
الفصل 9 من 9
Кыты и рубаи
Qit'as and Ruba'is
قطعات و رباعیات
قطعات
قطعہ در نمایشِ عنوانِ دلاویزیِ گفتار و آسان کردنِ اندوہِ پشیمانی بر دلِ دلدار
گئے وہ دن کہ نا دانستہ غیروں کی وفاداریکیا کرتے تھے تم تقریر، ہم خاموش رہتے تھے
بس اب بگڑے پہ کیا شرمندگی، جانے دو، مل جاؤقسم لو ہم سے گر یہ بھی کہیں کیوں ہم نہ کہتے تھے
قطعہ در ستایشِ کلکتہ
کلکتے کا جو ذکر کیا تو نے ہم نشیںاک تیر میرے سینے میں مارا کہ ہائے ہائے
وہ سبزہ زار ہائے مطرا کہ ہے غضبوہ نازنیں بتانِ خود آرا کہ ہائے ہائے
صبر آزما وہ ان کی نگاہیں کہ حف نظرطاقت ربا وہ ان کا اشارا کہ ہائے ہائے
وہ میوہ ہائے تازۂ شیریں کہ واہ واہوہ بادہ ہائے نابِ گوارا کہ ہائے ہائے
چکنی سپاری پر قطعہ
ہے جو صاحب کے کفِ دست پہ یہ چکنی ڈلیزیب دیتا ہے اسے جس قدر اچھا کہیے
خامہ انگشت بہ دنداں کہ اسے کیا لکھیےناطقہ سر بہ گریباں کہ اسے کیا کہیے
مہرِ مکتوبِ عزیزانِ گرامی لکھیےحرزِ بازوئے شگرفانِ خود آرا کہیے
مسی آلود سر انگشتِ حسیناں لکھیےداغِ طرفِ جگرِ عاشقِ شیدا کہیے
خاتمِ دستِ سلیماں کے مشابہ لکھیےسرِ پستانِ پری زاد سے مانا کہیے
اخترِ سوختۂ قیس سے نسبت دیجےخالِ مشکینِ رخِ دلکشِ لیلیٰ کہیے
حجر الاسودِ دیوارِ حرم کیجے فرضنافہ آہوئے بیابانِ ختن کا کہیے
وضع میں اس کو اگر سمجھیے قافِ تریاقرنگ میں سبزۂ نوخیزِ مسیحا کہیے
صومعے میں اسے ٹھہرائیے گر مہرِ نمازمے کدے میں اسے خشتِ خمِ صہبا کہیے
کیوں اسے قفلِ درِ گنجِ محبت لکھیےکیوں اسے نقطۂ پرکارِ تمنا کہیے
کیوں اسے گوہرِ نایاب تصور کیجےکیوں اسے مردمکِ دیدۂ عنقا کہیے
کیوں اسے تکمۂ پیراہنِ لیلیٰ لکھیےکیوں اسے نقشِ پئے ناقۂ سلمیٰ کہیے
بندہ پرور کے کفِ دست کو دل کیجے فرضاور اس چکنی سپاری کو سویدا کہیے
رباعیات
رباعی ۱
بعد از اتمامِ بزمِ عیدِ اطفالایامِ جوانی رہے ساغر کشِ حال
آ پہنچے ہیں تا سوادِ اقلیمِ عدماے عمرِ گزشتہ یک قدم استقبال
رباعی ۲
شب زلف و رخِ عرق فشاں کا غم تھاکیا شرح کروں کہ طرفہ تر عالم تھا
رویا میں ہزار آنکھ سے صبح تلکہر قطرۂ اشک دیدۂ پرنم تھا
رباعی ۳
آتش بازی ہے جیسے شغلِ اطفالہے سوزِ جگر کا بھی اسی طور کا حال
تھا موجدِ عشق بھی قیامت کوئیلڑکوں کے لیے گیا ہے کیا کھیل نکال
رباعی ۴
دل تھا کہ جو جانِ دردِ تمہید سہیبیتابیِ رشک و حسرتِ دید سہی
ہم اور فسردن اے تجلی افسوستکرار روا نہیں تو تجدید سہی
رباعی ۵
ہے خلقِ حسد قماش لڑنے کے لیےوحشت کدۂ تلاش لڑنے کے لیے
یعنی ہر بار صورتِ کاغذِ بادملتے ہیں یہ بدمعاش لڑنے کے لیے
رباعی ۶
دل سخت نژند ہو گیا ہے گویااس سے گلہ مند ہو گیا ہے گویا
پر یار کے آگے بول سکتے ہی نہیںغالب منہ بند ہو گیا ہے گویا
رباعی ۷
دکھ جی کے پسند ہو گیا ہے غالبدل رک رک کر بند ہو گیا ہے غالب
واللہ کہ شب کو نیند آتی ہی نہیںسونا سوگند ہو گیا ہے غالب
مشکل ہے زبس کلام میرا اے دلسن سن کے اسے سخنورانِ کامل
آساں کہنے کی کرتے ہیں فرمائشگویم مشکل وگر نگویم مشکل
رباعی ۸
بھیجی ہے جو مجھ کو شاہِ جم جاہ نے دالہے لطف و عنایاتِ شہنشاہ پہ دال
یہ شاہ پسند دال بے بحث و جدالہے دولت و دین و دانش و داد کی دال
رباعی ۹
ہیں شہ میں صفاتِ ذوالجلالی باہمآثارِ جلالی و جمالی باہم
ہوں شاد نہ کیوں سافل و عالی باہمہے اب کے شبِ قدر و دوالی باہم
ما الذي تركه هذا الفصل فيك؟
سجّل الدخول للتفاعل
النقاش
لم يتكلم أحد بعد. قل ما حرّكه هذا الفصل فيك.