Urdu in Translation
Search

Chapter 20 of 26

Рассказ 19: Мальчик, засмеявшийся перед смертью

Tale 19: The Boy Who Laughed Before Dying

انیسویں کہانی

Мазхар Али Хан Вила

Script
Size

انیسویں کہانی

بیتال بولا اے راجا! چتر کوٹ نام ایک نگر ہے، تہاں کا روپ دت نام راجا۔ ایک دن اکیلا سوار ہو شکار کو گیا، سو بھولا ہوا ایک مہابن میں جا نکلا۔ وہاں جا کے دیکھتا کیا ہے کہ ایک بڑا سا تالاب ہے، اس میں کنول کھل رہے ہیں، اور بھانت بھانت کے پنچھی کلول کر رہے ہیں۔ تالاب کے چاروں اور برکشوں کی گھنی گھنی چھاؤں میں ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا سگندھوں کے ساتھ آ رہی ہے۔ یہ بھی دھوپ کا تونسا ہوا تھا، گھوڑے کو ایک درخت سے باندھ، زین پوش بچھا کر بیٹھ گیا۔ گھڑی ایک بیتی تھی کہ ایک رشی کنیا اتی سندر جوبن وتی وہاں پشپ لینے کو آئی۔ اسے پھول توڑتے ہوئے دیکھ راجا اتی کام کے بس ہوا۔ جب وہ پھول چونٹ اپنے استھان کو چلی، تب راجا بولا کہ، یہ تمہارا کیسا آچار ہے کہ ہم تمہارے آشرم میں اتتھی آئے، اور تم ہماری سیوا نہ کرو! یہ سن کے وہ پھر کھڑی ہوئی۔ تب راجا نے کہا کہ ایسے کہتے ہیں کہ اتم برن کے گھر جو نیچ برن بھی اتتھی آوے، تو وہ بھی پوجنیہ ہے، اور چور ہو یا چنڈال، شترو ہو یا پتری گھاتک، پر جو وہ بھی اپنے گھر آوے تو اس کی بھی پوجا کرنی اچت ہے، کیونکہ اتتھی سب کا گرو ہے۔ اس طرح سے جب راجا نے کہا، تب وہ کھڑی ہوئی۔ پھر دونوں آنکھیں لڑانے لگے، اس میں وہ منی بھی آ پہنچا۔ راجا نے اس تپسی کو دیکھ نمسکار کیا، اور ان نے اشیرباد دیا، کہ چرنجیو رہو۔ اتنا کہہ اس نے راجا سے پوچھا کہ یہاں کس کارن آئے ہو؟ اس نے کہا مہاراج! شکار کرنے آیا ہوں۔ وہ بولا کہ کس لیے تو مہاپاپ کرتا ہے؟

ایسا کہا ہے کہ ایک جن پاپ کرتا ہے، اور انیک جن اس کے پاپ کا پھل بھگتتے ہیں۔ راجا نے کہا کہ مہاراج! مجھ پر کرپا کر کے دھرم ادھرم کا بچار کہو۔ تب وہ منی بولا سنیے مہاراج! کہ جو جیو ترن جل کھا، بن باس کرتے ہیں، تن کے مارنے سے بڑا ادھرم ہوتا ہے۔ اور پشو پنچھی منش کے پرتی پال کرنے کا بڑا دھرم ہے۔ اور ایسا کہا ہے کہ جو بھئے مان اور سرن آئے کو نربھئے کر دیتے ہیں، سو مہادان کا پھل لیتے ہیں۔ اور ایسا کہا ہے کہ، کشما برابر تپ نہیں، اور سنتوش سمان سکھ۔ مترتا تلیہ دھن نہیں، اور دیا سم دھرم۔ اور جو نر اپنے دھرم میں ساودھان ہے، اور دھن، گن، بدیا، جس، پربھتا پا ابھیمان نہیں کرتے، اور جو اپنی ستری سے سنتشٹ ہیں، اور ستیہ وادی ہیں، سو انت کال مکتی گتی پاتے ہیں۔ اور جو جٹا دھاری وستر ہین نرا یدھ کو ہنتے ہیں، وے لوگ انت سمے نرک بھوگ کرتے ہیں، اور جو راجا رعیت کے دکھ دائیوں کو نہیں ڈنڈ دیتا، وہ بھی نرک بھگتتا ہے۔ اور جو راج پتنی یا متر کی ستری، یا کنیا، یا آٹھ نو مہینے کی گربھنی سے بھوگ کرتے ہیں، سو مہا نرک میں پڑتے ہیں، ایسا دھرم شاستر میں کہا ہے۔

یہ سن راجا نے کہا، آج تک نادانی سے جو پاپ کیا سو کیا، پھر بھگوان نے چاہا تو میں نہ کروں گا۔ راجا کے اس کہنے سے منی نے پرسن ہو کے کہا، کہ جو تو بر مانگے سو دوں، میں تجھ سے بہت سنتشٹ ہوا۔ تب راجا نے کہا کہ مہاراج! جو تم مجھ پر تشٹ ہوئے تو اپنی کنیا مجھے دو۔ یہ سن کے منی نے اپنی پتری راجا کے گندھرب بواہ کی ریت سے بیاہ دی، اور آپ اپنے استھان کو گیا۔ پھر راجا رشی کنیا کو لے اپنے نگر کی طرف چلا، کہ رستے میں قریب آدھی دور کے سورج است ہوا، اور چندرماں ادے۔ تب راجا ایک درخت گھنا سا دیکھ، اس کے نیچے اتر، گھوڑا اس کی جڑ سے باندھ، آپ زین پوش بچھا، دونوں سو رہے۔

پھر دو پہر رات کے سمے ایک برہم راکشس نے آ راجا کو جگا کر کہا، کہ ہے راجا، میں تیری ستری کو کھاؤں گا۔ راجا نے کہا ایسا مت کر، جو تو مانگے گا سو میں دوں گا۔ تب راکشس نے کہا کہ اے راجا! جو تو سات برس کے براہمن کے لڑکے کا سر کاٹ کر اپنے ہاتھ سے مجھے دے تو میں اسے نہ کھاؤں۔ راجا نے کہا ایسے ہی میں کروں گا، پر آج کے ساتویں دن تو میرے نگر میں آئیو میں تجھے دوں گا۔

اسی طرح سے راجا کو بچن بندھ کر راکشس اپنے استھان کو گیا، اور بھور ہوئے راجا بھی اپنے محل میں آ داخل ہوا۔ منتری نے سن کے بہت سی شادی کی، اور آ کے بھینٹ دی، اور راجا نے منتری سے وہ برتانت کہہ کر پوچھا، کہ ساتویں دن راکشس آوے گا، کہو اس کا یتن کیا کریں! منتری نے کہا مہاراج! آپ کسی بات کی چنتا نہ کیجیے، بھگوان سب بھلا کرے گا۔

اتنا کہہ منتری نے سوا من کنچن کا ایک پتلا بنوا، اس میں جواہر جڑوا، ایک چھکڑے پر رکھوا، چوراہے میں کھڑا کروا کر اس کے رکھوالوں سے کہا کہ جو کوئی اس کے دیکھنے کو آوے یہی اس سے کہو، کہ جو براہمن اپنے سات برس کے لڑکے کا راجا کو سر کاٹنے دے سو اسے لے۔ یہ کہہ کر چلا آیا، پھر لوگ جو اس کے دیکھنے کو آتے تھے اس سے چوکیدار یہی کہتے تھے۔ دو دن تو یونہی بیتے، پر تیسرے دن اسی نگر کا ایک دربل سا براہمن، کہ جس کے تین بیٹے تھے، وہ یہ بات سن، گھر میں آ، براہمنی سے کہنے لگا، کہ ایک پتر اپنے راجا کو بلی کے واسطے دے تو سوا من سونے کا پتلا جڑاؤ گھر میں آوے۔

یہ سن براہمنی بولی، کہ چھوٹے لڑکے کو میں نہ دوں گی۔ براہمن نے کہا، بڑے کو میں نہ دوں گا۔ یہ بات سن مجھلے نے کہا کہ پتا! میرے تئیں دیجیے۔ اس نے کہا اچھا۔ پھر براہمن بولا کہ سنسار میں دھن ہی مول ہے، اور دھن ہین کو سکھ کہاں، اور جو دردری ہوا اس کا سنسار آنا ورتھا ہے۔ اتنا کہہ مجھلے لڑکے کو لے جا، چوکیداروں کو دے، اس پتلے کو اپنے گھر لے آیا۔ اور ادھر اس لڑکے کو لوگ منتری کے پاس لے آئے۔ پھر جب سات دن بیت گئے، وہ راکشس بھی آیا، راجا نے چندن، اکشت، پھول، دھوپ، دیپ، نیویدیا، پھل، پان، وستر، لے اس کی پوجا کی، اور اس لڑکے کو بلا، کھڑگ ہاتھ میں لے بلی دینے کو کھڑا ہوا۔ اس میں وہ لڑکا پہلے ہنسا، پیچھے رویا، اتنے میں راجا نے کھڑگ مارا کہ سر جدا ہو گیا۔

سچ ہے جو گیانی کہہ گئے ہیں، ستری سنسار میں دکھ کی کھان ہے، اور بپتی کا گھر، ساہس کی گرانے والی، اور موہ کی کرنے والی، دھرم کی ہرنے والی، ایسی جو بش کی جڑ ہو اسے اتم کن نے کہا ہے، اور ایسا کہا ہے، کہ آپدا کے لیے دھن رکھیے، اور دھن دے کے ستری کی رکشا کیجیے، اور دھن ستری دے کے اپنے جی کو بچائیے۔

اتنی کتھا کہہ بیتال بولا کہ ہے راجا! مرنے کے سمے آدمی روتا ہے، تو اس کی حقیقت بتا کہ وہ ہنسا کیوں؟ راجا نے کہا یہ بچار کے وہ ہنسا کہ بالک پن میں ماتا رکشا کرتی ہے، اور بڑے ہوئے سے پتا پالتا ہے۔ سمے سمے رعیت کی راجا سہائے کرتا ہے۔ سنسار کی یہ ریت ہے۔ اور میرا یہ حال ہے کہ ماتا پتا نے دھن کے لوبھ سے راجا کو دیا، اور یہ کھڑگ لیے مارنے کو کھڑا ہے، اور دیوتا کو بل کی اچھا ہے، دیا کسی کو بھی نہ آئی۔ یہ سن بیتال اسی پیڑ پر جا لٹکا، اور راجا بھی ونہیں جھپٹ کے پہنچا، اور اسے باندھ، کاندھے پر رکھ، لے چلا۔

What did this chapter leave with you?

Sign in to react

Discussion

No one has spoken yet. Say what this chapter stirred in you.

Enjoyed this chapter? Share a line from it.