Urdu in Translation
Поиск
Закладка

Глава 9 из 22

Husn Ara Begins to Get Up Early

حسن آرا سویرے اٹھنے لگی

Назир Ахмад

Письмо
Размер

حسن آرا سویرے اٹھنے لگی

انا اپنے معمول پر اٹھی۔ سلام[۱] پھیر، دعا مانگ، ڈرتے ڈرتے حسن آرا کی چارپائی پاس جا آواز دی۔ حسن آرا کا تو یہ حال تھا کہ بیسیوں آوازیں دیے جاؤ، ہنکارا[۲] تک نہیں؛ اور اگر نیند سے ہوشیار بھی ہو چلی تو جب آواز دی، کبھی انگڑائی لے کر رہ گئی، کبھی اس کروٹ سے اس کروٹ ہو بیٹھی۔ یا انا کی آواز سن جھٹ پٹ اٹھ ہی تو بیٹھی۔ بہتیرا چاہا کہ آنکھیں کھولے، پلکوں کو چیرا پھاڑا، مگر ایسا معلوم ہوتا تھا کہ گویا کسی نے سی دی ہیں یا گوند سے جما دی ہیں؛ اور جو ٹمٹما کر ذرا کی کھولیں بھی تو ایسا دکھ معلوم ہوا کہ جیسے کسی نے پلکوں میں مرچیں بھر دیں۔ مگر کل کا وعدہ اور کڑھائی کی خوشی پیش نظر تھی، ہاتھ پھیلا دیے۔ انا نے پیار سے گود میں اٹھا لیا اور کہا، "بیٹا، ابھی تو بہت سویرا ہے؛ صدقے گئی، ایک نیند ذرا اور لے لو۔"

حسن آرا: "نہیں بی نہیں، مجھ کو ابھی مکتب لے چلو۔"

انا: "بیٹا، منہ دھو لو، کچھ ناشتہ کر لو، تب جانا۔"

حسن آرا ٹھنک[۳] کر بولی، "اے ہے اللہ! دیکھو کم بخت دیر لگائے چلی جا رہی ہے، لے نہیں چلتی؛ وہاں سب لڑکیاں آ گئی ہوں گی۔" غرض کہ انا مکتب میں لائی۔ حسن آرا کچھ تو آنکھیں کھولتی آئی ہی تھی؛ یہاں آ کر دیکھا کہ واقع میں بڑی چھوٹی لڑکیاں سب موجود ہیں، مگر کوئی کتاب کھولتی جاتی ہے، کسی نے آموختہ[۴] پڑھنا شروع کیا ہے، کوئی ابھی مطالعہ لے کر بیٹھی ہے۔ یہ دیکھ کر تو حسن آرا کی رہی سہی آنکھیں اور بھی کھل گئیں۔

محمودہ: "آہا، بیگم صاحب ایسے سویرے! ماشاء اللہ، خوب ہی آپ وعدے کی سچی اور ارادے کی پکی ہیں۔"

حسن آرا: "کیا خاک وعدہ اور ارادہ ہے! آخر سب کے پیچھے ہی آئی۔"

محمودہ: "گو آپ سب کے بعد آئیں، مگر پہلے ہی دن آپ اتنے سویرے اٹھ کھڑی ہوئیں، بڑی مضبوطی کی بات ہے۔ اس اعتبار سے آپ ہی سب سے پہلے آئیں۔"

حسن آرا: "کڑھائی کی فرمائیے۔" محمودہ: "سب تیار ہے۔ آپ ہاتھ منہ دھو لیں تو شروع ہو۔"

محمودہ نے لوٹا، سلفچی، منجن، آئینہ، کنگھی، تیل، سب سامان سامنے لا کر رکھ دیا۔

حسن آرا: "کیا خوب! یہ آپ مجھ کو ناحق میں کیوں گنہگار بناتی ہیں؟"

محمودہ: "ہم غریب لوگ ہیں؛ نہ تکلف کرتے اور نہ تکلف کا سلیقہ رکھتے ہیں۔ اس کو چاہو آپ بھونڈا پن سمجھیں۔ ہم سب طرح کا کام اپنے ہاتھوں کر لیا کرتے ہیں، اور آپ دیکھیے گا، کبھی ہمارے آپس میں لڑائی نہیں ہوتی۔ کوئی کام ہو، اور کسی کے کرنے کا ہو، سب نے مل کر کر لیا؛ ایک نے دوسرے کو سہارا لگا دیا۔ اور یہ بات کچھ بناوٹ اور دکھاوے کی غرض سے نہیں؛ حاضر و غائب[۵] ہم سب لڑکیوں میں بڑی سچی محبت ہے، ایک کو ایک سگی بہن سے بڑھ کر ہے۔ ہاتھ خدا نے کام ہی کے واسطے دیے ہیں، اور لوٹا پانی لا کر رکھ دینا بھی بھلا کوئی کاموں میں کام ہے؟ ان میں سے جو آپ سے ہو سکے کیجیے۔"

حسن آرا: "مصالحہ تو مجھ سے نہیں پسے گا؛ پہلے ہی رگڑے سے میرے تو کھوٹے[۶] رہ جائیں گے۔ میدہ کہیے تو البتہ میں گوندھ دوں۔"

محمودہ: "میدہ گوندھنا بھی بڑے زور کا کام ہے، بلکہ مصالحہ پیسنے سے زیادہ محنت ہے۔"

حسن آرا: "بلا سے ہو، مگر مجھ کو منظور ہے۔" محمودہ: "آخر اس کا سبب؟"

حسن آرا: "کچھ ہے۔" محمودہ: "کیا کچھ پردے کی بات ہے؟"

حسن آرا (جھینپ کے): "اجی، میدہ گوندھ، ہاتھ دھو دھلا کر کھڑی ہو جاؤں گی؛ اور مصالحہ پیسوں تو ہلدی کا رنگ، کلنک کا ٹیکا[۷]، دو چار دن چھوٹتا نہیں، ناحق مجھ کو شرمندہ ہونا پڑے گا۔"

محمودہ: "شرم کی اس میں کیا بات ہے؟" حسن آرا: "آپ کو نہیں، مجھ کو تو ہلدی کے بھرے ہوئے ہاتھ لوگ دیکھیں گے تو کیا کہیں گے؟"

محمودہ: "اپنی اپنی سمجھ ہی تو ہے۔ بعضوں کو کام کرنا عیب ہے، بعضوں کو دوسروں کا پکایا ریندھا اور یوں اپاہجوں کی طرح کھانا عار ہے۔ غرض اتنا سمجھایا، امیری کی بو آپ کے دماغ سے نہ گئی پر نہ گئی۔"

حسن آرا: "اصیل مرغے[۸] کی ایک ٹانگ؛ جان جائے پر آن[۹] نہ جائے۔"

محمودہ: "پھر کچھ زبردستی ہے۔ آپ آرام سے بیٹھیے؛ جو کچھ توفیق ہوگی، ہم بیٹھے بٹھائے

مکتب کی لڑکیوں نے مل کر پکوان تلا، اور حسن آرا کام کاج میں شریک ہوئی، مگر کام کی عادت نہ تھی، چھوٹے چھوٹے کاموں میں بڑی دقت اٹھائی

غرض ادھر تو حسن آرا ہاتھ منہ دھوتی رہی، محمودہ نے پہلے تو استانی جی سے پوچھا کہ "اگر آپ ارشاد کریں تو کڑھائی کا سامان کئی دن سے آیا ہوا رکھا ہے، اس وقت ٹھنڈک بھی ہے، سویرے کا وقت ہے، ہم سب مل ملا کر تل تلا لیں۔"

استانی جی: "بہت خوب، مگر حسن آرا بیگم کو بھی شریک رکھنا۔" محمودہ: "بسر و چشم۔"

اس کے بعد کوٹھڑی کھول، سب سامان نکال، باورچی خانے میں لے گئیں۔ کسی نے بیسن گھولنا شروع کیا، کوئی ٹکیاں گھڑنے لگی، کوئی پیاز کترنے بیٹھ گئی؛ غرض سب کی سب کام میں لگ گئیں۔

حسن آرا: "محمودہ بیگم، کوئی کام مجھ کو بھی بتاؤ۔ یہ تو مناسب نہیں کہ سب کام کریں اور میں کھڑی منہ دیکھوں۔"

آمنہ: "آپ کیوں تکلیف کرتی ہیں؟ ہم سب کام کیے لیتے ہیں، صرف آپ سیر دیکھیے۔"

محمودہ: "نہیں، اس میں کچھ قباحت کی بات نہیں۔ کوئی کام ہو، کرنے ہی سے آتا ہے۔ مگر کون کام بتاؤں؟ مصالحہ پیسنا، میدہ گوندھنا، تلنا، بہتیرے کام ہیں؛ آپ پر چڑھا آئیں گے۔"

حسن آرا: "آپا، کچھ تم کو بھی ضد ہے؛ تم کو اپنے کام سے کام۔ آخر میدہ کوئی گوندھے گا ہی؛ میرا ہاتھ لگ جائے گا تو کیا کیڑے پڑ جائیں گے؟"

محمودہ: "کیڑے تو نہیں، مگر لوچ[۱۰] توڑ تاڑ، ستیاناس کر کے رکھ دو گی۔ امیری کی شیخی بگھارنے کے سوائے اور بھی کچھ تم کو آتا ہے؟"

حسن آرا: "خیر، کچھ اور کام مجھ کو دیجیے۔" محمودہ: "کون کام دوں؟ مصالحہ تو تم پیسنا نہیں چاہتیں، آٹا تم کو گوندھنا نہیں آتا؛ اور کون سا کام بتاؤں؟ خیر، مصالحے کی سل کے نیچے ادرک گری ہوئی ہے، چھوٹی چھوٹی دو گرہیں، نکال کر کتر ڈالیے۔"

حسن آرا: "ہاں، یہ کام میرے کرنے کا آپ نے بتایا ہے؛ دیکھیے گا کیسے باریک لچھے کترتی ہوں۔" محمودہ: "خدا راس لائے۔"

حسن آرا دوڑی جا سل کو اٹھانے لگی۔ سل تھی بوجھل؛ ایک بالشت بھر تک تو حسن آرا نے ہمت کر کے اٹھائی، آخر نہ سنبھل سکی، چھوٹ گئی، اور چھوٹی تو ہاتھ پر گری۔ حسن آرا تو بلبلا اٹھی۔ سب لڑکیاں دوڑی گئیں؛ جا کر دیکھیں تو حسن آرا سل کے تلے ہاتھ دیے بیٹھی ہیں، چہرے کی رنگت زرد ہے اور تھر تھر کانپ رہی ہیں۔ جلدی سے سل اٹھا کر الگ کی؛ ہاتھ دیکھا تو کچل گیا تھا، مگر زمین گیلی اور پولی[۱۱] تھی، چوٹ نہیں لگی۔

حلیمہ: "واہ بیگم صاحب، بڑے کچے دل کی ہو؛ تم تو ایسی بلبلائیں کہ ہم سب کے ہاتھ پاؤں پھول گئے۔" حسن آرا: "منہ پر آنکھیں ہیں یا نہیں؟ اتنی بڑی سل تمہارے ہاتھ پر گرتی تو جانتیں۔"

حلیمہ: "گرتی ہی کیوں؟" حسن آرا: "کیا خوب! یک نہ شد دو شد[۱۲]۔ بھلا میں نے تو بالشت بھر اٹھا بھی لی، تم ذرا ہلا بھی دو تو سو سلام کروں۔"

حلیمہ: "ہاں؟" حسن آرا: "ہاں۔"

علم جر ثقیل کا تذکرہ مختصر

حلیمہ نے وہیں چولھے کے پاس سے ایک نوک دار لکڑی اٹھا، پتلا سرا سل کے نیچے اڑا، جوں ہی دوسرا سرا اٹھایا تھا کہ سل دوسری طرف جا پڑی۔

حسن آرا: "بہن، یہ تو کمال ہی کیا!"

محمودہ: "کمال کی اس میں کیا بات ہے؟ علم جر ثقیل میں اسی قسم کی ہزاروں باتیں ہیں۔ حکمت[۱۳] بڑی چیز ہے؛ اکیلا آدمی حکمت کے زور سے ہزاروں من کا بوجھ تنکے کی طرح اٹھا کر پھینک دے، سل کی کیا اصل ہے۔"

حسن آرا: "اب آپ لوگ اپنا اپنا کام کیجیے، میں ادرک کترتی ہوں۔"

محمودہ: "رہنے دیجیے، اور کوئی لڑکی کتر لے گی؛ آپ کا ہاتھ بھی دکھتا ہوگا۔"

حسن آرا: "نہیں، میں تو اب کتر کے رہوں گی۔" حسن آرا نے باورچی خانے کے چاقو سے جو ایک گرہ چھیلی تو چاقو کند معلوم ہوا۔ آپ نے کیا کیا، محمودہ کے قلمدان سے راجرس[۱۴] کا بنا چاقو نکال، ادرک چھیلنا شروع کیا۔ ادرک کے عرق سے اول تو چاقو کی آب گئی گزری ہوئی؛ دوسرے، چاقو تیز، ادرک نرم؛ تین چار مرتبہ کچ کچ چاقو ہاتھ میں لگا، اور اوپر سے پہنچا ادرک کا عرق، خوب ہی مرچیں لگیں۔ مگر حسن آرا نے شرم کے مارے اس کو چھپایا، اور ادرک بھی اچھی نہ کتری گئی۔

ادرک کتر کر لائی تو اس میں سرخی جھلملاتی[۱۵] تھی۔ محمودہ نے دیکھ کر کہا، "اے، یہ کیسی لال لال ادرک ہے؟ کہیں گل تو نہیں گئی؟" دھویا تو خاصی سفید سفید ادرک نکل آئی۔ تب تو شبہ ہوا کہ شاید حسن آرا نے کہیں اپنا ہاتھ کاٹ لیا۔ گھبرا کر کہا، "دیکھوں ہاتھ۔" حسن آرا نے تھوڑے تامل کے بعد دکھایا تو معلوم ہوا کہ کوئی انگلی نہ تھی جس میں دو چار خراش نہ ہوں۔

محمودہ: "اے ہے، یہ کیا کیا؟ کس چاقو سے ادرک کتری؟"

حسن آرا: "جس چاقو سے آپ قلم بناتی ہیں۔"

محمودہ: "بھلا قلم تراش سے کوئی ترکاری بناتا ہے؟ اسی واسطے میں آپ کو کام دیتے ہوئے ڈرتی تھی۔ دیکھیے، آپ نے ہاتھ زخمی کر ہی لیا۔"

حسن آرا: "بلا سے، ہاتھ کا کیا ہے، اچھا ہی ہو جائے گا؛ مگر چاقو کیسا بد رنگ ہو گیا ہے، یہ کیونکر درست ہوگا؟"

محمودہ: "قربان کیا تھا، چاقو نگوڑا اگر گیا، بگڑ گیا۔ جلدی سے پانی میں بھگو کر کپڑا انگلیوں پر لپیٹ لیجیے، اور خدا کے لیے مکتب میں جا کر بیٹھیے۔"

حسن آرا: "واہ، میں تو کام کروں گی۔" محمودہ: "کیا استانی جی کو خفا کرنے کی مرضی ہے؟ حاشا[۱۶]، نہیں تو اب تم کو کسی چیز کو ہاتھ لگانے دینے کی نہیں۔" حسن آرا: "اب میں بہت احتیاط سے، پوچھ پوچھ کر کروں گی۔ اچھی، کچھ بتاؤ۔" حسن آرا نے اتنا اصرار کیا کہ محمودہ سے کچھ بن نہ پڑی، اور مجبور ہو کر کہا، "خیر، آپ آگ سلگا کر گھی کڑکڑا ڈالیے۔" حسن آرا نے سمجھا کہ بڑا آسان کام ملا۔ جلدی سے لکڑیاں کنڈے چولھے میں بھر، دیا سلائی لگا کر لگی پھونکنے۔ بہتیرا دھونکا، آگ بھلا کب سلگتی ہے؛ منہ بھی تمتما[۱۷] اٹھا، ناک اور آنکھ دونوں سے پانی جاری ہے، دھواں غٹ کے غٹ تمام مکان میں بھرا ہوا ہے، مگر لکڑیوں کو خبر بھی نہیں۔ جب لڑکیاں سامان درست کر چکیں تو محمودہ نے پوچھا، "کیوں بیگم صاحب، گھی کیا کہہ رہا ہے؟"

حسن آرا: "لکڑیاں کم بخت ایسی گیلی ہیں، آنچ ہی نہیں ہوتی۔"

محمودہ: "کیوں دیانت[۱۸]، اتنا کہہ دیا تھا کہ برسات کے دن ہیں، لکڑیاں دیکھ کر سوکھی ہوئی لانا؛ آخر وہی گیلی پانی اٹھا لائیں۔"

دیانت: "بیوی، لکڑیاں تو ایسی خشک ہیں کہ برسات کی ہوا تک بھی ان کو نہیں لگی؛ بیچ ڈھیر میں سے اپنے سامنے نکلوا کر لائی ہوں۔ دو دن ہوئے، ان ہی لکڑیوں سے کھانا پکتا ہے؛ ایسی دھڑا دھڑ جلتی ہیں کہ پھونکنا بھی نہیں پڑتا۔"

حسن آرا نے کام تو بگاڑا آپ، اور ماما پر ناحق خفا ہوئی

حسن آرا کو ایک تو پہلے ہی پہل چولھا پھونکنے کا اتفاق ہوا، اور اس پر طرہ[۱۹] یہ کہ دو گھڑی کامل حیران ہوئی اور آگ نہ سلگی؛ یوں ہی کھسیانی ہو کر جلی بھنی[۲۰] بیٹھی تھی۔ ماما دیانت نے جو اس کے خلاف تقریر کی، اور بھی آگ بگولا[۲۱] ہو کر بولی، "اری جھوٹی نامراد، ذرا اپھوٹے ہوئے دیدوں سے آ کر سوجھ تو سہی کہ گیلی ہیں یا نہیں! کون وقتوں سے میں سر کھپا رہی ہوں؛ ان ہی کو سوکھے چیلے کہتے ہیں؟ نہ ہوئی تو اس وقت میرے گھر کی ماما، نہیں ان ہی چیلوں[۲۲] سے مارتے مارتے مردار تجھ کو فرش[۲۳] کر دیتی۔"

ماما دیانت حسن آرا کا بیہودہ کلام سن کر مارے غصے کے کانپ اٹھی، اور چاہتی تھی کہ جواب دنداں شکن[۲۴] دے، استانی جی نے اشارے سے روکا۔ لڑکیوں کو بھی حسن آرا کی بات نہایت ناگوار گزری، اور قریب تھا کہ سب کڑھائی چھوڑ چھاڑ الگ ہو بیٹھیں۔ محمودہ استانی جی کے اشارے کا مطلب سمجھ گئی تھی؛ اس نے لڑکیوں کو کنائے[۲۵] سے باز رکھا، اور خود چولھے کے پاس جا کر کہنے لگی، "ذرا میں بھی تو دیکھوں کیسی لکڑیاں ہیں۔" دیکھا تو اندر تک حسن آرا نے لکڑیاں ٹھونس رکھی ہیں، راکھ کا اٹم[۲۶] بھرا پڑا ہے۔ محمودہ نے سب لکڑیوں کو باہر نکال، پہلے تو راکھ صاف کی، پھر چار لکڑیوں کو اوپر تلے آڑا کر کے بھینا چولھے کے باہر طرف لگا، ایک مرتبہ ذرا کے ذرا پھونکا تھا کہ آگ بھڑک اٹھی۔

حسن آرا: "آپ نے تو کمال ہی کیا!" محمودہ ہنس کر بولی، "کم بخت آگ جلانے میں بھی کچھ کمال کی بات ہے؟ مگر اسی واسطے میں نے کہا تھا کہ کوئی کام ہو، بے کیے نہیں آتا۔ لکڑیاں کیا اتنی ٹھونس دیں کہ ہوا کا گزر نہ ہوا؛ آگ جلے تو کیونکر جلے؟ مشہور بات ہے کہ بھینا جتنا ہلکا ہو، اتنا ہی جلد جل اٹھتا ہے۔"

حسن آرا: "مجھ کو یہ حکمت معلوم نہیں تھی۔"

محمودہ: "بے شک، جو کام کبھی نہیں کیا، اس میں آدمی ضرور عاجز ہوتا ہے۔ مگر آپ نے ایک بات بہت بے جا کی۔"

حسن آرا: "وہ کیا؟ کہیں میں نے کوئی کپڑا تو نہیں جلا لیا؟" یہ کہہ کر لگی اپنے کپڑوں کو دیکھنے۔

محمودہ: "خیر ہے، اپنا کپڑا نہیں جلایا، دوسرے کا دل جلایا۔"

حسن آرا: "ماما کو جو ذرا میں نے گھرکا، اس پر آپ کہتی ہوں گی۔"

محمودہ: "للہ، میری خطا معاف! اول تو یہ فرمائیے کہ آپ کی خفگی بے جا تھی یا نہیں؟ قصور تو اپنا، آگ تک تو خیر سے اپنے تئیں سلگانی نہ آئی، اور بے چاری ماما ناحق میں فضیحت ہوئی۔"

حسن آرا: "البتہ اتنا قصور میرا تھا، مگر ماما کا بیچ میں بول اٹھنا کیا ضرور تھا؟"

محمودہ: "ماما آپ سے نہیں بولی؛ میں نے پوچھا تو اس نے جواب دیا۔"

حسن آرا: "پھر بھی میری بات کو کاٹنا[۲۷] اس کو مناسب نہ تھا۔"

محمودہ: "وہ ہرگز اس بات سے واقف نہ تھی کہ آپ بر سر ناحق بھی ہوں تو آپ کی تائید[۲۸] کرنی چاہیے۔"

حسن آرا: "کیوں، کیا وہ نہیں جانتی کہ میں امیر زادی ہوں؟" محمودہ: "شاید جانتی ہو۔"

حواشی

[۱] یعنی نماز پوری کر کے۔

[۲] ہاں۔

[۳] رونے کی تیاری میں جو آواز ہوتی ہے اس کو ٹھنکنا کہتے ہیں۔

[۴] پڑھا ہوا۔

[۵] سامنے اور پیٹھ پیچھے۔

[۶] مونڈھے تھک کر بیکار ہو جائیں۔

[۷] سیاہی کا ٹیکہ۔

[۸] جو مرغ اصیل ہوتا ہے، وہ اکثر ایک ٹانگ پر کھڑا رہتا ہے؛ یعنی جو آدمی شریف ہوتا ہے، اس کی وضع یا بات پکی ہوتی ہے۔

[۹] وضع۔

[۱۰] لیس۔

[۱۱] نرم۔

[۱۲] یہ فارسی کی مثل ہے؛ لفظی معنی یہ ہیں کہ ایک نہ ہوئی، دو ہوئیں؛ اس کو تعجب کی جگہ بولتے ہیں۔

[۱۳] دانائی۔

[۱۴] انگریزوں کی ولایت کے ایک مشہور لوہار کا نام، جو لوہے کے اوزار لاجواب بناتا ہے۔

[۱۵] جھلکتی تھی۔

[۱۶] ہرگز نہیں۔

[۱۷] لال لال ہو گیا۔

[۱۸] محمودہ کے گھر کی ماما کا نام ہے جو باہر کا سودا سلف لایا کرتی تھی۔

[۱۹] مراد زیادتی ہے؛ طرہ پگڑی کے کنارے کو کہتے ہیں۔

[۲۰] مراد خفا۔

[۲۱] محاورے میں غضب ناک کی جگہ بولا جاتا ہے۔

[۲۲] لکڑی کے چیرے ہوئے کندے۔

[۲۳] یعنی زمین پر لٹا دیتی۔

[۲۴] دانت توڑ دینے والا، یعنی کرارا۔

[۲۵] اشارہ۔

[۲۶] [illegible: the note is cut off at the foot of the scan]

[۲۷] یہاں بات کاٹنے سے اس کا رد کرنا مراد ہے۔

[۲۸] مدد، تصدیق کرنا۔

Что оставила в вас эта глава?

Войдите, чтобы отреагировать

Обсуждение

Пока никто не высказался. Расскажите, что всколыхнула в вас эта глава.

Понравилась глава? Поделитесь строкой из неё.