
Chapitre 21 sur 22
Husn Ara Takes Leave of the School
حسن آرا کا مکتب سے رخصت ہونا
حسن آرا کا مکتب سے رخصت ہونا
ہم شروع کتاب میں لکھ چکے ہیں کہ حسن آرا مکتب میں بیٹھی تو گیارھویں برس میں تھی؛ جب اس کو خیر سے چودھواں برس لگا تو جھجر والوں کی طرف سے بیاہ کا تقاضا شروع ہوا۔ اس عرصے میں حسن آرا نے سارا قرآن مجید پڑھا؛ اور چوں کہ دو سیپارے روز تلاوت[۱] کا معمول تھا، ایسا یاد تھا کہ گویا حفظ[۲] ہے۔ اردو بے تکان اور بے تکلف لکھتی پڑھتی تھی؛ سواد خط[۳] بھی کچھ برا نہ تھا۔ قرآن شریف کا ترجمہ، اور کتابیں قیامت نامہ، راہ نجات، وفات نامہ، قصہ شاہ روم، قصہ سپاہی زادہ، معجزہ شاہ یمن، رسالہ مولد شریف، مشارق الانوار، اتنی تو مذہبی کتابیں اس کی نظر سے گزر گئیں؛ اور ان کے علاوہ حساب ضروری قاعدہ کسر تک، اور ہندوستان کا جغرافیہ، ہندوستان کی تاریخ چند ورق، منتخب الحکایات، مراۃ العروس، سب کچھ سیکھ پڑھ کر فارغ ہو گئی؛ اردو کے اخبار بے تامل پڑھ کر سمجھ لیا کرتی تھی؛ اور لکھنے پڑھنے کے علاوہ خانہ داری کے جو ہنر عورتوں کو درکار ہیں، سب اس نے حاصل کیے؛ اور معلومات مفید کا اتنا ذخیرہ اس نے فراہم کر لیا کہ وہ اس کو تمام عمر کی آسائش اور مسرت کے لیے کافی تھا۔ کتاب کے ذریعے سے جو کچھ اس نے سیکھا، اس کا ہزار چند استانی اصغری خانم اور مکتب کی لڑکیوں سے باتوں باتوں میں حاصل کیا۔ جب اس کے بیاہ کی تاریخ قریب پہنچی تو ہرچند گھر والوں نے اس کو مکتب جانے سے روکا، مگر اس کو مکتب سے کچھ ایسا انس ہو گیا تھا کہ ایک لمحہ مکتب سے جدا رہنا اس کو شاق[۴] تھا۔ حسب دستور مکتب میں آتی رہی، یہاں تک کہ مایوں بیٹھنے میں صرف تین دن باقی رہ گئے؛ تب تو ناچار سلطانہ بیگم خود استانی اصغری خانم کے پاس آئیں۔ سلام و دعا اور مزاج پرسی[۵] کے بعد سلطانہ بیگم بولیں: "استانی جی، تم میں ایسا جی پڑا تھا کہ ہر روز کہتی تھی، آج جاؤں، کل جاؤں؛ لیکن تمہاری اس لونڈی کے بیاہ بارات کی فکر میں ایک دم کی چھٹی نہیں ملتی۔ سیتی میں نہیں، پروتی میں نہیں، مگر کام ہے کہ سمٹنے ہی میں نہیں آتا۔ آخر آج میں زبردستی نکل کھڑی ہوئی، سو کام کا حرج کیا، اور میں نے کہا کہ چلوں، ذرا کھڑے کھڑے استانی جی سے تو مل آؤں۔"
استانی جی: "درست ہے، یہی تو کام کا وقت ہے؛ آپ نے ناحق تکلیف کی؛ مجھ ہی کو بلا بھیجا ہوتا؛ میں بھی دن رات آپ ہی کے کام میں لگی لپٹی رہتی ہوں۔ جوڑے جو میں نے سینے اور مصالح ٹانکنے کو آپ کے یہاں سے منگوائے تھے، سب تیار ہیں۔ پہلے تو میرا جی ڈرتا تھا کہ جوڑے ماشاء اللہ بھاری[۶] ہیں، اور خدا کے فضل سے امیر گھر جانے والے ہیں؛ ایسا نہ ہو کہ یہ لڑکیاں کہیں بگاڑ دیں؛ مگر نہیں، حسن آرا کی محبت سے لڑکیوں نے خوب ہی جی لگا کر سیا، اور مصالح بھی بہت ہی صفائی سے ٹانکا۔ اس جوڑی گلبدن کے پائجامے میں، جو میں نے پرسوں سلوا کر بھیجا ہے، ذرا کلیوں کا گوکھرو کچھ زیادہ گیا ہے؛ بہتیرا شہر بانو کہتی رہی کہ استانی جی، لاؤ ادھیڑ کر پھر ٹانک دوں؛ میں نے کہا، خیر رہنے بھی دو، ادھیڑنے سے گوکھرو خراب ہو جائے گا؛ آئندہ اس کا خیال رکھنا۔"
سلطانہ بیگم: "وہ جوڑا میں نے اپنی یہاں کی مغلانیوں[۷] کو دکھایا تھا؛ پھڑک گئیں اور کہنے لگیں، پھر کہاں مردوں کی چٹکی اور کہاں عورتوں کی۔ میں بولی: 'اے، مردوں کا یہاں کیا مذکور رہا؟'"
مغلانیاں: "اے حضور، یہ جوڑا میاں علی جان[۸] کے کارخانے کا ٹانکا ہوا معلوم ہوتا ہے؛ اسی سے ٹانکا ایسا درست بیٹھتا چلا گیا ہے؛ تو لونڈیوں کے عرض کرنے کا یہ مطلب تھا کہ عورتوں کا کام کیسا ہی سچل[۹] کیوں نہ ہو، مردوں کے کام کو نہیں پا سکتا۔"
میں: "کہاں کے علی جان، اور کیسے مرد! یہ جوڑا تو میری استانی جی کے مکتب کی لڑکیوں نے سیا، اور انھی نے اس میں مصالحہ ٹانکا ہے۔" یہ سن کر مغلانیاں بار بار جوڑے کو کھول کر بغور دیکھتی تھیں اور کہتی تھیں: "حضور فرماتی ہیں تو ہم کو یقین ہے، لیکن عورتوں کے ہاتھ میں یہ صفائی اور ستھرا پن ہم نے تو نہیں دیکھا۔"
استانی جی: "خیر، اور جوڑوں کی سلائی مجھ کو بھی پسند ہے۔ پھر آپ نے حسن آرا بیگم کے تمام جوڑے یہیں بھیج دیے ہوتے؛ لڑکیاں تو خوشی خوشی سی دیتیں۔"
سلطانہ بیگم: "اور یہ سارا جہیز کس نے سیا اور کس نے ٹانکا؟ مغلانیوں سے تو میں نے صرف موٹا کام لیا: چاندنیاں ہوئیں، گٹھریاں ہوئیں، دسترخوان ہوئے، سوزنیاں ہوئیں، موباف، گہنے، غلاف، تکیے، تو شک، لحاف؛ اس طرح کی چیزیں البتہ مغلانیوں نے سی ہیں؛ یا ہاں، شب خوابی[۱۰] کے کپڑے؛ باقی پہننے کے کپڑے اکثر تو مکتب میں، اور کچھ تھوڑے باجی اماں کے یہاں سے بن کر آئے۔"
استانی جی: "الٰہی، خیر سے حسن آرا بیگم کو نصیب، ایک یہ ہزاروں، اور گھس پس کر پرانے ہوں۔"
سلطانہ بیگم (ٹھنڈا سانس بھر کر): "ہاں استانی جی، دعا کیجیے؛ اللہ نصیب اچھا کرے۔ بیٹیوں کا کچھ عجب نازک معاملہ ہے: کن کن مصیبتوں سے پالو، پرورش کرو، اور پھر دھن[۱۱] پرایا۔ کیا کروں، کچھ بن نہیں پڑتی؛ ورنہ میں حسنا[۱۲] کو اپنی نظروں سے دور نہ ہونے دیتی۔ شہر میں ایک[۱۳] سمدھیانا[۱۴] کر کے وہ وہ آفتیں اٹھائیں کہ میں نے آگے کو توبہ کی اور کان اینٹھا؛ ورنہ حکیم صاحب[۱۵] بے چارے کا کچھ قصور نہیں؛ کیسی کیسی باتیں حسنا کے واسطے منگوائیں، ایک سے ایک بڑھ چڑھ۔ میں نے کہا، حاشا[۱۶]! ادھر کی دنیا ادھر ہو جائے گی، میں شہر میں اب بیٹی نہ دوں گی۔ کالا منہ ایسے شہر کا، جس میں یہ کچھ رسوائی اور فضیحت ہے۔ سو استانی جی، اب دیہات والوں سے معاملہ کیا ہے؛ خدا کے ہاتھ شرم ہے۔"
استانی جی: "حسن آرا بیگم سے آپ مطمئن رہیے؛ اول تو جھجر والے خود بڑے رئیس ہیں، دوسرے خاک چاٹ[۱۷] کر کہتی ہوں، آپ ان شاء اللہ دیکھ لیجیے گا کہ بیاہ کے دوسرے تیسرے ہی مہینے حسن آرا بیگم تمام ریاست کے سیاہ و سفید[۱۸] کی مالک نہ بن بیٹھیں تو مجھ کو الٹا لٹکا دیجیے گا۔ کیا آپ کو حسن آرا بیگم کے مزاج میں کچھ فرق نہیں معلوم ہوتا؟"
سلطانہ بیگم: "فرق تو آپ کی عنایت سے زمین و آسمان کا ہے۔ آپ کے فیضان تعلیم نے خاک کو اکسیر، تانبے کو کندن، ذرے کو خورشید[۱۹]، پوتھ کو لعل سفید[۲۰]، حیوان کو آدم، حسنا کو ماشاء اللہ حسن آرا بیگم بنا دیا۔ اس کی خوبی تقدیر کی ایک یہی بڑی نشانی ہے کہ وہ شاگرد، اور آپ جیسی اس کی استانی ہے۔ یہ ایسا احسان آپ نے ہم سب گھر والوں پر کیا کہ جب تک جئیں گے، آپ کے مرہون منت[۲۱] رہیں گے۔ مگر جب سے حسنا نے بیاہ کی تیاری ہوتی دیکھی ہے، کچھ سہم[۲۲] سی گئی ہے۔ یوں ہی گھر میں اس کا جی نہ لگتا تھا؛ اب اور بھی دل اچاٹ سا ہو گیا ہے؛ نہ کھاتی ہے، نہ پیتی ہے، نہ کسی سے بولتی اور بات کرتی ہے۔ ارادہ تھا کہ پورے مہینہ بھر مایوں بٹھاؤں گی؛ اس کی حالت دیکھ کر میں نے کہا کہ مایوں سے بدتر تو یہ خود ہوتی جاتی ہے؛ رنگت زرد ہو گئی ہے؛ آنکھوں میں حلقے پڑ گئے ہیں؛ چہرہ دیکھو، اداس؛ صورت دیکھو، غمگین۔ میں کہتی ہوں، اس کو اتنا فکر کیوں ہے؟ اس عمر میں تو لڑکیوں کو دلہن بننے کی بڑی خوشی ہوتی ہے۔"
استانی جی: "حسن آرا بیگم اور لڑکیوں کی طرح نادان نہیں ہیں؛ ماشاء اللہ بڑی فہمیدہ اور زیرک[۲۳] لڑکی ہے؛ یہی کچھ گھر کے چھوٹنے کا خیال ہو گا۔"
سلطانہ بیگم: "گھر کی تو اس کو مطلق پروا نہیں؛ البتہ مکتب اس کی جان ہے؛ دیکھیے کیوں کر بچی کا دل بہلے گا۔"
استانی جی: "میں سمجھا دوں گی؛ اور یوں آدمی اپنے پیاروں سے جدا ہوتا ہے تو رنج ہوتا ہی ہے۔"
سلطانہ بیگم: "اترسوں خیر سے پچیسویں تاریخ اور جمعے کا دن ہے؛ اگر آپ اجازت دیں تو حسنا کو مایوں بٹھلا دیا جائے؛ کنبے والے پچھوا پچھوا بھیجتے ہیں کہ اب تک لڑکی کو مایوں نہیں بٹھایا؟"
استانی جی: "خدا مبارک کرے! تاریخ بھی اچھی، دن بھی اچھا؛ اور حسن آرا بیگم کو مایوں بٹھانے کی کچھ ضرورت نہ تھی، مگر خیر، دنیا کی رسم ہے۔"
سلطانہ بیگم: "پھر آپ فرمائیں تو حسنا گھر سے نہ نکلے؛ میں تو کئی دن سے کہہ رہی ہوں؛ منہ سے تو کچھ نہیں کہتی، آنکھ بچی اور مکتب میں۔"
استانی جی: "کل اور معاف کیجیے؛ پرسوں ان شاء اللہ میں حسن آرا بیگم کو مکتب سے رخصت کر دوں گی۔ لڑکیوں کی خواہش ہے کہ کل دونوں وقت مکتب کی طرف سے حسن آرا بیگم کی دعوت ہو، رت جگا کریں؛ پرسوں سویرے ذرا آپ بھی جمال آرا بیگم کو ساتھ لے کر تشریف لائیے گا، اور لڑکیوں کی مائیں بہنیں بھی آئیں گی۔"
اس کے بعد سلطانہ بیگم تو رخصت ہوئیں؛ اگلے دن بڑے تکلف اور بڑی دھوم کے ساتھ حسن آرا بیگم کی دعوت ہوئی؛ مکتب کی لڑکیوں نے اپنے ہاتھوں وہ وہ کھانے پکائے کہ کیا کوئی رکاب دار[۲۴] پکائے گا؛ رات کو رت جگا ہوا؛ حسن آرا کے سہاگ اور مایوں کے گیت گائے گئے۔ اور لڑکیوں نے یہ بھی صلاح کی کہ مکتب کی طرف سے چڑھاوے کا جوڑا تو خیر دیا ہی جائے گا، مانجھے[۲۵] کا جوڑا بھی مکتب ہی کا ہو، اور حسن آرا بیگم وہی جوڑا پہن کر مکتب سے رخصت ہوں۔ صبح سویرے اٹھ، نماز اور تلاوت سے فارغ ہو، مکتب سے جھاڑو دلوا، سلیقے کے ساتھ دالانوں میں صاف اور ستھرا فرش بچھوا دیا؛ اتنے میں مہمانوں کی ڈولیاں آنی شروع ہوئیں؛ کوئی چار گھڑی دن چڑھتے چڑھتے سارا گھر مہمانوں سے بھر گیا۔ لڑکیوں کی ماں بہنوں میں تو کوئی بھی ایسی نہ تھی کہ نہ آئی ہو؛ محلے کی ساری بیویاں بے بلائے سیر دیکھنے کو آ موجود ہوئیں؛ اور اچھی خاصی شادی رچ[۲۶] گئی۔ بیچ والے دالان میں جہاں سوزنی گاؤ تکیہ بچھا تھا، استانی جی بیٹھیں، اور سارے مہمان اسی دالان میں آ کر بھر گئے۔ جب سب لوگ بیٹھ بٹھا چکے تو اندر کوٹھری سے لڑکیاں حسن آرا بیگم کو مانجھے کا جوڑا پہنا کر باہر لائیں، اور استانی جی کے عین سامنے لا بٹھایا۔ تب استانی جی نے حسن آرا سے مخاطب ہو کر یہ تقریر کی کہ "بوا حسن آرا بیگم، آج میں تم کو اپنی اور اپنے مکتب کی لڑکیوں کی طرف سے رخصت کرتی ہوں؛ آج استادی شاگردی اور ہم مکتبی سب کا خاتمہ ہو گیا۔" یہ سن کر سارے مہمانوں کی آنکھوں سے بے اختیار آنسو ٹپک پڑے، اور استانی جی کا بھی دل اس قدر بھر آیا کہ گو ضبط کرتی تھیں، مگر آواز سے رقت ظاہر تھی۔ "مگر محبت اور اخلاص ان شاء اللہ جب تک دم میں دم ہے، باقی رہے گا۔ حسن آرا بیگم! میں تم کو مثل اپنی بتول[۲۷] کے اور محمودہ کے چاہتی اور پیار کرتی تھی اور کرتی ہوں، اور جب تک دنیا میں ہوں، خدا نے چاہا، کروں گی۔ مگر استادی شاگردی کا ایسا ناتا ہے کہ مجھ کو اس محبت کا برتاؤ رکاوٹ کے ساتھ کرنا پڑتا تھا۔ کبھی کبھی میں نے تم کو تمہاری غلطیوں پر متنبہ[۲۸] کیا ہو گا، بلکہ شاید کسی بے جا بات پر ملامت بھی کی ہو؛ سو وہ تنبیہ اور ملامت سب تمہارے فائدے، تمہاری اصلاح[۲۹]، اور تمہاری بہتری کے واسطے تھی۔ جب دو آدمی دنیا میں کسی طرح کا تعلق رکھتے ہیں، چاہے وہ تعلق ہمسایگی اور ہم وطنی اور انسانیت ہی کا کیوں نہ ہو، مگر بہت سے حقوق ایک کے دوسرے پر ہوتے ہیں۔ وہ تعلق جو مجھ کو تمہارے ساتھ تھا، میں کہہ چکی ہوں کہ تعلق مادری و فرزندی کے قریب قریب تھا۔ ہرچند میں تمہارے حقوق کے ادا کرنے میں اپنے مقدور بھر کوشش کرتی رہی ہوں، لیکن ممکن ہے کہ مجھ سے تمہارے کسی حق کے ادا کرنے میں کچھ فروگذاشت[۳۰] ہوئی ہو؛ سو آج میں اس بھرے مجمع میں تم سے بہ منت اس کی معافی چاہتی ہوں؛ اس واسطے کہ میں بھی آدمی ہوں، اور آدمی کو کبھی یہ غرور نہیں کرنا چاہیے کہ اس نے اپنے فرائض انسانیت کو پورا پورا ادا کیا ہے۔" (ہر طرف سے واہ واہ، سبحان اللہ کا شور ہوا، مگر اس کے ساتھ رقت بھی تھی۔)
"بوا حسن آرا بیگم، انسان کا خمیر انس سے ہے؛ دو چار دفعہ کی صاحب سلامت سے آدمی کو آدمی کی محبت پڑ جاتی ہے؛ اور تم سے تو تین برس کامل اس درجے کا اختلاط[۳۱] رہا کہ رات دن پاس رہنے کا اتفاق ہوا۔ پس آج میں تم کو اسی صدمے، اسی درد، اسی رنج کے ساتھ رخصت کرتی ہوں جس طرح بتول اور محمودہ کو کروں گی، اگر خدا کو منظور ہے۔" (سب جتنے اس وقت موجود تھے، پکار کر روئے۔)
استانی جی (تھوڑی دیر ضبط کرنے کے بعد): "بوا حسن آرا بیگم! میں جدائی اور رخصت کے مضمون کو بار بار کہنا نہیں چاہتی، اس واسطے کہ اس سے تم کو اور مجھ کو سب سننے والوں کو تکلیف ہوتی ہے؛ مگر غور کرو تو تمہارا رخصت ہونا کوئی انوکھی بات نہیں ہے؛ دنیا جہان کی بیٹیوں کا دستور ہے کہ بیاہ ہوا، اور ماں باپ سے جدا۔ مجھ کو بھی اپنی ماں سے کبھی ایسا ہی تعلق تھا جیسا کہ تم کو اب بیگم صاحب سے یا مجھ سے ہے؛ تمہاری طرح میں بھی ایک آپا رکھتی تھی؛ تمہاری جیسی سہیلیاں میری بھی تھیں؛ مگر آخر سسرال کی نئی دنیا میں آ کر بسی، اور کیا میں اکیلی بسی؟ مجھ ایسی ہزاروں لاکھوں۔ تم کو شاید شہر کے باہر بیاہے جانے کا خیال ہوتا ہو گا، سو اس کی کچھ وجہ نہیں ہے؛ باہر، شہر، ہر جگہ تمہارے واسطے نہیں، جن کے لیے ماشاء اللہ ہر طرح کی سواریاں موجود ہیں؛ اگر آنا چاہو تو پھر نہیں؛ سو اے بوا حسن آرا بیگم! میکے کے تعلقات یاد رکھو کہ رفتہ رفتہ خود بخود ضعیف[۳۲] ہو جاتے ہیں۔ بس، کیا دل کو اتنا سمجھا لینا کچھ بڑا کام ہے کہ پہلے ہی سے ادھر کے تعلقات کو ضعیف فرض کر لیا جائے؟ حسن آرا بیگم، تمہاری حالت میں جو انقلاب[۳۳] عظیم ہونے والا ہے، مجھ کو امید ہے کہ تم اس سے بے خبر نہیں ہو؛ اور تم کو شکر کرنا چاہیے کہ جس امتحان کے لیے تم بلائی جاتی ہو، تم کو اس کے واسطے اچھی خاصی فرصت اور فراغت حاصل تھی۔ جو کچھ تم نے پڑھا اور سیکھا اور سنا، اب اس امتحان میں تمہارا اصلاح کار اور مددگار ہو گا۔ جو شخص تمہاری طرح کتابوں کا ذخیرہ[۳۴] پاس رکھتا ہے، اگر وہ اپنے تئیں تنہا سمجھے، یا وہ اپنے تئیں اپنے پیاروں سے بچھڑا ہوا خیال کرے، تو یہ اس کی غلطی ہے۔ یہی کتابیں تمہاری تنہائی کی سہیلیاں ہیں؛ اور سہیلی بھی کیسی؟ ماں کی طرح مہربان، استانی کی طرح شفیق، مونس[۳۵]، غم خوار[۳۶]، رفیق[۳۷]، غم گسار[۳۸]، ناصح[۳۹]، دوست دار، خیر خواہ[۴۰]، وفا شعار[۴۱]۔ بوا حسن آرا بیگم! اب تک تو جو کچھ تم پڑھتی رہیں، تم کو قصہ اور کہانی معلوم ہوا ہو گا؛ لیکن وہ کہانی اب تک جگ بیتی تھی اور اب آپ بیتی ہو گی۔ جتنی کتابیں تمہارے پاس ہیں، اگرچہ تھوڑی ہیں، مگر غور کرنے اور عمل کرنے کو بہت ہیں؛ اور میں تمہارے ہی فائدے کی نظر سے یہ آخری نصیحت تم کو کرتی ہوں کہ تم اسی طرح التزام کے ساتھ ان کو پڑھتی اور دیکھتی رہنا جیسے مکتب کے پڑھنے کی حالت میں پڑھا اور دیکھا کرتی تھیں۔ جس روز سے تم مکتب میں داخل ہوئیں، میں نے تمہارے حالات قلم بند کرنے شروع کر دیے تھے؛ اور اب تک جو جو مباحثے[۴۲] اور معاملے تم میں اور مکتب کی لڑکیوں میں واقع ہوئے ہیں، سب کا سلسلہ وار لکھتی چلی گئی۔ اب میں دیکھتی ہوں تو ان سے ایک اچھی خاصی کتاب بن گئی ہے۔ بنات النعش[۴۳] میں نے اس کا نام رکھ دیا ہے؛ یہ وہی کتاب ہے جو میں تم کو بطور اپنی یادگار کے دیتی ہوں۔"
یہ کہہ کر استانی اصغری خانم نے سرخ اطلس کے کام دار جزدان سے کتاب نکالی کلابتون کا شیرازہ، جلد جیسے سونے کا ڈلا، خود استانی جی کے دست خاص کی نہایت پاکیزہ خط نستعلیق میں لکھی ہوئی کہ دیکھ کر آنکھیں روشن ہو جائیں؛ لوح[۴۴]، بین السطور[۴۵]، جدول[۴۶]، سر آغاز[۴۷]، ہر جگہ لاجوردی اور طلائی[۴۸] کام۔ پہلے تو حاضرین مجلس میں وہ کتاب دست بدست پھری؛ پھر استانی جی نے بدستور جزدان میں رکھ، حسن آرا بیگم کو دی۔ حسن آرا گھونگھٹ نکالے نکالے سرو قد کھڑی ہو کر استانی جی کو بہت ادب سے سلام کر کے بیٹھ گئی۔ کتاب کی دیکھا بھالی میں کوئی دو چار لمحے سلسلۂ سخن منقطع[۴۹] رہا، اور پھر استانی جی نے اپنی تقریر شروع کی:
"بوا حسن آرا بیگم! اس کتاب میں تم اپنی، بلکہ مکتب کی سب لڑکیوں کی ہو بہو تصویریں پاؤ گی۔" یہ سن کر کل حاضرین جنھوں نے کتاب کو اچھی طرح الٹ پلٹ کر دیکھا تھا، متعجب ہوئے۔
استانی جی: "تصویر سے میری یہ مراد ہے کہ تمہارا مزاج، تمہاری عادت، تمہاری خو بو کا اس میں ایسا بیان کامل ہے کہ جو تمہارے حالات سے واقف ہو، کتاب کے پڑھنے کے ساتھ سمجھ جائے گا کہ تمہارا تذکرہ ہے۔ یہ کتاب تم کو وہ عادتیں یاد دلائے گی جن کی اصلاح میں مجھ کو بڑے بڑے اہتمام کرنے پڑے ہیں۔ تم کو اس کتاب کے پڑھنے سے یہ معلوم ہو گا کہ گویا پھر وہی مکتب ہے، وہی بات بات پر ضد ہے، اور وہی بات بات پر تعجب ہے۔ اس کتاب کے پڑھنے سے تم کو معلوم ہو گا کہ مکتب کی تعلیم نے تم پر کہاں تک اثر کیا؛ کون کون سی عادتیں تھیں کہ چھڑا دیں؛ کون کون سی غلط فہمی تھی کہ اس کی اصلاح کی؛ اور کون کون سی نیک باتیں ہیں کہ اول ان کی بہتری تم سے تسلیم کرا کے پھر تم کو ان کے اختیار کرنے پر مجبور کیا۔ اگرچہ بظاہر تم آج سے اس مکتب سے جدا ہوئیں، مگر میرے اور مکتب کی لڑکیوں کے دلوں سے ہمیشہ تم نزدیک رہو گی، اور وقتاً فوقتاً جو فائدہ تم کو اس مکتب سے پہنچا رہے گا؛ جو نئی کتاب ہم پائیں یا جو عمدہ مضمون سنیں اور دیکھیں گے، ضرور تم کو اس کے پڑھنے میں شریک کر لیا کریں گے۔ بوا حسن آرا بیگم، تم جانتی ہو کہ میں ایک غریب آدمی ہوں، لیکن خدا کا شکر کرتی ہوں کہ میں اپنی حالت سے رضا مند اور اپنی حیثیت میں خوش ہوں؛ کیوں کہ میں بقول ایک بزرگ کے آسمان کو دیکھتی ہوں اور سمجھتی ہوں کہ ضرور کسی نہ کسی دن طائر روح[۵۰] کو قفس عنصری[۵۱] سے نکل کر اوج فلک[۵۲] پر پرواز[۵۳] کرنا ہے؛ پھر زمین کو دیکھتی ہوں اور پاتی ہوں کہ جب مروں گی تو صرف چند بالشت زمین میری ہڈیوں کے لیے درکار ہو گی؛ پھر غور کرتی ہوں کہ دنیا میں نہ کچھ ساتھ لائی اور نہ کچھ ساتھ لے جاؤں گی؛ اور ہزاروں لاکھوں خدا کے بندے ایسے ہیں کہ ان کے مقابلے میں ہر طرح اور ہر اعتبار سے میری حالت بمدارج بہتر ہے۔ ان خیالات نے میرے دل پر یہ اثر کیا ہے کہ دوزخ شکم بھر لینے کو کچھ دال دلیا، اور تن بدن ڈھانک لینے کو کچھ موٹا جھوٹا کپڑا، اس کے سوائے دنیا کی کوئی چیز ایسی نہیں جس کا ہونا اپنے واسطے ضرور سمجھوں اور اس کے حاصل کرنے کا فکر کروں۔ پھر بھی خدا نے اپنے فضل و کرم سے مجھ کو ضرورت سے زیادہ اور حاجت سے بڑھ کر بہت کچھ دے رکھا ہے۔ کچھ تھوڑا سا باقتضائے محبت اس میں سے، اور کچھ رقم[۵۴] مکتب سے لے کر، میں نے دو سو روپے کا ایک جوڑا تمہارے لیے بنایا ہے۔ مکتب کی رقم، تم جانتی ہو کہ میں اس کی مالک نہیں ہوں؛ لڑکیوں کی چیز ہے، جن کے کاموں کے دام سے یہ رقم فراہم کی جاتی ہے۔ پس یہ جوڑا خلعت[۵۵] مکتبی ہے جو میں تم کو نہایت خوشی سے دیتی ہوں؛ خدا تم کو اس کا پہننا مبارک کرے۔ تمہارے جہیز میں اس سے کہیں زیادہ قیمت کے جوڑے ہوں گے؛ مگر جب دیکھو گی کہ کس چاؤ اور کس شوق اور کس محبت سے ہم چند غریب آدمیوں نے مل کر یہ جوڑا بنایا ہے، تو ہم سب کو امید ہے کہ تمہارے قیمتی اور عمدہ اور نفیس جہیز میں اس کا شامل کیا جانا کچھ بدنما[۵۶] نہ ہو گا۔" یہ سن کر حسن آرا نے پھر اسی حالت میں اٹھ کر سلام کیا۔
استانی جی: "بوا حسن آرا بیگم! اب دن زیادہ چڑھ گیا ہے، اور لوگوں کے کھانے پکانے کا وقت ہے؛ میں نہیں چاہتی کہ زیادہ دیر تک تم سب کو باتوں میں لگائے رکھوں؛ مگر صرف ایک بات اور کہہ لینے دو، کہ اگر اس کو نہ کہوں گی تو گویا تمہارا فرض رخصت میرے ذمے رہ جائے گا۔ لڑکیاں جو بیاہ ہوئے پیچھے ماں باپ، بھائی بہنوں، اور عزیز و اقارب سے جدا ہو کر سسرال جاتی ہیں، اس انقلاب کی حالت میں خدائے تعالیٰ ہم عورتوں کو اپنے فضل سے اس انقلاب کا نمونہ دکھاتا ہے جو ہر بشر کے واسطے مقدر[۵۷] ہے۔ دنیا ہمارا میکا ہے اور عاقبت بجائے سسرال کے ہے۔ کوئی لڑکی سدا میکے میں نہیں رہتی؛ دیر سویر، ایک نہ ایک دن اس کو سسرال جانا ہو گا؛ اسی طرح کوئی شخص ہمیشہ دنیا میں نہیں رہے گا؛ سدا رہے گا نام اللہ کا۔ جس لڑکی نے میکے میں رہ کر ہنر سیکھا، عقل و تمیز حاصل کی، سسرال میں ساس سسرے کی لاڈو، نند بھاوجوں کی چہیتی، اور اپنے میاں کی پیاری ہو گی۔ اسی طرح جس نے دنیا میں رہ کر اچھے عمل اور نیک کردار کیے، عاقبت میں اسی کی عزت اور توقیر ہے، اور ایسے ہی لوگ بہشت کے مالک ہوں گے۔ مگر جس لڑکی نے ماں باپ کی ناز برداریوں میں وقت کو ضائع کیا، اور اپنے مزاج کی اصلاح، عادات کی درستی اور تحصیل ہنر کا کچھ فکر نہ کیا، سسرال میں جائے گی تو میاں کی نظروں میں ذلیل، ساس نندوں کے نزدیک بے وقر؛ بعینہ یہی حال ہو گا ان کا جو زندگی کے دن غفلت اور بے پروائی میں اکارت کرتے ہیں؛ قیامت میں رسوا اور فضیحت ہوں گے۔ اسی طرح لڑکیاں میکے سے جہیز لے کر جاتی ہیں؛ دین کے میکے کا جہیز اپنے اپنے عمل ہیں جو آدمی کے ساتھ جاتے ہیں۔
حسن آرا بیگم! میں جانتی ہوں کہ ان دنوں تمہارے دل میں عجب عجب طرح کے خیالات گزرتے ہوں گے کہ یہ کیا ہو رہا ہے اور کیا ہو گا؛ مگر اپنے خیالات کو ذرا اونچا کرو، اور اپنی نظر کو تھوڑا اور آگے بڑھاؤ۔ سوچنے اور سمجھنے کی بات ہے تو یہ ہے کہ دنیا کیا چیز ہے، کس لیے ہم یہاں آئے ہیں، کیا ہم کر رہے ہیں، اور انجام کار کیا ہونا ہے۔ جس طرح تمہارے میکے میں رہنے کے دن پورے ہو چکے، ہر شخص کے واسطے ایک دن وہ بھی ہو گا کہ اس کی مدت حیات[۵۸] تمام ہو جائے گی؛ اور سب مل کر اس وقت خدا کی درگاہ میں دعا کریں کہ ہم سب کو نیک عمل کی توفیق دے۔" (ہر طرف سے آمین آمین کا شور ہوا۔) "دنیا کے میکے اور سسرالیں تو چند روزہ ہیں؛ الٰہی، اس جہان میں سدا سدا کو رہنا ہے؛ پردہ رکھ لیجیو اور فضیحت مت کیجیو۔" (سب نے پکار کر کہا: آمین آمین!) "الٰہی، یہ تیری کنیز، جس کو ہم حسن آرا بیگم کہہ کر پکارتے ہیں، منزل دنیا، جس کو ہم سب تیرے حکم سے طے کر رہے ہیں، شروع کرنے والی ہے؛ تیرا فضل و کرم اس کا حافظ، تیری توفیق اس کا بدرقہ[۵۹]، تیری عنایت و مہربانی اس کی زاد راہ[۶۰] ہو۔" (سب کو رقت ہوئی، اور سب نے کہا: آمین!) اس کے بعد استانی جی نے اٹھ کر حسن آرا کو گلے لگا کر پیار کیا، اور آہستہ آہستہ کوئی دعا پڑھ کر حسن آرا پر دم کی، اور دروازے تک ساتھ لے جا کر پالکی میں سوار کرا دیا، اور مجلس تمام ہوئی۔ فقط
حواشی
[۱] پڑھ لینے کا۔
[۲] زبانی یاد ہے۔
[۳] یعنی شان خط۔
[۴] ناگوار۔
[۵] مزاج پوچھنے کے بعد۔
[۶] یعنی قیمتی ہیں۔
[۷] جو عورتیں امیروں کے گھر سلائی کا کام کرتی ہیں، مغلانیاں کہلاتی ہیں۔
[۸] دلی میں بڑے نامی پٹوے تھے؛ اب علی جان تو انتقال کر گئے، مگر ان کا کارخانہ ویسا ہی نامی ہے۔
[۹] عمدہ۔
[۱۰] پہن کر سونے کی۔
[۱۱] مال۔
[۱۲] حسن آرا کا پیار کا نام۔
[۱۳] بڑی بیٹی جمال آرا۔
[۱۴] جمال آرا کی سسرال۔
[۱۵] حسن آرا کے والد۔
[۱۶] ہرگز نہیں۔
[۱۷] یعنی کچھ شیخی نہیں کرتی، بلکہ خاک چاٹ کر اور اپنی عاجزی کا اقرار کر کے کہتی ہوں۔
[۱۸] برے بھلے۔
[۱۹] آفتاب۔
[۲۰] سفید رنگت کا لال، نایاب اور بہت بیش قیمت ہوتا ہے۔
[۲۱] آپ نے جو سلوک کیا ہوا ہے، اس کے بدلے گرو۔
[۲۲] ڈر سی گئی ہے۔
[۲۳] دانش مند۔
[۲۴] اعلیٰ درجے کا باورچی۔
[۲۵] وہ جوڑا جو مایوں کے دنوں میں پہنا جائے۔
[۲۶] یعنی شادی کا سا سامان جم گیا۔
[۲۷] بتول نام ہے استانی جی کی لڑکی کا؛ اور محمودہ تو معلوم ہے کہ استانی کی نند اور مکتب کی خلیفہ ہے۔
[۲۸] آگاہ۔
[۲۹] درستی۔
[۳۰] یعنی کوئی حق ادا کرنے سے چھوٹ گیا ہو۔
[۳۱] ملنا۔
[۳۲] کمزور۔
[۳۳] بڑی تبدیلی۔
[۳۴] سامان۔
[۳۵] جی کی بہلانے والی۔
[۳۶] غم کو غلط کرنے والی۔
[۳۷] ساتھ رہنے والی۔
[۳۸] غم غلط کرنے والی۔
[۳۹] نصیحت کرنے والی۔
[۴۰] بہتری چاہنے والی۔
[۴۱] باوفا۔
[۴۲] جھگڑے۔
[۴۳] بنات النعش اتر میں سات ستاروں کا ایک گچھا ہے؛ چار ستاروں کا ایک چوکھٹا سا ہے، اور تین ستارے چوکھٹے کے پیچھے اوپر تلے واقع ہیں؛ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وہ چوکھٹا گویا جنازہ ہے اور اس کے پیچھے پیچھے تین آدمی چلے جا رہے ہیں۔ عرب والے یہ سمجھ کر ان کو بنات النعش کہتے ہیں کہ یہ تین ستارے [illegible: rest of footnote runs into the margin of the scan]
[۴۴] شروع کا صفحہ۔
[۴۵] سطروں کے بیچ بیچ۔
[۴۶] صفحے کے چاروں طرف کے خط۔
[۴۷] پیشانی۔
[۴۸] سنہرا۔
[۴۹] بات کا سلسلہ ٹوٹا ہوا۔
[۵۰] یعنی روح کے پرند کو۔
[۵۱] بدن کے پنجرے سے۔
[۵۲] آسمان کی بلندی۔
[۵۳] یعنی اڑ کر جانا ہے۔
[۵۴] جمع۔
[۵۵] یعنی مکتب کا دیا ہوا خلعت۔
[۵۶] یعنی دیکھنے میں برا نہیں معلوم ہو گا۔
[۵۷] جو ہر ایک شخص کو پیش آنے والا ہے۔
[۵۸] زندگی۔
[۵۹] راہ دکھانے والا۔
[۶۰] راستے کا توشہ۔
Que vous laisse ce chapitre ?
Connectez-vous pour réagir
Discussion
Personne n’a encore parlé. Dites ce que ce chapitre a remué en vous.