Urdu in Translation
Recherche

Chapitre 17 sur 22

Husn Ara Reads Aloud the Story of Masih-ul-Mulk

حسن آرا نے مسیح الملک کی کہانی پڑھ کر سنائی

Deputy Nazir Ahmad

Écriture
Taille

حسن آرا نے مسیح الملک کی کہانی پڑھ کر سنائی

اس اثنا میں حسن آرا نے بھی چپکے چپکے اتنی استعداد پیدا کر لی تھی کہ عبارت پڑھ لے سکتی تھی۔ فراٹے کے ساتھ تو نہیں پڑھا جاتا تھا، مگر اٹکتی بھی نہ تھی؛ شاذ و نادر کوئی عربی فارسی کا لفظ آ گیا تو ذرا کے ذرا رکی اور چل نکلی۔ کہانیوں کا نام سن کر حسن آرا کے دل میں گدگدی ہونے لگی، اور محمودہ کے پاس جا کر آہستہ سے کہا: "آج جی چاہتا ہے کہ میں پڑھوں۔"

محمودہ: "بسم اللہ۔" حسن آرا: "استانی جی سے کہتے ہوئے شرم آتی ہے۔"

محمودہ: "شرم کی کیا بات ہے؟ میں کہہ دوں۔"

حسن آرا: "کسی کو میرے پڑھنے کا حال معلوم نہیں؛ سن کر سب کو تعجب ہو گا۔"

محمودہ: "ہو گا تو سہی۔" حسن آرا: "سب کان لگا کر سنیں گی؛ ایسا نہ ہو، میری سٹی بھول جائے۔"

محمودہ: "ان میں کوئی اجنبی آدمی نہیں؛ پڑھنے میں کتاب کے سوائے تم دوسری طرف خیال نہ کرنا۔"

حسن آرا: "آگے کی کہانی کچھ بہت مشکل ہے؟"

محمودہ: "نہیں، منتخب الحکایات تم بے تامل پڑھتی ہو؛ اس سے تو کہیں سہل ہے۔"

حسن آرا: "تم میرے پاس بیٹھنا۔" محمودہ: "ضرور۔"

حسن آرا: "استانی جی کچھ خفا تو نہیں ہوں گی؟"

محمودہ: "ہرگز نہیں؛ خوش ہونے کی بات ہے یا خفا ہونے کی؟"

حسن آرا: "اے ہے، جی ڈرتا ہے۔" محمودہ: "استانی جی کی خفگی سے؟"

حسن آرا: "نہیں، سب کے سامنے پڑھنے سے۔"

محمودہ: "اجی، آنکھیں نیچی کیے تم پڑھ چلنا؛ تھوڑی دیر میں بہاؤ کھل جائے گا۔"

اتنے میں رابعہ کتاب نکال پہنچی۔ جوں ہی چاہتی تھی کہ پڑھے، محمودہ نے کہا: "استانی جی، آج حکم ہو تو حسن آرا بیگم کہانی پڑھیں۔" یہ سن کر سب کو حیرت ہوئی۔ استانی جی: "ہاں؟" محمودہ: "حسن آرا بیگم کئی مہینے سے چپکے چپکے مجھ سے پڑھتی تھیں؛ اب عبارت پڑھنے لگی ہیں۔"

استانی جی: "شروع میں ایک مرتبہ انھوں نے مجھ سے پڑھنے کو کہا تھا؛ میں نے اس خیال سے روک دیا کہ ان کا شوق خوب تیز ہوئے تب شروع کراؤں۔ پھر انھوں نے کچھ تذکرہ نہیں کیا؛ میں سمجھتی تھی کہ ابھی ارادہ نہ ہو گا۔"

محمودہ: "جناب، اسی دن سے انھوں نے پڑھنا شروع کیا۔ ماشاء اللہ ایسا ذہن ہے کہ میں نے تو نہیں دیکھا: ایک دن میں تو انھوں نے ساری الف بے پہچان لی تھی، اور کچھ ایسا حافظہ خدا نے دیا ہے کہ جو پڑھا، بس پتھر کی لکیر۔"

غیرت اور غرور

استانی جی: "حسن آرا بیگم! محمودہ سے تمہارے پڑھنے کا حال سن کر میں بہت خوش ہوئی؛ اور اتنی تھوڑی مدت میں جو تم نے عبارت پڑھ لینے کی استعداد حاصل کی، میں سب لڑکیوں کے روبرو تم کو اس کی شاباش دیتی ہوں۔ میں جانتی ہوں کہ محمودہ سے چھپ کر پڑھنے کا یہ سبب ہوا ہے کہ تمہاری غیرت نے چھوٹی چھوٹی لڑکیوں کے روبرو، جو کتابیں پڑھتی ہیں، الف بے پڑھنا پسند نہیں کیا؛ سو تمہاری اس غیرت پر آفریں کہتی ہوں۔ غیرت آدمی کو خدا نے اسی واسطے دی ہے کہ وہ نیک کاموں میں اس سے مدد لے۔ غیرت سستی اور کاہلی کا تازیانہ ہے؛ غیرت سے شوق کو تیزی اور ارادوں کو پائداری حاصل ہوتی ہے؛ غیرت ہمارے حق میں امداد الٰہی اور تائید غیبی؛ ہر مشکلوں پر غالب آنے اور دقتوں کے رفع کرنے کے لیے غیرت ایک عمدہ ہتھیار ہے۔ غیرت محنت کو راحت اور تکان کو آسائش کر دیتی ہے۔ [illegible: most of one line cut off at the foot of the scan] غیرت وہ تیر ہے جس کا نشانہ کبھی خطا نہیں کرتا؛ غیرت وہ تدبیر ہے جس کا نتیجہ ہمیشہ کامیابی اور فتح مندی ہے۔ خوش نصیب ہیں وہ لوگ جن کے مزاج غیور ہیں، اور اقبال مند ہیں وہی جو غیرت مند ہیں۔ حسن آرا بیگم، ہزار خوبیوں کی ایک خوبی تم میں یہ غیرت ہے۔ اے لڑکیو! تم سب اس کا اہتمام کرو کہ تمہاری غیرتیں ماند اور مدھم نہ ہونے پائیں۔ حسن آرا بیگم، یہ چند مہینے جو تم نے پڑھنے میں صرف کیے، تم خود سمجھ گئی ہو گی کہ تمہاری عمر کا یہ بہت چھوٹا سا حصہ کیسا عمدہ تھا۔ ایسے ایسے حصے نہیں معلوم کتنے ہم نے، تم نے باتوں اور نیند میں ضائع کر دیے؛ اور اگر اس وقت کی طرح ان کو بھی کام کی باتوں میں لگاتیں تو کیا کچھ فائدہ حاصل نہ ہوا ہوتا۔ افسوس آدمی وقت پر قابو پا کر اس کو اکارت کرے! حسن آرا بیگم! اب تم نے اس نیک کام کو شروع کیا ہے تو تند ہو کر اس کو ختم تک پہنچاؤ۔ وہ شخص جو شوق کرتا ہے مگر ناتمام، اور ارادہ کرتا ہے مگر ناقص، اس سے زیادہ برا ہے جو بالکل بے شوق ہے۔ بڑے شرم کی بات ہے کہ جن لوگوں نے تمہارا پڑھنا سنا، وہ کبھی یہ بھی سنیں کہ حسن آرا بیگم نے پڑھنا چھوڑ دیا۔ حسن آرا بیگم، کسی آدمی کو اپنی نادانی کی انتہا معلوم نہیں؛ جس کو جتنا آتا ہے، وہ اس چوہے کی طرح جو ہلدی کی ایک گرہ پا جانے سے اپنے آپ کو عطار خیال کرتا تھا، بڑا عالم سمجھا کرتا ہے، اور تھوڑی ہی معلومات پر فخر کرتا ہے کہ . . . عجب نہیں کہ تم کو بھی ایسی حالت پر ناز ہو کہ جو کتاب سامنے آ جائے، میں پڑھ سکتی ہوں، اور سب کچھ مجھ کو آ گیا۔ خبردار! ہرگز ہرگز ایسا خیال اپنے دل میں مت آنے دینا۔ میں نے تم سے پہلے بھی کہا ہے کہ دریائے علم کی تھاہ کسی نے نہیں پائی۔ عبارت پڑھ لینے کو علم نہیں کہتے؛ یہ تو حاصل کرنے کا ذریعہ ہے۔ علم وہ باتیں ہیں جو کتابوں میں لکھی ہیں: حساب، جغرافیہ، تاریخ، اخلاق، طبعیات، طب، صرف، نحو، منطق، ہندسہ، ریاضی وغیرہ۔ حسن آرا بیگم! بہت چیزوں کے جاننے اور بہت کتابوں کے پڑھنے سے چنداں فائدہ نہیں ہے۔ تمام تر علموں کا نتیجہ یہ ہے کہ آدمی ہر ایک چیز کی اصل اور ہر ایک بات کی تہ کو دریافت کرے۔ تم شروع سے سوچنے اور غور کرنے کی عادت ڈالو۔ کوئی چیز جو دیکھو، اس کی حقیقت، اور کوئی بات جو سنو، اس کی وجہ سوچنی چاہیے۔ جو چیزیں ہم رات دن دیکھتے ہیں، کہ گویا بالکل ان سے بے خبر ہیں: پانی، ہوا، آگ، درخت، غلہ، کپڑا، زیور، برتن، بلکہ ضرورت اور خانہ داری کی سب چیزیں؛ آسمان، ستارے؛ کبھی بھی کسی نے غور کیا ہے کہ کیا ہیں؟ اور جنھوں نے کیا، تو سمجھا کہ ایک ایک چیز بجائے خود ایک علم ہے۔ سعدی علیہ الرحمۃ[۱] نے کیا خوب فرمایا ہے:

برگ درختان سبز در نظر ہوشیار[۲]ہر ورقے دفتریست معرفت کردگار

غرض ذہن کو غور و فکر کی عادت رہے اور عقل کو تفتیش[۳] کا روگ لگ جائے؛ یک من علم را دہ من عقل می باید[۴]، کا تو یہی مطلب ہے؛ ورنہ طوطے کی طرح پڑھا تو کیا:

آدمیت اور شے ہے، عقل ہے کچھ اور چیزکتنا طوطے کو پڑھایا، پر وہ حیواں ہی رہا

ہاں صاحب، اب کہانی شروع ہو۔" حسن آرا نے پڑھنا شروع کیا۔ دو چار جملوں تک تو آواز لڑکھڑائی، مگر پھر تو صاف پڑھنے لگی۔

مسیح الملک کی باقی حکایت: اس کا بعد معزولی[۵] حج کو جانا، اور اس کی بیٹی نازپرورد کا جس نے امیرزادیوں کی طرح تربیت[۶] پائی تھی، بدوؤں کے ہاتھ میں ہوش مند کنیز[۷] کے ساتھ گرفتار ہونا، اور اس حالت میں بے ہنری سے تکلیف پانا، اور ہوش مند کی کوشش سے رہا ہونا

مسیح الملک کی شامت جو آئی، بیٹی کا بیاہ کرنے اٹھے۔ پہلا کام تھا؛ پس و پیش[۸] کچھ نہ سوچا، اور لوگوں کے حق مار مار کر، زور و ظلم سے جو کچھ جمع کیا تھا، سب خرچ کر ڈالا؛ بلکہ ہزاروں کا قرضہ سر کر لیا، اور نام و نمود کے پیچھے مر مٹے۔ شادی کے سامان دیکھ کر جہاں پناہ[۹] کو بدگمانی ہوئی، اور ستم رسیدوں[۱۰] کو کہنے سننے کا موقع ملا؛ غرض دفتر شاہی سے نام کٹ گیا۔ نام کا کٹنا تھا کہ قرض خواہوں نے تنگ کرنا شروع کیا؛ متوسلان شاہی ناراض تو تھے ہی، راہ میں چلتے پھرتے آوازے کسنے لگے۔ مسیح الملک سے سوا اس کے اور کچھ نہ بن پڑی کہ کعبۃ اللہ جائیں: نو سو چوہے کھا کے بلی حج کو چلی۔ سفر کا نام سن کر نوکروں چاکروں نے ٹکا سا[۱۱] جواب دیا؛ گھر کے لونڈی غلام کنی کاٹ گئے[۱۲]۔ اتنی بڑی بھیڑ میں سے صرف ایک کنیز ہوش مند نام ساتھ ہوئی۔ اس کو حکیم صاحب کی چھوٹی بیٹی نازپرورد سے ساتھ کھیلنے اور ہم عمری کی وجہ سے بڑی محبت تھی، اور اسی تعلق سے اس نے نازپرورد کی رفاقت[۱۳] اختیار کی۔ ہوش مند تھی تو کنیز زادی، مگر بڑی ہی عقلمند اور اسم بامسمّیٰ تھی۔ گو عقلمندی کے سبب سے اہل خدمت میں ممتاز اور سلیقہ مند اور صاحب شعور[۱۴] تھی، مگر اس کی عقل آزادی چاہتی تھی؛ اپنی حالت کو نہایت ناپسند کرتی، اور جی ہی جی میں غور کیا کرتی کہ گھر میں تین قسم کے آدمی ہیں: ایک تو خود گھر والے، جن کو سب طرح کا آرام اور اختیار حاصل ہے؛ دوسرے نوکر، کہ یہ لوگ گھر والوں کی ٹہل خدمت تو کرتے ہیں، مگر خاطر خواہ اپنی مزدوری لیتے ہیں، اور جب کوئی نوکری سے ناخوش ہوتا ہے تو چھوڑ کر چل دیتا ہے؛ تیسرے ہم لوگ ہیں جو لونڈی غلام کہلاتے ہیں؛ ہماری محنت اور مصیبت کی کچھ انتہا نہیں؛ نہ ہم چھوڑ کر کہیں جا سکتے، نہ کچھ تنخواہ کا استحقاق رکھتے؛ سب میں ہم ہی کمبخت گئے گزرے ہوئے ہیں۔ ہوش مند اس کے سبب کی تفتیش میں تھی کہ آخر میں نے ایسا قصور کیا کیا ہے کہ اس کی پاداش میں مجھ کو عمر بھر قید ہے؛ بہتیرا سوچتی، کچھ پتہ نہیں چلتا تھا۔ دو ایک مرتبہ اس نے قصد کیا کہ اپنے ہم جنسوں میں اس کا تذکرہ کرے، مگر کسی کو اس دل و دماغ کا نہ پایا۔ وہ لوگ سب کے سب اسی قدر عقل رکھتے تھے کہ کسی دن کام زیادہ پڑ گیا، یا مارے پیٹے گئے، تھوڑی دیر کو رو دیے، دھوئے پھر ویسے کے ویسے۔ مصرع:

چکنے گھڑے پہ بوند پڑی اور پھسل پڑی

مگر ہوش مند ہمیشہ اپنے تئیں دبائے[۱۵] رہتی تھی؛ مارنا پیٹنا کیسا، کوئی سخت بات بھی کہتا تو مہینوں اس پر صدمہ رہتا۔ ہر وقت اپنی حالت اس کو پیش نظر رہتی، اور اسی وجہ سے سدا اداس رہا کرتی تھی؛ اکیلی ہوتی تو کبھی اپنی مصیبت پر رو یا بھی کرتی۔ آزادی کا تصور اس کے ذہن میں ایسا سمایا تھا کہ کوئی چیز اس کو خوش نہ آتی؛ اور جس قدر ہوش مند آزادی کی خواہش مند تھی، اسی قدر گھر والوں کی نظروں میں ذلیل تھی؛ خصوصاً نازپرورد اس کی دماغ داری سے نہایت جلتی، اور کہا کرتی تھی: "لونڈی اس . . .[۱۶] کے دماغ ہیں! جھونپڑوں میں رہنا اور محلوں کے خواب دیکھنا!" ہوش مند نے اپنے ذہن میں چپکے چپکے اپنی نسبت یہ تحقیق کیا کہ چورانوے کے قحط میں اس کی ماں کو اس کا نانا دو روٹیوں پر بیچ گیا تھا؛ اس وقت اس کی ماں چھ سات برس کی تھی۔ جب بڑی ہوئی تو حکیم صاحب نے کسی اپنے غلام سے نکاح کر دیا؛ یہی ہوش مند ایک لڑکی ہوئی تھی کہ ماں باپ دونوں مر گئے۔ ہوش مند کو جب یہ حال دریافت ہوا تو دل میں کہنے لگی: "البتہ اسی گھر کا مجھ پر یہ بہت بڑا احسان ہے کہ مجھ کو اور میری ماں کو پرورش کیا؛ مگر نرے حق پرورش سے یہ لازم نہیں آتا کہ میں تمام عمر کے لیے ایسی ذلت اور مصیبت میں رکھی جاؤں۔ حق پرورش جیسا مجھ پر، ویسا خود گھر کے بال بچوں پر؛ پس کیا سبب کہ میں بڑی ہو کر لونڈی رہوں، اور یہ لوگ برابری کے درجے میں سمجھے جائیں؟ یہی نا کہ میرا نانا قحط میں دو روٹیوں کا حاجت مند تھا، اور اس وقت دو روٹیاں دے کر ان لوگوں نے میرے نانا کی جان بچائی؛ لیکن جب ان کو اتنا مقدور تھا تو ان پر بھی میرے نانا کی مدد کرنی فرض تھی۔ دنیا میں اس سے بڑھ بڑھ کر لوگ سلوک کرتے ہیں، لیکن کوئی کسی کو غلام نہیں بنا لیتا؛ اور یہ بھی سمجھ میں نہیں آتا کہ نانا نے میری ماں کو بیچ کیوں کر دیا۔ ضرور میری ماں ان کی بیٹی تھی، مگر کسی کو کسی کے بیچ دینے کا اختیار تو ٹھیک نہیں معلوم ہوتا۔" غرض اسی طرح کے بیسیوں منصوبے ہوش مند کے ذہن میں بھرے تھے۔ جب حکیم صاحب کا کام بگڑا اور سب لونڈی غلام شتر بے مہار[۱۷] کی طرح چلتے پھرتے نظر آئے، ہوش مند کی نسبت بھی کسی کو اطمینان نہ تھا؛ بلکہ سب کے بعد اس کا ٹھہرا رہنا اور کار و خدمت میں پہلے سے زیادہ تند ہونا ہر ایک کو موجب حیرت تھا۔ آخر جب روانگی میں دو دن رہ گئے تو نازپرورد نے خود کہا کہ "کیوں ہوش مند، وہ آزادی جس کی تمنا تجھ کو برسوں سے تھی، اب یہ وقت ہے؛ بسم اللہ، جہاں جی چاہے جاؤ۔" ہوش مند نے کہا: "البتہ میں آزادی کی بڑی قدر کرتی ہوں، مگر اس کا مطلب یہ نہیں تھا کہ میں اس گھر سے چلی جاؤں، آپ سے جدائی اختیار کروں۔ دنیا میں اس گھر کے سوا مجھ کو کسی سے تعلق نہیں؛ اگر اس بگڑے وقت میں میری جان بھی آپ کے کام آئے اور حق پرورش ادا ہو جائے تو مجھ کو اس کے صرف کرنے میں بھی ان شاء اللہ دریغ نہ ہو گا۔" غرض حکیم صاحب بی بی اور چھوٹی بیٹی اور ہوش مند کو ساتھ لے بمبئی پہنچے، اور یہاں جواہر[۱۸] بیش بہا جو پاس تھے، بیچ، سامان ضروری اور نقد روپیہ جہاز میں رکھ، سولھویں دن جدے[۱۹] پر جا داخل ہوئے۔ حج کو ابھی بہت توقف تھا؛ یہ صلاح ہوئی کہ چلو پہلے مدینے میں ہو آئیں۔ راہ میں بدوؤں نے آ گھیرا؛ مال و متاع ذرا ذرا کر کے لوٹ لیا، اور ہوش مند اور نازپرورد دونوں کو جابر بدوی پکڑ کر لے گیا، اور گھر لے جا کر بی بی کے حوالے کیا کہ "لو، ان دونوں کو لونڈی بناؤ، گھر کی ٹہل خدمت ان سے لو؛ جب ریحانہ اور ضمیران[۲۰] کا نکاح کریں گے تو یہی لونڈیاں ان کے جہیز میں دیں گے۔" بے چاری نازپرورد کے حق میں تو گویا مصیبت کا پہاڑ ٹوٹ پڑا: گھر چھوٹا، دیس چھوٹا، ماں باپ چھوٹے، عزیز و یگانے چھوٹے؛ بیگم سے لونڈی بنی، اور اس پر یہ طرہ کہ لونڈی بھی بنی تو نکمی اور ذلیل۔ جابر کے گھر چھالیا کترنی نہ تھی، پان بنانے نہ تھے؛ ورنہ شاید قہر درویش برجان درویش[۲۱] نازپرورد کر گزرتی۔ یہاں تو بھیڑ بکریوں اور اونٹوں کو چرانا، پانی پلانا، دودھ دوہنا، گھر کا پیسنا پکانا، یہ کام تھے؛ سو ان میں سے کوئی بھی نازپرورد کے بس کا نہ تھا۔ نازپرورد کو دن رات رونے سے کام تھا؛ اس کی مصیبت کو دیکھ کر ہوش مند کا کلیجہ[۲۲] بھی منہ کو آ جاتا تھا۔ دو چار دن تو کسی نے ان سے کچھ پوچھا گچھا نہیں؛ جابر اپنی بی بی بیٹیوں سے شاید ان کے بارے میں کچھ کہتا سنتا ہو، سو انھوں نے سمجھا نہیں۔ نازپرورد تو روتی رہی، مگر ہوش مند نے گھر کے کام کاج میں ہاتھ لگانا شروع کر دیا۔ ایک دن جابر اپنی بی بی سے باتیں کرتا تھا اور نازپرورد کی طرف آنکھیں نکال نکال کر دیکھتا بھی جاتا تھا۔ ہوش مند سمجھی کہ اب اس کو نازپرورد کا رونا اور کام نہ کرنا ناگوار ہے؛ ڈری، اور نازپرورد سے جا کر کہا کہ "تقدیر کا جو لکھا تھا سو ہوا، اور جو کچھ اور لکھا ہے سو ہو گا؛ مگر رونے سے حاصل کیا؟ پانچ پانچ چھ چھ دن ہوئے، دانہ تک آپ کے منہ میں نہیں گیا؛ آنکھیں تمام سوج گئی ہیں؛ ذرا دل کو مضبوط کیجیے۔" یہ کہنا تھا کہ نازپرورد اور بھی بے اختیار ہو کر رونے لگی۔ تھوڑی دیر بعد ہوش مند نے کہنا شروع کیا کہ "رونا کچھ آج ختم تھوڑا ہی ہوا جاتا ہے؛ یہ تو عمر بھر کو روگ لگا ہے؛ جئیں گے تو بہتیرا رو لیں گے۔"

نازپرورد: "کیا کروں؟ دل ہے کہ اندر سے امڈا چلا آتا ہے۔"

ہوش مند: "سچ ہے، مصیبت سی مصیبت ہے؛ جتنا رنج کیجیے، تھوڑا ہے؛ مگر میں کہتی ہوں کہ اس کا انجام کیا ہو گا؟"

نازپرورد: "میں اسی طرح اپنی جان دے دوں گی۔"

ہوش مند: "اے کاش! جان کا دینا اپنے اختیار میں ہوتا تو بھلی ہی بات نہ ہوتی؟ مجھ کو مرنا قبول تھا، مگر آپ کی تکلیف دیکھنے کا یارا نہیں۔"

نازپرورد: "غش یہ تو مجھ کو آنے ہی لگے ہیں؛ دو ایک دن میں جان بھی نکل جائے گی۔"

ہوش مند: "سب کچھ تو ہوا، مگر خدا نے اس وقت تک بے حرمتی نہیں کی؛ اب مجھ کو اس کا بھی کھٹکا ہے۔"

نازپرورد یہ سن کر چونک پڑی اور پوچھا: "کیا؟" ہوش مند: "وہ بدو جو ہم کو پکڑ کر لایا ہے، اس کا نام جابر ہے؛ آج وہ اپنی بی بی سے باتیں کر رہا تھا اور آپ کی طرف آنکھیں نکال نکال کر دیکھتا جاتا تھا؛ اس کے تیور اچھے نظر نہیں آتے۔"

نازپرورد: "آخر کیا کہتا تھا؟" ہوش مند: "اپنی بولی میں بہت دیر تک نہیں معلوم کیا کہتا رہا، مگر تھا ضرور آپ ہی کا تذکرہ۔"

نازپرورد: "تم کو کیا معلوم ہوا کہ وہ کیا چاہتا ہے؟" (آج پہلی مرتبہ نازپرورد ساری عمر میں ہوش مند سے "تم" کہہ کر بولی۔)

ہوش مند: "میرے خیال میں وہ یہی چاہتا ہے کہ آپ رونا دھونا موقوف کر کے کام کاج کریں۔" یہ کہنا تھا کہ نازپرورد پھر بیتاب[۲۳] ہو گئی، اور بہت دیر کے بعد سنبھل کر کہنے لگی کہ "اگر میں اس کی مرضی کے موافق نہ کروں گی تو یہی نا کہ مجھ کو مار ڈالے گا؛ سو میں خود جان دینے کو موجود ہوں۔"

ہوش مند: "مرنے پر آپ سے زیادہ میں دلیر ہوں؛ مگر وہی خوف ہے کہ شاید اس نے جان سے نہ مارا اور کچھ بے حرمتی کی۔"

نازپرورد: "پھر کیا کرنا چاہیے؟" ہوش مند: "سنگ آمد و سخت آمد[۲۴]؛ اٹھانا چاہیے۔"

نازپرورد: "تم جانتی ہو، مجھ کو کچھ کام کرنا نہیں آتا۔"

ہوش مند: "کام تو میں کروں گی؛ صرف آپ میرے ساتھ چلتی پھرتی رہیے۔"

نازپرورد: "رات کو چھپ کر بھاگ چلیں۔"

ہوش مند: "اجنبی ملک، اجنبی لوگ؛ نہ شہروں کے نام معلوم، نہ کہیں کی راہ معلوم؛ پاؤں میں چلنے کا بوتا[۲۵] نہیں؛ کہاں بھاگ کر جا سکتے ہیں؟"

نازپرورد: "ابا کی کچھ خبر نہیں؟" نازپرورد: "یہ جابر تو ضرور جانتا ہو گا۔"

ہوش مند: "مگر پوچھے کون؟ اول تو اس کی بولی نہیں آتی؛ دوسرے وہ کچھ اس طرح کا سخت مزاج آدمی معلوم ہوتا ہے کہ خود اسی کی بیٹیوں کا اس کی صورت دیکھنے سے دم فنا ہوتا ہے؛ ڈر کے مارے سامنے تک تو جاتی نہیں۔"

نازپرورد: "عورتوں میں کوئی بھلی مانس ہے؟"

ہوش مند: "ابھی کیا معلوم؟ مگر بڑی بیٹی ضمیران کچھ ملنسار معلوم ہوتی ہے؛ وہ جب ہم لوگوں کی طرف دیکھتی ہے تو اس کی نگاہ میں ایک رحم پایا جاتا ہے۔"

نازپرورد: "چلو، اسی سے اپنی مصیبت بیان کریں۔" ہوش مند: "کس زبان میں؟"

نازپرورد: "کچھ اشاروں ہی سے اس کو سمجھائیں۔"

ہوش مند: "ابھی جلدی نہیں کرنی چاہیے۔"

نازپرورد: "زبان نہ جاننے کی کیسی خرابی آ بنی ہے!"

ہوش مند: "میں تو سمجھتی ہوں کہ زبان کا نہ آنا اس وقت ہم کو بہت فائدہ دے رہا ہے۔ اول تو اگر ہم کوئی کام ان لوگوں کی مرضی کے موافق نہ کر سکیں تو سمجھنے کا عذر معقول ہے؛ دوسرے، میرے اور آپ کے ارادے ان پر ظاہر نہیں ہو سکتے؛ بے تکلف ہم لوگ باتیں کیا کریں، ان کو خاک خبر نہیں ہوتی۔"

نازپرورد: "جابر کی بی بی اور بیٹیاں تو اپنے ہاتھوں سب کام کرتی ہیں؛ اب کیا یہ لوگ سارا کام ہمارے سر ڈال کر الگ ہو جائیں گے؟"

ہوش مند: "نہیں، یہ تو ان لوگوں میں بڑا عمدہ دستور معلوم ہوتا ہے کہ یہ لوگ لونڈی غلاموں کو کام اور کھانے اور کپڑے اور سب باتوں میں گھر والوں کے ساتھ برابر رکھتے ہیں۔" غرض ہوش مند کے ڈھارس دلانے سے نازپرورد بھی اٹھنے بیٹھنے لگی؛ مگر کام کی عادت تو تھی ہی نہیں؛ اس پر دل غم زدہ؛ کچھ ہوتا ہواتا نہ تھا؛ اور بے سلیقگی کے سبب سے جس کام کو ہاتھ بھی لگاتی، خراب کرتی۔ جابر کے گھر والے اس کو نری احمق اور کام چور جانتے تھے۔ وہ تو ہوش مند ہر ایک کام میں اس کی شریک ہو جاتی تھی، اس سے نازپرورد کا پردہ ڈھکا چلا گیا، ورنہ خدا جانے کیا نوبت ہوتی۔ ہوش مند اپنی ہڈیاں پیلتی[۲۶] اور اکیلے دم پر تمام مصیبت جھیلتی، مگر نازپرورد کی تکلیف گوارا نہ کرتی، اور جہاں تک ہو سکتا، اس کو کسی کام میں ہاتھ نہ لگانے دیتی۔ جابر بدوی کے گھر جا کر نازپرورد پر اپنی ساری حقیقت کھل گئی۔ ہوش مند کے ساتھ اپنی حالت کو مقابلہ کرتی تو اب اپنی نظروں میں تھوڑی تھوڑی[۲۷] ہو کر رہ جاتی۔ اب اس نے جانا کہ جن لوگوں کو نظر حقارت سے دیکھتی تھی، واقع میں وہی بڑے کام کے تھے، اور میں ہی بڑی نکمی، بے مصرف، دوسروں کی محتاج، دوسرے کی دست نگر[۲۸] ہوں۔ اب اس نے سمجھا کہ آزادی کیا چیز ہے، اور دوسروں کی لونڈی ہو کر رہنا کتنی بڑی تکلیف کی بات ہے۔ اب اس کو ہوش مند کی قدر آئی کہ آزادی کی تمنا[۲۹] اس کو بیجا نہ تھی۔ اس پر بھی یہ غنیمت تھا کہ جابر کے گھر یہ دونوں ایسی ذلیل نہ تھیں جیسی خود اس کے گھر کی لونڈیاں۔ یہاں تو جس طرح ضمیران اور ریحانہ جابر کی دو بیٹیاں رہتی تھیں، اسی طرح نازپرورد اور ہوش مند تھیں: کھانا ایک، کپڑا ایک، سب کام برابر۔ یہ نہیں کہ دلی لکھنؤ کی بیگموں کی طرح جابر کی بی بی بیٹیاں پلنگوں پر لدی بیٹھی رہیں اور ہل کر پانی تک نہ پئیں۔ کچھ ایک جابر پر کیا موقوف تھا؛ اس ملک کا دستور ہی ایسا ہے، کیسے ہی بڑے امیر کیوں نہ ہوں، کام کرنا عار نہیں سمجھتے۔ جابر تھا تو لٹیرا، مگر خوش حال تھا: سو اونٹ تو لدو[۳۰] تھے؛ ہزار کے قریب بھیڑ بکریاں رہی ہوں گی؛ یہی اس کا دھن دولت تھا؛ اور جو کبھی برس دو برس میں کچھ لوٹ ہاتھ لگ گئی تو علاوہ۔ بایں ہمہ اس کی اور اس کے گھر والوں کی زندگی نہایت سادگی اور بے تکلفی کے ساتھ تھی۔ ہر شخص سیر چشم، مہمان نواز[۳۱]، سخی، دلیر، محنتی، جفاکش[۳۲]، وعدے کا سچا اور قول کا پکا۔ ہرچند کہ یہ باتیں مدت تک نازپرورد کو عجیب معلوم ہوتی رہیں، مگر چونکہ سب میں نیکی کا پرتو[۳۳] تھا، رفتہ رفتہ نازپرورد ان کو پسند کرنے لگی، اور ہوش مند سے کبھی کبھی کہا بھی کرتی کہ "یہ جنگلی، بدو، وحشی ہیں، مگر بہت باتیں ان میں شہر والوں سے بہتر پائی جاتی ہیں۔"

ہوش مند: "ایک بات تو مجھ کو بھی اس ملک کی بہت پسند آئی ہے؛ وہ یہ کہ عورتوں کی اس طرف زیادہ قدر ہے۔"

نازپرورد: "آخر اس کا سبب کیا معلوم ہوتا ہے؟"

ہوش مند: "ایک تو یہ کہ عورتیں اپنی رائے سے شادی کرتی ہیں۔ اب دیکھیے، ضمیران کی باتیں ادھر ادھر سے آتی ہیں، اور ضمیران بے تامل ان میں گفتگو کرتی ہے۔ ہمارے ہندوستان میں اول تو لڑکیوں کو ایسی چھوٹی عمر میں بیاہ دیتے ہیں کہ ان کو ایسی باتوں کی تمیز ہی نہیں ہوتی؛ اور جو لڑکی بڑی عمر کی بھی ہو جائے تو اپنی شادی میں وہ کچھ بول نہیں سکتی؛ اس کو بے حیائی قرار دے رکھا ہے۔ دوسرے، عورتوں کی زیادہ قدر ہونے کا ایک بڑا سبب اور ہے، اور وہ یہ کہ نکاح کے بارے میں جیسی آزادی مردوں کو ہے، ویسی ہی عورتوں کو ہے۔ مرد یہاں کئی کئی نکاح کرتے ہیں؛ عورتوں کا بھی یہی حال ہے؛ طلاق یہاں عیب نہیں؛ دوسرا نکاح عورتوں کو یہاں منع نہیں۔ عذرا[۳۴] کا حال آپ کو معلوم ہے: یہ جابر ساتویں جگہ ہے؛ اور پھر دیکھیے، تمام گاؤں میں ساری بیبیاں عذرا کی کیسی عزت کرتی ہیں۔ نکاح کا تعلق اس ملک میں ایسا قوی تعلق نہیں ہے جیسا کہ ہمارے ملک میں ہے۔ تھوڑے تھوڑے سے مہر ہوتے ہیں؛ مرد ناخوش ہوا، فوراً طلاق دے دی؛ عورت ناراض ہوئی، جھٹ سے خلع[۳۵] کر لیا۔ پھر اب یہ نہیں، طلاق قن ہے تو کوئی اس کو عیب لگائے؛ نہیں، ہزاروں اس کے خواہاں، سینکڑوں اس کے طالب۔ ہمارے ہندوستان میں مردوں نے اپنی آزادی تو قائم رکھی؛ جس کو مقدور ہوا، دو دو تین تین چار چار بیبیاں کر لیتے ہیں؛ عورتوں پر قید ہے، کسی حالت میں دوسرا نکاح نہیں کر سکتیں۔ اس سبب سے مرد کے مقابلے میں عورت بہت دبی ہوئی ہے۔"

اس اثنا میں ضمیران کا نکاح بھی ٹھہر گیا۔ مغیرہ ان بدوؤں کا ایک سردار تھا؛ اس کے بیٹے ثابت سے بات قرار پائی۔ جابر کے گھر تو بڑی خوشیاں ہونے لگیں، مگر ہوش مند اور نازپرورد کے غم پھر تازہ ہو گئے؛ کیوں کہ جابر اسی نیت سے ہوش مند اور نازپرورد کو لایا تھا کہ اپنی بیٹیوں کے جہیز میں دے؛ سو اب ہوش مند اور نازپرورد کے ایک دوسرے سے جدا ہونے کا وقت آ پہنچا۔ جابر نے ضمیران کو اختیار دیا کہ ہوش مند اور نازپرورد سے جس کو پسند کرے، لے لے۔ ضمیران نے ہوش مند ہی کو لیا۔ ضمیران مزاج کی ایسی نیک تھی کہ اگر ہوش مند کہتی سنتی تو وہ اس کے عوض نازپرورد کو لے لیتی؛ مگر باوجودیکہ نازپرورد کی جدائی نہایت شاق تھی، ہوش مند نے ضمیران کے ساتھ اپنا ہی جانا مناسب سمجھا؛ اس واسطے کہ اتنی مدت جابر کے یہاں رہی، اور کسی وقت فکر آزادی سے غافل نہ تھی، مگر کوئی سبیل[۳۶] نہ نکلی؛ ہرچند کوئی وجہ امید کی نہ تھی، مگر ہوش مند کا دل اندر سے خود بخود گواہی دیتا تھا کہ مغیرہ کے گھر جا کر ضرور کوئی صورت رہائی کی نکلے گی؛ اور اس امید کو ہوش مند نے اس طرح وثوق[۳۷] کے ساتھ نازپرورد کے روبرو بیان کیا کہ اس کو بھی تسلی ہو گئی۔ ضمیران کا بیاہ ہوا تو وہ بھی سادہ اور بے تکلف: شرعی نکاح تھا، اور مہمانی اور جہیز کا سامان بھی اتنا مختصر کہ اگر جابر دہلی یا لکھنؤ میں ایسا مقدور رکھ کر یوں بیٹی کا بیاہ کر لیتا تو دنیا تھڑی تھڑی[۳۸] کرتی۔

غرض ضمیران ماں باپ سے رخصت ہو کر مغیرہ کے گھر آئی؛ ہوش مند ساتھ تھی۔ تھوڑے دنوں کے بعد کیا اتفاق ہوا کہ ہوش مند ثابت اور ضمیران کو کھانا کھلاتی تھی؛ ثابت کے ہاتھ پر جو ہوش مند کی نگاہ جا پڑی تو اس کو بعینہ اسی طرح کی انگوٹھی پہنے دیکھا جیسے حکیم صاحب پہنے رہا کرتے تھے۔ تا بدیر غور سے دیکھتی رہی؛ وہی حلقہ تھا، وہی نگینیں۔ ایک دو دفعہ موقع پا کر ثابت کے سونے کی حالت میں بھی ہوش مند نے اس انگوٹھی کو دیکھا، اور اچھی طرح یقین کر لیا کہ ضرور انگوٹھی ہے حکیم صاحب کے ہاتھ کی۔ اب اس بات کے درپے[۳۹] ہوئی کہ یہ انگوٹھی ثابت تک کیوں کر پہنچی۔ بدو بڑے لڑاکو ہوتے ہیں، اور چھوٹی چھوٹی بات میں کشت و خون پر آمادہ ہو جاتے ہیں۔ ضمیران کو سسرال گئے ہوئے تیسرا یا چوتھا مہینہ تھا کہ دفعتاً مغیرہ کے یہاں لڑائی کی تیاریاں ہونے لگیں، اور اس نے یہ صلاح کی کہ عورتوں کو شیخ بصرہ کے گھر پہنچا دے۔ یہ ایسی بات نہ تھی کہ ہوش مند کو اس کی وجہ معلوم کرنے میں کچھ دقت ہوتی؛ تھوڑی ہی تفتیش سے یہ امر دریافت ہوا کہ مغیرہ بدوؤں کے بڑے گروہ کا سردار ہے، اور وہ لوگ جہاں کہیں لوٹ مار کریں، مغیرہ کو گھر بیٹھے عشر یعنی دسواں حصہ بھیج دیتے ہیں۔ پار سال حج سے پہلے مدینے کی راہ میں ہند کا قافلہ لوٹا گیا تھا، اور اس لوٹ میں شداد نامی مغیرہ کے گروہ کا ایک شخص بھی شریک تھا۔ اس نے لوٹ میں سے جس قدر حصہ پایا تھا، اس کے عشر کے عوض ایک انگوٹھی، جو ثابت کے ہاتھ میں تھی، مغیرہ کو دی۔ اب چند روز ہوئے، مغیرہ کو یہ خبر پہنچی کہ شداد میر قافلہ کو بھی پکڑ لایا تھا اور اس کو غلام بنانا چاہا۔ وہ شخص پیر مرد تھا؛ اس نے کہا کہ "میں ضعیف ہوں، کار و خدمت کے لائق نہیں؛ مجھ کو غلام بنانے سے تجھ کو کیا حاصل ہو گا؟" تب اس سے یہ شرط کی کہ "تو مجھ کو ہزار درہم دے تو چھوڑ دوں۔" وہ پیر مرد ہندی طبیب بھی تھا؛ چنانچہ مکہ میں آ کر کچھ اپنے پیشے سے کمایا اور کچھ اپنے ہم وطنوں سے لیا، اور ہزار درہم شداد کو دیے۔ مغیرہ نے اس ہزار درہم کا عشر شداد سے مانگ بھیجا؛ شداد نے انکار کیا؛ اسی بات پر تکرار بڑھتے بڑھتے لڑائی ٹھہری۔ پہلے تو شداد نے اس ہزار درہم سے انکار کیا؛ مغیرہ کو پکی خبر ملی تھی کہ وہ طبیب ہندی ہنوز مکے میں ہے؛ اس نے اپنے دوست شریف مکہ کی معرفت دریافت کرایا تو ہزار درہم کا ملنا صحیح تھا۔ مغیرہ نے عشر کے لیے تنگ طلبی کی۔ اب تو ہوش مند کو حکیم صاحب کا ٹھیک ٹھیک پتہ مل گیا؛ نہایت خوش ہوئی، اور جی میں کہنے لگی: "ہائے، پر ہوتے تو اسی وقت اڑ کر جاتی اور نازپرورد کو خوش خبری سناتی!" حقیقت حال سنتے کے ساتھ ہوش مند دل میں منصوبے کرنے لگی کہ حکیم صاحب مکے میں ہیں تو وہاں سال در سال ہر طرف سے آدمی حج کو جاتے ہیں؛ کہلا بھیجنا کچھ مشکل نہیں۔ مغیرہ اور شداد میں جو لڑائی ہونے والی تھی، حج کے دن قریب آ جانے کی وجہ سے وہ بھی ملتوی ہو گئی۔

ہوش مند نے تحقیق کیا تو متوکل نامی ایک معلم مغیرہ کے گاؤں کا رہنے والا ہندی لوگوں کو مناسک[۴۰] حج کی تعلیم کے لیے ہر سال مکے جایا کرتا تھا۔ یہ شخص ایک طرح کا مجاور[۴۱] تھا؛ یلملم[۴۲] سے جہاز اترتے اترتے ہندیوں کو جا لیا اور دس میں گو حج کرا دیا؛ انھوں نے اس خدمت کے صلے[۴۳] میں جو کچھ دیا، وہی متوکل کی معاش تھی۔ متوکل بڑا نیک دل اور خدا پرست آدمی تھا، اور بدو اس کے زہد[۴۴] و صلاح کے بہت معتقد تھے، خصوصاً مغیرہ۔ ہوش مند جو کچھ مغیرہ کے گھر سے پاتی، اور اپنا پیٹ کاٹ کر، متوکل کے گھر دے آتی۔ رفتہ رفتہ جب ہوش مند نے متوکل سے اچھی طرح تعارف[۴۵] پیدا کر لیا، اور اس کی دین داری اور امانت پر اس کو اعتماد ہو گیا، تو اس نے متوکل سے کہا کہ "مجھ کو آپ سے ایک حاجت ہے؛ وہ یہ کہ آپ مکے جائیے تو شریف مکہ کے پتے سے ایک ہندی طبیب مسیح الملک کا پتہ لگا کر اتنا ان سے کہہ دیجیے گا کہ نازپرورد نے، جو بیر الاعراب[۴۶] میں جابر بدوی کے پاس ہے، آپ کو سلام کہہ دیا ہے۔" متوکل نے بہت وثوق کے ساتھ وعدہ کیا کہ "ان شاء اللہ تعالیٰ تمہارا یہ پیام میں ضرور ضرور مسیح الملک تک پہنچا دوں گا۔" غرض یہ جاتے کے ساتھ متوکل نے مسیح الملک کو ڈھونڈا تو جلدی سے پتہ مل گیا؛ اس واسطے کہ مسیح الملک خود شریف مکہ کے ہاں معالج تھے۔ جوں ہی مسیح الملک نے نازپرورد کا نام سنا، بے اختیار آنکھ سے آنسو نکل پڑے۔ متوکل چونکہ خدا پرست آدمی تھا، مسیح الملک کو روتے دیکھ کر پوچھنے لگا کہ "آپ کی مصیبت میں مجھ سے کچھ مدد ہو سکے تو ان شاء اللہ میں دریغ نہ کروں گا۔" تب مسیح الملک نے اپنے لوٹے جانے اور قید رہنے کا قصہ بیان کر کے کہا کہ "نازپرورد مجھ ہی بدبخت کی بیٹی ہے؛ آپ مجھ کو صرف اتنی بات بتائیے کہ اس کی رہائی کی عمدہ تدبیر کیا ہے۔" متوکل نے کہا کہ "تمام اعراب[۴۷] اگرچہ خود سر ہیں، مگر شریف مکہ کا ادب کرتے ہیں؛ اگر شریف ساعی[۴۸] ہو تو آپ کی بیٹی کی رہائی بہت سہل ہے۔" مسیح الملک یہ سن کر بہت خوش ہوئے، اور فوراً شریف مکہ سے جا کر عرض حال کیا۔ شریف مکہ نے اسی وقت نامہ[۴۹] لکھ دیا، اور اپنا خاص خادم مسیح الملک کے ساتھ کر دیا۔ مسیح الملک خادم شریف کو ساتھ لے بیر الاعراب میں گئے، اور جابر کو شریف کا نامہ دیا۔ جابر نے خط پڑھتے کے ساتھ مسیح الملک کو بہت خاطرداری کے ساتھ اپنے گھر میں لے جانا چاہا؛ مسیح الملک نے تامل کیا۔

جابر: "یہ امر ہرگز قرین انصاف نہیں ہے کہ آپ کی بیٹی برس روز میرے اہل و عیال میں داخل رہے، اور میں اس کے ناموس[۵۰] کا حافظ[۵۱] رہوں، اور آپ کو اجنبی[۵۲] سمجھوں۔"

غرض جابر مسیح الملک کو گھر کے اندر لے گیا۔ نازپرورد باپ کو دیکھتے ہی دوڑ، قدموں سے لپٹ گئی؛ اور جدائی کے حالات جو دونوں کو یاد آئے، تو بیٹی باپ دونوں ایسی دھاڑیں مار مار کر روئے کہ جابر کے گھر بھر کے دل ہل گئے۔ شعر:

وہ رو رو کے اس طرح دونوں ملےکہ جس طرح ساون[۵۳] سے بھادوں ملے

نازپرورد نے تھمتے کے ساتھ اپنی والدہ کی خیریت پوچھی۔ مسیح الملک: "تمہاری مفارقت[۵۴] میں زندہ درگور[۵۵] ہے۔" پھر ہر ایک نے اپنی اپنی مصیبت کا تذکرہ کیا۔ مسیح الملک پر متوکل سے نازپرورد کا سلام اور پتہ سن کر ایک شادی مرگ[۵۶] کی حالت طاری ہو گئی تھی؛ اس وقت اس نے متوکل سے کچھ اور نہیں پوچھا؛ اس واسطے مسیح الملک کو اس وقت تک ہوش مند کا حال معلوم نہیں تھا؛ بلکہ جب اس نے ہوش مند کو نازپرورد کے پاس نہیں پایا تو یہ جانا کہ شاید وہ کہیں اور ہو گی۔ نازپرورد نے مسیح الملک سے پوچھا کہ "میرا پتہ آپ کو کیوں کر معلوم ہوا؟"

مسیح الملک: "مجھ سے متوکل نامی ایک معلم نے تمہارا سلام اور پتہ بیان کیا۔"

نازپرورد: "میں متوکل کے نام سے بھی واقف نہیں۔ شاید خدا تعالیٰ نے میری مصیبت پر رحم کر کے رجال الغیب[۵۷] میں سے کسی کو آپ کے پاس بھیجا ہو، یا ہوش مند یہاں تھی، اس نے کسی سے کچھ تذکرہ کیا ہو، مگر مجھ کو معلوم نہیں۔"

مسیح الملک: "ہوش مند بھی تمہارے ساتھ تھی؟"

نازپرورد: "شروع سے؛ وہ تو اب پانچواں مہینہ ہے کہ جابر کی بیٹی ضمیران کے جہیز میں دی گئی، اور اس کے ساتھ روانہ ہو گئی۔"

مسیح الملک: "ضمیران کہاں بیاہی گئی؟"

نازپرورد: "یہاں سے چھ سات منزل کوئی مقام عمرانہ ہے؛ وہاں مغیرہ کے بیٹے ثابت سے۔"

مسیح الملک: "متوکل کا سخت عجب ہے۔"

نازپرورد: "فی الواقع عجب ہے۔ جابر سے پوچھیے، شاید کوئی شخص بیر الاعراب میں اس نام کا ہو۔" مسیح الملک نے جابر سے پوچھا تو اس نے کہا: "یہاں تو نہیں؛ عمرانہ میں ایک معلم ہے۔" تب تو مسیح الملک اور نازپرورد کو یقین ہوا کہ اس کی رہائی میں ہوش مند نے تحریک کی ہے۔ تب نازپرورد نے ہوش مند کی وفاداریاں اور اس کے احسان اور دل جوئیاں سب مسیح الملک سے بیان کیں۔ مسیح الملک نے دل میں کہا کہ ہرگز اقتضائے حمیت و مروت نہیں کہ میں نازپرورد کو لے جاؤں اور ہوش مند کی رہائی میں سعی نہ کروں۔ یہ سوچ، اس نے عمرانہ جانے کا ارادہ کیا، اور جابر سے منزلوں کا حال پوچھنے لگا۔ جابر نے کہا کہ "آج شام تک ایک قاصد عمرانہ سے آنے والا ہے؛ اس سے ٹھیک حال معلوم ہو گا۔" گھڑی بھر رات گئے قاصد آیا، اور ہوش مند بھی اس کے ساتھ تھی۔ مسیح الملک کو دیکھتے ہی سر قدموں پر رکھ دیا۔ مسیح الملک نے پوچھا تو اپنا حال بیان کیا کہ "متوکل جب حج سے واپس آیا تو میں نے اپنے پیام کا حال اس سے پوچھا؛ معلوم ہوا کہ آپ ملے اور چھوٹی بیوی (نازپرورد) کی رہائی کی تدبیر ہو گئی، اور شریف مکہ کا نامہ لے کر آپ بیر الاعراب روانہ ہوئے۔ متوکل نے مجھ سے آپ کا ماجرا پوچھا؛ میں نے شروع سے آخر تک بیان کیا۔ تب اس نے مجھ سے پوچھا کہ 'تو نے اپنی رہائی کی کچھ فکر نہ کی؟' میں نے جواب دیا کہ 'مجھ کو رہائی کی ضرورت نہیں؛ میں تو جنم کی کنیز ہوں؛ جن کو ضرورت ہے، خدا ان کو نصیب کرے۔' متوکل کو نہیں معلوم کیا سوجھی، اور کیا مغیرہ سے کہا؛ غرض مجھ کو آزاد کر دیا۔ میں نے کہا: 'میں یہ احسان اپنے سر نہیں لے سکتی تا وقتیکہ اپنی بیوی کو آزاد نہ دیکھ لوں۔' یہاں قاصد آنے والا تھا؛ مجھ کو اس کے ساتھ کر دیا۔" یوں خدا نے نازپرورد اور ہوش مند دونوں کی رہائی کی اور مسیح الملک ہنسی خوشی دونوں کو ساتھ لے جابر سے رخصت ہوئے۔ مسیح الملک نے ہوش مند کو بیٹی اور نازپرورد نے اس کو اپنی بہن بنایا۔

کہانی ختم ہوئی تو سب لڑکیوں نے تعریف کی کہ "سبحان اللہ! بڑی عمدہ اور بڑی مزے کی کہانی ہے؛ ہزار آفریں ہے ہوش مند کی ہوشیاری اور وفاداری پر۔" حسن آرا: "عرب میں تو لوگ حج کرنے جاتے ہیں؛ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ دین داری کا چرچا زیادہ ہے؛ پھر بدوؤں نے ان بے چاروں کو ناحق کیوں لوٹا، اور پرائی بہو بیٹیوں کو پکڑ کر کس طرح لونڈی بنایا؟"

استانی جی: "کلثوم، تم نے عرب کا جغرافیہ، عرب کی تاریخ بہت کچھ پڑھی ہے؛ وہاں کا کچھ حال تو حسن آرا بیگم کو سناؤ۔"

حواشی

[۱] ان پر خدا کی رحمت۔

[۲] یہ جو ہرے درختوں کے پتے دیکھتے ہو، انھیں کا ایک ایک پتا ہوشیار آدمی کی نظر میں خدا کی پہچان کا ایک دفتر ہے۔

[۳] جستجو، تلاش۔

[۴] [illegible: footnote partly cut off at the foot of the scan]

[۵] موقوفی۔

[۶] پرورش۔

[۷] لونڈی۔

[۸] پیچھا اور آگا؛ مراد انجام۔

[۹] بادشاہ۔

[۱۰] مظلوموں۔

[۱۱] [illegible: footnotes cut off at the foot of the scan]

[۱۲] [illegible]

[۱۳] [illegible]

[۱۴] [illegible]

[۱۵] سنبھالے رہتی۔

[۱۶] یعنی نازپرورد نے ہوش مند کی شان میں اور بھی الفاظ ناملائم کہے، مگر وہ لکھے نہیں گئے۔

[۱۷] بے نکیل کا اونٹ۔

[۱۸] قیمتی موتی۔

[۱۹] جدہ عربی میں دادی کو کہتے ہیں، اور جدہ ہمارے حساب سے سمندر پار عرب کا پہلا شہر ہے؛ ہندوستان سے جو لوگ حج کو جاتے ہیں، ان کا جہاز جدے میں جا کر لگتا ہے؛ چونکہ وہاں اماں حوا کی قبر ہے [illegible: rest of footnote cut off]

[۲۰] جابر کی دونوں بیٹیوں کے نام ہیں۔

[۲۱] فقیر کا غصہ فقیر کی جان پر؛ یعنی فقیر دوسرے کا تو کچھ نہیں کر سکتا، بس وہ غصہ کرے گا تو اپنے ہی تئیں کو مارے گا۔

[۲۲] یعنی اس کو اس قدر رنج ہوتا تھا کہ گویا کلیجہ نکلا چلا آتا ہے۔

[۲۳] بے قرار ہو گئی، پھڑک گئی۔

[۲۴] یہ ایک مثل ہے؛ تقدیر سے پتھر بھی گرا تو کمبخت بھاری بوجھل کہ اٹھائے نہ اٹھے۔

[۲۵] زور، طاقت۔

[۲۶] سخت محنت کرتی۔

[۲۷] ذلیل۔

[۲۸] دوسروں کا ہاتھ دیکھنے والی۔

[۲۹] آرزو۔

[۳۰] بوجھ لادنے کے۔

[۳۱] [illegible: footnotes cut off at the foot of the scan]

[۳۲] [illegible]

[۳۳] [illegible]

[۳۴] [illegible]

[۳۵] عورت جب مرد سے ناراض ہو کر نکاح فسخ کرا لے تو اس کو خلع کہتے ہیں۔

[۳۶] راہ۔

[۳۷] اعتماد سے، پکے طور پر۔

[۳۸] [illegible: footnotes cut off at the foot of the scan]

[۳۹] [illegible]

[۴۰] رسمیں اور دستور۔

[۴۱] بزرگوں کے مزاروں کے خادم مجاور کہلاتے ہیں۔

[۴۲] ایک پہاڑ کا نام ہے جہاں سے ہندوستان کے لوگ احرام باندھتے ہیں۔

[۴۳] [illegible]

[۴۴] پرہیزگاری اور نیکی۔

[۴۵] جان پہچان۔

[۴۶] اس گاؤں کا نام ہے جس میں جابر کا گھر تھا۔

[۴۷] بدو۔

[۴۸] کوشش کرے۔

[۴۹] خط۔

[۵۰] آبرو۔

[۵۱] نگہبان۔

[۵۲] غیر، اوپری۔

[۵۳] ساون بھادوں برسات کے دو مہینے ہیں؛ دونوں کے سنجوگ میں اکثر بہت پانی برستا ہے۔

[۵۴] جدائی۔

[۵۵] جیسے جی گور میں۔

[۵۶] حد سے زیادہ خوشی جس میں آدمی کے مر جانے کا احتمال ہو۔

[۵۷] فرشتے جو مصیبت کے وقت [illegible: rest of footnote cut off]

Que vous laisse ce chapitre ?

Connectez-vous pour réagir

Discussion

Personne n’a encore parlé. Dites ce que ce chapitre a remué en vous.

Ce chapitre vous a plu ? Partagez-en une ligne.