Urdu in Translation
搜索

第 8 章,共 26 章

第七个故事:三界美女与四个求婚者

Tale 7: Tribhuvan Sundari and the Four Suitors

ساتویں کہانی

马兹哈尔·阿里·汗·维拉

文字
字号

ساتویں کہانی

پھر بیتال بولا کہ اے راجا! چمپا پور نام ایک نگر ہے، وہاں کا راجا چمپکیشور، اور ناری کا نام سلوچنا، اور بیٹی کا نام تربھون سندری، سو اتی سندری ہے، جس کا مکھ چندرماں سا، بال گھٹا سے، آنکھیں مرگ کی سی، بھویں دھنک سی، ناک کیر کی سی، گلا کپوت کا سا، دانت انار کے سے دانے، ہونٹوں کی لالی کنٹوری کی سی، کمر چیتے کی سی، ہاتھ پاؤں کومل کنول سے، رنگ چمپے کا سا۔ غرض اس کے جوبن کی جوت دن بدن بڑھتی تھی۔

جب وہ بالغہ ہوئی تو راجا رانی اپنے چت میں چنتا کرنے لگے۔ اور دیس دیس کے راجوں کو یہ خبر گئی کہ راجا چمپکیشور کے گھر میں ایسی کنیا پیدا ہوئی ہے کہ جس کے روپ کو دیکھتے ہی سر، نر، منی، موہت ہو رہتے ہیں۔ پھر ملک ملک کے راجوں نے اپنی اپنی مورتیں لکھوا لکھوا براہمنوں کے ہاتھ راجا چمپکیشور کے یہاں بھیجیں۔ راجا نے لے، اپنی بیٹی کو سب راجوں کی تصویریں دکھائیں، پر اس کے من میں کوئی نہ سہائی۔ تب تو راجا نے کہا تو سوئمبر کر۔ وہ بات بھی ان نے نہ مانی، اور اپنے باپ سے کہا، روپ، بل، گیان جس میں یہ تینوں گن ہونگے پتا اسے مجھے دینا۔

غرض جب کتنے دن بیتے تو چاروں دیس سے چار بر آئے۔ پھر ان سے راجا نے کہا، اپنا اپنا گن بدیا میرے آگے ظاہر کر کہو۔ ان میں سے ایک بولا، مجھ میں یہ بدیا ہے کہ ایک کپڑا میں بنا کر بیچتا ہوں، جب اس کا مول میرے ہاتھ آتا ہے، تب اس میں سے ایک لعل براہمن کو دیتا ہوں، دوسرا دیوتا کو چڑھاتا ہوں، تیسرا اپنے انگ لگاتا ہوں، چوتھا ستری کے واسطے رکھتا ہوں، پانچویں کو بیچ کر روپے لے، نت بھوجن کرتا ہوں۔ یہ بدیا دوسرا کوئی نہیں جانتا اور میرا جو روپ ہے سو ظاہر ہے۔

دوسرا بولا، میں جل تھل کے پشو پنچھی کی بھاشا جانتا ہوں، میرے بل کا دوسرا نہیں، اور سندر تائی میری آپ کے آگے ہے۔ تیسرے نے کہا، میں ایسا شاستر سمجھتا ہوں کہ میرے سمان دوسرا نہیں، اور خوبصورتی میری تمہارے روبرو ہے۔ چوتھے نے کہا میں شستر بدیا میں ایک ہی ہوں، دوسرا مجھ سا نہیں، شبد بیدھے تیر مارتا ہوں، اور میرا حسن جگ میں روشن ہے، آپ بھی دیکھتے ہی ہیں۔

یہ چاروں کی بات سن راجا اپنے جی میں چنتا کرنے لگا، کہ چاروں گن میں برابر ہیں، کسے کنیا دوں۔ یہ سوچ کر اس نے بیٹی کے پاس جا چاروں کا گن بیان کیا، اور کہا میں تجھے کسے دوں۔ یہ سن کے وہ لاج کی ماری نیچی گردن کر چپ ہو رہی، اور کچھ جواب نہ دیا۔

اتنی بات کہہ، بیتال بولا اے راجا بکرم! یہ ستری کس کے جوگ ہے؟ راجا نے کہا جو کپڑا بنا کر بیچتا ہے سو ذات کا شودر ہے۔ اور جو بھاشا جانتا ہے وہ ذات کا ویش ہے۔ جو شاستری پڑھا ہے سو براہمن ہے۔ اور شبد بیدھی اس کا سجاتی ہے، یہ ستری اس کے لائق ہے۔ اتنی بات سن بیتال پھر اسی پیڑ پر جا لٹکا، اور راجا بھی وہاں جا، اسے باندھ، کاندھے پر رکھ، لے چلا۔

这一章在你心里留下了什么?

登录后参与

讨论

还没有人开口。说说这一章触动了你什么。

喜欢这一章吗?分享其中的一句话吧。