
Глава 5 из 8
Rang-e-Sayyar; Mian Azad's Mischief and Shah Ji's Distress
رنگِ سیار؛ میاں آزاد کی کارستانی اور شاہ جی کی پریشانی
بحرِ عشق کی طغیانی اور قلزمِ جنون کی روانی
چھیڑ مت باد بہاری کہ میں جوں نکہتِ گلپھاڑ کر کپڑے ابھی گھر سے نکل جاؤں گا
اس گلزار رشک فرخار اور لالہ زار، سرا پا بہار، اور نسیم مشک بیز و عنبر بارنے میاں آزاد کی آتش عشق کو اور بھی بھڑکا دیا۔ جنون کی مذمت نے کشتی دل کے ساتھ باد خالف کا کام کیا۔ آہ آتش بار نے خرمن خرد پر بجلی گرائی۔ حشر توڑا۔ آفت ڈھائی۔ سبزان چمن کا جوبن دیکھ کر، سبزۂ گلگوں کا خیال آیا، حنا نے خون رلایا کبھی کنگھی کو دیکھ کر، اس پریشان کا گل کی زلف چلیپا یاد آئی۔ کبھی چشم مست کی یاد میں نرگس شہلا سے، آنکھ لڑائی۔ سرو کو دیکھا تو اپنے سر بلند، اقبال کا بوٹا سا قد، آنکھوں میں پھر گیا۔ شمشاد نظروں سے گر گیا۔ گل رعنا کی دید سے گل رخسار کا خیال بندھا۔ بلبل شیدا کا نالۂ زار، تیر کی طرح جگر کے پار ہوا۔ الغرض اضطراب و بیقراری، نالہ شیون، وآہ وزاری، دن دونی، رات چوگنی، ترقی پاتی تھی:
بے گلعذار جائے گلستان میں کیا کیاہاں یہ کیا کہ داغ کہن کو نیا کیا
عین حالت انتشار، و ہجوم افکار، میں یہ سوجھی کہ اب رسیاں توڑ کر نکل بھاگو اور بیابان کی راہ لو:
بہار لالہ و گل سے لگی ہے آگ گلشن میںگریباں پھاڑ کر جا بیٹھے صحرا کے دامن میں
جنوں کے جوش میں یکجا نہیں دم بھر قرار آیاکبھی گلشن سے صحرا میں کبھی صحرا سے گلشن میں
مزاج اصلاح پر آنا دشوار تھا۔ دل مثل برق بیقرار تھا۔ آخر کار باغ کی دیوار پھاند کر یہ جادہ جا۔ راہ میں سوچتے جاتے ہیں، کہ اگر وہ گل اندام ملے تو پھولے نہ سماؤں۔ باغ باغ ہو جاؤں۔ جو ملتا ہے اس سے کوئے یار دل آزار کا پتہ پوچھتے ہیں۔ وہ ہوا بتاتا ہے۔ قہقہہ اڑاتا ہے، اور بھانپ جاتا ہے کہ جنوں کی اُمنگ اور عشق کی ترنگ ہے۔ بادۂ محبت کے نشے میں چور مست و مخمور، کبھی خنداں، کبھی گریاں، آنکھیں اشکبار، لب پر عاشقانہ اشعار:
کوچۂ یاراں چلے تو غزل خواں چلےبلبل مست کی صورت سے گلستاں چلے
جدھر سیلاب جنوں بہا لے گیا، اُدھر چلے۔ جب رات بھیگی، تو ایک مقام پر کیا دیکھتے ہیں، کہ بچاس ساٹھ کہار ڈے پر جمع ہیں۔ ایک کہار ہرک بجاتا ہے۔ چار پانچ جوڑی، چھوکی، جھانجھ بجانے میں مصروف ہیں۔ دس پندرہ گرد دن ہلا ہلا کر بھجن، اور گیت گاتے ہیں۔ سامعین کو وجد میں لاتے ہیں۔
ہک، ہک، ہک اے سبحان اللہ۔ کیا کہنا ہے۔ یہ وزن ہی نرالا ہے، چند کہار ڈولیوں کے اندر مدمست پڑے ہیں۔ کچھ اِدھر، کچھ اُدھر، نشتے میں چور کھڑے ہیں۔ کوئی لال لال وردی دکھاتا ہے، کوئی بگڑی کی پھجی پر اترا آتا ہے۔ ہنڈے میں دار و بھری ہے۔ کٹورا اچل رہا ہے۔ طاق پر چراغ جل رہا ہے۔ آپس میں دھول دھپا ہو رہا ہے، راجہ مہار اڈے کے چودھری، بلا تشبیہ۔ فغفور چین، بنے بیٹھے ہیں۔ ہنگامۂ حشر پا ہے۔ آگے بڑھے تو دیکھا کہ کندن سنار نے گھر یا میں سہا گا ڈالا، سونا گلایا، اور کسی سیمتن کے لیے طلائی چھپکا تیار کیا۔ وہاں سے چلے تو ایک دکان پر دیکھتے کیا ہیں کہ چق والا دروازہ ہے۔ بیٹھا کہانی کہہ رہا ہے۔ اور چق والی ایک پھٹی چٹائی پر لیٹی ہوئی ہوں ہوں کرتی جاتی ہے۔ اور اردگرد ایک مرد، تین چار عورتیں بڑے لطف کے ساتھ کہانی سن رہی ہیں۔ جس میں ایک بات سچ تو 99۔ لغو۔ اور بیس قدم آگے بڑھے ہوں گے کہ ایک وسیع میدان میں کوریوں کا ہجوم دیکھ کر ٹھٹک رہے۔ نرکل کی چٹائیاں بچھی ہیں۔ کوری اور کورنیں، چو طرفہ جمع ہیں۔ ایک کوری نوچہ، کشتی گیر، نیلا لہنگا پہنے لال لال پھریا اوڑھے، عورت کی قطع بنائے گیت گاتا ہے:
دل ہمارا تیری نجر ہےتو تو پیاری بے خبر ہے
اڑوسی پڑوسی تالیاں بجاتے ہیں۔ قہقہے لگاتے ہیں۔ مرچنگ بج رہا ہے۔ ہر سمت عیش و عشرت کے سامان ہیں۔ یہ اپنی دھن میں ناک کی سیدھ پر چلے جاتے تھے۔ آنکھ جھپکنے کی دیر نہ ہوئی تھی، کہ ایک نئے محلے میں پہنچے۔ چو طرفہ سناٹا۔ ہو کا عالم۔ جانور نہ آدم۔ کتنے تک دبکے پڑے ہیں۔ کوئی منکناہی نہیں۔ دروازے افیونیوں کی آنکھ کی طرح بند۔ کہیں بوڑھا نہ فرزند، حیرت تھی کہ با لعجب۔ اچھے شہر خموشاں میں گزر ہوا۔ جہاں ہر کوئی دیوار ہے۔ بادے کتے کی طرح ادھر ادھر سے بو کھلائے پھرتے تھے۔ بارے ایک دفعہ ہی آواز آئی، کہ (پو بار دو س) واللہ خوب ہی داؤں اٹھا۔ اب ان کی جان میں جان آئی کہ ہمجنس کی آواز تو خدا نے سنائی جس رخ سے کان میں یہ آواز آئی تھی، ادھر ہی چلے۔ پھر آواز آئی کہ وہ فرد بیٹ لی۔ دوسری آواز) واللہ ہاتھ چوم لے کیا موقع پر کچے پھینکے ہیں۔ (تیسری) خدا کی مار ایسے پانسے پر جب دیکھو بدی کر جاتا ہے۔ پہلے سہ کی بازی گئی۔ اب ششکی ہارے۔ اتنے میں ایک دروازہ کھلا اور پانچ سات سفید پوش، بھڑ بھڑا کر نکل پڑے۔ وہ شور و غل کہ کان پڑی آواز نہیں سنائی دیتی۔ کوئی کسی کی سنتا ہی نہیں۔ اپنی اپنی سب گاتے ہیں۔ کوئی پورب گیا، کوئی پچھم۔ ایک بزرگوار نے میاں آزاد کو دیکھا تو تعجب ہوا، کہ اجنبی اس وقت یہاں کیا کر رہا ہے۔
بزرگوار: کون۔ آپ کون صاحب ہیں؟
آزاد: ہم کوئی ہیں آپ اپنی کہیے۔
بزرگوار: اجی حضرت آپ تیکھے کیوں ہوئے جاتے ہیں، میں سیدھی بات کرتا ہوں، آپ ٹیڑھے ہوتے ہیں۔ ابھی ارقند از بر قند از دیکھ لے، تو کو توالی کا چبوترہ ہی دکھائے۔
آزاد: برقند از کی ایک ہی کہی، برقند ازوں سے تم ایسے قمار بازوں کو خوف ہے، یہاں ہم کو۔ یا ہم کو۔ یہاں تھانہ دار کا خوف نہ حولدار کا ڈر:
تو پاک باش برادر، مدار از کس باکزنند جامۂ ناپاک گازراں بر سنگ
بزرگوار: (دل ہی دل میں)۔ اچھے ٹیٹھ آدمی سے مڈبھیڑ ہوئی۔ ہاری مانتا ہے نہ جیتی۔ اپنی ہی سی کہے جاتا ہے۔ (آزاد سے) یا حضرت! اک ذرا سی بات کو آپ نے کتنا طول دیا قسم لیجیے جو میں نے آپ کو چور بنایا ہو۔ صرف اتنا پوچھا کہ حضور کہاں تشریف لیے جاتے ہیں۔ ائے بس اتنی سی بات پر آپ بگڑ اٹھے، لگے بے نقط سنانے۔
آزاد: خیر اگر بندے ہی کا قصور ہے، تو معاف فرمائیے، مگر خدا کے لیے اتنا تو ضرور بتائیے، کہ اس مکڑی میں کون کون ذات شریف جمع تھے اتنا ہم پر احسان کیجیے!
بزرگوار: ذات شریف، سبحان اللہ! خوب پہچانا۔ اے قبلہ یہ سب شریف زادے تھے۔ اہل قلم، عالی خاندان، معافی دود مان لائق فائق، بذلہ سنج، خوش فکر، تربیت یافتہ، دن بھر اپنے کام میں رہتے ہیں۔ شام سے آدھی رات تک۔ یہاں جمتے ہیں۔ چوسر، شطرنج، گنجفہ، چوہل، مذاق، پیاد گی، یہی عیش زندگی ہے:
بہارِ عمر ملاقاتِ دوستداران استچہ خط برد خضر از عمر جاوداں تنہا
آزاد: کیوں حضرت، بھلا کوئی اور مشغلہ بھی رہتا ہے۔ یا چکماہی اڑا کرتا ہے؟
بزرگوار: اور کیا چانڈو پئیں، سبزی اڑائیں، افیون گھولیں، تاڑی منگائیں، دس پانچ، ہم سن بیٹھے خوش گپی ہونے لگی۔ یاران چوری نہ پیران دغابازی۔
آزاد: اجی خدا کی مار، ایسے اشغال بیہودہ پر ہم حال ہی میں خوب غور سے تجویز کر چکے ہیں، کہ کرمی۔ کہار۔ لہار۔ نیچ قوم۔ دن بھر لہو پسینہ ایک کر کے شام کو خوش خوش گھر آتے ہیں۔ اور اپنے اپنے مذاق کے موافق طرح طرح کے اشغال میں مصروف رہتے ہیں۔ کوئی ڈھولی کوئی ہڑک بجاتا ہے۔ کوئی دن بھر کا تھکا ماندا مزے سے لیٹا ہوا کہانی کہہ کر اپنے عزیزوں کو خوش کرتا ہے۔ لیکن واہ رے شریف زادو، واہ رے اہل قلم۔ جب دیکھو گنجفہ ہو رہا ہے۔ ایک دو تین، لا بو جھ کو چھین، روسے چار جاکے برات عاشقاں بر شاخ آہو۔ سات اٹھ نو۔ تو برابر سو، پشت دکھا دو۔ وہ ناج! کیوں سچ کہنا کس تماش کی بوجھ نکالتے ہیں۔ آفت آیا ہے، سورج کند ھے ہیں۔ اب کی اللہ نے چاہا تو دو دستہ ہو۔ نادری چڑھے تو پھر دل لگی دیکھیے۔ ہفتوں، مہینوں، برسوں، پتوں ہی کی الٹ پھیر رہی۔ جب دیکھو ورق گردانی جیتے تو لتاش، ورنہ پشیمانی۔ واہ ری نادانی۔ بیسوں ڈدر ہو گئے، مگر طبیعت سیر ہوئی جوسر کی طرف جھک پڑے، تو ترہ کا کر دیا۔ بازی پر بازی، سہ اور پنج، اور شش، کے داؤں لگا رہے ہیں۔ آپس میں گتھم گتھا، گنخپ مار دھاڑ، لڑائی تکرار، رنگ بدرنگ کے پھیر میں عمر گنوائی پانسے پھینکتے پھینکتے ہاتھوں میں گٹھے پڑ گئے۔ لاحول ولاقوۃ۔ لکھنا پڑھنا چھوڑا۔ احباب سے ملنا ترک کیا۔ خط کتابت سے ہاتھ دھویا۔ جو پید اکیا وہ سب کھویا۔ مطالعہ کتب کا شوق، نہ اخبار بینی کا ذوق، صبح چوسر، شام چوسر، ادھر چوسر، اُدھر چوسر، الٰہی خیر، اور لطف یہ کہ بکار نے کو موجود کہ ہم شریف ہیں۔ تربیت یافتگی کا دم بھرتے ہیں۔ ہیچ مَن دیگرے نیست اور افعال ایسے قبیحہ دنیہ۔ ان سے تو کوری کہاری اچھے، کہ اپنے پیشے اور اپنی تھوڑی سی عقل کے موافق دلبستگی کی تو صورت نکالتے ہیں مانا کہ ان کے اشغال بھی تعریف کے لائق نہیں لیکن ایل مردوں کا پھیرلا اور ڈھ کر ٹھر کرنا، نفرت انگیز فعل ہے۔ مگر وہ منطق فلسفی تو نہیں۔ تربیت یافتہ علم سے آشنا، آپ تو دون کی لیتے ہیں۔ اور بااں ہمہ لن ترانی وہی ڈھاک کے تین پات۔ وقت فرصت ہوا کھائیے۔ کتبخانہ جائیے۔ جلسۂ تہذیب جائیے۔ کتب مفید مطالعہ کیجیے۔ لکچر یا تصانیف لطیف کی فکر معقول فرمائیے، تو ہم سمجھیں، کہ تربیت یافتہ ہیں۔ یہ نہیں کہ جواریوں کی طرح تہذیب کی خواری کریں۔ یکو اور کھیں آلا۔ اور کھیں سر اور اٹھارہ اور پانچ دو کے سوا اور کچھ نہ سیکھے اور ہر شب کو بدبدا گنجفے یا چوسر میں مغزن کی۔
رنگِ سیار
میاں آزاد زلف پریشاں کی یاد میں، رات بھر خواب پریشاں دیکھا کیے۔ ترک کے خواب خرگوش سے بیدار ہوئے، تو پھر سینچر پانؤں پر سوار ہو گیا، دو پہر تک بے آب و دانہ، ہر دم خیال وصل جانانہ۔ دو پہر ڈھلے ایک قصبے میں پہنچے۔ پیپل کے پیڑ کے سائے میں بستر جمایا۔ سبزۂ بیگانہ کو اپنا مسکن بنایا۔ پیپل کے دھانی دھانی پتوں کی رنگت پر جو نظر پڑی تو سبزان رنگیں ادا کا حسن برشتہ یاد آیا۔ کلیجے پر سانپ لوٹنے لگے۔ تھکے ماندے چلے آتے تھے۔ ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا کے جھوکوں سے ذرا دل کو ڈھارس ہوئی، پانؤں پھیلا کر لمبی تانی تو دنیا و ما فیہا کی خبر نہیں۔ جب خوب نیند بھر سو چکے، تو ایک مرد آدمی نے جگا دیا۔ الا اللہ کہہ کر اُٹھ بیٹھے۔ وحشت کسی قدر دور ہو گئی تھی۔ مگر پیاس کے مارے حلق میں کانٹے پڑ گئے تھے۔ سامنے اندارے پر ایک گلبدن، سیمتن عورت عجب نزاکت سے پانی بھر رہی تھی۔ حضرت بھی پہنچے۔
آزاد: کیوں نیک بخت! ہمیں اک ذرا سا پانی نہیں پلاتیں۔ بھر نا دو بھر ہو، تو لا ؤ ہم بھریں تم بھی پیو، ہم بھی پییں۔ احسان ہوگا۔
سیم تن: جواب نہ دار دیکھی چتون سے بھر پور نظر ڈالی۔ مگر قہر کی بھری ہوئی۔
آزاد: سخی سے سوم بھلا جو ترنت دیوے جواب۔ بیوی پانی پلا دیا ٹکا سا جواب دو۔ یہ قصبہ تو اپنے حق میں دشت کربلا ہو گیا۔ ایک بوند پانی کو ترس ترس گئے۔ اب تو آب خنجر کی چاہ ہے۔ ایک دفعہ دز دیدہ نگاہ سے پھر دیکھ لو، تو پانی بھی نہ مانگوں۔
سیم تن: (لب تک نہ ہلے۔ سکوت مگر ایک ناز معشوقانہ سے ظرف سیمیں بھر کر پانی لے چلی)۔
آزاد: بھئی اچھا گاؤں ہے۔ جو بات ہے انوکھی، جو ریت ہے نرالی۔ ایک آ بخورہ پانی نہ ملا، واہ ری قسمت! لوگ تو اس بھادوں کی جلتی بلتی دھوپ میں پوشائے بٹھاتے ہیں۔ کیوڑ اپڑا ہوا آب سرد پلاتے ہیں۔ یہاں کٹوروں کی جھنکار نہ سبیل ہے نہ حسین کی پکار۔
میاں آزاد کو حیرت تھی کہ یہ کسن نازنین، یہ مشک افشاں بال، اور مستانہ چال، یہاں ویرانے میں اس کا کیا کام، سائے کی طرح ساتھ ہو لیے، وہ کنکھیوں سے دیکھتی جاتی تھی۔ مگر منہ نہیں لگاتی تھی۔ بارے سڑک سے دائیں ہاتھ پر ایک خوشنما پھاٹک کے قریب، وہ گلفام سیم اندام ٹھہر گئی۔ ظرف سیمیں کو دوسرے ہاتھ میں لیا۔ اور پیڑ کے سایے میں بیٹھ کر ستانے لگی۔
آزاد: ہم بھی ہمراہ رکاب ہیں۔ ہم تاڑ گئے کہ نزاکت کے مارے یہ ہلکا پھلکا برتن ہی پہاڑ ہو گیا۔ اشارے کی دیر ہے۔ ذرا لب ہلا ؤ، تو ہاتھ بٹا لوں۔ قسم لو جو ایک قطرہ بھی پیوں۔ گو پیاس کی شدت سے کلیجہ منہ کو آتا ہے۔ دم نکلا جاتا ہے، اور چاہوں تو چھین لوں۔ لیکن تمھارا دل دکھانا منظور نہیں۔ اس میں چاہے جان پر بن آئے۔ افسوس یہ چہرۂ نورانی، اور یہ نامہربانی!
اُس ناطورۂ طاؤس تادیب و عابد فریب نے پھر اس برتن کو بڑی کوشش سے اٹھایا، اور پھاٹک کے اندر رہ ہو رہی۔ میاں آزاد نے ایک دردانگیز آواز سے حسب حال ایک شعر پڑھا اور چیکے چپکے خود بھی پھاٹک میں دبے پاؤں، اس گل عذار کے پیچھے پیچھے گئے۔ وہ رعنا شمائل، ایک کھلے ہوئے چھوٹے سے بنگلے میں جا بیٹھی، میاں آزاد ایک روش میں دبک رہے۔ گو شیطان در غلا تا تھا، کہ چل کر زلف چلیپا کی بلائیں لیں، مگر ڈر تھا کہ کہیں یہ کالی ناگنی ڈس نہ جائے۔ اور تہذیب بھی مانع تھی۔ جی بھر بھر اتا تھا۔ مگر قدم آگے نہیں بڑھتا تھا:
تنگ آیا ہوں نہایت خاطر مشتاق سےہر گھڑی کہتی تھی چل ہر وقت سمجھاتی تھی ہاں
اب اُس فرح بخش دل لکشا، مقام ندرت القیام کا ذکر سنیے۔ چوطرفہ کھائی کھدی ہوئی، آٹھ آٹھ گز گہری، سرپت اردگرد دبوئی ہوئی۔ ایسی گھنی کہ چڑیا تک کا گذر نہ ہو سکے۔ اور وہ تیز کر تلوار گرد۔ بڑا عالیشان محراب دار پھاٹک لگا ہوا ہے۔ وہ جو ہر دار شیشم کی لکڑی کر بایدو شاید۔ کیاریاں۔ در نیچی جاتی تھیں۔ روشوں پر سرخی کٹی تھی۔ اشجار پر بہار، گویا آسمان سے باتیں کرتے ہیں۔ کہیں انار کی قطار، کہیں لکھوٹ کی بہار۔ ادھر انبہ لذیز شیریں، اُدھر امرود دھلوائے بے دود۔ چکوتروں اور مہتابیوں سے ٹہنیاں پھٹی پڑتی تھیں۔ نارنگی اور میٹھے شاخوں پر لدے تھے۔ پھولوں کی بو باس۔ کہیں گل منہدی۔ کہیں گل عباس، نواڑی پھولی ہوئی، چو طرفہ عالم نور ہے۔ ہر سمت لطف موفور ہے۔ ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا، اودی اودی گھٹا، کلیوں کی چٹک۔ جوہی کی بھینی مہک، کلتھے کی دہک، کنیل کی دمک، وسط باغ میں ایک تین فٹ کا اونچا پکا مربع، چبوترہ بنا ہے۔ اور ایک کونے میں چھوٹا سا خوشنما بنگلہ ہے۔ اغل بغل دو ایک صاف ستھری کوٹھریاں۔ یہ تو سب کچھ ہے مگر مکین کا پتہ نہیں۔ اس سیم تن کی چال ڈھال، اور طرز نشست سے اجنبیت برستی تھی۔ حیرت تھی کہ اس باغ لطافت بار کے مکین سلیقہ شعار کہاں چھپ رہے:
باغ ہے پر عجب ہے یہ رو دادنہ کہیں آدمی نہ آدم زاد
گل ہیں سب اپنی اپنی جوبن پربوئے گل ہے صبا کے توسن پر
ہے عجب لطف پر شگوفہ و گلکہیں شبو کھلی کہیں سنبل
انھوں نے دیکھا کہ وہ بت طناز، سرمایۂ ناز، ظرف سیمیں زمین پر پٹک کر ایک نواڑی نار پلنگڑی پر سو رہی۔ اب تو ان کو خوب ہی موقع ملا۔ اٹھے اور میوہ تر جس قدر جی چاہا خوب چھک کر کھائے۔ اور اس ظرف سیمیں کو منہ سے لگایا، تو ایک ایک قطرہ پی گئے۔ اتنے میں پانؤں کی آہٹ سنائی دی، میاں آزاد جھٹ انگور کی ٹٹی میں چھپ رہے۔ مگر تاک لگائے بیٹھے ہیں، کہ دیکھیں ہے کون؟ دیکھا تو پھاٹک کی جانب سے کوئی آہستہ آ رہا ہے۔ قریب آیا تو آنکھوں نے بغور نظر ڈالی۔ ایک کشیدہ قامت لحیم و شحیم، ڈنڈ پیل، چٹ لنگوٹ باندھے، اکڑتا اینڈتا، اس بنگلہ کی طرف جاتا ہے۔ سمجھے کہ کوئی پہلوان کشتی گیر اپنے اکھاڑے سے واپس آتا ہے۔ قریب آیا تو یہ گمان دور ہو گیا۔ معلوم ہوا کہ کوئی شاہ جی ہیں۔ وہ چٹ لنگوٹ جس سے پہلوان کا دھوکا ہوتا تھا۔ تہ بند نکلا۔ شاہ صاحب سیدھے بنگلے میں داخل ہوئے۔ سیم تن کو پلنگڑی پر سوتا پایا۔ ایک دفعہ ہی پلنگڑی پر ہاتھ مار کر چلا اٹھے۔ اٹھ حکم معبود! وہ زن رعنا شمائل، گھبرا کر اٹھ بیٹھی۔ اٹھتے ہی قدم لیے۔ شاہ جی نے فرط شفقت سے اس کی جبین نورانی اور چین پیشانی پر بوسہ دیا۔ اور ایک تپائی پر بیٹھ کر یوں تقریر کرنے لگے۔
شاہ جی: بیٹی آج تم کو ہمارے سبب سے بہت راہ دیکھنی پڑی۔ ایک گانؤں میں یہاں سے دس کوس پر، ایک راجہ رہتا ہے مگر انشی برس کا ہو گیا۔ اللہ نے اسے لڑکا دیا نہ لڑکی۔ ایک دن مجھے بلوایا، میں کہیں کو جاتا آتا تو ہوں نہیں۔ وہ رانی کو لے کر آپ آیا۔ قدموں پر گر پڑا۔ میں نے رانی کے سر پر ایک گلاب کا پھول بن سونگھا دے مارا۔ پانچویں ہی مہینے اللہ نے لڑکا دیا۔ راجہ میرے پاس دوڑ آتا تھا، کہیں راہ میں ملا۔ دیکھتے ہی مجھے رتھ پر بٹھا لیا۔ کہتا ہے روپیہ لو، جاگیر لو، گانوں لو، ہاتھی گھوڑے لو، مگر میں کب مانتا ہوں۔ اس وقت پیچپا چھوٹا تم پانی لائی ہوگی۔ تو میں بھونک دوں گا جس میں تم نا محروم نہ رہو۔
سیم تن: میں آپ کی لونڈی ہوں۔ یہی کیا کم ہے کہ آپ کی زیارت نصیب ہوئی۔ پانی دھرا رکھا ہے۔ آپ بھونک ڈال دیں، تو میں رخصت ہوں۔ یہ کہہ کر سیم تن اٹھی، دیکھا تو ظرف موجود مگر پانی ندارد۔ ایں یہ پانی کیا ہوا۔ زمین کھا گئی، آسمان کھا گیا۔ ابھی پانی رکھا۔ ابھی دیکھتے ہی دیکھتے اُڑ گیا۔ ہے ہے شاہ صاحب آپ کے پاس میں جھوٹی بنی۔ میری بڑی کر کری ہوئی، زمین پھٹ جائے تو میں دھنس جاؤں۔ اے لو غضب خدا کا ایک بوند تک نہیں۔ اللہ جانتا ہے کباب لب بھرا ہوا تھا۔
شاہ جی: بتا دوں؟ اچھا۔ اب بے چین نہ ہو۔ مجھے اشراق سے معلوم ہو گیا کہ تم آئی ہو۔ جب تم سو رہیں۔ تو میں نے آنکھ بند کی اور یہاں پہنچ گیا۔ پانی پیا پھر آنکھ بند کی اور راجہ کے پاس ہو رہا۔ پھونک ڈالنے کی ساعت اسی وقت تھی۔ ٹل جاتی تو پھر ایک مہینے پر بات جاتی۔ یہ الاپچی لو اور کل آدھی رات کو کسی مرگھٹ پر دفنا دو۔ بس مطلب حاصل ہو جائے گا۔
سیمتن نے الاپچی لی اور اسی دم واپس گئی۔ میاں آزاد چپکے چپکے سب سن رہے تھے اب انھیں خوب ہی معلوم ہو گیا کہ شاہ جی رنگ سیار ہیں۔ آفتابے کا پانی تو انھوں نے پی لیا تھا اور شاہ صاحب نے معایہ بٹی کر آنکھ بند کرتے ہی یہاں آئے۔ اور پانی پی کر کسی ترکیب سے چل دیے یہ سن کر آزاد خوب کھل کھلا کر ہنس پڑے۔ شاہ جی کی باتوں سے ان کے دل پر نقش ہو گیا کہ بڑے ہی ذات شریف ہیں۔ اتنا بڑا جھوٹا نہ دیکھا نہ سنا ایسے بڑے ولی اللہ ہو گئے، کہ ان کی دعا سے ایک رانی پانچویں مہینے بچہ جن پڑی۔ اس کذب پر خدا کی سنوار۔ جھوٹ بھی کوتنا اور علم اشراق میں بھی حضور کو بڑا دخل ہے۔ چشم بد دور، حق تو یوں ہے کہ جھوٹوں کے سردار ہیں۔ مگر پٹے بڑھا لیے۔ تہ بند باندھ کر شاہ جی بن گئے لگے بچنے، کوئی بیٹا مانگتا ہے، کوئی تعویذ کا خواستگار ہے۔ کوئی کہتا ہے کہ میرا مقدمہ حبوا دد، تو حق خدمت بجا لاؤں، کوئی کہتا ہے کہ فلاں عہدہ دلوا دیجیے تو مٹھائی کھلاؤں۔ اتفاقی وقت سے مطلب برآیا، تو شاہ صاحب کی چاندی ہے، ورنہ مجال کس کی کر شکایت کا لفظ زبان تک لائے۔ ڈر ہے کہ کہیں زبان نہ سڑ جائے۔ اللہ ری دھاک، بہت سے دشمن عقل ان بنے ہوئے فقیروں کے دام تزویر میں پھنس جاتے ہیں۔ بعض بعض تو معاذ اللہ انھیں دوسرا خدا سمجھتے ہیں۔ خدا ایسے خیالات مزخرف سے بچائے۔ میاں آزاد اس درویش معمر کی گفتگو سے سمجھ گئے تھے کہ پڑھے لکھے خاک بھی نہیں ہیں، ورنہ (بر سبب) اور (نا محرم) نہ کہتے۔ بھلا ان پڑھ، کندۂ ناتراش، بھی کہیں مسلک خدا شناسی کے مالک ہو سکتے ہیں۔ اور غیب کی بات تو جناب باری عز اسمہ کے سوا اور کوئی جانتا ہی نہیں۔ یہ شاہ جی بے چارے کیا کھا کر بتائیں گے۔ یہ سب باتیں ہیں۔ ضعیف الاعتقاد آدمی، ایسے جاہل، مکاروں کے بھر وں میں آئیں، تو آئیں۔ ہم بھلا کب پھنسنے والے ہیں۔ اے توبہ! یہاں طفلی ہی سے فقیروں کے قائل نہ ہوئے اور ان شاہ جی نے تو کذب کے پل باندھ دیے۔ وہ بے چاری عورت ناقص العقل، دنیا کے حالات سے واقف نہیں، جس کا جی چاہا بہکا دیا۔ ہم ایسوں کو شاہ جی چکا دیں، تو ٹانگ کی راہ نکل جاؤں۔
Что оставила в вас эта глава?
Войдите, чтобы отреагировать
Обсуждение
Пока никто не высказался. Расскажите, что всколыхнула в вас эта глава.