
第 9 章,共 26 章
Рассказ 8: Чармдев и женщина у моря
Tale 8: Charmdev and the Woman of the Sea
آٹھویں کہانی
آٹھویں کہانی
تب بیتال بولا اے راجا! ستھلاوتی نام ایک نگر ہے، وہاں کا راجا گنا دھپ، اس کی سیوا کرنے کو دور دیس سے ایک چرم دیو نام راج پتر آیا۔ روز اس راجا کے درشن کو جایا کرتا، لیکن ملاقات نہ ہوتی تھی، اور جتنا دھن وہ لایا تھا سو برس روز کے عرصے میں سب بیٹھ کر یہاں کھایا، اور وہاں گھر اس کا ویران ہو گیا۔ ایک دن کی بات ہے کہ راجا شکار کو سوار ہوا، اور چرم دیو بھی اس کی سواری کے ساتھ ہو لیا۔ اتفاقاً راجا ایک بن میں جا کر فوج سے جدا ہو گیا، اور لوگ سواری کے ایک اور جنگل میں بھٹک گئے، لیکن ایک چرم دیو ہی راجا کے پیچھے تھا۔ ندان اس نے ہی پکار کر کہا مہاراج! لوگ سواری کے پیچھے رہ گئے ہیں، اور میں آپ کے گھوڑے کے ساتھ گھوڑا مارے چلا آتا ہوں۔ راجا نے یہ سن کے گھوڑے کو روکا کہ اس میں یہ برابر آیا۔ راجا نے اسے دیکھ کے پوچھا تو کس واسطے اتنا دربل ہو رہا ہے؟ تب یہ بولا جس سوامی کے پاس رہیے اور وہ ایسا ہو کہ ہزاروں کو پالتا ہو اور اپنی خبر نہ لے، تو اس میں اس کو کچھ دوش نہیں، مگر اپنے کرم کا دوش ہے۔ جیسے دن کو سارا جہان دیکھتا ہے، مگر الو کو نظر نہیں آتا، اس میں گناہ سورج کا کیا ہے؟ حیرت ہے مجھ کو کہ جن نے ماں کے پیٹ میں روزی پہنچائی تھی، جب کہ ہم پیدا ہوئے اور دنیا کی غذاؤں کے لائق، اب وہ خبر نہیں لیتا، نہیں معلوم کہ سوتا ہے یا مر گیا، اور اپنے نزدیک مال و دولت چاہنی کسی بڑے آدمی سے کہ دیتے وقت وہ منہ بناوے اور ناک بھوں چڑھاوے، اس سے زہر ہلاہل کھا کر مر جانا بہتر ہے۔
اور یہ چھ باتیں آدمی کو ہلکا کرتی ہیں۔ ایک تو کھوٹے نر کی پریتی، دوسرے بنا کارن کی ہنسی، تیسرے ستری سے بیاہ کرنا، چوتھے اسجن سوامی کی سیوا، پانچویں گدھے کی سواری، چھٹے بنا سنسکرت کی بھاشا۔ اور یہ پانچ چیزیں بدھاتا منش کے کرم میں پیدا ہوتے ہی لکھ دیتا ہے، ایک تو آربل، دوسرے کرم، تیسرے دھن، چوتھے بدیا، پانچویں جس۔ مہاراج! جب تک آدمی کا پنیہ ادے ہوتا ہے، سب اس کے داس بنے رہتے ہیں، اور جب پنیہ گھٹ جاتا ہے تو بندھو بیری ہو جاتے ہیں۔ پر یہ ایک بات مقرر ہے، سوامی کی سیوا کرنے سے کبھی نہ کبھی پھل مل رہتا ہے، نرپھل نہیں رہتا۔ یہ سن راجا نے ان سب باتوں کو غور کر اس وقت کچھ جواب نہ دیا، پر اس سے یہ کہا کہ مجھے بھوک لگی ہے، کہیں سے کچھ کھانے کو لا۔
چرم دیو نے کہا مہاراج! یہاں ان بھوجن نہ ملے گا، یہ کہہ، جنگل میں جا، ایک ہرن مار، کھیسے سے چکمک نکال، آگ سلگا، گوشت کے بھستکے بھون، راجا کو خوب سے کھلا، آپ بھی کھائے۔ غرض جب راجا کا پیٹ بھر چکا تو اس نے کہا، اے راج پتر! اب ہمیں نگر لے چلو کہ راہ مجھے معلوم نہیں۔ اس نے راجا کو نگر میں لا، اس کے مندر میں پہنچا دیا۔ تب راجا نے اس کی چاکری مقرر کر دی، اور بہت سے اسے بستر آبھوشن دیے، پھر وہ راجا کی سیوا میں حاضر رہنے لگا۔
غرض ایک دن راجا نے کسی کام کے لیے سمندر کے کنارے اس راج پتر کو بھیجا۔ وہ جب کنارے پہنچا تو اس نے ایک دیوی کا مندر دیکھا۔ اس میں جا، دیوی کی پوجا کی۔ لیکن جب یہ وہاں سے باہر نکلا، تو وہیں اس کے پیچھے سے ایک سندر نائکا آ، اس سے پوچھنے لگی، اے پرش! تو کس لیے یہاں آیا ہے؟ وہ بولا عیش کے لیے آیا ہوں، اور تیرے روپ کو دیکھ میں مفتون ہوا ہوں۔
اس نے کہا جو مجھ سے کچھ ارادہ رکھتا ہے تو پہلے کنڈ میں جا کر اشنان کر، پھر اس کے پیچھے جو تو کہے گا سو میں سنوں گی۔ یہ سنتے ہی وہ کپڑے اتار، تالاب میں پیٹھ، غوطہ مار، نکل کر دیکھے تو اپنے نگر میں کھڑا ہے۔ اس اچنبھے کو دیکھ ترنت ترسناک ہو لاچار اپنے گھر جا، اور کپڑے پہن، راجا کے پاس آ سب برتانت کہا۔ راجا نے سنتے ہی کہا، مجھے بھی یہ اچنبھا دکھا۔ یہ کہتے ہی سواری منگا، دونوں سوار ہو کر چلے۔ کتنے دنوں کے عرصے میں ساگر کے کنارے آئے۔ اسی دیوی کے مندر میں جا کر پوجا کی۔ پھر راجا جب باہر نکلا تو وہی نائکا ایک سکھی ساتھ لیے راجا کے پاس آن کھڑی ہوئی، اور راجا کا روپ دیکھ، موہت ہو، بولی اے راجا! جو مجھے آگیا دے سو میں کروں۔ راجا نے اسے اتر دیا، جو میرا کہا کرے، تو میرے سیوک کی ستری ہو۔ وہ بولی، میں تیرے روپ کی آدھین ہوئی ہوں، اس کی جورو کس طرح سے ہوؤں۔ راجا نے کہا ابھی تو تو نے مجھ سے کہا، جو تو حکم کرے گا سو میں کروں گی، اور سجن جس بات کو کہتے ہیں، اس کا نباہ کرتے ہیں۔ اپنے بچن کو پال، میرے سیوک کی جورو ہو۔ یہ سن کے وہ بولی، جو آپ نے کہا سو مجھے پرمان ہے، تب راجا سیوک کا گندھرب بیاہ کر، دونوں کو ساتھ لے، اپنے راج دھام میں آیا۔ اتنی بات کہہ بیتال بولا راجا! بتاؤ سوامی اور سیوک میں کس کا ست ادھک ہوا۔
راجا بولا، سیوک کا۔ پھر بیتال بولا کہ جس راجا نے ایسی سندری ستری پا، سیوک کو دی، تس راجا کا ست ادھک نہ ہوا؟ تب راجا بیر بکرماجیت نے کہا، جن کا دھرم اپکار کرنا ہے، تن کے اپکار کرنے میں ادھک کیا ہے؟ اور جو آپ کا جی ہو پر کاج کرے سو ہی ادھک ہے، اس کارن سیوک کا ست ادھک ہوا۔ یہ بات سن، بیتال اسی ترور پر جا لٹکا، اور راجا جا، پھر اسے وہاں سے اتار، کاندھے پر رکھ، لے چلا۔
这一章在你心里留下了什么?
登录后参与
讨论
还没有人开口。说说这一章触动了你什么。