Urdu in Translation
Recherche

Chapitre 4 sur 8

A Lucknow Wedding, Two Anecdotes, and the Flood of Love

لکھنؤ کی ایک شادی، دو لطیفے اور بحرِ عشق کی طغیانی

Ratan Nath Sarshar

Écriture
Taille

سبزان چمن کا جوبن اور گرمیٔ ہنگامۂ عشق عقل دشمن

ہنوز ایں اول عشق ست جاناں گریہ کمتر کنکہ ایں طوفان رسوائی ست عالمگیر خواہد شد

میاں آزاد کی وحشت دل دور اور شیشۂ جنوں کے چکنا چور کرنے کے لیے اب جو ایک نزہت افزا، اور پر فضا باغ آراستہ ہوا، احباب صافی مزاج، و بذلہ سنج، مرنجان مرنج نے بھی ان کی دل جوئی کے لیے وہاں ہی بستر جمایا۔ صلاح ہوئی کہ ہر روز دنیائے دوں کی بے ثباتی اور عشق خانہ خراب کے معیار ذاتی ہی کی گفتگو ہو تا کہ آزاد کا دل ان باتوں سے پھر جائے اور پھر کسی شمع رو کے رخ آتشیں سے لو نہ لگائے۔ شاید اس پند و موعظت سے اس ڈھرے کو چھوڑ کر راہ راست پر آوے، اور گمراہی سے نجات کلی پائے۔ سوچ کر کبھی کبھی اور تذکرے بھی ہوا کریں، ورنہ اگر حسن و عشق ہی کی مذمت کی تو مبادا اکھنک جائے احباب خدا ترس، دقیقہ رس، خورشید ضمیر، صبح نفس، نے طرح طرح کی دلچسپ دلپذیر حکایتیں کہنا شروع کیں۔

اوج: ہندوستان جنت نشان کے ایک شہر نزہت آگیں، ولینو آئین، میں ایک خسرو کج کلاہ و گیتی پناہ، نے اپنی بیگم سے کہ چندے آفتاب، و چندے ماہتاب، تھی سوتے وقت کہا کہ ہمیں صبح صادق سے پہلے جگا دینا۔ اتفاق سے اس شب کو مرغ نے آدھی ہی رات سے ککڑوں کوں کی بانگ لگائی۔ وہ مست چشم، جادو نگاہ، خواب ناز سے بیدار ہو گئی، اور حسب وعدہ بادشاہ جم جاہ کو جگا دیا۔ بادشاہ نے دیکھا کہ صبح صادق کیا معنی؟ ابھی سحر کاذب بھی نہیں۔ شیطان نے پٹی پڑھا دی کہ دال میں کچھ کالا ہے۔ نہایت ہی بد دماغ ہوئے۔ غصے کے تھرما میٹر کا پارہ ایک سو پندرہ درجے پر پہنچا۔ زبان حال و قال سے یہی صدا نکلتی تھی:

تو شبینہ می نمائی کہ بر کر بودی امشبکہ ہنوز چشم مستت اثر خمار دارد

جھلا کر شمشیر خوش غلاف ہاتھ میں لے باہر نکل آئے، چہرہ مارے غصے کے سرخ، جیسے بیر بہوٹی۔ بآواز بلند سر بریدن لازم ست کہتے جاتے تھے۔ آنکھوں سے خون ٹپک رہا تھا۔ ایک شاعر موزوں طبع نے بھاپ لیا، کہ کیا اسرار ہے۔ حاضر جوابی کے صدقے، فی البدیہہ اور برجستہ یہ شعر زبان پر لایا:

سر بریدن لازم ست ایں مرغ بے ہنگام راآں پری پیکر چہ داند وقت صبح و شام را

واللہ آگے کے شعرائے رنگیں خیال، و شیریں مقال، غیب کی باتیں بھی جانتے تھے۔

آزاد: لاحول ولا بھئی کتنی بھونڈی بات کہی۔ شعر تو غضب کا ہے مگر۔ ؏ عالم الغیب کیست غیر از حق۔ شعراء عروض، بحر ضائع و بدائع جائیں غیب دانی سے انھیں کیا سروکار۔ ایشیا کی ضعیف الاعتقادی پر خدا کی سنوار۔ بندۂ درگاہ آج تک غیب دانی کے قائل ہی نہیں ہوئے۔ بارے شکر ہے، کہ آپ نے برسوں کے بعد آدمیت کی بات تو کی۔ پڑھے جن ہو، تمھارا شیشے میں اتارنا کارے دارد۔ اپنی حرکات پر لعنت نہیں بھیجتے کہ گرداب عشق میں غوطے کھار ہے ہو۔ ایشیا کے خیالات پر شیر ہو۔ اپنی خبری نہیں۔

میاں آزاد تھوڑی دیر کے لیے آدمی بن گئے تھے، مگر عشق کا حرف درمیان میں آیا اور ہوش اڑ گئے۔ جنون سر پر چڑھ بیٹھا۔ اس سرد، جو بہار رعنائی اور گلبن گلزار دلربائی کا بوٹا سا قد آنکھوں میں پھر گیا۔ مطرب کی ناخن بازی، اور اس خوش گلو کی نازک آواز یاد آ گئی۔ اب غم ہجران یار ہے، یا آہ آتش بار۔ سینہ بریاں اور دیدۂ گریاں، حیران و پریشان۔ سراسیمہ و سرگرداں، حسب حال اشعار حسرت بار، نوک زبان ہیں:

درونِ سینۂ من زخم بے نشان زدہبحیرتم کہ عجب تیر بے کماں زدہ

در قفس بسیار ناشادیم مااز فراموشان صیادیم ما

چمن کا رنگ تجھ بن اپنی آنکھوں میں مبدل ہےچراغ لالہ چشم غول ہے، گلزار جنگل ہے

بہار آئی ہے ہنگام جنوں ہے کپڑے پھٹتے ہیںمسلسل ہوں میں دیوانہ درِ زنداں مقفل ہے

ہاتھ مشتاقِ گریباں ہے جنوں کا جوش ہےپیرہن تن پر مرے گرمی کا بالا پوش ہے

یاروں نے دیکھا کہ پھر سیلاب جنوں کا جوش ہے۔ پھر رخصتِ عقل و ہوش ہے، ناچار بلیغ نے ایک اور ذکر چھیڑا۔

بلیغ: حضرت اپنا تو یہ مقولہ ہے کہ ع۔ معشوق کیجیے تو پری زاد کیجیے۔ ہم ظاہری حسن و جمال کے شیفتہ، نہ خط و خال کے فریفتہ۔ روئے خوش کے ساتھ خوئے خوش بھی ہو تو ہم ہزار جان سے اس گل کے بلبل ہو جائیں ورنہ:

نشاید ہوس باختن با گلیکہ ہر بامدادش بود بلبلی

ایسا عشق باعث خواری ہے۔

نقل ہے کہ ایک شیخ ملکوتی صفات اشرف المخلوقات کی طبیعت لہرائی کہ سیر دریا کریں۔ خراماں خراماں چلے جاتے تھے۔ راہ میں ایک نو عروس پری پیکر، برہنہ سر لب بام کھڑی تھی۔ شیخ نے کہا اے سرمایۂ ناز! سر کو ڈھک لے۔ اس جادو جمال نے جواب دیا، کہ آنکھیں بند کر لے۔ شیخ نے کہا میں عاشق ہوں۔ کہیں عاشق زار آنکھیں بند کرتے ہیں۔ اس غیرتِ ماہ نے عین مستی میں کہا میں مستانہ ہوں۔ مجھے سر ڈھکنے سے کیا کام۔ اور معایہ شعر بہ لحن باریدی پڑھا:

این موی نیست بر سر من بلکہ خارِ عشقدر پائے من خلیدہ واز سر بر آمدہ

شیخ مبارک نہاد، سنتے ہی جاں بحق تسلیم ہوئے۔ انا للہ و انا الیہ راجعون، عاشقی خارجی کا گھر نہیں ہے۔ عشق بازی، سر بازی ہے۔ مگر کوئی معشوق تو ہو، مردانا کا معشوق مسلک نیک ہے۔

شمیم: واللہ لب جوئبار، یہ گلزار پر بہار، ایسا لطف دکھاتا ہے کہ غنچۂ دل نسیم طرب کے اہتزاز سے کھلا جاتا ہے۔

لکھنؤ کی ایک شادی

ایام شاہی میں ایک مرتبہ بُری کیفیت ہوئی تھی۔ اعیان و دولت میں سے ایک رکن رکین سلطنت کی دختر فرخندہ اختر کی شادی اس دھوم دھام سے ہوئی، کہ پیر فلک نے باوصفِ پیرانہ سالی، اس دھوم کی شادی دیکھی نہ سنی۔ عین گومتی کے کنارے جشنِ جمشیدی، بڑے کر و فر سے منعقد ہوا۔ وہ دھوم، وہ ہجوم کر وصل و جبل۔ نور چراغاں سے یہی معلوم ہوتا تھا کہ رات رشک لیلۃ القدر ہے۔ غیرت لیلۃ البدر ہے۔ جدھر جاؤ نورِ موفور برس رہا ہے۔ لبِ دریا اس پارہ خیموں کی قطار۔ این روئے دریا۔ نو عروسانِ چمن کا نکھار۔ ہر دم برجوں پر شاہدانِ جادو جمال، دشتری خصال، مصروف رقص و سرود ہیں۔ مطرب کا ہاتھ ساز پر۔ رنگین مزاجوں کے کان آواز پر۔ کہیں زمزمۂ مرغان فزا، کہیں نغمۂ طرب انتما۔ بھبھوکوں کی بھینی بھینی مہک، سبزے کی لہک، مرغانِ خوش الحان کی نوا سنجی۔ گل و بلبل کی شکر ریزی۔ میلے کی سی رونق تازہ، اور سرورِ بے اندازہ۔ دریا خوب چڑھا ہوا ہے۔ یہ ٹھنڈا اچھل رہا ہے۔ جاب آئینہ بدل رہے ہیں، اور رنگین بجرے چھوٹے ہوئے ہیں۔ لاکھوں تماشائی۔ غرض کہ بڑے دھوم م دھڑکے اور ٹھسے سے شادی ہوئی۔ کئی دن برابر دھما چوکڑی رہی۔ مگر آنکھ کھلی تو سب خواب اور نقش بر آب تھا۔ رہے نام اللہ کا۔

آزاد: وہ نرگس غمزہ زن، وہ زلفِ پر شکن۔ وہ شوخ پر فن، وہ گل سا بدن:

قدو قامت آفت کا ٹکڑا تمامقیامت کرے جس کو جھک کر سلام

ہائے! ع۔ جسے دلدار سمجھا تھا وہ دلبر نکلا، پند و نصیحت مرہم زخم جگر ہو گیا:

منع کرتا ہے مجھے یار کے گھر جانے کوناصحا آگ لگے اس ترے سمجھانے کو

انوار: اس وقت ایک لطیفہ یاد آیا۔ سناؤں تو ہنستے ہنستے پیٹ میں بل پڑ پڑ جائیں۔ لوٹن کبوتر کی طرح لوٹنے لگو۔

ایک لطیفہ

نقل ہے کہ ایک صاحب نے اپنے غلام کو، کہ صاحب طبع لطیف، و بذلہ سنج تھا، حکم دیا جا کر بازار میں تاک لگائے۔ اگر انگور ہاتھ آئے تو فوراً خرید لائے۔ غلام نے ایک دلبر میوہ فروش ستم گار و ستم کوش، کی دکان سے کئی خوشے خرید لیے، اور مٹر گشت کرتے ہوئے خراماں خراماں آقا کے پاس لے گیا۔ وہ نہایت ہی بد دماغ ہوئے۔ فرمایا کہ ذرا سا کام اور یہ تاخیر اتنی دیر میں تو میں لندن ہو آتا۔ ایسا کاہل دیکھا نہ سنا۔ خبردار آج سے اگر ایک کام کو بھیجوں، تو ہاتھوں ہاتھ چار کام انجام دے لانا۔ غلام نے دست بستہ عرض کیا کہ پیر و مرشد! اس مرتبہ معاف فرمائیں انشاء اللہ آئندہ ارشاد واجب الانقیاد کی لفظ بہ لفظ تعمیل ہوگی۔ دوسرے دن خواجہ کسی زبان دراز، اور گستاخ، کینزک عشوہ پرواز پر ایسے گرمائے کہ تپ چڑھ آئی۔ غلام کو حکم دیا کہ کسی طبیب لبیب کو بلا ؤ۔ وہ فور آ گیا اور طبیب کے علاوہ اور چند آدمیوں کو بھی ساتھ لایا۔ خواجہ نے پوچھا کہ یہ جماعت کیسی ہے۔ ہم نے حکم دیا تھا کہ طبیب کو بلاؤ تم اتنے آدمیوں کو کیوں ساتھ لے آئے۔ غلام نے بعد ادب عرض کی کہ خدا وند، حضور تو بھول بھول جاتے ہیں۔ ابھی تو کل ہی تاکید اکید کی تھی کہ اگر ایک کام کا ارشاد کر دوں، تو کوئی کام بالعجلت تمام سر انجام دے لانا۔ الا مر فوق الادب، ایجئے آج دم کے دم میں میں نے اتنے کام کیے۔ قدر دانی شرط ہے۔ حکیم جی کو حسب الحکم حضور بلا لایا کہ تشخیص مرض کر کے معالجہ کریں۔ اور ادھر ہی سے پکا ہوا آگیا، مطرب خوش الحان کو ساتھ لایا کہ اگر خداوند عروس صحت سے ہم آغوش ہوں تو قوال کی خوش آوازی۔ اور ناخن بازی، سے بزم طرب آراستہ ہو۔ غسّال کو بھی لیتا آیا کہ زندگی کا کیا بھروسہ، اگر پیک اجل حضور کو خلد علیّین کی سیر دکھائے تو غسال جھٹ پٹ غسل دے دے۔ ادھر سے ایک شاعر جادو بیان اور طلیق اللسان کو ہمراہ لیا کہ مرثیہ موزوں کرے۔ اب باقی کون رہا۔ گور کن۔ وہ بھی بات کی بات میں آن موجود ہوگا۔ مطمئن رہیے۔ اب انصاف میرے آقائے نامدار کے ہاتھ ہے۔ غلام نے انعام ہی کا کام کیا ہے۔ آئندہ اختیار بدست مختار۔

لطیفہ

شرف: حضرت ایک لطیف بندے کو بھی یاد آ گیا، ایک تذکرے میں نظر سے گزر کر ایک رند، رندے آشام نے وقتِ نزع اپنے احباب کو وصیت کی، کہ یار و ہم پر اتنا احسان کرو کہ کہیں سے باد آدم کے وقت کا پُرانا دھرا ناسٹرا گلا کفن لا رکھو۔ جب ہم دم توڑیں تو اسی کفن کہنہ میں لپیٹ کر ہمیں گور میں دفنا دینا۔ لوگ متحیر ہوئے کہ یہ عجب انوکھی بات ہے پوچھا اس سے فائدہ۔ حضرت نے آہ سرد بھر کر بعد حزن و ملال، زیر لب کہا کہ بھئی ہم تمام عمر پرلے سرے کے بد معاش، اور آوارہ و عیاش رہے۔ یاد الٰہی سے طبیعت نفور تھی، منہیات و معصیات سے بالکل اجتناب نہ کیا۔ خوب شراب لنڈھائی۔ خود بھی پی، اوروں کو بھی پلائی۔ دن رات بتوں ہی کے کوچے میں پڑے رہے۔ نماز کے قریب نہ پھٹکے۔ جو فعل کیا خلاف شرع، جو کام ہوا منافی تہذیب:

وہ ایسا کون سا معشوق ہے جس کو نہیں چاہایہ فردیں جتنی ہیں ان پر ہماری بھی نشانی ہے

اب ہم سوچتے ہیں کہ بار خدا یا۔ ہمارا سر انجام کیا ہوگا۔ ہیں تو ہم اسی قابل، کہ نار جہنم میں جلائے جائیں۔ مگر ایک تدبیر سوجھ گئی۔ پُرانے کفن میں ہماری نعش ہوگی۔ منکر نکیر آئیں گے۔ کفن کہنہ دیکھ کر سمجھیں گے کہ مردہ دیرینہ ہے۔ ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا کھائیں گے۔ ہم اسی حیلے سے نجات پائیں گے:

دوزخ مجھے قبول ہے اے منکر و نکیرلیکن نہیں دماغ سوال و جواب کا

حبیب لبیب: ایسے بھونڈے عشق خانہ خراب، کا یہی انجام ہے۔

Que vous laisse ce chapitre ?

Connectez-vous pour réagir

Discussion

Personne n’a encore parlé. Dites ce que ce chapitre a remué en vous.

Ce chapitre vous a plu ? Partagez-en une ligne.