
Chapter 23 of 31
The Co-Wife's Secret Comes Out
اکیسواں باب: سوکن کا راز فاش
معلوم نہیں مبتلا کو کب تک ہریالی کا اس نمط پر رکھنا منظور تھا کہ ایک دن گھر میں باہر سے اطلاع پہنچی کہ ایک بوڑھی عورت نوکری کی تلاش میں آئی ہے۔ اگر حکم ہوا اندر بھیج دیں۔ انتظام خانہ داری تو سب ہریالی کے ہاتھ میں تھا غیرت بیگم نے ہریالی سے پچھوایا۔
ہریالی کسی کوٹھڑی میں خدا جانے کس کام میں مصروف تھی۔ اس نے وہیں سے کہا کہ کیا مضائقہ۔ غرض وہ عورت اندر آکر سیدھی غیرت بیگم کے پاس جا بیٹھی اور لگی کہنے کہ میں تو ہریالی بیگم کے پاس آئی ہوں جن کو تمہارے میاں نکاح پڑھوا کر نکال لائے ہیں۔ مدت سے میں ان کے یہاں اوپر کے کام پر نوکر تھی۔ بیگم کو تو نکلے ہوئے تین مہینے ہونے کو آئے ہیں۔
میں ان کی خالہ کے پاس رہی۔
آج آٹھواں دن ہے کہ وہ بھی لکھنو سدھاریں۔ میں نے کہا چلو اگر بیگم پھر رکھ لیں تو میں ان کے مزاج سے واقف ہوں وہ مجھ کو جانتی پہچانتی ہیں۔ انجان جگہ تابعداری کرنی کیا ضرورت، کیا وہ اس گھر نہیں رہتیں۔ غیرت بیگم نے ہاتھ سے اشارہ کر کے بتایا کہ تم جن کے پاس آئی ہو وہ سامنے والی کوٹھڑی میں ہیں۔ وہ عورت اٹھ کر کوٹھڑی کی طرف چلی۔ دروازے تک پہنچی تھی کہ اتنے میں غیرت بیگم بے خود ہو کر بگولے کی طرح اٹھی اور وہ عورت ابھی ہریالی سے بات بھی نہیں کرنے پائی تھی کہ اس نے پہنچ کر بے چاری بڑھیا کو اوندھے منہ ہریالی پر دھکیل دیا اور کہا کہ تم نے دیکھا یہ ہریالی نہیں گھر والی ہے۔
یہ بی بی ہے۔ یہ میری سوکن ہے۔ میں رانڈ ہوں یا سوہاگن ہے۔ میں لونڈی ہوں یہ بیگم ہے۔ میں چڑیل ہوں یہ حور ہے۔ یہ میاں کی لاڈو ہے یہ میاں کی چہیتی ہے۔ یہ میاں کے کلیجے کی ٹھنڈک ہے۔ یہ کہتی جاتی تھی اور اس کے ساتھ ہزار ہا گالیاں اور سینکڑوں کوسنے اور دو ہتڑ تھا کہ باری باری سے اس شامت کی ماری بڑھیا اور ہریالی پر اور اپنے آپ پر بھی اس زور سے پڑ رہا تھا کہ گویا مزدور سڑک کوٹ رہے ہیں۔
گھر میں بہتیری لونڈیاں اور مامائیں تھیں، مگر سیدانی کا جلال دیکھ کر کسی کی ہمت نہ پڑ سکی کہ کوٹھڑی کی طرف رخ کرے۔ سب کی سب بدحواس ہو کر بھاگ کھڑی ہوئیں۔ ہمسائے کی عورتیں کوئی کھڑکیوں میں سے کوئی دیوار پر سے کھڑی جھانکتی تھیں۔ پر کسی سے اتنا نہیں ہو سکتا تھا کہ گھر کے اندر قدم رکھے۔ مبتلا کو ڈھنڈوایا تو وہ بھی اس وقت کہیں باہر گئے ہوئے تھے، مردانے میں اکیلا وفا دار اس کو اور تو کچھ نہ سوجھی، گھوڑا تو دروازے پر بندھا ہوا تھا ہی۔
منہ میں لگام دے ننگی پیٹھ سوار ہو بگ ٹٹ سیدھا پہنچا کچہری میں سید ناظر کے پاس۔ ناظر اسی گھوڑے پر چڑھ دھم سے آموجود ہوئے اور اتفاق سے سید حاضر بھی کسی ضرورت سے دو تین دن کے آئے تھے۔ کچہری سے ان کے پاس بھی آدمی دوڑا دیا کہ آپ بھی جلد آئیے۔ غرض سید حاضر اور مبتلا بھی آگے پیچھے پہنچ گئے غیرت بیگم سید حاضر کے آنے سے پہلے کھڑی اور پڑی اتنا پیٹی اتنا پیٹی کہ آخر اس کو غش آگیا، ناظر جس وقت پہنچا ہے تو وہ بالکل بے ہوش پڑی تھی۔
ناظر کے آنے کے ساتھ اس کو ہوش میں لانے کی تدبیریں شروع کیں سید حاضر اور مبتلا دونوں آئے تو اس کے بعد دیر بعد غیرت بیگم کو ہوش آیا۔ سب سے زیادہ چوٹ غیرت بیگم ہی کو لگی کہ اس نے پیٹ پیٹ کر اپنا سارا بدن چوڑی کی طرح نیلا کر لیا تھا۔ ہریالی کی بھی کندی خوب ہوئی۔ مگر اس کو گجی مار لگتی تھی۔ بڑھیا ہریالی اور کوٹھڑی کی دیوار کے بیچ میں آکر بچ گئی مگر وہی مثل ہے کہ مرغی کو تکلے ہی کا گھاؤ بہت ہوتا ہے۔
دو تین دو ہتڑ جو اس پر جمتے ہوئے بیٹھ گئے۔ وہ اتنے ہی میں سبکیاں لینے لگی۔ اگر ناظر نہ ہو تو کوتوالی والے کیا اس مقدمے کو بے چالان کیے رہیں۔ توبہ اور اگر حاضر نہ ہوتا تو ناظر اور مبتلا آپس میں کٹ مریں۔ پانچ چھ دن کو بیماروں کی دوا دارو ہوتی رہی۔ چوٹ کے موقع پر ہلدی کا حلوا پکا پکا کر باندھا۔ سیکنے کی جگہ پرانے روڑ سے سیکا پھٹکری کو دودھ میں جوش کر کے پلایا۔
اب کیا باقی رہ گیا تھا۔ جس کے لیے مبتلا کو ہریالی سے ملنے میں تامل ہوتا۔ حاضرناظر بہن کی خدمت گزاری میں لگے تھے اور مبتلا کھلم کھلا ہریالی اور اس کی بڑھیا بارے۔ جب سب کے ہوش و حواس درست ہوئے تو لگے اپنی اپنی جگہ صلاحیں کرنے۔ مبتلا اور ہریالی نے یہ مصلحت گٹھی کہ اب اسی گھر میں برابری کے داعیے سے رہنا اور جلتوں کو خوب جلانا۔ ادھر حاضر ناظر اور غیرت بیگم کی آپس ہی میں پھوٹ تھی۔
ناظر کہتا تھا کہ ابھی لگے ہاتھ پہلے تھانے میں اطلاع لکھوا کر ایک دم سے تین نالشیں تو فوجداری میں داغو۔ مداخلت بے جا کی ہریالی پر اور ضرر رسانی اور اپنے اور دونوں بچوں کے نفقے کی مبتلا پر اور ایک دعویٰ مہر کا کاغذ کامل القیمت پر دیوانی میں دائر کرو۔ غیرت بیگم معاملے مقدمے کو تو کچھ سمجھتی بوجھتی نہ تھی وہ اپنی اسی ایک بات پر اڑی ہوئی تھی کہ مجھ کو سید نگر پہنچاؤ، نہیں تو افیون کھاتی ہوں۔
سید حاضر تھا میرمتقی صاحب کے خوشہ چینوں میں اور بات کے انجام کو سوچتا تھا۔ اس کی رائے یہ تھی کہ نہ تھانے میں اطلاع لکھواؤ نہ سرکار دربار میں کسی طرح کی نالش فریاد کرو نہ سید نگر جاؤ نہ افیون کھاؤ، صبر کر کے چپ چاپ گھر میں بیٹھی رہو۔ سوکن کا آنا تمہاری تقدیر میں تھا سو ہوا۔
اب تمہارے شور و فساد سے بہت ہو گا تو شاید اس گھر سے نکل جائے، مگر تم اپنے میاں کو اس کے چھوڑ دینے پر مجبور نہیں کر سکتیں۔
تم جو سید نگر جانے یا افیون کھانے کو کہتی ہو، یہ تمہاری نامراد سوکن کی عین مراد ہے۔ ناظر بھائی نے جو تدبیر بتائی اس کا خلاصہ یہ ہے۔ لڑائی اور لڑائی کا ضروری نتیجہ نقصان اور تردد اور فضیحت اور رسوائی، اب تو سوکن کے آنے سے تم کو صرف ایک فوری تکلیف پہنچی ہے اور تم افیون کھانے کو موجود ہو۔ لڑائی کی صورت میں بہت سی واقعی تکلیفیں ایسی پیش آئیں گی کہ شاید تمہارے ساتھ مجھ کو اور ناظر بھائی کو بھی افیون کھانی پڑے، میری سمجھ میں نہیں آتا کہ سوکن کے آنے پر تم اس قدر آپے سے باہر کیوں ہو۔
کیا سوکن تم پر آج آئی ہے۔ تمہارا تو بیاہ ہوا ہے پیچھے اور سوکنیں تمہارے بیاہ سے بہت پہلے کی آئی ہوئی موجود تھیں، کیا تم کو معلوم نہیں، تم ہی بتاؤ کہ مبتلا بھائی کس دن بے سوکن کے رہے۔ سارا سید نگر جانتا ہے کہ میں نے تمہاری منگنی کے وقت بہتیرا غل مچایا مگر میری سنتا کون تھا۔ میں تو تمہارے نصیبوں کو اسی دن رو چکا۔ تمہاری سمجھ کا پھیر ہے، ورنہ میں تو حقیقت میں اس بات کو سن کر بہت خوش ہوا تھا کہ مبتلا بھائی نے نکاح پڑھا لیا۔
اس سے تو یہ پایا جاتا تھا کہ انہوں نے آوارگی سے توبہ کی، کوٹھوں کوٹھوں سرِ بازار خدائی خوار پڑا پھرنا بہتر یا ایک کا ہو رہنا اور اس کو اپنا کر لینا بہتر، تم کیسی مسلمان ہو کہ ایک شخص جب تک خلاف شرع چلتا رہا تم نے ہوں تک نہ کی، اس کا طریقہ شریعت پر آنا تھا کہ تمہارے تن بدن میں آگ ہی تو لگ گئی۔ ہم تو بھائی ایسے دین و ایمان کے قائل نہیں۔
بلکہ انصاف کی بات تو یہ ہے کہ مبتلا بھائی نے تمہارا بڑا لحاظ کیا کہ نکاح کو تم سے چھپایا اور تمہاری خاطر سے بی بی کو ماما بنایا اور میں سمجھتا ہوں کہ اگر تم پردہ فاش نہ کرتیں تو مبتلا بھائی اس عورت کے ساتھ اپنے معاملات کو اسی طرح دبا دبایا رہنے دیتے مگر تم نے بیٹھے بٹھائے سوئی ہوئی بھڑوں کو جگایا۔ ان کو حیلہ ہاتھ آیا۔
اب اگر وہ اس عورت کی اور بڑھیا کی دلجوئی اور خبرگیری نہ کرتے تو سارا گھر کھچا کھچ پھرتا۔
میں نے تو جس وقت آکر بڑھیا کو دیکھا۔ میں تم سے سچ کہتا ہوں کہ میرے تو ہوش اڑ گئے تھے۔ ہاتھ پاؤں ٹھنڈے برف، چہرے کی رنگت متغیر، میں تو سمجھا خدا جانے کہاں بے موقع صدمہ پہنچا کہ اس کا سانس پیٹ میں نہیں سماتا، پوچھو میاں ناظر سے اخباروں میں کئی بار دیکھنے میں آیا ہے کہ کسی گورے نے ایک قلی کو تھپڑ کھینچ مارا یا ٹھکرا دیا اور قلی فوراً مر گیا۔
غیرت بیگم تم نے یہ بڑی سخت بے جا حرکت کی اور اگر تم اس طرح دست درازی کرو گی تو یقین جانو تم اپنی تو اپنی ایک نہ ایک دن سارے خاندان کی ناک کٹوا دو گی، ایسا معلوم ہوتا ہے کہ خدا کے چند بدنصیب بندے یعنی لونڈیاں جو تمہارے اختیار میں ہیں تم حق ناحق اپنا غصہ ان پر نکالتی رہتی ہو۔ یہ بے چاریاں تمہارا کچھ کر نہیں سکتیں۔ ہاتھ چھوٹا ہوا، طبیعت بڑھی ہوئی تم سمجھیں کہ سب جانور ایک ہی لاٹھی سے ہانکے جاتے ہیں۔
سوکن اور بڑھیا دونوں کو اٹھا کر پیٹ ڈالا۔ گویا وہ تمہاری لونڈی ہے اور یہ تمہاری باندی۔ وہ تو خدا نے اتنی خیر کی کہ بڑھیا مری نہیں اور ادھر عین وقت پر آ پہنچے میاں ناظر، کہ ان کے ملاحظے سے کوتوالی والوں نے تھوپ تھاپ کر دی۔ ورنہ ساری شیخی کرکری ہو جاتی کہ سادات سید نگر کی بیٹی میر مہذب کی بہو کی ڈولی کوتوالی کے چبوترے پر دھری ہوتی۔
صدآفرین ہے تمہاری سوکن پر، ہے تو ذات کی کنچنی مگر بڑی ضبط کی آدمی ہے، کہ تم سے کہیں زبردست معلوم ہوتی ہے۔ مگر چپکی مار کھایا کی اور الٹ کراف تک نہ کی، کیوں غیرت! جیسا تم نے اس کو مارا تھا، اگر وہ بھی برابر سے مارتی، تو تمہاری عزت تو دو کوڑی کی ہو جاتی۔ مگر اتنا فائدہ تو ضرور تھا کہ پھر تمہارا ہاتھ کسی پر نہ اٹھتا، سید حاضر نے ناظر اور غیرت بیگم کو ایسا آڑے ہاتھوں لیا کہ دونوں کو کچھ جواب نہ بن پڑا اور دونوں اپنا اپنا سا منہ لے کر رہ گئے۔
آخر ناظر بولا کہ آپ ہم دونوں سے بڑے ہیں، جو کچھ آپ کے نزدیک مناسب ہو۔ اس کی تعمیل میں نہ مجھ کو عذر ہے اور نہ آپا کو، یہ معاملہ ناموس کا ہے اور بھائی بہنوں کی ناموس کچھ جدا جدا نہیں ہوتی۔ اس میں رتی برابر فرق نہیں کہ آپ جو کچھ کریں گے آپا کے حق میں بہتری کریں گے۔ سید حاضر نے کہا:
بس تو مجھ کو مبتلا بھائی سے دو باتیں کر لینے دو۔ انشاء اللہ میں کوئی ایسی راہ نکالوں گا کہ دونوں میاں بیوی میں صفائی ہو جائے۔ ایسا موقع تاک کر کہ مبتلا مردانے میں اکیلا تھا، سید حاضر خود اس کے پاس گئے جس وقت سے گھر میں یہ واردات ہوئی تھی۔ حاضر اور ناظر دونوں کی طرف سے بُرے ہی بُرے خیالات مبتلا کے دل میں گزرتے تھے۔ اس کو ساری عمر کبھی کچہری جانے کا اتفاق نہیں ہوا بس کچہری کے نام سے اس کا دم فنا ہوتا تھا اور حاضر ناظر دونوں کو خصوصاً ناظر کو کچہری
ایسی تھی جیسے مچھلی کو تالاب، مویشی کو تھان، پرند کو گھونسلا، عورت کو میکا۔
باوجود یکہ سر تا سر قصور غیرت بیگم کا تھا، مگر مبتلا الٹا چور کی طرح سہا جاتا تھا کہ دیکھئے یہ بھائی بہن کئی کئی دن سے کمیٹیاں کر رہے ہیں۔
کیا فساد کھڑا کرتے ہیں۔ اس کے دوست آشناؤں میں بھی کسی نے اس کو کوتوالی اور فوجداری میں استغاثہ کرنے کی صلاح دی تھی، مگر یہ اس کو مرددا بناتے تھے، کچہری کا نام آیا اور اس کا رنگ فق ہوا۔ وہ بگڑ بگڑ کر ایک ایک کی منت کرتا تھا کہ یارو مجھ سے مدعی بننے کی توقع مت کرو۔
کوئی ایسی تدبیر بتاؤ کہ اگر یہ لوگ مجھ پر نالش کریں اور کریں ہی گے تو مجھ کو حاکم کے روبرو نہ جانا پڑے۔ بہتیرا لوگ سمجھاتے تھے کہ ان کی طرف سے نالش کے ہونے کی کوئی روداد نہیں اور فرض کیا نالش ہو بھی تو تم اپنی طرف سے جواب دہی کے لیے مختار یا وکیل کھڑا کر دینا، بلکہ بعضے تو شرط بندھتے تھے کہ اگر نالش ہو اور خدانخواستہ تم پر کسی طرح کی آنچ آجائے تو حاکم جو سزا تمہاری تجویز کرے اس کی چوگنی ہم بھگتنے کو موجود ہیں چاہو ہم سے لکھوا لو۔
مبتلا کہتا تھا تم ناظر بھائی کے ہتھکنڈوں سے واقف نہیں ہو، ارے میاں، وہ اس بلا کا آدمی ہے کہ چچا باوا بے چارے کسی لینے میں نہیں دینے میں نہیں۔ اس نے دل پر رکھا تو شہر سے نکلوا کر چھوڑا۔ مبتلا کا حال یہ ہو گیا تھا کہ ہریالی اور اس کی بڑھیاکی مرہم پٹی کی ضرورت سے کھڑے کھڑے گھر میں جاتا تو الٹے پاؤں باہر بھاگا ہوا آتا کہ دیکھوں، کہیں سرکار سے طلبی تو نہیں آئی، اتنے دن نہ تو اس نے پیٹ بھر کے کھانا کھایا اور نہ پوری نیند سویا۔
اگر تھوڑے دن اور سید حاضر کی طرف سے سبقت نہ ہوتی تو مبتلا اس قدر پریشان تھا کہ وہ ابتدا کرتا اور اتنے دن بھی وہ اپنے آپ کو لیے رہا۔ تو ان لوگوں کی نارضامندی کے خیال سے اس کو جرأت نہیں ہوئی۔
سید حاضر کو دور آتا ہوا دیکھ کھڑا تو ہو گیا۔ مگر اس وقت تک اس کے دل میں کھٹکا تھا کہ ان کا آنا خالی ازعلت نہیں۔ جب سید حاضر نے قریب پہنچ کر معانقے کے لیے ہاتھ پھیلائے تو اس کو اطمینان ہوا اور بھائی کے گلے لگ کر غیرت بیگم کی زیادتی اور اپنی مجبوری اور اتنے دن کی پریشانی کو یاد کر کے خوب رویا۔
سید حاضر کا بھی جی بھر آیا۔ دیکھو گھر میں خدا کے فضل سے سب طرح کی فراغت ہے ایک چھوڑ دو دو بیبیاں ہیں۔ بچے ہیں کسی بات کی کمی نہیں، مگر ایک بری لت جو اپنے پیچھے لگا لی ہے تو زندگی کیا تلخی سے گزرتی ہے، معانقے کے بعد دونوں بھائی ایک جگہ بیٹھے تو سید حاضر نے کہا:
مبتلا بھائی یہ نیا رشتہ تمہارے ساتھ کیا ہوا کہ وہ پرانا رشتہ بھی اس کے پیچھے گیا گزرا ہوا۔
دیہات کا کم بخت کیا برا دستور ہے کہ ہم تو بہن کے گھر پر بلا ضرورت آنہیں سکتے۔ اب تمہاری ہی طرف سے ملاقات ہو تو ہو۔ سید نگر تو بھلا تم کیوں آنے لگے۔ شہر میں بھی تم کہیں نظر نہیں، آج آٹھواں دن ہے کہ میں بلاناغہ دونوں وقت یہاں آتا ہوں۔ تم کو دو چار بار دیکھا بھی۔ مگر تمہارا رخ نہ پایا۔ آخر آج مجھ سے نہ رہا گیا۔ تو میں نے کہا لاؤ میں ہی پیش قدمی کر کے تم سے ملوں۔
مبتلا: کیا کہوں میں ندامت کی وجہ سے نہیں مل سکا۔
حاضر: ندامت کی کیا بات ہے! عورتیں ناقصات العقل آپس میں لڑا جھگڑا ہی کرتی ہیں۔ اگر مرد ایسی ایسی باتوں کا خیال کیا کریں تو دنیا میں کیسے گزر ہو۔
مبتلا: آپ پر ثابت تو ہو گیا ہو گا کہ زیادتی کس کی تھی۔
حاضر: اس معاملے میں میرا منہ نہ کھلواؤ۔ میں تم سے کیسی ہی سچی بات کیوں نہ کہوں پر تم یہی سمجھو گے کہ بہن کی طرف داری کرتا ہے۔
حاضر: دوسرا نکاح تو تم کر ہی چکے۔ اب اس کی نسبت یہ کہنا کہ تم نے جلدی کی یا بے جا کیا فضول ہے۔ مناسب کیا، خوب کیا اور ضرور کرنا چاہیے تھا، تمہارا طرز زندگی دین کے، شرافت کے بھلمنساہٹ کے عقل کے سب کے خلاف تھا۔ بڑی خوشی کی بات ہے کہ تم نے اس سے توبہ کی، خدا کرے کہ تمہاری یہ توبہ پہاڑ کی طرح مستحکم ہو۔ بھاری بھرکم ہو، مضبوط ہو، اٹل ہو مگر مجھ کو اس بات کا اندیشہ ہے کہ ایک مگدر کو تم اٹھا نہ سکے، جوڑی تم سے کیسے ملائی جائے گی۔
تمہاری وہی مثل ہے کہ تنور سے بچنے کے لیے بھاڑی میں گرے۔ دو بیبیوں کا رکھنا، کچھ آسان کام نہیں، تم نے ایسی ہنڈیا پکائی ہے کہ یہ واقعہ جو پیش آیا، اس کا پہلا ابال ہے۔ جب کھرچن کی نوبت آئے گی تو اصل مزہ معلوم ہو گا۔ یقین جانو کہ میں کچھ بہن کی پاسداری سے نہیں کہتا۔ بلکہ حقیقت نفس الامری بیان کرتا ہوں کہ تم نے غیرت کی قدر وقعت کو مطلق نہیں پہچانا۔
غیرت بیگم خدانخواستہ (برامت ماننا) تمہاری اس بی بی کی طرح گری پڑی، بازاری عورت نہیں۔ وہ ایسے جتھے اور ایسے گروہ اور ایسی برادری اور ایسے خاندان کی بیٹی ہے کہ جہاں اس کا پسینہ گرے۔ آج سیدنگر میں کم سے کم دوسو آدمی نکلیں گے۔ جو اپنا خون بہانے کو موجود ہو جائیں گے۔ عورتوں کے معاملے عزت اور آبرو اور ناموس کے معاملے میں مال کی تو کیا حقیقت ہے۔
عزت کے آگے شرف خاص کر دیہات کے، خاص کر سادات، خاص کر سادات سید نگر جان کی ذرا بھی پرواہ نہیں کرتے۔ یاد کرو تو کتنی منت کس قدر خوشامد کیسی آرزو سے ماموں اور ممانی (خدا ان دونوں کو جنت نصیب کرے)۔ غیرت بیگم کو بیاہ کر لائے۔ آج کو وہ دونوں یا ان میں سے ایک بھی زندہ ہوتے تو کیا تمہاری مجال تھی کہ تم غیرت بیگم پر سوکن لاؤ اور اسی کی گود میں بٹھاؤ، پھر بندئہ خدا تم کو اتنا بھی خیال نہ آیا کہ ماں باپ اس کے نہیں۔
ساس سسرے اس کے نہیں۔ دنیا میں وارث کہو، سرپرست کہو، ایک تم۔ سو تم نے جلا جلا کر اس کا یہ حال تو کر دیا کہ سید نگر کی نسبت ایک تہائی بھی باقی نہیں رہی اور اس پر بھی تم کو صبر نہ آیا۔ سوکن کو لابٹھایا۔ عورت ہو تو جانو، عقل ہو تو پہچانو کہ سوکن کا کیسا داغ ہوتا ہے۔ بیوگی سے بڑھ کر۔ میاں نکٹھو اپاہج ہو یا بدمزاج ہو۔ روٹی کھانے کو، اولاد جی بہلانے کو نہ ہو، سب مصیبتیں جھیلی جا سکتی ہیں اور نہیں جھیلی جا سکتی تو سوکن کی۔
دنیا کے اور جلاپے جلاپے ہیں اور سوکن کا جلاپا سلگایا۔ جس شخص پر مصیبت کا پہاڑ ٹوٹ پڑا ہو۔ وہ اگر افیون کھا لیتی یا کنویں میں گر پڑتی یا پیٹ میں چھری بھونک لیتی، اس سے کسی بات کا تعجب نہ تھا بلکہ تعجب یہ ہے کہ رونے پیٹنے پر قناعت کی۔ اگر خدانخواستہ اس نے اپنے آپ کو ہلاک کر لیا ہوتا تو تمہارا کیا جاتا، تم تو نئی بی بی کے ساتھ چین کرتے۔ گل چھرے اڑاتے ہم کو بہن کہاں پیدا تھی۔
مبتلا: اگر آپ کہیں تو میں اس عورت کو چھوڑ دوں۔
حاضر: میں تو چھوڑنے کو نہیں کہہ سکتا اور تم ایسے چھوڑنے والے ہوتے تو کرتے ہی کیوں۔ فرض کیا کہ تم نے میرے کہنے پر اس کو چھوڑ دیا اور پھر وہی سابق کا وطیرہ اختیار کیا تو اپنے ساتھ دنیا اور دین دونوں جگہ میرا منہ بھی کالا کراؤ گے۔
مبتلا: پھر آپ ہی کوئی راہ نکالیے۔ مجھ سے ایک نادانی تو ہوئی اور اپنی طبیعت کو بار ہا آزما چکا ہوں میرے قابو کی نہیں آج آپ سے ایک وعدہ کروں اور کل کو جھوٹا ٹھہروں۔
تو پھر آپ کے نزدیک میرا کیا اعتبار رہا۔ اس سے بات کا صاف صاف کہہ دینا اچھا اور اگرچہ آپ سے اس معاملے میں صلاح پوچھنا داخل بے حیائی ہے مگر چچا باوا چلتے چلتے کہہ گئے تھے کہ اگر کوئی مشکل آ پڑے تو آپ کی رائے پر عمل کرنا اور یوں بھی آپ بڑے بھائی ہیں۔
باپ کی جگہ آپ ہی اگر اڑی پر آڑے نہ آئیں گے، تو میں کس کے پاس التجا لے جاؤں۔ بندے کے سو قصور خدا معاف کرتا ہے، آپ ازبرائے خدا میرا ایک قصور معاف کیجیے۔
حاضر: بات یہ ہے کہ میں تمہاری اس نئی بی بی کے حالات سے بخوبی واقف نہیں، میں کچھ نہیں کہہ سکتا کہ کس طرح اس کے ساتھ مدارت کرنی مناسب ہے۔
مبتلا: اس کم بخت کے اور حالات ہی کیا ہیں۔ بازاری عورت ہے تن تنہا مدت سے توبہ توبہ پکار رہی تھی، میری جو شامت آئی۔ اس کے ساتھ عقد شرعی کر لیا کیونکہ چچا باوا کے سامنے آوارگی سے میں توبہ کر چکا تھا۔
حماقت پر حماقت یہ ہوئی کہ اب میں اس گھڑی کو بہت پچھتاتا ہوں کہ گھر میں لا کر اوپر کا کام کاج سپرد کیا۔ دوسری ماماؤں کی طرح رہنے سہنے لگی، اگر میں نے اس کے ساتھ کسی طرح کا سروکار رکھا ہو تو مجھ پر خدا کی مار پڑے، یہ تو اس کی پچھلی کیفیت ہے۔ آئندہ کے لیے بھی اگر آپ کی مرضی ہو تو وہی ماماؤں کی طرح رہے گا اور بدستور گھر کی خدمت کرے گی۔
حاضر: اس کا غیرت بیگم کے پیش نظر رہنا تو میں پسند نہیں کرتا۔
کیونکہ اس صورت میں فساد عاجل کا بڑا اندیشہ ہے۔ دو سو کنوں کی مثال میں تمہیں کس طرح بتاؤں یوں سمجھو کہ دوگلاس ہیں ایک میں سوڈا ہے پانی میں حل کیا ہوا اور دوسرے میں ایسڈ، ممکن نہیں ہے کہ سوڈا اور ایسڈ ملیں اور ان میں جوش و خروش پیدا نہ ہو پس دونوں کو ایک جگہ رکھنے کا تو تم کبھی بھول کر ارادہ نہ کرنا۔ ورنہ آج دو ہتڑ تھے تو کل جوتیاں ہوں گی اور پرسوں چھریاں۔
اس کو تو کسی دوسرے شہر میں یا خیر دوسرے محلے میں یا خیر دوسرے گھر میں تو رکھنا ضرور ہے۔ مگر مشکل یہ ہے کہ تم کہتے ہو کہ وہ اکیلی ہے۔ تن تنہا، آدمی زیادہ رکھے جائیں تو تمہاری چادر میں اپنے پاؤں پھیلانے کی گنجائش نہیں۔ پس صرف یہی ایک تدبیر ہے کہ زنانے مکان میں پورب کی طرف جو ایک کھانچا سا نکل گیا ہے پردے کی طرف دیوار کھچوا لو اور ڈیوڑھی میں سے دروازہ پھوڑ کر اتنا گھر الگ کراؤ اور حقیقت میں یہ تھا بھی دوسرا گھر، ماموں باوا نے مول لے کر باہر گلی کا دروازہ تیغہ کرا کے زنانے مکان میں ملا لیا تھا۔
تیغے کا نشان اب تک موجود ہے اتنا مکان ایک مختصر خانہ داری کے لیے بخوبی کافی ہے۔ ضرورت کی سب چیزیں موجود ہیں۔ دالان در دالان آگے سائبان۔ دونوں طرف بڑی بڑی دو کوٹھڑیاں۔ باورچی خانہ اس کے بغل میں چیز بست رکھنے کو لمبی کولکی۔ سامنے کے ضلع میں سہ درہ بس اور چاہیے کیا۔ بڑے گھر کی طرف خدا کے فضل سے آدمی زیادہ ہیں اور خرچ بھی بہت ہے۔ برابری اگر چاہو تو دونوں گھروں میں ممکن نہیں۔
اور ضروری بھی نہیں اور مناسب بھی نہیں۔ چھوٹے ماموں باوا پینسٹھ روپے کی تنخواہیں اور کرایہ تمہارے نام کرا گئے ہیں اور ساٹھ کی غیرت بیگم کے نام سو اپنے پینسٹھ میں تیس روپے چھوٹی بی بی کو دیا کرو۔ اکیلا دم ہے۔ فراغت سے بسر کر سکتی ہیں۔ پینتیس تم کو بچیں گے۔ اس میں تمہارا کپڑا ہے اور باہر مردانے کا خرچ، غیرت بیگم کے ساٹھ کو ہاتھ مت لگاؤ۔
ایک دن بڑے گھر میں رہو ایک دن چھوٹے گھر میں نہ ہڑ ہڑ نہ کھڑ کھڑ۔ اللہ اللہ خیر صلا، مبتلا تو اپنی جگہ پر ڈر رہا تھا کہ نہیں معلوم شہر سے نکلوائیں گے یا قید ڈلوائیں گے یا گھر بار ضبط کرائیں گے۔ سید حاضر کا فیصلہ سننے کے ساتھ اس کے پیروں پر گر پڑا کہ بس اس میں اگر میری طرف سے کبھی سرموفرق ہو تو جانیے گا کہ میری اصالت میں فرق ہے۔ ہریالی بھی اپنی جگہ بہت خوش ہوئی اور سمجھی کہ اب میرا بی بی ہونا سب پنچوں نے مانا اور گھر الگ پایا، میاں کے پینتیس بھی میرے اپنے ہی ہیں۔
وہ ملا کر تنخواہوں میں کرائے میں بڑا آدھا میری طرف رہا۔ کہاں غیرت بیگم سیدانی اشراف میاں کی پھوپھی زاد بہن صاحب اولاد آٹھ نو برس کی بیاہی ہوئی اور کہاں میں، انصاف کی رو سے تو میں ان کی جوتی کی برابری نہیں کر سکتی۔ قربان جاؤں خدا کے کہ اس نے مجھ گنہگار ناچیز کی توبہ کو ایسا نوازا کہ ان ہی کے سگے بھائی کے ہاتھ سے مجھ کو جتوایا۔ غیرت بیگم کو تو سوکن کے نام کی جلن تھی اس کو مکان سے تنخواہ سے کچھ بحث نہ تھی۔
ہریالی کو کیسے ہی برے احوال سے رکھتے مگر جب تک غیرت بیگم یہ جانتی تھی کہ یہ میری سوکن ہے۔ کسی طرح وہ راضی ہو ہی نہیں سکتی تھی۔ لیکن بڑے بھائی نے جب ایک فیصلہ کر دیا۔ تو کیا کرتی دل میں پیچ و تاب کھا کر چپکی ہو رہی۔ مبتلا کے ساتھ بولنا۔ بات کرنا پہلے ہی سے کم تھا۔ اب بالکل چھوڑ دیا۔ غرض صحن میں پردے کی دیوار اٹھائی گئی ڈیوڑھی میں دروازہ لگا۔ ہریالی نے الگ گھر کر کے رہنا شروع کیا۔
What did this chapter leave with you?
Sign in to react
Discussion
No one has spoken yet. Say what this chapter stirred in you.