Urdu in Translation
Search
Bookmark

Chapter 23 of 26

Tale 22: The Old Yogi in a Young Body

بائیسویں کہانی

Mazhar Ali Khan Vila

Script
Size

بائیسویں کہانی

بیتال بولا اے راجا! بشو پور نام نگر، وہاں کا بدگدھ نام راجا، اس کے نگر میں نارائن نام براہمن تھا۔ وہ ایک دن اپنے من میں چنتا کرنے لگا، کہ میرا شریر بردھ ہوا، اور میں دوسرے کی کایا میں پیٹھنے کی بدیا جانتا ہوں، اس سے بہتر یہ ہے کہ اس پرانی دیہ کو چھوڑ اور کسو جوان کے شریر میں جا کے بھوگ کروں۔

جب وہ یہ اپنے جی میں بچار کر چکا، اور ایک ترن شریر میں پیٹھنے لگا، تو پہلے رویا اور پیچھے ہنسا، پھر اس میں پیٹھ کے اپنے گھر میں آیا۔ لیکن اس کے سارے کٹمب کے لوگ اس کے کرتب سے واقف تھے، پھر ان کے آگے کہنے لگا، کہ میں اب جوگی ہوا۔ اتنا کہہ کے پڑھنے لگا، آسا کے سرور کو تپسیا کے تیج سے سکھا، تس میں من کو رکھ اندریوں کو استھل کرے سو جوگی چتر کہاوے۔

اور یہ گتی سنسار کے لوگوں کی ہے کہ انگ گلے، منڈ ہلے، دانت گریں، بوڑھے ہو، لاٹھی لے، پھریں تو بھی ترشنا نہیں مٹتی، اور اسی طرح سے کال چلا جاتا ہے، دن ہوا، رات ہوئی، برس ہوا، مہینہ ہوا، بالک ہوا، بوڑھا ہوا، اور کچھ نہیں معلوم کہ میں کون ہوں، اور لوگ کون ہیں، اور کون کس لیے کسو کا سوگ کرتا ہے، ایک آتا ہے ایک جاتا ہے، اور انت کال سب جی جانے والے ہیں، ان میں سے ایک نہ رہے گا۔

انیک انیک انگ ہیں، اور انیک انیک من ہیں، اور انیک انیک موہ ہیں، بھانتی بھانتی کے پاشنڈ برہما نے رچے ہیں، پر بدھیوان ان سے بچ، آسا اور ترشنا کو مار، سر منڈا، ہاتھ میں ڈنڈ کمنڈل لے، کام کرودھ کو مار، جوگی ہو، ننگے پاؤں تیرتھ تیرتھ ڈولتے پھرتے ہیں، سو موکش پدارتھ پاتے ہیں۔ اور یہ سنسار سپنے کی طرح ہے، اس میں کس کی خوشی کیجیے، اور کس کا غم۔ اور کیلے کے گابھے کی طرح سنسار ہے، اس میں سار کچھ نہیں، اور دھن جوبن بدیا کا جو گرو کرتے ہیں، سو اگیان ہیں۔ اور جو جوگی ہو کمنڈل ہاتھ میں لے بار بار بھیک مانگ، دودھ گھی چینی سے اپنے شریر کو پشٹ کر، کاماتر ہو، ستری سے بھوگ کرتے ہیں، سو اپنا جوگ کھاتے ہیں۔ اتنا پڑھ کر وہ بولا کہ اب میں تیرتھ یاترا کروں گا۔ یہ بات سن، اس کے کٹمب کے لوگ بہت خوش ہوئے۔

اتنی کہانی کہہ بیتال بولا اے راجا! کس کارن وہ رویا اور کس کارن وہ ہنسا؟ تب راجا نے کہا کہ بالک پن کا ماں کا پیار، اور جوانی کا سکھ یاد کر، اور اتنے دنوں اس دیہ کے رہنے کے موہ سے رویا، اور اپنی بدیا سدھی کر کے نئی کایا میں پیٹھ کے خوشی سے ہنسا۔ یہ بات سن بیتال اسی پیڑ پر جا لٹکا، پھر راجا اسی طرح سے باندھ، کاندھے پر رکھ، لے چلا۔

What did this chapter leave with you?

Sign in to react

Discussion

No one has spoken yet. Say what this chapter stirred in you.

Enjoyed this chapter? Share a line from it.