
Chapitre 20 sur 22
On the Study of History and the Different Customs of Mankind / The Heavenly Bodies, Astronomy and Eclipses
علم تاریخ کا تذکرہ اور آدمیوں کی مختلف رسمیں / اجرام فلکی، علم ہیئت اور گہن
علم تاریخ کا تذکرہ اور آدمیوں کی مختلف رسمیں
حسن آرا: "آدمی آدمی ایک؛ ذات رواج کا مختلف ہونا بڑی حیرت کی بات ہے۔"
استانی جی: "ایک رواج کا اختلاف! اجی، صورتیں، قد و قامت، لباس، وضع، بولی، راہ و رسم، مذہب، سبھی میں تو اختلاف ہے۔ دنیا میں کوئی دو ہزار تو بولیاں ہیں۔ ملکوں کی تاریخ پڑھو تو معلوم ہو، عجیب عجیب دستور ہیں۔ تاریخ چین میں میں نے لکھا دیکھا ہے کہ وہاں چھوٹا پاؤں بڑی خوبصورتی کی بات سمجھی جاتی ہے؛ چھٹپن میں لڑکیوں کو لوہے کی جوتیاں پہنا دیتے ہیں تاکہ پاؤں بڑھنے نہ پائے؛ بڑے ہوئے پر چھوٹے چھوٹے پاؤں بدن کا بوجھ نہیں سہار سکتے، اور چلنے میں عورتیں گر پڑتی ہیں، اور اس کو داخل نزاکت سمجھتے ہیں۔ چینیوں میں چپٹی ناک کی بڑی تعریف ہے؛ ان لوگوں کا کہنا یہ ہے کہ چہرہ ہونا چاہیے سپاٹ، اور ناک اگر ابھری ہوئی رہے تو اس سے چہرے کی ہمواری باقی نہیں رہتی؛ اس خیال سے چین کے لوگ بڑی بڑی حکمتوں سے ناک کے بانسے کو دباتے ہیں۔ مرہٹے بیوہ عورت کا سر منڈوا دیتے ہیں۔ راجپوت لڑکیوں کو پیدا ہوتے کے ساتھ مار ڈالتے ہیں۔ عرب کی عورتیں کئی کئی نکاح کرتی ہیں۔ جاپان میں سیاہ دانتوں کو بہت پسند کرتی ہیں، اور عورت جب بیاہی جاتی ہے تو اپنی بھوؤں کے بال بالکل نوچ ڈالتی ہے۔ افریقہ میں عورتیں دانتوں کو ریتوا ریتوا کر نوک دار بنواتی ہیں۔ ہمالیہ میں سرحد چین پر ایک مقام ہے جہاں مرد تو خانہ داری کے کام کرتے ہیں اور عورتیں باہر سودا سلف، کھیتی باڑی وغیرہ؛ برما میں دکان داری عموماً عورتوں سے متعلق ہے۔ غرض ہر ملکے و ہر رسمے۔"
حسن آرا: "آخر اس اختلاف کا سبب کیا ہے؟ شروع میں تو سب ایک آدم کی اولاد ہیں۔"
استانی جی: "آدم کی اولاد جب بہت بڑھ گئی تو ایک جگہ رہ نہیں سکتی تھی؛ دس دس ہزار، بیس بیس ہزار کے غول اطراف و جوانب میں جا بسے، اور وطن اصلی سے کچھ تعلق نہ رہا؛ شدہ شدہ اختلاف اس درجے پہنچا کہ گویا دو ملک کے لوگ ایک آدم کی نسل سے نہیں ہیں۔"
اجرام فلکی[۱] اور علم ہیئت کے اصول سرسری طور پر اور تھوڑا سا چاند گہن اور سورج گہن کا بیان
حسن آرا: "کچھ خدا کی قدرت میں عقل کام نہیں کرتی؛ کتنی بڑی زمین بنا دی ہے، کتنے سارے آدمی اس پر بسا دیے ہیں!"
استانی جی: "خدا کی قدرت کے آگے تو زمین نہایت چھوٹی ہے؛ اس قادر مطلق نے تو ایسے ایسے عالم بے شمار پیدا کر دیے ہیں کہ ان کے مقابلے میں زمین کی کچھ حقیقت نہیں۔"
حسن آرا: "وہ کون، عالم عاقبت؟"
استانی جی: "عاقبت نہیں؛ یہ ستارے جو تم آسمان میں دیکھتی ہو۔"
حسن آرا: "یہ زمین سے بڑے ہیں؟" استانی جی: "بہت بڑے ہیں۔"
حسن آرا: "بڑے تعجب کی بات ہے؛ سچ مچ میں کچھ اندھی تو نہیں ہو گئی!"
استانی جی: "خدا نہ کرے۔"
حسن آرا: "یہ ستارے جو آسمان پر ٹمٹماتے ہیں، ان کو آپ زمین سے بڑا فرماتی ہیں؛ مجھ کو تو بہت ہی ننھے ننھے اور چھوٹے چھوٹے معلوم ہوتے ہیں۔"
استانی جی: "تم اکیلی کو کیا، سب ہی کو چھوٹے معلوم ہوتے ہیں؛ مگر واقع میں بہت بڑے ہیں۔ آنکھ کا قاعدہ ہے کہ دور کی چیز کو چھوٹا دیکھتی ہے؛ اس نقص کے رفع کرنے کو عقل مندوں نے دوربین ایجاد کی؛ وہ بھی ایک قسم کا شیشہ ہے، مگر دور کی چیز اس کے ذریعے سے بڑی نظر آتی ہے۔ جن کتابوں میں چاند سورج اور ستاروں کا بیان ہوتا ہے، وہ علم ہیئت کی کتابیں کہلاتی ہیں۔ مجھ کو خوب یاد ہے کہ جب میرے والد نے اپنا تصنیف کیا ہوا رسالہ سیر آسمان مجھ کو پڑھایا ہے تو بات بات پر تم سے زیادہ تعجب مجھ کو ہوتا تھا؛ بلکہ میں نے اپنے والد سے عرض بھی کیا کہ یہ باتیں مجھ ہی کو عجیب معلوم ہوتی ہیں، یا فی الواقع عجیب ہیں؟ تو جناب والد نے فرمایا کہ انسان ناقص العقل جو کچھ زمین پر دیکھتا ہے، اپنی کم فہمی کی وجہ سے جانتا ہے کہ خدا کی قدرت اسی میں منحصر ہے، اور اس کی کاری گری کے تمام کرشمے یہی ہیں، اور خدائی کارخانے سب اس نے سمجھ لیے ہیں۔ انسان کا حال بعینہ گولر کے بھنگے کا سا ہے کہ وہ اسی کے اندر پیدا ہوا اور اسی کو جہان خیال کرتا ہے؛ لیکن سچ یہ ہے کہ دنیا کی پیدائش سے لے کر اب تک جو کچھ انسان نے جانا اور سمجھا ہے، وہ خداوند عالم کے کارخانۂ قدرت میں ایسا ہے جیسے سمندر کے آگے ایک ننھی سی بوند؛ بلکہ اس سے بھی کم۔"
حسن آرا: "اچھا، پھر استانی جی، کیا سچ مچ زمین سورج سے چھوٹی ہے؟"
استانی جی: "ہاں ہاں، چھوٹی بھی کیسی چھوٹی، جیسے بڑے مٹکے کے آگے مٹر کا دانہ۔"
حسن آرا: "بھلا آفتاب ہم سے کس قدر دور ہو گا؟"
استانی جی: "پونے پانچ کروڑ کوس۔"
حسن آرا: "پونے پانچ کروڑ کوس! اے ہے، کچھ سمجھ میں بھی نہیں آتا۔"
استانی جی: "میں آفتاب کی دوری تم کو دوسری طرح سمجھاؤں۔ توپ کا گولہ کتنا تیز چلتا ہے؛ بھلا تمہارے ذہن میں اس کی رفتار کا کچھ اندازہ ہے؟"
حسن آرا: "کوئی ریل سے دونا۔"
استانی جی: "نہیں، ایک منٹ میں ڈیڑھ میل، یعنی گھنٹے میں کوئی سو میل؛ اور ریل کو تو گھنٹے میں تیس میل سے زیادہ چلتے ہوئے نہیں سنا؛ شاید انگریزوں کی ولایت میں کچھ زیادہ تیز چلتی ہو گی۔"
حسن آرا: "گھنٹے کا حساب مجھ کو محمودہ بیگم نے بتایا تو تھا، پر خیال سے اتر گیا؛ اچھی استانی جی، ذرا آپ پھر سمجھا دیجیے۔"
استانی جی: "دن رات کے چوبیس گھنٹے، اور گھنٹے کا ساٹھواں حصہ منٹ۔"
حسن آرا: "ہاں، تو گولہ ایک منٹ میں ڈیڑھ کوس جاتا ہے؟ (پھر سوچ کر) ایک منٹ میں ڈیڑھ کوس!"
استانی جی: "اگر زمین سے توپ چھوڑی جائے تو ۹۰ برس میں گولا آفتاب پر پہنچے۔"
حسن آرا: "اے ہے، خدا کی پناہ! کیا ٹھکانا ہے! اور چاند زمین سے کتنا بڑا ہے؟"
استانی جی: "چاند بڑا نہیں، چھوٹا ہے۔" حسن آرا: "تو کچھ پاس بھی ہو گا؟"
استانی جی: "ہاں، ایک لاکھ بیس ہزار کوس دور ہے۔"
حسن آرا: "اچھی استانی جی! یہ نور کے اتنے بڑے گولے اللہ میاں نے اسی واسطے بنائے ہوں گے کہ زمین پر ان کی روشنی پہنچے۔"
استانی جی: "آفتاب تو اپنی ذات سے روشن ہے، مگر چاند کا یہ حال نہیں؛ وہ ہماری زمین کی طرح بے نور ہے۔"
حسن آرا: "کیا جس طرح آنکھ ستاروں کے قد و قامت میں غلطی کرتی ہے، ان کی چمک میں بھی غلطی کرتی ہے؟"
استانی جی: "چمک دار تو سب ستارے ہیں، لیکن جو ستارے اپنی ذاتی چمک نہیں رکھتے، آفتاب کی شعاع جس طرح زمین پر پڑتی ہے اور زمین چمک اٹھتی ہے، اسی طرح وہ ستارے بھی آفتاب کی دھوپ پڑنے سے ہم کو چمک دار نظر آتے ہیں۔"
حسن آرا: "آپ کی باتوں سے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ بعض ستارے بے نور ہیں جیسے چاند، اور بعض مثل آفتاب اپنی ذات سے روشن۔"
استانی جی: "تم نے ٹھیک سمجھا؛ یہی حال ہے۔"
حسن آرا: "مگر آفتاب کے برابر تو کسی میں چمک نہیں۔"
استانی جی: "آفتاب تو پھر بھی پاس ہے؛ ستارے اس قدر دور ہیں کہ بیان نہیں ہو سکتا۔"
حسن آرا: "بھلا جو ستارے اپنی ذات سے روشن نہیں ہیں، کیا آفتاب کی شعاع ان پر ہر وقت رہتی ہے؟ زمین پر تو ہر وقت نہیں رہتی۔"
استانی جی: "زمین پر بھی ہر وقت رہتی ہے۔"
حسن آرا: "استانی جی، رات کے وقت جب آفتاب غروب ہو جاتا ہے تو دھوپ کہیں بھی نہیں ہوتی۔"
استانی جی: "زمین گول ہے؛ جس طرف سے آفتاب کے سامنے ہوئی، وہاں دن ہوا، اور دوسری طرف اندھیرا، جس کو رات کہتے ہیں۔ اسی طرح ستاروں کی بھی ایک نہ ایک طرف آفتاب کے سامنے رہتی ہے۔"
حسن آرا: "زمین تو بے دھوپ کے بھی نظر آتی ہے، مگر تارے جتنے ہیں، چمکتے ہی ہوئے نظر آتے ہیں؛ اس کا کیا سبب ہے؟"
استانی جی: "اس کا سبب ہے دور ہونا۔ ستارے اتنی دور ہیں کہ صرف روشنی کے سہارے سے ہم کو ٹمٹماتے ہوئے بھی نظر آتے ہیں، ورنہ کیا امید ان کے نظر آنے کی ہے۔"
حسن آرا: "تارے دن کو کوئی نہیں دکھائی دیتے۔"
استانی جی: "خود آفتاب کی دہکتی ہوئی شعاعیں ہم پر ہوتی ہیں؛ تاروں کی مدھم چمک نظر نہیں آتی؛ جیسے دن کو چراغ کا نور پھیکا پھیکا ہو جاتا ہے۔"
حسن آرا: "یہ جو آپ نے فرمایا کہ زمین کی ایک طرف اجالا اور دوسری طرف اندھیرا رہتا ہے، بات تو ٹھیک ہے؛ گول چیز روشنی کے سامنے رکھیں گے تو سامنے والی طرف اجالا ہو گا اور دوسری طرف تاریکی؛ مگر چاہیے تھا کہ زمین پر جہاں دن تھا، سدا دن رہتا، اور جہاں رات تھی، سدا رات۔"
استانی جی: "کشش جانتی ہو؟" حسن آرا نے تامل کیا۔
محمودہ: "ایں، ابھی سے بھول گئیں؟ وہ کشش جس کے اثر سے چیزیں زمین پر گرتی ہیں۔"
حسن آرا: "ہاں، جانتی ہوں؛ پھر؟" استانی جی: "وہ کشش صرف زمین ہی میں نہیں ہے، بلکہ ہر ایک چیز ایک دوسری کو کھینچ رہی ہے۔ چاند، سورج، ستارے سب ایک دوسرے کو اپنی اپنی طرف کھینچ رہے ہیں؛ اس کھینچا تانی کا آخر یہ اثر ہوا کہ زمین ملا کر گیارہ ستارے آفتاب کے گرد گھومتے ہیں۔"
حسن آرا: "زمین بھی ستارہ ہے؟" استانی جی: "بے شک۔"
حسن آرا: "اچھا، زمین آفتاب کے گرد گھومتی سہی؛ اس سے رات دن کا ادل بدل تو لازم نہیں آتا۔"
استانی جی: "سہی کیا معنی، یوں ہی گھومتی ہے۔ اور رات دن کا ادل بدل یوں ہے کہ زمین اپنے اوپر بھی پلٹے کھاتی جاتی ہے؛ ایک پلٹے کا نام رات دن ہے، اور آفتاب کے گرد ایک چکر کا نام برس۔ حساب سے یہ نکلا کہ ایک گھنٹے میں اٹھاون ہزار میل زمین اپنے چکر میں چل جاتی ہے؛ اور جس طرح ریل اور ناؤ کے بیٹھنے والوں کو ریل اور ناؤ کی حرکت معلوم نہیں ہوتی، ہم لوگوں کو بھی خبر نہیں ہوتی کہ زمین کہاں جا رہی ہے۔"
حسن آرا: "صرف گیارہ ستارے آفتاب کے گرد گھومتے ہیں، اور باقی؟"
استانی جی: "باقی ٹھہرے ہوئے ہیں؛ اور کون جانے، شاید ان ٹھہرے ہوئے ستاروں میں ایک ایک بجائے خود آفتاب ہو، اور اس کے گرد اگرد اور ستارے گھومتے ہوں جو ہم کو نظر نہیں آتے۔"
حسن آرا: "ایسا نہ ہو، گھومتے گھومتے یہ گولے ایک دوسرے سے ٹکرا اٹھیں؛ اچھی استانی جی، تب کیا ہو گا؟"
استانی جی: "عجب نہیں کہ قیامت اسی طرح آئے؛ بلکہ آفتاب کے گرد گھومنے والے چار ستارے انگریزوں نے نئے دیکھے ہیں؛ لوگ ایسا خیال کرتے کہ وہ چاروں کبھی ایک تھے؛ نہیں معلوم کب اور کیوں کر ٹوٹ کر چار بن گئے۔"
حسن آرا: "ان ستاروں سے کچھ چنداں روشنی تو ہم کو پہنچتی نہیں؛ بھلا آفتاب ماہتاب تو قدرتی مشعلیں ہیں؛ یہ ستارے اللہ میاں نے کیوں بنائے ہیں؟"
استانی جی: "تم ہی کو اللہ میاں نے کیوں بنایا ہے؟ اپنی قدرت کے بھید وہی خوب جانتا ہے۔ جس طرح زمین ایک جہان ہے، ہر ہر ستارہ بجائے خود ایک جہان ہے؛ شاید ان میں بھی ہم جیسے انسان بستے ہوں۔"
حسن آرا: "یہ صرف آپ قیاساً فرماتی ہیں، یا ستاروں میں آدمیوں کا رہنا تحقیق ہوا ہے؟"
استانی جی: "قیاسی بات ہے، لیکن قیاس معقول ہے، کچھ نامعقول نہیں۔ بعض ستاروں میں پہاڑ، سمندر، برف، بادل، ہوا، یہ چیزیں تحقیق ہوئی ہیں؛ پس کیا عجب ہے کہ آدمی بھی ہوں۔ چاند میں جو ایک دھبہ سا دکھائی دیتا ہے، جانتی ہو کیا ہے؟"
حسن آرا: "میں نے تو سنا ہے کہ کوئی بڑھیا چاند میں بیٹھی چرخہ کاتا کرتی ہے۔" (سب ہنسنے لگے۔)
استانی جی: "یہ پہاڑوں کی بڑھیا ہے۔"
حسن آرا: "جتنی باتیں آپ نے فرمائیں، سب میرے دل نے قبول کیں؛ اور علم ہیئت بڑی دل چسپ چیز ہے؛ اور میں وہ رسالہ سیر آسمان ضرور پڑھوں گی۔" رابعہ نے آہستگی سے حسن آرا کے کان میں کہا کہ "چاند اور سورج کو کبھی گہن لگتا ہے، اس کا سبب بھی استانی جی سے پوچھ لو۔"
حسن آرا: "پوچھنے کی کیا ضرورت ہے؟ تمام دنیا اس کا سبب جانتی ہے کہ یہ ایک طرح کا عذاب الٰہی ہے۔"
رابعہ: "ہاں، لوگ تو کہتے ہیں، مگر شاید پوچھنے سے کوئی ٹھیک بات دریافت ہو۔"
حسن آرا: "میں تو ایسی بات پوچھ کر خفیف ہونا نہیں چاہتی۔" استانی جی نے ان دونوں کی سرگوشی سن کر پوچھا: "کیا ہے؟"
حسن آرا: "جناب، کچھ بھی نہیں؛ رابعہ چاند گہن اور سورج گہن کا سبب دریافت کرتی تھیں، سو میں نے بتا دیا۔"
استانی جی: "کیا؟" حسن آرا: "عذاب الٰہی۔"
استانی جی: "عذاب نہیں، بلکہ خدا کی قدرت اور اس کا جلال؛ اور سبب گہن کا یہ ہوتا ہے کہ شعاع آفتاب اوٹ میں آ جاتی ہے۔"
حسن آرا: "کچھ خوب سمجھ میں نہیں آیا۔"
استانی جی: "میں تم سے کہہ چکی ہوں کہ زمین اور چاند اپنی ذات سے نورانی نہیں۔ گھومتے گھامتے جب سورج اور چاند کے بیچ میں زمین آ پڑے گی، چاند گہن ہو گا؛ اور جب سورج اور زمین میں چاند حائل ہو گا تو سورج گہن۔ مگر یہ باتیں بہت مشکل ہیں، اور ابھی تم کو ان کا سمجھنا دشوار ہے؛ ان شاء اللہ جب تم رسالۂ سیر آسمان کے پڑھنے کی لیاقت حاصل کرو گی تو میری باتیں بخوبی تمہارے ذہن نشین ہو جائیں گی۔"
حواشی
[۱] آسمانی جسم، ستارے وغیرہ۔
Que vous laisse ce chapitre ?
Connectez-vous pour réagir
Discussion
Personne n’a encore parlé. Dites ce que ce chapitre a remué en vous.