
Chapitre 3 sur 26
Conte 2 : Madhumalti et les trois prétendants
Tale 2: Madhumalti and the Three Suitors
دوسری کہانی
دوسری کہانی
راجا دیکھے تو بیتال نہیں ہے پھر الٹا پھرا اور اس جگہ پہنچ، درخت پر چڑھ، اس مردے کو باندھ، کاندھے پر رکھ کے لے چلا۔ تب بیتال بولا کہ راجا! دوسری کتھا یوں ہے کہ جمنا کے تیر دھرمستھل نام ایک نگر ہے، کہ جہاں کا گنا دھپ نام راجا، اور وہاں کیشو نام براہمن ہے، کہ وہ جمنا کے کنارے جپ تپ کیا کرتا ہے اور اس کی بیٹی کا نام مدھو مالتی، وہ بڑی خوبصورت تھی، جب بیاہنے جوگ ہوئی، تب اس کے ماتا پتا بھائی تینوں اس کی شادی کی فکر میں تھے۔
اتفاقاً ایک روز اس کا باپ کسی اپنے ججمان کے ساتھ شادی میں کہیں گیا تھا، اور بھائی اس کا ایک روز گاؤں میں گرو کے یہاں پڑھنے، کہ پیچھے ان کے گھر میں ایک براہمن کا لڑکا آیا، اس کی ماں نے اس لڑکے کا گن روپ دیکھ کر کہا، میں اپنی لڑکی کی شادی تجھ سے کروں گی۔ اور وہاں براہمن نے ایک بھمنیٹے کو بیٹی دینی قبول کی، اور اس کے بیٹے نے جہاں پڑھنے گیا تھا، وہاں ایک براہمن سے بچن ہارا کہ اپنی بہن تجھے دوں گا۔ کتنے دنوں کے پیچھے دونوں ان دونوں لڑکوں کو ساتھ لے آئے اور وہاں تیسرا لڑکا آگے سے بیٹھا تھا۔ ایک کا نام تربی کرم، دوسرے کا نام بامن، تیسرے کا نام مدھوسودن، وے تینوں روپ، گن، بدیا بیس میں برابر تھے۔ انہوں کو دیکھ کر براہمن چنتا کرنے لگا کہ ایک کنیا اور تین بر، کسے دوں کسے نہ دوں، اور ہم تینوں نے ان تینوں سے بچن ہارا ہے۔ عجب طرح کی بات پیش آئی، کیا کیجیے؟ اس فکر میں بیٹھا تھا کہ اتنے میں اس لڑکی کو سانپ نے ڈسا، وہ مر گئی۔ یہ خبر سن کے اس کا باپ، بھائی، وے تینوں لڑکے، پانچوں مل کر بڑی دوڑ دھوپ کر گنی گاڑرو جتنے منتر سے بش کے جھاڑنے والے تھے، ان سب کو لائے۔ ان سبھوں نے اس لڑکی کو دیکھ کر کہا، یہ جینے کی نہیں۔ پہلا یوں بولا کہ پنچمی، چھٹھ، اشٹمی، نومی، چودس ان تتھوں میں سانپ کا کاٹا آدمی جیتا نہیں۔ دوسرا بولا سنیچر، منگلوار، کا ڈسا ہوا بھی جیتا نہیں۔ تیسرا بولا روہنی مگھا اشلیشا وشاکھا مول کرتکا ان نکشتروں کا بش چڑھا ہوا اترتا نہیں۔ چوتھا بولا اندری، ادھر، کپول، گلا، کوکھ، نابھی، ان انگوں کا کاٹا ہوا بچتا نہیں۔ پانچواں بولا یہاں برہما بھی جلا نہیں سکتا، ہم کس گنتی میں ہیں؟ اب آپ اس کی گتی کیجیے۔ ہم بدا ہوتے ہیں۔ یہ کہہ کر گنی تو چلے گئے اور براہمن اس مردے کو لے جا، مسان میں پھونک، آپ تو چلا گیا، پھر اس کے پیچھے ان تینوں جوانوں نے یہ کیا کہ ایک نے تو ان میں سے اس کی جلی ہوئی ہڈیوں کو چن، باندھ، فقیر ہو، بن بن کی سیر کو گیا۔ دوسرے نے اس کی راکھ کی گٹھری باندھ، وہیں رہنے لگا۔ تیسرا جوگی ہو، جھولی کنتھا لے دیس بہ دیس پھرنے لگا۔
ایک دن کسو دیس میں ایک براہمن کے گھر بھوجن کے لیے گیا۔ وہ گرہستھی براہمن اسے دیکھ کے کہنے لگا، اچھا آج یہاں بھوجن کیجیے۔ یہ سن کے وہاں بیٹھ گیا۔ جس وقت رسوئی تیار ہوئی، اس کے ہاتھ پاؤں دھلا لے جا چوکے میں بٹھا، آپ بھی اس کے پاس بیٹھ گیا اور اس کی برہمنی پروسنے کو آئی۔ کچھ پروس گئی کچھ پروسنا باقی تھا، کہ اتنے میں اس کے چھوٹے لڑکے نے رو کر اپنی ماں کا آنچل پکڑا۔ وہ چھڑاتی تھی اور لڑکا نہ چھوڑتا تھا، اور جوں جوں یہ بہلاتی تھی، وہ لڑکا دونا دونا روتا اور ہٹ کرتا تھا۔ اس میں اس براہمنی نے خفا ہو، لڑکے کو جلتے چولہے میں اٹھا کر پھینک دیا، وہ لڑکا جل کر خاک ہو گیا۔
یہ احوال جب اس براہمن نے دیکھا، تو بنا کھائے اٹھ کھڑا ہوا۔ تب وہ گھر والا بولا کہ تو کس واسطے بھوجن نہیں کرتا۔ وہ بولا کہ جس کے گھر میں ایسا راکشس کام ہو، اس کے گھر میں کس طرح سے کوئی بھوجن کرے۔ یہ سن کر گرہستھ اٹھ کر ایک اور طرف اپنے گھر میں گیا، اور سنجیونی بدیا کی پوتھی لا، اس میں سے ایک منتر نکال، جپ کر، لڑکے کو جلا دیا۔ تب وہ براہمن یہ عجائب دیکھ، اپنے جی میں چنتا کرنے لگا، جو یہ پوتھی میرے ہاتھ لگے، تو میں بھی اپنی پیاری کو جلاؤں۔ یہ اپنے من میں ٹھان، رسوئی کھائی اور وہیں رہا۔
غرض جب رات ہوئی تو کتنی ایک دیر کے پیچھے سب نے بیالو کیا، اور اپنی اپنی جگہ جا لیٹے۔ ادھر ادھر کی آپس میں باتیں کرتے تھے۔ یہ براہمن بھی ایک طرف جا کر پڑا رہا، لیکن پڑا پڑا جاگتا تھا۔ جب ان نے جانا کہ بڑی رات گئی اور سب سو گئے، تب چپکا اٹھ آہستہ آہستہ اس کے گھر میں پیٹھ وہ پوتھی لے چل دیا، اور کتنے دنوں میں چلا چلا جس مسان میں کہ اس براہمن کی بیٹی کو جلایا تھا، وہاں آن پہنچا۔ ان دونوں براہمنوں کو بھی وہاں پایا کہ آپس میں بیٹھے ہوئے باتیں کرتے تھے۔ ان دونوں نے بھی اسے پہچان، اس کے پاس آ، ملاقات کی اور پوچھا کہ بھائی تم دیس بدیس تو پھرے پر یہ کہو کہ کوئی بدیا بھی سیکھی؟ وہ بولا میں نے مرتیو سنجیونی بدیا سیکھی ہے۔ یہ سنتے ہی بولے جو سیکھے ہو تو ہماری پیاری کو جلاؤ۔ اس نے کہا کہ راکھ ہاڑ کا ڈھیر کرو، تو میں جلا دوں۔ انہوں نے راکھ ہڈیاں اکٹھی کر دیں، تب اس نے پوتھی میں سے ایک منتر نکال جپا، وہ کنیا جی اٹھی۔ پھر ان تینوں کو کام دیو نے یہ اندھا کیا کہ آپس میں جھگڑنے لگے۔
اتنی بات کہہ کر بیتال بولا، اے راجا! یہ بتا کہ وہ ستری کس کی ہوئی؟ راجا بکرم بولا کہ جو منڈھی باندھ کر رہا تھا وہ ناری اسی کی ہوئی۔ بیتال بولا جو وہ ہاڑ نہ رکھتا تو وہ کس طرح سے جیتی؟ اور دوسرا بدیا نہ سیکھ آتا تو وہ کیونکر اسے جلاتا؟ راجا نے جواب دیا کہ جس نے اس کی ہڈیاں رکھی تھیں، وہ تو اس کے بیٹے کی جگہ ہوا، اور جس نے جیو دان دیا وہ گویا اس کا باپ ہوا، اس سے وہ جورو اسی کی ہوئی کہ جو راکھ سمیت جھونپڑی باندھ، وہاں رہا۔ یہ جواب سن کے بیتال پھر اسی درخت میں جا لٹکا۔ راجا بھی اس کے پیچھے پیچھے جا پہنچا، اور اسے باندھ، کاندھے پر رکھ، پھر لے چلا۔
Que vous laisse ce chapitre ?
Connectez-vous pour réagir
Discussion
Personne n’a encore parlé. Dites ce que ce chapitre a remué en vous.