Urdu in Translation
Recherche

Chapitre 15 sur 22

A Judgement between Townspeople and Villagers

اہل شہر اور دیہاتیوں کا محاکمہ

Deputy Nazir Ahmad

Écriture
Taille

اہل شہر اور دیہاتیوں کا محاکمہ جس میں دونوں کی طرز زندگی کا مذکور ہے اور ہر ایک کو اس کے عیب پر متنبہ کر دیا ہے، اور گفتگو اور وضع اور حالت اور ذات اور ہنر پر بحث کر کے نصیحت کی بہت باتیں نکالی ہیں

استانی جی: "بھلا تم لوگوں میں تکرار شروع کس بات پر ہوئی تھی؟"

حسن آرا: "بات تو اتنی تھی کہ میں نے خیر النسا سے پوچھا، تمہارے گھر ہوا کیا کرتا ہے؛ یہ بیوی صاحب لگیں عورتوں کے کام گنوانے؛ میں نے دوہرا کر پوچھا تو مردوں کا قصہ نکال بیٹھیں؛ تیسری بار پوچھا تو ذرا آپ بھی دیکھیے، کہتی کیا ہیں: دن کو دن، رات کو رات۔"

استانی جی سن کر مسکرانے لگیں اور کہا، "سنو بوا، خاصا جواب ترکی بہ ترکی دیا۔ تم کو یوں پوچھنا تھا کہ وجہ معاش کیا ہے، یا تمہارے باپ بھائی کیا پیشہ کرتے ہیں۔"

خیر النسا: "ان کا مطلب میں سمجھ گئی تھی، مگر ان کو اپنی گفتگو پر اترانا تھا؛ ان کے قائل کرنے کو میں بھی بات پر اڑ بیٹھی تھی۔"

حسن آرا: "خیر، اب فرمائیے، آپ کی وجہ معاش کیا ہے؟"

خیر النسا: "زمین داری اور کھیتی؛ اور غدر کے بعد سے کنبے کے دو چار آدمی نوکری بھی کرنے لگے ہیں۔"

حسن آرا: "بھلا سچ کہنا، تم کو شہر میں رہنا بھلا معلوم ہوتا ہے یا گاؤں میں؟"

خیر النسا: "سچ تو یہ ہے کہ شہر میں میرا جی خوب نہیں لگتا۔ اگر اس مکتب کا سہارا نہ ہوتا تو مجھ سے شہر میں ایک دن بھی نہ ٹھہرا جاتا۔"

حسن آرا: "آخر تم کو شہر میں تکلیف کس بات کی ہے؟ کیا کھیلنے اور بات کرنے کو محلے میں لڑکیاں نہیں؟"

خیر النسا: "لڑکیاں تو اتنی ہیں کہ شاید شہر بھر میں اتنی لڑکیاں نہ ہوں گی جتنی اکیلی شاہ تارا کی گلی میں ہیں؛ صبح سے شام تک ایک تانتا لگا رہتا ہے: یہ آئی، وہ آئی۔"

حسن آرا: "پھر تو گھبرانے کی کوئی وجہ نہیں؟"

خیر النسا: "ان لڑکیوں سے میری طبیعت میل نہیں کھاتی۔ شہر کے لوگوں میں [illegible: the last line of the page is cut off in the scan] بدل ہی تو جاتے ہیں، گویا کبھی کی جان پہچان نہ تھی۔ بادشاہ بیگم کو تو تم بھی خوب جانتی ہوگی؛ ہمارے مکان سے اس کا مکان ملا ہے۔ وزیر بیگم، ان کی چھوٹی بیٹی، نے مجھ سے ایسا پیار اخلاص بڑھایا کہ رات دن میں ایک دم کو الگ نہ ہوتیں۔ خانم کے بازار میں داروغہ مصاحب السلطان کے گھر شادی تھی؛ ہم لوگوں کو بھی بلاوا آیا؛ اور بادشاہ بیگم تو داروغہ کی سگی پھوپھی کی بہن ہیں؛ ان کا تو گھر بھر ہفتوں پہلے سے مہمان تھا۔ وزیر بیگم جب جانے لگیں تو زبردستی مجھ کو ساتھ لیے جاتی تھیں؛ پالکی پر سوار ہوتے ہوتے ہاتھ پکڑ لیا کہ میرے ساتھ چلو؛ مگر بڑی مشکل سے میں نے ان کو سمجھایا کہ ہم لوگوں سے اور داروغہ جی سے دور کا واسطہ ہے، بن بلائے جانا مناسب نہیں۔ جب شادی کے تین دن رہے تو میں بھی گئی۔ وزیر بیگم اپنی سہیلیوں کو لیے بیٹھی تھیں؛ مجھے اترتی کو انہوں نے دیکھا بھی، مگر جگہ سے ہلیں تک نہیں۔ میں نے سمجھا، کھیل میں دھیان ہے، نہ خیال کیا ہوگا۔ اترنے کے ساتھ میں گھر والوں کے پاس تک بھی نہ گئی، سیدھی وزیر بیگم کی طرف چلی۔ گھڑیوں پاس کھڑی رہی؛ اس خدا کی بندی نے آنکھ اٹھا کر بھی تو نہ دیکھا۔ اپنا سا منہ لے کر میں سامنے کے دالان میں، جہاں ہمارے ساتھ کے لوگ ٹھہرے تھے، جا بیٹھی۔ چھوٹی آپا نے مجھ کو چھیڑا بھی کہ اترتے کے ساتھ تیر کی طرح گئی تو تھیں، اے، پھٹے منہ اس نے بات بھی نہ پوچھی۔ یہ سن کر اس قدر مجھ کو شرمندگی ہوئی کہ پسینے پسینے ہو گئی، اور اپنے دل میں کہتی تھی کہ یہ وہی وزیر بیگم ہیں؟ کیا ان کو کیا ہے؟ تھوڑی دیر بعد مجھ کو پیاس سی معلوم ہوئی۔ شہ نشین[۱] میں ایک کوری صراحی رکھی تھی؛ میں نے جانا کہ گھر والوں نے مہمانوں کے واسطے رکھوا دی ہے؛ بڑے جلدی سے اٹھ، اس میں سے پانی پی لیا؛ تو وزیر بیگم لال پیلی ہو کر کیا کہتی ہیں: 'کیوں، تو نے ہمارے پینے کی صراحی سے پانی بے پوچھے پیا؟' یہ کہہ کر صراحی کو فرش پر پٹک دیا۔ تمام مہمان دیکھنے لگے، اور بھرے مجمع میں مجھ کو فضیحت کیا۔"

استانی جی: "وزیر بیگم کے ناحق بگڑ بیٹھنے کا سبب بھی کچھ تم نے دریافت کیا؟"

خیر النسا: "بہتیرا سوچا، کچھ سمجھ میں نہ آیا؛ کوئی بات ہوئی ہو تو سمجھ میں آئے۔"

محمودہ: "میں اس کا سبب بتاؤں؛ میں بھی وزیر بیگم کے مزاج سے خوب واقف ہوں۔ ان کو محلے میں اپنے میل کی لڑکیاں کھیلنے اور بات کرنے کو نہیں ملتیں؛ اس ضرورت سے انہوں نے تم سے ملاپ کیا۔ وہاں شادی میں ان کو اپنے جیسی امیر زادیاں مل گئیں؛ تم سے ملنا عار سمجھیں۔"

خیر النسا: "ان کو مجھ سے صرف شادی میں ملنا عار تھا، اور مجھ کو ان سے ملنا ان شاء اللہ عمر بھر عار رہے گا۔"

استانی جی: "کچھ عجب طرح کا معاملہ ہے؛ اکثر امیر مغرور ہوتے ہیں اور سب کو اپنے سامنے ہیچ سمجھا کرتے ہیں۔ دولت بھی بہت بری چیز ہے؛ آدمی کو شیطان بنا دیتی ہے۔ کسی نے کیا خوب کہا ہے:"

نشۂ دولت کا بد اطوار کو جس آن چڑھاسر پہ شیطان کے اک اور بھی شیطان چڑھا

حسن آرا: "بھلا خیر، وزیر بیگم اگر تمہارے ساتھ بری طرح پیش آئیں تو انہوں نے بڑی نالائقی کی بات کی؛ محبت ملاپ میں امیری غریبی سے کیا بحث باقی رہی؟ [illegible: the last line of the page is cut off in the scan] رسموں کی خوبی، یہ باتیں تو تم نے ضرور ہی پسند کی ہوں گی۔"

خیر النسا: "اس میں شک نہیں کہ کبھی شہر والوں کی شادی میں مجھ کو شریک ہونے کا اتفاق نہیں ہوا تھا، اور یہی شوق مجھ کو لے بھی گیا تھا؛ مگر انجام کار کچھ دل کو فرحت حاصل نہ ہوئی۔ خدا جھوٹ نہ بلوائے، ہزاروں ہی عورتیں جمع تھیں؛ مگر غور سے دیکھا تو سب ایک رنگ میں تھیں؛ جس کو دیکھا، شیخی اور نمود کی تصویر پایا۔ اتنے مہمان گھر میں بھرے تھے؛ سب تو امیر تھے ہی نہیں؛ جس کو خود مقدور نہ تھا، کرائے کے کپڑے، مانگے کے زیور، بنائے ہوئے نوکر ساتھ لایا تھا، اور اسی پر اترا رہا تھا۔ ایک بیوی ریشمی موزے دکھانے کی غرض سے گھٹنوں تک پائنچے اٹھائے چلی آ رہی ہیں؛ دوسری گرمی کے بہانے گلا کھول کھول کر زیور دکھا رہی ہیں؛ تیسری بے تکلف سر کھولے بیٹھی ہیں تاکہ چوٹی کی بندش، موباف کی قطع پر لوگوں کی نظر پڑے۔ ایک صاحبہ نے پازیب کی آواز سنانے کو گھڑی بھر میں، خدا جھوٹ نہ بلوائے، کوئی پچاس بیٹھکیں بدلی ہوں گی۔ یہ تو ان بیویوں کا حال تھا جن کے پاس کوئی چیز اپنی یا مانگے کی تھی اور اس کو جان جان کر دکھاتی تھیں؛ اور بعضیاں خالی خولی بھی اتراتیاں تھیں۔ ایک بیوی موٹی ململ کا دوپٹہ اوڑھے بیٹھی تھیں؛ آپ ہی آپ، کوئی پوچھے نہ گچھے، کیا کہتی ہیں: 'اے، دیکھنا بوا، بنارس کے سیاہ کامدار دوپٹے کا بھی رنگ کتنا ہے؛ بوندا باندی کی ذرا کندھے پر ڈالا تھا، تمام کپڑوں میں دھبے پڑ گئے؛ جلدی سے میں نے اتار پھینک دیا۔' ایک بیوی زیور میں لدی بیٹھی ہیں، اور ایک بیچاری غریب ان سے باتیں کر رہی تھیں؛ وہ بیوی، جن کو میں بیچاری سمجھتی تھی، کہتی کیا ہیں کہ 'دیکھنا، میرے کانوں کا کچھ ایسا جینا گوشت خدا نے بنایا ہے کہ مطلق زیور کو نہیں سہار سکتے؛ جڑاؤ بالی پتے، مگر مرکیاں میں نے ذرا کی ذرا ڈالی تھیں کہ دکھنے لگے؛ ایسا معلوم ہوا کہ اب کٹ پڑیں گے؛ ناچار سادی بالیاں پہنیں۔' ان سے بھی سوچ سمجھ کر کیا ہوئے ہیر نے کہا، 'پھٹ پڑے[۲] وہ سونا جس سے ٹوٹیں کان؛ کہیں ایسا نہ ہو، ٹینٹ پڑ جائیں، انار رکھے۔' غرض جس کو دیکھا، شیخی کے مرض میں مبتلا پایا۔ آپس میں جو بیویاں باتیں کر رہی تھیں، کسی کی غیبت، کسی کی شکایت؛ اس کے سوائے کچھ مذکور نہ تھا۔ جتنی تھیں، کپڑوں کے رنگ اور تراش خراش اور وضع داری؛ بس اسی میں محو تھیں۔ شادی کی خبر سن کر بیچارے غریب غربا بھی مانگنے چلے آئے تھے؛ اتنا سامان تھا کہ دن رات دیگیں کھڑکتی تھیں، مگر شاید ایک چاول خدا کے نام کسی غریب کو نہیں ملا۔ منوں کھانا ضائع ہوا، چوری گیا، رکھا رکھا سڑ گیا، مگر نہ دیا تو محتاج کو۔ دینے کی جگہ غریبوں کو دھکے اور گالیاں دی جاتی تھیں۔ ایک بیچاری بڑھیا بھیک مانگنے، نہیں معلوم کس طرح، اندر محل میں چلی آئی تھی؛ نیچے کا دھڑ رہ گیا تھا؛ خدا جانے بیچاری کس مصیبت سے گھسٹتی گھسٹتی آئی ہوگی۔ گھنٹوں انگنائی میں پڑی چلایا کی، مگر کسی نے بات بھی نہ پوچھی۔ سب اپنے اپنے کھانے میں لگے رہے، اور میرا یہ برا حال کہ بڑھیا کی آواز کان میں چلی آئے اور لقمہ حلق سے نہ اترے۔ پہلے تو میں دیکھتی رہی کہ اب بھی کوئی گھر والی اس بڑھیا کی کچھ خبر لے؛ جب بہت دیر ہو گئی اور کسی نے بات تک نہ پوچھی تو ایک خمیری روٹی میں ایک مٹھی چاول رکھ، اپنے چھوٹے بھائی احمد کو دیے کہ جاؤ، وہ بڑھیا انگنائی میں بیٹھی ہے، اس کو دے آؤ۔ جوں ہی احمد روٹی لے کر اٹھا، ان بیوی کی نظر پڑی جو ہم لوگوں کو کھانا کھلا رہی تھی۔ خدا جانے وہ کون بیوی تھیں، مگر گھر والوں کے پاس کے رشتے کی ہوں گی؛ انہوں نے دوڑ، احمد کے ہاتھ سے چھپٹا مار، روٹی چھین لی اور بولیں، 'کچھ خدا کا بھی خوف ہے؟ دسترخوان پر آنکھوں دیکھتے یہ غضب؟'

میں بولی، 'خدا ہی کا خوف کھا کر میں نے یہ روٹی اس فقیرنی کو دینے بھیجی تھی۔' تب وہ بیوی کیا کہتی ہیں، 'حلوائی کی دکان پر دادا جی کی فاتحہ! بیوی، تم کو ایسا ہی خدا کا خوف ہے تو گھر جا کر لنگر بانٹنا۔'

مجھ کو جو ایسی سخت بات کہی تھی، اس کا تو مجھ کو کچھ بھی رنج نہیں؛ مگر میرے سبب سے بڑھیا غریب کی جو شامت آئی، اس کا مجھ کو اب تک صدمہ ہے۔ اس بیوی نے جو بیچاری فقیرنی کو دیکھا، لونڈیوں پر اس قدر خفا ہوئیں کہ خدا کی پناہ، اور چلائیں: 'نکالو، نکالو اس مردار بڑھیا کو! کس نے اس کو یہاں آنے دیا؟' لونڈیوں نے بے تامل بڑھیا کو گھسیٹ، دروازے کے باہر ڈال دیا۔ میری یہ کیفیت تھی کہ جی چاہتا تھا اس بیوی کا منہ نوچ لوں، مگر کیا کر سکتی تھی؟ دسترخوان پر سے تو میں اسی وقت اٹھ کھڑی ہوئی۔ شربت پلائی[۳] میں دینے کے لیے ایک چونی میرے پاس تھی؛ وہی چونی میں نے احمد کے ہاتھ بڑھیا کو بھیج دی، اور اس کو اپنے مکان کا پتہ بتا دیا، اور فوراً ڈولی منگا، اپنے گھر چلی آئی۔"

استانی جی: "کیا اتنے مہمانوں میں کوئی بھی ایسا نہ تھا کہ اس کو بڑھیا کی حالت پر رحم آیا ہو؟" خیر النسا: "جناب، رحم کیسا؟ جب لونڈیاں اس کو گھسیٹنے لگیں، سب کے سب ٹھٹھے مار مار کر ہنس رہے تھے؛ کھانے کے بعد لڑکیوں نے بڑھیا کی نقل کا کھیل بنایا۔"

حسن آرا: "فقیرنیاں اکثر مکار بھی ہوتی ہیں؛ لوگوں کو دھوکا دینے کی غرض سے اندھی بن جائیں، لنگڑی، لولی، اپاہج ہو جائیں۔"

استانی جی: "اگر ایسا شبہ کیا کریں تو اصلی محتاج بھی محروم رہ جائیں، اور خیرات کا سلسلہ منقطع[۴] ہو جائے۔ دینے والے کو اتنی تفتیش[۵] سے کیا مطلب؟ اور مانگنا تو بڑے شرم کی بات ہے؛ کوئی آدمی بے ضرورت سوال نہیں کرتا؛ آخر کو جو مکر کر کے مانگتے ہیں، ان کو بھی حاجت نے مجبور کر رکھا ہے۔"

حسن آرا: "کیوں؟ بعضے بے حاجت بھی مانگتے پھرتے ہیں؛ غیرت باقی نہیں رہی؛ کمانے کے لیے بھیک سے زیادہ کوئی سہل تدبیر نہیں۔ ہمارے محلے میں چند روز ہوئے ایک فقیرنی مری تھی؛ نہیں معلوم کتنی اشرفیاں، کے منڈے روپے اس کی کوٹھڑی میں سے نکلے۔ بس کیا حاجت اس سے بھیک منگواتی تھی؟ نہیں، بلکہ طمع۔"

استانی جی: "بھلا طمع سے کوئی فرد بشر خالی ہے؟"

حسن آرا: "طمع تو سب کو ہے، مگر طمع[۶] والوں کی مدد کرنا کچھ ضرور نہیں۔"

استانی جی: "ایسا نہ ہو کہ خداوند کریم، جو سب کو دیتا ہے، اس قاعدے کا برتاؤ کرے۔ البتہ حاجت مند کا حق مقدم ہے؛ بہتر ہے کہ جن کو واقع میں حاجت ہو، ان ہی کو دیا جائے؛ مگر نہ دینے کے لیے خواہ مخواہ ہر ایک پر بے وجہ شبہ بھی مت کرو؛ بے تحقیق دینے سے یہی نا کہ بعض بے استحقاق لے جائیں گے، مگر اس زمرے[۷] میں سینکڑوں مستحق بھی تو پا جائیں گے۔ اکثر اس قسم کی حجتیں وہ لوگ نکالا کرتے ہیں جن کو خدا کے نام دینا منظور نہیں ہوتا۔"

حسن آرا: "کیوں بوا خیر النسا، یہ عیب جو تم شہر والوں میں بتاتی ہو، کیا گاؤں میں نہیں ہوتے؟ دیہات میں سب اللہ کے ولی ہی تو بستے ہیں؟"

خیر النسا: "نہیں، اچھے برے سب ہی جگہ ہوتے ہیں؛ گاؤں شہر پر کیا موقوف ہے۔ مگر اتنا تو میں کہہ سکتی ہوں کہ گاؤں والوں میں اتنی شیخی، اتنی نمود، اتنی ظاہر داری ہرگز ہرگز نہیں ہوتی۔"

حسن آرا: "بھلا شہر والوں کے مزاج خراب سہی، مگر شہر والوں کی وضع کیا ہی مطبوع[۸] وضع ہے!"

خیر النسا: "کچھ آپ ہی کے نزدیک شہر والوں کی وضع مطبوع ہوگی؛ پردہ داری تو بالکل نہیں۔ یہ احمد میرا چھوٹا بھائی نہیں ہے؟[۹] اس نے شہر کے لڑکوں کو دیکھا، بھی سر پر بال رکھنے تھے؛ اب یہ بلا کا اہتمام ہے کہ دوسرے دن آنولوں سے سر دھویا جاتا ہے؛ دن میں دس دس مرتبہ کنگھی ہو رہی ہے؛ صبح و شام تیل ڈالا جاتا ہے، جب تک بال چھوڑے ہی کہیں شلجموں کے پانی سے سر دھلتا ہے، کہیں ماش کی دال ملی جاتی ہے۔ اماں کہتی بھی تھیں کہ جس دن تیرا باپ آیا، کھڑے کھڑے تیرا سر منڈا کر رہے گا؛ جتنا بناؤ سنگار تجھ سے کرتے بن پڑے، کر لے۔ آخر تو یہ بال نائی کے گھر جائیں ہی گے۔ آگرہ جاتے ہوئے خدا کا کرنا، ابا بھی آ موجود ہوئے۔ میاں احمد کو دیکھو تو ہر دم عمامہ[۱۰] سر پر بندھا ہے کہ کہیں بال نہ دیکھ لیں؛ مگر بانکپن تو سر پر سوار تھا، چھپے کیونکر؟ ابا نے دیکھ ہی لیے؛ بہت خفا ہوئے کہ مردود، شہر والوں کی طرح تو بھی زنخا[۱۱] بنے گا! کیسا حجام، کس کا نائی؛ قلمدان سے مقراض نکال، اپنے ہاتھوں سے بالوں کا ڈھیر لگا دیا۔ اب میاں احمد ہیں کہ گنجا سر لیے ہوئے چلے جاتے ہیں۔ اس کے بعد اماں سے کہا کہ پڑھوانے کے لالچ سے تم لڑکوں کو یہاں لائی تو ہو، مگر ایسا نہ ہو کہ ان کو شہری عنڈو بنا کر لے جاؤ۔ دیکھو، خبردار، خیرن[۱۲] کو شہر کی لڑکیوں میں مت بیٹھنے دینا۔ شہر کے مردوں کی وضع تو خیر، عورتوں کی وضع نعوذ باللہ[۱۳] بالکل خلاف شرع اور خلاف حیا ہے۔"

استانی جی: "تمہارے ابا نے بہت ٹھیک کہا؛ مگر دیکھو بوا خیر النسا، مجھ کو شہر والیاں چھیڑتی بھی ہیں، لیکن میں ان کی وضع کی تقلید[۱۴] نہیں کرتی۔"

خیر النسا: "جناب، آپ اپنے تئیں ناحق شہر والوں میں گنتی ہیں؛ نہ شہر والوں کا سا آپ کا مزاج، نہ شہر والوں کی سی آپ کی عادت۔ آپ تو دیہاتیوں سے بھی زیادہ پردہ دار کپڑا پہنتی ہیں؛ آپ کی دیکھا دیکھی تو میری اماں بڑی آستینوں کی کرتی پہننے لگی ہیں۔"

استانی جی: "لو حسن آرا بیگم! یہ تو بڑی بے جا بات ہے کہ خیر النسا شہر والوں میں عیب پر عیب نکالتی جاتی ہیں۔"

حسن آرا: "کیا بتاؤں، مجھ کو دیہاتیوں کے حال سے خوب واقفیت نہیں، ورنہ ابھی ہفتاد پشت تک اکھاڑ کر رکھ دیتی۔ اور ذرا آپ ان شہر کی لڑکیوں کو دیکھیے؛ یہ جو کچھ بوچھاڑ ہو رہی ہے، کوئی ہوں بھی کرتی ہے؟ کیسی دم بخود[۱۵] بیٹھی سن رہی ہیں!"

محمودہ: "بھلا بوا خیر النسا! شہر بانو، ذرا خیر النسا کو میری ایک بات کا پہلے جواب دے لینے دیجیے۔ کیوں بوا خیر النسا، گفتگو شہر والوں کی بہتر ہوتی ہے یا دیہات والوں کی؟"

خیر النسا: "تم سب شہر والیاں ایک طرف ہو جاؤ گی تو مجھ اکیلی کو قائل کر دینا کون بڑی بات ہے؟ مگر کوئی مجھ کو تو یہ سمجھا دے کہ گفتگو کی بھلائی برائی ہے کیا چیز؟"

محمودہ: "گفتگو کی خوبی یہ ہے کہ اس میں سختی نہ ہو؛ بولنے والے کی زبان سے لفظ آسانی کے ساتھ ادا ہوں؛ سننے والے کو گراں نہ گزریں۔"

خیر النسا: "گاؤں والوں کو بھی اپنی بولی ہرگز سخت نہیں معلوم ہوتی۔"

محمودہ: "معلوم کیوں کر ہو؟ وہ شہر کی بولی کی نرمی سے واقف نہیں۔ تم بولو، دونوں بولیوں میں تم کو کہاں کی بولی بھلی معلوم ہوتی ہے؟"

خیر النسا: "بھلی بری تو میں کچھ جانتی نہیں؛ مگر شہر والے جو اپنی نرم اور نازک بولی سے کام لیتے ہیں، وہی کام گاؤں والے اپنی کرخت بولی سے نکالتے ہیں؛ کوئی مطلب ان کا اٹکا نہیں رہتا۔"

حسن آرا: "بس یہی تو گنوار پن ہے کہ بھلے برے میں امتیاز نہیں۔ مجھ کو تو دیہات کی بولی ایسی بری معلوم ہوتی ہے جیسے کسی نے پتھر کھینچ مارا؛ سیدھے بول کی بھی ہڈی پسلی توڑ کر رکھ دیتے ہیں۔" شہر بانو: "اس میں تو شک نہیں کہ دیہات والے لفظوں کی بڑی شامت لاتے ہیں؛ کوئی لفظ تشدید سے خالی نہیں؛ نون کو جب بولیں گے، نوں؛ پانی کو پانڑی؛ گاڑی کو گاڈی۔ خیر النسا کی بولی شہر میں رہنے سے بہت سنبھل گئی ہے، پھر بھی زبان کی اینٹھن نہیں گئی؛ کچھ عجب طرح سے لفظوں کو مروڑ تروڑ کر بولتی ہیں۔ کیوں آپا محمودہ، یاد ہے جب خیر النسا نئی نئی آئی تھیں تو کس طرح کی بولی بولتی تھیں؟"

محمودہ: "خیر النسا ایسی احسان فراموش نہیں ہے؛ شہر والوں کا یہ سلوک تو ضرور یاد رکھیں گی کہ ان کی بدولت ان کی زبان درست ہو گئی۔"

خیر النسا: "ایک زبان کا درست ہونا، میرا تو رواں رواں شہر والوں کا احسان مند ہے۔ تھوڑا بہت لکھنا، پڑھنا، سینا، پرونا، پکانا، ریندھنا، جو کچھ مجھ کو آتا ہے، سب کچھ شہر ہی کی بدولت ہے؛ مگر میں تو کہتی ہوں کہ شہر والوں نے میری بولی خراب کر دی۔"

حسن آرا: "لو اور سنو! وہی کہاوت ہے: گدھے کو نون دیا، اس نے کہا، میری آنکھیں دکھتی ہیں۔"

خیر النسا: "یہ بڑی شہر والی ہیں، اور ان کو اپنی گفتگو پر بڑا ناز ہے؛ نہ سمجھیں نہ بوجھیں، کہہ دینے سے کام۔"

حسن آرا: "سیدھی تو بات ہے، پہیلی نہیں، چیستان نہیں؛ سمجھنے کو کیا ہوا؟ تم نے ہی کہا نا کہ شہر والوں نے میری بولی کو بگاڑ دیا؟"

خیر النسا: "ہاں ہاں، بگاڑ دیا۔ اب خدا کرے گا، میں پھر اپنے گھر جاؤں گی، تو وہاں والے میری باتوں پر ہنسیں گے اور میری نقلیں کریں گے۔"

استانی جی: "خیر النسا سچ کہتی ہیں۔ بڑی خرابی کی بات ہے؛ شہر کی بولی بولو تو گاؤں والے ہنسیں، اور دیہات کی بولی بولو تو شہر والے چھیڑیں۔"

حسن آرا: "دس نکٹوں[۱۶] میں ایک ناک والا نکّو۔ اب کیا نکٹوں کے ڈر سے آدمی ناک کٹا ڈالے؟ خیر النسا، شوق سے تم یہی بولی بولنا۔"

خیر النسا: "نہیں بوا، ہیں تو جیسا دیس ویسا بھیس۔ شہر میں آئی، کتا بلی[۱۷] کرنے لگی؛ گھر گئی، پھر وہی اٹّا روٹّی[۱۸]۔"

حسن آرا: "گاؤں میں تم جاؤ گی تو سہی، مگر ممکن نہیں کہ وہاں تمہارا جی لگے۔ انشاء اللہ اگلے ہی مہینے الٹے پاؤں پھر نہ آؤ تو تب ہی کہنا۔"

خیر النسا: "ہم گاؤں والیوں کا خدا ایسا دیدہ ہوائی نہ کرے کہ گھر ہی میں جی نہ لگے۔ اس مکتب کے سوا اور بھی کوئی چیز ہے جس کو میں گاؤں میں جا کر یاد کروں گی؟"

حسن آرا: "ہزاروں لاکھوں چیزیں یاد کرنے کی ہیں؛ ایک بات ہو تو کہوں۔ بڑے سویرے بچھونے سے نہیں اٹھے کہ چنے پرمل والوں کی آوازیں آنی شروع ہوئیں، اور ......"

خیر النسا: "لا حول ولا قوۃ[۱۹]! چنے بھی کوئی آدمیوں کا کھانا ہے یا جانوروں کا دانہ؟ بس دیکھی شہر والوں کی نزاکت۔"

حسن آرا: "وہ دیہاتی چنے ہیں جن کا تم مذکور کرتی ہو۔ شہر کے چنے، سبحان اللہ[۲۰]! بھنتے ہوئے، گرما گرم، سوندھے، خستہ[۲۱]، ٹھڈی[۲۲] کا نام نہیں؛ نرم ایسے کہ بے تکلف پوپلی[۲۳] کھاتی ہے۔"

شہر بانو: "اور لطف یہ ہے کہ کوڑیوں اور لوہے کی کیل، پرانے ٹاٹ اور گودڑ کے بدلے چنے لے لیجیے۔"

حسن آرا: "اور چنے والا ابھی گلی سے باہر نہیں نکلا کہ خوانچے والا آ موجود ہوا: تازہ حلوا پوری، تازی خستہ کچوریاں، تازہ مٹھائی، ہمہ نعمت موجود۔ ایک گیا ایک آیا، ایک گیا ایک آیا۔ پہر رات گئے تک یہی تار لگا رہتا ہے۔ برتن، کپڑا، گوٹا کناری، برف، میوہ، پھول، ترکاری، جو چیز چاہیے گھر بیٹھے لے لیجیے۔ کتنے بڑے آرام کی بات ہے! کباب ایک سے ایک چٹپٹے، مزیدار مٹھائیاں ایک سے ایک تحفہ، خوش گوار۔ چھ کوڑی کا سودا لو تو بھی دونے میں دیں گے؛ یہ نہیں کہ سودا لینے جاؤ تو بھیک کا پیالہ گھر سے لے کر نکلو۔ سودے والوں کی صدائیں سننے والوں کے دلوں کو لبھائیں۔ حق تو یہ ہے کہ دنیا کی بہشت شہر ہے۔ خدا رکھے تو شہر میں، ورنہ گاؤں کے جینے سے مجھ کو تو مرنا قبول ہے۔"

خیر النسا: "اللہ ری چٹوری! منہ سوئی، پیٹ کوئی؛ بس کھانے پر مرتی ہیں۔ ہم دیہاتیوں میں بھلے مانسوں کی بہو بیٹیاں بازار کی چیز زبان پر بھی نہ رکھیں؛ ہم لوگوں میں تو اس کا بڑا عیب گنا جاتا ہے۔"

حسن آرا: "آہا! آپ بڑی بھلی مانس، بڑی اشراف؛ کیوں نہ ہو، شریف پور میں تو آپ رہتی ہیں، اور ہم شہر والے کمینے رذالے۔"

خیر النسا: "کیوں کیا! باہر والوں کی شرافت میں بھی کچھ کلام ہے؟ ہم لوگ ٹکسالی اشراف ہیں۔"

حسن آرا: "تمہاری ذات کیا ہے؟"

خیر النسا: "بے چارے پتلی دال کے کھانے والے شیخ۔"

حسن آرا: "میں تو مغلانی ہوں۔ کیوں بوا، کیا اس مکتب میں کوئی اور شیخ نہیں؟"

حلیمہ: "میں ہوں۔" کلثوم: "میں بھی شیخ ہوں۔" زبیدہ: "ہم بھی شیخوں ہی کے نام لیوا ہیں۔"

خیر النسا: "حلیمہ اور کلثوم کا حال تو میں کچھ جانتی نہیں؛ زبیدہ جیسی شیخوں کے نام لیوا ہیں، مجھ کو خوب معلوم ہے۔ اور زبیدہ نے کہا بھی ٹھیک، اپنے تئیں شیخ نہیں کہا، شیخوں کی نام لیوا کہا۔ زبیدہ! تم شیخوں میں کون شیخ ہو؟"

زبیدہ: "کون شیخ تو میں جانتی نہیں؛ شیخ البتہ سنا کرتی ہوں۔"

خیر النسا: "اجی، قریشی ہو؟ عثمانی ہو؟ صدیقی ہو؟" (ہنس کر) "ڈفالی ہو؟"

زبیدہ: "یہ مجھ کو نہیں معلوم؛ مگر ڈفالی تم ہو۔"

خیر النسا: "تمہارے ماموں کا کیا نام ہے؟" زبیدہ: "مرزا یاور علی بیگ۔"

خیر النسا: "اور خالو؟" زبیدہ: "میر تقی۔" خیر النسا: "بہنوئی؟" زبیدہ: "دلاور خاں۔"

خیر النسا: "بوا، تم خاصی ست بجی شیخ معجونی ہو؛ ایک گھر میں چاروں ذات! بیگم صاحب، شہر کے شیخوں کو آپ نے دیکھا؟"

حسن آرا: "دوسری ذات میں رشتہ ناتا کرنا کیا کچھ منع ہے؟"

خیر النسا: "شریعت میں تو منع نہیں، مگر باہر کے اشراف منع سے بڑھ کر جانتے ہیں۔ شہر کا یہ قاعدہ ہے کہ ذات جماعت کچھ نہیں دیکھتے؛ صورت شکل اور روپیہ پیسہ دیکھ لیا، پھر نہ بیٹی لینے کا مضائقہ، نہ بیٹی دینے میں عار۔ اور دیہات والوں میں استخوان (ہڈی) اچھی چاہیے، دولت ہو یا نہ ہو۔"

محمودہ: "بھلا اس سے حاصل؟ جب خدا رسول کے نزدیک منع نہیں تو ذات کوئی چیز نہیں۔"

خیر النسا: "حاصل حصول تو میں کچھ جانتی نہیں؛ بزرگوں سے ایک بات ہوتی چلی آتی ہے۔"

استانی جی: "دنیا میں بے وجہ کوئی رسم جاری نہیں ہوئی۔ ذات سے بھی بڑے بڑے فائدے تھے اور ہیں۔ دنیا میں ذات سے زیادہ پرانی کوئی رسم نہیں، اور کچھ نہ کچھ تو فائدہ اس رسم سے ہے کہ آج تک یہ رسم موقوف نہیں ہوئی۔ شروع پیدائش دنیا سے کئی ہزار برس تک بادشاہت کا انتظام بیٹھنے نہیں پایا؛ چاروں طرف لوٹ کھسوٹ مچی رہتی تھی، آئے دن ڈاکے پڑا کرتے تھے، اور ہمیشہ آپس میں مار کٹائی ہوا کرتی تھی۔ ان دنوں جان و مال دونوں غیر محفوظ تھے۔ اس واسطے پہلے لوگ جتھے باندھ باندھ کر رہتے تھے، اور ایک دادا پردادا کی اولاد ایک گروہ بن جاتی تھی۔ جس گروہ میں آدمی زیادہ ہوتے تھے وہی گروہ بڑا زبردست گنا جاتا تھا۔ اس واسطے ہر گروہ میں یہ عہد و پیمان ہوتا تھا کہ آپس ہی میں شادی بیاہ ہو اور اس گروہ کی طاقت کو گھٹنے نہ دیں۔ یوں ذات برادری کی رسم دنیا میں پھیلی جو آج تک چلی جاتی ہے۔ کچھ ذاتیں پیشوں کے اعتبار سے بھی الگ ہوئیں، مثلاً جولاہے، موچی، لہار، بڑھئی وغیرہ؛ اور اس سے یہ فائدہ تھا کہ اس ذات کے لوگ اپنے تئیں اس پیشے کا ٹھیکے دار سمجھ کر اطمینان کے ساتھ کام کریں، اور غیر آدمی اس کام کو ہاتھ نہ لگائیں؛ چنانچہ یہی دستور اب تک چلا جاتا ہے۔ ہوتے ہوتے بادشاہت کا انتظام بخوبی بیٹھ گیا؛ جان و مال کی حفاظت کے لیے اب نہ جتھا درکار ہے نہ گروہ؛ پس ذات برادری کا بچار (خیال) کم رہ گیا ہے، اور شہر والوں سے تو اب بالکل اٹھ ہی گیا۔ پیشوں کے اعتبار سے جو ذات کا امتیاز تھا اس میں بھی کمی ہے۔"

خیر النسا: "تو ذات کوئی فخر کی بات نہیں ہے؟"

استانی جی: "آدمی آدمی سب برابر۔ فخر کی بات اگر ہے تو ہنر ہے۔"

خیر النسا: "مگر ذات پہلے سے چلی آتی ہے تو ذات پر فخر بھی پہلے سے چلا آتا ہے۔"

استانی جی: "جن لوگوں سے ذاتیں چلیں وہ بڑے نمود کے لوگ تھے اور اپنے گروہ میں سردار تھے؛ اگر فخر کریں تو وہ لوگ۔ اور یوں تو ذات پر برابر فخر ہوتا چلا آیا ہے کہ کوئی زمانہ ایسا نہیں گزرا کہ اس میں لوگ شیخی خورے نہ رہے ہوں۔ جب لیاقت والے بزرگ مر گئے جن کا نام تھا، ان کی اولاد میں کوئی نام و نمود والا ہوا نہیں؛ اب یہ فخر کریں تو کس بات پر؟ بے چارے مردوں ہی کی ہڈیوں کو پڑے چچوڑ رہے ہیں۔"

خیر النسا: "کچھ ہو، مگر دھنیے جولاہوں کی برابری تو نہیں ہو سکتی۔"

استانی جی: "پھر حسن آرا بیگم کی امیری پر ناحق کا اعتراض ہے۔ ان کو امیری کا گھمنڈ تو کسی قدر جا سے بھی ہے؛ ان کو خدا نے دولت تو دے رکھی ہے۔ تمہارے پاس نری شیخی کے سوائے اور کیا ہے؟ اور خدا کے یہاں سے تو اس کی پرسش ہی نہیں۔ دیکھو، اس زمانے کی سیدانیاں اپنے تئیں کتنا دور کھینچتی ہیں[۲۴]؛ اور پیغمبر صاحب نے اپنی بیٹی حضرت فاطمہؓ کو، جن سے سیدوں کی جڑ بنیاد ہے، بلا کر فرمایا کہ 'اے فاطمہؓ! اس دھوکے میں مت رہنا کہ میں پیغمبر کی بیٹی ہوں، بلکہ عاقبت کے لیے سامان کرو۔' جب خود حضرت فاطمہؓ کا یہ حال ہے تو اب اور کس گنتی میں ہیں؟ ہندی کا ایک دوہا کیا ہی اچھا ہے۔ دوہا:

ذات پات پوچھے نہیں کوئی[۲۵]ہر کا بھجے سو ہر کا ہوئی

حسن آرا: "کیوں خیر النسا، اب تو کبھی ذات کا نام نہ لو گی؟"

خیر النسا: "تم تو بات بات میں امیری نہ جتاؤ گی؟"

استانی جی: "ذات اور امیری پر کیا موقوف ہے، غرور تو کسی بات پر کرنا ہی نہیں چاہیے۔"

حسن آرا: "دیہات والے چاہے ٹکسالی اشراف ہوں، مگر عجب روکھی بھدی اور بہنگم صورتیں ان کی ہوتی ہیں کہ بے اختیار ہنسنے کو جی چاہتا ہے۔ نزاکت تو کسی کو چھو نہیں گئی؛ اچھی بھلی صورت کو بگاڑ دیتے ہیں۔"

خیر النسا: "شہر والوں کی وضع اور تراش خراش کا جواب تو میں پہلے ہی دے چکی ہوں؛ اگر وضع داری بے پردگی کا نام ہے تو ایسی وضع داری کو سلام ہے۔ اور ذرا مجھ کو نزاکت کے معنی سمجھا دیجیے۔"

حسن آرا: "مجھ کو تو ایسی ہنڈری کی چنری نہیں آتی۔"

محمودہ: "نزاکت یہ کہ دبلا دبیل، سوکھے ہوئے ہاتھ پاؤں، کم خوراک، محنت اور تکلیف کی برداشت نہ کر سکے۔"

خیر النسا: "کیوں بیگم صاحب، نزاکت کے یہی معنی ہیں نا جو محمودہ نے بیان کیے؟"

حسن آرا: "بیشک۔"

خیر النسا: "میں ہاری اور تم جیتیں۔ خدا ہم دیہات والوں کو روگی اور اپاہج نہ کرے۔ کیا الٹی سمجھ ہے! معذوری پر فخر اور مرض پر ناز!"

اس کے بعد سب نے سکوت کیا تو خیر النسا بولی: "اور بھی کسی کو دیہات والیوں پر اعتراض کرنے کا حوصلہ ہو تو کہہ گزرو۔"

حسن آرا: "ابھی تو بہتیرے ہی اعتراض باقی ہیں۔ دیہات والیوں کے بے سلیقہ ہونے میں بھی کچھ کلام ہے؟"

خیر النسا: "میں شہر والیوں کے لغت[۲۶] کم سمجھتی ہوں۔ پہلے تو یہ فرمائیے کہ سلیقہ کس کو کہتے ہیں؟"

حسن آرا: "نشست و برخاست، بات چیت کا دستور سلیقہ بولا جاتا ہے۔"

خیر النسا: "واللہ باللہ، اور قبلہ و کعبہ[۲۷]، اور مجرا[۲۸] اور کورنش، اور مزاج مقدس[۲۹]، یہی نا؟"

حسن آرا: "ہاں، یہ بھی داخل سلیقہ ہے؛ دیہات والیوں کی طرح یہ نہیں: 'بوبو سلام! بوبو سلام!'"

حسن آرا نے اس طرح دیہات والیوں کی بولی کی نقل کی کہ سب لڑکیاں ہنس پڑیں، اور خود خیر النسا بھی ہنسی کو ضبط نہ کر سکی۔

خیر النسا: "یہ تو وہی بولی کا طعنہ ہوا۔ جھوٹے تپاک[۳۰]، ظاہر داری کے اشتیاق، بناوٹ کی لگاوٹ، منہ دیکھے کی محبت، دکھاوے کے پیار کس کام کے؟ ہم باہر والے سیدھے سادے، منہ پر کم اور دل میں بہت۔ میں وزیر بیگم کے ہاتھوں اسی ظاہر داری کے دھوکے میں تو ماری پڑی۔ میٹھی چھری زہر کی بجھی؛ منہ در منہ خالہ نانی، پیٹھ پیچھے دشمن جانی۔ چلو مکارو! دیکھے تمہارے سلیقے: اونچی دکان، پھیکا پکوان۔ میں تمہارے رگ و ریشہ سے واقف ہوں۔ بس، بہت منہ مت کھلواؤ؛ ابھی تکلف کا لفافہ ادھیڑ کر رکھ دوں گی۔"

محمودہ: "بیگم صاحب، اب بس کیجیے؛ ان کو وزیر بیگم کی بے وفائی پر غصہ آ گیا ہے۔"

خیر النسا: "ہرگز مجھ کو غصہ نہیں ہے۔ بے شک ان کو اعتراض کرنے دیجیے۔ میں ان کو قائل کر کے رہوں گی۔"

حسن آرا: "ہاں؟" خیر النسا: "ہاں، اور ہاں۔"

حسن آرا: "بھلا سچ کہنا، دیہات والیاں بے ہنر ہوتی ہیں یا نہیں؟"

خیر النسا: "قصور معاف، یہ اعتراض آپ کے منہ سے اچھا نہیں لگتا؛ کوئی اور لڑکی کہے تو جواب دوں۔"

حسن آرا (کھسیانی ہو کر): "میرا کیا مذکور تھا؟ میں اب تک دولت کو ہنر سمجھتی رہی؛ اب خدا نے بھی چاہا تو تھوڑا بہت سیکھ ہی لوں گی۔ مگر ہنرمندوں سے شہر بھرا پڑا ہے: بہتر سے بہتر سلائی، بہتر سے بہتر کاڑھنا، بہتر سے بہتر کام ہر ہر گلی کوچے میں ہے۔"

خیر النسا: "سچ ہے، دیہات میں ایسے ہنر نہیں ہیں، اور ......"

حسن آرا: "بھلا شکر ہے، تم نے ایک بات تو مانی۔"

خیر النسا: "ذرا سن تو لیجیے۔ ان ہنروں کے نہ جاننے کی وجہ یہ ہے کہ دیہات میں ان چیزوں کی قدر نہیں، اور نہ دیہات والوں کو ایسے تکلفات کی ضرورت اور عادت ہے۔"

حسن آرا: "نہیں، گاؤں والوں میں کچھ عقل بھی واجبی[۳۱] ہی واجبی ہوتی ہے۔"

محمودہ: "عقل کی ترقی کے سامان گاؤں والوں کو میسر نہیں؛ زمین سے غلہ پیدا کر لینا اور مویشیوں کو پالنا، بس یہی دو بڑے کام ہیں۔"

خیر النسا: "کھیتی بھی بجائے خود بڑا مشکل کام ہے۔ ذرا دولت ہند[۳۲] کو دیکھو؛ زمین کو درست کرنے اور جنس کو اعلیٰ اور عمدہ بنانے کی کیا کیا نادر تدبیریں لکھی ہیں۔ مگر سچ یہ ہے کہ کوئی کرتا کراتا نہیں؛ زمین جوت کر بیج بو دیا، اللہ اللہ خیر صلّا۔"

حسن آرا: "کیا دیہات میں عورتیں بھی کھیتی کرتی ہیں؟"

خیر النسا: "غریب آدمی، جن میں پردے کا رواج نہیں، ان کی بہو بیٹیاں مردوں کے برابر کھیتی میں کام کرتی ہیں؛ مگر ہم لوگوں میں ایسا نہیں ہوتا۔ ہماری یہی کھیتی ہے: گھر میں ترکاریاں بو لیں؛ امرود، انار، آڑو، فالسہ، کھٹی، لیموں، نارنگی، بیر، آم، اس طرح کے میوہ دار درخت، جگہ ہوئی تو لگا لیے؛ یا جی بہلانے کو ایک آدھ کیاری میں پھول۔ مگر پھر بھی دیہات والے اس نمونۂ قدرت الٰہی[۳۳] سے ایسے ناواقف نہیں ہوتے کہ خشکے[۳۴] کے پیڑ اور متنجن کے درخت کو دیکھ کر حیرت کریں۔"

استانی جی: "دیہات والیوں کے حال پر البتہ مجھ کو بھی اس خیال سے تاسف[۳۵] ہوا کرتا ہے کہ ان کی عقل کی اصلاح[۳۶] کا کچھ سامان بہم نہیں پہنچتا۔ بے چاریاں انواع و اقسام کے اوہام میں مبتلا رہتی ہیں۔ ٹونے ٹوٹکے، اتارے چڑھاوے، نظر گزر، جن آسیب، بھوت پریت، چڑیل، فال، شگون، جھاڑ پھونک، جادو منتر، نذر منت، ان چیزوں کا بچار (خیال) گاؤں والوں میں اکثر ہوتا ہے۔ شہر میں بھی یہ خرابی کیوں نہیں تھی؛ اب خدا خدا کر کے مولویوں نے درس سنا سنا کر کفر توڑا ہے۔ یہی خیر النسا موجود ہیں؛ ان کی چھوٹی بہن کو کس مصیبت سے میں نے چیچک کا ٹیکا دلوایا ہے، معاذ اللہ[۳۷]!

حواشی

[۱] مکان میں جو صدر جگہ بنی ہوتی ہے اس کو شہ نشین کہتے ہیں، یعنی بادشاہ کے بیٹھنے کی جگہ۔

[۲] یہ ایک مثل ہے، یعنی بھاڑ میں جائے وہ سونا جس سے کان ٹوٹیں۔

[۳] مسلمانوں میں شادی کی ایک رسم۔

[۴] خیرات کا تار ٹوٹ جائے، یعنی خیرات بند ہو جائے۔

[۵] تلاش۔

[۶] لالچ والوں۔

[۷] گروہ۔

[۸] عمدہ، پسندیدہ۔

[۹] یہ محاورہ ہے؛ مطلب یہ ہے کہ احمد جو میرا چھوٹا بھائی ہے۔

[۱۰] دوپٹہ، پگڑی۔

[۱۱] ہیجڑا۔

[۱۲] یعنی خیر النسا۔

[۱۳] ہم اللہ سے پناہ مانگتے ہیں؛ حقارت اور نفرت کی جگہ بولتے ہیں۔

[۱۴] نقل، پیروی۔

[۱۵] چپ چاپ۔

[۱۶] یہ بھی مثل ہے۔

[۱۷] یہاں کتا اور بلی بے تشدید پڑھنا چاہیے، اس واسطے کہ خیر النسا کو شہر والوں کی تخفیف پر اعتراض کرنا منظور ہے۔

[۱۸] دونوں کو مشدد پڑھا جائے، جیسا کہ دیہات والے دلی میں بولتے ہیں۔

[۱۹] گناہ سے بچنا اور بھلائی پر قدرت پانا بے خدا کی مدد کے نہیں ہوتا؛ یہ جملہ بھی نفرت اور حقارت کے محل پر بولا جاتا ہے۔

[۲۰] پاک ہے اللہ۔

[۲۱] بھربھرے۔

[۲۲] جو دانہ بھننے سے رہ گیا ہو۔

[۲۳] جس کے دانت ٹوٹ کر گر گئے ہوں۔

[۲۴] یعنی کس قدر اپنے تئیں دوسروں سے اونچا سمجھتی ہیں۔

[۲۵] یعنی ذات پات کچھ پوچھی نہیں جاتی؛ جو خدا کی یادگاری کرے وہی خدا کا مقبول ہے۔

[۲۶] مشکل الفاظ جن کے معنی معلوم نہ ہوں۔

[۲۷] قبلہ و کعبہ تعظیم کے الفاظ ہیں، بزرگوں کی شان میں کہے جاتے ہیں۔

[۲۸] مجرا اور کورنش تعظیمی سلام کے الفاظ ہیں۔

[۲۹] پاک۔

[۳۰] گرمی ملاقات۔

[۳۱] یعنی کم، کچھ یوں ہی سی۔

[۳۲] ایک کتاب کا نام ہے۔

[۳۳] یعنی زمین سے پھولوں اور پھلوں اور غلوں کا پیدا ہونا خدا کی قدرت کا نمونہ ہے جس کی قدر دیہات میں بہت کی جاتی ہے۔

[۳۴] کہتے ہیں کوئی بھولا شاہزادہ ہوا خوری کے لیے کھیتوں میں جا نکلا۔ دھانوں کا موسم، ہرے ہرے دھان اس کو بہت بھلے لگے۔ پوچھا؛ لوگوں نے بتایا کہ دھان کے کھیت ہیں۔ اس نے کبھی دھان کا نام نہیں سنا تھا؛ مصاحبوں نے خشکے کے پیڑ، متنجن کے درخت کا اس کو پتہ دیا۔

[۳۵] افسوس۔

[۳۶] درستی۔

[۳۷] خدا کی پناہ۔

Que vous laisse ce chapitre ?

Connectez-vous pour réagir

Discussion

Personne n’a encore parlé. Dites ce que ce chapitre a remué en vous.

Ce chapitre vous a plu ? Partagez-en une ligne.