
Chapitre 18 sur 22
The Geography of Arabia and the Ways of the Bedouin
عرب کا جغرافیہ اور بدوؤں کے حالات
عرب کا جغرافیہ اور بدوؤں کے حالات
کلثوم: "عرب ایک ویران ملک ہے؛ اس کا نقشہ دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ آبادی بہت کم ہے؛ صدہا کوس کے ریگستان پڑے ہیں، جن میں نہ پانی ہے، نہ درخت، نہ گاؤں، نہ بستی۔ اگر عرب میں مکہ مدینہ نہ ہوتا تو کوئی عرب کی طرف منہ بھی نہ کرتا۔ اور ملکوں میں جو لوگ جاتے ہیں تو آخر کسی غرض سے جاتے ہیں: کہیں غلے کی افراط ہے، کہیں میوے کی کثرت، کہیں جواہرات پیدا ہوتے ہیں۔ غرض کوئی نہ کوئی چیز نایاب یا کثرت سے اس ملک میں ہوتی ہے کہ اس کی ضرورت لوگوں کو کھینچ بلاتی ہے۔ سو عرب میں صرف خدا کا نام ہے؛ نہ غلہ، نہ میوہ، نہ جواہرات، نہ کچھ، نہ کچھ۔"
محمودہ: "کیوں، عرب کے اونٹ، عرب کے گھوڑے تمام جہان میں نامی ہیں۔ اونٹ تو بھلا خیر ہندوستان میں بیکانیر کی طرف اور افریقہ کے ملک میں بھی ہوتا ہے، مگر گھوڑے جیسے عرب میں عمدہ اور بیش قیمت ہوتے ہیں، کسی ملک میں نہیں ہوتے۔"
کلثوم: "آپ نے درست کہا؛ عرب میں گھوڑے بڑے نفیس ہوتے ہیں، مگر ایک تو گھوڑا ایسی عام ضرورت کی چیز نہیں؛ دوسرے عرب کے لوگ اپنے عمدہ گھوڑوں کو دوسرے ملکوں میں جانے بھی نہیں دیتے؛ وہ لوگ گھوڑوں کے خود ایسے شوقین ہوتے ہیں۔ البتہ حج کے لیے ہر سال اطراف و جوانب سے لاکھوں آدمی مکے میں جمع ہوتے ہیں، اور بعض دین دار لوگ ہجرت کر کے بھی عرب میں جا رہتے ہیں۔ وہاں کے اصلی باشندے بدو ہیں، جن کا نہ کوئی شہر ہے، نہ گھر؛ یہ لوگ اس ملک کے کنجروں کی طرح خانہ بدوش ہوتے ہیں؛ سرکی کی جگہ چرمی خیموں میں رہتے، اور بال بچے، مویشی ساتھ لیے پھرتے؛ جہاں پانی قریب ہوا اور مویشیوں کا چارہ پایا، رہ پڑے؛ جب پانی گھاس کی تکلیف ہونے لگی، دوسری جگہ جا رہے۔ لوٹ کھسوٹ ان لوگوں کا موروثی پیشہ ہے؛ ہر سال حج کے دنوں میں دو چار کمزور قافلے لوٹ رکھتے ہیں۔"
عام جغرافیہ مختصر
حسن آرا: "کیوں بوا کلثوم، یہ سب حال تم نے کس کتاب میں پڑھا؟"
کلثوم: "جن کتابوں میں شہروں اور ملکوں کا حال لکھا ہوتا ہے، ان کو علم جغرافیہ کی کتابیں کہتے ہیں۔ اس علم میں بہت سی کتابیں ہیں، مگر حال میں بابو شیو پرشاد صاحب نے جام جہاں نما ایک کتاب لکھی ہے؛ بڑی اچھی کتاب ہے۔"
حسن آرا: "کیا تمام روئے زمین کی مختصر کیفیت بھی اس کتاب کے پڑھنے سے بخوبی [illegible] ہو جاتی ہے، مگر ایشیا اور خاص کر ہندوستان کا حال تو نہایت ہی تفصیل سے لکھا [illegible]"
حسن آرا: "ایشیا، افریقہ، نئے نئے لفظ سننے میں آتے ہیں؛ ان کا مطلب میں خوب نہیں سمجھتی۔"
محمودہ: "میں آپ کو سمجھا دوں۔ جس طرح مکان میں ہر ایک حصے کا کچھ نام رکھ لیتے ہیں: غسل خانہ[۱]، آبدار خانہ[۲]، باورچی خانہ، توشہ خانہ[۳]، بالا خانہ، صحن، غلام گردش[۴]، سائبان، اصطبل، خانہ باغ[۵]، پائیں باغ[۶]، شہ نشین[۷]، دالان، کوٹھری وغیرہ، اسی طرح زمین کے حصوں کے نام رکھ لیے ہیں۔ جو حصہ سمندر کے پانی میں ڈوبا ہوا ہے، اس کو تری یا بحر اعظم[۸] کہتے ہیں؛ اور جو پانی سے کھلا ہے، اس کو خشکی یا بر اعظم[۹]۔ بحر اعظم کے بھی ٹکڑے کر لیے ہیں: لال سمندر، کالا سمندر، ہند کا سمندر، شمالی سمندر، جنوبی سمندر، انھی ٹکڑوں کے نام ہیں۔ خشکی کے دو بڑے حصے ہیں: بڑا، پرانی دنیا؛ اور چھوٹا، نئی دنیا۔"
حسن آرا: "نئی پرانی دنیا کیسی؟"
محمودہ: "نئی دنیا کا حال پہلے کسی کو معلوم نہ تھا؛ اب کوئی چار سو برس سے معلوم ہوا کہ یہاں بھی بستی ہے۔ نئی دنیا کو امریکہ کہتے ہیں؛ اس کے دو ٹکڑے ہیں: شمالی امریکہ اور جنوبی امریکہ۔ ہم لوگ پرانی دنیا میں رہتے ہیں؛ اس کے تین ٹکڑے ہیں: ایشیا، یورپ، افریقہ۔ ایشیا میں ہندوستان، چین، افغانستان، عرب، ایران، توران وغیرہ ہیں؛ یورپ انگریزوں کا ملک ہے؛ اور افریقہ حبشیوں کا۔ مجمل حال تو یہ ہے، اور مفصل سے کتابیں بھری پڑی ہیں؛ اگر آپ نقشہ دیکھیں تو خوب سمجھ میں آئے۔"
ہاجرہ: "ذرا وہ کتاب تو دو جس میں نقشے ہیں۔" محمودہ نے ہاجرہ سے کتاب لے، پہلے کرۂ زمین کا نقشہ حسن آرا کے روبرو پھیلا دیا اور کہا: "دیکھو، یہ تمام زمین کی تصویر ہے۔"
کرۂ زمین کا نقشہ مع حالات عامہ
حسن آرا: "تم تو کہتی تھیں زمین گول ہے؛ یہ چکی کے سے دو پاٹ الگ الگ کیسے ہیں؟"
محمودہ: "ان دونوں کو جوڑ کر بیچ میں مٹی بھر دو تو ٹھیک زمین کی شکل بن جائے۔ ایک مٹی کا گولا بنا کر اس پر موقع موقع سے ملکوں اور سمندروں اور پہاڑوں اور ندیوں کے نشان بنا دیتے ہیں؛ وہ خوب ہوتا ہے؛ اس کو کرہ کہتے ہیں۔ ہمارے یہاں کا کرہ فراش خانہ کے مدرسہ کی استانی جی نے منگوا بھیجا ہے؛ وہ ہوتا تو اس سے خوب سمجھ میں آتا؛ مگر خیر، اسی نقشے میں دیکھیے کہ نیلی پیلی لال سبز لکیروں سے جو جگہ گھری ہے، وہ تو خشکی ہے، باقی جو جگہ آپ خالی دیکھتی ہیں، تمام سمندر ہے۔"
حسن آرا: "آہا! ہر چہار طرف سمندر ہی سمندر پھیلا ہوا ہے۔"
محمودہ: "بے شک، میں نے آپ سے کہا تھا کہ تین حصے کے قریب سمندر ہے اور ایک حصے کے قریب خشکی۔"
حسن آرا: "بھلا یہ کھنکھجورے کی طرح کیا بنا ہے؟" محمودہ: "پہاڑ ہیں۔"
حسن آرا: "امریکہ میں پہاڑوں کی بڑی کثرت معلوم ہوتی ہے۔" محمودہ: "واقعی۔"
حسن آرا: "اور یہ لہریے دار لکیریں کیا ہیں؟" محمودہ: "دریا ہیں۔"
حسن آرا: "ہماری دلی اس نقشے میں کہاں ہے؟" محمودہ: "دلی اس میں نہیں ملے گی۔ ایک بالشت میں تمام زمین ہے؛ اس میں اتنی گنجائش نہیں ہو سکتی کہ تمام شہروں کے نام لکھے جائیں، ورنہ نقشہ ایسا گچ پچ ہو جاتا کہ پڑھا بھی نہ جاتا؛ مگر یہ دیکھیے، ہندوستان موجود ہے۔"
حسن آرا: "ایک بڑا کھنکھجورا یہاں بھی چل رہا ہے۔"
محمودہ: "ہاں، یہی ہمالہ پہاڑ ہے، جس میں کشمیر، سبا تو، شملہ، منصوری، لنڈھور، نینی تال وغیرہ مقامات واقع ہیں، جہاں گرمی کے دنوں میں انگریز جا کر رہا کرتے ہیں۔"
حسن آرا: "بھلا یہ دکھن کی طرف ایک بندا سا کیا لٹک رہا ہے؟"
محمودہ: "ہندوؤں کی لنکا، جس کے قصے کی نقل رام لیلا دسہرے میں بناتے ہیں۔"
حسن آرا: "خالی میدان میں جو رنگین نقطے دیے ہیں، یہ کیا ہیں؟"
محمودہ: "چھوٹے چھوٹے ٹاپو۔" حسن آرا: "ٹاپو کیا؟"
محمودہ: "چاروں طرف سمندر، بیچ میں اونچی زمین، جس پر آدمی بستے ہیں۔"
حسن آرا: "دونوں سروں پر نہ آبادی کا نشان ہے، نہ [illegible: rest of line cut off at the foot of the scan]"
محمودہ: "زمین کے دونوں سرے قطب کہلاتے ہیں: ایک شمالی، دوسرا جنوبی۔ آج تک وہاں کوئی نہ پہنچ سکا؛ غضب کی سردی ہے؛ سمندر مارے خنکی کے جم گیا ہے۔"
حسن آرا: "کیا تمام روئے زمین پر سردی گرمی یکساں نہیں؟"
محمودہ: "ہرگز نہیں۔ بیچ میں جو یہ لکیر کھنچی ہوئی ہے، اس کو خط استوا کہتے ہیں؛ اس پر آفتاب کی کرنیں سیدھی پڑتی ہیں، اور اس بلا کی گرمی ہے کہ سمندر ہے تو کھول رہا ہے، اور زمین ہے تو جلتے توے کی طرح تپ رہی ہے۔ اس خط سے جتنی دور چلو، اتر کو یا دکھن کو، اسی قدر گرمی کم، سردی زیادہ؛ یہاں تک کہ قطبوں پر حد درجے کی سردی ہے۔"
حسن آرا: "یہ تو آپ نے بڑی عمدہ بات بتائی؛ تو انگریزوں کا ملک ہمارے ملکوں کی نسبت بہت سرد ہو گا، اور افریقہ گرم۔"
محمودہ: "تم بہت درست سمجھیں؛ واقعی ایسا ہی ہے۔"
حسن آرا: "حبشی شاید گرمی ہی کے سبب بہت کالے ہوتے ہیں۔"
محمودہ: "آدمی تین رنگ کے ہوتے ہیں: کالے، گورے، اور تانبے کے رنگ کے۔ سرد ملک کے رہنے والے گورے ہوتے ہیں، گرم کے کالے، اور امریکہ والوں کا رنگ تانبے کا سا ہوتا ہے۔"
حسن آرا: "سردی گرمی کے اعتبار سے ہمارا ملک بیچ کی راس ہے؛ اے ہے، اور ملک والے بھی یہیں آ رہتے!"
محمودہ: "جو جس ملک میں پیدا ہوا ہے، اسی کو پسند کرتا ہے؛ خدا نے تو ان کی ویسی ہی طبیعت پیدا کی ہے، اور ان کی ضرورت کی چیزیں اسی ملک میں بہ آسانی میسر آتی ہیں۔"
ایشیا، یورپ، افریقہ کے نقشہ جات
حسن آرا: "بھلا اس کتاب میں اور نقشے کیسے ہیں؟" محمودہ: "یہ نقشہ تمام زمین کا تھا؛ اس سے آگے صرف ایشیا، صرف افریقہ، صرف یورپ، صرف شمالی امریکہ، صرف جنوبی امریکہ کے ہیں۔ پھر ایشیا میں جتنے ملک ہیں، ہندوستان، عرب، چین، افغانستان وغیرہ، سب کے الگ الگ نقشے ہیں۔ اسی طرح ضلعے اور پرگنے اور گاؤں اور مکان کے نقشے ہوتے ہیں۔"
حسن آرا: "یہ کیا بات ہے؟ تمام زمین کا نقشہ تو چھوٹا اور ہندوستان کا بڑا!"
محمودہ: "یہ تو پیمانے کا فرق ہے۔ پرگنے کا نقشہ بڑے پیمانے کا ہوتا ہے، یعنی مثلاً ایک میل کا ایک انچ؛ ضلع کا نقشہ اگر اتنے پیمانے پر بنائیں تو مکان میں نہ سمائے؛ اس واسطے پیمانہ چھوٹا کر دیتے ہیں، چار میل کا ایک انچ؛ اور ہندوستان کے اس نقشے میں پچاس میل کا ایک انچ ہے، اور کرۂ زمین کے نقشے میں پانچ سو میل کا ایک انچ۔ نقشہ ایک تصویر ہے؛ اس کا چھوٹا بڑا بنا لینا اپنے اختیار میں ہے۔"
حسن آرا: "اگر پرگنے کا پیمانہ رکھیں تو تمام زمین کا نقشہ خدا جانے کتنا بڑا ہو؛ قطب صاحب تک تو پھیل جائے۔"
سمندر کے منافع
حسن آرا: "سمندر تو خدا نے ناحق ہی بنایا؛ تمام زمین خشک ہوتی، آدمی مزے میں ادھر سے ادھر چلتے پھرتے، جہاں تک چاہتے بستے بساتے۔"
استانی جی: "یہ بڑا کفر کا کلمہ ہے؛ توبہ کرو۔ دنیا میں کوئی چیز بے فائدہ اور بے مصلحت نہیں ہے، اور خدا کے جتنے کام ہیں، سب عقل اور حکمت سے بھرے ہوئے ہیں۔ آدمیوں نے اتنا غور کیا، مگر اس کی حکمت کا ایک شمہ[۱۰] بھی نہیں سمجھ پایا۔"
حسن آرا (گلوں پر ہولے ہولے طمانچے مار کر[۱۱]): "اے ہے، میری توبہ! استانی جی، ذرا سمندر کے فائدے مجھ کو تو بتائیے۔"
استانی جی: "میں دو چار فائدے جو مجھ کو معلوم ہیں، بتاؤں گی؛ لیکن انسان ایسا ضعیف العقل[۱۲] ہے کہ وہ بہت سی چیزوں کا فائدہ سمجھنے سے قاصر[۱۳] ہے؛ تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ آدمی اپنے قصور فہم کی وجہ سے انتظام الٰہی پر اعتراض کر بیٹھے۔ انتظام الٰہی عقل انسان کے لیے ایک کسوٹی ہے؛ جب عقل کوئی بات خلاف انتظام الٰہی سوچتی ہے تو یہ دلیل غلطی عقل ہے۔ سمندر کے فائدوں میں تم کو شک ہے تو لو، سنو: ایک فائدہ تو یہی ہے کہ سمندر سے لاکھوں روپے کے بیش بہا[۱۴] موتی نکلتے ہیں، جو ہم عورتوں کے لیے موجب زینت ہیں۔ سمندر میں لاکھوں قسم کی مچھلیاں ہوتی ہیں، جن کو آدمی کس خواہش سے کھاتے ہیں؛ مچھلیوں کی چربی جلانے کے کام آتی ہے، بلکہ بعض مچھلیوں کا تیل بہت سی بیماریوں کی دوا ہے۔ سمندر میں مچھلیاں اتنی بڑی بڑی ہوتی ہیں کہ تم سنو تو حیران ہو جاؤ؛ ایک قسم کی مچھلی وہیل ہوتی ہے، سینکڑوں گز کی لمبی چوڑی، ہزاروں من کی وزنی، یعنی بجائے خود جہاز کا جہاز۔ پھر سمندر میں مال کے لدے ہوئے بڑے بڑے جہاز چلتے ہیں؛ اگر اتنا مال خشکی کی راہ سے جائیں تو بڑی محنت، بڑی دیر اور بیٹھے خرچ کی ضرورت ہو۔ اگرچہ جہاز دخانی[۱۵] سمندر اور بڑے دریاؤں میں اسی طرح چلتا ہے جیسے خشکی میں ریل، مگر صدہا جہاز صرف ہوا کی مدد سے چلتے ہیں، اور ہوا موافق ہو تو سینکڑوں کوس ایک دن میں چل جاتے ہیں۔ یہ تھوڑے فائدے ہیں؟ اور فائدے تو فائدے، سمندر نہ ہو تو کسی کی زندگی ہی نہ ہو۔"
حسن آرا: "جناب، لاکھوں آدمی ہیں جنھوں نے سمندر کی صورت بھی نہیں دیکھی، بلکہ شاید نام بھی نہ سنا ہو۔"
استانی جی: "یہ میں نے کب کہا کہ دیکھنے اور نام کے سننے پر زندگی موقوف ہے؟ میں نے تو یہ کہا کہ سمندر نہ ہو تو کسی کی زندگی ہی نہ ہو۔"
حسن آرا: "مہربانی فرما کر مجھ کو اس کی وجہ سمجھا دیجیے۔"
استانی جی: "وجہ تو ظاہر ہے کہ کھانے کے انواع و اقسام کے غلے سب مینہ سے پیدا ہوتے ہیں، اور مینہ سمندر سے آتا ہے۔"
حسن آرا: "آہا! تب ہی لوگ کہا کرتے ہیں کہ بادل سمندر میں پانی پینے جاتے ہیں۔"
استانی جی: "یہ کہنا تو غلط ہے، مگر مینہ ضرور سمندر سے آتا ہے۔ رابعہ، تم نے ابھی چند روز ہوئے مینہ، اوس، کہر[۱۶]، قوس قزح[۱۷]، بجلی اور اولوں کا حال پڑھا ہے؛ حسن آرا بیگم کے روبرو بیان تو کرو۔"
مینہ، بجلی، بادل وغیرہ اور روشنی اور ہوا کی رفتار
رابعہ: "گرمی کی وجہ سے سمندر اور دریاؤں اور ہر ایک گیلی اور سیلی چیز میں سے بھاپ نکلتی ہے؛ اور چونکہ سمندر کا پانی ہزاروں کوس میں پھیلا ہوا ہے، سب سے زیادہ بھاپ سمندر سے اٹھتی ہے۔ اس بھاپ کا نام بادل ہے، جو ہلکے ہونے کے سبب ہوا پر جا کر آفتاب کے عکس سے ہم کو رنگ برنگ نظر آتے ہیں۔ یہ بھاپ بلندی پر پہنچ کر خنکی[۱۸] پاتی اور مینہ بن کر برستی ہے، اور کبھی خنکی کی وجہ سے جم کر اولا ہو جاتی ہے۔"
حسن آرا: "مینہ تو وہ بھاپ ہوئی جو سردی پا کر پانی بن گئی؛ تو بجلی وہ بھاپ ہو گی جو آگ بن جاتی ہو گی۔ اوپر کی خنکی بھاپ کو تو پانی بنا دیتی ہے، مگر کیا اس آگ کو نہیں بجھا سکتی؟"
رابعہ نے تامل کیا۔ محمودہ: "کوئی چیز گرمی سے خالی نہیں؛ یہاں تک کہ جمی ہوئی برف میں بھی گرمی رہتی ہے؛ اور دو چیزوں کو آپس میں گھسنے اور رگڑنے سے یوں بھی گرمی پیدا ہو جاتی ہے۔ یہ ستارا جو ٹوٹتا ہے، ہوا کی گرمی اشتعال[۱۹] پا کر بھڑک اٹھتی ہے؛ اور اس قاعدے کے نہ جاننے سے لوگوں نے بڑے بڑے دھوکے اٹھائے ہیں: قبرستانوں اور مرگھٹوں اور پرانی عمارتوں اور باغوں اور جنگلوں میں جو کبھی ہوا اسی طرح بھڑک اٹھتی ہے، لوگ جانتے ہیں بلا ہے۔ بجلی وہ گرمی ہے جو بادلوں میں رہتی ہے؛ اور گرمی کا یہ بھی خواص ہے کہ جب دو چیزیں برابر رکھی جائیں جن میں سے ایک میں گرمی زیادہ ہو اور دوسری میں کم، تو زیادہ گرمی والی چیز سے گرمی نکل کر کم گرمی والی چیز میں جائے گی، یہاں تک کہ دونوں چیزوں میں برابر کی گرمی ہو جائے گی۔ مثلاً ٹھنڈے پانی میں ہاتھ ڈالو تو ہاتھ کی گرمی پانی میں جائے گی، یہاں تک کہ دونوں میں یکساں گرمی ہو جائے؛ اور تھوڑی دیر بعد پانی کی ٹھنڈک جو ہاتھ کو محسوس نہیں ہوتی، اس کی یہی وجہ ہے۔ اسی طرح جس بادل میں گرمی زیادہ ہوتی ہے، وہ پاس کے کم گرمی والے بادل میں زور سے جاتی ہے؛ اس کا نام کڑک ہے، جس کی آواز ہم لوگ سنتے ہیں۔"
حسن آرا: "ٹھنڈے پانی اور ہاتھ کی مثال جو آپ نے دی، اس میں تو ہم کو ہاتھ سے آگ نکلتی نظر نہیں آتی؛ مگر بجلی میں تو ایسی آگ ہوتی ہے کہ آنکھ چندھیانے لگتی ہے۔"
محمودہ: "گرمی سے آگ بن جانا کون تعجب ہے؟ پتھر کو پتھر پر مارو، صاف چنگاریاں جھڑتی ہوئی نظر آئیں گی۔ خیر النسا نے مجھ سے بیان کیا تھا کہ ان کے وطن میں ایک مرتبہ آندھی آئی تھی؛ بانسوں کی رگڑ سے جنگل میں اس بلا کی آگ لگی کہ تمام نیستان[۲۰] جل کر سیاہ ہو گیا۔"
حسن آرا: "بجلی تو زمین پر بھی گرا کرتی ہے؛ اس کا سبب؟"
استانی جی: "جب بادل زمین کے قریب ہوا، نزدیک ہونے کی وجہ سے زمین اس گرمی کو اپنی طرف کھینچ لیتی ہے۔"
حسن آرا: "کیا یہ بادل آسمان میں نہیں ہوتے؟"
استانی جی: "اکثر میل دو میل سے زیادہ اونچے نہیں ہوتے؛ اور پہاڑوں پر تو گھروں میں بادل گھستے پھرتے ہیں؛ بیٹھے ہیں کہ یکایک کہر کی طرح دھواں سا ابھرا؛ تھوڑی دیر بعد چاندنا ہوا تو دھواں ندارد، پانی میں تر بہ تر۔"
حسن آرا: "بجلی تو بڑی آفت ہے؛ کچھ اس کی روک بھی ہے؟ میں نے تو جہاں کڑک کی آواز سنی، اندر بھاگ جاتی ہوں۔"
استانی جی: "آواز کے سننے پیچھے بھاگنا تو بے وقوفی ہے؛ بجلی گرتی ہے تو آواز پہنچنے سے پہلے گر چکتی ہے۔ ہوا کی نسبت روشنی کی رفتار بڑی تیز ہوتی ہے؛ تم نے کاہے کو دیکھا ہو گا، غدر کے دنوں میں ہم لوگ کوٹھے پر سے باڑے کی توپوں کو دیکھتے تھے کہ رنجک کی چمک پہلے نظر آتی تھی، اس کے چند لمحے کے بعد توپ کی آواز سن پڑتی تھی۔ یہی حال بعینہ بجلی اور کڑک کا ہے؛ خوب دھیان لگا کر جب چاہو آزما لو: پہلے چمک نظر آتی ہے، اس کے تھوڑی دیر بعد کڑک کی آواز سنائی دیتی ہے۔ اور بجلی کے روک کی جو تم نے پوچھی تو ہاں، عقل مندوں نے اس کی تدبیر بھی نکالی ہے۔ بجلی تھی تو نقصان کی چیز، عقل کے زور سے اس کو بھی فائدہ مند کر لیا۔ تار برقی کا نام تم نے سنا ہے؟"
حسن آرا: "ہاں، دو چار مرتبہ بڑے ابا کے پاس سے سنا کہ تار میں خبر آئی ہے۔"
استانی جی: "دیکھو، انگریزوں کی ولایت پانچ ہزار کوس دور ہے، مگر تار کے ذریعے سے چار پانچ گھنٹے میں خبر آنے لگی ہے؛ یہ سب بجلی کے کھیل ہیں۔"
حسن آرا: "روک کی نسبت آپ نے کچھ نہ فرمایا۔"
استانی جی: "دھات کی چیزیں، لوہا، تانبا، پیتل وغیرہ، بجلی کو کھینچتی ہیں۔ میگزینوں میں بارود کی حفاظت کے واسطے بجلی کی روک کرنی پڑتی ہے؛ چھتوں کے پہلو میں لوہے کی سلاخیں گاڑ دیتے ہیں کہ بجلی گرے تو سلاخوں کی راہ زمین میں چلی جائے۔ اور بجلی کا ایک خاصہ یہ بھی تحقیق ہوا ہے کہ نوک دار چیز سے گریز کرتی ہے؛ گنبدوں اور میناروں بلکہ چھتریوں پر جو لوگ کلس دیکھتی ہو، اس کا اصلی سبب یہی ہے۔ میرے پاس ایک رسالہ ہے جس میں تار برقی کا سب حال لکھا ہے، اس میں بجلی کے عجب عجب خواص لکھے ہیں؛ جب تم زیادہ پڑھ لو گی تو اس کو دیکھنا۔"
انگریزوں کا حال
حسن آرا: "انگریز بھی نرے عقل کے پتلے ہیں!" استانی جی: "قوم کی قوم کا یہی حال ہے؛ عقل کے پتلے نہ ہوتے تو کالے کوسوں آ کر بادشاہ کس طرح بن بیٹھتے؟ ذرا انگلستان کی تاریخ پڑھو تو معلوم ہو کہ ابتدا ان لوگوں کی کیا تھی: نرے وحشی تھے؛ جانوروں کو مار کر گوشت کھاتے اور چمڑا پہنتے؛ پہاڑوں کی کھوہوں میں رہتے؛ کھیتی باڑی اور مکان بنانے تک کی عقل نہ تھی۔ رومیوں کی سلطنت تھی؛ انھی سے انگریزوں نے ہنر اور سلیقہ سیکھا، یہاں تک کہ رومیوں کو اپنے ملک سے نکال باہر کیا۔ اب یہ وہی انگریز ہیں کہ روئے زمین پر کوئی قوم ایسی دانش مند اور ایسی شائستہ نہیں ہے۔"
حسن آرا: "اب تک میں یہ سمجھتی تھی کہ خدا نے سب آدمیوں کو برابر عقل دی ہے؛ مگر آپ کے فرمانے سے معلوم ہوتا ہے کہ انگریزوں کے ملک کی آب و ہوا میں ایک خاص تاثیر ہے کہ وہاں کے لوگ زیادہ عقیل ہوتے ہیں۔ میری کتاب میں بھی کئی جگہ دانش مندان فرنگ آیا ہے؛ پھر اس میں دوسرے ملک والوں کا کیا دوش[۲۱] ہے؟"
استانی جی: "عقل واقعی خدا داد[۲۲] ہے، مگر اس کی ترقی بے علم کے نہیں ہوتی؛ اسی طرح جسم بھی خدا داد ہے، مگر اس کی توانائی اور بالیدگی[۲۳] غذا پر موقوف ہے؛ عقل کی غذا علم ہے۔ سو افسوس ہے کہ علم ہندوستان سے بالکل اٹھ گیا، اور جو ہے وہ جہل سے بدتر: ناحق ناحق کی کٹھ حجتی اور جھوٹی شاعری کے سوائے ہندوستان میں کچھ اور بھی ہے؟"
حسن آرا: "کیا انگریز بڑے مولوی ہوتے ہیں؟"
استانی جی: "لفظ مولوی کا استعمال تم کو اس مقام پر نہیں کرنا چاہیے؛ مسلمان عالم مولوی کہلاتے ہیں، ہندو پنڈت؛ مگر کچھ شک نہیں کہ جو علم بکار آمد ہیں، انگریز سب سے زیادہ جانتے ہیں۔ اسی علم کے زور سے وہ نادر کلیں ایجاد کی ہیں، اور آئے دن ہوتی جاتی ہیں، کہ سن کر عقل دنگ[۲۴] ہوتی ہے۔ تمام دنیا کا تمام کام کلوں سے لیا جاتا ہے: کلیں سوت کاتیں، کلیں کپڑے بنیں، کلیں آٹا پیسیں، کلیں کتابیں چھاپیں، کلیں باجے بجائیں، کلیں لوہار بڑھئی کا کام دیں؛ بلکہ کلیں وہ وہ کام کریں جو آدمی سے نہ ہو سکے۔"
حسن آرا: "کیا ان کی میمیں بھی اسی طرح کی عقل مند ہوتی ہیں؟"
استانی جی: "بیشک؛ عورتیں بھی سب کی سب پڑھی لکھی، ہنرمند؛ اور ممکن نہیں کہ مرد اس درجے کے لائق ہوں اور . . . عورتیں ہم کم بختوں کی طرح بے علم، بے ہنر۔ حلیمہ کے ہمسائے میں ایک میم رہتی ہیں؛ ذرا ان کا حال سنو۔ حلیمہ بوا، کہو تو۔"
حواشی
[۱] نہانے کی جگہ۔
[۲] پانی کے رکھنے کی جگہ۔
[۳] کپڑے کی قسم کا اسباب رکھنے کی جگہ۔
[۴] نوکروں کے چلنے پھرنے کی جگہ۔
[۵] گھر میں جو باغ لگا ہو۔
[۶] جو باغ ایسے موقع سے لگا ہو کہ ایک جگہ بیٹھیں تو نیچے باغ دکھائی دے۔
[۷] مکان کا صدر مقام۔
[۸] بڑا سمندر۔
[۹] بری خشکی۔
[۱۰] ذرا سا حصہ۔
[۱۱] اس کے یہ معنی ہوتے ہیں کہ ایک بیجا بات جو منہ سے نکلی تھی، اس کے بدلے اپنی سزا آپ کر لی۔
[۱۲] عقل کی کمزوری، ناتواں۔
[۱۳] عاجز۔
[۱۴] قیمتی۔
[۱۵] جو جہاز ریل کی طرح بھاپ کے زور سے چلے، اس کو دخانی جہاز کہتے ہیں؛ دخان کے معنی ہیں دھواں، یعنی بھاپ۔
[۱۶] جاڑے کے موسم میں صبح کے وقت جو دھواں سا گھنا ہوا ہوتا ہے۔
[۱۷] برسات میں جو آسمان پر کمان دکھائی دیتی ہے۔
[۱۸] ٹھنڈک۔
[۱۹] [illegible: footnotes not printed on this page of the scan]
[۲۰] [illegible]
[۲۱] گناہ، قصور۔
[۲۲] خدا کی دی ہوئی۔
[۲۳] بڑھنا۔
[۲۴] حیران۔
Que vous laisse ce chapitre ?
Connectez-vous pour réagir
Discussion
Personne n’a encore parlé. Dites ce que ce chapitre a remué en vous.