
Chapitre 22 sur 26
Рассказ 21: Четверо, сотворившие льва
Tale 21: The Four Who Made a Lion
اکیسویں کہانی
اکیسویں کہانی
بیتال بولا اے راجا! جئے ستھل نام نگر، وہاں کا وردھمان نام راجا، اس کے نگر میں بشنو سوامی نام براہمن، اس کے چار بیٹے، ایک جواری، دوسرا کسبی باز، تیسرا چھنلا، چوتھا ناستک۔ ایک دن وہ براہمن اپنے بیٹوں کو سمجھانے لگا، کہ جو کوئی جوا کھیلتا ہے اس کے گھر میں لکشمی نہیں رہتی۔ یہ سن وہ جواری اپنے جی میں بہت دق ہوا، اور پھر ان نے کہا کہ راج نیتی میں ایسا لکھتا ہے، کہ جواری کے ناک کان کاٹ دیس سے نکال دیجیے کہ اور لوگ جوا نہ کھیلیں۔ اور جواری کے جورو لڑکوں کو گھر میں ہوتے بھی گھر میں نہ جانیے، کیونکہ نہیں معلوم کس وقت ہار دے۔ اور جو کسبی کے چرتروں پر موہت ہوتے ہیں، سو اپنے جی کو دکھ بساتے ہیں۔ اور کسبی کے بس میں ہو سربس اپنا دے انت کو چوری کرتے ہیں۔ اور ایسے کہا ہے کہ جو ناری آدمی کے من کو ایک گھڑی میں موہ لے، ایسی ناری سے گیانی دور رہتے ہیں، اور اگیانی اس سے پریتی کر اپنا ست شیل جس آچار بچار نیم دھرم سب کھوتے ہیں۔ اور اس کو اپنے گرو کا اپدیس بھلا نہیں لگتا۔ اور ایسے کہا ہے کہ جس نے اپنی لاج کھوئی، دوسرے کو وہ کب بے حرمت کرنے سے ڈرتا ہے۔ اور مثل ہے کہ جو بلاؤ اپنے بچے کو کھاتا ہے سو چوہے کو کب چھوڑے گا۔
پھر کہنے لگا، کہ جنہوں نے بالک پن میں بدیا نہ پڑھی، اور جوانی میں کام سے آتر ہو جوبن کے گرو میں رہے، سو بردھ کال میں پچھتا کہ حرص کی آگ میں جلتے ہیں۔ یہ بات سن ان چاروں نے آپس میں بچار کر کہا کہ بدیا ہین پرش کے جینے سے مرنا بھلا ہے۔ اس سے اتم یہ ہے کہ بدیس میں جا کر بدیا پڑھیے۔ یہ بات آپس میں ٹھان وے ایک اور نگر میں گئے، اور کتنی ایک مدت بعد پڑھ کے پنڈت ہو اپنے گھر کو چلے۔ راہ میں دیکھتے کیا ہیں کہ ایک کنجر موئے ہوئے شیر کی ہڈی چمڑی جدا کر، گٹھڑی باندھ چاہے کہ لے جائے، اس میں انہوں نے آپس میں کہا کہ آؤ اپنی اپنی بدیا آزماویں۔
یہ ٹھہرا ایک نے اسے بلا کر کچھ دیا، اور وہ پوٹ لے اسے بدا کیا، اور رستے سے کنارے ہو اس موٹ کو کھول ایک نے ساری ہڈیاں جا بجا لگا منتر پڑھ چھینٹا مارا کہ وے ہاڑ لگ گئے۔ دوسرے نے اسی طرح سے ان ہڈیوں پر ماس جا دیا۔ تیسرے نے اسی بھانتی سے ماس پر چام بٹھا دیا۔ چوتھے نے اسی ریت سے اسے جلا دیا۔ پھر وہ اٹھتے ہی ان چاروں کو کھا گیا۔
اتنی کتھا کہہ بیتال بولا اے راجا! ان چاروں میں کون ادھک مورکھ تھا؟ راجا بکرم نے کہا، جس نے اسے جلا دیا سوئی بڑا مورکھ تھا۔ اور ایسا کہا ہے کہ بدھی بنا بدیا کسو کام کی نہیں۔ بلکہ بدیا سے بدھی اتم ہے، اور بدھی ہین اسی طرح مرتے ہیں جیسے سینہ کے جلانے والے موئے۔ یہ سن بیتال اسی درخت پر جا لٹکا، پھر راجا اسی طرح باندھ، کاندھے پر رکھ، لے چلا۔
Que vous laisse ce chapitre ?
Connectez-vous pour réagir
Discussion
Personne n’a encore parlé. Dites ce que ce chapitre a remué en vous.