہ اتنے میں تو سید ناظر خبر پاکر آموجود ہوئے۔ اگر ناظر ذرا سی دیر اور نہ آتے تو خاتون کی کیا اصل تھی۔ کوتوالی والے تو اس کے اچھے سے قبول کروا لیتے بلکہ وہ اس فکر میں تھے کہ اپنی طرف سے کسی عورت کو اندر بھیج کر خود بیگم صاحبہ کی مزاج پرسی کریں۔
ناظر کا آنا تھا کہ مقدمے کا رنگ بدل گیا۔ کوتوالی نے مناسب سمجھا کہ رات گئی ہے زیادہ، اس وقت تحقیقات کو ملتوی کیا جائے۔ فیرینی کی قلفیاں اور مرے ہوئے جانوروں کی لاشیں یہی دو بڑے ثبوت تھے سو دونوں ہمارے ہاتھ میں ہیں۔ اب ناظر نہیں ناظر کے باپ بھی قبر سے اٹھ کر آئیں تو کیا کر لیں گے۔ ماما کے پیٹ میں سے سنکھیا نکل چکی ہے اور اس میں شک نہیں کہ یہ اتنے سارے جانور سب سنکھیا سے مرے اور فیرینی میں سنکھیا موجود۔
اب رہ گئی یہ بات کہ سنکھیا دی تو کس نے دی تو دونوں سوکنوں سے انکار ہو سکتا ہے اور نہ دونوں کی عداوت سے۔ زہرخوردنی کا مقدمہ اس سے زیادہ اور کیا ہو گا۔ صاحب مجسٹریٹ کوتوالی کے چالان کیے ہوئے مجرم اکثر چھوڑ دیا کرتے ہیں اور ان کو کوتوالی کے ساتھ خدا واسطے ایک ضد سی آپڑی ہے۔ لیکن اگر اس مقدمے کو بگاڑا تو علم کی قسم صاحب سپرنٹنڈنٹ کو سمجھا کر صدر کو ایسی رپورٹ کراؤں کہ جواب دیتے بن نہ پڑے اور میاں ناظر کو بھی وکالت کا بڑا گھمنڈ ہے۔
بڑی مدت میں اونٹ پہاڑ کے تلے آیا ہے دیکھیں تو اب ہائی کورٹ کی کون سی نظیر پیش کر کے بہن کو بچاتے ہیں۔ غرض کوتوال خاتون کو ناظر کے سپرد کر حوالہ نامہ لکھوا گھوسن کے ساتھ چلتا ہوا اور سیدھا پہنچا صاحب سپرنٹنڈنٹ کے پاس اور ان کو مقدمے کی روداد سمجھا کر کہا کہ مقدمہ ہے سنگین اور مجرم عورتیں پردہ نشین۔ سید ناظر وکیل کا نام حضور نے سنا ہو گا۔
ناظر کی بہن نے سوکن کو زہر دلوایا مگر وہ اتفاق سے بچ گئی کل حضور بھی واقع واردات تک چلیں ورنہ وکیل صاحب بڑے شورہ پشت اور ثقہ بدمعاش ہیں۔ ہم لوگوں کے قابو آنے والی آسامی نہیں۔ ادھر ناظر بہن کے پاس گیا تو دیکھا کہ مارے ہول کے دست پردست چلے آرہے ہیں۔ دیکھنے کے ساتھ ہوش ہی تو خطا ہو گئے اور سمجھا سب سے بڑا ثبوت تو خود ان کی حالت ہے۔ آخر بہن سے اتنا کہا کہ بڑے بھائی نے تم کو اس قدر ڈرا دھمکا دیا تھا۔
مگر تم نے نہ مانا اور جب عقل کی بودی طبیعت کی کچی ہمت کی ہیٹی تھیں تو ایسے کام پر تم کو جرأت کیونکر ہوئی بس اب تین پہر رات اور ہے صبح ہوئی اور تمہاری ڈولی کوتوالی چلی۔ بھائی کے منہ سے اتنی بات سن غیرت بیگم کو اور تو کچھ نہ سوجھا۔ بہت دن ہوئے تولہ بھر افیون منگوا کر صندوقچے میں رکھ چھوڑی تھی۔
دوڑی کوٹھڑی میں جا صندوقچہ کھول افیون کا گولا نگل، اوپر سے بھرا کٹورا پانی کا پی لیا۔
بتول کی انّا کو یہ حال معلوم تھا کہ انہوں نے صندوقچے میں افیون رکھ چھوڑی ہے۔ دالان کے ایک کونے میں بیٹھی ہوئی بھائی بہن کی باتیں سن رہی تھی۔ بیوی کو جو اس طرح گھبرا کر اندھیری کوٹھڑی میں جاتے ہوئے دیکھا جلدی سے بتول کو چارپائی پر لٹا پٹتی ہوئی بھاگی کہ اے ہے۔ خاک پڑے ایسے جھگڑے پر۔ لو اب تو دشمنوں کو ٹھنڈک پڑی۔ وہ بیوی نے افیون کھالی۔
اتنے میں تو غیرت بیگم بھی کوٹھڑی سے کہتی ہوئی نکلی کہ بھائی تم کچھ تردد مت کرو۔ مجھ بُری سے خدا نے تم سب کا پیچھا چھڑایا۔ صبح تک میں ہی نہیں رہوں گی۔ کوتوال کو اختیار ہے میرا مردہ لے جا کر کوتوالی میں دفن کرے۔ زہرخورانی کا ایک مقدمہ تو قائم تھا ہی اقدام خودکشی کا دوسرا اور ہوا۔ معصوم اور بتول دونوں کو گلے لگا کر ایسی بلک بلک کر روئی کہ گھر میں قیامت برپا ہو گئی۔
ناظر نے جو بہن کا بلبلانا دیکھا اور ساتھ ہی خیال آیا کہ بس یہ بھی دنیا میں تھوڑی دیر کی مہمان اور ہے پھر کہاں ہم اور کہاں بہن۔ اس کے سر پر ایسا جنون سوار ہوا کہ نہ پکارا نہ کنڈی کھڑکھڑائی نہ دستک دی نہ اجازت لی۔ منہ اٹھا سیدھا چھوٹے گھر میں جا گھسا۔ دونوں میاں بیوی سرجوڑ بیٹھے ہوئے خدا جانے کیا صلاحیں کر رہے تھے۔ مبتلا نے آہٹ پاکر دور سے ڈانٹا ایں ایں کیا بدتمیزی ہے۔
اندھے ہو تم کو معلوم نہیں کہ پردہ ہے۔ تب کی مرتبہ بہن کو مداخلت بے جا کی نالش پر آمادہ کرتے تھے۔ اب یہ مداخلت بے جا نہیں ہے۔ ناظر بولا کہ اللہ دے تیرا پردہ، نوسوچوہے کھا کے بلی حج کو چلی۔ یہی نالائق پردے والی بنی۔ پردے والی نے افیون کھائی اور دنیا جہان سے روپوش ہونے کی تیاری کی۔
مبتلا: الحمدللہ خس کم جہاں پاک مگر تم خیریت سے چلتے پھرتے تو نظر آؤ سامنے سے۔
پرے ہٹتے ہو یا میں اٹھ کر تم کو رستہ دکھاؤں۔ مبتلا کا اتنا کہناتھا کہ ناظر یا تو صحن میں تھا یا مبتلا کی چھاتی پر، پھر تو دونوں میں خوب کشتی ہوئی۔ ناظر دیہات میں پیدا ہوا۔ دیہات میں پلا ہاتھ پاؤں کا ڈھلا، گٹھیلا برسوں اکھاڑے کا لڑا ہوا بیسیوں داؤ یاد، پچاسوں گھاتیں معلوم، سینکڑوں پیچ رواں اور اب تک بھی دو وقت ڈنڈمگدر کبھی اس نے ناغہ ہونے نہیں دیئے۔
مبتلا بے چارے نازنین، میرپھوپھا مرزا مہین۔ ناظر نے وہ پٹخنیاں دیں اور ایسا ایسا رگڑا کہ آنکھیں نکل نکل پڑیں اور سانس اوپر کا اوپر اور نیچے کا نیچے۔ مبتلا کے پاس کل جمع تین حربے تھے، چٹکیاں لینا نوچنا کاٹنا سو ناظر کی پھرتی کے مقابلہ میں ایک بھی کارگر نہ ہوا۔ مبتلا کو اگر معلوم ہوتا کہ یہ کم بخت چھوٹا کھوٹا چھپا رستم ایسے غضب کا بچھا ہوا ہے تو کبھی بھول کر بھی اس سے دو بدو نہ ہوتا مگر اس کی تقدیر میں تو دو بیبیاں کر کے ہرطرح کی مصیبت اٹھانی لکھی تھی۔
چھوٹا سمجھ کر اس کو ایک ڈانٹ بتائی بیٹھے بٹھائے۔ ہریالی نے دیکھا کہ میاں کو ناظر گیند کی طرح اچھالے اچھالے پڑا پھرتا ہے یہاں سے اٹھایا اور وہاں دے مارا۔ ادھر سے اچھالا ادھر لاپٹکا، ایسی دہشت دل میں سمائی کہ اس کا حمل جس کے سبب سے اتنا سارا فساد پڑا ساقط ہو گیا۔ ناظر کیا مبتلا کو جیتا چھوڑتا وہ تو خدا کا کرنا عین وقت پر سید حاضر آپہنچے تو گھر میں مجموعہ تعزیرات ہند پھیلا پڑا ہے مگر کیا قائم مزاج آدمی تھا آتے کے ساتھ سب سے پہلے تو ناظر اور مبتلا کو چھڑایا پھر نمک ڈال بھر بھر لوٹے گرم پانی غیرت بیگم کو پلانا شروع کیا۔
غیرت بیگم اس طرح کی ضدی عورت تھی کہ اگر ساری دنیا ایک طرف ہوتی تو گرم پانی کا کٹورا منہ کو نہ لگانے دیتی مگر کچھ تو بڑے بھائی کا لحاظ اور ادھر چپکے سے کسی نے کان میں جھک کر کہہ دیا کہ مبارک ہو ہریالی کا حمل تو گرگیا بے عذر خوب ڈگڈگا کر پانی پی لیا۔ پانی کا حلق سے اترنا تھا کہ استفراغ ہوا اور استفراغ کے ساتھ کھٹ سے افیون کا گولا سموچے کا سموچا نکل کر الگ جا پڑا۔
ادھر ہریالی کی خدمت کے لیے دوہری دوہری دائیاں بلوائیں اور پھر مبتلا اور ناظر دونوں کو ساتھ لے جا کر بیٹھا کر ہر چند تم دونوں کی طبیعتیں اس وقت حاضر نہیں اور سچ تو یہ ہے کہ مزاج میرا بھی ٹھکانے نہیں مگر میں دیکھتا ہوں تو آدھی رات ڈھل چکی ہے۔
صرف سوا پہر کی مہلت ہے سامان تو بدقسمتی سے ایسا جمع ہوا ہے کہ اب آبروبچتی ہوئی نظر نہیں آتی اور جب آبرو پر بنی تو سب سے پہلے شخص جو جان دینے میں دریغ نہ کرے میں ہوں۔
دیکھو تو کتنے آدمی ہم لوگوں کے ملاقاتی ہیں مگر ہمدردی اور مدد تو درکنار۔ مرد عورت کوئی آکر بھی جھانکا، سچ کہا ہے گاڑی بھرآشنائی کام کی نہیں اور رتی بھرنا تاکام آتا ہے۔ بڑے سخت افسوس کی بات ہے کہ جب ناتے سے کام لینے کا وقت آیا تو تم لوگ آپس ہی میں لڑنے لگے۔ جس طرح پر تم دونوں میں لڑائی شروع ہوئی۔ میں سب سن چکا ہوں تم میں سے کسی کو مجھ سے توقع نہیں رکھنی چاہیے کہ میں ایک کو ملزم ٹھہراؤں اور دوسرے کو بری۔
جس طرح تالی ایک ہاتھ سے نہیں بجتی۔ اسی طرح لڑائی کبھی ایک کے لڑنے سے نہیں لڑی جاتی۔ میں تم دونوں کو برابر الزام دیتا ہوں لیکن رشتہ داروں میں اگر کسی بات پر چخ بھی ہو جاتی ہے تاہم ان کے خون ملے ہوئے ہیں وہ ظاہر میں جدا ہیں اور باطن میں ایک۔ غیرت بیگم کا افیون کھا لینا سن کر مبتلا بھائی کو منہ سے الحمدللہ کہہ دینا بہت آسان تھا لیکن جب غیرت بیگم کی مدت حیات پوری ہو اور خدا کرے کہ مبتلا بھائی اس کو اپنے ہاتھوں سے مٹی دیں تو دنیا میں سب سے بڑھ کر رنج کرنے والے بھی یہی ہوں گے۔
گھر کس کا برباد ہو گا ان کا۔ اولاد کس کی بے ماں کی ماری ماری پھرے گی، ان کی۔ کنبے والوں کا میل ملاپ کس سے چھوٹ جائے گا، ان سے بھلے مانسوں میں جو خانہ داری کے ساتھ ہوتی ہے یعنی تمدنی عزت وہ کن کی جاتی رہے گی ان کی۔
اس میں شک نہیں چھوٹی بھاوج کی وجہ سے دلوں میں بڑے فرق پڑ گئے ہیں اور پڑنے ضرور تھے مگر پھر بھی غیرت بیگم کی ناموس کا پاس ہمیں چھٹانک بھر تو مبتلا بھائی کو سیر بھی ہو گا۔
میں جانتا ہوں کہ مبتلا بڑے ضبط کے آدمی ہیں منہ سے نہیں کہتے مگر ان کے تلوؤں سے لگی ہے۔ ناظر کیا تم سے کوئی خیر کی توقع کرے گا جب تم ایسی مصیبت میں مبتلا بھائی کی مدد نہ کروں۔ ہزاروں مقدموں میں تم بہ طمع صلہ پیروی کرتے ہو اس ایک مقدمے میں صلہ رحم کو صلہ سمجھو اور میری خاطر سے اپنی بہن کی خاطر سے بھانجی کی خاطر سے غصے کو تھوک کر بچاؤ کی کوئی صورت نکالو اور تم، مبتلا بھائی! ازبرائے خدا رحم کرو۔
اپنے چھوٹے چھوٹے بچوں پر، بزرگوں کے نام پر، خاندان کی عزت پر، تم کو معاملات مقدمات کا کبھی اتفاق نہیں پڑا۔ کوتوالی والے مدت سے تم پر دانت لگائے ہیں۔ خدا جانے کس بلا میں تم کو پھنسا دیں گے۔ ناظر تمہارا خورد ہے۔ اگر اس نے بے تمیزی کی تو بہت بُرا کیا۔ جھک مارا۔ میں اس کی طرف سے معذرت کرتا اور تمہاری تھوڑی میں ہاتھ ڈالتا ہوں۔ جانے دو۔ معاف کرو۔ اس کے بعد ناظر کو پکڑ کر مبتلا کے پیروں میں گرایا اور ناظر اور مبتلا دونوں کو گلے لگوایا وہ دونوں بھی ایک دوسرے سے مل کر روئے۔ حاضر بہن کی تباہی کا تصور کر کے مغموم تو پہلے سے تھا۔ اب ان کو روتا ہوا دیکھ کر آپ بھی رونے لگا۔ جب سب کے دلوں کی بھڑاس نکل چکی تو حاضر نے ناظر سے پوچھا کہ کیوں بھائی اب کرنا کیا چاہیے؟
ناظر: خیر اب آپ فرماتے ہیں اور آپ کا قدم درمیان میں ہے تو میں اس مقدمہ میں ہاتھ ڈالتا ہوں مگر مبتلا بھائی نے آج اس رنڈی کے سامنے (آپ برا مانیں یا بھلا مانیں میں تو اس کو ساری عمر بھاوج کہنے والا نہیں) جیسا ذلیل کیا ہے، میں اس رنج کو کبھی بھول نہیں سکتا۔ جب آپا نے میرے بیٹھے پر افیون کھائی تو میں گھبراکر اس غرض سے ان کے پاس دوڑا ہوا گیا تھا کہ ہم دونوں ہم صلاح ہو کر تدبیر کریں۔
انہوں نے مجھ کو دروازے میں سے دیکھ کر اس طرح دھتکارا کہ کوئی کتے کو بھی نہیں دھتکارتا، مجھ کو رہ رہ کر غصہ آتا ہے کہ انہوں نے تو شرم اور حیا سب کو بالائے طاق رکھ دیا یا آپ کے سامنے میرا منہ کھلواتے ہیں۔ کل کی بات ہے کہ یہی نالائق جو آج لمبا چوڑا پردہ لگا کر بیٹھی ہے۔ بے اختیار جی چاہتا ہے کہ مارے جوتیوں کے بدذات کے سر پر ایک بال باقی نہ رکھوں، ٹکے ٹکے پر ماری ماری پڑی پھرتی تھی اور کوئی اس پر تھوکتا بھی نہ تھا۔
ان ہی سے پوچھئے کہ کئی بار میرے یہاں اس کا مجرا ہوا۔ جب آتی تھی ڈیوڑھی میں فراشی سلام۔ یا اب اس کے یہ بھاگ لگے ہیں کہ ہمارے سامنے ہونے سے اس کی بے پردگی ہوتی ہے۔
عزت بنانے سے نہیں بنتی بلکہ خدا داد چیز ہے۔ آج یہ پردہ نشین بنی۔ کل کو سیدانی بن کر چاہے گی کہ ہماری ماؤں بہنوں کے ساتھ بیوی کی صحنک کھائے۔ پرسوں اس کے بال بچے ہوں گے اور کہے گی کہ سیدوں میں رشتہ ناتہ کرتی ہوں تو کوئی بھلا مانس اس کو جائز رکھے گا۔
یہ جو کچھ آپ دیکھ رہے ہیں سب ہماری آپا کا صبر پڑ رہا ہے۔ اور بھی کیا ہے۔ یہ مظلمہ تو مبتلا بھائی کو ایسے ناچ نچائے گا کہ ہریالی کو ساری عمر ایسا ناچ ناچنے کا اتفاق نہ ہوا ہو گا۔ ناظر تو باتوں باتوں میں گرم ہوتا جاتا تھا اور مبتلا کے چہرے پر ہوائیاں اڑ رہی تھیں کہ اگر اب کے پھر کہیں یہ جن لپٹ پڑا تو ہڈی پسلی ایک کر کے رکھ دے گا۔ حاضر کے بیٹھنے کی اگر ڈھارس نہ ہو تو قریب تھا کہ مبتلا کی گھگھی بندھ جائے۔
بارے حاضر نے کہا بھائی ناظر! یہ تو تم پھر بگاڑ کی سی باتیں کرتے ہو۔ یہ سوچ ہے کہ مبتلا بھائی کی نادانی نے سارے گھر کو تہ و بالا کر دیا مگر یہ بھی تو نہیں ہو سکتا کہ ہم غیروں کی طرح دور کھڑے ہوئے تماشا دیکھیں۔
ناظر: یہ تو میں نے وہ حقیقت بیان کی جو میرے دل میں تھی، رہ گیا مقدمہ اس سے آپ اطمینان رکھیے، مبتلا بھائی کو روپیہ تو بہت خرچ کرنا پڑے گا۔
کوئی پانچ چھ ہزار۔ مگر خدا نے چاہا تو ان پر اور ان کے طفیل میں ہریالی پر کوئی گزند نہیں آنے پائے گا۔ اس وقت تک مبتلا کو مقدمہ کی واقعی روداد اور کوتوالی کی تحقیقات سے اپنی اور ہریالی دونوں کی طرف سے پورا اطمینان تھا اور دونوں اپنی جگہ خوش تھی چاہ کن راچاہ درپیش۔ سنکھیا دی اسی غرض سے کہ ہم دونوں کھائیں اور مر کر رہ جائیں۔ خدا کی قدرت ہم دونوں کے منہ پر رکھنے کی نوبت بھی نہیں آئی اور اوپر ہی اوپر ماما کے بیٹے نے جا کر سرکار میں خبر پہنچائی۔
اب لینے کے دینے پڑے۔ غیرت بیگم کو پھانسی ہو تو پھانسی، عمر قید میں تو شک ہی نہیں چلو سستے چھوٹے اور روز کاٹنٹا مٹا۔ ناظر کے منہ سے یہ کلام سن کر کہ پانچ چھ ہزار روپیہ خرچ کرو تو تم پر گزند نہیں آنے پائے گا۔ مبتلا توحیران ہو کر اس کا منہ دیکھنے لگا اور بے اختیار بول اٹھا: کیوں صاحب۔ الٹا چور کوتوال کو ڈانٹے مجھی کو زہر دیا جائے اور میں ہی گزند سے بچنے کے لیے پانچ چھ ہزار روپیہ بھی خرچ کروں۔
انگریزی کی عمل داری میں یہی انصاف ہے۔
ناظر: ہوش کی بنواؤ۔ تماش بینی اور شے ہے اور مقدمہ کی باریکی کو پہنچنا کچھ اور چیز ہے۔ تم کو اتنا تو معلوم ہی نہیں کہ معاملہ کس کو کہتے اور مقدمہ کس جانور کا نام ہے۔ میں تو زبان دے چکا ہوں اور بدعہدی کسی شریف آدمی کام نہیں۔ اس لیے چند تہہ کی باتیں تم کو سمجھاتا ہوں کوتوالی کی تحقیقات کو تو عدالت میں کوئی پوچھتا تک نہیں روداد وہی معتبر ہے جو عدالت کی مثل میں ہو کیا تم نے نہیں دیکھا کہ کوتوالی کے لوگ زبانی پوچھ گچھ کے سوا کسی کا اظہار تک قلم بند کر نہیں سکتے۔
اصل بات یہ ہے کہ پہلے کوتوالی اور فوجداری ایک تھی جب یہ لوگ لگے اظہار کارگزاری کے لیے ہر واردات بے سراغ کے مجرم بنانے اور اصل مجرموں سے سازش کر کے بیگناہوں کو ناحق پھنسانے تو سرکار نے کوتوالی اور فوجداری کو الگ کر دیا۔ اب تو کوتوالی والوں کا اتنا ہی اختیار ہے کہ جس کو اپنے نزدیک مجرم سمجھیں حاکم عدالت کے پاس چالان کر دیں۔ حاکم عدالت مدعی اور مدعاعلیہ گواہوں کے اظہار قلم بند کرتا ہے اور اپنے یہاں کی روداد پر سزا یا رہا کرتا ہے۔
کوتوالی والے اناپ شناپ جس کو پکڑ کر پاتے ہیں چالان کر دیتے ہیں۔ عدالت میں گئے اور رہا ہوئے اور ہمارے صاحب مجسٹریٹ کوتوالی سے اس قدر بدظن ہیں کہ مجسٹریٹی کا اجلاس کرتے ہوئے پورا برس نہیں گزرا کہ اتنے ہی دنوں میں کوتوالی والوں سے جیل خانہ بھر دیا۔ غرض کوتوال اور ان کی تحقیقات کی تو کچھ بھی حقیقت نہیں۔ اب رہ گئی مقدمے کی روداد سو اس کا یہ حال ہے کہ سنکھیا حقیقت میں پکڑی گئی۔
ہریالی کے یہاں پس مدعاعلیہ اول ہوئی ہریالی اور پہلے اسی پر اشتباہ کیا جائے گا کہ اسی نے فیرینی میں ڈالی یا ڈلوائی۔
مبتلا: بھلا وہ کم بخت بدنصیب کس کو سنکھیا دینے اٹھی تھی اپنے تئیں یا مجھ کو یا اپنی ماما کو جو سال ہا سال سے نوکر ہے اور کبھی اس کو پھٹے منہ تک نہیں کہا یا اپنے پالے ہوئے جانوروں کو۔ ناظر یہ سن کر بولا کہ تمہاری ناپختہ رائے تو بات الگ ہے لیکن دوسرے احتمالات میں تو کوئی ناممکن بات نہیں ہے۔
ہو سکتا ہے کہ اس نے زہر دینا چاہا ہو۔ یہ عجب نہیں بازاری خلقت کا بھروسہ کیا۔ خدا جانے اس نے کیا سمجھ کر تم سے نکاح پڑھایا اور اب جو اس کی مراد بر نہ آئی تو اس نے اپنا پنڈ چھڑانے کے لیے یہ تدبیر کی۔ اگر وہ اپنی حالت سابقہ پر عود کرنے کی آرزو مند ہو تو اس سے کچھ دور نہیں۔
ماما جو ہے وہ تم خود کہتے ہو کہ اس کے پاس مدت سے ہے تو ضرور اس کے پچھلے حالات سے بخوبی واقف ہو گی اور عداوت کے لیے اتنی بات کافی ہے اور سنکھیا کے لیے تمہاری اور ہریالی ماما کی کیا تخصیص ہے۔
معصوم سارے سارے دن ہریالی کے یہاں رہتا ہے وہ یقینا اس کی جان کی دشمن ہے۔ ان کے علاوہ احتمال اور ہے اور وہ سب میں زیادہ قرین قیاس ہے کہ آپا کے پھنسانے کے لیے یہ سارا منصوبہ سوچا گیا ہے۔ ورنہ سبب کیا کہ جانوروں تک فیرینی کھلائے اور آپ منہ تک نہ لے جائے اور بدذات نے کیا چالاکی اور بے رحمی کی ہے کہ بے زبان جانوروں کو تو اتنی فیرینی ٹھسائی کہ ایک نہ بچا۔ لہو لگا شہیدوں میں داخل کیا۔
مبتلا: گھوسن کی گواہی پر کچھ لحاظ نہ ہوگا؟
ناظر: کیا معلوم کہ عدالت تک پہنچتے پہنچتے گھوسن اپنے بیان پر قائم بھی رہتی ہے یا نہیں اور فرض کرو قائم رہے تو اس نے سنکھیا کا نام تک بھی نہیں لیا بلکہ میری نظر سے دیکھو تو گھوسن کا بیان ہریالی کے حق میں سم قاتل ہے۔ وہ کہتی ہے کہ خاتون نے مجھ کو دودھ کی ہنڈیا واپس کر دی۔ بہت خوب، ہریالی نے جب یہ سن لیا تھا کہ بڑے گھر سے دودھ برا سمجھ کر واپس کیا گیا تو اس نے چپ چپاتے ضرورت سے زیادہ بھری ہنڈیا رکھ کیوں لی۔
پس یہیں تو پانی مرتا ہے۔ اس سے صاف شبہ ہوتا ہے کہ ہریالی نے گھوسن سے مل کر اسی کے گھر دودھ میں سنکھیا گھلوائی اور جب خاتون دھوکے میں آئی تو دوسری چال چلی اور پھر یہ بھی سمجھ لو کہ ہریالی اور تم دو نہیں ہو، ہریالی کا کرنا عین تمہارا کرنا ہے اور ابھی خاتون کے بیان کو تو نوبت آنے دو۔
دیکھو تو وہ کیا زہراگلتی ہے۔ کوتوالی والوں کی کارروائی میں فی الواقع ہمیشہ ایک بڑا نقص یہ ہوتا ہے کہ تحقیقات سے پہلے مقدمہ کو کسی ایک پہلو پر ڈھال لے جاتے ہیں اور پھر بااصرار کے ساتھ اخیر تک اسی پہلو کی تائید میں لگے رہتے ہیں جو باتیں میں نے تم سے سرسری طور پر بیان کی ہیں۔
ان میں سے ایک کی طرف بھی کوتوال صاحب کا ذہن منتقل نہ ہوا ہو گا اور ہم لوگوں کو تو باتیں حاکم کی میز پر سوجھتی ہیں، عین وقت پر کچھ اس طرح کا بہرہ کھل جاتا ہے کہ خودبخود بات میں سے بات نکلی چلی آتی ہے۔
مبتلا کی ساری ہمت تمام ہو گئی عمر بھر مصروف رہا حسن و عشق میں۔ مدعی اور مدعا علیہ بننا درکنار اس کو کبھی گواہی دینے کا بھی اتفاق نہیں پڑا۔
بچپن کا لاڈلا، جوانی کا چھیلا وہ وکیلوں کے چھل فریب کیا سمجھے۔ ناظر نے جو الٹی سیدھی باتیں سمجھائیں چھکے ہی تو چھوٹ گئے اور سمجھا کہ بس اب نہیں بچتا۔ سنکھیا کا غصہ ہریالی کا رنج اپنی چوٹ اگلے پچھلے گلے شکوے سب کچھ بھلا بسرا ناظر کے گلے سے لپٹ گیا کہ بس اب اوپر خدا ہے اور نیچے تم۔ چاہو مارو چاہو جلاؤ چاہو اجاڑو چاہو بساؤ۔
ناظر: مقدمہ تو میری طرف آگیا اور سمجھو کہ مقدمہ کا میں بیمہ لے چکا۔
خرچ کا بندوبست تم کرو۔
مبتلا: خرچ کا بندوبست بھی تم ہی کو کرنا پڑے گا تم کو تو ہر گھر کا ذرا ذرا حال معلوم ہے۔
ناظر: کیا مضائقہ خرچ کا بھی انتظام ہو جائے گا۔ خیر آپ دو رقعے میرے نام لکھیے ایک تو کل کی تاریخ میں کہ چوہوں کی جیسی کثرت ہے تم کو معلوم ہے اب تو یہ نوبت پہنچتی ہے کہ کھونٹیوں پر لٹکے ہوئے کپڑے کاٹ کاٹ کر ٹکڑے کیے ڈالتے ہیں، ناچار تھوڑی سنکھیا منگوائی، پڑیا چھوٹے گھر کے بیچ والے دالان میں اس خیال سے کہ کسی کا ہاتھ نہ پڑے۔
اونچے پر رکھوائی تھی، یہ ذکر کوئی سات یا آٹھ دن پہلے کا ہے کل کیا اتفاق ہوا کہ شام کے وقت ایک روپے کی کھانڈ کا پڑا آیا اور جیسا دستور ہے پڑے کے ساتھ نمونے کی پڑیا۔ سنکھیا کی پڑیا تھی۔آج خود گھر والی نے اپنے ہاتھ سے فیرینی میں کھانڈ ڈالی تو انہوں نے کہا کہ پڑیا کی کھانڈ بھی کیوں ضائع ہو، پڑا اور پڑیا دونوں اتارتی لائیں مگر پڑیا سنکھیا کی باورچی خانے میں بھی دھوئیں کی وجہ سے کچھ دکھائی نہ دی اور چونکہ دل میں کسی طرح کا کھٹکا نہ تھا۔
انہوں نے دیکھا بھی نہیں۔ فیرینی پک کر تیار ہو گئی تو تھوڑی جانوروں کو دی جو گھر والی نے اپنے شوق کے لیے پال رکھے تھے اور جو دیگچی میں رہ گئی تھی ماما نے پونچھ کھائی جانور تو مر گئے ماما کو کچھ دست آئے مگر بچ گئی۔ کوتوالی کے لوگ مقدمہ کو طول دینا چاہتے ہیں تم مختار کارانہ اس کی خبرگیری کرو اور دوسرا رقعہ اب سے مہینے سوا مہینے جتنے دن پہلے کا چاہو لکھ دو کہ مجھ کو اتنے روپے کی ضرورت ہے جہاں سے بن پڑے بندوبست کر دو۔
بس اللہ اللہ خیر صلا اور چین سے پیر پھیلا کر سو رہو۔ سنکھیا کے رقعے کا مضمون سن کر تو مبتلا کی عقل دنگ رہ گئی اور سمجھا کہ ناظر بھی بڑا زہر کا بجھا ہوا ہے۔ دیکھو تو مغز سے کیا بات اتاری ہے۔ ایسے شخص سے مقابلہ کو عدالت کیسے جا سکتا ہوں۔ میرا بچاؤ تو اسی میں ہے کہ جو یہ کہے اس میں ذرا کان نہ ہلاؤں غرض اسی وقت دونوں رقعے لکھ ناظر کے ہاتھ دیئے اور پوچھا کہ بھلا صاحب اب صبح کوتوال صاحب آئیں تو کیا کرنا ہو گا؟ناظر نے کہا کہ اب بندہ درگاہ کے رہتے کوتوال صاحب کیا آتے ہیں، اب آمد ان کی برخاست اور اگر آئے بھی تو کوتوال بن کر نہیں نڈھال بدحال سراپا اضمحلال بن کر۔
مبتلا:کیوں صاحب جیسا اس کی باتوں سے معلوم ہوتا تھا اگر اس نے انگریز کو جو کوتوالی کا افسر ہے لاکھڑا کیا؟
ناظر: وہ سب بھی دیکھ لیں گے۔ باوجود یکہ ابھی جھٹ پٹا تھا ناظر فوراً سوار ہو سیدھا کوتوال کے پاس پہنچا۔ کوتوال سمجھا کہ ایسے وقت آئے ہیں تو معلوم ہوتا ہے ضرور کچھ نہ کچھ بوہنی کرائیں گے۔ دور سے ہنس کر بولا آئیے آج تو سویرے ہی سویرے اچھے سخی کے درشن ہوئے ہیں میں تو آپ کے یہاں آنے کو وردی پہن کر تیار لیس بیٹھا ہوں۔
صاحب سپرنٹنڈنٹ سے سات بجے کا وعدہ ہے۔
ناظر: کیا تیار بیٹھے ہو وہاں تو رات بڑا غضب ہو گیا۔
کوتوال: کیا کوئی اور صاحب سنکھیا کھا کر شہید ہوئے۔
ناظر: نہیں سنکھیا نہیں مگر آپ تو جانتے ہیں مبتلا بھائی کے گھر میں جو وہ دوسری عورت ہے پورے دنوں سے تھی کل نہیں معلوم آپ کے سپاہیوں نے اس کو کیا کیا ڈرایا دھمکایا طبیعت تو اس کی آپ کے رہتے ہی بگڑ چلی تھی، آپ ادھر آئے شاید کوتوالی بھی نہ پہنچ سکے ہوں گے کہ اس کا حمل ساقط ہو گیا۔
ساری رات اسی کے تردد میں پلک نہ جھپکی خیرحمل تو حمل اب اسی کی جان کے لالے پڑے ہیں۔ دیکھئے وہ بھی بچتی ہے یا نہیں۔ مبتلا بھائی کو اس عورت کے ساتھ اس درجہ کا تعشق ہے کہ جس وقت سے یہ واردات ہوئی ہے۔ سارے گھر میں بولائے بولائے پڑے پھر رہے ہیں۔ وہ تو ڈاکٹر چنبیلی کو بلاتے تھے۔ میں نے بہ ہزار مشکل روکا کہ دوسرے کے کان پڑی ہوئی بات پھر اپنے قابو کی نہیں رہتی۔
ایک چھوڑ دو دو دائیاں بلوا دی ہیں بارے اب کہیں جا کر کسی قدر طبیعت سنبھلی تو میں آپ کے پاس بھاگا ہوا آیا میں تو رقعہ لکھنے کو تھا پھر خیال آیا کہ خدا جانے کس کے ہاتھ پڑے۔ آپ چل کر کہنا چاہیے یہ سننا تھا کہ کوتوال کو کاٹو تو بدن میں لہو کی بوند نہیں۔ گڑگڑا کر بولا: آپ کے یہاں ہم تابعداروں کی مجال ہے کہ ڈرائیں دھمکائیں یا کوئی خلاف قاعدہ کارروائی کریں۔ آپ جس وقت تشریف لائے ہیں۔ آپ نے بھی دیکھا ہو گا کہ مردانے میں صرف دو ہی کانسٹیبل میرے ساتھ تھے اور وہ دونوں بے چارے الگ اصطبل کے پاس کھڑے تھے۔ میں نے آپ کے آدمی وفادار کے ہاتھ ماماؤں اور لونڈیوں کو بلا بلا کر ہولے سے دو دو باتیں پوچھ لیں۔
اصل حقیقت تو یہ ہے کہ اور ہم نے تو جس دن پولیس میں نام لکھوایا۔ اسی دن سمجھ لیا تھا کہ ایک نہ ایک دن ضرور قید ہوں گے۔ یہ ایسی تیسی نوکری ہی اس قسم کی ہے کہ کوئلوں کی دکانداری کی بے کالا منہ ہوئے نہیں رہتا۔ بڑوں کا کہا اور آنولے کا کھایا پیچھے مزہ دیتا ہے۔ لالہ جی بہتیرا سر پٹکتے رہے کہ ہم کو سپاہیوں کا بھیس سزا وار نہیں۔ اس وقت ان کی بات کچھ دھیان میں نہ آئی سو اپنے کیے کی سزا پائی۔
ناظر: یہ میں خوب جانتا ہوں کہ آپ نے بے جا کارروائی نہیں کی ہو گی۔ آدمی کا حال پوچھا نہیں رہتا۔ سارا شہر آپ کا مداح ہے اور اگر آپ احتیاط نہ کرتے تو کوتوالی کا چلنا بھی محال تھا خصوصاً صاحب مجسٹریٹ حال کے وقت میں مگر عورتیں تو جیسی ڈرپوک اور کچے دل کی ہوتی ہیں آپ خوب جانتے ہیں آپ کا ہی آنا سن کر ان کے تو ہاتھ پاؤں پھول گئے ہوں گے اور پھر کسی سپاہی نے کوئی ایک آدھ بات بھی کہہ دی ہو گی۔
حالت تو نازک تھی ہی اونگھتے کو ٹھیلتے کا بہانہ ہو گیا۔ چھوٹے گھر میں تو خیر ایک واردات بھی ہوئی تھی کہ جانور مرے، ماما کو دست آئے۔ فرینی میں سنکھیا نکلی۔ بڑا گھر جس کو واردات سے کچھ بھی تعلق نہیں، وہاں کیا حال تھا۔ جاکر دیکھتا ہوں تو چولہا تک نہیں سلگا۔ وہ تو جب میں نے سمجھایا کہ یہ کیا اس سے بڑی بڑی اتفاقی اور ناگہانی وارداتیں ہو جاتی ہیں اور آخر کار مقدمہ داخل دفتر، تب سب کو تسلی ہوئی:
کوتوال: اتفاقی کیسی؟ تب ناظر نے مبتلا کا رقعہ دیا کہ وہ خونی دروازے میں جو ایک شخص نے اپنی آشنا کو دھتورا کھلا کر مار ڈالا تھا اور شاید آپ ہی نے اس مقدمہ کی بھی تحقیقات کی تھی کل اس کی پیشی تھی اور میں مدعاعلیہ کا وکیل تھا۔
آپ کے اسسٹنٹ سپرنٹنڈنٹ بھی سرکار کی طرف سے پیروی کے لیے موجود تھے۔ بڑے بڑے مباحثے رہے۔ آخر ساڑھے چار بجتے بجتے مدعاعلیہ کی رہائی ہوئی تو یہ رقعہ مجھ کو عین اجلاس پر ملا تھا اور اسی کو دیکھ کر میں کچہری سے سیدھا وہیں چلا گیا۔ کوتوال نے رقعہ پڑھا تو مقدمہ کی طرف سے بھی اس کی آس ٹوٹ گئی۔ کمر سے کرچ کھول ناظر کے پیروں میں رکھ دی کہ نوکری تو یہ حاضر ہے۔
خدا واسطے کو ایک اتنا سلوک کیجیے کہ عزت پر ہاتھ نہ ڈالیے۔ ناظر نے بہت تسلی کی کہ بھلا اتنا تو سمجھے کہ اگر میرے دل میں کچھ فساد ہوتا تو میں اس سویرے اندھیرے منہ آپ کے پاس دوڑا ہوا کیوں آتا۔ خیر جو کچھ ہونا تھا سو ہوا۔ میں جس طرح بن پڑے گا۔ مبتلا بھائی کو سمجھا لوں گا۔ جب سے انہوں نے دوسری عورت کر لی ہے ذرا تنگ دست رہتے ہیں۔ یہیں کہ دوا درمن کا خرچ اور اوپر سے سو دو سو روپیہ اور ان کو دے دیا جائے گا اور ہاں سنکھیا کے مقدمے میں آپ کو کچھ زیادہ چھیڑ چھاڑ نہ کیجیے گا اس میں کچھ ہونا ہوا نا بھی نہیں۔
ناظر چلنے لگا تو کوتوال نے کہا پھر اس کرچ کو تو آپ اپنے ہاتھ سے باندھ دیں گے تو میں کمر سے لگا لوں گا ورنہ جہاں پڑی ہے پڑی رہے گی۔
ناظر نے جلدی سے کرچ اٹھا بسم اللہ کر کے کوتوال کی کمر سے باندھی گویا اپنی طرف سے کوتوالی دی۔ کوتوال نے کہا: بس اب ہاتھ پکڑنے کی لاج آپ کو کرنی ہو گی۔ صاحب سپرنٹنڈنٹ کو وہاں ایک اور ضرورت پیش آگئی کہ کسی انگریز کے یہاں سوڈا واٹر کی ایک دو بھی نہیں، اکٹھی آدھی درجن بوتلیں چوری ہو گئیں۔
صاحب نے چٹھی لکھی اور سپرنٹنڈنٹ صاحب اس کی تحقیقات کو بھاگ گئے۔ کوتوال سے کہلا بھیجا کہ ہمارا آنا نہیں ہو سکتا پھر کوئی پندرہ بیس دن بعد خود سپرنٹنڈنٹ صاحب ہی کو خیال آیا تو پوچھا کیوں کوتوال صاحب وہ کسی وکیل صاحب کے یہاں کی زہرخورانی کا آپ نے تذکرہ کیا تھا اس کا کیا ہوا۔ کوتوال نے کہا حضور فدوی نے تو اگلے ہی دن 3022 نمبر کا روزنامچہ خاص بھیج دیا تھا کہ واردات اتفاقی ہے۔
بات رفت و گزشت ہوئی۔ دوچار دن تو مبتلا کو کھٹکا رہا پھر اس نے دیکھا کہ کوتوالی والوں میں سے کسی نے آکر بھی نہ جھانکا تو اس کو یقین ہوا کہ ناظر کو حکام کے مزاج میں کچھ اس طرح کا دخل ہے کہ آج جو چاہے سو کر گزرے، ناظر نے اس مقدمے میں اچھا ہاتھ مارا۔ ہزار روپے تو چپکے سے اس نے وہ اگلوائے جو خاتون کٹنی غیرت بیگم بہکا پھسلا کر لے اڑی تھی اور رقعے کے بدلے مبتلا سے اس کے حصے کی دکانوں کا قطعی بیع نامہ اپنے نام لکھوا لیا اور پھر سب میں سرخرو۔
اب بے چارے مبتلا کے پاس پینسٹھ روپے ماہوار کی جگہ صرف ستائیس روپے مہینے کی نری تنخواہیں رہ گئیں۔ وہ کس طرح کی کہ کوئی چھٹے مہینے آدھی پاؤ وصول ہوئی تو کوئی برس بعد اور کوئی مار میں بھی آگئی اور غیرت بیگم کی یہ تاکید کہ بھلا کوئی ایک لوٹا پانی تو اس کے گھر میں سے مبتلا کو دے کر دیکھے۔ غیرت بیگم کے یہاں پہلے ہی مبتلا کی کون سی قدر کی جاتی تھی، اب جس دن سے یہ معاملے مقدمے کھڑے ہوئے۔
رہا سہا اور بھی نظروں سے گر گیا۔ پہلے بے رخی تھی، رفتہ رفتہ بدمزاجی ہوئی۔ بدمزاجی سے بددماغی کی نوبت پہنچ گئی بلکہ طرز مدارات سے ایسا معلوم ہونے لگا کہ سید حاضر نے جو ایک دن بیچ کے آنے کا معمول باندھ دیا تھا۔ اب مبتلا کا اتنا آنا بھی گوارا نہیں، غیرت بیگم کو مبتلا سے بات چیت کیے ہوئے برسوں گزر گئے تھے لونڈیاں مامائیں میاں کا اتنا لحاظ کرتی تھیں کہ باری کے دن بچھونا صاف کر دیا۔
جب تک گھر میں بیٹھے حقے کی خبر رکھی۔ کھانے کو پوچھ لیا اور اب مقدموں کے بعد سے تو ان باتوں میں بھی مضائقہ ہونے لگا۔ مبتلا لاکھ گیا گزرا تھا مگر آخر تھا تو صاحب خانہ، یہ بے توقیری دیکھ کر وہ بڑے گھر کی باری کو تپ ولرزہ کی باری سے کم نہیں سمجھتا تھا مگر حاضر ناظر سے اس قدر ڈرتا تھا جیسا مردہ نکیرین سے۔ ناخواستہ دل آتا اور برخاستہ خاطر رہتا۔
ایسی ایسی سنگین وارداتیں گھر میں ہو جائیں اور کسی کی نکسیر تک نہ پھوٹے، غیرت بیگم اور بھی بے محابا ہو کر لگی بادل کی طرح گرجنے اور بجلی کی طرح کڑکنے۔ سقہ اور دھوبی اور حلال خور وغیرہ جتنے اہل خدمت تھے۔ ان تک کی بندی ہو گئی کہ چھوٹے گھر کا کام نہ کرنے پائیں۔ ناچار گلی کی طرف کا قدیم دروازہ جو مدتوں سے بند تھا تیغا توڑ کر کھولا تب کام چلا۔
ما الذي تركه هذا الفصل فيك؟
سجّل الدخول للتفاعل
النقاش
لم يتكلم أحد بعد. قل ما حرّكه هذا الفصل فيك.