Urdu in Translation
搜索

第 19 章,共 22 章

An English Family and Its Good Life

ایک انگریزی خاندان کا حال اور اس کی نیک زندگی

纳齐尔·艾哈迈德

文字
字号

ایک انگریزی خاندان کا حال اور اس کی نیک زندگی

حلیمہ: "جناب، ہمارے مکان سے ملا ہوا مکان (وہ بھی ہمارا ہی ہے) پانچ چھ مہینے ہوئے، ایک میم نے کرایہ پر لینا چاہا۔ ہمارے محلے کی بہشتن میم صاحب کے پاس آیا[۱] گیری میں نوکر ہے؛ وہی پیام لائی۔ میم کا نام سن کر اماں جان نے صاف انکار کیا کہ ہم میم کو مکان نہیں دیتے۔"

بہشتن: "ڈیوڑھا دونا کرایہ ماہ بماہ لو؛ ایسا کھرا کرایہ دار نہیں پاؤ گی۔"

اماں جان: "کرایہ لے کر کیا چولھے میں ڈالنا ہے؟ دیوار بیچ تو مکان لگا ہے؛ لڑکی بالیوں کی آواز برابر جاتی ہے۔ میاں مرزائی اپنے کارخانے کے لیے منتیں کرتے رہے، میں نے نہ دیا؛ رکھوں گی تو کسی اشراف کو، ورنہ بلا سے خالی پڑا رہا۔"

بہشتن: "بیوی، میم صاحب بھی بڑی ہی اشراف آدمی ہیں؛ ہیں تو غیر قوم، غیر مذہب، مگر مجھے اپنے نتھو[۲] کی قسم، بڑی ہی بھلی مانس ہیں؛ اور پاس کے رہنے سہنے سے آپ حال کھل جائے گا؛ اگر میری بات میں فرق پاؤ تو میری ناک چوٹی کاٹ لینا۔"

اماں جان: "بھلا ان کے ہاں انگریزوں کی آمد و رفت تو رہتی ہی ہو گی۔"

بہشتن: "بیوی، صاحب تار گھر میں نوکر ہیں؛ رات کے نو بجے آتے ہیں اور صبح کے چار بجے کام پر چلے جاتے ہیں؛ دن کی حاضری[۳] وہیں جاتی ہے؛ اور کوئی باہر کا نہ آتا ہے نہ جاتا ہے۔ چھوٹے چھوٹے بچے ہیں؛ بڑی بیٹی مس[۴] بابا اصل خیر سے تمہاری لڑکی سے عمر میں تو کم ہیں، مگر میری آنکھوں میں خاک، ڈیل میں کوئی دو مٹھی نکلتی ہوئی ہے۔"

اماں جان: "گو باہر والوں کی آمد و رفت نہ ہو، خود میم صاحب تو باہر نکلتی بیٹھتی ہیں۔"

بہشتن: "صبح و شام پاپیادہ بچوں کو ساتھ لیے ہوا کھانے البتہ کشمیری دروازے کے باہر جایا کرتی ہیں۔"

اماں جان: "میم صاحب یا ان کے بچے ہمارے گھر میں تو چلے آیا کریں گے۔"

بہشتن: "بے مرضی ہرگز نہیں۔"

اماں جان: "دیکھو، کچھ قباحت نہ ہو؛ مجھے تو ڈر ہی لگتا ہے۔"

بہشتن: "بیوی، کچھ شبہ مت کرو؛ میرا ذمہ۔"

غرض کہ میم صاحب آ رہیں۔ دو چار دن اماں جان ہم سب بچوں پر آہستہ بولنے کی تاکید کرتی رہیں، اور کوٹھے پر چڑھنے کو بھی منع کیا تھا؛ اور ہم لوگوں نے بھی اتنے دنوں میم صاحب کی طرف سے آواز تک نہیں سنی۔ اوپر پیاز پہیلی ہوئی تھی؛ اس کے لینے کو اماں سے پوچھ کر کوئی چار گھڑی دن رہے میں دبے پاؤں چڑھی؛ دیکھتی کیا ہوں، باہر صحن میں میز بچھی ہے اور میم صاحب اور ان کے بچے آس پاس کرسیاں بچھائے سب کے سب کچھ پڑھ رہے ہیں۔ چھت پر میرے چلنے کی دھم دھم سن کر چھوٹی لڑکی نے مجھ کو دیکھ لیا، اور دیکھتے ہی آپ سے آپ سلام کیا۔ اس کا سلام کرنا تھا کہ سب کے سب دیکھنے لگے؛ تب تو میں نے بھی میم صاحب کو سلام کیا۔ میم صاحب نے نہایت مہربانی سے میرا سلام لیا، اور جلدی سے اٹھ، چھت کے نیچے آ کھڑی ہوئیں اور کہنے لگیں: "ہم لوگوں نے تم سے جان پہچان پیدا کرنے میں ابتدا کی ہے؛ تم اس بات سے کچھ ناخوش تو نہیں ہو؟" میں میم صاحب کو آتے ہوئے دیکھ، جی میں آیا کہ بھاگ جاؤں؛ لیکن ان کی بات سن کر تو دل میں کچھ دلیری سی آئی، اور میں نے کہا: "جناب، اس میں ناخوشی کی کیا بات ہے؟ آپ سے تعارف کرنا تو ہمارے لیے فخر ہے۔"

میم صاحب: "مجھ کو ایک بات پوچھنی ہے؛ اگر تمہاری اماں جان مہربانی کر کے اپنے کوٹھے پر ذرا کی ذرا آ کھڑی ہوں تو بڑا احسان کریں۔ اپنی اماں جان سے میرا بہت بہت سلام اور یہ پیام کہنا۔"

میں نے کہا: "بہت خوب، میں ابھی جا کر کہتی ہوں۔" نیچے آ کر میں نے اماں جان سے سب حال بیان کیا؛ پہلے تو اماں جان نے بھی کچھ تامل سا کیا؛ بارے چلی گئیں۔

میم صاحب: "سلام کے بعد، میں نے آپ کو صرف اتنی بات پوچھنے کے لیے تکلیف دی ہے کہ اس آنے کے سوائے اگر کچھ اور تکلیف ہم لوگوں کے رہنے سے آپ کو پہنچی ہو تو مہربانی فرما کر مجھ کو اس سے اطلاع دیجیے۔"

اماں جان: "آپ کے منہ پر کہنا تو خوشامد ہے؛ مجھ کو آج تک یہ بھی نہیں معلوم کہ اس مکان میں کوئی رہتا بھی ہے یا نہیں۔ ایسا تو کوئی ہندوستانی بھی اگر نہیں رہا۔ ہم لوگوں میں کم بخت پردے کی بڑی قید ہے؛ بس اسی کا خیال تھا۔"

میم صاحب: "ہوں تو میں بے شک انگریز، مگر میں اسی ملک میں پیدا ہوئی اور اسی ملک میں ہوش سنبھالا۔ میں بڑے آدمی کی بیٹی ہوں؛ ماں باپ دونوں غدر میں مارے گئے؛ اکیلی رہ گئی، شادی کر لی؛ خدا کے فضل سے چار بچے ہو گئے ہیں، ان کو پرورش کرتی ہوں۔ اور میں آپ لوگوں کے دستور سے بخوبی واقف ہوں؛ خدا نے چاہا تو کوئی بات مجھ سے ایسی نہ ہو گی کہ آپ کی اذیت کا باعث ہو۔ ہماری کتاب[۵] میں ہمسائے کے بہت بڑے حقوق لکھے ہیں؛ سو اگر مجھ سے وہ حق نہ بھی ادا ہوں، تاہم میں امید کرتی ہوں کہ میرے سبب سے آپ کو کسی طرح کی تکلیف بھی نہ پہنچے گی۔"

اماں جان: "آپ کے رہنے سے تو سراسر راحت ہے؛ مگر ہم لوگوں کی وجہ سے عجب نہیں آپ کو ایذا ہوتی ہو۔ میں، اللہ رکھے، میرے بھی چار ہی بچے ہیں، مگر دن بھر آپس میں اودھم مچائے رہتے ہیں؛ بہتیرا اکھڑتی ہوں، کوستی ہوں، اور عاجز آ کر ایک آدھ طمانچہ بھی مار بیٹھتی ہوں؛ لیکن دن بھر مجھ کو پریشان کیے رہتے ہیں۔ سگے بھائی بہن ہو کر ایک لمحہ کو ایک کی ایک سے نہیں بنتی۔ جب سے آپ آ کر رہی ہیں، ذرا امن بھی ہے؛ میں بات بات پر روکتی رہتی ہوں، پھر بھی کیا اثر ہوتا ہے؛ ممکن نہیں کہ ان کا شور و غل[۶] آپ کو تکلیف نہ دیتا ہو۔"

میم صاحب: "کیا ہوا، بچے ہی تو ہیں؛ کھیلنے کودنے کو تو ان کی عمر ہے؛ شرارت کیا ہی کرتے ہیں؛ ان کے شور و غل ہی کی تو گھر میں بستی ہے۔"

اماں جان: "مجھ کو حیرت ہے کہ آپ کے بچے کیوں نہیں غل کرتے۔"

میم صاحب: "کرتے ہیں، نہ ہر وقت۔"

اماں جان: "برائے خدا، کوئی تدبیر مجھے بھی بتائیے؛ میں ان بچوں کے ہاتھ سے سخت عاجز ہوں۔ خدا ایسا دکھیں نہ بیاہا؛ ان کو لڑنے سے کام۔ ان کی وجہ سے میں نے شادی بیاہ میں جانا کم کر دیا؛ لوگ کہتے ہیں تو سچ، کیسی بے سری اولاد اٹھائی ہے؛ ناحق شرمندہ ہونا پڑتا ہے۔"

میم صاحب: "یہ کوئی ایسی بڑی بات نہیں ہے جس کے واسطے آپ اتنا سوچ کرتی ہیں؛ بڑے ہو کر آپ درست ہو جائیں گے۔"

اماں جان: "کیا بڑے ہونے کے لیے کوئی اور زمانہ آئے گا؟ اللہ رکھے، تیرھویں برس میں تو یہ میری حلیمہ ہے؛ بہتیرا کہتی ہوں، تم بڑی ہو، سمجھ دار ہو، چھوٹوں کے منہ مت لگا کرو؛ چھیڑ چھیڑ کر لڑتی ہے۔ کچھ ان وقتوں میں ایسے خون سفید ہو گئے ہیں، نہ چھوٹوں کو بڑوں کا ادب ہے، نہ بڑوں کو چھوٹوں کی محبت ہے۔"

میم صاحب: "بچوں سے کچھ آپ کام بھی لیتی ہیں؟" اماں جان: "کام کیا ہے؟ خدا کے دیے نوکر چاکر گھر میں ہیں؛ ان کا یہی کام ہے، کھائیں اور کھیلیں۔"

میم صاحب: "بس یہی خرابی ہے۔ میں نے تو ہر ایک بچے پر اس کی بساط کے موافق اتنا کام ڈال رکھا ہے کہ اس کو اسی میں فرصت نہیں ملتی۔ ہم سب لوگ، چھوٹے بڑے، چاہے کوئی موسم ہو، صبح کے پانچ بجے اٹھ بیٹھتے ہیں؛ ہر ایک نے غسل کیا، کپڑے بدلے، اور تھوڑا سا ناشتہ کھایا؛ چھ بجتے بجتے میں ان سب کو لے کر شہر کے باہر ہوا کھانے چلی جاتی ہوں، اور کوئی ساڑھے سات آٹھ بجے لوٹ آتی ہوں۔ آتے کے ساتھ سب کو لے کر نماز پڑھتی ہوں، پھر سب کو سبق پڑھاتی ہوں۔ گیارہ بجے سبق سن کر کھانا کھاتی ہوں؛ اس کے بعد کوئی لکھتا ہے، کوئی سیتا ہے؛ دن کو ہم لوگ کبھی نہیں سوتے۔ تین بجے پہلے کچھ کھا لیا، پھر دوسرا سبق دیا جاتا ہے۔ پانچ بجے پھر غسل کیا اور کپڑے بدلے؛ ہوا خوری کو نکل گئی؛ سات بجے واپس آئی؛ اتنے میں صاحب آ جاتے ہیں؛ سب بچوں کا سبق سنتے اور ہر ایک کا کام دیکھتے، اور سب مل کر نماز پڑھتے ہیں؛ نماز کے بعد کھانا کھایا، سو رہے۔ فرمائیے، اب ان کو لڑائی کی فرصت کہاں ہے؟ اور اگر میں ان کو آپس میں لڑتا دیکھوں تو کیا توقع رکھوں کہ جب یہ آپس میں ملاپ رکھیں تو دنیا میں دوسرے لوگوں کے ساتھ کیوں کر گزر کریں گے؟"

اماں جان: "سبحان اللہ! آپ نے بڑا اچھا انتظام کر رکھا ہے؛ اور تب ہی تو تم لوگ سلطنت کر رہے ہو۔ ہم ہندوستانیوں میں عورت کے یہی کام ہیں: دو چار کھانوں کی ترکیب سیکھ لی، اپنے ہاتھوں اپنے کپڑے سی لیے؛ پڑھنے لکھنے کا تو دستور ہی نہیں؛ نوکر چاکر رکھنے کا مقدور ہوا تو احدی بن کر بیٹھ رہے۔"

میم صاحب: "ہم لوگوں میں ضرورت کی نظر سے ہنر نہیں سیکھتے، بلکہ ہنر کو باعث عزت سمجھتے ہیں۔ مجھ کو اپنے باپ کی ایک بات یاد ہے کہ جب مجھ کو انھوں نے ولایت پڑھنے کے لیے بھیجا تو چچا کو چٹھی لکھی تھی کہ اس کو کسی اچھے مدرسے میں داخل کر دینا۔ چچا نے لکھا کہ فلانے مدرسے میں بڑی عمدہ اور اعلیٰ درجے کی تعلیم ہوتی ہے، مگر وہاں فیس بہت دینی پڑتی ہے۔ میرے باپ نے لکھا کہ دو سو روپے مہینہ میں نے اس لڑکی کے حق کا علیحدہ کر دیا ہے؛ اس میں اگر بچے گا، وہ اسی کے واسطے جمع ہوتا جائے گا؛ لیکن اگر اس کا کل روپیہ اس کی تعلیم میں صرف ہو تو جمع ہونے سے بہتر ہو گا، کیوں کہ ہنر کا جمع کیا جانا روپے کے جمع کیے جانے سے کہیں مفید ہے۔ چنانچہ مجھ کو چچا نے اسی بڑے مدرسے میں داخل کیا، جس میں فیس اور میرا ضروری خرچ ملا کر دو سو روپیہ کا دو سو روپے مہینہ خرچ ہو جاتا تھا۔ جب میرے باپ غدر میں مارے گئے تو اب کہیں سہارا نہ تھا؛ ناچار مجھ کو مدرسہ چھوڑنا پڑا۔ ایک برس کی کسر رہ گئی، ورنہ میں ایک سال اور پڑھتی۔ ماں باپ کے مارے جانے کا رنج اور مدرسے کے ایسی مجبوری کے ساتھ چھوٹنے کا صدمہ، میں سچ کہتی ہوں، دونوں نے میرے دل پر برا اثر کیا۔ ہرچند میں ناتمامی کی حالت میں مدرسے سے نکلی، پھر بھی میری لیاقت کا چرچا دور دور تھا؛ اور مدرسے سے نکلتے کے ساتھ جب لوگوں نے جانا کہ میں شادی کرنے کو آمادہ ہوں تو سینکڑوں آدمیوں نے مجھ سے شادی کی درخواست کی۔ ہم لوگوں میں یہ بہت اچھا طریقہ ہے کہ شادی لڑکا لڑکی کی رضا مندی سے ہوتی ہے۔ میں نے کتابوں میں پڑھا ہے کہ رضا مندی آپ لوگوں کے مذہب میں بھی شرط ہے، مگر میں دیکھتی ہوں کہ اس کا برتاؤ کچھ بھی نہیں ہوتا؛ اکثر بے تمیزی کی حالت میں آپ لوگ اولاد کو بیاہ دیتے ہیں؛ اور یہی وجہ ہے کہ آپ لوگوں میں اکثر زن و شوہر میں بے لطفی[۷] اور ناسازگاری رہا کرتی ہے۔ جب کثرت سے لوگ خواہاں ہوئے تو مجھ کو انتخاب میں بڑی دقت پیش آئی: کبھی حسن صورت پر دل فریفتہ ہوتا تھا، کبھی طمع دولت رغبت دلاتی تھی، کبھی فخر نسب کی . . . خواہش ہوتی تھی۔ مدرسے کی استانی، جو مجھ پر سگی ماں کی طرح مہربان تھیں، میں نے ان سے مشورہ کیا۔ انھوں نے مجھ کو یہ نیک صلاح دی کہ علم و لیاقت اور نیکی انسان کے بڑے جوہر ہیں؛ جس میں یہ صفتیں پاؤ، اسی کو اختیار کرو۔ چنانچہ خوب تحقیق و تفتیش کے بعد میں نے ان صاحب کو پسند کیا۔ صاحب بڑے عالم ہیں؛ مدرسے سے خطاب فضیلت حاصل کیا ہے، اور نیک اس درجے کے ہیں کہ یہاں کے سارے انگریز پادریوں کے برابر تعظیم کرتے ہیں۔ اور میں تو صاحب کی نیک مزاجی سے اس قدر خوش ہوں کہ سلطنت کی خوشی بھی اس کے مقابلے میں ہیچ نظر آتی ہے۔ صاحب کی تنخواہ تو کچھ بہت نہیں ہے، صرف چار سو روپیہ مہینہ پاتے ہیں؛ مگر جس محبت اور مہربانی سے مجھ کو اور بچوں کو رکھتے ہیں، میرا منہ نہیں کہ اس کا شکریہ ادا کر سکوں۔ پندرہ برس میرے بیاہ کو ہوئے؛ کسی بات میں مجھ سے رد و کد کی نوبت بھی نہیں آئی۔ بچوں کے ساتھ کچھ اس طرح کی مدارات ہے کہ ہر ایک بچہ دل و جان سے فدا ہے؛ جب کچہری سے آتے ہیں تو بچوں کو عید کی سی خوشی ہوتی ہے؛ مگر مجال نہیں کہ کوئی ان کی خلاف مرضی بات کر سکے؛ نہ مارتے ہیں، نہ گھرکتے ہیں، نہ ترش رو رہا کرتے؛ مگر کچھ ایسا ڈھنگ کر رکھا ہے کہ محبت میں رعب، پیار میں ڈر۔ اور انھی کے انتظام سے بچوں کی اصلاح بھی میری خاطر خواہ ہوتی جاتی ہے۔ خدا کا شکر ہے کہ بیٹے اور بیٹیاں سب میرے کہنے میں ہیں۔ میری بڑی لڑکی کا نام مس روز ہے؛ آپ نے تو کھڑکی میں قفل لگا رکھا ہے، ورنہ میری لڑکیاں تو ایسی ملنسار ہیں کہ دن میں سو سو بار کھڑکی کے پاس آ کھڑی ہوتی ہیں، اور آپ کے بچوں سے ملنے کو ترستی ہیں۔ قفل کھول دینے میں اگر کچھ قباحت نہ ہو تو ایک دن آ کر ذرا ہمارے گھر کو دیکھیے؛ اس سے خاطر جمع رکھیے کہ سوائے میرے اور میرے بچوں کے کوئی غیر اندر نہ رہنے پائے گا۔"

اماں جان: "ان شاء اللہ تعالیٰ میں کسی دن ضرور آؤں گی۔"

اگلے دن اماں جان ہم سب کو ساتھ لے کھڑکی کی راہ میم صاحب کے گھر گئیں؛ تو کیسا صاف ستھرا کہ صحن میں تنکے کا نام نہیں۔ خانہ داری کا اسباب اس سلیقے کے ساتھ اپنے اپنے موقع سے رکھا تھا کہ ہم لوگوں میں شادی بیاہ میں بھی ایسی آرائش نہیں ہوتی۔ ہر ایک چیز نایاب اور قیمتی تو کچھ ہی نہیں؛ اکثر چیزیں ایسی تھیں کہ ہمارے گھر میں بھی تھیں، مگر وہاں کی چیزوں پر اور ہی کچھ رونق تھی۔ منہ دھونے کا طسلہ کیسا صاف منجھا ہوا کہ آنکھ نہ ٹھہرے؛ بید کے مونڈھے کی بھی کچھ اصل ہے، مگر تیلیاں چمکتی ہوئیں، اوپر ایک دستکار جالی کا نفیس غلاف؛ سادگی میں تکلف۔ غرض جو چیز تھی، صفائی کا نمونہ تھی؛ گھر میں جانے سے جی چاہے کہ صحن میں کھانا بکھیر کر کھا لیجیے۔ وہاں کا سامان دیکھ کر مجھ کو یقین ہوا کہ صفائی بڑی زینت ہے۔ میم صاحب کے بچے اپنے اپنے کمروں میں کوئی لکھ رہا تھا، کوئی سی رہا تھا؛ سب نے ہم کو آتے دیکھا بھی، مگر کیا مقدور کہ بے ماں کی اجازت کے باہر نکل آئیں۔ میم صاحب نے ہم سب کو ملاقات کے کمرے میں بٹھایا؛ ہم لوگ تو ادھر ادھر دیکھ ہی رہے تھے، اماں جان بھی کن انکھیوں سے چیزوں کو دیکھتی جاتی تھیں۔

میم صاحب: "کیا آپ کی تواضع کروں؟ پان میں نہیں کھاتی؛ عطر ہم لوگوں کا شاید آپ کو پسند نہ ہو؛ خشک مٹھائی کا تو کچھ پرہیز نہیں۔" ایک کشتی منگا، طشتریوں میں ہم لوگوں کے روبرو رکھ دیا۔ ہم لوگوں نے تامل کیا۔

میم صاحب (ہنس کر): "اجی، بے تامل کھاؤ؛ اس میں تو کچھ قباحت نہیں؛ اور یوں آپ کے مذہب میں تو ہمارے ساتھ کھانا جائز لکھا ہے؛ اور روم اور مصر میں کوئی مسلمان بھی اس طرح کا پرہیز نہیں کرتا؛ یہ ہندوستان کے مسلمانوں نے نیا مسئلہ نکالا ہے۔"

اماں جان: "نہیں، پرہیز کی کیا بات ہے؟ مگر ابھی سب کھانا کھا چکے ہیں۔"

میم صاحب: "کیا ہوا؟ آپ کچھ نقصان کا اندیشہ نہ کیجیے؛ ہم لوگوں کی مٹھائیوں میں بھی دوا ہوتی ہے۔" غرض نہایت نفیس اور لطیف مٹھائی ہم سب نے کھائی۔ اس کے بعد میم صاحب نے اپنے بچوں کو پکارا؛ سب آ موجود ہوئے؛ میم صاحب نے بیٹھنے کا اشارہ کیا۔ بچوں کی عقل دیکھیے کہ ہر ایک اپنے ہم جولی کے پاس آ کر بیٹھا۔ مس روز میرے پاس بیٹھیں، اور پہلا سوال انھوں نے مجھ سے یہی کیا کہ "آپ کیا پڑھتی ہیں؟" ان کا پوچھنا تھا کہ مجھ پر گھڑوں پانی پڑ گیا، اور میں نے شرمندہ ہو کر کہا: "کچھ نہیں۔" مس روز نے میری بات کو نہایت تعجب سے سنا اور چپ ہو گئیں۔ پھر اپنے ہاتھ کی بنائی ہوئی تصویریں، اپنے بنے ہوئے قیمتی اور عمدہ سے عمدہ تکیوں اور کرسیوں کے غلاف، میزوں کی چادریں، کپڑے کے پھول، موزے، کتاب میں رکھنے کی نشانیاں، گلوبند، موباف، دستی رومال، جھالریں، ڈورے کے کام دکھائے؛ میں تو میں، اماں جان حیران ہو کر رہ گئیں۔ پھر میم صاحب سب کمروں میں ہم کو لے گئیں؛ کتابوں کی الماری میں سے ایک کتاب نکال کر اپنے رشتہ داروں اور دنیا کی عمدہ عمارتوں اور نامی اور مشہور لوگوں کی تصویریں دکھائیں۔ گئیں تو اس نیت سے تھے کہ ذرا کے ذرا بیٹھ کر چلے آئیں گے، مگر کوئی چار گھڑی دن رہ گیا؛ تب اماں جان نے کہا کہ "آج میں نے آپ کا بڑا حرج کیا۔"

میم صاحب: "مجھ کو آپ کی ملاقات سے بڑی مسرت حاصل ہوئی، اور ہرگز میرا کوئی حرج نہیں ہوا۔"

اماں جان: "مگر گستاخی معاف، میں آپ کے پاس سے اداس ہو کر چلی۔"

میم صاحب: "خیر ہے؟ بات تو کہیے۔"

اماں جان: "اب اپنی حالت پر جو نظر کرتی ہوں تو سخت افسوس ہوتا ہے؛ بھلا یہ بھی کوئی زندگی کا ڈھنگ ہے! خیر، میری تو تیر ہو گئی؛ افسوس یہ ہے کہ اولاد کو بھی میں نے اپنا ہی ایسا اٹھایا ہے۔"

میم صاحب: "افسوس کی کیا بات ہے؟ ہر ملکے و ہر رسمے۔"

اماں جان: "آگ لگے اس ملک کو جس میں ہنر کا نام نہیں ہے۔ ہم لوگ شہر میں بڑے سلیقہ شعار کہلاتے ہیں، مگر سچ یہ ہے کہ ہنر اور سلیقہ آپ لوگوں پر ختم ہے۔"

غرض میم صاحب سے رخصت ہو کر گھر آئے تو جدھر آنکھ پڑتی تھی، ہر چیز حقیر اور بھونڈی نظر آتی تھی۔ میرا تو یہ حال ہوا کہ اس رات رنج کے مارے مجھ سے کھانا تک نہیں کھایا گیا۔ اگلے دن میں نے اماں جان سے کہا کہ "اگر آپ فرمائیں تو میں مس روز سے کچھ سیکھوں۔"

اماں جان: "بھلا بیٹی، مس روز کچھ اپنے دیس کی تو ہیں نہیں کہ جان پہچان کا پاس ہو؛ خدانخواستہ کچھ محتاج نہیں کہ روپے پیسے کا لالچ کریں؛ میں ان سے کس منہ سے کہوں؟ دیکھو، کسی طرح ان کی اماں سے دریافت کروں گی۔" میں نے جا کر کھڑکی کھولی، دیکھا تو مس روز صحن میں ٹہل رہی ہیں؛ دیکھتے ہی مجھ سے پوچھا: "آپ کہیں تو میں آپ کے گھر آؤں؟"

اماں جان: "شوق سے۔" اماں جان نے مس روز سے آنے کو تو کہا، مگر میں اپنے جی میں کہہ رہی تھی: "خدا کرے نہ آئیں؛ آئیں گی تو کہاں بٹھائیں گے؟"

حسن آرا: "کیوں؟ کیا تمہارے گھر میں بیٹھنے کی جگہ نہ تھی؟ میں تو سنتی ہوں . . . تمہارا مکان بڑا عالی شان مکان ہے، اور فرش و فروش، کرسی، مونڈھے، ہر طرح کا وافر[۸] سامان موجود ہے۔"

حلیمہ: "خدا کا دیا سب کچھ ہے، مگر میں میم صاحب کے یہاں جا کر دیکھ چکی تھی؛ ان کے لائق ایک چیز بھی نہ تھی؛ ہمارے یہاں وہ صفائی اور اجلاپن کہاں؟"

حسن آرا: "کچھ میم صاحب کی وقعت ہی تمہارے ذہن میں جم گئی ہے؛ ورنہ ماشاء اللہ، تم بھی خاصی صاف اور ستھری رہتی ہو۔"

حلیمہ: "ہاں، تم یوں ہی سمجھو؛ مگر میری طرح میم صاحب کا مکان دیکھے ہوتیں تو جانتیں کہ صفائی کس کو کہتے ہیں۔"

حسن آرا: "بلا سے، تم نے مس روز کے لیے سفید سوزنی بچھوا دی ہوتی۔"

حلیمہ: "آپ کے فرمانے پر موقوف نہ تھا؛ جلدی جلدی جو کچھ ہو سکا، کیا ہی؛ مگر کس کس چیز کو چھپاتی؟ جب مس روز چلی آئیں تو میں نے باورچی خانے کی طرف پشت کر کے کرسی بچھا دی؛ تھوڑی دیر میں آفتاب سامنے آ گیا؛ مس روز کرسی پھیر عین باورچی خانے کے سامنے ہو بیٹھیں؛ اور میرا یہ حال کہ ان کو برابر باتوں میں لگائے جاؤں تاکہ ادھر ادھر ان کی نظر نہ پڑے۔ دو چار باتوں کے بعد مس روز بولیں کہ "میرا جی چاہتا ہے، آپ مجھ کو بہن بنا لیجیے۔" میں نے کہا: "بہن بننے کا تو منہ نہیں؛ مجھ کو آپ شاگرد کیجیے اور کچھ سکھائیے تو بڑی مہربانی ہو۔"

مس روز: "پڑھنا لکھنا تو آپ کو اپنے ملک کا سیکھنا چاہیے۔ مس گریوز، جو زنانے مدرسوں کی انسپکٹر ہیں، مجھ سے (استانی کا نام لیا) ان کے مکتب کی بہت تعریف کرتی تھیں؛ مگر سلائی ہر قسم کی میں سکھا دوں گی؛ اور اس سے زیادہ مجھ کو کوئی خوشی نہیں ہو سکتی کہ آپ مجھ سے کچھ سیکھیں۔"

میں: "آپ کی اماں جان تو اس میں کچھ مضائقہ نہ کریں گی؟"

مس روز: "مضائقہ؟ آپ لوگ ان کے مزاج سے ابھی واقف نہیں ہیں۔ میری والدہ ضرور ہیں، مگر از روئے انصاف میں نے ایسی نیک عورت کوئی نہیں دیکھی؛ زیادہ رہنے سے خود آپ کو معلوم ہو جائے گا۔ دوسرے کے لیے، میں تو جانتی ہوں، شاید اپنی جان تک کا ان کو دریغ نہیں ہے؛ آپ سے تو ہمسائگی اور ملاقات ہے؛ کوئی ہو، ان کو ہمدردی کرنی ضرور۔"

میں: "آپ کی اماں جان کبھی آپ کو گھرکتی تو نہیں؟"

مس روز: "ان کو ہر ایک طرح کا اختیار مجھ پر حاصل ہے؛ مگر خدا مجھ کو ایسی نافرمان بیٹی نہ بنائے کہ میری اماں جان کو گھرکنے کی نوبت آئے۔ دنیا میں اس سے بڑھ کر بھی کوئی نادانی کی بات ہو گی کہ میں اپنی پیاری اور مہربان اور خیر خواہ اور دل سوز ماں کے خلاف رائے کوئی بات کروں؟"

میں: "چھوٹے بھائی بہنوں سے اور آپ سے کسی بات میں رد و کد ہوتی ہو گی؟"

مس روز: "اگر میں اپنے چھوٹوں سے رد و کد کروں تو تف ہے میری بڑائی پر! میں اپنے سب چھوٹے بھائی بہنوں کی شکر گزار ہوں کہ وہ لوگ میرا ہر طرح ادب کرتے ہیں؛ اور میں بھی سب کو جان کی طرح عزیز رکھتی ہوں اور سب پر دم دیتی ہوں؛ اور کیوں کر نہ دوں، اپنے بھائی بہنوں سے بھی کچھ پیارا ہے؟"

میں: "کیا سچ مچ تم بھائی بہنوں میں کبھی لڑائی جھگڑا نہیں ہوتا؟"

مس روز: "بھائی بہن تو بھائی بہن، ہم لوگوں کو تو خدا کے فضل سے غیروں کے ساتھ بھی لڑنے کا اتفاق نہیں ہوتا۔"

میں: "آپ کی باتیں سن کر مجھ کو سخت تعجب ہوتا ہے؛ ایسا ممکن نہیں کہ اوپر تلے کے بھائی اور بہنوں میں لڑائی جھگڑا نہ ہو۔"

مس روز: "اور مجھ کو آپ سے یہ سن کر تعجب ہوا کہ بھائی بہنوں میں لڑائی کا ہونا ضرور ہے۔"

میں: "اجی، لڑائی کچھ خدانخواستہ بیر نہیں، یہی بحث و تکرار۔"

مس روز: "جی ہاں، میں سمجھی؛ مگر مجھ کو حیرت ہے کہ وہ کیسے بھائی بہن ہیں جو آپس میں تکرار رکھتے ہیں۔"

میں: "چھوٹے ناسمجھ کسی بات پر ضد کریں تو اس کا کیا علاج؟"

مس روز: "نرمی سے، پیار کے ساتھ ان کو سمجھا دینا؛ نہ کہ ان سے لڑنا۔"

میں: "اور اگر وہ نہ سمجھیں؟" مس روز: "وہ نہ سمجھیں یا بڑا نہ سمجھا سکے؟"

میں: "وہ ایک ہی بات ہے۔" مس روز: "یہ تو بڑے کا قصور ہے۔"

میں: "بھلا صاحب، کھانے پہننے کی کسی چیز کو آپ کا جی چاہتا ہو گا تو آپ کی اماں جان کسی بات میں روک ٹوک نہیں کرتیں؟"

مس روز: "خدا کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ مجھ کو اپنے کھانے اور پہننے کے واسطے مطلق فکر کرنے کی ضرورت نہیں؛ مجھ سے زیادہ اماں جان کو میری ضرورتوں کا خیال رہتا ہے؛ اور میں دیکھتی ہوں تو جو چیز مجھ کو درکار ہے اور میری حالت کے لیے مناسب ہے، اماں جان بے کہے خود اس کا سامان کر لیتی ہیں؛ پھر مجھ کو اس میں دخل دینے سے حاصل؟"

میں: "بھلا کبھی کسی نوکر چاکر پر آپ کو خفا ہونے کا اتفاق ہوا؟"

مس روز: "میری اماں جان نے تو مجھ کو یہ تعلیم کیا ہے کہ اگر آدمی، جس کا بال بال گنہگار اور خطاوار ہے، چاہتا ہے کہ اس کی خطاؤں سے درگزر کیا جائے، تو یہ چاہیے کہ وہ اپنی زیر دستوں کی خطاؤں سے درگزر کرے؛ پھر نوکروں پر خفا ہونے کا کیا موقع ہے؟"

میں: "تب ہی اتنے دن آپ کو اس مکان میں رہتے ہوئے، آواز تک نہیں سن پڑی۔"

مس روز: "خدا کا شکر ہے، جب سے میں نے ہوش سنبھالا ہے، اسی طرح گھر کو غل غپاڑے سے خالی پاتی ہوں۔"

میں: "کیوں صاحب، کیا کسی بات پر چھوٹے بچوں کو آپ کے گھر مار نہیں پڑتی؟"

مس روز: "اگر خدانخواستہ بچوں کو مارنے پیٹنے کی ضرورت ہو تو ہم سمجھیں کہ ان کی خرابی علاج سے درگزر رہی؛ مار پیٹ آخری درجہ بچوں کی سزا ہے، جیسے پھانسی آخری درجہ مجرموں کی سزا ہے۔"

میں: "پڑھنا، لکھنا، سینا، پرونا آپ نے اپنی اماں جان سے سیکھا یا کسی دوسری سے؟"

مس روز: "بہت کچھ اپنی اماں جان سے، اور تھوڑا سا مدرسے میں پڑھنے پر بھی۔"

میں: "آپ کی اماں جان نے کبھی نہیں مارا؟" مس روز: "کبھی نہیں۔"

میں (ہنس کر): "آپ مجھ کو مارا کیجیے گا؟"

مس روز (ہنس کر): "ضرور، لیکن اسی طرح کی مار جیسی میں نے کھائی ہے۔"

میں: "کب سے شروع کر لیجیے گا؟" مس روز: "ابھی۔"

میں: "آپ اپنی اماں جان سے تو پوچھ لیجیے۔"

مس روز: "میں کہہ چکی ہوں کہ ایسے کاموں میں ان سے دریافت کرنے کی مطلق ضرورت نہیں۔"

میں: "کیا ہوا، پھر بھی آپ احتیاطاً ان سے اجازت لے لیجیے۔" مس روز نے جیب سے کاغذ پنسل نکال، وہیں بیٹھے بیٹھے ماں کو رقعہ لکھ کر بھیجا؛ اسی کی پشت پر یہ جواب لکھا آیا کہ "اگر تم بی ہمسائی کی بیٹی کو، کہ مجھے تمہاری طرح عزیز ہیں، کچھ سکھا سکو تو جتنی محنت تم نے ان کاموں کے سیکھنے میں کی ہے، اس سے بہتر اس کا انعام نہیں؛ اور بے شک اگر ہم بی ہمسائی کی بچیوں کو سکھانے میں کوشش نہ کریں تو ہمارا یہاں رہنا لاحاصل محض ہے، اور جب یہاں سے اٹھیں گے تو یہ حق اپنی گردن پر لیے جائیں گے۔ اگر تم کسی تدبیر سے ان لوگوں کو سیکھنے پر آمادہ کر سکو تو میں نہایت خوش ہوں گی، اور میں آئندہ کی کوششوں میں ہر طرح تمہاری شریک رہوں گی۔"

غرض یہ کہ اسی دن سے میں نے اس مکتب میں آنا شروع کیا، اور مس روز نہایت مہربانی سے مجھ کو سینا سکھایا کرتی ہیں۔ گھر بھر کچھ اس طرح کا نیک ہے کہ میں نے تو اس قسم کے آدمی نہیں دیکھے۔ دو ہی مہینے میں تمام محلے کو گرویدہ کر لیا ہے؛ غربا کو چپکے چپکے بہت کچھ ملتا ہے؛ کوئی بیمار پڑے، میم صاحب اپنے پاس سے مفت دوا دیتی ہیں، اور دلجوئی کیسی، کوئی اپنا بھی نہ کرے۔ ایک دن علیمہ، میری چھوٹی بہن، کا جی اچھا نہ تھا؛ میم صاحب پہر دن رہے سے آدھی رات تک بیٹھی رہیں؛ کبھی یہ دوا پلائی، کبھی وہ دوا پلائی؛ بہتیرا اماں جان نے کہا: "آپ جا کر آرام کیجیے، بہت رات گئی"؛ سر کیں تک نہیں؛ جب علیمہ سو گئی اور آرام ہو گیا، تب گئیں۔ یہ بات میں نے انھی میں دیکھی: اپنے اوپر مصیبت ہو تو بڑی مستقل مزاج، بڑی مضبوط، بڑی صابر؛ بھول کر بھی زبان پر نہ لائیں؛ اور دوسرے کی آنکھیں دکھتی بھی سن پائیں تو پھڑک اٹھیں، بے تاب ہو جائیں۔"

حسن آرا: "تم تو میم صاحب کی حد سے زیادہ تعریف کرتی ہو؛ لوگ تو انگریزوں کو عموماً برا سمجھتے ہیں۔"

حلیمہ: "ان کو انگریزوں سے سابقہ نہ پڑا ہو گا؛ ہمارا بھی یہی حال تھا؛ ڈرتے ڈرتے ہم لوگوں نے میم صاحب سے ملاقات کی، اور بہت دنوں تک دل میں کھٹکتے رہے؛ معاملہ پڑا تو جانا۔"

حسن آرا: "اچھی، اتنی نیک ہیں تو باہر کیوں نکلتی ہیں؟"

استانی جی: "اپنی رسم، اپنا دستور۔ پردے کا دستور مسلمانوں میں ہے؛ اب ہندو بھی مسلمانوں کی دیکھا دیکھی عورتوں کو پردوں میں چھپانے لگے ہیں؛ ورنہ روئے زمین کی [illegible: last line cut off at the foot of the scan]"

حواشی

[۱] انگریزوں کی ماما۔

[۲] آیا کے بیٹے کا نام ہے۔

[۳] انگریزوں کے کھانے کو حاضری بولتے ہیں۔

[۴] مس لڑکی، بابا بچہ۔

[۵] توراۃ، انجیل۔

[۶] غل، شور۔

[۷] [illegible: footnotes cut off at the foot of the scan]

[۸] زیادہ۔

这一章在你心里留下了什么?

登录后参与

讨论

还没有人开口。说说这一章触动了你什么。

喜欢这一章吗?分享其中的一句话吧。