
Chapitre 11 sur 22
Interesting Things about Arithmetic
حساب کی دلچسپ باتیں
حساب کی دلچسپ باتیں
محمودہ: "کیوں کلثوم، تین اور سات اور نو مل کر کے ہوتے ہیں؟" کلثوم: "انیس۔" محمودہ: "اور بھلا آٹھ اور دو؟" کلثوم: "دس۔"
محمودہ: "بھلا پچیس روپے میں سے آٹھ روپے خرچ ہو جائیں تو کے روپے بچے؟" کلثوم: "سترہ۔"
محمودہ: "بھلا یہ تو بتاؤ کہ سوا سو کتنے روپے ہوتے ہیں؟" کلثوم: "سو اور پچیس۔"
محمودہ: "بھلا پونے چار سو کتنے ہوتے ہیں؟" کلثوم: "تین سو اور پچھتر، یا پچیس کم چار سو۔"
محمودہ: "شاباش بوا، شاباش! جب جانیں، ایک بات بتاؤ کہ آمنہ غدر میں سات برس کی تھی، اور غدر کو اب چھ برس ہوئے، تو آمنہ کی عمر اب کے برس کی ہے؟" کلثوم: "تیرہ برس۔"
محمودہ: "ٹھیک۔ بہن، ایک بات اور بتاؤ، کہ آمنہ کا بھائی اس سے چار برس بڑا ہے، تو بھلا غدر سے کے برس پہلے ہوا تھا؟" کلثوم سوچ کر: "گیارہ برس۔"
محمودہ: "اچھا زبیدہ، تم کلثوم سے زیادہ پڑھی ہو؛ بھلا بتاؤ تو، بارہ لڑکیاں اگر منڈھیا میں تین تین پیسے کا ساجھا ملائیں تو سب کے آنے ہوں گے؟" زبیدہ: "نو آنے۔"
محمودہ: "ڈیڑھ سیر سیویں میں اگر چھ لڑکیوں کے برابر حصے لگائے جائیں تو ہر ایک لڑکی کو کتنا کتنا پہنچے گا؟" زبیدہ: "پاؤ پاؤ بھر۔"
محمودہ: "دو سو آم ہوں اور دس لڑکیاں، تو کتنے کتنے؟" زبیدہ: "یہ تو بہت ہی صاف ہے: بیس بیس۔"
حسن آرا: "یہ گلاب کا درخت جو انگنائی میں لگا ہے، پندرہ پھول روز کے روز اس سے اترتے ہیں؛ مہینے بھر میں کتنے پھول ہوں گے؟" زبیدہ: "ساڑھے چار سو، یعنی چار سو اور پچاس۔"
محمودہ: "کیوں صاحب، سات آنے گز کے حساب سے سات گز ایک پاجامے کی دریس کے کیا دام ہوئے؟" زبیدہ سوچ کر: "تین روپیہ ایک آنہ۔"
محمودہ: "دو روپے کا آٹھ گز کا تھان، تین روپے کو ٹھہرے، تو کپڑا کیا گز پڑا؟" زبیدہ: "لکھ کر جوڑ لوں۔"
محمودہ: "نہیں صاحب، زبانی سوچ کر کہو؛ کچھ ایسا تو مشکل نہیں ہے۔"
زبیدہ تھوڑی دیر تامل کر کے: "چھ آنے گز۔"
محمودہ: "بھلا ڈیڑھ آنے کا چھٹانک گھی تو آدھ سیر کتنے کا ہوا؟" زبیدہ ہتھیلی پر انگلیوں سے کچھ لکھ کر: "بارہ آنے کا۔"
محمودہ: "گز میں کے گرہ؟" زبیدہ: "سولہ۔"
محمودہ: "اور من میں کے سیر؟" زبیدہ: "چالیس۔"
محمودہ: "خوب، بہن، خوب! اچھا بی رابعہ، اب تم تو تشریف لاؤ، بڑی حسابی ہو؛ بتاؤ تو، نو گرہ عرض کی دریس ایک پاجامے میں نو ہی گز لگتی ہے، تو پورے گز بھر کا عرض ہو تو کتنی لگے گی؟" رابعہ: "تختی پر لکھ لوں۔"
محمودہ: "بہت اچھا، لیکن جلدی جواب دو، نہیں تو بزاز[۱] چلا جائے گا۔"
رابعہ دو لمحے بعد: "پانچ گز ایک گرہ۔"
محمودہ: "بھلا یہ تو بتاؤ کہ یہ دالان جس میں ہم سب بیٹھے ہیں، چھ گز لمبا اور ڈھائی گز چوڑا ہے؛ چاندنی میں کتنا مارکین خرچ ہوگا؟" رابعہ: "اور مارکین کا عرض؟"
محمودہ: "یہی معمولی، گز بھر۔" زبیدہ: "پورے پندرہ گز۔"
محمودہ: "ایک سوال بتا دو تو تم کو بڑی شاباش دیں۔ یہ بڑی مسجد کا حوض چھ گز مربع ہے، یعنی لمبان چوڑان برابر، اور دو گز گہرا۔ اور ایک گز مربع میں تین تین مشک پانی آتا ہو، اور ایک مشک میں پچیس لوٹے، اور ایک لوٹے میں پندرہ گلاس، اور ایک گلاس میں آدھ پاؤ پانی، تو سارے حوض میں کتنا پانی ہوا؟"
رابعہ (پاؤ گھنٹے بعد): "دو سو تین من پانچ سیر۔"
حسن آرا: "اے ہے، ان کم بخت جان ہاروں کو کیسی کیسی باتیں آ گئی ہیں! لڑکیاں ہیں کہ بلا ہیں!" محمودہ: "اس سے عجیب عجیب باتیں ان کو معلوم ہیں۔ میں نے آپ کے سمجھانے کو آسان آسان باتیں ان سے پوچھیں۔ کیوں ہاجرہ، جامع مسجد کے مینار بے گز، بے رسی، اور بے اوپر گئے ناپ سکتی ہو؟"
ہاجرہ: "بے شک، مجھ کو وہ سایے کا حساب یاد ہے۔ کوئی دو مہینے کی بات ہے کہ ہماری کنبے سے ایک برات پلول گئی تھی، میں بھی ساتھ تھی۔ راہ میں قطب صاحب کی لاٹ کے پاس ناشتہ کرنے کو ٹھہری۔ مجھ کو تو اس قاعدے کا بڑا اچنبھا تھا؛ جھٹ میں نے ایک تنکا لے اور سایہ ناپ، وہیں زمین پر حساب لگایا۔ ساتھ والیاں مجھ کو چھیڑنے لگیں کہ یہ دن دہاڑے کیا تنکے چننے لگیں[۲]۔ غرض میں نے وہ ناپ جو میرے حساب سے نکلی تھی یاد رکھی؛ لوٹ کر گھر آئی تو صنادید عجم[۳] میں دیکھا، ٹھیک وہی لمبان تھی، کوئی شاید دو گز کا بل تھا۔"
رابعہ: "اچھی بوا ہاجرہ، سایے کا حساب مجھ کو بھی بتا دو گی؟"
ہاجرہ: "اچھی، ایک بڑی آسان بات ہے۔ ایک تنکا لے کر اس کو ناپ لیا، پھر دھوپ میں سیدھا کھڑا کر کے اس کے سایے کو ناپ لیا، پھر لاٹ کے سائے کو ناپ ڈالا؛ تو اربعہ تناسبہ[۴] کے قاعدے سے، جو تم کو معلوم ہے، لاٹ کی لمبان نکل آئے گی، اس طور پر کہ اتنے لمبے تنکے کا سایہ اس قدر لمبا پڑتا ہے، تو لاٹ جس کا سایہ اتنا لمبا ہے، کتنی اونچی ہوگی۔" رابعہ تو اتنا اشارہ پا کر خوشی کے مارے اچھل پڑی، لیکن حسن آرا تو اربعہ وغیرہ کچھ جانتی نہ تھی؛ وہ اس معمے[۵] کو کیا سمجھتی؟ ہاجرہ کی طرف مخاطب ہو کر بولی، "افوہ ری جھوٹی! افوہ ری لپاٹن! آپ خیر سے ابھی پورے چار ہاتھ کی بھی نہیں ہوئیں، اور ہزاروں کوس کی اونچی لاٹ ناپنے چلیں! تم نے کہا اور میں نے مان لیا! خدا کو دیکھا نہیں تو عقل سے پہچانا ہے۔"
محمودہ: "ایں ایں بیگم صاحب، آپ کا یہ کیا دستور ہے کہ باتوں ہی باتوں میں آپ ناحق بگڑ بیٹھتی ہیں؟"
حسن آرا: "خدائے پاک کی قسم، میں تو کچھ بھی نہیں بگڑی، نہ میں نے کچھ کہا۔"
محمودہ: "یہ جلدی سے قسم کھا لینا اور غضب ہے۔" حسن آرا: "یوں بات کاٹنے پر آؤ تو بولنا ہی غضب ہے۔"
محمودہ: "اگر ذرا آپ انصاف سے میری بات سنیں تو میں کچھ عرض کروں، اور اگر بے جا ہو تو میں قائل ہو جاؤں گی۔" حسن آرا: "بھلا، کچھ کہیے تو سہی۔"
قسم کھانے کی برائی
محمودہ: "اول تو یہ بتائیے کہ آپ نے خدا کی قسم کیوں کھائی؟"
حسن آرا: "تاکہ تم کو میرے کہے کا اعتبار ہو۔"
محمودہ: "یہ آپ کی سمجھ کا پھیر ہے؛ جس کی بات کا اعتبار نہیں، اس کی قسم کا لاکھ دفعہ اعتبار نہیں۔"
حسن آرا: "خیر، میں نے یوں ہی قسم کھائی تو برا کیا کیا؟"
محمودہ: "بے شک برا کیا۔ خدا کو آپ نے لڑکیوں کی گڑیا بنایا ہے یا بچوں کا کھلونا قرار دیا ہے؟ آپ کو اس دو جہان کے مالک اور بادشاہ کا نام اس بے احتیاطی سے لیتے ہوئے ڈر نہیں لگتا؟ یہ دیکھیے دنیا کی بے ایمانی، کہ آدمی آدمی کا ادب کرے تو نام نہ لے؛ بھلا کوئی ماں باپ یا بڑے بھائی یا بڑی بہن یا کسی اور بزرگ کا بھی نام لیتا ہے؟ اور خدا کی یہ بے وقعتی اور بے وقری کہ بات بات میں اس کا نام لیا جائے! جب میں کسی کو خدا کی قسم کھاتے سنتی ہوں، میرے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں، اور حیران ہو کر منہ دیکھنے لگتی ہوں کہ کیونکر بے دھڑک یہ لفظ اس کی زبان سے نکلا۔"
حسن آرا: "خدا کا نام لینا منع ہوتا تو اذان اور نماز میں کیوں لیتے ہیں؟"
محمودہ: "عبادت میں نام لینا دوسری بات ہے؛ اور خدا کے نام کو تکیۂ کلام قرار دینا اور جا بے جا بول اٹھنا بالکل خلاف ادب ہے۔"
حسن آرا: "لوگ تو بات بات میں واللہ باللہ کہا کرتے ہیں۔"
محمودہ: "جو بات بری ہے، اگر دنیا بھر اس کو کرنے لگے تو اچھی نہیں ہو سکتی۔ اور اگر دنیا کے لوگوں کی مثال لیجیے تو اچھے دین دار اور نیک بندے بہت ہی کم ملیں گے۔ آپ ذرا اتنی بات پر غور کیجیے کہ خدا کی عظمت اور اس کی بڑائی اگر ہمارے دل میں ہے تو ممکن نہیں کہ اس کے نام پاک کے ساتھ ہم ایسی بے احتیاطی سے پیش آئیں۔ آدمی بال بال گنہگار ہے؛ اپنے تئیں دیکھے، اور اس خداوند عالی جاہ کی شان اور اس کے تقدس[۶] پر نظر کرے۔"
حسن آرا: "البتہ قسم کھانا تو بہت ہی بری بات ہے۔ تو یہ تو، پھر میرے منہ سے قسم نکلے تو بے شک میرے منہ پر طمانچہ کھینچ مارنا۔"
محمودہ: "ایسا کیوں ہونے لگا؟ آپ بھی آئندہ سے خیال رکھیں، اور جو کبھی آپ کے ذہن سے بات اتر جائے گی تو میں یاد دلا دوں گی۔"
ہمجولیوں میں پاس ادب
محمودہ: "خیر، یہ تو ہو چکا؛ اب میں پوچھتی ہوں کہ آپ نے بیچاری زبیدہ کی دل شکنی کیوں کی؟"
حسن آرا: "بوا، میں نے تو زبیدہ کو کچھ بھی نہیں کہا؛ تم ناحق بیچاری کو مجھ سے لڑواتی ہو۔"
محمودہ: "جھوٹی لپاٹن کہا، اور کچھ بھی نہیں کہا! یہ وہی دیانت کی سی بات پھر آئی۔ آپ نہیں جانتیں کہ جھوٹ بولنا بڑے عیب کی بات ہے، اور بھلے مانسوں کی بہو بیٹیاں جھوٹ نہیں بولا کرتیں؛ کسی کو جھوٹی کہہ دینا ایسا ہی ہے جیسے کسی کو چوری لگا دینا۔"
حسن آرا: "بوا، میں نے تو ہنسی ہنسی میں کہہ دیا تھا۔ آپس کی بے تکلفی میں ایسی بات بے ساختہ[۷] منہ سے نکل جاتی ہے۔ اگر رات دن کے ساتھ اٹھنے بیٹھنے والوں سے ایسا تکلف کریں تو زندگی دشوار ہو جائے۔"
محمودہ: "یہ تو کچھ ہنسی اور بے تکلفی کی بات نہیں، بلکہ لڑائی اور بگاڑ کی بات ہے۔ اگر ساتھ کے اٹھنے بیٹھنے والوں میں ایسی باتوں کا لحاظ نہ رہے گا تو پھر عادت پڑ جائے گی؛ اور شاید یہی سبب ہوا ہو کہ آپ اس دن دیانت کے ساتھ ایسی بے تکلفی کر بیٹھیں۔"
حسن آرا: "بھلا میرا ہی قصور تھا، یا زبیدہ کا بھی تھا کہ وہ زمین اور آسمان کے قلابے ملانے[۸] چلی تھی؟"
محمودہ: "زبیدہ بیچاری کی تو کچھ بھی خطا نہ تھی؛ وہ تو ایک واجبی بات کہہ رہی تھی۔"
حسن آرا: "واجبی؟ اگر یہی واجبی ہے تو ایسی واجبی کو سلام ہے۔" محمودہ: "آپ نے ابھی کچھ پڑھا نہیں، آپ کو دنیا جہان کی خبر ہو تو کیونکر ہو؟ آپ کے نزدیک تو زبیدہ کی بات غیر واجبی ہونی ہی چاہیے۔ مگر جب زبیدہ کو آپ نے جھوٹی لپاٹن کہا، نہیں معلوم مجھ کو کیا خطاب ملے؛ اس ڈر کے مارے کچھ نہیں کہہ سکتی۔"
حسن آرا: "برائے خدا، جو کچھ جی میں ہے کہہ ڈالیے، میں ہرگز برا نہ مانوں گی۔"
محمودہ: "بیگم صاحب، امیر زادی ہونا اور بات ہے، اور علم و عقل دوسری بات ہے۔ آپ اتنا تو جانتی ہیں نہیں کہ کوس کس جانور کا نام ہے۔"
حسن آرا: "کیوں؟ میں تو کوس کو خاصی طرح جانتی ہوں؛ بتا چلوں؟ قدم شریف[۹] ایک؛ ہمایوں کی بھول بھلیاں[۱۰] تین کوس؛ قطب صاحب سات کوس؛ اور آپ کبھی گئی ہیں؟ میرٹھ پچیس کوس؛ پانی پت چار منزل؛ میں تو بڑی بڑی دور ہو آئی ہوں۔"
محمودہ: "درست؛ تب ہی قطب صاحب کی لاٹ کو آپ نے ہزاروں کوس کی لمبی بتایا۔"
حسن آرا: "کیوں، ہزاروں کوس کی لمبی نہیں ہے؟ کبھی آپ نے نیچے کھڑے ہو کر بھی لاٹ کو دیکھا ہے؟ لقا کبوتر کی طرح آدمی الٹا ہی تو گر پڑتا ہے۔ کبھی اوپر جانے کا اتفاق ہوا ہے؟ اچھے مردوں کا دم ہی تو چڑھ جاتا ہے۔"
محمودہ: "کیا ضرور ہے کہ اوپر اگر جانے میں اچھے مردوں کا دم چڑھ جائے تو لاٹ ہزاروں کوس لمبی ہو؟"
حسن آرا: "میں تو اس سے قیاس کرتی ہوں کہ ضرور ہزاروں کوس کی لمبی ہوگی۔ سنا ہے کہ بعضے مردوے پندرہ پندرہ بیس بیس کوس چل جانا کچھ بات نہیں سمجھتے، اور لاٹ پر چڑھنے میں ہانپنے لگتے ہیں اور دم پھول جاتا ہے؛ تو ضرور لاٹ کچھ بہت ہی اونچی ہوگی۔" محمودہ: "اس کا سبب میں آپ کو سمجھاؤں۔"
حواشی
[۱] بیچ میں محمودہ نے یہ ایک ہنسی کی بات کہہ دی۔
[۲] کچھ خدا نخواستہ باولی تو نہیں ہو گئی۔
[۳] صنادید عجم ایک کتاب ہے جس میں دلی اور اس کے آس پاس کی عمارتوں کا حال لکھا ہے۔
[۴] حساب کا ایک قاعدہ ہے جس میں تین معلوم چیزوں میں کچھ عمل کر کے چوتھی نامعلوم چیز دریافت کر لیتے ہیں۔
[۵] پہیلی۔
[۶] پاکیزگی۔
[۷] بلا قصد، بے ارادہ۔
[۸] زمین و آسمان کے قلابے ملانا، یعنی بے جوڑ اور ان ہونی بات کہنا۔
[۹] دلی کے باہر چھوٹی سی بستی ہے؛ وہاں پیغمبر صاحب کے قدم کا نشان رکھا ہوا ہے۔
[۱۰] ہمایوں بادشاہ کے مقبرے میں بھول بھلیاں بنی ہیں کہ آدمی اس میں جا کر بھول جاتا ہے کہ کدھر سے آیا تھا۔
Que vous laisse ce chapitre ?
Connectez-vous pour réagir
Discussion
Personne n’a encore parlé. Dites ce que ce chapitre a remué en vous.