
الفصل 25 من 31
Ghairat Begum's Revenge on Hariyali, Part 1: The Poisoned Milk
تئیسواں باب: حاملہ ہریالی سے غیرت بیگم کا انتقام (حصہ اول)
اتفاق سے ہریالی پڑی بیمار شاموں شام سر دھویا، سردی کھائی، زکام ہوا، بخار آنے لگا۔ چند روز کچھ دھیان نہ کیا۔ بخار تھا کہ لمبا ہو گیا۔ بلکہ ذرا ذرا کھانسی کی بھی دھسک شروع ہو گئی۔ معمولی طور پر حکیموں کے علاج کیے، لیکن بخار ہے کہ جنبش نہیں کھاتا، کھانسی کو اتنا آرام ہوا سمجھو سوکھی سے تر ہو گئی ایک دن بلغم میں کچھ سرخی کی جھلک دکھائی دی تو تردد ہوا اور تردد کی بات ہی تھی خیال کیا کہ پان کی سرخی ہو گی مگر پھر ثابت ہوا کہ نہیں خون کی ہے۔
تب تو مبتلا گھبرایا، غیرت بیگم کے ہاتھوں سے تو ایسی ایسی ایذائیں پہنچی تھیں کہ اس کے نام سے اس کا دل بے زار تھا۔
اس کو تھوڑی یا بہت جو کچھ دل بستگی تھی ہریالی کے ساتھ تھی۔ اب جو اس کو خون تھوکتے دیکھا۔ قریب تھا کہ سودائی ہو جائے شبہ تو تھی کئی دنوں سے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہیں غیرت بیگم نے کچھ کر کرا دیا ہو۔ کھانسی کے ساتھ خون کا آنا تھا کہ یقین کیسا حق الیقین ہو گیا کہ غیرت بیگم نے پون بٹھائی۔
خدانخواستہ ایسا تو پرانا بخار بھی نہیں کہ سل ہونے کا اندیشہ ہو، ڈھونڈھ ڈھونڈھ کر سیانے اور بھگت بلائے! آئے سب نے اپنے اپنے جادو چلائے مگر کم بخت پون کی کچھ اصل جادو کی کچھ حقیقت ہو تو روگ میں کمی، مرض میں خفت ہو۔ خبط کے جادو، وہم کی پون اس کو اتارے کون، ہریالی کا حال بہت پتلا چلا، آخر کسی نے صلاح دی کہ سب کچھ تو کر چکے۔ ذرا ڈاکٹر چنبیلی کو بھی تو ایک نظر دکھاؤ۔
چنبیلی کا نام اصل میں مس بیلی تھا۔ ولایت سے نئی آئی تھی کہ اس نے نواب اقتدار الدولہ بہادر کے محل میں ایک بڑے معرکے کا علاج کیا۔ تب ہی سے شہر میں بڑی شہرت ہوئی ۔ نواب صاحب کی محل سرا میں اس کو چنبیلی پکارتے تھے۔ وہاں کی سنی سنائی اور لوگ بھی چنبیلی کہنے لگے۔ دایہ گری کے فن میں نہایت تجربہ کار اور مشتاق تھی اور خود مبتلا کے گھر میں معصوم اور بتول دونوں کے ہونے میں بلائی گئی تھی۔
ہریالی اور ہریالی کے تیمار دار کسی کے ذہن میں بھی نہیں بات آئی تھی کہ ہریالی کی حالت ڈاکٹر چنبیلی کے علاج کی متقاضی ہے۔
ڈاکٹر چنبیلی کو جب بلایا گیا، تو غیرت بیگم سمجھ کر معرفت سابقہ کے لحاظ سے بلاعذر بڑی خوشی کے ساتھ فوراً چلی آئی۔ اس کو یہاں آکر معلوم ہوا کہ مبتلا نے دوسری بی بی کی ہے۔ اس نے بیمار کو دیکھا تو سہی مگر مبتلا سے کہا کہ مجھ سے اور غیرت بیگم سے دوستی یا بہناپا تو نہیں ہے۔
پرتم کو پتہ ہے کہ ان کے دو بچے ہونے میں، میں نے ان کی خبرگیری کی ہے تو تمہاری اس بی بی کا علاج کرنے کو میرا جی نہیں چاہتا۔ اس کو میں خلافِ مروت سمجھتی ہوں اور میرے علاج کی چنداں ضرورت بھی نہیں۔ جس حکیم کا علاج کرتے ہو ان کو صرف اتنا اشارہ کر دینا کہ دو جانوں کی رعایت سے علاج کریں اتنا کہہ کر ڈاکٹر غیرت بیگم کی طرف گئی۔ معصوم اور بتول دونوں کو گود میں لے کر پیار کیا۔
پھر غیرت بیگم سے بولی کہ اگر میں دوسرے گھر میں نہ بلائی گئی ہوتی تو میں تم سے پوچھتی کہ اس قدر دبلی کیوں ہو۔ ہم لوگوں میں مرد دوسری بی بی نہیں کر سکتے اور مرد اور عورت دونوں کے حقوق کو تولا جائے تو شاید عورت ہی کا پلہ جھکتا ہوا رہے گا۔ پھر بھی مرد اور عورت کا تعلق اس قسم کا ہے کہ بیاہ ہو جانے سے عورت مرد کے بس میں آجاتی ہے۔ یہی سمجھ کر میں نے اپنا بیاہ نہیں کیا اور کرنے کا ارادہ بھی نہیں میں تمہاری حالت پر افسوس کرتی ہوں اور اس سے زیادہ افسوس اس مجبوری کا ہے کہ مدد کرنے کی جگہ نہیں۔
لیکن کبھی اگر میرا کام آ پڑے تو ضرور مجھ کو یاد کرنا۔ غیرت بیگم نے اگرچہ دیہات میں پرورش پائی تھی۔ پر وہ اتنی بھی تو بے تمیز نہیں تھی کہ چنبیلی کے آنے کا اس کی محبت کا، مروت کا، ہمدردی کا شکریہ ادا نہ کرتی، مگر سوکن کے جھگڑے میں اس کو کسی چیز کی سدھ نہ تھی۔ چنبیلی اس سے بات کر رہی تھی اور یہ اس فکر میں تھی کہ کب چپ کرے اور میں سوکن کا حال پوچھوں، غرض غیرت بیگم نے چھوٹتے ہی پوچھا کہ کہو کیا دیکھا۔
چنبیلی بولی حکیم کو دھوکا ہوا۔ اس نے پہچانا نہیں کہ یہ عورت چار مہینے ہوئے دوجی سے بیٹھی ہے، میں نے تمہارے میاں کو جتا تو دیا ہے۔ اب بھی اگر سمجھ بوجھ کر علاج ہو گا۔ تو بچے کو تو میں نہیں کہہ سکتی کیونکہ ادھر تو ہوئے جلاب اور ادھر بخار کی وجہ سے ملیں اوپر تلے ٹھنڈی ٹھنڈی دوائیں۔ بچے کو سردی نے پکڑ لیا۔ مگر احتیاط کی وجہ تو میرے نزدیک یہ ہے کہ بچے والی کو ابھی تک کچھ بڑی الجھن نہیں ہے۔
اس لیے کہتے ہیں کہ آدمی فربہ شود ازراہ گوش۔ یہ بات دوسری طرف ہریالی نے جو سنی تو اس کے دل کو اس قدر تقویت پہنچی کہ کیسی دوا اور کس کا علاج گھڑیوں اس کا مزاج خود بخود ٹھیک ہوتا گیا۔
یہاں تک کہ یا تو آپ سے کروٹ نہیں بدل سکتی تھی یا ایک ہی ہفتے میں چلنے پھرنے لگی۔ یہ تو اٹھ کھڑی ہوئی لیکن اس کی جگہ غیرت بیگم پڑی، غیرت بیگم کا سارا غرور، سارا گھمنڈ، سارا ناز اولاد کے برتے پر تھا۔
اب جو اس نے دیکھا کہ سوکن نے اس میں ساجھا لڑایا تو حقیقت میں اس کی کمر ٹوٹ گئی اور سمجھی کہ بس اب ہریالی کے مقابلہ میں نہیں پنپتی۔ اس کو اس بات کی بڑی تسلی تھی کہ ہریالی لاکھ میاں کی پیاری کیوں نہ ہو۔ آخر ہے تو بے اولاد نہ کوئی نام کا لینے والا نہ پانی کا دینے والا۔ جتنا اس کی تقدیر میں ہے اوڑھ پہن لے، جس قدر اس کے نصیب کا ہے اور کھا لے۔
پھر میں ہوں تو میں اور نہیں تو اللہ رکھے اور پروان چڑھائے میری اولاد۔ اس خیال سے کبھی اس نے سوکن کو سوکن مانا ہی نہیں اب البتہ اس کو سوکن کی حقیقت کھلی اور آدھی اور ساری کا سوچ پیدا ہوا۔ چنبیلی کوئی دو تین گھڑی دن چڑھتے چڑھتے آئی تھی۔ اس کے گئے پیچھے سے جو غیرت بیگم گھٹنوں میں سر دے کر بیٹھی تو دوپہر ڈھلتے ڈھل گئی۔ مگر اللہ کی بندی نے گردن اونچی نہ کی۔
دو تین بار کھانے کی اطلاع ہوئی مگر اس نے یہی کہہ دیا کہ مجھے بھوک نہیں۔ اس کے گھر میں ایک بہت پرانی نوکر تھی، خاتون وہ گھر کی داروغہ تو نہ تھی مگر کبرسنی اور قدیم الخدمتی اور ہوشیاری اور سلیقے کی وجہ سے گھر کے نوکروں میں سب سے سربر آوردہ تھی۔ غیرت بیگم کو اس سے مانوس ہونے کا ایک سبب خاص یہ بھی تھا کہ جس طرح مبتلا نے غیرت بیگم پر سوکن کی۔
اسی طرح خاتون پر بھی اس کے میاں نے سوکن کی تھی۔ غیرت بیگم کا تو ایسی باتوں میں بہت جی لگتا تھا۔ خاتون گھڑیوں اپنی سوکن کی باتیں کرتی اور غیرت بیگم کرید کرید کر پوچھتی اور ایک ایک بات کو بار بار کہلواتی۔ پس خاتون نوکر کی نوکر تھی۔ قصہ خواں کی قصہ خواں اور بیوی کی ہمدرد۔ جب خاتون نے دیکھا کہ جس گھڑی سے چنبیلی آئی بیوی کچھ ایسی سوچ میں گئی ہیں کہ پان تک نہیں کھایا۔
کھانے کا وقت بھی ٹل گیا۔ تو اس نے قریب جا کر پوچھا کہ بیوی جو تم اس قدر اداس بیٹھی ہو اس کا کیا سبب ہے، غیرت بیگم۔ تم نے نہیں سنا کہ بے غیرت کے یہاں بال بچہ ہونے والا ہے۔
خاتون: ابھی اس نے کیا اٹھا رکھا ہے۔ بال بچہ ہونے والا ہوتا تو حکیم کیا ایسے اندھے ہیں۔ جلابوں پر جلاب کیوں دیتے۔
غیرت بیگم: حکیموں کو دھوکا ہوا۔ انہوں نے جانا ٹھنڈی ٹھنڈی دوائیاں دی جا رہی ہیں تو بھلی ہو جائے گی کہ پیٹ میں بادی بھر گئی ہے۔
اب چنبیلی نے دیکھا تو بتایا۔ کیوں خاتون بی میں تو سنتی رہی تھی، کنچنیوں کے اولاد نہیں ہوتی؟ کیا میری ہی تقدیر پر ایسے پتھر پڑے تھے کہ مجھ پر کنچنی بھی آتی تو آتے دیر نہ ہو اور ماں بن جائے۔
خاتون: نہیں بی بی کون کہتا ہے کہ کنچنیوں کے اولاد نہیں ہوتی؟ ہوتی ہے اور نہیں بھی ہوتی۔ کیا تم بھول گئیں میری سوکن کون تھی اصل نسل کی کنچنی جب میرا میاں اس کو لایا تو خدا جانے نامرادیں مردوں کی آنکھوں میں کیا ٹپکی ڈال دیتی ہیں۔
وہ جانتا تھا کہ سترہ اٹھارہ برس کی لڑکی ہے۔ پیچھے معلوم ہوا کہ چار کی ماں تو وہ اس وقت تھی اور ہمارے یہاں تو بیوی پانچ برس وہ زندہ رہی۔ میری اتنی روک ٹوک پر بھی سات یا آٹھ دفعہ اس نے تیاری کی مگر واہ ری چنیا۔ دائی ہو تو ایسی ہو کبھی چوتھا نہ لگنے دیا۔
غیرت بیگم: وہ چنیا اب ہے۔
خاتون: مدتیں ہوئیں مرکھپ گئی۔ ستر پچھتر برس کی تو وہ میری سوکن کے وقت میں تھی۔
غیرت بیگم: پھر خاتون کوئی ویسی ہی تدبیر یہاں نہیں کرتیں۔
خاتون: بیوی تمہاری یہاں افتاد دوسرے طور کی ہے ہم تو غریب آدمی ہیں۔ اب بھی ہیں اور تب بھی تھے۔ میاں سات روپے مہینے پر ایک عطار کی دکان پر بیٹھتا تھا سامنے تھا اس بیسوا کا کوٹھا۔ آدمی تھا وہ بھی طرح دار، یہ نامراد اس کے سر ہوئی میں تو بارہ آنے مہینے کرائے پر دینا بیگ خاں کے کٹڑے میں رہتی تھی۔
ذرا سا مکان میرے اکیلے دم کا اس میں گزر ہوتا تھا۔ سوکن صاحب جو آئیں بس میری گود میں بیٹھیں، مرد واکم بخت اس طرح کا ظالم کہ گالی دے بیٹھا۔ اس کے آگے ایک ایک بات اور بات بات میں مکا اور لات اگر وہ کبھی مجھ کو اور سوکن کو آپس میں لڑتے دیکھ پائے تو دونوں کے ڈنڈے لگائے سو بیوی اپنی عزت اپنے ہاتھ۔
میں نے تو چوں نہیں کی اور ظاہر میں سوکن سے ایسی گھلی ملی رہی جیسے سگی بہن پر دل سے تو میری جان کی دشمن تھی اور میں اس کی۔
ایک جگہ کے رہنے سہنے اور ظاہر کے میل ملاپ سے ایک یہ فائدہ تو تھا کہ میں جو چاہتی سو کر گزرتی تھی اس کو یا مردوے کو شبہ نہیں ہونے پاتا تھا۔ تمہارے یہاں بیوی اول دن سے کھلم کھلا بگاڑ پڑے ہوئے ہیں۔ ایسی جگہ کوئی تدبیر چلنی ذرا مشکل ہے۔ نہیں تو کیا بڑی بات ہے چنیا نہیں، چنیا کی بہنیں اور بہتیری اور دائی کا بھی اس میں کیا کام۔ ایک سے ایک دوا مجھ کو ایسی معلوم ہے کہ چٹکی بچاتے میں کھڑا کھٹکا نہ کھائے۔
غیرت بیگم: اے ہے اچھی میری خاتون ایسی کوئی دوا ہے تو ضرور مجھ کو بتاؤ۔
خاتون: دوائیں تو بہت پرکاڑھے ہیں پینے کے، کچھ لیپ ہیں لگانے کے۔ آج کو یہاں دوا بنتی چھنتی ہوئی تو کچھ بھی مشکل نہ تھا۔ دوا تو بناتے ہیں اپنے ہاتھوں سے۔ میاں کوئی کرے تو کیا کرے۔
غیرت بیگم: پھر تم ہی کچھ تدبیر نکالو گی تو نکلے گی ورنہ میں تو اپنی جان پر کھیلے بیٹھی ہوں اور یہی بات اس وقت میں سوچ بھی رہی تھی خدا مجھے تو اس دن کے واسطے نہ رکھے ہائے کن آنکھوں سے دیکھوں گی کہ اس کے بچے کھیلتے پھریں اور کن کانوں سے سنوں گی کہ اماں پکاری جائے۔
تم سے کچھ ہو سکتا ہے تو کرو نہیں تو تم اکیلی کیا، دنیا دیکھ لے گی کہ جلا ہوا دل بہت برا ہوتا ہے اور کسی پر زور نہیں چلتا مگر اپنی جان تو بس کی ہے، جان جائے بھی تو مجھ جیسی کی بلا سے، غیرت میرا نام ہے، نام کے پیچھے جان دوں تو سہی۔
خاتون: بیوی خدا کے واسطے تم ایسی ایسی باتیں میرے سامنے تو کرو مت سن سن کر میرے تو ہوش اڑے جاتے ہیں۔ جان سی چیز کہاں پائیے تم اپنے ننھے منے بچوں کا منہ کرو، خدا تمہاری سلامتی میں ان کو پروان چڑھائے۔
الٰہی تم کو ان کی بہاریں دیکھنی نصیب اور قربان کی وہ نامراد سوکن۔ خدا چاہے گا تو وہی نہ رہے گی۔ ہراساں ہو تمہاری بلا اور غم کرے تمہاری پاپوش۔ جب خدا نہ کرے کہ تمہاری ہی جان پر آبنے گی تو ہم پندرہ بیس بندے جو تمہاری جوتیوں سے لگے ہیں تو کیا منہ دیکھنے کے واسطے ہیں۔ پہلے ہم سب تم پر سے تصدق ہو لیں گے تب جو بات سو بات۔ پر بیوی جو بات تم چاہتی ہو جان جوکھوں کا کام ہے۔
پہلے اپنی جان سے ہاتھ دھو لو تو اس کا بیڑا اٹھائے۔ پھر اس کو چاہیے دل کا پکا پیٹ کا گہرا بھروسہ کا پورا کہ خدانخواستہ کل کلاں کو کچھ ایسی ویسی ہو تو اپنے اوپر جھیل لی جائے اور مالک کو بال بال بچائے۔ سو تمہارے گھر میں تو میں اس ڈھب کا کسی کو نہیں پاتی۔ چھوکریاں ہیں چھچھوری کہ آدھی بات سن پائیں تو ایک ایک کی چار چار دل سے بنائیں اور سارے محلے میں دھوم مچائیں۔
رہ گئیں مامائیں، نوکریں تو ہر کسی سے کہتے جی لرزتا ہے اور مجھ اکیلی سے سارا سرانجام ہو نہیں سکتا۔ ایک میرا بھانجا ہے جو میرے میاں کی جگہ عطار کی دکان پر نوکر ہے۔ اگر وہ گنٹھ جائے تو سارے کام آسان ہیں۔ میں اس سے ذکر کروں گی پر بیوی تم اپنی جگہ پر سمجھ لو۔ میری تو اگر جان بھی تمہارے کام آجائے تو دریغ نہیں۔ میں نے تمہارا نمک کھایا ہے اور میں اب دنیا میں جی کر بھی کیا کروں گی بہتیرا جی چکی پر میرا بھانجا بال بچے دار آدمی ہے۔
عمر بھی اس کی کچھ ایسی بہت نہیں۔ اس کو تو کچھ ایسا ہی بھاری لالچ دیا جائے گا تو شاید وہ اس کام میں ہاتھ ڈالے۔
غیرت بیگم: مجھ کو تو اگر کوئی کھڑا کر کے بیچ لے تو بھی عذر نہیں کسی طرح اس عذاب سے چھٹکارا ہو۔ خاتون بیوی دیکھو خبردار میں تمہارے آگے ہاتھ جوڑتی ہوں کسی کو کانوں کان خبر نہ ہو نہیں تو سارے گھر پر آفت آجائے گی۔
غیرت بیگم: خیرخیر مناؤ تم نے کیا مجھ کو ایسا نادان سمجھ رکھا ہے۔
میں خوب سمجھتی ہوں کہ بڑے اندیشے کی بات ہے مجھ کو اپنے دونوں بچوں کی جان کی قسم کیا مجال کہ منہ تک بات آجائے۔
خاتون تو بس بات کو اپنے ہی تک رہنے دو۔ جب سب ٹھیک ٹھاک ہو جائے گا تو میں تم کو خبر کر دوں گی اور میں تم کو یہی صلاح دیتی ہوں کہ مل جاؤ کیونکہ ملاپ میں خوب کام نکلتا ہے۔ مگر ملو نہیں تو یہ ہر وقت کا جھگڑا بکھیڑا تو موقوف کر دو۔
ورنہ کرے گا کالا چور اور پکڑے جائیں گے تمہارے دشمن برا چاہنے والے۔ خاتون کے سمجھانے بجھانے سے غیرت بیگم نے باوجود یہ کہ ناوقت ہو گیا تھا منگوا کر کھانا کھایا اور جو سارے سارے دن ہریالی کا جھگڑا لگا رہتا تھا۔ وہ بھی بند ہوا۔ آدمی لاکھ چھپائے پر دل کی کپٹ بے ظاہر ہوئے بغیر نہیں رہتی لوگ جو چوری یا دوسرے جرموں کے مرتکب ہوتے ہیں اپنے پندار میں بڑی بڑی پیش بندیاں کرتے ہیں اور آخری کو وہی پیش بندیاں ان کو رسوا اور فضیحت کراتی ہیں یا تو تمام دن دونوں سوکنوں کی لڑائی کا ایک غل پڑا رہتا تھا۔
ایک دم سے ہوا سناٹا تو غیرت بیگم اور خاتون کے سوائے سبھی کو حیرت تھی کہ دلوں میں ایسی کیا نیکی خدا نے ڈالی کہ آپ سے آپ لڑتے لڑتے رک گئیں، باوجود یکہ خاتون نے سمجھا دیا تھا کہ جب سب ٹھیک ٹھاک ہو جائے گا تو میں تم کو خبر کر دوں گی مگر غیرت بیگم کو اتنا صبر کہاں تھا اس نے تو اگلے ہی دن سے خاتون کی جان کھانی شروع کر دی۔ کیوں بی اب ہو گیا۔
کیا دیر ہے۔ کاہے کا انتظار ہے۔ اے ہے کبھی ہو بھی چکے گا یا نہیں۔ بس اب خاک ہو گا۔ تم کو نہیں کرنا منظور تھا تو مجھ کو آس کیوں دی تھی۔ سخی سے سوم بھلا جو ترت دے جواب۔ آخر جب تقاضا حد سے گزر گیا تو ایک دن خاتون نے کہا کہ لو بی بی خدا نے مجھ کو تم سے سرخرو کیا۔ اب کہیں اتنے دنوں میں جاکر بڑی مشکل سے معاملہ طے ہوا میں تو سمجھتی تھی خدا جانے سرے سے حامی بھی بھرے یا نہ بھرے۔
مانگے تو دس ہزار مانگے پندرہ ہزار مانگے پر ماشاء اللہ قسمت تمہاری بڑی زبردست ہے۔ سستا چک گیا ایک ہزار فی الفور اور جو خدا نہ کرے کہیں وہ لڑکا زیادہ کھل کھلا پڑے تو دو ہزار۔ غیرت بیگم تو کہہ ہی چکی تھی کہ اگر مجھ کو کوئی کھڑا کر کے بیچ ڈالے تو بھی عذر نہیں۔ سننے کے ساتھ لگی ہاتھوں سے سونے کے ٹھوس کڑوں کی جوڑی اتارنے کہ اتنے میں خاتون بولی کہ بیوی کڑے مت دو۔
میرا جی بھی کڑھتا ہے ننگے ہاتھ بُرے لگیں گے اور لوگوں میں بھی پرچول پڑے گی بلکہ جتنا گہنا تم پہنے رہتی ہو اس میں سے کچھ بھی مت دو۔ غرض جس طرح خاتون کہتی گئی کچھ نقد وجنس ملا کر ہزار پورے کر اس کے لیے باندھے۔ ہزار نقد اور ہزار ادھار کے لے کر خاتون نے یہ کار نمایاں کیا کہ چوہوں کے بہانے سے تھوڑی سی سنکھیا بھانجے سے مانگ لائی۔ دونوں گھروں میں دودھ کا راتب بندھا ہوا تھا۔
گھوسن بڑے سویرے آتی اور سب سے پہلے یہیں کا راتب لاتی۔ خاتون اندھیرے منہ اٹھ مردانے میں جا بیٹھی، جوں ہی گھوسن نے پاؤں اندر رکھا کہ خاتون نے اس سے لڑنا شروع کیا کہ ساری دنیا میں حلوائی ہوئے گھوسی ہوئے دودھ میں پانی ملاتے ہیں۔ یہ کہیں سے بے چاری انوکھی گھوسن نکلی کہ پانی میں دودھ ملا کر لاتی ہے۔ پرسوں کھیر پکی کسی نے منہ پر نہیں رکھی کل جوں چاہا کہ سویوں میں ڈالیں نیلا نیلا سوت پانی۔ ہر روز بیوی کو ہم لوگوں پر خفا کرواتی ہے لاتیری ہنڈیا بیوی کو لے جا کر دکھاؤں تب تو انہیں یقین آئے گا۔
غرض زبردستی گھوسن کے ہاتھ سے ہنڈیا چھین ڈیوڑھی میں لے گھسی اور سنکھیا کی پڑیا دودھ میں گھول ہنڈیا گھوسن کو پھیر دی کہ بیوی کہتی ہیں میرے پاس حرام کا پیسہ نہیں ہے جا دور ہو اب میرے گھر دودھ نہ لانا۔ برسوں کی لگی ہوئی گھوسن اور روزگار کا راتب اس طرح ملاوٹ کرتی تو اتنی مدت کیوں کر نبھتی۔ بے چاری کھسیانی ہو کر خاتون کا منہ دیکھنے لگی اور چھوٹے گھر کی ماما کو آواز دے بھری ہنڈیا اس کے حوالے کی کہ بڑی بی نے تو آج کئی برس کے بعد جواب دیا چھوٹی بی بی بھی اگر دوسری گھوسن لگالیں تو میری ہر روز صبح سویرے کی اتنی دور کی مشقت بچے۔
ہریالی نے دیکھا تو دودھ ہر روز جیسا گاڑھا اور چکنا اس کے جی میں آگیا کہ میاں کئی بار فرینی کی فرمائش بھی کر چکے ہیں۔ لاؤ آج قلفیاں جما دیں لہٰذا سارے کا سارا دودھ لے لیا۔
جب دودھ لے چکی۔ تب اس کو خیال آیا کہ آج تو بڑے گھر کی باری ہے۔ ماما سے کہا: دیکھنا تو کیا مجھ سے بھول ہوئی بڑے گھر کی باری کا خیال نہ رہا اور فرینی کے لیے اتنا سارا دودھ لے بیٹھی۔
اب کیا کروں۔ ماما نے کہا: مضائقہ کیا ہے۔ جاڑے کے دن ہیں اس وقت کی جمی ہوئی باسی قلفیاں تو کل تک ٹھنڈی اور بھی مزے کی ہوں گی۔ غرض فرینی پکا قلفیاں بھر الماری میں رکھ اوپر سے قفل لگا دیا۔ جن لوگوں کے بال بچے نہیں ہوتے جی بہلانے کو اکثر جانور پال لیا کرتے ہیں۔ ہریالی نے بھی طوطا اور مینا اور بلی اور کبوتر اور مرغیاں بہت سے جانور پال لیا کرتے ہیں۔
اچھا ایک پیالہ بھر کر فرینی ان جانوروں کے لیے الگ نکال کر تھوڑی ماما کے لیے دیگچی میں لگی چھوڑ دی تھی۔ دو سیر دودھ اور بمشکل پاؤ بھر چاول جبکہ برابر کی کھانڈ۔ فرینی کا ہے کوتھی اچھا خاصا کھویا کہنا چاہیے۔ جس نے پائی خوب مزے سے کھائی۔ دو گھنٹے نہیں گزرنے پائے تھے کہ سب سے پہلے میاں مٹھو شکار ہوئے، پھر تو باری باری سے اوپر سویر کوئی جلدی کوئی دیر، مینا سکڑی، بلی بانولی ہوئی، کبوتر چکرائے۔
مرغیاں اونگھنے لگیں۔ ماما مارے قے اور دستوں کے بدحواس ہو گئی۔ ڈولی میں لاد اس کے گھر پہنچوایا اس کا بیٹا تھانے میں نوکر تھا۔ سننے کے ساتھ بھاگا ہوا آیا۔ ماں کو دیکھا تو آدمی کو نہیں پہچانتی تھی۔ نیم جان کو اٹھا کر ہسپتال لے گیا۔ ڈاکٹر نے پچکاری سے پیٹ صاف کیا۔ پانی جو پیٹ میں سے نکلا تھوڑے سے میں کوئی دوا ڈال کر دیکھا تو سنکھیا تھی۔
آخر ڈاکٹر نے سوچ سوچ کر یہ کہا کہ ہم یہ نہیں بتا سکتے کہ اس نے کتنی سنکھیا کھائی اور ٹھیک کس وقت کھائی لیکن جس قدر اس کے پیٹ میں سے نکلی ہے۔ اگر اتنی بھی ہضم ہو کر خون میں مل گئی ہو گی تو قاعدے کی رو سے اس کو مرنا نہیں چاہیے غرض سنکھیا کا جو تریاق انگریزوں کے یہاں ہوتا ہو گا اوپر تلے دینا شروع کیا۔ اگلے دن صبح ہوتے ہوتے بیمار کی طبیعت کچھ سنبھلی۔
آخر لوٹ پیٹ کر کچھ اچھی تو ہوئی مگر کچھ ایسا روگ لگ گیا کہ جب تک زندہ رہی مارے دھڑکن کے بے چارہ کو ساری ساری رات بیٹھے گزر جاتی تھی۔ ادھر ہریالی کے یہاں جس جس جانور نے ذرا سی فیرنی کھائی سبھی کو تو موت آئی۔ ہریالی اپنے اس کنبے کے سوگ میں تھی کہ کوئی چار گھڑی دن رہتے رہتے تو کوتوالی کے لوگ مردانے میں آبھرے پکڑ دھکڑ ہونے لگی فیرینی کی قلفیاں اور مرے ہوئے جانوروں کی لاشیں تو کوتوالی والوں نے فوراً ہسپتال کو ڈاکٹر کے پاس چلتی کیں اور لگے اپنے دستور کے مطابق ایک ایک کو الگ الگ لے جا کر پوچھ گچھ کرنے، غرض چھ گھڑی رات کو توپ نہیں چلی تھی کہ کوتوالی والوں نے سارا مقدمہ مرتب کر لیا۔
ما الذي تركه هذا الفصل فيك؟
سجّل الدخول للتفاعل
النقاش
لم يتكلم أحد بعد. قل ما حرّكه هذا الفصل فيك.