
الفصل 6 من 9
الغزليات ١١٢–١٣٣ (رديف الياء)
Ghazals 112–133 (Radif Ye)
غزلیں ۱۱۲ تا ۱۳۳ (ردیف ی)
۱۱۲۔ نِکوہِش ہے سزا فریادئِ بیدادِ دِلبر کی
نِکوہِش ہے سزا فریادئِ بیدادِ دِلبر کیمبادا خندۂ دنداں نما ہو صبح محشر کی
رگِ لیلیٰ کو خاکِ دشتِ مجنوں ریشگی بخشےاگر بو دے بجائے دانہ دہقاں نوک نشتر کی
پرِ پروانہ شاید بادبانِ کشتئ مے تھاہوئی مجلس کی گرمی سے روانی دَورِ ساغر کی
کروں بیدادِ ذوقِ پَر فشانی عرض کیا قدرتکہ طاقت اُڑ گئی، اڑنے سے پہلے، میرے شہپر کی
کہاں تک روؤں اُس کے خیمے کے پیچھے، قیامت ہے!مری قسمت میں یا رب کیا نہ تھی دیوار پتھّر کی؟
۱۱۳۔ بے اعتدالیوں سے سبُک سب میں ہم ہوئے
بے اعتدالیوں سے سبُک سب میں ہم ہوئےجتنے زیادہ ہو گئے اتنے ہی کم ہوئے
پنہاں تھا دام سخت قریب آشیان کےاڑنے نہ پائے تھے کہ گرفتار ہم ہوئے
ہستی ہماری اپنی فنا پر دلیل ہےیاں تک مٹے کہ آپ ہم اپنی قَسم ہوئے
سختی کشانِ عشق کی پوچھے ہے کیا خبروہ لوگ رفتہ رفتہ سراپا الم ہوئے
تیری وفا سے کیا ہو تلافی؟ کہ دہر میںتیرے سوا بھی ہم پہ بہت سے ستم ہوئے
لکھتے رہے جنوں کی حکایاتِ خوں چکاںہر چند اس میں ہاتھ ہمارے قلم ہوئے
اللہ ری تیری تندئ خو جس کے بیم سےاجزائے نالہ دل میں مرے رزقِ ہم ہوئے
اہلِ ہوس کی فتح ہے ترکِ نبردِ عشقجو پاؤں اٹھ گئے وہی ان کے علم ہوئے
نالے عدم میں چند ہمارے سپرد تھےجو واں نہ کھنچ سکے سو وہ یاں آ کے دم ہوئے
چھوڑی اسد نہ ہم نے گدائی میں دل لگیسائل ہوئے تو عاشقِ اہلِ کرم ہوئے
۱۱۴۔ رحم کر ظالم کہ کیا بودِ چراغِ کشتہ ہے
رحم کر ظالم کہ کیا بودِ چراغِ کشتہ ہےنبضِ بیمارِ وفا دودِ چراغِ کشتہ ہے
دل لگی کی آرزو بے چین رکھتی ہے ہمیںورنہ یاں بے رونقی سودِ چراغِ کشتہ ہے
۱۱۵۔ چشمِ خوباں خامشی میں بھی نوا پرداز ہے
چشمِ خوباں خامشی میں بھی نوا پرداز ہےسرمہ تو کہوے کہ دودِ شعلہ آواز ہے
پیکرِ عشّاق سازِ طالعِ نا ساز ہےنالہ گویا گردشِ سیّارہ کی آواز ہے
دست گاہِ دیدۂ خوں بارِ مجنوں دیکھنایک بیاباں جلوۂ گل فرشِ پا انداز ہے
۱۱۶۔ جو نہ نقدِ داغِ دل کی کرے شعلہ پاسبانی
جو نہ نقدِ داغِ دل کی کرے شعلہ پاسبانیتو فسردگی نہاں ہے بہ کمینِ بے زبانی
مجھے اس سے کیا توقّع بہ زمانۂ جوانیکبھی کودکی میں جس نے نہ سنی مری کہانی
یوں ہی دکھ کسی کو دینا نہیں خوب ورنہ کہتاکہ مرے عدو کو یا رب ملے میری زندگانی
۱۱۷۔ ظلمت کدے میں میرے شبِ غم کا جوش ہے
ظلمت کدے میں میرے شبِ غم کا جوش ہےاک شمع ہے دلیلِ سحر سو خموش ہے
نے مژدۂ وصال نہ نظّارۂ جمالمدّت ہوئی کہ آشتئ چشم و گوش ہے
ہو کر شہیدِ عشق میں پائے ہزار جسمہر موجِ گردِ راہ مرے سر کو دوش ہے
مے نے کِیا ہے حسنِ خود آرا کو بے حجاباے شوق یاں اجازتِ تسلیمِ ہوش ہے
گوہر کو عقدِ گردنِ خوباں میں دیکھناکیا اوج پر ستارۂ گوہر فروش ہے
دیدار بادہ، حوصلہ ساقی، نگاہ مستبزمِ خیال مے کدۂ بے خروش ہے
اے تازہ واردانِ بساطِ ہوائے دلزنہار اگر تمہیں ہوسِ نائے و نوش ہے
دیکھو مجھے! جو دیدۂ عبرت نگاہ ہومیری سنو! جو گوشِ نصیحت نیوش ہے
ساقی بہ جلوہ دشمنِ ایمان و آگہیمطرب بہ نغمہ رہزنِ تمکین و ہوش ہے
یا شب کو دیکھتے تھے کہ ہر گوشۂ بساطدامانِ باغبان و کفِ گل فروش ہے
لطفِ خرامِ ساقی و ذوقِ صدائے چنگیہ جنّتِ نگاہ وہ فردوسِ گوش ہے
یا صبح دم جو دیکھیے آ کر تو بزم میںنے وہ سرور و سوز نہ جوش و خروش ہے
داغِ فراقِ صحبتِ شب کی جلی ہوئیاک شمع رہ گئی ہے سو وہ بھی خموش ہے
آتے ہیں غیب سے یہ مضامیں خیال میںغالب صریرِ خامہ نوائے سروش ہے
۱۱۸۔ آ، کہ مری جان کو قرار نہیں ہے
آ، کہ مری جان کو قرار نہیں ہےطاقتِ بیدادِ انتظار نہیں ہے
دیتے ہیں جنّت حیاتِ دہر کے بدلےنشّہ بہ اندازۂ خمار نہیں ہے
گِریہ نکالے ہے تیری بزم سے مجھ کوہائے کہ رونے پہ اختیار نہیں ہے
ہم سے عبث ہے گمانِ رنجشِ خاطرخاک میں عشّاق کی غبار نہیں ہے
دل سے اٹھا لطفِ جلوہ ہائے معانیغیرِ گل آئینۂ بہار نہیں ہے
قتل کا میرے کیا ہے عہد تو بارےوائے اگر عہد استوار نہیں ہے
تو نے قسم مے کشی کی کھائی ہے غالبتیری قسم کا کچھ اعتبار نہیں ہے
۱۱۹۔ ہجومِ غم سے یاں تک سر نگونی مجھ کو حاصل ہے
ہجومِ غم سے یاں تک سر نگونی مجھ کو حاصل ہےکہ تارِ دامن و تارِ نظر میں فرق مشکل ہے
رفوئے زخم سے مطلب ہے لذّت زخمِ سوزن کیسمجھیو مت کہ پاسِ درد سے دیوانہ غافل ہے
وہ گل جس گلستاں میں جلوہ فرمائی کرے غالبچٹکنا غنچۂ گل کا صدائے خندۂ دل ہے
۱۲۰۔ پا بہ دامن ہو رہا ہوں بسکہ میں صحرا نورد
پا بہ دامن ہو رہا ہوں بسکہ میں صحرا نوردخارِ پا ہیں جوہرِ آئینۂ زانو مجھے
دیکھنا حالت مرے دل کی ہم آغوشی کے وقتہے نگاہِ آشنا تیرا سرِ ہر مو مجھے
ہوں سراپا سازِ آہنگِ شکایت کچھ نہ پوچھہے یہی بہتر کہ لوگوں میں نہ چھیڑے تو مجھے
۱۲۱۔ جس بزم میں تو ناز سے گفتار میں آوے
جس بزم میں تو ناز سے گفتار میں آوےجاں کالبدِ صورتِ دیوار میں آوے
سائے کی طرح ساتھ پھریں سرو و صنوبرتو اس قدِ دلکش سے جو گلزار میں آوے
تب نازِ گراں مایگئ اشک بجا ہےجب لختِ جگر دیدۂ خوں بار میں آوے
دے مجھ کو شکایت کی اجازت کہ ستمگرکچھ تجھ کو مزہ بھی مرے آزار میں آوے
اس چشمِ فسوں گر کا اگر پائے اشارہطوطی کی طرح آئینہ گفتار میں آوے
کانٹوں کی زباں سوکھ گئی پیاس سے یا رباک آبلہ پا وادیِ پر خار میں آوے
مر جاؤں نہ کیوں رشک سے جب وہ تنِ نازکآغوشِ خمِ حلقۂ زُنّار میں آوے
غارت گرِ ناموس نہ ہو گر ہوسِ زرکیوں شاہدِ گل باغ سے بازار میں آوے
تب چاکِ گریباں کا مزا ہے دلِ نالاںجب اک نفس الجھا ہوا ہر تار میں آوے
آتش کدہ ہے سینہ مرا رازِ نہاں سےاے وائے اگر معرضِ اظہار میں آوے
گنجینۂ معنی کا طلسم اس کو سمجھیےجو لفظ کہ غالب مرے اشعار میں آوے
۱۲۲۔ نہ ہوئی گر مرے مرنے سے تسلّی نہ سہی
نہ ہوئی گر مرے مرنے سے تسلّی نہ سہیامتحاں اور بھی باقی ہو تو یہ بھی نہ سہی
خار خارِ المِ حسرتِ دیدار تو ہےشوق گلچینِ گلستانِ تسلّی نہ سہی
مے پرستاں خمِ مے منہ سے لگائے ہی بنےایک دن گر نہ ہوا بزم میں ساقی نہ سہی
نفسِ قیس کہ ہے چشم و چراغِ صحراگر نہیں شمعِ سیہ خانۂ لیلی نہ سہی
ایک ہنگامے پہ موقوف ہے گھر کی رونقنوحۂ غم ہی سہی نغمۂ شادی نہ سہی
نہ ستائش کی تمنّا نہ صلے کی پرواگر نہیں ہیں مرے اشعار میں معنی؟ نہ سہی
عشرتِ صحبتِ خوباں ہی غنیمت سمجھونہ ہوئی غالب اگر عمرِ طبیعی نہ سہی
۱۲۳۔ عجب نشاط سے جلاّد کے چلے ہیں ہم آگے
عجب نشاط سے جلاّد کے چلے ہیں ہم آگےکہ اپنے سائے سے سر پاؤں سے ہے دو قدم آگے
قضا نے تھا مجھے چاہا خرابِ بادۂ الفتفقط خراب لکھا، بس نہ چل سکا قلم آگے
غمِ زمانہ نے جھاڑی نشاطِ عشق کی مستیوگرنہ ہم بھی اٹھاتے تھے لذّتِ الم آگے
خدا کے واسطے داد اس جنونِ شوق کی دیناکہ اس کے در پہ پہنچتے ہیں نامہ بر سے ہم آگے
یہ عمر بھر جو پریشانیاں اٹھائی ہیں ہم نےتمہارے آئیو اے طرّہ ہائے خم بہ خم آگے
دل و جگر میں پَر افشاں جو ایک موجۂ خوں ہےہم اپنے زعم میں سمجھے ہوئے تھے اس کو دم آگے
قسم جنازے پہ آنے کی میرے کھاتے ہیں غالبہمیشہ کھاتے تھے جو میری جان کی قسم آگے
تغافل دوست ہوں میرا دماغِ عجز عالی ہےاگر پہلو تہی کیجے تو جا میری بھی خالی ہے
رہا آباد عالم اہلِ ہمّت کے نہ ہونے سےبھرے ہیں جس قدر جام و سبو، مے خانہ خالی ہے
۱۲۴۔ کب وہ سنتا ہے کہانی میری
کب وہ سنتا ہے کہانی میریاور پھر وہ بھی زبانی میری
خلشِ غمزۂ خوں ریز نہ پوچھدیکھ خوں نابہ فشانی میری
کیا بیاں کر کے مرا روئیں گے یارمگر آشفتہ بیانی میری
ہوں ز خود رفتۂ بیدائے خیالبھول جانا ہے نشانی میری
متقابل ہے مقابل میرارک گیا دیکھ روانی میری
قدرِ سنگِ سرِ رہ رکھتا ہوںسخت ارزاں ہے گرانی میری
گرد بادِ رہِ بیتابی ہوںصرصرِ شوق ہے بانی میری
دہن اس کا جو نہ معلوم ہواکھل گئی ہیچ مدانی میری
کر دیا ضعف نے عاجز غالبننگِ پیری ہے جوانی میری
نقشِ نازِ بتِ طنّاز بہ آغوشِ رقیبپائے طاؤس پئے خامۂ مانی مانگے
تو وہ بد خو کہ تحیّر کو تماشا جانےغم وہ افسانہ کہ آشفتہ بیانی مانگے
وہ تبِ عشق تمنّا ہے کہ پھر صورتِ شمعشعلہ تا نبضِ جگر ریشہ دوانی مانگے
۱۲۵۔ گلشن کو تری صحبت از بسکہ خوش آئی ہے
گلشن کو تری صحبت از بسکہ خوش آئی ہےہر غنچے کا گل ہونا آغوش کشائی ہے
واں کُنگرِ استغنا ہر دم ہے بلندی پریاں نالے کو اُور الٹا دعوائے رسائی ہے
از بسکہ سکھاتا ہے غم ضبط کے اندازےجو داغ نظر آیا اک چشم نمائی ہے
۱۲۶۔ جس زخم کی ہو سکتی ہو تدبیر رفو کی
جس زخم کی ہو سکتی ہو تدبیر رفو کیلکھ دیجیو یا رب اسے قسمت میں عدو کی
اچّھا ہے سر انگشتِ حنائی کا تصوّردل میں نظر آتی تو ہے اک بوند لہو کی
کیوں ڈرتے ہو عشّاق کی بے حوصلگی سےیاں تو کوئی سنتا نہیں فریاد کسو کی
صد حیف وہ نا کام کہ اک عمر سے غالبحسرت میں رہے ایک بتِ عربدہ جو کی
دشنے نے کبھی منہ نہ لگایا ہو جگر کوخنجر نے کبھی بات نہ پوچھی ہو گلو کی
سیماب پشت گرمیِ آئینہ دے ہے ہمحیراں کیے ہوئے ہیں دلِ بے قرار کے
آغوشِ گل کشودہ برائے وداع ہےاے عندلیب چل! کہ چلے دن بہار کے
۱۲۷۔ ہے وصل ہجر عالمِ تمکین و ضبط میں
ہے وصل ہجر عالمِ تمکین و ضبط میںمعشوقِ شوخ و عاشقِ دیوانہ چاہئے
اُس لب سے مل ہی جائے گا بوسہ کبھی تو، ہاں!شوقِ فضول و جرأتِ رندانہ چاہئے
۱۲۸۔ چاہیے اچھّوں کو، جتنا چاہیے
چاہیے اچھّوں کو، جتنا چاہیےیہ اگر چاہیں تو پھر کیا چاہیے
صُحبتِ رنداں سے واجب ہے حَذرجائے مے، اپنے کو کھینچا چاہیے
چاہنے کو تیرے کیا سمجھا تھا دل؟بارے اب اِس سے بھی سمجھا چاہیے!
چاک مت کر جیب، بے ایامِ گُلکُچھ ادھر کا بھی اشارہ چاہیے
دوستی کا پردہ ہے بیگانگیمنہ چُھپانا ہم سے چھوڑا چاہیے
دُشمنی نے میری، کھویا غیر کوکِس قدر دُشمن ہے، دیکھا چاہیے
اپنی، رُسوائی میں کیا چلتی ہے سَعییار ہی ہنگامہ آرا چاہیے
منحصر مرنے پہ ہو جس کی امیدنااُمیدی اُس کی دیکھا چاہیے
چاہتے ہیں خُوبرویوں کو اسدآپ کی صُورت تو دیکھا چاہیے
غافل، اِن مہ طلعتوں کے واسطےچاہنے والا بھی اچھا چاہیے
۱۲۹۔ ہر قدم دورئِ منزل ہے نمایاں مجھ سے
ہر قدم دورئِ منزل ہے نمایاں مجھ سےمیری رفتار سے بھاگے ہے، بیاباں مجھ سے
درسِ عنوانِ تماشا، بہ تغافلِ خُوشترہے نگہ رشتۂ شیرازۂ مژگاں مجھ سے
وحشتِ آتشِ دل سے، شبِ تنہائی میںصورتِ دُود، رہا سایہ گُریزاں مجھ سے
غمِ عشاق نہ ہو، سادگی آموزِ بُتاںکِس قدر خانۂ آئینہ ہے ویراں مجھ سے
اثرِ آبلہ سے، جادۂ صحرائے جُنوںصُورتِ رشتۂ گوہر ہے چراغاں مجھ سے
بیخودی بسترِ تمہیدِ فراغت ہو جو!پُر ہے سایے کی طرح، میرا شبستاں مجھ سے
شوقِ دیدار میں، گر تُو مجھے گردن مارےہو نگہ، مثلِ گُلِ شمع، پریشاں مجھ سے
بیکسی ہائے شبِ ہجر کی وحشت، ہے ہے!سایہ خُورشیدِ قیامت میں ہے پنہاں مجھ سے
گردشِ ساغرِ صد جلوۂ رنگیں، تجھ سےآئینہ دارئ یک دیدۂ حیراں، مُجھ سے
نگہِ گرم سے ایک آگ ٹپکتی ہے، اسد!ہے چراغاں، خس و خاشاکِ گُلستاں مجھ سے
۱۳۰۔ چاک کی خواہش، اگر وحشت بہ عُریانی کرے
چاک کی خواہش، اگر وحشت بہ عُریانی کرےصبح کے مانند، زخمِ دل گریبانی کرے
جلوے کا تیرے وہ عالم ہے کہ، گر کیجے خیالدیدۂ دل کو زیارت گاہِ حیرانی کرے
ہے شکستن سے بھی دل نومید، یارب! کب تلکآبگینہ کوہ پر عرضِ گِرانجانی کرے
میکدہ گر چشمِ مستِ ناز سے پاوے شکستمُوئے شیشہ دیدۂ ساغر کی مژگانی کرے
خطِّ عارض سے، لکھا ہے زُلف کو الفت نے عہدیک قلم منظور ہے، جو کچھ پریشانی کرے
۱۳۱۔ وہ آ کے، خواب میں، تسکینِ اضطراب تو دے
وہ آ کے، خواب میں، تسکینِ اضطراب تو دےولے مجھے تپشِ دل، مجالِ خواب تو دے
دِکھا کے جنبشِ لب ہی، تمام کر ہم کونہ دے جو بوسہ، تو منہ سے کہیں جواب تو دے
کرے ہے قتل، لگاوٹ میں تیرا رو دیناتری طرح کوئی تیغِ نگہ کو آب تو دے
پلا دے اوک سے ساقی، جو ہم سے نفرت ہےپیالہ گر نہیں دیتا، نہ دے شراب تو دے
اسد! خوشی سے مرے ہاتھ پاؤں پُھول گئےکہا جو اُس نے، ”ذرا میرے پاؤں داب تو دے“
۱۳۲۔ تپِش سے میری، وقفِ کش مکش، ہر تارِ بستر ہے
تپِش سے میری، وقفِ کش مکش، ہر تارِ بستر ہےمِرا سر رنجِ بالیں ہے، مِرا تَن بارِ بستر ہے
سرشکِ سر بہ صحرا دادہ، نورالعینِ دامن ہےدلِ بے دست و پا اُفتادہ بر خوردارِ بستر ہے
خوشا اقبالِ رنجوری! عیادت کو تم آئے ہوفروغِ شمع بالیں، طالعِ بیدارِ بستر ہے
بہ طوفاں گاہِ جوشِ اضطرابِ شامِ تنہائیشعاعِ آفتابِ صبحِ محشر تارِ بستر ہے
ابھی آتی ہے بُو، بالش سے، اُس کی زلفِ مشکیں کیہماری دید کو، خوابِ زلیخا، عارِ بستر ہے
کہوں کیا، دل کی کیا حالت ہے ہجرِ یار میں، غالب!کہ بے تابی سے ہر یک تارِ بستر، خارِ بستر ہے
۱۳۳۔ خطر ہے رشتۂ اُلفت رگِ گردن نہ ہو جائے
خطر ہے رشتۂ اُلفت رگِ گردن نہ ہو جائےغرورِ دوستی آفت ہے، تُو دُشمن نہ ہو جائے
سمجھ اس فصل میں کوتاہئ نشوونما، غالب!اگر گُل سَرو کے قامت پہ، پیراہن نہ ہو جائے
ما الذي تركه هذا الفصل فيك؟
سجّل الدخول للتفاعل
النقاش
لم يتكلم أحد بعد. قل ما حرّكه هذا الفصل فيك.