Urdu in Translation
搜索

第 7 章,共 26 章

Рассказ 6: Перепутанные головы

Tale 6: The Transposed Heads

چھٹی کہانی

Мазхар Али Хан Вила

文字
字号

چھٹی کہانی

پھر بیتال بولا اے راجا! دھرم پور نام ایک نگر ہے، وہاں کا راجا دھرم شیل، اور اس کے منتری کا نام اندھک۔ اس نے ایک دن راجا سے کہا مہاراج! ایک مندر بنا، اس میں دیوی کو بٹھا، نت پوجا کیجیے، کہ اس کا شاستر میں بڑا پنیہ لکھتا ہے۔ تب راجا ایک مندر بنوا، دیوی پدھرائے شاستر کی بدھی سے پوجا کرنے لگا، اور بن پوجا کیے جل بھی نہ پیتا تھا۔ اس طرح سے جب کتنی ایک مدت گزری، تو ایک روز دیوان نے کہا مہاراج! مثل مشہور ہے کہ، نپوتے کا گھر سونا، مورکھ کا ہردیے سونا، اور دلدری کا سب کچھ سونا ہے۔

یہ بات سن، راجا دیوی کے مندر میں جا، ہاتھ جوڑ، ستتی کرنے لگا، کہ ہے دیوی! تجھے برہما بشن رودر، اندر، آٹھ پہر سیوتے ہیں، اور تو نے مہی شاسر چنڈ منڈ رکت بیج لے دیتیوں کو مار پرتھوی کا بھار آتار، اور جہاں جہاں تیرے بھگت کو بپت پڑی، تہاں تہاں جا تو سہائی ہوئی، اور یہی آس تک، میں تیرے دوارے پر آیا ہوں، اب میرے بھی من کی اچھا پوری کر۔ اتنی ستتی جب راجا کر چکا، تب دیوی کے مندر سے آواز آئی، کہ راجا! میں تجھ سے خوش ہوئی، بر مانگ، جو تیرے من میں ہے۔ راجا بولا، ہے ماتا! جو تو مجھ سے خوش ہوئی تو مجھ کو پتر دے۔ دیوی نے کہا راجا! تیرے پتر ہوگا مہابلی اور بڑا پرتاپی۔ تب تو راجا نے چندن، اکشت، پھول، دھوپ دیپ نیویدیا دے کر پوجا کی، اور اسی طرح سے ہر روز پوجا کرتا تھا۔

غرض کتنے دنوں کے پیچھے راجا کے ایک لڑکا پیدا ہوا۔ راجا نے باجے گاجے سے کٹمب سمیت جا کر دیوی کی پوجا کی۔ اس عرصے میں ایک دن کا اتفاق ہے کہ کسی نگر سے ایک دھوبی اپنے دوست کو ساتھ لیے اس شہر کی طرف آتا تھا، کہ دیوی کا مندر اسے نظر آیا۔ اس نے ڈنڈوت کرنے کا ارادہ کیا، اس میں ایک دھوبی کی لڑکی اتی سندری سامنے سے آتی اس نے دیکھی۔ اسے دیکھ موہت ہوا، اور دیوی کے درشن کو گیا۔ ڈنڈوت کر، ہاتھ جوڑ، اس نے اپنے من میں کہا، ہے دیوی! جو اس سندری سے میرا بواہ تیری کرپا سے ہو تو میں اپنا سر تجھے چڑھاؤں۔ یہ منت مان، ڈنڈوت کر، دوست کو ساتھ لے، اپنے نگر کو گیا۔ جب وہاں پہنچا، تو اس کے برہ نے یہ ستایا کہ نیند بھوک پیاس سب بسر گئی۔ آٹھ پہر اسی کے دھیان میں رہنے لگا۔ یہ بری حالت اس کے دوست نے دیکھ اس کے باپ سے جا سب بیورے وار کہا۔ اس کا پتا بھی یہ سن بھونچکا ہو رہا، اور اپنے جی میں چنتا کر کہنے لگا، کہ اس کی دشا دیکھ ایسا معلوم ہوتا ہے جو اس کنیا سے اس کی سگائی نہ ہوگی تو یہ اپنا پران تیاگ کرے گا۔ اس سے بہتر یہ ہے کہ اس لڑکی سے اس کا بیاہ کر دیجیے کہ جس سے یہ بچے۔

اتنا بچار کر پتر کے متر کو ساتھ لے، اس گاؤں میں پہنچ، اس لڑکی کے پتا سے جا کر کہا، میں تیرے پاس کچھ جاچنے آیا ہوں، جو تو دیوے تو میں کہوں۔ ان نے کہا میرے پاس وہ پدارتھ ہوگا تو میں دوں گا، تو کہہ۔ اس طرح سے بچن بندھ سہرا کہا، تو اپنی لڑکی میرے پتر کو دے۔ یہ سن کے ان نے بھی اس کی بات پرمان کر براہمن کو بلوا، دن لگن مہورت ٹھہرا کر کہا، تم لڑکے کو لے آؤ، میں بھی اپنی لڑکی کے ہاتھ پیلے کر دوں گا۔

یہ سن وہ وہاں سے اٹھ، اپنے گھر آ، سب سامان شادی کا تیار کر، بیاہنے کو گیا۔ اور وہاں جا، بواہ کر، بیٹے بہو کو لے، پھر اپنے گھر آیا، اور دولہا دلہن آپس میں آنند سے رہنے لگے۔ پھر کتنے دنوں کے بعد اس لڑکی کے پتا کے یہاں کچھ شبھ کرم تھا، سو وہاں سے نوتا ان کو بھی آیا، یہ ستری پرش تیار ہو، اپنے متر کو ساتھ لے اس نگر کو چلے۔ جب نگر کے نکٹ پہنچے تو دیوی کا مندر نظر آیا، تو اسے وہ بات یاد آئی۔ تب ان نے اپنے جی میں بچار کر کہا میں بڑا استیہ بادی ادھرمی ہوں کہ دیوی سے بھی جھوٹ بولا۔

اتنی بات اپنے من میں کہہ اس دوست سے کہا، تم یہاں کھڑے رہو، میں دیوی کا درشن کر آؤں۔ اور ستری کو کہا تو بھی یہاں ٹھہر۔ یہ کہہ، مندر کے پاس پہنچ، کنڈ میں سنان کر، دیوی کے سنمکھ جا، کر جوڑ، نمسکار کر، کھڑگ اٹھا، گردن پر مارا کہ سر تن سے جدا ہو، بھوئیں میں گرا۔ غرض کتنی دیر پیچھے اس کے متر نے بچارا کہ اسے گئے بڑی دیر ہوئی ہے، اب تک پھرا نہیں چل کر دیکھا چاہیے۔ اور اس کی ستری کو کہا، تو یہاں کھڑی رہ، میں اسے شتابی سے ڈھونڈھ کے لے آتا ہوں۔ یہ کہہ کر دیوی کے مندر میں گیا، دیکھتا کیا ہے کہ دھڑ سے اس کا سر جدا پڑا ہے۔ یہ حالت وہاں کی دیکھ، اپنے من میں کہنے لگا، کہ سنسار بہت کٹھن جگہ ہے، کوئی یہ نہ سمجھے گا کہ ان نے اپنے ہاتھ سے سیس دیوی کو چڑھایا ہے، بلکہ یہ کہیں گے کہ اس کی ناری جو اتی سندری تھی اس کے لینے کے لیے مار کر یہ مکر کرتا ہے، اس سے یہاں مرنا اچت ہے، پر سنسار میں بدنامی لینی خوب نہیں۔

یہ کہہ تالاب میں نہا، دیوی کے سامنے آ، ہاتھ جوڑ، پرنام کر، کھانڈا اٹھا، گلے میں مارا کہ رنڈ سے منڈ جدا ہو گیا۔ اور یہ یہاں اکیلی کھڑی کھڑی اکتا کر راہ دیکھ دیکھ نراس ہو، ڈھونڈھتی ہوئی دیوی کے مندر میں گئی۔ وہاں جا کے دیکھتی کیا ہے کہ دونوں موئے پڑے ہیں۔ پھر ان دونوں کو موا دیکھ ان نے اپنے جی میں بچارا، لوگ تو یہ نہ جانیں گے کہ آپ سے دیوی کو یہ بل چڑھے ہیں، سب کہیں گے کہ رانڈ فاجرہ تھی، بدکاری کرنے کے لیے دونوں کو مار آئی ہے، اس بدنامی سے مرنا اچت ہے۔

یہ سوچ کر سرووَر میں غوطہ مار، دیوی کے سنمکھ آ، سر نوا، ڈنڈوت کر، تلوار اٹھا، چاہے گردن میں مارے کہ دیوی نے سنگھاسن سے اتر اس کا ہاتھ آن کے پکڑا اور کہا پتری! بر مانگ، میں تجھ سے پرسن ہوئی۔ تب ان نے کہا ماتا! جو تو مجھ سے خوش ہوئی ہے تو ان دونوں کو جی دان دے۔ پھر دیوی نے کہا، ان کے دھڑوں سے سر لگا دے۔ ان نے سارے خوشی کے گھبراہٹ سے سر بدل کے لگا دیے، اور دیوی نے امرت لا چھڑک دیا۔ یہ دونوں جی کر اٹھ کھڑے ہوئے، اور آپس میں جھگڑنے لگے، یہ کہے ستری میری، اور وہ کہے ستری میری۔

اتنی کتھا کہہ بیتال بولا کہ اے راجا بیر بکرماجیت! ان دونوں میں وہ ستری کس کی ہوئی؟ راجا نے کہا سن، شاستر میں اس کا پرمان لکھتا ہے، کہ ندیوں میں گنگا اتم ہے، اور پربتوں میں سمیرو پربت شریشٹ ہے، اور برکشوں میں کلپ برکش، انگوں میں مستک اتم ہے۔ اس نیاؤ سے جس کا اتم انگ ہے اسی کی ستری ہوئی۔ اتنی بات سن، بیتال پھر چلا گیا اور اسی درخت پر جا لٹکا، پھر راجا بھی جا اس کو پیڑ سے اتار، گٹھڑی باندھ، کاندھے پر رکھ کر لے چلا۔

这一章在你心里留下了什么?

登录后参与

讨论

还没有人开口。说说这一章触动了你什么。

喜欢这一章吗?分享其中的一句话吧。