
第 15 章,共 31 章
Mir Muttaqi Counsels Mubtala
تیرہواں باب: میر متقی کا مبتلا کو سمجھانا
پچھلے بیانات سے بخوبی ظاہر ہو گیا ہو گا کہ غیرت بیگم کے جتنے معاملات تھے، سبھی تو خدا نے میرمتقی کے ہاتھ سے درست کرائے اور کیسی عمدگی اور خوش اسلوبی کے ساتھ کہ نہ لڑائی نہ جھگڑا نہ غصہ نہ فساد نہ غل نہ شور۔ تنخواہیں بھی جاری ہو گئیں مکانات اور دکانات کا بھی انتظام ہو گیا ناظر جیسے موذی کے پنجے سے حصہ زمینداری بھی چھٹا جس کے چھوٹنے کا کسی کو سان گمان بھی نہ تھا مگر ابھی غیرت بیگم کا سب سے بڑا معاملہ باقی تھا یعنی اس کے شوہر مبتلا کی اصلاح اس کی آوارگی کا علاج اس کی بدوضعی کی روک تھام۔
عورت جب بیاہی گئی تو میاں ہی سے اس کا آرام میاں ہی سے اس کا عیش اور میاں ہی سے توقیر ہے اور میاں ہی سے اس کا اعزاز و احترام، آپس میں پیار اخلاص ہو تو دنیا کی ساری مصیبتیں جھیلی جا سکتی ہیں اور جہاں دلوں میں محبت نہیں پہننے میں مزہ اور کھانے میں لذت نہیں دل میں امنگ نہیں سنگھار میں بہار نہیں پھولوں میں باس نہیں، مہندی میں رنگ نہیں۔
میرمتقی کچھ اس سے غافل نہ تھے مگر مبتلا کے بارے میں ان کو بڑی مشکل یہ پیش آرہی تھی کہ ان میں اور مبتلا میں کئی سبب سے اختلاط اور واشدگی کا ہونا ممکن نہ تھا۔ اول تو رشتہ کو میرمتقی مبتلا کے چچا باپ کی جگہ۔ دوسرے عمروں کی بڑائی چھٹائی کہاں میرمتقی پچاس پچپن برس کے بوڑھے اور کہاں مبتلا بیس برس کا پٹھا۔
تیسرے مبتلا کے ہوش میں میرمتقی کو دہلی آتے ہوئے یہ تیسرا پھیرا تھا ایسی صورت میں اجنبیت تو ہونی ہی چاہیے۔
چوتھے وضع میں عادات میں خیالات میں ایک کو دوسرے سے مطلق مناسبت نہیں، پس حال یہ تھا کہ میر متقی مردانے میں ہیں تو مبتلا زنان خانے میں۔ انہوں نے زنان خانے میں قدم رکھا ادھر مبتلا آہٹ پاتے جھٹ باہر نکل آیا۔ رات دن میں صرف دو بار چچا بھتیجے بضرورت کھانے کے لیے دستر خوان پر جمع ہوتے تھے۔ وہ بھی اسی طرح کہ مبتلا نے چچا کے سامنے جانے کے لیے ٹوپی اور کپڑے اور جوتی سب چیزیں سادہ اور بھلے مانسوں کے استعمال کی الگ کر رکھی تھیں۔
کھانے کے لیے طلبی آئی اور اس نے جلدی جلدی رگڑ رگڑ کر منہ دھویا، مونچھوں کو جن پر سارا سارا دن مالش رہتی تھی بل نکال کر سیدھا کیا پٹیوں کو ابھارا بالوں کی سج دھج کو بگاڑا کھانے کے نہیں چچا کے سامنے جانے کے کپڑے پہنے اور گریہ مسکین بن کر جھکے ہوئے نیچی نظر موٴدب دستر خوان پر جا بیٹھے پھر میرمتقی کا کھانا کوئی انگریزی ڈنر تو ہوتا ہی نہ تھا کہ کھانا میز پر آیا اور جتنے کھانے والے تھے۔
اپنی اپنی کرسیوں پر چرغنے لگے۔ دنیا بھر کی بکواس شروع ہوئی اور یہ بھی نہیں کہ کھانے کے ضمن میں باتیں کرتے جاتے ہوں بلکہ یہ کہو کہ باتوں کے ضمن میں کھانا بھی کھاتے جاتے ہیں۔ میرمتقی مولوی آدمی دور سے کھانا آتا ہوا دیکھ کر کسی شغل میں ہوں چھوڑ چھاڑ پہنچوں تک ہاتھ دھو بسم اللہ الرحمن الرحیم کہہ کر اکڑوں ہو بیٹھے کھانا کھایا مگر اس کو بھی عبادت سمجھ کر خیال یہ کہ آداب الطعام میں سے کوئی ادب ترک نہ ہو۔
پس ان کے دستر خوان پر بات چیت کا کیا موقع میرمتقی مستعجل کہ کم کھاؤں، مبتلا منتظر کہ اٹھ جاؤں، الغرض ایسا کوئی موقع ہی نہیں بن پڑتا تھا کہ چچا بھتیجے میں جی کھول کر باتیں ہوں مگر میرمتقی بلا کے تاڑنے والے تھے۔ انہوں نے اتنی دیر کی صحبت میں مبتلا کی حرکات و سکنات سے اس کی نشست و برخاست سے اس کی طرز عادت سے اتنا جان لیا اور ایسا پہچان لیا کہ مبتلا کے لنگوٹیے یار اور اس کے بھیدی اور راز دار بھی اتنا ہی جانتے ہوں گے۔
مبتلا اگرچہ ان کے سامنے اپنے آپ کو بہت ضبط کیے رہتا تھا مگر اسی دن کے لیے کہتے ہیں کہ آدمی بُری لت نہ ڈالے اور عادت کو بگڑنے نہ دے، مبتلا کو خبر تک نہ ہوتی تھی اور بے خیالی میں چچا کے سامنے اس سے کوئی حرکت ایسی سرزد ہو جاتی تھی کہ ہر روز ان کی نظروں میں اس کی قلعی کھلتی رہتی تھی مثلاً بیٹھے بٹھائے خود بالوں پر ہاتھ جا پڑا اور عادات کے مطابق لگا ؤہیں پٹیاں جمانے پھر جو ہوش آیا چچا کو کن انکھیوں سے دیکھ کھجانے کے حیلے سے بالوں کو بگاڑ سیدھا ہو بیٹھا یا کھاتے کھاتے ایک مرتبہ انگرکھے کی چولی کے شکن نکالے، لگاتن کر سینے کو دیکھنے اتنے میں چچا پر نظر جا پڑی اور جلدی سے پھر جھک کر ہو بیٹھا ایک مرتبہ تو اس نے کیا غضب کیا کہ خدا جانے کس خیال میں مستغرق تھا کہ آپ ہی آپ لگا گنگنانے مگر میرمتقی نے اس کو ایسے طور پر ٹال دیا کہ گویا سنا ہی نہیں۔
مبتلا اپنے دل کو یوں سمجھا لیا کرتا تھا کہ چچا نے دھیان نہیں کیا اگر کیا توآدمی سے ایسی لغو حرکتیں ہوا ہی کرتی ہیں۔اتنی ہی بات سے ان کا ذہن اس طرف کیوں منتقل ہونے لگا کہ پٹیاں جمانا یا اکڑنا یا گانا میری عادت ہے۔
لیکن یہ اس کی غلطی تھی میرمتقی کی آنکھ کبھی کسی چیز پر اچیٹی ہوئی پڑی ہی نہ تھی وہ جس چیز کو ایک نظر دیکھ لیتے اس کی تہہ تک پہنچ جاتے اور اس کے سبب کو دریافت کرتے، میرمتقی نے مبتلا کی حرکات سے آخر یہ استنباط کیا کہ اس میں دو عیب بہت بڑے ہیں۔
اول یہ مذہب سے اس کو مطلق سروکار نہیں، یہ جانتا ہی نہیں کہ خدا بھی کوئی چیز ہے اور آدمی اس کے بندے ہیں اس کو خبر ہی نہیں کہ آدمی کو کھانے اور سو رہنے کے سوا دنیا میں کچھ اور بھی کرنا ہے۔ دوسرے حسن پرستی اس کے نزدیک واحد قابل قدر چیز ہے۔ دولت، شرافت، حسب، نسب، علم، ہنر، سلیقہ، اخلاق، دین داری غرض دنیا کے سارے کمالات ہیچ ہیں صرف ایک حسن صورت قابل قدر ہے۔
اور بس میرمتقی کا ایک قاعدہ اور بھی تھا کہ بڑے دھیمے آدمی تھے۔ جب کسی خاص شخص کو نصیحت کرنا منظور ہوتا تو مدتوں اس کے حالات کی تفتیش میں لگے رہتے اور جب معلوم کر چکتے جس قدر معلوم کرنے کی ضرورت تھی تو ہفتوں غور کرتے کہ کس پیرائے سے اور کیسے وقت اس کو نصیحت کروں کہ موٴثر ہو اور یہی سبب تھا کہ ان کی نصیحت کبھی خالی گئی ہی نہیں۔ اگر ایک شخص تارک الصلوٰة ہے اور انہوں نے اس کو نماز کے لیے نصیحت کی تو پھر سفر یا مرض دنیا کی کوئی کیسی ہی ضرورت کیوں نہ ہو اس نے مدت العمر نماز کو قضا نہیں ہونے دیا یا اگر کوئی شخص منہیات شرعی میں کسی کا مرتکب ہے اور انہوں نے واعظ کہا تو پھر توبہ ہی کرا کے چھوڑی۔
غرض میرمتقی نے ایک دن موقع پا کر جوں ہی مبتلا کھانا کھا کر جانا چاہتا تھا اس کو روکا اور کہا کہ ذرا ٹھہرو مجھ کو تم سے کچھ کہنا ہے۔ مبتلا سمجھا کہ آج نماز گلے پڑی بیٹھ گیا تو میرمتقی نے فرمایا: اگرچہ مجھ کو تمہارے حالات بالتفصیل معلوم نہیں مگر جس قدر معلوم ہیں ان سے میرا خیال یہ ہے کہ تمہاری تعلیم جیسی درستی کے ساتھ ہونی چاہیے تھی نہیں ہوئی، تمہاری تعلیم کا عمدہ حصہ وہ ہے جو مدرسہ میں ہوا مدرسے کی تعلیم اس اعتبار سے کہ جو چیزیں پڑھائی جاتی ہیں دنیا میں بکارآمد ہیں بلاشبہ مفید ہے مگر افسوس بڑے سخت افسوس کی بات ہے کہ مذہب کی طرف بھول کر بھی کوئی توجہ نہیں کرتا، مذہب کو سلسلہ درس سے اس طرح نکال کر پھینک دیا ہے جیسے دودھ سے مکھی، جس سے لوگوں پر یہ ثابت ہوتا ہے کہ مذہب ایک فضول اور لایعنی چیز ہے اور دنیا میں اس کی مطلق ضرورت نہیں۔
پس مدرسوں کی تعلیم کا نتیجہ کیا ہے کہ نوجوان لڑکے فارغ التحصیل فضیلت کے خطاب اور لیاقت کی سندیں لے کر مدرسوں سے نکلتے ہیں۔ ان کو تمام ملکوں کی نئی و پرانی تاریخیں خوب یاد ہوتی ہیں، جغرافیے میں شاید ان کی معلومات اس درجہ کی ہوں کہ سمندر کی مچھلی ہیں یا پہاڑی کوّے یا افریقہ کے ریچھ یا آسٹریلیا کے لنگور یا امریکہ کے بن مانس یا تبت کے دنبے یا تاتار کے مینڈھے یا عرب کے بدو یا یورپ کے فرنگی یا ہندوستان کے بھیل سب سے آشنا ہوں۔
وہ انگریزی شاید ایسی عمدہ لکھ سکتے ہوں گے کہ گویا ان کی مادری زبان ہے۔ ریاضی میں وہ شاید وقت کے بطلیموس ہوں، علم ہیئت میں وہ اپنے زمانہ کے فیثا غورث، فلسفے میں افلاطون۔ غرض ان میں علوم دنیا کی ایسی جامعیت ہو گی کہ شاید ان کی نظیر نہ ہو مگر وہ نہ مذہب کے معتقد، نہ خدا کے بندے، نہ رسول کی امت، نہ بادشاہ کی رعیت، نہ باپ کے بیٹے، نہ بھائی کے بھائی، نہ دوست کے دوست، نہ قوم کے ساتھی، نہ برادری کے شریک، نہ وضع کے پابند، نہ رسم کے مقلد۔
ذرا نظر انصاف سے اس بات کو دیکھوں کہ فی الحقیقت مدرسے کی تعلیم میں ایسے خیالات پیدا کرنے رجحان ہے یا نہیں ہے اور ضرورت ہے اور اس کا سبب ظاہر ہے کہ مختلف مذاہب کے نوجوان لڑکے ایک جگہ جمع رہتے ہیں۔ اپنے اپنے عقائد سے سب کے سب بے خبر عمروں کے تقاضے یہ کہ جہاں اور ہنسی کی باتیں کرتے ہیں ان میں ایک مذہب کا استخفاف بھی سہی اگرچہ اپنا ہی مذہب کیوں نہ ہو۔
مدرسے کے حاکم یا مدرس کچھ مذہب کی پروا کرتے ہی نہیں اپنے لیے بھی بعض یا اکثر اس لیے کہ خود کسی مذہب کے قائل نہیں۔ وظیفہ یا انعام یا دوسرے موحیات ترغیب مذہب پر کسی کا انحصار نہیں۔ علوم جو پڑھائے جاتے ہیں اکثر جدید زمانہ حال کے۔ ایسا کوئی مسئلہ نہیں جس میں متقدمین کی غلطی جس میں سابقین کی خطا ظاہر نہ کی جائے اور ایک بڑی خرابی آکر یہ پڑی ہے کہ بہت سی باتیں ہیں تو علوم دنیا سے متعلق مگر لوگوں کی غفلت یا بے مبالاتی سے داخل مذہب ہیں۔
گورے، معلوم ہوتا ہے کہ ان کے باپ دادا جو مذہباً ایسی لغو اور بیہودہ باتوں کو تسلیم کرتے چلے آئے نرے احمق تھے اور ان کا مذہب ہی سراسر ہیچ اور پوچ ہے ایک خرابی اور ہے اور وہ ہے علوم جدیدہ جن کا مدارس میں بڑا زوروشور ہے، سب ہیں از قسم بدیہات مشاہدات پر مبنی اور تجربات پر مشتمل۔
ایسے علوم پڑھتے پڑھتے طالب علموں کو اس بات کی عادت پڑ جاتی ہے کہ وہ ہر چیز کا ثبوت ایسا ہی ڈھونڈنے لگتے ہیں جیسے اقلیدس کے دعوؤں کا۔
ایک مذہب یا مذہبی باتوں کے لیے ایسا ثبوت نہ ہوا ہے اور نہ ہونا ممکن ہے۔ حضرت موسیٰ سے بھی یہود ایسی ہی بے جا فرمائشیں کرتے تھے کہ ہم تو جب تک خدا کے کھلے خزانے نہ دیکھ لیں تجھ پر ایمان لانے والے ہیں نہیں لیکن یہ مذہب کی وجہ سے نہیں ہے، بلکہ انسان کی ضعف خلقت کے سبب۔ کیا اگر موسےٰ خدا کا دیدار یہود کو نہ دکھا سکے تو اس سے لازم آگیا کہ خدا نہیں ہے۔
نہیں خدا تو ہے مگر وہ آدمی کی آنکھوں میں آنے کی چیز نہیں۔ مدارس کی تعلیم بلکہ سچ پوچھو تو عمل داری کا خلاصہ ہے۔ آزادی۔ بلاشبہ آزادی ہر ایک فرد بشر کا ایک ضروری حق ہے۔ مگر آزادی کی بھی کوئی حد ہونی ضرور ہے۔ آدمی کی بناوٹ اس طرح کی واقعی ہوئی ہے اور آدمی فی حد ذاتہ اس طرح کا مخلوق ہے کہ آزادی مطلق تو اس کو حاصل ہونی ممکن نہیں اور مناسب بھی نہیں۔
کیا آزاد ہو سکتا ہے وہ بندئہ ناچیز جس کا ہونا اور نہ ہونا اس کے اختیار میں نہیں۔ غیروں کا محتاج دوسروں کا دستِ نگر پہننے میں، کھانے میں، پینے میں، مرنے میں، جینے میں، چند منٹ کے لیے ہوا نہ ملے تو ہلاک۔ ایک وقتِ خاص تک غذا نہ پہنچے تو فنا، تڑاقے کی دھوپ کا تحمل نہیں۔ کڑاکے کی سردی کی برداشت نہیں۔ حالت تو اس قدر خستہ و خراب اور اس پر آزادی کا پرسُر خاب وہی مثل ہے۔
جھونپڑے کا رہنا اور محلوں کے خواب:
باندھتے ہیں سرو کو آزاد اور وہ پابہ گلکیسی آزادی کہ یاں یہ حال ہے آزاد کا
میں اس میں لڑکوں کا زیادہ قصور نہیں پاتا سارا قصور ان کی تعلیم و تربیت کا ہے گھڑی جو تمہاری جیب میں ہے اس میں فولاد کی ایک کمانی کنڈلی کے طور پر تہ کی ہوئی موجود ہے۔ کنجی کے زور سے کمانی کی تہوں کو خوب کس دیتے ہیں، اسی کو کوکنا کہتے ہیں۔
کوکنے سے کمانی میں ایک قوت پیدا ہوتی ہے۔ کمانی چاہتی ہے کہ کھلے اور اپنی اصلی حالت پر عود کر آئے۔ اگر کوئی چیز مانع نہ ہو تو کمانی سڑسے دم کے دم میں ڈھیلی پڑ جائے اور وہ قوت جو اس میں پیدا کی گئی تھی اکارت ہو اس کے روکنے کے لیے گھڑی میں ایک پرزہ لگایا جاتا ہے جس کا نام ہے ریگولیٹر اور اس قوت سے وقت کی شناخت کا علیحدہ کام لیا جاتا ہے، یہی حالت ہے انسان کا کہ اس میں بھی ایک حالت کے مناسب خدا کی دی ہوئی چند قوتیں ہیں اگر ان قوتوں کا کوئی روکنے والا ریگولیٹر نہ ہو تو یہ تمام قوتیں بے کار ہیں بلکہ بجائے مفید ہونے کے الٹی مضر۔
انسان کا ریگولیٹر ہے۔ مذہب جو اس کو اندازئہ مناسب اور اعتدال سے گھٹنے بڑھنے گرنے ابھرنے نہیں دیتا۔ مدرسوں کی تعلیم کوک ہے اور ریگولیٹر نہ دارد، پس اس کا ضروری نتیجہ ہے کہ آزادی کا خیال دل میں سماتے ہی لوگ ہر طرح کے قیود سے نکلنے کی خواہش کرنے لگتے ہیں۔ یہاں تک کہ قید عبودیت سے بھی۔ سرے سے مدرسے کی تعلیم کے اصول ہی غلط ہیں کہ صرف دنیاوی علوم کے پڑھا دینے سے آدمی دنیا کے کام کا ہو جاتا ہے۔
اس سے تو یہ بات نکلتی ہے کہ دنیا اور دین دو چیزیں ہیں، جداگانہ ایک کو دوسرے سے کچھ تعلق نہیں، ہم نہیں جانتے کہ جو لوگ ایسا خیال کرتے ہیں دین سے کیا مراد رکھتے ہیں۔
مگر ہمارے نزدیک بلکہ تمام اہل ادیان کے نزدیک دین کے معنے ہیں، انسان کی اصلاح اور اس کے دو حصے ہیں، اصلاح معاش اور اصلاح معاد۔ پس دین اور دنیا میں اگر ایک طرح کی منطقی مغائرت ہے جیسے عموماً کل و جز میں ہوا کرتی ہے تو اس کو تبائن یا تناقض یا تنا فریابے تعلقی سے تعبیر کرنا مغالطہ ہی ہے۔
کتنا ہی پڑھاؤ جب انسان میں دین نہیں دیانت نہیں اس پر بھی اگر وہ آدمی دنیا کے کام کا ہے تو اس دنیا کو خیرباد ہے اور اس دنیا کو سلام۔ ایک بات تعلیم کے متعلق اور بھی سوچنے کی ہے کہ انسان کو دوسرے حیوانات سے ایک وجہ امتیاز یہ بھی ہے کہ حیوانات کو جتنی عقل دی گئی ہے فطری ہے۔ تجربے یا امتداد عمر سے اس میں ترقی نہیں ہوئی مثلاً بیا گھونسلا بناتا ہے، کیسا عمدہ کہ انسان اس کی اگر پوری پوری نقل کرنا چاہے تو نہیں بن پڑتی مگر جیسا گھونسلا ایک بڈھا بیا بناتا ہے جو اپنی عمر میں شاید بیس پچیس گھونسلے بنا چکا ہو گا۔
بجنسہ ویسا ہی گھونسلا پہلی بار ایک نوجوان بیا بنائے گا جو برخلاف انسان کے ہے کہ اس کی عقل تجربے اور عمر کے ساتھ کمال حاصل کرتی جاتی ہے۔ اس مضمون کو سعدی نے کیا زبردست طور پر ادا کیا ہے:
مرغ از بیضہ بروں آید و روزی طلبدآدمی زادہ ندارد خرد و عقل و تمیز
آں بناگاہ کسے گشت و بچیزے نرسیدویں بہ تمکین و فضیلت بگزشت از ہمہ چیز
اس لیے انسان کی تعلیم و تربیت کا قاعدہ یہ ہے کہ ہر چیز اس کی عمر کا ایک مناسب وقت دیکھ کر سکھاتے ہیں۔ مثلاً غیر ملک کی بولی ضرور ہے کہ بچپن میں سکھائی جائے ورنہ بڑے ہو کر زبان مشکل سے ٹوٹتی ہے۔ چھوٹے بچے کو اگر منطق کے پیچیدہ مباحث سمجھانا چاہو تو سعی لاحاصل ہے۔ اسی طرح دین کی تعلیم کے لیے بھی ایک وقت مناسب ہونا چاہیے اور وہ نہیں ہو مگر سن طفولیت۔
کیونکہ آدمی کی عمر جس قدر بڑی ہوتی جاتی ہے۔ اسی قدر فطرت سے دور اور اسی قدر اس کا دل لوث دنیا سے آلودہ اور زنگ اغراض سے تیرہ ہوتا چلا جاتا ہے۔ پھر شاید ایک وقت ایسا آئے کہ اس کے دل میں صبغت اللہ یعنی دین کا رنگ اٹھانے کی قابلیت باقی نہ رہے۔ اسی حالت کی نسبت قرآن مجید میں فرمایا ہے کہ اور کچھ بات نہیں ان کے دلوں پر ان کی بد کرداریاں جم گئی ہیں۔
دنیا میں اور بھی ہزاروں لاکھوں اللہ کے بندے ایسے ہیں کہ جن کو دین کی طرف مطلق توجہ نہیں۔ مگر بے توجہی دوطور کی ہے۔ ایک وہ جس کا سبب کاہلی اور غفلت اور مساہلت ہو دوسری وہ جو دین کے استخفاف سے پیدا ہو یہی بے توجہی ہے جو نہایت خطرناک اور نہایت مذموم ہے اور یہی بے توجہی ہے جس کو مدارس کی تعلیم پھیلائی چلی جا رہی ہے لیکن دین و مذہب لوگوں کی قدر دانی اور تسلیم کا محتاج نہیں ہے۔
ہمالیہ پہاڑ اپنی جگہ سے سرک جائے۔ گنگاپورپ کو بہتے بہتے پچھم کو بہنے لگے مگر خدا کی باتیں نہ کبھی ٹلتی ہیں اور نہ کبھی کسی کے ٹالے ٹلیں گی۔ دین تم سے چاہتا کیا ہے۔ صرف اتنی بات کہ خدا نے تم کو آدمی بنایا ہے۔ آدمی بن کر رہو تم کو آنکھیں دی ہیں اور دیکھتے ہو کان دیئے ہیں اور سنتے ہو زبان دی ہے اور بولتے ہو غرض ہر قوت سے وہ کام لیتے ہو جو اس کے کرنے کا ہے۔
قوتوں میں سب سے قوی اور سب سے عمدہ عقل ہے۔
اس نے تمہارا ایسا کیا قصور کیا ہے کہ اس کے کرنے کا کام اس سے نہیں لیتے۔ روئے زمین پر خدا کی جتنی مخلوق ہے سب میں اعلیٰ اور افضل اور اشرف انسان ہے اور اس کی برتری اس سے ظاہر ہے کہ دوسری مخلوقات پر حکمرانی اور مالکانہ تصرف کرتا ہے، دیکھو انسان کی بنائی ہوئی عمارتیں اس کے بسائے ہوئے شہر اس کے لگائے ہوئے باغ، نہریں، سڑکیں، پل، ریل، تار، دخانی، بادبانی، جہاز، انواع و اقسام کی کلیں اور زندگی کے سازوسامان مگر یہ برتری جو انسان کو استحقاقاً حاصل ہے، کیوں ہے، اس کی جسمانی قوتیں تو حیوانات کی قوتوں سے بہت ضعیف ہیں۔
مثلاً اس کی نظر سے گدھ کی نظر بہت تیز ہے۔ اس کے شامے سے شکاری کتوں کا شامہ کہیں زیادہ قوتی ہے۔ وہ اگر ذائقے سے چیزوں کا صرف مزا پہچانتا ہے تو بعض جانور مزے کے سوا خاصیت طبی کی شناخت بھی کر لیتے ہیں۔ توانائی کے لحاظ سے تو ہاتھی اور شیر وغیرہ کے سامنے وہ ایک مور ضعیف سے بھی زیادہ کمزور ہے۔ پھر انسان کی بڑائی کس چیز میں ہے، عقل میں۔ اب دیکھنا چاہیے کہ عقل کا کام کیا ہے۔
یہ سمجھنا کہ عقل ہم کو صرف اسی واسطے دی گئی ہے کہ کھانا پینا کپڑا مکان سازو سامان بہم پہنچانے میں مدد کرے عقل کو ذلیل اور بے قدر کرنا ہے۔ یہ تو عقل کے نہایت متبذل کام ہیں جانور جن کے جثّے ہمارے جثوں سے بہت بہت بڑے ان کی بھوک پیاس ہماری بھوک پیاس سے کہیں زیادہ ہے۔ وہ ہماری جتنی عقل نہیں رکھتے اور ہم سے زیادہ آسودگی کے ساتھ زندگی بسر کرتے ہیں۔
ساڑھ ستر برس کی زندگی اور معدودے چند ضرورتوں کے لیے ایسی عقل جو ماضی اور مستقبل کے قلابے ملائے اور زمین سے آسمان تک یوں پھیلائے کسی بڑے اور عمدہ کام کے لیے دی گئی ہے اور وہ یہ نہیں ہے۔ مگر یہ کہ مخلوق سے خالق اور فانی سے باقی اور دنیا سے آخرت کو پہچان کر اس گھر کے لیے تیاری کریں، جہاں روح کو ہمیشہ ہمیشہ رہنا ہے، لیکن فرض کرو کہ ہم ان خیالات کو اپنے ذہن میں نہ آنے دیں اور آنکھیں بند کر لیں۔
دنیا و مافیہا سے جس کا ایک ایک ذرہ ہستی صانع اور ایک ایک واقعہ وجودِ سبب پر دلالت کر رہا ہے۔ تو اس سے واقعات کا بطلان تو نہیں ہو سکتا۔ خدا ہے اور ہمیشہ کو رہے گا۔ ہم اس کے بندے ہیں اور کسی طرح اس کے فرمان سے باہر نہیں ہو سکتے۔ ہم کو مرنا ہے اور جو کچھ دنیا میں کیا ہے اس کی جواب دہی کرنی ہے عمل اچھے ہیں تو تسلی ہے اور امن ہے عافیت ہے اور سکون ہے اور قرار ہے یعنی یہ کہ بیڑا پار ہے۔
بُرے ہیں تو حسرت ہے اور افسوس ہے اور ندامت ہے اور پھٹکار ہے اور دھتکار ہے، یعنی یہ کہ دُکھ کی مار ہے۔ کبھی یوں بھی ہوتا ہے کہ اصل میں تو ہوتی ہے غفلت اور اونگھتے کو ٹھیلتے کا بہانہ اختلاف مذہب ہے، جو بے توجہی کا باعث ہو جاتا ہے۔ آدمی دیکھتا ہے کہ دنیا میں سینکڑوں ہزاروں مذہب ہیں ہر ایک صرف اپنے آپ کو برسرحق سمجھتا ہے۔ باقی سب کو گمراہ و کافر اور مردود اور ملعون اور جہنمی تو یہ دیکھ کر خواہ مخواہ اس کے دل میں خیال آتا ہے کہ پہلے ان ہزاروں مذاہب کے معتقدات سے واقفیت حاصل کروں پھر ان کے سوال و جواب سنوں پھر ان میں محاکمہ کروں۔
اس کے لیے میں کیا میری تو دس نسلوں کی عمریں بھی کفایت نہیں کر سکتیں۔ اس سے بہتر ہے کہ مذہب کی پہیلی کو جس کا اَتا پَتا کچھ نہیں سوچو ہی مت لیکن یہ بھی ایک وسوسہ شیطانی ہے اور انسان کے لامذہب ہونے کے لیے حجت نہیں ہو سکتا۔ دنیا میں جتنے مذہب ہیں، جہاں تک مذہب کو دنیا سے تعلق ہے۔ سب کا مقصود اصلی ہے آدمی کی اصلاح اور اختلاف اگر ہے تو ملکوں کی آب و ہوا لوگوں کی طبائع اور عادات اور ضرورتوں کے اختلاف کی وجہ سے اورفروغ میں ہے۔
نہ اصول میں جزئیات میں ہے۔ نہ کلیات میں۔ پس تم جیسے نوجوان آدمیوں کے لیے اس سے بہتر اصلاح کی بات نہیں کی جس شان میں ہے اسی شان میں رہ کر پابندی مذہب کو نہ چھوڑے۔ اس شے سے بڑا فائدہ یہ ہو گا کہ نیکی کا خیال دل میں راسخ ہو جائے گا۔ خدا سے لگاؤ پیدا ہو گا اور حق کی تلاش میں اس کو سزا ملے گی۔ آدمی اگر اتنا کرے اور اس سے زیادہ کر ہی کیا سکتا ہے تو ضرور خدا کی رحمت اس کی دست گیری کرے گی۔
لوگ مذہب کی طرف سے جو اس قدر غافل اور گرے بن رہے ہیں۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ خدا نے اپنے بندوں کی آزمائش کیلئے دنیا کا انتظام ایسے طور پر رکھا ہے کہ دنیاوی حالات کے اعتبار سے نیک و بد اور پابند مذہب اور لامذہبی اور مومن و کافر اور ملحد و مشرک کسی کا کچھ امتیاز نہیں خداوند تعالیٰ کی عام رحمتوں سے سب کے سب بلا تخصیص یکساں طور پر متمتع ہوتے ہیں۔
وقت پر پانی سب کے واسطے برستا ہے۔ ہوا کا ذخیرہ سب کے لیے موجود ہے۔ رزق ہر ایک کی خاطر مہیا ہے۔ صحت و مرض تمول و افلاس تو الدو تناسل حیات و ممات غرض زندگانی کی بھلی بری تمام کیفیتیں جیسی مسلمانوں میں، ویسی عیسائیوں میں، ویسی یہود میں، کوئی قوم بلکہ کوئی گروہ بلکہ کوئی فرقہ بلکہ کوئی متنفس اس بات کا دعویٰ نہیں کر سکتا کہ مذہب کی وجہ سے مجھ کو دنیا میں یہ خصوصیت حاصل ہے اور کہیں ایسی ایک ادنیٰ سی خصوصیت بھی پائی جائے تو آپ جانیے تو تمام روئے زمین سے اختلاف مذاہب کے معدوم کر دینے کو کافی ہے۔
یہی خصوصیت ان لوگوں کے حق میں سم قاتل ہے جن کی طبیعتیں لامذہبی کی طرف مائل ہیں۔ غور کرنے کی تو ان لوگوں میں عادت ہوتی ہی نہیں۔ دنیا میں ہیں اور دنیا ہی کو دیکھتے ہیں اور سمجھتے ہیں بس جو کچھ ہے یہی دنیا ہے۔ لیکن ذرا عقل کو کام میں لائیں تو معلوم ہو اور اندر سے دل آپ ہی آپ گواہی دینے لگے کہ نہیں ایک جہاں اور بھی ہے۔ یہ دنیا خواب ہے اور وہ جہاں اس کی تعبیر یہ مجاز ہے اور وہ حقیقت یہ نمونہ ہے اور وہ اصل جس طرح عقل دنیا میں سب کی یکساں نہیں۔
اسی طرح عقل دین کے مدارج بھی متفاوت ہیں۔ بعض لوگ وہ ہیں جو صرف موجوداتِ دنیا سے خدا کو اور خدا سے اس کی عظمت کو اور اس کی عظمت سے اس کی معبودیت کو مانتے پہچانتے ہیں اور بعض موجودات سے نہیں بلکہ خیرات سے اور تغیرات سے بھی نہیں بلکہ حادثات عامہ سے بھی متنبہ نہیں ہوتے تاوقتیکہ ان پر کوئی آفت نازل نہ ہو اور بعض حادثات عامہ سے حلول مصیبت پر بھی کہنے کے محتاج گویا بیل ہیں کہ آر بھی چبھوو دو اور ساتھ منہ سے بھی ٹٹکاری دو تب ان کو خبر ہو کہ چلنا چاہیے۔
اے میرے پیارے بھتیجے اے مرحوم کی یادگار اے مغفور کی نشانی مجھ کو بھائی کے مرنے کا اتنا رنج نہیں ہوا جتنا تمہارے دین کی تباہی کا۔ بھائی اگر مرے تو عمر طبعی کو پہنچ کر مرے اور ایک دن مرنا ضرور تھا۔ میں نے اپنی موت کے لیے دعا تو نہیں مانگی۔ اس واسطے کے موت کے لیے دعا مانگنا منع ہے۔ مگر سات برس عرب میں رہا کوئی دن ایسا نہیں گزرا کہ میں نے اس سرزمین میں اپنے دفن ہونے کی تمنا نہ کی ہو۔
مگر خدا کی مبارک مرضی یوں تھی کہ میں یہاں پھر آؤں اور بھائی کا مرنا سنوں جب سے میں نے بھائی کا مرنا سنا ہر روز بلکہ دن میں کئی کئی بار (دعا نہیں) دل میں تمنا کرتا ہوں کہ الٰہی اگر عرب کی مٹی سے میرا خمیر نہیں ہے تو مجھ کو باایمان دنیا سے اٹھا کر اس شخص کے پہلو میں مجھ کو جگہ دے جو مجھ کو دنیا میں سب سے زیادہ عزیز تھا میرے بڑے بھائی اور تمہارے والد مرحوم۔
میں نہیں جانتا کہ یہ تمنا بھی پوری ہو یا نہ ہو مگر بھائی کے مرنے کے بعد اب زندگی بے مزہ ہے اور اس ملک میں رہنا اس سے زیادہ بے مزہ۔ یہ مت سمجھو کہ آدمیوں کے باہمی تعلقات اس زندگی تک کے تعلقات ہیں۔ نہیں نہیں یہ تعلقات روحی تعلقات ہیں اور چونکہ روحوں کو فنا نہیں۔ ان کے تعلقات کو بھی انقطاع نہیں۔ یقین جانوں کہ تمہاری اس طرز زندگی سے بھائی کی روح کو ایذا ہوتی ہے۔
کیونکہ ان کو اس زندگی میں بھی تمہاری تکلیف کی برداشت نہ تھی اور اس طرز زندگی کے ہاتھوں تم پر جو سخت بلا نازل ہونے والی ہے میں اس کو عقل سے جانتا ہوں اور تمہارے باپ اس کو آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں۔ باپ سے ہو سکتا ہے کہ بیٹے کو کنویں میں گرتا ہوا دیکھے اور پروا نہ کرے۔
باپ سے ممکن ہے کہ بیٹا جلتی ہوئی آگ میں کودے اور وہ کھڑا ہوا تماشا دیکھے مرحوم نے لوگوں کی نظروں میں سلامت روی اور نیک وضعی اور بھلمنساہٹ سے جو ایک وقار پیدا کیا تھا تم ہی اپنے دل میں انصاف کرو کہ تم نے اس کو بڑھایا یا گھٹایا۔
روشن کیا یا مٹایا۔ ایسے چاہنے والے ایسے شفیق ایسے مہربان ایسے دل سوز باپ کے احسانات کا یہی معاوضہ تھا۔ ان کے سلوک اسی پاداش کے قابل تھے۔ جو باتیں میں تم سے کہہ رہا ہوں، تم کو شاید پہلی بار ان کے سننے کا اتفاق ہوا ہو گا۔ مگر میری ساری عمر ان ہی غوروں اور فکروں میں گزری ہے اس میں اپنی خوش نصیبی سمجھتا ہوں کہ شروع سے مجھ کو اچھے لوگوں کی صحبت رہی ہے ہندوستان سے لے کر عرب تک ہزار ہا علماء اور شیوخ سے ڈھونڈھ کر ملا اور جس سے جتنا فیضانِ قسمت کا تھا حاصل ہوا۔
الحمدللہ تم دیکھتے ہو کہ میں دین کے کاموں میں بھی جہاں تک مجھ سے ہو سکتا ہے اور افسوس ہے کہ قدر واجب کے مقابلے میں کچھ بھی نہیں ہو سکتا، لگالپٹا رہتا ہوں، اس پر بھی خدا کی عظمت اور اس کے جلال پر نظر کرتا ہوں تو مجھ کو اپنی نجات کی طرف سے بالکل مایوسی ہوتی ہے اور تنہائی میں خصوصاً رات کے وقت دنیا کی بے ثباتی قیامت کے حساب اور اپنی بے بضاعتی کے افکار ہجوم کرتے ہیں تو مجھ کو اس قدر وحشت ہوتی ہے کہ تم کو اس کا اندازہ سمجھنا مشکل ہے۔
صرف اس کی رحمت کی بے انتہائی توقع اس وقت دست گیری کرتی ہے جس سے دل کو تسلی ہوتی ہے۔ یہ زحمت جو مجھ کو دین کے کاموں میں اٹھاتے ہوئے دیکھتے ہو۔ اگر اس کو زحمت سے تعبیر کرنا درست ہو تو اتنی مدد کرتی ہے کہ امیدواری رحمت کی ڈھارس بندھاتی ہے، اگر خدا عقل میں راستی دے تو دنیا کی سب باتوں سے دین کی تعلیم نکلتی ہے۔
دنیا میں جس کو جس پر کسی طرح کی حکومت ہے جیسے شوہر کو بی بی پر یا باپ کو اولاد پر یا بادشاہ کو رعایا پر اگرچہ دنیا کی ساری حکومتیں عارضی اور ضعیف ہیں۔
اس پر بھی کوئی حاکم کسی محکوم کی کسی نافرمانی سے درگزر نہیں کرتا۔ کیا غفلتیں ہیں کیا بے فکریاں ہیں کیا مغالطے ہیں کیا بے مناسبتی ہے کہ بندئہ بے حقیقت و ناچیز نافرمانی کیسی، اس قادر ذوالجلال کے اوامر کا استخفاف کرے گویا اس کا مدمقابل ہے اور پھر درگزر کی توقع۔ کیا ہیکڑی ہے۔ مغفرت کی امید کیا بے حیائی ہے۔ تم کو اکثر باتوں میں مغالطہ واقع ہوا ہے، دوستوں کے بارے میں بھی تمہاری رائے غلطی سے محفوظ نہیں رہی۔
یہ لوگ جو تمہارے آگے پیچھے پڑے پھرتے ہیں اور ہر وقت تم کو گھیرے رہتے ہیں۔ جہاں تک میں نے خیال کیا ہے ایک کو بھی تمہارا خیرخواہ نہیں پاتا، ان کے کچھ مطلب ہیں، بے ہودہ اغراض ہیں۔ فاسد تم کو دیکھ پایا، عقل کے کوتاہ گانٹھ کے پورے۔ آپ بنے شکاری اور تم کو گروا یاٹٹی اور لگے تمہاری آڑ میں تکے چلانے۔ غرض مندانہ رابطے عموماً اور خاص کر جبکہ اغراض خسیس ہوں، نہایت بے ثبات ہوتے ہیں اور جلد ٹوٹنے والے۔
مجھ کو تو توقع یہ ہے کہ تم نے خود اس کا تجربہ کر لیا ہو گا ورنہ میرا اس وقت کا کہنا چاہو لکھ رکھو کہ تمہارے اتنے دوست ہیں۔ ان میں سے کسی ایک کے ساتھ دو برس تک بھی صحبت یوں ہی چلی جائے تو جاننا کہ بہت چلی۔
دنیا کے تمام جسمانی تعلقات کا یہی حال ہے۔ غیروں کی کیا شکایت دوسروں کا کیا گلا، اپنے ہی اعضا و جوارح اپنی ہی قوتیں کب تک کی ساتھی ہیں۔
دیکھو مجھ جیسے بوڑھوں کو کہ ایک بصارت سے معذور ہے تو دوسرا ثقل سمع سے مجبور کسی کی بھوک تھکی ہوئی ہے اور کسی کے ہاضمہ میں فتور۔ پیری و صد عیب زندہ درگور۔ دنیا کی یہی بے ثباتی دیکھ کر جن کی عقلیں سلیم ہیں، فانی لذتوں کے گرویدہ اور عارضی منفعتوں کے فریفتہ نہیں ہوتے، جس قدر میں نے تم سے کہا۔ اگرچہ ضرورت سے بہت کم کہا مگر مجھ کو تمہاری طینت کی پاکیزگی سے امید ہے کہ انشاء اللہ رائیگاں نہ جائے گا اور خدا نے چاہا تو میں دعا بھی کروں گا کہ تمہارے دل میں سوچنے اور غور کرنے کا شوق پیدا ہو مگر قاعدہ ہے کہ دنیا میں کوئی متبذل سے متبذل فائدہ بھی بے خطاب نہیں ملتا۔
سچ ہے کہ جب تک بچہ روتا نہیں ماں بھی دودھ نہیں دیتی پس دین کے عمدہ اور دائمی فائدے بدرجہٴ اولیٰ طلب پر موقوف اور پیروی پر منحصر ہونے چاہئیں اور وہ تمہارے کرنے کا کام ہے۔ دین کے کام ہیں تو دل سے متعلق اور کوئی شخص دوسرے کے خیالات یعنی دلی حالت پر مطلع نہیں ہو سکتا مگر خیالات کی اصلاح سے ارادے کی اور ارادے سے افعال کی طرز تمدن کی اور وضع کی گفتگو کی نشست برخاست کی حرکات و سکنات کی سبھی چیزوں کی اصلاح ہوتی ہے۔ یعنی انسان کا ظاہر حال اس کے دل کا ترجمان ہوتا ہے۔ پس تم کہو یا نہ کہو خود بخود منکشف ہوتا رہے گا کہ جس راستے پر میں نے تم کو لگا دیا ہے، تم نے اس میں چلنا شروع کیا یا نہیں۔
这一章在你心里留下了什么?
登录后参与
讨论
还没有人开口。说说这一章触动了你什么。